خبر نامہ نمبر9579/026
بارکھان، 03نومبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور صوبائی حکومت کی انسدادِ پولیو کے لیے موثر اقدامات کی پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت ضلع بارکھان میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی ایوننگ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی۔اجلاس میں ضلع بھر میں پولیو مہم کی پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی اور پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے رہ جانے والے بچوں (Missed Children) اور انکاری والدین (Refusal Cases) پر خصوصی توجہ دینے اور مائیکرو پلان کے مطابق مقررہ اہداف کے سو فیصد حصول کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ پولیو ٹیموں کی روزانہ کی کارکردگی کی موثر نگرانی کی جائے اور مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بارکھان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ہر بچے تک پولیو سے بچاو کے قطرے پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9580/026
3 نومبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے پولیو آفیسر ڈاکٹر خلیل مستوئی کے ہمراہ نومبر کی SNID انسدادِ پولیو مہم کے تحت جاری سرگرمیوں کی نگرانی کے سلسلے میں یونین کونسل خانپور کا دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ایریا ٹرانزٹ پوائنٹ کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں تعینات پولیو ٹیموں کی کارکردگی فیلڈ ایریا انچارجز کی نگرانی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے انتظامات اور مہم کے مجموعی انتظامی امور کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے گھر گھر جاری پولیو مہم اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا اور پولیو ٹیموں کی حاضری مائیکرو پلان پر عملدرآمد اور بچوں کی کوریج کے حوالے سے معلومات حاصل کیں انہوں نے متعلقہ افسران سے مہم کے دوران پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی دریافت کیاڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے متعلقہ افسران اور فیلڈ مانیٹرنگ ٹیموں کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران موثر نگرانی کو اولین ترجیح دی جائے اور ہر سطح پر ذمہ داری اور مستعدی کے ساتھ فرائض انجام دیے جائیں انہوں نے واضح کیا کہ مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر علاقے میں تعینات پولیو ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہنے پائے اور رہ جانے والے بچوں کو فوری طور پر کور کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ محکموں پولیو ورکرز اور مانیٹرنگ افسران کو باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کی نسلوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9581/026
3نومبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر استا محمد ماریہ شمون نے گورنمنٹ گرلز کالج استا محمد میں یومِ قائداعظم کے سلسلے میں منعقدہ پروقار تقریب میں شرکت کی تقریب میں کالج کی پرنسپل، تدریسی عملے اور طالبات نے شرکت کیتقریب کے دوران طالبات نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی شخصی سیاسی بصیرت بے مثال جدوجہد اصول پسندی اور قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف موضوعات پر تقاریر اور خوبصورت ٹیبلوز پیش کیے طالبات نے اپنی پرفارمنس کے ذریعے قائداعظم کی زندگی کے اہم پہلووں، تحریکِ پاکستان میں ان کے تاریخی کردار اور قیامِ پاکستان کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کو اجاگر کیا اس موقع پر تقریب میں قومی جذبہ، حب الوطنی اور قائداعظم سے عقیدت کا اظہار نمایاں رہااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمون نے طالبات کی بہترین کارکردگی اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک جدوجہد عزم و استقلال اصول پسندی اور مدبرانہ قیادت ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے نوجوان نسل بالخصوص طالبات کو چاہیے کہ وہ قائداعظم کے افکار و نظریات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی میں محنت، نظم و ضبط دیانت داری اور خود اعتمادی کو اپنائیںانہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی ضمانت ہے اس لیے طالبات اپنی تمام تر توجہ حصولِ علم پر مرکوز رکھیں اور جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دیں تاکہ مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیںاسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ قائداعظم کا دیا گیا سنہری اصول اتحاد ایمان اور تنظیم آج بھی ہماری قومی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہے ہمیں ان اصولوں کو محض تقریبات اور تقاریر تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ ملک سے محبت قومی یکجہتی، باہمی احترام اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دیں اور ایک تعلیم یافتہ باصلاحیت اور مضبوط پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریںآخر میں طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے پروگرام کو سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نئی نسل کو قائداعظم کے نظریات جدوجہد اور پاکستان کے قیام کے مقاصد سے روشناس کرانے کے لیے تعلیمی اداروں میں ایسی مثبت اور بامقصد سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9582/026
03نومبرگوا در۔: محکمہ سیاحت حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صوبے کے ساحلی حسن، ثقافت، تاریخی ورثے اور سیاحتی امکانات کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بلوچستان کوسٹ لائن ویڈیو گرافی مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے اس مقابلے کے تحت شرکاء قدرتی مناظر، جنگلی حیات، ساحلی سیاحت، تاریخی مقامات، مقامی ثقافت، روایتی کھانوں، دستکاری، سیاحتی مقامات اور مقامی طرزِ زندگی پر مبنی ویڈیوز تیار کر سکیں گے اس مقابلے میں شوقیہ و پیشہ ور ویڈیو گرافرز، ولاگرز، کانٹینٹ کریئیٹرز اور طلبہ شرکت کے اہل ہوں گے، تاہم محکمہ سیاحت بلوچستان کے سابقہ ویڈیو گرافی مقابلوں کے فاتحین اہل نہیں ہوں گے ویڈیو کا دورانیہ 5 سے 10 منٹ، فارمیٹ MP4 یا MOV اور کم از کم ریزولوشن 1080p ہونا ضروری ہے، جبکہ 4K کو ترجیح دی جائے گی۔ ویڈیو مکمل طور پر اصل اور واٹر مارک، لوگو یا شناختی تحریر سے پاک ہونی چاہیے شرکاء کو اپنی ویڈیوز گوگل ڈرائیو یا ڈراپ باکس پر اپ لوڈ کرکے آن لائن رجسٹریشن فارم میں قابلِ رسائی لنک فراہم کریں۔ مقابلے میں شرکت کی آخری تاریخ 14 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ موصولہ ویڈیوز کا جائزہ آزاد جیوری بورڈ لے گا، جس میں تخلیقی صلاحیتوں اور کہانی بیان کرنے کے انداز کو 30 فیصد نمبر دیے جائیں گے محکمہ سیاحت نے بلوچستان کے نوجوانوں، ویڈیو گرافرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مقابلے میں بھرپور حصہ لے کر بلوچستان کے ساحلی حسن، ثقافتی شناخت اور سیاحتی امکانات کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9583/026
گوادر03 نومبر ۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین گوادر شئے مختار بلوچ نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے رائز پروگرام کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈسٹرکٹ پروگرام کوآرڈینیٹر زبیر ہوت سے ملاقات کی۔ اس موقع پر زبیر ہوت نے انہیں ضلع گوادر کی مختلف یونین کونسلز میں پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں، کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبوں اور مجوزہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ضلع کونسل چیئرمین شئے مختار نے پروگرام کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ ضلعی سطح پر ان اقدامات کی موثر تکمیل، عوامی شمولیت اور مقامی کمیونٹیز کے تعاون کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں مقامی آبادی، کمیونٹی نمائندگان اور متعلقہ علاقوں کے مستفید ہونے والے افراد کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ عوام کی حقیقی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے سرکاری و غیرسرکاری اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں بی آر ایس پی رائز پروگرام کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کے ثمرات ضلع کی تمام یونین کونسلز اور مقامی آبادی تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9584/026
کوئٹہ، 3 نومبر۔ صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے عمل میں مساوی مواقع فراہم کرنا پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ صنفی مساوات کے فروغ کے لیے محض پالیسیوں اور اعلانات پر اکتفا کرنے کے بجائے مستند اعداد و شمار، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی سطح پر موثر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے، محکمہ ترقی نسواں حکومت بلوچستان، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور یونیسیف کے اشتراک سے کوئٹہ میں بلوچستان کے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے قومی صنفی مساوات کے اشاریوں کے فریم ورک (National Gender Parity Indicators Framework) پر منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ قومی صنفی مساوات کے اشاریوں کا فریم ورک خواتین اور مردوں کے درمیان مختلف شعبوں میں موجود تفاوت کی نشاندہی، پیش رفت کی پیمائش اور پالیسی سازی کو قابلِ عمل بنانے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس فریم ورک کے ذریعے تعلیم، صحت، معاشی مواقع، سیاسی شرکت، قیادت اور فیصلہ سازی سمیت مختلف شعبوں میں صنفی مساوات کی صورتحال کا منظم جائزہ لیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو درپیش سماجی، معاشی اور تعلیمی چیلنجز کے پیش نظر قابلِ اعتماد صنفی اعداد و شمار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں، مختلف اضلاع اور سماجی طبقات کے درمیان موجود فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو زمینی حقائق کی عکاسی کریں اور خواتین کو عملی طور پر ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرسکیں۔ مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2020-21 کے مطابق بلوچستان میں 15 سال سے زائد عمر کی آبادی میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح تقریباً 8 فیصد جبکہ مردوں کی شرح 43.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو خواتین کی معاشی شمولیت کے حوالے سے موجود بڑے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی صنفی مساوات رپورٹ 2024 بھی خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ہنرمندی کی تربیت، کاروبار کے مواقع، مالی وسائل تک رسائی، محفوظ کام کے ماحول اور خواتین کے لیے سازگار ادارہ جاتی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ حکومت بلوچستان خواتین کی تعلیم، صحت، تحفظ اور معاشی بااختیاری کے لیے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام، خواتین کے قانونی حقوق کا تحفظ، وراثت میں حق کی فراہمی اور عوامی و انتظامی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے تربیتی ورکشاپ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں کے افسران اور اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کار میں اضافے سے صنفی اعداد و شمار جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور انہیں قومی سطح کے اشاریوں کے مطابق مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔ اس عمل سے نہ صرف بلوچستان کی حقیقی صورتحال قومی سطح پر اجاگر ہوگی بلکہ پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی موثریت جانچنے اور وسائل کی بہتر تقسیم میں بھی معاونت ملے گی۔ مشیر ترقی نسواں نے یو این ایف پی اے، یونیسیف اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کا مشترکہ کردار وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ ترقی نسواں بلوچستان میں صنفی مساوات کے فروغ، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں قومی و صوبائی ترقی کے دھارے میں موثر طور پر شامل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9585/026
