31st-October-2026

خبرنامہ نمبر 9510/2026
کوئٹہ، 31 اکتوبر:مشیر وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی خواتین میں کاروباری صلاحیتوں اور تخلیقی مہارتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم، مالی معاونت اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے۔ ویمن انٹرپرینیورز نیٹ ورک نمائش (WEXNET) محض ایک نمائش نہیں بلکہ بلوچستان کی خواتین کو قومی سطح پر متعارف کرانے اور ان کی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) کوئٹہ میں ویمن انٹرپرینیورز نیٹ ورک نمائش WEXNET 2026 کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ نمائش کا انعقاد ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کوئٹہ نے بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (BBoIT) اور محکمہ ترقی نسواں کے اشتراک سے کیا ہے، جس میں بلوچستان بھر سے 100 سے زائد خواتین کاروباری شخصیات اپنی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتوں کے ساتھ شریک ہیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ایک طویل عرصے سے قومی سطح کے ایسے پلیٹ فارم کی منتظر تھیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں، مصنوعات اور کاروباری مواقع کو دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔ آج ہم نے پاکستان کو بلوچستان میں متعارف کرایا ہے اور WEXNET کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ مقامی مصنوعات کو قومی پلیٹ فارم اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہمارا ہدف ہے۔ WEXNET پاکستان کی واحد قومی نمائش ہے جو خصوصی طور پر خواتین کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کو سامنے لانے کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق خواتین کی معاشی خودمختاری، کاروباری سرگرمیوں میں ان کی مؤثر شمولیت اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کے کردار کو مستحکم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کو محض کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینا کافی نہیں بلکہ ان کے کاروبار کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے، مصنوعات کی تشہیر، مارکیٹ تک رسائی اور مالی وسائل کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ مشیر ترقی نسواں نے نمائش میں شریک خواتین کاروباری شخصیات کے لیے تین اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ WEXNET کوئٹہ میں شریک نمایاں 20 خواتین کاروباری شخصیات کو قومی اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں WEXNET لاہور اور اسلام آباد کی نمائشیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں تمام شریک خواتین کو دراز سمیت دیگر ای کامرس پلیٹ فارمز اور مجوزہ بلوچ ویمن سپر ایپ سے منسلک کرنے کے لیے تربیتی سہولیات فراہم کرے گا، جس کے تحت مصنوعات کی پیشہ ورانہ فوٹوگرافی، پیکجنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق مہارتیں سکھائی جائیں گی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ ویمن اکنامک انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے خواتین کاروباری شخصیات کو اپنے کاروبار میں توسیع اور بہتری کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلاسود قرضوں کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ ان اقدامات کا مقصد خواتین کے کاروبار کو مقامی سطح سے آگے بڑھا کر قومی اور بین الاقوامی مارکیٹوں سے منسلک کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت آئندہ تین سال میں صوبے کے سات ڈویژنوں میں ویمن ٹیک انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ 10 ہزار خواتین کو ڈیجیٹل شعبے میں روزگار کے قابل بنانے کے لیے تربیت فراہم کی جائے گی۔ ان مراکز کے ذریعے خواتین کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹی ڈی اے پی کوئٹہ نور علی اچکزئی نے کہا کہ WEXNET کوئٹہ کے انعقاد کا مقصد خواتین میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھانا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کاروباری شخصیات قومی معیشت کے استحکام اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ دو روزہ نمائش میں 100 اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ کاروباری روابط کے فروغ کے لیے بی ٹو بی سیشنز، سیمینارز، ای کامرس سہولیات اور کاروباری ترقی سے متعلق سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ نمائش میں قلات، خضدار، تربت، ژوب، گوادر، لورالائی اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں کی خواتین کی تیار کردہ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، دستکاری، قیمتی پتھروں، ای کامرس اور عمومی تجارت سے متعلق مصنوعات پیش کی گئی ہیں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نمائش کے تمام اسٹالز کا دورہ کیا، خواتین کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ان کی مصنوعات اور کاروباری تجربات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مصنوعات کی خریداری بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کی صلاحیتوں کو مناسب مواقع فراہم کرکے انہیں معاشی طور پر خودمختار بنایا جاسکتا ہے اور ان کی کاروباری کامیابی صوبے کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

خبرنامہ نمبر 9511/2026
برشور : 31 اکتوبر 2026 صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اربن پلاننگ و چئیرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسفند یار خان کاکڑ اور کمشنر پشین ڈویژن قائم خان لاشاری نے نوٹیفائیڈ ضلع برشور کا مشترکہ دورہ کیا,اور یہاں جاری عوامی فلاح و بہبود کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا،اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر برشور سید رضی ہریرہ،اسسٹنٹ کمشنر توبہ کاکڑی معید جاموٹ اور متعلقہ محکموں کے آفسران بھی موجود تھے،ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی جانب سے معزز مہمانوں کو عارضی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں کیے گئے انتظامی اقدامات،ضلعی خزانہ آفس،ڈی ایچ کیو ہسپتال،گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول قلعہ ویالہ اور پی ڈی ایم اے رسپانس سینٹر و وئیر ہاؤس سمیت دیگر تمام جاری ترقیاتی منصوبوں اور اہداف پر جامع بریفنگ دی گئی،جس پر دونوں رہنماؤں نے تمام انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا،دورے کے دوران کمشنر پشین ڈویژن قائم خان لاشاری نے انتظامی امور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع برشور کو ترقی دینے کے لیے سنجیدگی سے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ہمارا ہدف اسے جلد از جلد ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تاکہ مستقبل قریب میں اس نوٹیفائیڈ ضلع کو ایک مثالی ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے،دوسری جانب صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار خان کاکڑ نے عوامی و سیاسی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات جاری رہیں گے اور ضلع بھر میں بنیادی سہولیات اور ترقیاتی اسکیموں کا جال بچھا دیا جائے گا تاکہ طویل محرومیوں کے بعد یہاں کے عوام کسی صورت مایوسی سے دوچار نہ ہوں اور ان کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر 9512/2026
بارکھان/رکھن۔31اکتوبر۔
ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ صحت کوہ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر مہر دین کھیتران نے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) رکھنی کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے حاضری رجسٹر، نوٹس بورڈ پر آویزاں فہرستوں اور طبی عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے صفائی کی ناقص صورتحال پر عملے کو تنبیہ کرتے ہوئے صفائی کے انتظامات بہتر بنانے اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے کی ہدایت کی۔دوسری جانب دورے کے دوران ہسپتال میں بجلی کی عدم فراہمی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ بجلی نہ ہونے کے باعث پورا ہسپتال اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور روشنی کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔ بجلی اور متبادل روشنی کی سہولت نہ ہونے سے مریضوں اور طبی عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بی ایچ یو رکھنی میں بجلی کی فراہمی اور متبادل روشنی کا مستقل انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

خبرنامہ نمبر 9513/2026
گوادر۔ 31 اکتوبر :ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے جی ڈی اے کے اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت شہر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا اور جاری کاموں کی پیش رفت، معیار اور رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے انجینئر حاجی سید محمد، چیئرمین تحصیل میونسپل کمیٹی ماجد جوہر، پروجیکٹ ڈائریکٹر میر دودا خان مری، وائس چیئرمین تحصیل میونسپل کمیٹی سیف اللہ ہوت اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ایم پی اے گوادر اور ڈی جی جی ڈی اے نے اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے میں شامل شہر کے دو قدیم اور اہم تجارتی مراکز شاہی بازار اور جنت بازار کا دورہ کیا، جہاں تعمیر و توسیع، تزئین و آرائش اور بحالی کے جاری کاموں کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر یوٹیلٹیز کی منتقلی، خصوصاً بجلی کے کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمرز کی منتقلی کے باعث پیش آنے والی تاخیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس حوالے سے اتفاق کیا گیا کہ یوٹیلٹیز کی منتقلی کے معاملات کے ساتھ ساتھ شاہی بازار اور جنت بازار میں فلورنگ اور ٹف ٹائلنگ کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا تاکہ آئندہ برسات کے موسم میں دکانداروں، تاجروں اور شہریوں کو آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسی طرح انہوں نے ملا فاضل چوک کی بہتری اور خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لیے سنٹر میں ایک خوبصورت گزیبو نما اسٹرکچر تعمیر کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ مجوزہ اسٹرکچر سے نہ صرف اس تاریخی اور ثقافتی چوک کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شہریوں کو بیٹھنے اور انتظار کے لیے سایہ دار جگہ بھی میسر آئے گی۔