گوادر 03 نومبر ۔جامعہ گوادر اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز (فاسٹ نیشنل یونیورسٹی) کراچی کیمپس کے درمیان کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعلیمی و تحقیقی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت کے مسودے پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کراچی کیمپس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار میمن نے اپنی جامعہ جبکہ جامعہ گوادر کے چیئرپرسن شعبہ کمپیوٹر سائنس حفیظ اللہ نے اپنی جامعہ کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں جامعات نصاب کی بہتری، تعلیمی پروگراموں کے معیار اور ایکریڈیٹیشن، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، اساتذہ و طلبہ کے تبادلوں، انٹرن شپ، تربیتی پروگراموں، ورکشاپس اور جدید تحقیقی سہولیات سے استفادے کے لیے باہمی تعاون کریں گی۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور میری ٹائم و پورٹ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، علمی سرگرمیوں اور طلبہ کی پیشہ ورانہ و عملی مہارتوں کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیامعاہدے میں بالخصوص گوادر پورٹ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں جدید کمپیوٹنگ ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال اور تحقیقی سرگرمیوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جبکہ دونوں جامعات کے درمیان تعاون کو موثر بنانے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے یہ
پیش رفت کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری جامعات کو فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کے ساتھ تعلیمی تعاون کے لیے تجاویز مرتب کرنے کی ہدایات کے تناظر میں عمل میں آئی۔ اس موقع پر جامعہ گوادر کے لیکچرر شعبہ مینجمنٹ سائنسز صغیر نسیم اور فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کی اسسٹنٹ منیجر کیریئر سروسز اینڈ انڈسٹریل لائژن زینب شیخ بھی موجود تھیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9586/026
ہرنائی03نومبر ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی اور نوجوانوں کو مثبت روزمرہ کی طرف راغب کرنے کے لیے اہم اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے ایک نمائندہ وفد نے صدر فضل الرحمن کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی سے ان کے دفتر میں ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ضلع میں بیڈمنٹن کے کھیل کو گراس روٹ لیول پر فروغ دینے، موجودہ سپورٹس ہالز اور کورٹس کی حالتِ زار کو بہتر بنانے اور نوجوان کھلاڑیوں کو درپیش مسائل کے حل پر جامع گفتگو کی گئی۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر کو بیڈمنٹن کورٹس کی مرمت، انڈور ہالز کی تزئین و آرائش اور معیاری سامانِ کھیل کی کمی سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ہرنائی کے تلخ و تند حالات کے برعکس نوجوانوں میں صحتمندانہ مقابلوں کا رجحان پیدا کرنے کے لیے جلد ایک جامع ضلعی بیڈمنٹن ٹورنامنٹ منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں منفی سرگرمیوں سے بچا کر کھیلوں کے میدانوں کی طرف لانا ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے تمام مثبت اقدامات کی مکمل سرپرستی کی جائے گی۔ ملاقات میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ہرنائی کے بہترین کھلاڑیوں کو منتخب کر کے ان کی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ بلوچستان اور قومی سطح کے مقابلوں میں ضلع کا نام روشن کر سکیں۔بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے صدر فضل الرحمن نے ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی جانب سے کھیلوں کی سرپرستی اور تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات سے علاقائی سطح پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور بیڈمنٹن کے کھیل کو ایک نئی زندگی ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9587/026
تربت3 نومبر۔ جامعہ تربت نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سائنسی و عملی تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی سلسلے میں شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے بی ایس بوٹنی کے طلبہ نے تربت کے علاقے جوسک میں واقع طفیل ایگریکلچرل فارم کا معلوماتی و تحقیقی دورہ کیا۔ اس فیلڈ وزٹ کا بنیادی مقصد طلبہ کو پودوں، پھلدار درختوں اور فصلوں کو لاحق مختلف بیماریوں کے براہ راست مشاہدے اور ان کی سائنسی بنیادوں پر تشخیص کا موقع فراہم کرنا تھا۔ شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ارشاد معیار اور کورس انسٹرکٹر مہناز کریم کی نگرانی میں طلبہ نے بیکٹیریائی اور وائرل انفیکشنز سے متاثرہ فصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ طلبہ نے نصابی علم کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بیماریوں کی علامات کی نشاندہی کی بلکہ لیبارٹری تحقیق کے لیے متاثرہ شاخوں، مٹی اور جڑوں کے سائنسی نمونے بھی جمع کیے۔ ان نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد تحقیق کے حتمی نتائج سے مقامی کاشتکاروں کو آگاہ کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنی فصلوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھ کر بہتر پیداوار حاصل کر سکیں۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے طلبہ کو معیاری علمی و عملی تجربات کے مواقع فراہم کرنے پر شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کی کاوشوں کو سراہا۔ اپنے پیغام میں وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ جامعہ تربت چاہتی ہے کہ طلبہ جو کچھ کلاس روم میں سیکھیں، اسے عملی میدان میں بھی آزمائیں، تاکہ علاقے کے مسائل، خصوصاً زراعت سے متعلق مشکلات کا سائنسی حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو فیلڈ ریسرچ سے جوڑنا اور مقامی کمیونٹی کو مختلف مسائل کا سائنسی حل فراہم کرنا جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔دورے کے اختتام پر ڈاکٹر ارشاد معیار نے طلبہ کی عملی تربیت کے لیے سہولیات اور تعاون فراہم کرنے پر فارم کے مالک پروفیسر طفیل بلوچ کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9588/026
لورالائی، 3 نومبر ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی اور محکمہ مال کے انتظامی امور سے متعلق بارہواں جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوااجلاس میں زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس کی وصولی، سرکاری واجبات کی ریکوری، زیرِ التوا ریونیو مقدمات، انتقالات، اراضی ریکارڈ کی تصدیق و درستگی، سرکاری اراضی کے تحفظ اور محکمہ مال کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اجلاس کو مختلف امور پر پیش رفت اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی کے عمل میں مزید تیزی لائی جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بقایا سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے موثر اور عملی اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا
انہوں نے انتقالات کے عمل میں شفافیت، اراضی ریکارڈ کی درستگی اور زیرِ التوا معاملات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو محکمہ مال سے متعلق خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائےڈپٹی کمشنر نے ہر جمعرات کو منعقد ہونے والی ریونیو کچہری کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ عوامی شکایات اور دیرینہ ریونیو مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف اور انصاف کی فراہمی ممکن ہواجلاس میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کی روک تھام، سرکاری زمینوں کے تحفظ، اراضی سے متعلق تنازعات کے بروقت حل، محکمہ مال کے فیلڈ اسٹاف کی موثر نگرانی اور ریونیو ریکارڈ کی شفافیت کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیاڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ محکمہ مال کے امور میں غفلت، غیر ضروری تاخیر، بدعنوانی اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی سے گریز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریونیو نظام کی بہتری، سرکاری محصولات کی بروقت وصولی، سرکاری اراضی کے تحفظ اور عوام کو ریونیو سے متعلق سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9589/026
لورالائی، 3 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صحت، پولیو پروگرام کے افسران، مانیٹرنگ ٹیموں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی مجموعی پیش رفت، پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلانے کی کوریج، فیلڈ میں تعینات ٹیموں کی کارکردگی، رہ جانے والے بچوں، انکاری والدین اور مہم کے دوران پیش آنے والے انتظامی و فیلڈ مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیااس موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو مہم کے پہلے روز کی فیلڈ کارکردگی، ٹیموں کی نگرانی اور کوریج سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ مہم کے آئندہ دنوں میں کوریج مزید بہتر بنانے اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیاڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران فیلڈ میں تعینات تمام ٹیموں کی موثر اور مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر درست، شفاف اور بروقت اعداد و شمار مرتب کرکے پیش کیے جائیںانہوں نے کہا کہ مہم کے دوران رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے ان تک رسائی حاصل کی جائے، جبکہ انکاری والدین کو موثر آگاہی، مشاورت اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے پولیو سے بچاو کے قطروں کی اہمیت سے آگاہ کیا جائےڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی ذمہ داری اور اہم قومی ترجیح ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا غیر سنجیدگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مو¿ثر کوآرڈینیشن کے ذریعے مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں انہوں نے مزید ہدایت کی کہ فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے، حساس اور ہائی رسک علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنایا جائےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9590/026