دورے کے دوران سورگ دل گراؤنڈ کا معائنہ کیا، جہاں گراؤنڈ کے پویلین کے مجوزہ ڈیزائن میں تبدیلی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پویلین کے ڈیزائن کا ازسرِنو جائزہ لے کر اسے مزید بہتر اور موزوں بنایا جائے گا۔انہوں نے شادو بند وارڈ میں ڈرینج سسٹم، سڑکوں اور ٹف ٹائلنگ کے جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ شعبے کو منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔بعدازاں انہوں نے میرین ڈرائیو اور ڈھور چوک کا بھی دورہ کیا، جہاں صفائی ستھرائی، شہری سہولیات اور بہتری کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ بوٹ بیسن ایریا میں ماہی گیروں کی جانب سے سڑک پر مچھلیوں کی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور سڑک پر صفائی کے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ اس صورتحال کے تدارک کے لیے ماہی گیروں، عوامی نمائندگان اور متعلقہ اداروں کے باہمی مشاورت سے مؤثر اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ علاقے میں صفائی ستھرائی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں عوامی شمولیت، تمام اسٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے تیز کیا جائے گا تاکہ گوادر کے قدیم تجارتی مراکز، عوامی مقامات اور شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنا کر شہریوں کو جدید اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر 9514/2026
قلات:وزیراعلی بلوچستان کے اجکامات کی روشنی میں پولیو فری مہم کے تحت ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمالک، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سومار خان، ڈی ایم پی پی ایچ آئی جہانگیر زہری اور ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی نے بھی بچوں کو قطرے پلائے اور ان کی فنگر مارکنگ کی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے ڈپٹی کمشنر قلات کو چار روزہ پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو مہم 2 نومبر 2026 سے شروع ہو کر 5 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران ضلع قلات کی 19 یونین کونسلز میں پانچ سال تک کی عمر کے 40,269 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ پولیو ویکسین ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ ایریاسپروائزرز پولیو ٹیموں کی مؤثر نگرانی کریں اور مہم کے دوران کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے والدین، سیاسی و سماجی کارکنان، علماء کرام، شعراء، ادباء اور صحافی برادری اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور بنیادی مقصد ہے۔

خبرنامہ نمبر 9515/2026
کوئٹہ، 31 اکتوبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے اشتراک سے دو روزہ ویمن انٹرپرینیورز ایکسپو ’’ویکس نیٹ‘‘ کا آغاز ہوگیا۔ بیوٹمز ایکسپو سینٹر کوئٹہ میں منعقدہ نمائش کا افتتاح صوبائی مشیر وزیر اعلیٰ برائے ترقیِ نسواں ربابہ بلیدی نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، سیکرٹری ٹی ڈی اے پی شہریار تاج، وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں جنگیان دشتی،PHDEC کے سی ای او محمد نصیر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر وزیر اعلیٰ برائے ترقیِ نسواں ربابہ بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کی ترقی، فلاح و بہبود اور معاشی خودمختاری کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو کاروباری میدان میں آگے لانا اور ان کی تیار کردہ مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہمارا مشترکہ وژن ہے۔ محکمہ ترقیِ نسواں خواتین کے کاروبار کو فروغ دینے، انہیں معاشی سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے، مالی معاونت اور قرضوں کے حصول میں سہولت دینے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال نمائش میں تقریباً 100 اسٹالز لگائے گئے ہیں، تاہم آئندہ نمائش میں اس تعداد کو بڑھا کر تقریباً 300 اسٹالز تک لے جانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو اپنی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتیں متعارف کرانے کا موقع مل سکے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر جام کمال خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے منعقدہ اس اہم اقدام کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی کوشش ہے کہ صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنایا جائے اور انہیں کاروبار شروع کرنے اور اسے وسعت دینے کے لیے مؤثر مواقع فراہم کیے جائیں۔ ویکس نیٹ جیسے اقدامات خواتین کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، کاروباری روابط قائم کرنے اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم، سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ صوبے کی معیشت میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے ویکس نیٹ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اس نوعیت کی کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کا انعقاد نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ صوبے میں مثبت کاروباری ماحول کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس طرح کی تقریبات کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکرٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان شہریار تاج نے اپنے خطاب میں ویکس نیٹ کے پس منظر اور اس کے آغاز سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا آغاز 2000 میں کیا گیا تھا اور اب تک ملک بھر میں تقریباً 12 نمائشیں منعقد کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر جام کمال خان کی بھی ذاتی خواہش تھی کہ بلوچستان کی خواتین کو کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور اپنی مصنوعات کی نمائش کے لیے ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنا سکیں۔ ویکس نیٹ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے خواتین کاروباری افراد کو نئی منڈیوں، خریداروں اور کاروباری مواقع سے منسلک کرنے میں مدد ملے گی۔ وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی کاروباری ترقی اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ چیمبر آف کامرس کے نمائندوں جنگیز عمراشئی اور دیگر مقررین نے بھی اس اقدام کو سراہا اور خواتین کاروباری افراد کو درپیش چیلنجز کے حل، ان کی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور کاروباری روابط کے فروغ کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت اجاگر کی۔ واضح رہے کہ دو روزہ ویکس نیٹ ویمن انٹرپرینیورز ایکسپو 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو بیوٹمز ایکسپو سینٹر کوئٹہ میں جاری رہے گی، جس میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کاروباری افراد اپنی تیار کردہ مصنوعات اور دستکاریوں کی نمائش کررہی ہیں۔

خبرنامہ نمبر9516/2026
کوئٹہ31 اکتوبر: ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں پاکستان پروفیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام مرحوم عبدالغنی مینگل میموریل انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ 2026 کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل تھے۔ چیمپئن شپ میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے 60 باکسرز نے حصہ لیا۔ فائنل مقابلوں میں چار باکسرز نے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کے گولڈ باکسر نجیب اللہ نے گولڈ میڈل جیتا. علی احمد اور ایران کے دانیال شاہ نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی فیمیل باکسر بس بانو نے بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کی توجہ حاصل کی۔ تقریب میں صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، نوراللہ لہڑی، کھیلوں سے وابستہ اہم شخصیات، منتظمین اور شائقین نے شرکت کی۔ اس موقع پر کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کی گئی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر متعدد کھیلوں میں عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل ہے۔اور بلوچستان کے کھلاڑیوں میں بھی بیپناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے مناسب مواقع اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کو کافی زیادہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں جنکے موثر استعمال کو ہم یقینی بنائیگے تاکہ کھیلوں کے فروغ، کھلاڑیوں کی ٹریننگ، ترقی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے مواقع بڑھانے پر خرچ کیے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر9517/2026
لاہور، 31 اکتوبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ہماری وفاداری غیر مشروط ہے، بلوچستان کا مقدمہ اور یہاں کے عوام کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے کے نام پر بعض حلقوں کی جانب سے کنفیوژن اور گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کو اس وقت تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں تشدد کو جائز قرار دینے والا بیانیہ، مسلح دہشت گردی اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی شامل ہیں۔ دہشت گرد بلوچستان کا انفراسٹرکچر تباہ کر رہے ہیں اور معصوم پاکستانیوں کو قتل کر رہے ہیں، کسی بھی محرومی یا سیاسی اختلاف کو تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ تعلیم، مکالمے، سیاسی عمل اور جمہوری رویوں میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لاہور میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہماری وفاداری غیر مشروط ہے اور بلوچستان کے عوام بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ صوبے کے حقیقی مسائل، احساس محرومی اور ترقیاتی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے، تاہم ان مسائل کو بنیاد بنا کر علیحدگی پسند تشدد کی حمایت یا اس کا جواز پیش کرنا کسی صورت درست نہیں۔ بعض حلقے کبھی پسماندگی، کبھی محرومی اور کبھی دیگر مسائل کو مسلح تشدد سے جوڑ کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جس سے حقائق دھندلا جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات پر گفتگو کرنے والے مبصرین اور تجزیہ کاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر بات کریں اور تشدد کو کسی بھی صورت قابل قبول بنانے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش دوسرا بڑا چیلنج مسلح تشدد ہے، جہاں دہشت گرد مسلح جتھوں کی صورت میں لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں اور صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں۔ دہشت گردی صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی، معاشی سرگرمیوں، تعلیم اور عوام کے بہتر مستقبل کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ اختلاف رائے اور سیاسی مطالبات کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، لیکن بندوق کے ذریعے اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنا کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعلیٰ نے تیسرے چیلنج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہ کن معلومات اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ ہر خبر، دعوے اور بیانیے کو تحقیق اور حقائق کی کسوٹی پر پرکھیں۔ جامعات اور تعلیمی اداروں کا کردار صرف ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے باشعور، ذمہ دار اور تنقیدی سوچ رکھنے والے شہری تیار کرنا بھی ہے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ میر سرفراز بگٹی نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپس کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ یو ایم ٹی نے بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے سالانہ ایک ارب روپے بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے فراہم کرنا بین الصوبائی تعاون اور قومی یکجہتی کی ایک قابل قدر مثال ہے۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف بلوچستان کے طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں بلکہ صوبوں کے درمیان اعتماد اور باہمی تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اپنے 80 فیصد سے زائد طلبہ کو 80 فیصد اسکالرشپ پر تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مالی وسائل کی کمی کسی بھی باصلاحیت نوجوان کی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہ بنے۔ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری درحقیقت بلوچستان اور پاکستان کے روشن مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور انہیں مناسب مواقع، رہنمائی اور تعلیمی سہولیات فراہم کرکے قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر کردار دیا جا سکتا ہے۔ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو نوجوانوں کو انتہا پسندی، تشدد اور گمراہ کن نظریات سے دور رکھتے ہوئے انہیں علم، شعور اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو مایوسی اور منفی پروپیگنڈے کے بجائے امید، محنت اور ترقی کا راستہ دکھانا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کانووکیشن میں فارغ التحصیل طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گریجویشن کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ عملی زندگی کے ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز ہے۔ آج طلبہ ایک نئی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں کامیابی کے لیے مسلسل محنت، دیانت داری اور مستقل مزاجی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، بلند اہداف مقرر کریں اور اپنی تعلیم و مہارت کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ میر سرفراز بگٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ، فیکلٹی اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانووکیشن میں شرکت ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے تمام فارغ التحصیل طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ محنت اور دیانت داری کو اپنا شعار بنا کر نوجوان زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

خبرنامہ نمبر9518/2026
لاہور، 31 اکتوبر:یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) لاہور نے بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور جدید تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے کی اسکالرشپس دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کوئٹہ میں طلبہ کے لیے اسٹڈی سینٹر اور خصوصی تربیتی مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔ یہ اعلانات یو ایم ٹی لاہور کے چیئرمین و صدر ابراہیم حسن مراد نے ہفتہ کو یونیورسٹی کے کانووکیشن کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی درخواست پر کیے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی دینے اور ان کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانیکے لیے تعلیمی اداروں کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یو ایم ٹی کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کے لیے خصوصی اسکالرشپس اور کوئٹہ میں تعلیمی و تربیتی مرکز کے قیام کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم تعلیمی موقع قرار دیا۔یو ایم ٹی لاہور کی جانب سے اعلان کردہ 10 کروڑ روپے کے اسکالرشپ فنڈ سے بلوچستان کے مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم ہوگی، جبکہ کوئٹہ میں قائم ہونے والا اسٹڈی سینٹر اور خصوصی تربیتی مرکز مقامی طلبہ کو تعلیمی رہنمائی اور تربیت کے مواقع ان کے اپنے صوبے میں فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس اقدام کو بین الصوبائی تعلیمی تعاون، قومی یکجہتی اور بلوچستان کے نوجوانوں کی تعلیمی ترقی کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

خبرنامہ نمبر9519/2026
نصیرآباد:پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و رکن صوبائی اسمبلی حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ ایک ارب روپے کی خطیر لاگت سے میگا ترقیاتی منصوبے کے تحت 35 کلومیٹر طویل منجھو شوری بیرون یونین کونسل بارک سے تحصیل لانڈھی شریف کے مختلف علاقوں تک بلیک ٹاپ سڑک تعمیر کی جائے گی، جس سے علاقے کے ہزاروں عوام مستفید ہوں گے، اس اہم شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف دیہی آبادی کا شہروں سے رابطہ بہتر ہوگا بلکہ کسانوں کو اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک پہنچانے حلقہ انتخاب میں عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے، ہماری اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا اور علاقے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے طلبہ کو تعلیمی اداروں اور مریضوں کو ہسپتالوں تک رسائی میں بھی نمایاں سہولت میسر آئے گی، جبکہ علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کے دورے کے موقع پر مختلف عوامی وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا کہ تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی عوام کا بنیادی حق ہے اور ہم اپنی سیاسی سوچ اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت بلاامتیاز ہر طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، کیونکہ عوام نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اسے عملی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ذریعے پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کا معیار زندگی بلند کرنے، پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے اور اجتماعی خوشحالی کے لیے حکومت عملی اقدامات اٹھا رہی ہے، ہماری کوشش ہے کہ ترقی کے ثمرات صرف چند علاقوں تک محدود نہ رہیں بلکہ حلقے کے ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر شہری تک پہنچیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتے ہوئے ان کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں حاصل ہو سکیں۔’

خبرنامہ نمبر9520/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں قومی انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ایس ایس پی نصیرآباد اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور مہم کے آغاز میں حصہ لیا۔افتتاحی تقریب کے دوران محکمہ صحت کے حکام نے پولیو مہم کے حوالے سے انتظامات اور ٹیموں کی ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی فراہم کی اس موقع پر بتایا گیا کہ مہم کے دوران ضلع بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے تاکہ کوئی بھی بچہ اس حفاظتی مہم سے محروم نہ رہ جائے۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس موقع پر کہا کہ پولیو ایک موذی اور خطرناک مرض ہے جس سے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے بروقت حفاظتی قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔انہوں نے محکمہ صحت کے افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ہر علاقے، گاؤں، محلے اور گھر تک رسائی یقینی بنائی جائے، خصوصاً دور دراز علاقوں میں رہنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

خبرنامہ نمبر9521/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیرِ صدارت پولیو کے خاتمے کے حوالے سے ضلعی اجلاس منعقدہوا، نومبر میں شروع ہونے والی پولیو مہم کی تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت پولیو کے مکمل خاتمے اور آئندہ ماہ نومبر میں شروع ہونے والی قومی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے ضلعی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی سمیت محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ صحت کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو نومبر میں شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں اب تک کیے گئے انتظامات، تیاریوں اور پیش رفت کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر مہم کے لیے ٹیموں کی تشکیل، تربیتی مراحل، مائیکرو پلاننگ، حساس علاقوں کی نشاندہی بچوں کے ہدف کے تعین، ویکسین کی دستیابی اور کولڈ چین سسٹم سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ ضلع بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جا سکے خصوصاً دور دراز علاقوں، دیہی آبادیوں اور ان مقامات پر خصوصی توجہ دی جائے جہاں گزشتہ مہمات کے دوران بچوں کو قطرے پلانے میں مشکلات پیش آئیں۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مؤثر مانیٹرنگ اور نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، ٹیموں کی حاضری اور کارکردگی کو باقاعدگی سے چیک کیا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی گنجائش نہ چھوڑی جائے انہوں نیکہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس اہم قومی فریضے کی ادائیگی کے لیے تمام اداروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ والدین اور عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر گھرانے کو پولیو کے قطرے پلانے کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے اور عوامی تعاون کے ذریعے مہم کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر 9522/2026