دکی، 3 0نومبر۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور طبی سہولیات کی فراہمی، ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف وارڈز اور شعبہ جات کا دورہ کرتے ہوئے طبی عملے کی حاضری چیک کی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال کے انتظامی و طبی امور سے متعلق متعلقہ حکام سے بریفنگ بھی لی ڈپٹی کمشنر نے بلوچستان اسٹرکچرل ڈویلپمنٹ اینڈ امپروومنٹ (BSDI) پروگرام کے تحت تعمیر و تکمیل کے مراحل سے گزرنے والے جدید آپریشن تھیٹر کا بھی معائنہ کیا اور تعمیراتی و تکمیلی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیاانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آپریشن تھیٹر کو فعال بنانے کے لیے تمام ضروری طبی، تکنیکی اور انتظامی انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ اسے جلد از جلد فعال کرکے عوام کو مقامی سطح پر معیاری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احساسِ ذمہ داری، پابندیِ وقت اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ ادا کریں اور مریضوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ BSDI پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کے معیار اور رفتار کو بھی یقینی بنایا جائےڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کرے گی اور ہسپتال کے انتظامی و طبی امور کی بہتری کے لیے موثر نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9591/026
دکی، 3 نومبر۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم SNID نومبر 2026 کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو میٹنگ ڈپٹی کمشنر آفس دکی میں منعقد ہوئی اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تھل عبدالسلام شاہوانی، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، پولیس سیکیورٹی فوکل پرسن ظفر اللہ مری، ایم ایس ڈاکٹر جوہر خان شادوزئی، CRTO مانیٹر EOC ڈاکٹر صفدر پانیزئی، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عزیز خان، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، اے ڈی ایم راز محمد، ای پی آئی آفیسر پیر محمد، سی سی او سعید احمد، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین، یو سی ایم اوز، لائن ڈپارٹمنٹس کے مانیٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز فیلڈ میں تعینات پولیو ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کی پیش رفت، ٹیموں کی حاضری، فیلڈ مانیٹرنگ اور مائیکرو پلان پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاوکے قطرے پینے سے محروم نہ رہےانہوں نے فیلڈ ٹیموں کی موثر نگرانی، حساس اور ہائی رسک علاقوں پر خصوصی توجہ، رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی اور انہیں پولیو سے بچاوکے قطرے پلانے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ محکموں، پولیو ٹیموں،سیکیورٹی اداروں اور مانیٹرنگ اسٹاف کو باہمی رابطے اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگاڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی ذمہ داری ہے، جس کی کامیابی کے لیے فیلڈ میں موجود تمام ٹیموں کی مکمل معاونت اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران مائیکرو پلان پر مکمل عملدرآمد، ٹیموں کی بروقت روانگی اور مقررہ علاقوں میں کوریج کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع دکی میں کوئی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہےاجلاس میں مہم کے پہلے روز کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ دوسرے روز کی حکمتِ عملی، فیلڈ ٹیموں کی موثر نگرانی اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9592/026
گوادر 3 نومبر ۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد بلوچ کے ہمراہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سربندن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی ماحول، تدریسی سرگرمیوں اور دستیاب بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا انہوں نے اسکول میں بجلی کی عدم دستیابی، پنکھوں کی کمی و خرابی، ڈیسک اور دیگر ضروری تعلیمی سہولیات کے فقدان سمیت اساتذہ کی کمی اور تدریسی امور سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے ڈی ای او گوادر کو ہدایت کی کہ اسکول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں اور طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول، ضروری سہولیات اور معیاری تدریس کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اس موقع پر ڈی ای او زاہد بلوچ نے یقین دہانی کرائی کہ اسکول میں نشاندہی کیے گئے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
گوادر 03 نومبر۔ ضلع کونسل گوادر کے چیئرمین شئے مختار بلوچ سے ہاشو فاونڈیشن کے وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تعاون سے گوادر میں جاری موسمیاتی تبدیلی اور سماجی ترقی کے منصوبوں، سرگرمیوں اور پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں سابق ضلع چیئرمین بابو گلاب، چیئرمین جیونی اکرم حیات شہزادہ، چیئرمین پسنی نور احمد کلمتی اور گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ہاشو فاونڈیشن کے پروجیکٹ منیجر اکبر علی نے وفد کے ہمراہ منصوبے کے مقاصد، جاری سرگرمیوں اور مجوزہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد میں نوروز واحد اور موسیٰ یار بھی شامل تھے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ذمہ داریوں سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات اور اساتذہ کے لیے خصوصی آگاہی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جبکہ مقامی کمیونٹی، نوجوانوں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے اشتراک سے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیا جائے گا اس موقع پر چیئرمین ضلع کونسل شئے مختار بلوچ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر تکمیل کے لیے مقامی آبادی کو اعتماد میں لینا اور منصوبہ بندی و عملی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منصوبوں کے تحت روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی صورت میں مقامی نوجوانوں اور اہل علاقہ کو ترجیح دی جائے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9592/026
گوادر / پشکان 3 نومبر ۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے پشکان کے علاقے ڈگارو میں نیو پمپنگ اسٹیشن کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ منصوبہ صوبائی حکومت کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت مکمل کیا گیا ہے، جس کا مقصد علاقے میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر، موثر اور مستحکم بنانا ہے۔منصوبے میں 60 کے وی اے جنریٹر، 30 ہارس پاور موٹر، 45 ہزار واٹ کا سولر سسٹم، 50 ہزار گیلن گنجائش کا واٹر ٹینک، حفاظتی دیوار اور پائپ لائن کی تنصیب شامل ہے۔ جدید سولر سسٹم اور متبادل بجلی کی سہولت سے پمپنگ اسٹیشن کی فعالیت اور پانی کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گیاس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ عوام کو پینے کے صاف پانی سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبائی حکومت کے ترقیاتی وڑن کے مطابق عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بنیادی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈگارو پمپنگ اسٹیشن کی تکمیل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سے مقامی آبادی اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام میں بہتری آئے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9593/026
لسبیلہ 03نومبر۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن کے زیر صدارت اہم اجلاس کاانعقاد ارسی ڈی شاہراہ پر شرح حادثات کی ڈیٹاکلیکشن کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ حب کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی زیرصدارت لیڈاکانفرنس ہال میں منعقد ہوءاجلاس میں ڈی سی لسبیلہ حمیرابلوچ ایس پی لسبیلہ نجیب پندرانی ایس پی حب مرزابلال حسن اے ایس پی عدنان بشیر ایس پی نیشنل یائیوے موٹروے پولیس ضلع حب لسبیلہ کے ضلعی ناظم صحت اورریسکیو1122کے مانیٹرنگ افیسر دھنیش کمار لیاری اوروندرکے ریسکیو انچارج وسیم اورفاروق بھی شریک یوئے اجلاس میں اوتھل زیروپوائنٹ حادثے کی وجویات اورآئندہ اس طرزکے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے میکانزم بنانے کا فیصلہ۔ کیا گیاریسکیو 1122اورنیشنل یائیوے اورموٹروے پولیس حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ زیروپوائنٹ حادثے کے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیاگیااجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 39 ریسکیو مراکز ہیں جن میں پانچ ریسکیومراکزضلع لسبیلہ اورحب میں ہیں رواں ناہ اکتوبرتک 204مسافروں کوٹریفک حادثات میں ریسکیوفرسٹ ایڈ دیکر موقع پر انکی جانییں طاءگئیں اجلاس کے شرکاءنے ٓارسی ڈی ہائیوے پر پی ٹی کنٹریکٹرزکی جانب سے مشینری ہائیوے ہر غلط پارکنگ ڈرائیور وں کی اوورٹیکنگ حادثات کی بنیادی وجویات قراردی گءاس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو اوموٹروے اورڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جوائنٹ میٹنگ جلدکال کی جائیگی اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گءکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے انٹری مقامات سے مسافروں کی اوورلوڈنگ کی روک تھام کی جائیگی اس سلسلےمیں فوری طور پر ٹرانسپورٹرکیساتھ میٹنگ منعقدکی جائیگی اورانہیں پابند کیاجائیگا کہ وہ اپنی گاڑیوں سے ہیوی سرچ لائٹس فوری طورپرہٹادیں کمشنر لسبیلہ ڈویڑن نے کہا کہ شہریوں کے لئے محفوظ سفر یقینی بنانے اورانکے جان کی سلامتی انتظامیہ۔ کی ذمہ۔ داریوں میں شامل ہے اگر کوءٹرانسپورٹر آرٹی اے ایکٹ کی خلاف ورزی کریگی تواسکے خلاف کارواءہوگی کمشنر لسبیلہ نے آرسی ڈی ہائیوے ہر موٹرسائیکلوں کے ذریعےپٹرول کی ترسیل پر فوری پابندی اورکریک ڈاﺅن کے احکامات جاری کئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9594/026
03نومبر۔اوتھل / ہینڈآﺅٹ ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن کے آفس سے جاری کردہ سرکاری ہینڈ آوٹ کے مطابق، ضلع لسبیلہ کی تحصیل بیلہ میں آر سی ڈی ہائی وے پر تخریب کاری اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی نیت سے بچھائے گئے تین انتہائی خطرناک دیسی ساختہ بارودی مواد (IEDs) کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر اسپیشل برانچ کی ٹیکنیکل بی ڈی (بم ڈسپوزل) ٹیم نے ہنگامی آپریشن کیا۔ ٹیم نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہائی وے کے تین مختلف مقامات کشاری سکن ویلپٹ میں اسپیشل برانچ کی ٹیکنیکل بی ڈی ٹیم نے بارودی مواد کو بروقت ٹریس کر کے محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے ٹیم کے جوانوں کی جرات کو سراہتے ہوئے حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کااعلان کیاہے کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاءکا کہنا ہیکہ”اسپیشل برانچ کی ٹیکنیکل بم ڈسپوزل ٹیم کے جوانوں نے قلیل وقت میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تین آئی ڈیز کو ناکارہ بنایا۔ ان کی اس فوری اور کامیاب کارروائی کی بدولت آر سی ڈی شاہراہ پر ملک دشمن عناصر کا ناپاک منصوبہ خاک میں مل گیا۔ ضلعی انتظامیہ اپنے ان جرات مند افسران اور جوانوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔”
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9595/026
03نومبرنصیرآباد۔ایگزیکٹو انجینیئر پٹ فیڈر کینال شمس الملک بادینی نے کہا ہے کہ کاشتکاروں کو زرعی پانی کی منصفانہ اور بلاتعطل فراہمی محکمہ آبپاشی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، پٹ فیڈر کینال کے کمانڈ ایریا میں پانی کی دستیابی اور ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ کسانوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پٹ فیڈر کینال کے 621 آر ڈی بابا کوٹ کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے نہری پانی کی فراہمی، بہاو اور تقسیم کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سب ڈویڑنل آفیسر عبدالظاہر مینگل نے انہیں بابا کوٹ اور ملحقہ علاقوں میں زرعی پانی کی موجودہ صورتحال، نہری پانی کی ترسیل اور کاشتکاروں کو فراہم کیے جانے والے پانی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ایگزیکٹو انجینیئر شمس الملک بادینی نے موقع پر موجود متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بابا کوٹ کے کاشتکاروں کو درپیش پانی کی قلت کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور زرعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کی فراہمی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور پٹ فیڈر کینال سے وابستہ ہزاروں کاشتکاروں کا روزگار زرعی پانی کی بروقت فراہمی سے منسلک ہے، اس لیے نہری نظام کی نگرانی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ نہری پانی کی تقسیم کے نظام کو شفاف اور موثر بنایا جائے، ٹیل کے کاشتکاروں تک پانی کی رسائی یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے اور فیلڈ میں موجود مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ بابا کوٹ سمیت دیگر زرعی علاقوں کے کاشتکار اپنی فصلوں کی بروقت آبپاشی کرسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9596/026
03نومبرصحبت پور۔ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع بھر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور امن و استحکام کو برقرار رکھنے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ اداروں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی اور سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ ضلع میں امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9597/026
کوئٹہ03نومبر۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ سے ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (EXIM Bank) کے صدر و سی ای او شہباز ایچ سید نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان کے کاروباری طبقے کو درپیش مالی مشکلات، بالخصوص قرضوں کے حصول میں رکاوٹوں اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا.س موقع پر بی بی او آئی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالمنان اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے شہریار خان بھی موجود تھے۔ملاقات میں بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے تاجروں، صنعت کاروں، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کو اپنے کاروبار کی توسیع کے لیے مالی معاونت اور قرضوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ EXIM بینک اس سلسلے میں اپنا موثر کردار ادا کرے اور بلوچستان کے کاروباری افراد کو آسان شرائط پر قرضوں اور مالی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے میں تعاون کرے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے ساتھ ملکی و بین الاقوامی تجارت میں بھی موثر کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر EXIM بینک کے صدر و سی ای او شہباز ایچ سید نے بلوچستان کے کاروباری طبقے کو مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مثبت دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ دونوں جانب سے اس سلسلے میں تعاون کو آگے بڑھانے اور قابلِ عمل اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, November 3: President and Chief Executive Officer of the Export-Import Bank of Pakistan (EXIM Bank), Shahbaz H. Syed, called on Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Bilal Khan Kakar. During the meeting, detailed discussions were held on the financial challenges faced by the business community in Balochistan, particularly difficulties in accessing loans, and ways to promote commercial and business activities across the province. BBoIT Chief Executive Officer Abdul Manan and Trade Development Authority of Pakistan (TDAP) representative Shehryar Khan were also present on the occasion.
Vice Chairman Bilal Khan Kakar said that traders, industrialists, exporters and importers in Balochistan face significant challenges in securing financial assistance and loans to expand their businesses and commercial operations. He emphasized that EXIM Bank should play an effective role in addressing these challenges and extend cooperation in providing loans and other financial facilities to the business community of Balochistan on easy terms, enabling local entrepreneurs to expand their businesses and play a more active role in domestic and international trade.
Bilal Khan Kakar stressed that effective financial support from banking institutions is essential for the business community of Balochistan. He said that such assistance would not only strengthen local businesses but also help increase exports, attract new investment and create employment opportunities across the province.
On the occasion, EXIM Bank President and CEO Shahbaz H. Syed expressed keen interest in facilitating the business community of Balochistan through improved financial services and promoting commercial activities. Both sides agreed to further strengthen mutual cooperation and take practical measures in this regard.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9598/026
سیوی 3 نومبر ۔صوبائی محتسب اعلیٰ بلوچستان سعادت اللہ خان بازئی کی خصوصی ہدایات پر ریجنل آفس محتسب سیوی میں عوامی مسائل کے حل اور شکایات کے ازالے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت اسسٹنٹ ڈائریکٹر محتسب سیوی مہراللہ سومرو نے کی، جبکہ اس موقع پر اسسٹنٹ رجسٹرار محتسب مزمل لاشاری سمیت مختلف محکموں کے افسران اور سربراہان بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے مختلف سرکاری محکموں سے متعلق اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں اور انہیں تحریری طور پر بھی جمع کروایا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مہراللہ سومرو نے شہریوں کے مسائل غور سے سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر مہراللہ سومرو نے ادارہ صوبائی محتسب کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبائی محتسب کا ادارہ سرکاری محکموں کی بدانتظامی، غیر ضروری تاخیر، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کام کرتا ہے۔ ادارے کا بنیادی مقصد شہریوں کو فوری اور بلا معاوضہ انصاف کی فراہمی، سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری اور عوام کو درپیش مشکلات کا موثر حل یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنی شکایات کے اندراج اور مسائل کے حل کے لیے محتسب کے ادارے سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ عوامی مسائل کے فوری ازالے اور سرکاری اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے آئندہ بھی اس طرح کی کھلی کچہریوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر انصاف اور ریلیف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9599/026
برشور: 03 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر سید رضی ہریرہ نے برشور شہر اور گردونواح کے تجارتی مراکز میں پرائس کنٹرول کے حوالے سے ایک جامع اور سخت عوامی مہم کا آغاز کر دیا ہے،کارروائی کے دوران اسسٹنٹ کمشنر سید رضی ہریرہ نے بازار کا تفصیلی دورہ کیا اور دکانداروں کے پاس سرکاری نرخ ناموں کا معائنہ کیا۔ انتظامیہ نے مجموعی طور پر تاجروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپناتے ہوئے گراں فروشی اور نرخ نامہ آویزاں نہ کرنے والے متعدد دکانداروں کو موقع پر سخت وارننگ جاری کی کہ وہ فوری طور پر سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد شروع کر دیں،تاہم،مسلسل خلاف ورزی کرنے اور سرکاری احکامات کو ہوا میں اڑانے والے 5 دکانداروں کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔انتظامیہ کے اس متوازن،غریب پرور اور بلاامتیاز اقدام کو شہریوں اور خریداروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر سید رضی ہریرہ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر خالد شمس کی واضح ہدایات ہیں کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے،انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہمارا مقصد تاجر برادری کو بلاوجہ تنگ کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو سستی اور معیاری اشیائ کی فراہمی یقینی بنانا ہے،انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد کو مقدم رکھیں،بصورت دیگر وارننگ کے بعد بھی قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9600/026
لورالائی 3 نومبر ۔رکن قومی اسمبلی سردار محمد یعقوب خان ناصر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات (Standing Committee on Communications) کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں ملک بھر بالخصوص بلوچستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے زیرِ انتظام قومی شاہراہوں، اہم روڈ نیٹ ورک، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو درپیش سفری مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں حلقہ NA-252 خصوصاً لورالائی، موسیٰ خیل، بارکھان اور دکی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں کی موجودہ صورتحال، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں، مرمت و بحالی کے کام، جاری اور زیرِ التوا منصوبوں اور عوام کو درپیش سفری مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر سردار محمد یعقوب خان ناصر نے بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہیں نہ صرف مختلف اضلاع اور شہروں کو آپس میں ملانے کا اہم ذریعہ ہیں بلکہ صوبے کی معاشی، تجارتی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ، آرام دہ اور بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے این ایچ اے کے جاری اور زیرِ التوا ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، کام کے معیار، شفافیت اور سرکاری فنڈز کے موثر و درست استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ قومی وسائل پر بھی اضافی بوجھ پڑتا ہے، اس لیے منصوبوں کی نگرانی اور مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔سردار محمد یعقوب خان ناصر نے اجلاس کے شرکاء کو روڈ نیٹ ورک، سڑکوں کی مرمت و بحالی، ٹریفک کی روانی مسافروں کے تحفظ اور مختلف شاہراہوں پر درپیش دیگر مسائل سے بھی آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات کے فوری ازالے کے لیے این ایچ اے متعلقہ منصوبوں پر عملی پیش رفت تیز کرےانہوں نے خاص طور پر بلوچستان کے قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، سڑکوں کی حالت بہتر بنانے، حادثات کے خطرات کم کرنے اور مسافروں کو محفوظ سفری ماحول فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیااجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں بہتر شاہراہوں کا نظام نہ صرف عوام کی سفری مشکلات کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ زرعی و تجارتی سرگرمیوں، کاروباری روابط، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گاسردار محمد یعقوب خان ناصر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی نمائندگی کے پلیٹ فارم پر بلوچستان خصوصاً حلقہ NA-252 کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کیا جاتا رہے گا اور قومی شاہراہوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے گاانہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عوامی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچائے جائیں۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں بالخصوص بلوچستان میں عوام کی سفری سہولیات کو بہتر بنانا، شاہراہوں کے معیار کو بلند کرنا اور این ایچ اے کے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کو مزید تیز اور موثر بنانا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9601/026
قلات 3 نومبر ۔ ہینڈآﺅٹ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے ایم سی ایچ (MCH) سینٹر گوم کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ محکمہ بی اینڈ آر (B&R) کے انجینئر محمد وسیم، محکمہ صحت کے مانیٹرنگ آفیسر میر بلال مینگل اور ممتاز قبائلی رہنما ارباب میر احمد دہوار بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سینٹر کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، عملے کی حاضری کا رجسٹر چیک کیا اور وہاں دستیاب طبی سہولیات، انتظامی امور اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے واضح کیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ضلع قلات کے عوام کو ان کی دہلیز پر بہترین اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9602/026
سوراب 3 نومبر ۔: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت شہید ہدایت اللہ بلیدی پبلک لائبریری سوراب میں خواتین کی کھلی کچہری منعقد ہوئی جس میں ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ، ایف سی بلوچستان 61 ونگ کے میجر علی عباس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، ضلعی افسران، کالج کی طالبات، اساتذہ اور خواتین نے شرکت کی اس موقع پر خواتین اور طالبات نے بجلی، گیس، تعلیم، صحت، صاف پانی، نادرا، بی آئی ایس پی، فیملی پارک اور دیگر بنیادی مسائل سے متعلق اپنی شکایات اور تجاویز پیش کیں ڈپٹی کمشنر نے شرکاء کے مسائل غور سے سنے اور متعلقہ افسران کو ان کے فوری حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9603/026
3 نومبر ۔قلات ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری کی زیرصدارت پولیو مہم کے دوسرے روز کے اختتام پر جائزہ اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران ڈبلوایچ او قلات کے سربراہ پی پی ایچ آئی کے ڈی ایم سمیت یوسی ایم اوز نے شرکت کی۔اجلاس میں آج کے مہم ٹیموں کی کارکردگی۔ ٹارگٹ۔ ٹیموں کو درپیش مسائل سکیورٹی انتظامات اور دیگر امور کا بغور جائزہ لیاگیا اور مہم کے تیسرے روز کے لیئے جامع پلان سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9604/026
کوئٹہ 03نومبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت کوئٹہ شہر میں بجلی اور گیس کی فراہمی سے متعلق عوامی مسائل کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریوینیو) ایکسین واپڈا، محکمہ گیس اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کے افسران سمیت اسسٹنٹ کمشنر سریاب نے شرکت کی۔اجلاس میں شہر بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل، گیس پریشر میں کمی، گیس کی فراہمی کے اوقات کار، وولٹیج کے مسائل اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوام کو بجلی اور گیس کی فراہمی سے متعلق درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی بجلی اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے مسائل درپیش ہوں گے، وہاں ضلعی انتظامیہ متعلقہ محکموں کے ساتھ بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کرے گی تاکہ عوامی مشکلات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9604/026
کوئٹہ 03نومبر۔ عدالت عالیہ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک کے نظام کی بہتری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ، ایس ایس پی ٹریفک سبحان دشتی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں امداد اسپتال سے اکرم اسپتال تک کے علاقے کو فری ٹریفک زون بنانے، غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ علاقے میں کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے کوئی این او سی یا اجازت نامہ جاری نہیں کیا جائے گا، جبکہ تمام قانونی و غیر قانونی سائیکل اور موٹر سائیکل پارکنگ اسٹینڈز ختم کرکے علاقے کو ہر قسم کی پارکنگ اور تجاوزات سے پاک رکھا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متعلقہ حکام کو فیصلوں پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بھرپور اقدامات کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9605/026
چمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چمن اشوک کمار راجپوت نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول چمن کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی عمل اور اسکول کے مجموعی نظم و ضبط کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر و معروف سیاسی و سماجی شخصیت حاجی عطاء اللہ خان اور ای ایم آئی ایس فوکل پرسن جعفر خان اچکزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈی ای او چمن نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے نصابی سوالات کیے، جس کے ذریعے ان کی تعلیمی استعداد اور تدریسی معیار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں محنت، لگن اور دلجمعی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔بعد ازاں انہوں نے اسکول کے اساتذہ اور عملے کے ساتھ تفصیلی اجلاس کی صدارت کی، جس میں اساتذہ کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں، نظم و ضبط اور نصاب کی بروقت تکمیل سمیت تعلیمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اشوک کمار راجپوت نے واضح کیا کہ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول چمن کو حقیقی معنوں میں ایک معیاری اور مثالی تعلیمی ادارہ بنانا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تعلیمی بہتری کے اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی اور بلاجواز غیر حاضری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے اساتذہ کو پابندیٔ وقت کے ساتھ اپنی حاضری یقینی بنانے، تدریسی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کرنے اور مقررہ وقت میں نصاب مکمل کروانے کی ہدایت کی، تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ امتحانات کی بہترین تیاری کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ڈی ای او چمن نے مزید کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی اور بہتری میں اساتذہ کی محنت، پیشہ ورانہ ذمہ داری، نظم و ضبط اور معیاری تدریس بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسکول کی تعلیمی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور اسے ایک مثالی ادارہ بنانے کے لیے نگرانی اور اصلاحی اقدامات کا سلسلہ مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر9606/026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صحتِ عامہ سے متعلق پالیسی اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے وژن کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) سربندن اور سیول ڈسپنسری (CD) شمبے اسماعیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران انہوں نے طبی مراکز میں دستیاب ادویات، علاج معالجے کی سہولیات، صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامی امور کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ڈیوٹی میں نظم و ضبط برقرار رکھا جائے اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے واضح کیا کہ سرکاری طبی مراکز کی کارکردگی میں بہتری، خدمات کے معیار کو یقینی بنانا اور دور دراز علاقوں کے عوام تک صحت کی سہولیات کی مؤثر رسائی محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
خبرنامہ نمبر9607/026
دکی، 3 نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے کہا ہے کہ ضلع میں پوست سمیت دیگر ممنوعہ فصلوں کی غیر قانونی کاشت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، غیر قانونی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پوست کی کاشت کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، سکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط حکمت عملی کے تحت مؤثر اقدامات جاری ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نانا صاحب زیارت ریسٹ ہاؤس میں پوست سمیت دیگر ممنوعہ فصلوں کی غیر قانونی کاشت کی روک تھام اور مکمل خاتمے کے حوالے سے منعقدہ اہم جرگہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیاجرگے میں کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دکی محمد یونس رضا، اسسٹنٹ کمشنر دکی فتح خان بنگلزئی، نائب تحصیلدار تحصیل لونی، قبائلی عمائدین، علاقائی معتبرین اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے زمینداروں نے شرکت کی جرگے کے دوران ضلع دکی میں پوست کی غیر قانونی کاشت کی روک تھام، حکومتی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنانے اور اس قومی مہم میں عوامی و قبائلی تعاون یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء کو پوست کی کاشت کے معاشرتی، سماجی، اخلاقی اور بالخصوص نوجوان نسل پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے آگاہ کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی، کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال اور ایس پی دکی محمد یونس رضا نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ پوست سمیت ممنوعہ فصلوں کی غیر قانونی کاشت نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سے پاک معاشرے کے قیام اور نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں مقررین نے واضح کیا کہ پوست کی غیر قانونی کاشت میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ غیر قانونی کاشت ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی، فورتھ شیڈول کے تحت کارروائی اور قانون کے مطابق زمین کی ضبطگی سمیت دیگر اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔ متعلقہ اداروں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں مؤثر نگرانی، نشاندہی اور بروقت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے قبائلی عمائدین، علاقائی معتبرین اور زمینداروں کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زمینداروں پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی اور ممنوعہ فصلوں کی کاشت سے مکمل اجتناب کریں اور اپنے علاقوں میں بھی ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انتظامیہ کو بروقت اطلاع دیں جرگے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے صرف انتظامی و قانونی اقدامات کافی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی شعور اجاگر کرنے، نوجوان نسل کو منشیات سے دور رکھنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گاجرگے کے اختتام پر قبائلی عمائدین، علاقائی معتبرین اور زمینداروں نے ضلعی انتظامیہ کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ضلع دکی سے پوست اور دیگر ممنوعہ فصلوں کی غیر قانونی کاشت کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ شرکاء نے اپنے اپنے علاقوں میں عوامی آگاہی اور غیر قانونی کاشت کی حوصلہ شکنی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر9608/026
کوئٹہ3 نومبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ نیوٹیک (NAVTTC) جیسے اداروں کی افادیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اسکے تمام پروفیشنل اور ٹیکنیکل پروگرام مارکیٹ کے تقاضوں اور انسانی ضروریات کے مطابق ہیں۔ جب کتابی علم اور تصوراتی خیالات کو زمینی حقائق اور انسانی ضروریات سے جوڑا جائے تو وہ حقیقی اور بامعنی نتائج پیدا کرتے ہیں۔ نیوٹیک ترقی اور روزگار کے حوالے سے خودکفالت کی بنیاد ہے اور یہی ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین قمر الاسلام راجہ کی قیادت میں وفد سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں نیوٹیک پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ نادیہ کریم شاہ،پرنسپل سیکرٹری عبدالناصر دوتانی اور نیوٹیک بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین بخش مگسی بھی شریک تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے تناظر میں یہ سمجھنا لازمی ہے کہ صوبے کے تمام ڈویژنز کی معاشی ضروریات یکساں نہیں ہیں۔ ہر ڈویژن کی اپنی معاشی اور معاشرتی خصوصیات ہیں لہٰذا ہمیں نیوٹیک کے پروفیشنل اور ٹیکنیکل تربیتی پروگرام بھی مقامی معاشی ضروریات کے مطابق ترتیب دینے ہونگے۔ نیوٹیک کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت کو مارکیٹ کی ضروریات، صنعتوں کے تقاضوں اور روزمرہ زندگی کی عملی ضرورتوں کے مطابق تشکیل دے۔ ہمیں ایسے تربیتی پروگراموں کی ضرورت ہے جو محض نصابی تقاضے پورے نہ کریں بلکہ نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنائیں، انہیں خود روزگاری کی طرف راغب کریں اور معاشی خودمختاری کا راستہ دکھائیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن روزگار کے فروغ کا ایک موثر اور متعلقہ وسیلہ ہے۔ جب ایک نوجوان مشین آپریٹر، الیکٹریشن، سولر ٹیکنیشن، آٹو مکینک، آئی ٹی پروفیشنل یا کسی دوسرے ہنر میں مہارت حاصل کرتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے روزگار کا راستہ نہیں بناتا بلکہ معیشت میں اپنی عملی شرکت بھی یقینی بناتا ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں پہلے سے جدید مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں اور اب ہر ضلع کی سطح پر بھی نیوٹیک کی مدد سے ٹیکنیکل ایجوکیشن روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تقریباً 50 فیصد اہم کردار ادا کریگی۔ یہ محض ایک عددی ٹارگٹ نہیں بلکہ ایک ایسی وسیع اسٹریٹجی ہے جو ہائیر ایجوکیشن اور روزگار کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں ایسے تربیتی مراکز قائم کرنے اور موجودہ اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جہاں نوجوان جدید آلات، تجربہ گاہوں اور صنعتوں کے ساتھ عملی تربیت حاصل کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر9609/026
کوئٹہ 3 نومبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے تیسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندی کے باعث اب تک 100 سے زائد اسکالرز صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار اور سازگار تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کیلئے موجود پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسرز کو برقرار رکھنے اور نئے پروفیسرز و ریسرچرز کو راغب کرنے کی غرض سے ایک جامع اور پُرکشش حکمتِ عملی تشکیل دینی ہوگی تاکہ برین ڈرین کا بروقت تدارک کیا جاسکے۔ ںرین ڈرینج کی روک تھام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علمی و تحقیقی صلاحیتوں کے فروغ کیلئے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سے تمام یونیورسٹیوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور طلبہ کو جدید علم و تحقیق سے آراستہ کرنے میں مدد ملیگی۔ گورنر نے وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد اور انکی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں تاہم اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ سینیٹ کے تیسرے اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، قائد حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ، رجسٹرار انجینئر لیاقت لہڑی اور سینیٹ کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے صوبے میں نئی یونیورسٹیز اور کیمپسز کا قیام انفرادی خواہشات کی بجائے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر عمل میں لایا جائیگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ کیمپسز کی افادیت کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں برقرار رکھنے، ضم کرنے یا ختم کرنے کے حوالے سے پالیسی ساز فیصلے کیے جائیں۔ گورنر بلوچستان نے نشاندہی کی کہ بعض جدید شعبہ جات میں سینئر فیکلٹی ممبران کی شدید کمی ہے جبکہ بعض روایتی شعبہ جات میں طلبہ کے مقابلے میں اسٹاف کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے اس عدم توازن کو دور کرنے اور انسانی وسائل کی موثر منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے موثر پالیسی سازی، دستیاب وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور علمی و تحقیقی معیار میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹ ممبران کی تجاویز اور سفارشات پر غور و خوض کے بعد یونیورسٹی کی تعلیمی اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے تیسرے سینیٹ اجلاس کا اختتام سینیٹ ممبران میں یادگار شیلڈز کی تقسیم سے ہوا ۔
خبرنامہ نمبر9610/026
حب: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور حکومتِ بلوچستان کی صحتِ عامہ سے متعلق پالیسی کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پی پی ایچ آئی حب کے ڈسٹرکٹ منیجر ڈاکٹر مرشد دشتی نے دور دراز علاقے میں واقع بنیادی مرکزِ صحت (بی ایچ یو) کچ کورارو کا مانیٹرنگ دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے مرکزِ صحت میں عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، او پی ڈی رجسٹر، مریضوں کے ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے طبی مرکز کے انتظامی امور اور عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر مرشد دشتی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ اپنی حاضری یقینی بناتے ہوئے مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ادویات کی دستیابی اور ریکارڈ کی باقاعدہ تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دور دراز علاقوں میں قائم مراکزِ صحت کی مؤثر نگرانی اور طبی سہولیات کے معیار میں بہتری پی پی ایچ آئی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
خبرنامہ نمبر9611/026
چمن: ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس کی زیرِ صدارت آج خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، انسدادِ پولیو پروگرام اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پہلے روز کی مجموعی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے اہداف، ٹیموں کی فیلڈ سرگرمیوں، کوریج اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے ایم ایس کو مہم کے دوسرے روز کی پیش رفت اور حاصل کردہ اہداف کے حوالے سے بریفنگ دی۔ایم ایس چمن نے مہم کے دوران مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے، رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی جائے اور ہر علاقے میں پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسدادِ پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام متعلقہ افسران اور فیلڈ ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ ضلع چمن کو پولیو سے محفوظ بنانے کے قومی مشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9613/026
کوئٹہ 3 نومبر2026:گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے تیسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندی کے باعث اب تک 100 سے زائد اسکالرز صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار اور سازگار تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کیلئے موجود پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسرز کو برقرار رکھنے اور نئے پروفیسرز و ریسرچرز کو راغب کرنے کی غرض سے ایک جامع اور پُرکشش حکمتِ عملی تشکیل دینی ہوگی تاکہ برین ڈرین کا بروقت تدارک کیا جاسکے۔ ںرین ڈرینج کی روک تھام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علمی و تحقیقی صلاحیتوں کے فروغ کیلئے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سے تمام یونیورسٹیوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور طلبہ کو جدید علم و تحقیق سے آراستہ کرنے میں مدد ملیگی۔ گورنر نے وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد اور انکی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں تاہم اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ سینیٹ کے تیسرے اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، قائد حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ، رجسٹرار انجینئر لیاقت لہڑی اور سینیٹ کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے صوبے میں نئی یونیورسٹیز اور کیمپسز کا قیام انفرادی خواہشات کی بجائے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر عمل میں لایا جائیگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ کیمپسز کی افادیت کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں برقرار رکھنے، ضم کرنے یا ختم کرنے کے حوالے سے پالیسی ساز فیصلے کیے جائیں۔ گورنر بلوچستان نے نشاندہی کی کہ بعض جدید شعبہ جات میں سینئر فیکلٹی ممبران کی شدید کمی ہے جبکہ بعض روایتی شعبہ جات میں طلبہ کے مقابلے میں اسٹاف کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے اس عدم توازن کو دور کرنے اور انسانی وسائل کی موثر منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے موثر پالیسی سازی، دستیاب وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور علمی و تحقیقی معیار میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹ ممبران کی تجاویز اور سفارشات پر غور و خوض کے بعد یونیورسٹی کی تعلیمی اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے تیسرے سینیٹ اجلاس کا اختتام سینیٹ ممبران میں یادگار شیلڈز کی تقسیم سے ہوا ۔
خبرنامہ نمبر 9614/026
ہرنائی: ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز شام کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہم کی پیشرفت اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران طے شدہ اہداف، فیلڈ مانیٹرنگ اور بعض وجوہات کی بناء پر رہ جانے والے بچوں (Inaccessible/Refusal Cases) کو قطرے پلانے کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے ہدایت کی کہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز، صحت اور لیویز و پولیس حکام فیلڈ ٹیموں کی کڑی نگرانی اور سیکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کے ہر پانچ سال تک کی عمر کے بچے کو قطرے پلوا کر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 9615/026
صوبائی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر عبدالغفار میاں خیل کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کا دورہ، تعلیمی سہولیات اور لیبارٹریز کا معائنہ
لورالائی:3اکتوبر 2026 صوبائی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر لورالائی عبدالغفار میاں خیل نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول لورالائی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسکول کے تعلیمی و انتظامی امور، طلبہ کو دستیاب سہولیات، لائبریری اور مختلف لیبارٹریز کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر عبدالغفار میاں خیل نے اسکول کے اساتذہ کرام اور طلبہ سے ملاقات کی اور ان سے تعلیمی سرگرمیوں سمیت درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اسکول کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات اور ماحول کا بھی مشاہدہ کیا
دورے کے دوران ریجنل ڈائریکٹر نے اسکول کی لائبریری اور مختلف لیبارٹریز کا معائنہ کیا۔ لیبارٹریز کی خستہ حالی اور صفائی کی ناقص صورتحال پر انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ لیبارٹریز کی صفائی، دیکھ بھال اور ضروری مرمت پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ طلبہ کو سائنسی تعلیم اور عملی تجربات کے لیے بہتر، صاف ستھرا اور سازگار ماحول میسر آسکےبعد ازاں ریجنل ڈائریکٹر نے اسکول میں نئی تعمیر ہونے والی لیبارٹری کی عمارت کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر اسکول کے پرنسپل نے انہیں نئی عمارت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عمارت تاحال اسکول انتظامیہ کے حوالے (Hand Over) نہیں کی گئی، جس کے باعث طلبہ کو اس سہولت سے استفادہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے پرنسپل نے ریجنل ڈائریکٹر سے درخواست کی کہ متعلقہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے نئی لیبارٹری کی عمارت کی تکمیل کے باقی ماندہ مراحل جلد مکمل کروائے جائیں اور اسے باضابطہ طور پر اسکول انتظامیہ کے حوالے کیا جائے، تاکہ طلبہ جدید لیبارٹری کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سائنسی و عملی تعلیم کو مزید بہتر بنا سکیں ریجنل ڈائریکٹر عبدالغفار میاں خیل نے یقین دہانی کرائی کہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ حکام تک مسائل پہنچائے جائیں گے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اسکول کی صفائی اور دستیاب سہولیات کی مناسب دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائی
خبرنامہ نمبر9616/026
کوئٹہ، 3 نومبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 17 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم ناکام بنانا سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور کامیابیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔ دہشت گرد عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور عوام کے امن و سکون کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، تاہم ریاستی ادارے ان کے عزائم ناکام بنانے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے سپاہی حکمت اللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپاہی حکمت اللہ نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جان قربان کرکے فرض شناسی، جرات اور حب الوطنی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ قوم اپنے اس بہادر سپوت کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہادر افسران اور جوان قوم کا سرمایہ افتخار ہیں، جو اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مصروف عمل ہیں۔ ان کی قربانیاں قومی تاریخ کا قابل فخر باب ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور بلوچستان میں امن و استحکام کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ بلوچستان میں پائیدار امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی عملداری کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر9617/026
لورالائی:3اکتوبر 2026: ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز لورالائی ڈویژن ڈاکٹر عبدالرحمن شیرانی نے لورالائی ٹیچنگ ہسپتال اور لورالائی میڈیکل کالج کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر فہیم خان، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی، ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر زین اللہ کاکڑ سمیت متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر طبی افسران بھی موجود تھےڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر عبدالرحمن شیرانی نے دورے کے دوران ٹیچنگ ہسپتال کے مختلف اہم شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے ایم آر آئی سنٹر، سٹی اسکین سنٹر، گائنی وارڈ، میڈیسن اسٹور، نیشنل پروگرام کے میڈیسن اسٹور، شعبہ حادثات، کارڈیک وارڈ، آپریشن تھیٹر اور ہسپتال کے دیگر شعبہ جات کا جائزہ لیا.اس موقع پر انہوں نے مختلف وارڈز میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، طبی آلات، عملے کی موجودگی اور ہسپتال کے انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال میں دستیاب جدید طبی سہولیات کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے اور مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی پر زور دیا بعد ازاں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے لورالائی میڈیکل کالج کا بھی تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات اور کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی و تدریسی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، کلاسز کے نظم و ضبط اور طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کیں دورانِ دورہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی نے ڈویژنل ڈائریکٹر کو ہسپتال میں کیے گئے مختلف اقدامات، طبی سہولیات میں بہتری، جاری سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈاکٹر عبدالرحمن شیرانی نے ہسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور ادارے کو جدید و معیاری طبی مرکز بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیاانہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کو مزید فعال، جدید اور عوام کے لیے حقیقی معنوں میں علاج معالجے کا مؤثر مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گےڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے ہسپتال اور میڈیکل کالج کی بہتری کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت کے افسران اور طبی عملے کی مشترکہ کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔
خبرنامہ نمبر 9618/026
زیارت 3 نومبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے بیسک ہیلتھ یونٹ چینہ زیارت کا دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ملازمین کا حاضری رجسٹر چیک کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی عوام کے مفت علاج معالجہ کو بروقت کیا جائے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے چینہ زیارت میں بی ایس ڈی آئی سکیم کا بھی دورہ کیا اور اس موقع پر افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کو بروقت اور معیار کے مطابق جلد مکمل کیا جائے
خبرنامہ نمبر9619/026
تربت 3 نومبر 2026: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤوف رند نے ڈسٹرکٹ سینٹرل جیل تربت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل منیر احمد شے تگری سے اہم ملاقات کی۔ملاقات کے دوران سینٹرل جیل میں محکمہ صحت سے متعلق مسائل، قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت عامہ کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر جیل میں مستقل ڈاکٹر کی عدم دستیابی کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤوف رند نے اس مسئلے کے حل کے لیے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت ضلع کیچ کی جانب سے ہفتے میں دو دن ڈاکٹر کی خدمات فراہم کی جائیں گی، جو جیل کا دورہ کرکے قیدی مریضوں کا طبی معائنہ کریں گے اور انہیں ضروری علاج و معالجے کی سہولت فراہم کریں گے۔دورانِ ملاقات جیل حکام نے مچھروں اور دیگر حشرات سے بچاؤ کے لیے جیل میں اسپرے کرانے کی درخواست بھی کی، جس پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤوف رند نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو جیل میں اسپرے کرنے کے احکامات جاری کیے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل منیر احمد شے تگری نے قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تعاون اور جیل کے صحت سے متعلق مسائل پر فوری توجہ دینے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤوف رند کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت اور جیل انتظامیہ کے درمیان باہمی تعاون سے قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت و صفائی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
خبرنامہ نمبر9620/026
کوئٹہ:03نومبر2026:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ صحت، ڈی ایچ او، نیشنل ای او سی، ڈسٹرکٹ پولیو ٹیموں، مانیٹرز پولیس اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی، تمام یونین کونسلز میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مجموعی کوریج اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ناقص کارکردگی اور اہداف کے حصول میں غفلت برتنے والی ٹیموں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر تسلی بخش کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/9621
پشین3نومبر:ـمحکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ضلعی انتظامیہ پشین اور زیڈ ایچ کیو کوئٹہ کی مشترکہ کارروائی کے دوران پشین شہر سے پوست کے 2 ہزار 500 کلوگرام (ڈھائی ٹن) بیج برآمد کرکے 46 بوریاں قبضے میں لے لی گئیں۔ حکام کے مطابق برآمد شدہ بیج آئندہ سیزن میں پوست کی کاشت کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات کے حکام کے مطابق برآمد شدہ پوست کے بیجوں کی موجودہ مارکیٹ قیمت تقریباً 1,500 سے 2,000 روپے فی کلوگرام ہے، جس کے حساب سے ضبط شدہ کھیپ کی مجموعی مالیت 37 لاکھ 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے کے درمیان بنتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پوست کی کاشت کے سیزن سے قبل اتنی بڑی مقدار میں بیجوں کی برآمدگی ایک اہم پیشگی کارروائی ہے، جس سے زیڈ ایچ کیو کوئٹہ کے حدودِ اختیار میں پوست کی ممکنہ کاشت کی روک تھام اور اس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کارروائی سے پوست کے بیجوں کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور ممکنہ ترسیل میں ملوث عناصر اور نیٹ ورکس کی نشاندہی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔برآمد شدہ بیج مزید قانونی کارروائی اور محفوظ تحویل کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پشین کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جبکہ اس سلسلے میں قدرت اللہ نامی شخص، سکنہ کلی تراتہ پشین، کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جن کے دوران برآمد شدہ بیجوں کے اصل ذرائع، ممکنہ سہولت کاروں، خرید و فروخت میں ملوث افراد اور ان علاقوں کا تعین کیا جا رہا ہے جہاں ان بیجوں کے ذریعے پوست کی کاشت کا منصوبہ تھا۔حکام نے اس کارروائی کو پوست کی ممکنہ کاشت کے خلاف ایک اہم پیشگی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات کا مقصد منشیات کی پیداوار کی روک تھام، غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب اور متعلقہ نیٹ ورکس کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9622
زیارت3نومبر:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے بیسک ہیلتھ یونٹ چینہ زیارت کا دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ملازمین کا حاضری رجسٹر چیک کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی عوام کے مفت علاج معالجہ کو بروقت کیا جائے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے چینہ زیارت میں بی ایس ڈی آئی سکیم کا بھی دورہ کیا اور اس موقع پر افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کو بروقت اور معیار کے مطابق جلد مکمل کیا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9623
قلات3نومبر:ـ عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے آج مورخہ 4 نومبر2026 بروز بدھ بوقت 12:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیاہے کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں منعقد ہوگا۔لہذا متعلقہ افراد علاقہ معززین اور صحافی برادری سے گزارش ہیکہ کل ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
خبر نامہ نمبر2026/9624
اُستامحمد3نومبر:ـصوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی کاوشوں اور ہدایات کی روشنی میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اُستامحمد میں عوام کو بہتر، معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہےاس سلسلے میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی مانیٹرنگ ٹیم نے سردارزادہ ضرار خان جمالی کی قیادت میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اُستامحمد کا دورہ کیا دورے کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زین العابدین نے مانیٹرنگ ٹیم کو ہسپتال کے مختلف شعبہ جات دستیاب طبی سہولیات ادویات کی فراہمی، مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات اور جاری ترقیاتی و مرمتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی
اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر زین العابدین نے بتایا کہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی کاوشوں سے ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں ہسپتال میں سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے، جبکہ ڈائیلاسز سینٹر میں چار ڈائیلاسز مشینیں فعال ہیں جن کے ذریعے بیک وقت چار مریضوں کو ڈائیلاسز کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اس کے علاوہ ہسپتال میں نرسری وارڈ اور الٹراساؤنڈ کی سہولت بھی دستیاب ہے جہاں روزانہ تقریباً 50 مریض ان سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں ان اقدامات سے علاقے کے مریضوں کو اپنے ہی شہر میں علاج معالجے کی اہم سہولیات میسر آ رہی ہیں اور انہیں معمولی طبی ضروریات کے لیے دیگر شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت میں کمی آئی ہے
انہوں نے ادویات کی فراہمی کے حوالے سے درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں ادویات کے لیے مختص بجٹ آبادی کے تناسب سے ناکافی ہے جس کے باعث مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بعض اوقات ادویات کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ہسپتال انتظامیہ اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے تاکہ دستیاب وسائل کے مطابق مریضوں کو ان کی ضروریات کے تحت ادویات فراہم کی جا سکیں اور علاج معالجے کے دوران انہیں کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑےایم ایس نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں جدید سہولیات سے آراستہ نئے ڈینٹل وارڈ کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے جسے ضروری طبی آلات اور مشینری کی فراہمی کے بعد نئے وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی عمارت کی مرمت، تزئین و آرائش اور بہتری کے کام بھی تیزی سے جاری ہیں ان کاموں کی تکمیل سے نہ صرف ہسپتال کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی بلکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو علاج معالجے کے لیے زیادہ بہتر اور موزوں ماحول بھی میسر آئے گاانہوں نے مانیٹرنگ ٹیم کو ہسپتال کو درپیش دیگر مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایمبولینسز کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس کے باعث ہنگامی حالات میں مریضوں کی بروقت منتقلی کے حوالے سے مشکلات پیش آتی ہیں اس کے باوجود ہسپتال انتظامیہ دستیاب وسائل اور بہتر انتظامی حکمت عملی کے تحت مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے
اس موقع پر سردارزادہ ضرار خان جمالی نے کہا کہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی ہدایات کے مطابق علاقے میں عوام کی فلاح و بہبود صحت کی سہولیات میں بہتری اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت سمیت دیگر بنیادی شعبوں میں بہتر سہولیات فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہےانہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل تعمیراتی کاموں کے معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو مختلف اداروں اور جاری منصوبوں کا باقاعدگی سے دورہ کر کے عملی پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے اس عمل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے اور عوام کو شروع کیے گئے منصوبوں کے ثمرات براہ راست حاصل ہوں سردارزادہ ضرار خان جمالی نے کہا کہ صحت کا شعبہ عوامی خدمت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اُستامحمد میں موجود سہولیات کو مزید بہتر بنانے درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھا جائے گا انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری ضروری مشینری اور آلات کی فراہمی سمیت دیگر مسائل کو متعلقہ فورمز پر اجاگر کیا جائے گا تاکہ عوام کو اپنے علاقے میں ہی بہتر، معیاری اور بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں اس موقع پر فارماسسٹ ڈاکٹر محمد عالم ابڑو، ڈاکٹر ظہور احمد سومرو، ڈاکٹر زاہد حسین بھنگر اور دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
ُپریس ریلیز
اعلان نماز جنازہ:سابق چیف سیکرٹری بلوچستان شیخ یونس خان مندوخیل کی اہلیہ ،ڈاکٹر افصل خان اور ڈاکٹرشہباز خان مندوخیل کی والدہ طویل علالت کے بعد وفات پا گئی ہے۔مرحومہ شیخ محمود الحسن ، شیخ ضیاہ الحسن اور شیخ سعید الحسن کی بھابھی اور چیف جسٹس جمال خان مندوخیل ، سینیٹر بلال خان مندوخیل (MPA)بلوچستان اسمبلی زرک خان مندوخیل کی چچی تھیں۔ مرحومہ کی نماز جنازہ کل بروز بدھ 4نومبر کو شیخان مسجد ژوب میں بعد از نماز ظہر ادا کی جائے گی مرحومہ کی فاتحہ خوانی ژوب میں 4نومبرسے 6نومبر جمعہ تک ہوگی۔کوئٹہ میں فاتحہ خوانی کااعلان بعد میں کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/9625
اُستامحمد3نومبر:ـصوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی ہدایات پر ان کی جانب سے تشکیل دی گئی مانیٹرنگ ٹیم نے سردارزادہ ضرار خان جمالی کی قیادت میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اُستامحمد کا دورہ کیا دورے کا مقصد ہسپتال میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری اور ادویات کی دستیابی کا جائزہ لینا تھااس موقع پر مانیٹرنگ ٹیم نے ہسپتال کے مختلف وارڈز اور شعبہ جات معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں ٹیم نے ہسپتال انتظامیہ سے طبی سہولیات کی فراہمی درپیش مسائل اور بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیاسردارزادہ ضرار خان جمالی نے واضح کیا کہ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی ہدایات کے مطابق عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں ہسپتال کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9626
زیارت3نومبر:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے بیسک ہیلتھ یونٹ چینہ زیارت کا دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ملازمین کا حاضری رجسٹر چیک کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی عوام کے مفت علاج معالجہ کو بروقت کیا جائے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ نے چینہ زیارت میں بی ایس ڈی آئی سکیم کا بھی دورہ کیا اور اس موقع پر افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کو بروقت اور معیار کے مطابق جلد مکمل کیا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9627
کوئٹہ 03نومبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات، عوامی شکایات اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سریاب روڈ سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں پولٹری دکانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔کارروائی کے دوران سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر 6 دکانیں سیل جبکہ 15 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔یہ کارروائیاں اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی سربراہی میں عمل میں لائی گئیں۔اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا ہے کہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی اور عوام کو ناجائز منافع خوری کے ذریعے لوٹنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔شہر میں ناجائز منافع خوری اور گرافرشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام دکاندار مقرر نرخوں پر اشیاء خوردونوش کی فروخت کو یقینی بنائیں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9628
کوئٹہ3 نومبر:_وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان کے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ’’فَضٰ‘‘ (Fa’az) کے کامیاب تجرباتی پرواز پر قوم، پاک فضائیہ اور دفاعی صنعت سے وابستہ سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی پاکستان کی دفاعی خود انحصاری، سائنسی مہارت اور تکنیکی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس اس جدید میزائل کی طویل فاصلے تک فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پاک فضائیہ کی آپریشنل استعداد اور دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گی۔ یہ کامیاب تجربہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے اور ملکی سطح پر جدید دفاعی نظام تیار کرنے کی بھرپور استعداد رکھتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت سائنسدانوں، انجینئرز اور دفاعی ماہرین کی انتھک محنت، فنی مہارت اور قومی جذبے نے اس اہم کامیابی کو ممکن بنایا ہے۔ دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کا حصول قومی سلامتی کے تحفظ اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی دفاعی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے قومی خودمختاری، علاقائی امن اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی استعداد میں مزید اضافہ کرتا رہے گا۔