کوئٹہ۔ 31 اکتوبر۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے سیکریٹری محکمہ مائنز سیدال خان لونی کے والد سابق صوبائی سیکریٹری معروف مؤرخ ومحقیق عبد العزیز لونی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ مرحوم کی خدمات صوبے کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ صوبائی وزیر نے سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر وجمیل عطا فرمائے ۔

خبرنامہ نمبر 9523/2026
کوئٹہ: ممتاز بلوچی شاعر اور دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کی زندگی، ادبی خدمات اور ان کی یاد میں منعقدہ تقریبات کے حوالے سے ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔یہ تقریب ’بلوچی لبزانکی دیوان اور ڈائریکٹوریٹ کلچر اینڈ ٹوریزم بلوچستان‘ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ بلوچی لبزانکی دیوان کے چیئرمین یار جان بادینی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔انہوں نے سید ظہور شاہ ہاشمی کی تصانیف کے مطالعے اور ان سے استفادہ کرنے کے ذریعے ان کے فلسفے کو زندہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔سابق وزیراعلیٰ اور تقریب کے مہمانِ خصوصی، ڈاکٹر مالک بلوچ نے سید ظہور شاہ ہاشمی کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ہاشمی بلوچی زبان کے ایک ایسے ستون تھے جنہوں نے بلوچی شاعری کو بلندیوں تک پہنچایا اور اپنی پوری زندگی بلوچی زبان کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر بلوچ نے ہاشمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں “بلوچی زبان کا شیکسپیئر” قرار دیا۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ہاشمی کے فکری ورثے اور فلسفے کو اپنائیں اور اسے فروغ دیں۔ ڈاکٹر عبدالخالق داد نے سیمینار میں شرکت کرنے پر تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔علمی نشست کے دوران، متعدد دانشوروں اور مصنفین نے سید ظہور شاہ ہاشمی کے ادبی کام کے مختلف پہلوؤں پر مبنی تحقیقی مقالے پیش کیے۔پروگرام کے دوسرے حصے میں ایک کثیر لسانی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچی، براہوئی، پشتو اور فارسی زبانوں کے ممتاز شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تقریب کے اختتام پر، سید ظہور شاہ اکیڈمی کی جانب سے میر اصغر بلوچ اور دیگر معززین نے مہمانوں اور شرکاء میں یادگاری تحائف اور کتابیں (جن میں ’فکرِ نو‘ کی مطبوعات بھی شامل تھیں) تقسیم کیں۔

خبرنامہ نمبر 9524/2026
زیارت 31 اکتوبر:گورنمنٹ گرلز ہائی سکول زیارت میں 25 دسمبر کو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یومِ ولادت (قائداعظم ڈے) شایانِ شان اور بھرپور انداز میں منانے کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع زیارت کے مختلف کالجوں اور اسکولوں کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔تقریب کے دوران طلباء و طالبات نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی، جدوجہد، سیاسی بصیرت اور قیامِ پاکستان کے حوالے سے اردو اور انگریزی زبان میں تقاریر پیش کیں، جبکہ مختلف ٹیبلو کے ذریعے بابائے قوم کی خدمات اور افکار کو اجاگر کیا گیا۔ طلباء و طالبات نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے قائداعظم کے پیغامِ اتحاد، ایمان اور تنظیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب میں ایف سی ونگ 155 کے کرنل ذیشان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لطیف اللہ غرشین، اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) میمونہ فہیم نے شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی جدوجہد اور اصول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ نئی نسل کو قائداعظم کے افکار، نظریات اور قیامِ پاکستان کے مقاصد سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسی تقریبات طلباء و طالبات میں قومی شعور، حب الوطنی اور قائداعظم کے نظریات سے وابستگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

خبرنامہ نمبر 9525/2026
​کوئٹہ:ڈائریکٹوریٹ آف کلچر، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی آنے والی 150ویں سالگرہ کے تقریبی سلسلے کے تحت آج ایک پروقار خطاطی اور مصوری کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔​اس نمائش میں صوبہ بھر سے 100 سے زائد نامور اور ابھرتے ہوئے فنکاروں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے فن کا مظاهرہ کیا۔ فنکاروں نے اپنے برش اور رنگوں کے ذریعے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات، ان کے افکار اور تحریکِ پاکستان میں ان کے تاریخی کردار کو کینوس پر انتہائی خوبصورتی سے اجاگر کیا۔​نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں اور خطاطی کے شاہکاروں نے شرکاء اور شائقینِ آرٹ سے خوب داد سمیٹی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد آنے والی 150ویں سالگرہ کے تناظر میں نئی نسل کو قائدِ اعظم کے اصولوں سے روشناس کرانا اور بلوچستان کے باصلاحیت فنکاروں کو ایک شاندار پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *