30th-October-2026

خبر نامہ نمبر9472/2026
30 اکتوبرضلع قلات. انجینئرعائشہ زہری کی بطورڈپٹی کمشنر تعیناتی کے بعد عوامی مسائل کے حل کے لیے انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ خواتین سائلین اب بلا خوف و خطر انتظامی افسران کے دفاتر کا رخ کر رہی ہیں، جہاں ڈپٹی کمشنر ان کی درخواستوں پر فوری ایکشن لیتے ہوئے احکامات جاری کر رہی ہیں۔گزشتہ دنوں خالق آباد کی خواتین کے لیے منعقدہ کھلی کچہری وزیر اعلیٰ بلوچستان کی وژنری قیادت اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی گڈ گورننس کا آئینہ دار ہے۔ انتظامیہ کی اس مخلصانہ کوشش پر عوام الناس حکومت سے انتہائی مطمئن ہیں اور اظہارِ تشکر کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر قلات کا کہنا ہیکہ انتتظامی وسرکاری محکموں کے افسران عوام الناس کوسروسز ڈیلیوری یقینی بنائیں تاکہ انتظامیہ عوامی مسائل حل کی جانب بہتر اقدامات جاری۔ رکھ سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9473/2026
برشور 30 اکتوبر۔کمشنر پشین ڈویژن قائم خان لاشاری نے نوٹیفائیڈ ضلع برشور کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا،ضلع آمد پر ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے ان کا شاندار استقبال کیا،اس موقع پر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اربن پلاننگ و چئیرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے) اسفند یار خان کاکڑ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر برشور نے ڈویڑنل کمشنر قائم خان لاشاری اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار خان کاکڑ کو ضلع برشور میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں،انتظامی امور اور ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی،دورے کے دوران معزز مہمانوں نے ڈپٹی کمشنر کے عارضی کمپلیکس میں کیے گئے انتظامی اقدامات اور مختلف دفاتر کا تفصیلی معائنہ کیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا،بعد ازاں،انہوں نے ڈی سی کمپلیکس کے میٹنگ ہال میں تمام لائن ڈپارٹمنٹس کے آفسران کے ساتھ ایک اہم تعارفی اجلاس میں شرکت کی،جہاں تمام محکموں کے سربراہان نے اپنے اپنے محکمے کی کارکردگی اور مسائل سے آگاہ کیا،ڈویژنل کمشنر اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال برشور اور علاقے کے مختلف اسکولوں کا بھی دورہ کیا،انہوں نے ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات،ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری کا جائزہ لیا،جبکہ اسکولوں کے دورے کے دوران تعلیمی معیار،اساتذہ کی حاضری اور بنیادی ڈھانچے کا معائنہ کیا،بعد ازاں،انہوں نے ضلع میں جاری دیگر مختلف ترقیاتی اسکیموں کا موقع پر معائنہ کیا اور کام کے معیار کا جائزہ لیا،ڈویژنل کمشنر اور پارلیمانی سیکرٹری نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے برشور کی پسماندگی دور کرنے اور اسے ایک ترقی یافتہ ضلع بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا،قائم خان لاشاری اور اسفند یار خان کاکڑ نے عوامی شکایات کے فوری آزالے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہریوں کے تواتر سے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی آفسران کی اولین ترجیح ہونا چاہیے،انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ تمام جاری منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان کے حقیقی ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9474/2026
استا محمد:30 اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت کے تحت تحصیلدار استا محمد گامن خان بوہڑ نے مقامی بازار کا دورہ کیا اور مختلف دکانوں پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں ان کے معیار اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیادورے کے دوران انہوں نے سبزیوں، پھلوں، گوشت، آٹا، چینی، دالوں، گھی، خوردنی تیل اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیاء کے نرخ چیک کیے اور دکانداروں کی جانب سے سرکاری طور پر جاری کردہ نرخنامے پر عملدرآمد کا معائنہ کیا اس موقع پر اشیائے ضروریہ کی مقررہ قیمتوں پر فروخت قیمتوں میں خودساختہ اضافے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا گیاتحصیلدار نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی دکانوں پر سرکاری نرخنامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور تمام اشیائے خوردونوش مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت کریں تاکہ عوام کو روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء مناسب قیمتوں پر دستیاب ہو سکیں انہوں نے واضح کیا کہ صارفین سے زائد قیمتیں وصول کرنے مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے اور ناجائز منافع خوری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گیانہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے باقاعدگی سے بازاروں کی نگرانی کر رہی ہے اس سلسلے میں پرائس کنٹرول اقدامات کو موثر بنانے کے لیے معائنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گیضلعی انتظامیہ نے دکانداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی فروخت میں مقررہ نرخوں کی پابندی یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9475/2026
اورماڑہ 30 اکتوبر۔ اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے گاوں ہڈ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بنیادی مرکز صحت اور گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول ہڈ کا معائنہ کیا جہاں پر انہوں نے دونوں اداروں میں عملے کی حاضری، دستیاب بنیادی سہولیات، طبی خدمات کی فراہمی، تدریسی سرگرمیوں اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کی حاضری اور اداروں کی فعالیت کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کو معیاری طبی سہولیات اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے کا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں میں صحت اور تعلیم کے سرکاری اداروں کی باقاعدہ نگرانی، خدمات کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9476/2026
گوادر30 اکتوبر۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے تحت ادارہ ترقیات گوادر کی نگرانی میں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران گوادر کی تعمیر و ترقی، جدید شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، پانی کی فراہمی، سیوریج و نکاسی آب، کھیلوں کے میدان، پارکس، سرکاری عمارتیں، ساحلی تحفظ، ماہی گیری کی سہولیات، تاریخی ورثے کی بحالی، شجرکاری اور اسٹریٹ لائٹنگ شامل ہیں صوبائی حکومت کی ترقیاتی وڑن کے تحت گوادر کے ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً 253 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و ترقی، 23 کلومیٹر سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و بحالی، 300 کلومیٹر واٹر ڈسٹری بیوشن لائنز اور 150 کلومیٹر مین واٹر ٹرانسمیشن لائنز شامل ہیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چار بڑے زیرِ زمین ٹینکس، جن کی مجموعی گنجائش ایک کروڑ گیلن بتائی گئی ہے، آٹھ چھوٹے واٹر ٹینکس اور 12 چھوٹے بڑے واٹر پمپنگ اسٹیشنز بھی اس بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں جبکہ شہری صفائی اور نکاسی آب کے لیے تقریباً 30 کلومیٹر سیوریج لائنز، 23 کلومیٹر ڈرینج لائنز اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے منصوبے شامل ہیں۔ کھیلوں اور تفریحی سہولیات میں ایک کرکٹ اسٹیڈیم، دو فٹبال اسٹیڈیمز، دو فٹبال گراونڈز، ایک اسپورٹس کمپلیکس، دو فٹسال گراونڈز، ایک والی بال گراونڈ اور تین بڑے پارکس شامل ہیں اور گوادر شہر کی تاریخی و ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے اولڈ ٹاون کی بحالی، عمانی قلعے اور پرتگالی واچ ٹاور سمیت تاریخی مقامات کے تحفظ کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ساحلی تحفظ کے سلسلے میں دیمی زر اور پدی زر میں بریک واٹرز اور حفاظتی بندوں کی تعمیر جبکہ پشکان اور سربندر میں فش لینڈنگ جیٹیوں کی تعمیر و ترقی بھی ادارے کی سرگرمیوں کا حصہ ہے صوبائی حکومت کی عوامی سہولیات کے شعبے میں جی ڈی اے آفس کمپلیکس، جی ڈی اے ہسپتال، جی ڈی اے اسکول، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، بنیادی مرکز صحت ، اسکولوں کی بہتری، بازاروں اور مارکیٹس کی بحالی، قبرستانوں کی چاردیواروں کی بہتری، شاہراہوں، چوکوں اور یادگاروں کی تعمیر و تزئین سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شجرکاری، سبزہ زاروں کی بہتری اور میرین ڈرائیو، استاد عبدالمجید گوادری روڈ اور سید ظہور شاہ ہاشمی ایونیو پر اسٹریٹ لائٹس اور سولر لائٹنگ کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں صوبائی حکومت کی یہ ترقیاتی سرگرمیاں شہر میں بنیادی شہری ڈھانچے کی بہتری، عوامی سہولیات کی توسیع اور جدید ساحلی شہر کی تشکیل کے لیے جاری کوششوں کی عکاس ہیں۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وڑن کے تحت ان منصوبوں کی موثر تکمیل، دیکھ بھال اور مزید توسیع گوادر کی پائیدار ترقی، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9477/2026
گوادر 30 اکتوبر ۔ ضلعی چیئرمین گوادر شیے مختار نے سید ظہور شاہ ہاشمی ڈیجیٹل پبلک لائبریری گوادر کی دیکھ بھال، مرمت اور ضروری سہولیات کی بہتری کے لیے ایک لاکھ روپے کا چیک اسسٹنٹ لائبریرین جابر محبوب کے حوالے کیا اس مالی معاونت کا مقصد لائبریری کے چھوٹے اورضروری مرمتی کاموں کی تکمیل، موجودہ سہولیات میں بہتری اور قارئین بالخصوص طلبہ کے لیے بہتر مطالعاتی ماحول فراہم کرنا ہے۔ فراہم کردہ رقم لائبریری کی دیکھ بھال اور ضروری امور پر خرچ کی جائے گی، جس سے لائبریری کی فعالیت اور سہولیات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9478/2026
گوادر30 اکتوبر۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ اور ضلعی انتظامیہ کی خصوصی تعاون سے محکمہ امورِ حیوانات گوادر کی جانب سے ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر صابر علی کی نگرانی میں زیارت مچھی اور گردونواح کے علاقوں میں مفت ویٹرنری موبائل میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس کے دوران سینکڑوں مویشیوں کا مفت طبی معائنہ، علاج اور مختلف وبائی امراض سے بچاو کے لیے حفاظتی ویکسینیشن کی گئی کیمپ میں مالداروں کو مفت ویٹرنری ادویات فراہم کرنے کے علاوہ جانوروں کی بہتر نگہداشت، متوازن خوراک، بروقت علاج اور متعدی بیماریوں سے بچاو کے حوالے سے آگاہی بھی دی گئی اس موقع پر محکمہ امورِ حیوانات کے عملے نے مالداروں کو جانوروں کی صحت، پیداوار میں اضافے اور مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت سے آگاہ کیا ان کہنا تھا کہ اس
اقدام کا بنیادی مقصد دور افتادہ علاقوں کے مالداروں کو ان کی دہلیز پر مفت ویٹرنری سہولیات فراہم کرنا، مویشیوں کی صحت کا تحفظ، بیماریوں کی بروقت تشخیص و تدارک اور مالدار طبقے کے معاشی اثاثوں کو محفوظ بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9479/2026
بارکھان/رکھنی۔خبر نامہ 30اکتوبر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن ”خوشحال بلوچستان“ اور حکومتِ بلوچستان کی عوام دوست پالیسیوں کے تحت ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ نے رکھنی ماڈل بازار کا دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی، پروجیکٹ ڈائریکٹر رازق مندوخیل، ایکسین محکمہ مواصلات و تعمیرات محمد فضل، تحصیلدار، پٹواری اور محکمہ مال کے دیگر اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران پروجیکٹ ڈائریکٹر رازق مندوخیل نے ڈپٹی کمشنر کو ماڈل بازار اور سڑک کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے جاری کاموں، منصوبے کی پیش رفت، درپیش مشکلات اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں مزید تیزی لائی جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل بازار کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کو خرید و فروخت کے لیے بہتر ماحول، صفائی ستھرائی اور منظم تجارتی سہولیات میسر آسکیں۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9480/2026
گوادر:30 اکتوبر۔ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں گوادر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں، شہری مسائل اور عوامی سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، چیئرمین تحصیل میونسپل کمیٹی ماجد جوہر اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
ملاقات میں جی ڈی اے کے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت شاہی بازار اور جنت بازار میں جاری تعمیر، توسیع، تزئین و آرائش اور بحالی کے کاموں سمیت پی ٹی سی ایل والی گلی میں کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد نے بتایا کہ جنت بازار اور شاہی بازار میں تاخیر کی بنیادی وجہ متعلقہ یوٹیلٹیز کی منتقلی ہے، بالخصوص کیسکو کی جانب سے بجلی کے کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمرز کی متبادل مقامات پر منتقلی میں تاخیر کے باعث تعمیراتی کام متاثر ہو رہا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں اقدامات جاری ہیں۔ اتفاق کیا گیا کہ یوٹیلٹیز کی منتقلی کے ساتھ ہی ٹف ٹائلنگ سمیت دیگر گراونڈ ورک شروع کیا جائے گا تاکہ منصوبے کو جلد مکمل کیا جا سکے۔اسی طرح سید ہاشمی روڈ تا دیمی زر روڈ، براستہ پی ٹی سی ایل، سڑک کی تعمیر میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ بتایا گیا کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے جی ڈی اے مطلوبہ رقم ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر چکی ہے، تاہم تاحال معاوضوں کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث منصوبے پر کام تاخیر کا شکار ہے۔ اس موقع پر ایم پی اے گوادر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اٹھائیں گے تاکہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور تعمیراتی کام کی تکمیل ممکن بنائی جا سکے۔ملاقات میں چیئرمین تحصیل میونسپل کمیٹی ماجد جوہر کی تجویز پر اولڈ ٹاون میں ایک لاکھ مربع فٹ ٹف ٹائلز کی تنصیب کے نئے منصوبے، 50 ہزار گیلن گنجائش کے سیپٹک ٹینک کی تعمیر اور مزید گلیوں میں واٹر ڈسٹری بیوشن لائنز بچھانے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں، جن پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر شہر میں آوارہ مویشیوں کی آزادانہ نقل و حرکت، ان کے باعث پھیلنے والی گندگی، شہری ماحول کی خرابی اور جی ڈی اے کی جانب سے لگائے گئے قیمتی درختوں اور پودوں کو چرائی کے ذریعے پہنچنے والے نقصان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اور متعلقہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں پانی کے نادہندگان اور واجبات کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اس سلسلے میں عوامی نمائندوں کے تعاون سے شہریوں میں آگاہی مہم شروع کرنے، انہیں پانی کے بلوں کی بروقت ادائیگی کی ترغیب دینے اور بقایاجات کی وصولی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں جی ڈی اے کی جانب سے اولڈ ٹاون میں جاری نئے سیوریج منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس حوالے سے اولڈ ٹاون بحالی ٹیم کو منصوبے کی مسلسل نگرانی، تعمیراتی کام کے معیار کو یقینی بنانے اور کام کی رفتار بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9481/2026
گوادر30 اکتوبر۔ محکمہ زراعت حکومت بلوچستان میں بھرتیوں کے سلسلے میں ضلعی کوٹے کی بنیاد پر ضلع گوادر کے اہل امیدواروں میں تقرری کے آرڈرز تقسیم کر دیے گئے۔ اس سلسلے میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے امیدواروں میں باقاعدہ تقرری کے آرڈرز تقسیم کیے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع مقبول احمد بلوچ ایگریکلچر افسر حاجی آمین اللہ پسنی کوکو نٹ فارم کے انچارج وسیم نور اور محکمہ زراعت کے دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے تقرریوں کا عمل ضلعی کوٹے کے تحت متعلقہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں عمل میں لایا گیا، جس کا مقصد ضلع گوادر کے اہل امیدواروں کو سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس عمل میں میرٹ، علاقائی کوٹے اور مقررہ خواتین کوٹے کو مدنظر رکھا گیا ھے اس پیش رفت سے ضلع گوادر کے اہل نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے، جبکہ محکمہ زراعت میں مقامی افرادی قوت کی شمولیت سے زرعی خدمات اور توسیعی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾
خبر نامہ نمبر9482/2026
30اکتوبرجعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ خریف سیزن کی گردآوری کا عمل نہایت اہمیت کا حامل ہے، اس لیے متعلقہ افسران اس عمل کو شفاف، موثر اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کریں اور سرکاری واجبات کی وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خریف سیزن کی گردآوری کے سلسلے میں ضلع جعفرآباد کے مختلف علاقوں کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر تحصیلدار سلطان احمد کھوسہ، بابو رفیق احمد ابڑو سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف علاقوں میں کھیتوں کا معائنہ کیا اور تیار ہونے والی خریف سیزن کی فصلات کا جائزہ لیا۔ متعلقہ افسران نے انہیں ضلع بھر میں کاشت کی جانے والی فصلات، ان کی موجودہ صورتحال، پیداوار اور گردآوری کے عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ مختلف علاقوں میں فصلات کی تیاری کے حوالے سے سروے اور ریکارڈ مرتب کرنے کا عمل جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت کی کہ گردآوری کے عمل میں تمام ضروری امور کو مدنظر رکھا جائے اور فصلات سے متعلق درست معلومات اور اعداد و شمار سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں زرعی منصوبہ بندی اور انتظامی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محصولات اور واجبات کی وصولی ضلعی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے، اس لیے متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیں اور واجبات کی وصولی کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ گردآوری کے دوران کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا غیر ضروری تاخیر کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور تمام متعلقہ امور کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہوئے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9483/2026
بارکھان، خبر نامہ، 30 اکتوبر ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کوہِ سلیمان ڈویژن کا ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان کا اچانک دورہ، طبی سہولیات اور انتظامی امور کا جائزہوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر مہردین کھیتران نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال بارکھان کا اچانک دورہ کیا اور ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ماجد خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے طبی سہولیات اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے طبی عملے سے بھی ملاقات کی اور ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، علاج معالجے کی سہولیات اور سروسز کی بہتری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر مہردین کھیتران نے ویکسین فریج، ادویات کے اسٹاک، نیوٹریشن سینٹر اور ڈائیلاسز وارڈ کا خصوصی معائنہ کیا اور متعلقہ عملے سے دستیاب سہولیات، ادویات کی فراہمی اور انتظامی امور کے بارے میں بریفنگ لی۔اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو بروقت معیاری علاج کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
خبرنامہ نمبر 9484/2026
سیوی 30 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر ڈویژن بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور مہم کے آغاز میں حصہ لیا۔ اس موقع پر کمشنر عرفان اللہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوی ڈویژن کے تینوں اضلاع سیوی، کچھی اور ساوتھ ڈیرہ بگٹی میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم ڈویژن کی 64 یونین کونسلز میں جاری رہے گی، جس کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے اس موقع پر علمائے کرام، قبائلی معتبرین، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانا قومی فریضہ ہے۔کمشنر نے مزید کہا کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی حفاظت اور موثر انداز میں فرائض کی انجام دہی کے لیے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے جائیں گے تاکہ تمام علاقوں میں مہم کو بلا تعطل جاری رکھتے ہوئے مقررہ ہدف حاصل کیا جا سکے وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق پولیو سے پاک بلوچستان اور صحت مند مستقبل کی تشکیل کے لیے انسدادِ پولیو مہم کو موثر اور کامیاب بنانا حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9485/2026
سیوی30 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت (WHO)، آئی ایس ڈی (ISD)، آغا خان یونیورسٹی (AKU) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے آنے والی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، مقررہ اہداف اور مہم کے دوران کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ضلع سیوی میں مہم کے دوران مجموعی طور پر 43 ہزار 192 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 225 موبائل ٹیمیں، 46 فکسڈ سائٹس اور 22 ٹرانزٹ ٹیمیں خدمات انجام دیں گی۔ ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور عملے کو پوری لگن، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا ہوں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران Same Day Coverage کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام ویکسینیٹرز اپنی مقررہ یونین کونسلز میں بروقت موجود رہیں اور فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں پوری توجہ کے ساتھ ادا کریں۔ لائن ڈیپارٹمنٹس کے مانیٹرز مہم کے دوران ٹیموں کی کارکردگی کی سخت نگرانی کریں، فیلڈ وزٹس کو یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی صورت میں فوری رپورٹ کریں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس قومی فریضے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت کام کریں تاکہ مقررہ ہدف کا سو فیصد حصول ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی، آغا خان یونیورسٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ مہم کی کامیابی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور فیلڈ میں ٹیموں کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کریں۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق پولیو سے پاک بلوچستان کے قیام اور بچوں کے محفوظ و صحت مند مستقبل کے لیے انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانا حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر9486/2026
کوئٹہ 30اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت 2نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او)، نیشنل ای او سی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پولیو مہم کے مجموعی اہداف، سکیورٹی انتظامات، مائیکرو پلان، ٹیموں کی تعیناتی اور مہم کی موثر نگرانی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔حکام نے بتایا کہ مہم کے دوران کوئٹہ میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 29 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 1600 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،جبکہ مہم کے دوران ٹیموں کی سکیورٹی کے لیے 1800 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کے سکیورٹی پلان اور کمپین پلان پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تمام علاقوں کے مائیکرو پلان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور پولیو ٹیموں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پولیو سے انکاری والدین (رفیوزل کیسز) کی کوریج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی علاقے یا بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رکھا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9487/2026
30 اکتوبر سنجاوی۔ صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی کاوشوں اور گورنمنٹ آف بلوچستان کے تعاون سے گورنمنٹ انٹر کالج سنجاوی کے طلبا کی سفری سہولت کیلئے بس منظور کرلی گئی۔ اس سلسلے میں ایک تقریب کے دوران صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے بس کی چابی گورنمنٹ انٹر کالج سنجاوی کے پرنسپل محمد طیب کے حوالے کردی اس موقع پر ڈائریکٹر کالجز محمد حسین بلوچ، پرنسپل گورنمنٹ انٹر کالج سنجاوی محمد طیب، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سردار محمد صادق اور محمد عرفان دمڑ بھی موجود تھے اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے کہ دور دراز علاقوں کے طلباءکو تعلیم کے حصول میں درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ انٹر کالج سنجاوی کے طلباءکو سفری مشکلات کا سامنا تھا، جس کے پیش نظر گورنمنٹ آف بلوچستان کے خصوصی تعاون سے کالج کیلئے بس کی منظوری حاصل کی گئی ہے۔ اس اقدام سے طلباءکو کالج آنے جانے میں آسانی ہوگی اور انہیں محفوظ اور بہتر سفری سہولت میسر آئے گی صوبائی وزیر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سنجاوی سمیت حلقے کے تمام علاقوں میں تعلیمی اداروں کو درکار بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں نوجوان نسل ہمارا قیمتی سرمایہ ہے اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ حکومت بلوچستان تعلیمی شعبے کی بہتری، تعلیمی اداروں کی ضروریات پوری کرنے اور طلباءکو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے، بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی ان شاءاللہ سنجاوی اور دیگر علاقوں میں ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں معیاری تعلیم کے بہتر مواقع میسر آسکیں آخر میں کالج انتظامیہ کی جانب سے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ اور حکومت بلوچستان کا طلباءکیلئے بس کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9488/2026
30 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حکومتی پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے ضلعی کمیٹی کا اجلاس منعقدہواجس میں 42 سبسڈائزڈ زرعی ٹیوب ویلز کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حکومتی پروگرام پر موثر اور شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنانے کے حوالے سے ضلعی عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر استا محمد ماریہ شمعون زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندگان عبدالرحیم رند، حاکم علی جمالی ایگزیکٹو انجینئر کیسکو نصیرآباد عبدالحمید بگٹی اور ایس ڈی او کیسکو استا محمد محمد حسن گولہ نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع استا محمد میں موجود 42 سبسڈائزڈ زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حکومتی پروگرام کے مختلف پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر ٹیوب ویلز کی رجسٹریشن، متعلقہ زمینداروں کی اہلیت، ملکیتی ریکارڈ ضروری دستاویزات اور حکومتی پالیسی کے تحت مقرر کردہ دیگر ضابطہ جاتی تقاضوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ زمینداروں کو حکومتی پالیسی کے مطابق معاوضے کی ادائیگی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام کیسز کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی اور دستاویزات و دیگر ضروری کوائف کی تصدیق کے بعد سفارشات مرتب کرکے متعلقہ اعلیٰ حکام کو ارسال کی جائیں گی تاکہ اہل زمینداروں کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق معاوضے کی ادائیگی ممکن بنائی جا سکے
اس موقع پر زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندگان نے بھی پروگرام سے متعلق اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں جنہیں اجلاس میں زیرِ غور لایا گیا۔ جبکہ کیسکو حکام نے ٹیوب ویلز کی تفصیلات رجسٹریشن اور متعلقہ تکنیکی و انتظامی امور کے حوالے سے اپنی معاونت کی یقین دہانی کرائیڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا پروگرام توانائی کے موثر استعمال بجلی کے اخراجات میں کمی اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کی جانب ایک اہم اقدام ہے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام پر عملدرآمد کے دوران شفافیت میرٹ اور حکومتی پالیسی پر مکمل عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گاانہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ زمینداروں کے کیسز کی جانچ پڑتال دستاویزات کی تصدیق اور دیگر ضروری کارروائی مقررہ طریقہ کار کے مطابق بروقت مکمل کی جائے اور اس سلسلے میں کیسکو حکام، ضلعی انتظامیہ اور زمیندار ایکشن کمیٹی کے درمیان موثر رابطہ برقرار رکھا جائے، تاکہ پروگرام کے ثمرات حقیقی اور اہل مستحقین تک پہنچائے جا سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9489/2026
کوئٹہ 30 اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بچی کو حفاظتی قطرے پلاکر 2 نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے والدین، علماء کرام، قبائلی عمائدین، اساتذہ، سماجی رہنماوں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور مہم کو کامیاب بنانے میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کریں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اس بات پر زور دیا کہ پولیو ایک خطرناک اور معذوری کا باعث بننے والی بیماری ہے، جس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بروقت پولیو ویکسین کے قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے۔ والدین اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاو کے قطرے لازمی پلوائیں، خواہ ان کے بچوں کو پہلے بھی متعدد مرتبہ ویکسین کیوں نہ پلائی جا چکی ہو۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، اپنے گھروں میں آنے والے پولیو ورکرز کو خوش آمدید کہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ والدین کی معمولی سی غفلت بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے، لہٰذا اس قومی فریضے کو سنجیدگی سے ادا کرنا ہر خاندان کی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت یا محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے معاشرے کے ہر فرد اور تمام سماجی اکائیوں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔علماءکرام مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی اجتماعات میں پولیو ویکسین کی اہمیت کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کریں اور والدین کو اپنے بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے کی ترغیب دیں۔ اسی طرح قبائلی عمائدین، اساتذہ، سیاسی و سماجی رہنما اور میڈیا بھی عوامی آگاہی اور والدین کا اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کی قومی ذمہ داری انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ تعاون کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ کمیونٹی کی فعال شمولیت، والدین کا اعتماد، علماء کرام کا تعاون اور متعلقہ اداروں کی مربوط کوششیں ہی پولیو کے خاتمے کی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور کوئٹہ سمیت پورے ملک کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 2 نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9490/026
اسلام آباد30 اکتوبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس کو جدید آلات، معیاری تربیت اور میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیوں و تبادلوں کا ایسا ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا دباؤ کی گنجائش نہ ہو، پولیس افسران کی تعیناتیوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں میرٹ کو بنیادی اصول بنایا گیا ہے اور یہ فیصلہ خود بلوچستان پولیس کی قیادت نے کرنا ہے کہ کون سا افسر کس ذمہ داری کے لیے موزوں ہے۔ میرٹ کی بالادستی بالخصوص نوجوان نسل کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، ریاست کے تمام ستونوں کو اپنے عملی کردار سے بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ انہیں میرٹ پر بھرتی کیا جائے گا، میرٹ پر ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور وہ کسی سیاسی مداخلت کے بغیر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق خدمات انجام دے سکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں بلوچستان پولیس میں نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کی تربیت مکمل ہونے پر منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ آئی جی پی سعد بھروانہ نے سپاسنامہ پیش کیا۔ تقریب میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، بلوچستان پولیس کے تربیت مکمل کرنے والے افسران، مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء، پولیس سروس آف پاکستان اور نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کے افسران بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میرٹ اور پیشہ ورانہ آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پولیس افسران خود کو عوام سے بالاتر یا کسی حاکم کی حیثیت میں تصور کرنے لگیں۔ پولیس افسران ریاست اور عوام کے خادم ہیں، انہیں نہایت دیانت داری، عزت و وقار اور احساس ذمہ داری کے ساتھ بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنا ہوگی۔ آج ان کے کندھوں پر پہلے سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، کیونکہ بلوچستان کو مکمل طور پر اے ایریا قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک اہم موقع بھی ہے اور ہمیں ثابت کرنا ہے کہ یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور صوبے میں مؤثر امن و امان کے قیام کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ نوجوان افسران اپنے کردار، پیشہ ورانہ طرز عمل، فرائض کی ادائیگی اور درپیش چیلنجز کا جرات مندانہ مقابلہ کرکے صوبے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔ پولیس کی بنیادی ذمہ داری منظم جرائم کا خاتمہ ہے، تاہم موجودہ حالات میں دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دہشت گردوں کے چھوٹے گروہ تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کرنے کے مذموم عزائم رکھتے ہیں، لیکن بلوچستان حکومت اور پولیس اس جنگ سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج اور دہشت گرد عناصر کے درمیان کوئی محدود لڑائی نہیں بلکہ یہ پوری ریاست اور معاشرے کی جنگ ہے، جس میں سول سوسائٹی، پولیس، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ بلوچستان پولیس اس جنگ میں اگلے محاذ پر کھڑی ہوگی اور اپنے وطن کے دفاع کی ذمہ داری پوری جرات اور عزم کے ساتھ نبھائے گی۔ آج مادر وطن کو ان نوجوان افسران کی صلاحیتوں، بہادری اور قربانی کے جذبے کی ضرورت ہے۔ انہیں یقین ہے کہ بلوچستان پولیس اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال قربانیوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تشدد پسند عناصر کو شکست دے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے قیام امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور وطن عزیز کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر ہمیں کوئی افسوس نہیں بلکہ فخر ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی پولیس افسران کو بلا خوف و خطر دہشت گردی کے خلاف صف اول میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ چند تشدد پسند عناصر پاکستان کو تقسیم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور تشدد کا راستہ ترک کرنے والوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے ہیں، تاہم جو عناصر بندوق کے زور پر اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایسا ہرگز نہیں کرنے دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طاقت کے استعمال کا جائز اور قانونی اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، نیم فوجی دستوں اور مسلح افواج کے اہلکار ریاست کی اسی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ بلوچستان پولیس کے سربراہ محمد طاہر کی قیادت میں پولیس فورس دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور معاشرے میں بدامنی و فساد پیدا کرنے والوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے گی۔ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے اور پولیس کے لیے سازگار پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی میں ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس کے افسران کو پاکستان کی بہترین پولیس اکیڈمی میں تربیت کے مواقع فراہم کرنا قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ، تربیت کاروں اور عملے کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے دن رات محنت کرکے افسران کی جسمانی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت مکمل کرائی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تربیت مکمل کرکے بلوچستان واپس جانے والے افسران اپنی عملی کارکردگی سے اکیڈمی، اساتذہ اور تربیت کاروں کی محنت کو کامیاب ثابت کریں گے اور ایک باصلاحیت، ذمہ دار اور باوقار پولیس افسر کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائیں گے۔تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تربیت مکمل کرنے والے بلوچستان پولیس کے ڈی ایس پیز میں تکمیل تربیت کے سرٹیفکیٹس اور انعامات تقسیم کیے۔ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بہترین پروبیشنر مس قرۃ العین کو اعزازی تلوار (سورڈ آف آنر) سے نوازا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء، پولیس سروس آف پاکستان اور نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کے افسران میں بھی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ وزیر اعلیٰ نے تربیت مکمل کرنے والے تمام افسران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں اور مکمل تعاون ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے پاکستان پولیس اکیڈمی کی دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔

خبرنامہ نمبر9491/026
قلعہ عبداللہ: ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے چمن سکاؤٹس کے بریگیڈیئر ظہرار اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی کے ہمراہ ضلع کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بھنگ کی غیر قانونی کاشت کے خلاف جاری آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں کاشت کی گئی بھنگ کی فصل تلف کرنے کے لیے ٹریکٹرز اور جدید مشینری کے ذریعے کارروائیاں کی گئیں، جن میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے بریگیڈیئر ظہرار اور ڈی پی او خلیل احمد بگٹی کو جاری آپریشن، اب تک کی کارروائیوں، امن و امان کی صورتحال اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے آپریشن میں مصروف جوانوں سے ملاقات بھی کی اور بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے جاری عملی اقدامات اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع قلعہ عبداللہ سے بھنگ کی غیر قانونی کاشت کے مکمل خاتمے، منشیات کی روک تھام اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کریں گی۔*

خبرنامہ نمبر9492/026
چمن: افغانستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پاک افغان سرحدی ضلع چمن میں پولیو وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر ضلع بھر میں 2 نومبر سے خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے پولیو وائرس کے ممکنہ خطرات، حفاظتی اقدامات اور آئندہ مہم کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پولیو کیسز کی موجودگی کے باعث سرحدی ضلع چمن میں خصوصی احتیاط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ پولیو وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ضلعی سربراہ ڈاکٹر نادر اچکزئی اور ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر اشرف خان نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، تاکہ معصوم بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، علمائے کرام، قبائلی عمائدین، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔ عوام کی بھرپور شمولیت اور تعاون سے ہی پولیو جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر9493/026
سوراب30 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول سوراب میں منعقدہ گولڈن اسپورٹس ویک کی پروقار اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پر اسکول کے طلبہ نے معزز مہمانوں کا اسکاؤٹس کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے اپنی محبت کا اظہار کیا تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر نے طلبہ کے ساتھ ٹیبل ٹینس اور دیگر کھیلوں میں حصہ لیا اور بچوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت استاد حافظ اکبر نے حاصل کی جبکہ طلبہ نے نعت رسول مقبول ﷺ بھی پیش کی اسٹیج سیکرٹری شعیب ریکی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ڈپٹی کمشنر سوراب نے اپنے خطاب میں اسپورٹس ویک کے انعقاد کو سراہا طلبہ کی صلاحیتوں اور کھیلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت تعلیمی اداروں کی بہتری اسکولوں کی ترقی اور کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے اہم اعلانات بھی کیے تقریب میں چیف آفیسر عبدالخالق شاہوانی، انجینئر لوکل گورنمنٹ عبدالخالق، سپرنٹنڈنٹ فضل محمد قمبرانی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، تمام ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، اسکولوں کے پرنسپلز، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی تقریب کے اختتام پر مختلف کھیلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں مہمان خصوصی اور دیگر معزز مہمانوں کے ہاتھوں انعامات اور نقد انعامات تقسیم کیے گئے آخر میں ہیڈ ماسٹر شبیر احمد نے تمام مہمانوں منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا یہ شاندار تقریب طلبہ کی حوصلہ افزائی کھیلوں کے فروغ اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک یادگار اور مثبت اقدام ثابت ہوئی۔*

خبرنامہ نمبر9494/026
انسپکٹر جنرل محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان، نے طویل عرصے سے اپنی جائے تعیناتی سے غیر حاضر رہنے والے محکمہ کے 10 ملازمین کے خلاف مؤثر محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔اس سلسلے میں تمام قانونی اور محکمانہ تقاضے پورے کرنے کے بعد، بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ، 2011 (Balochistan Employees Efficiency and Discipline Act, 2011) کے تحت مورخہ 30 اکتوبر 2026 کو مذکورہ ملازمین کی برطرفی کے باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔اس موقع پر انسپکٹر جنرل محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان، نے واضح کیا کہ محکمہ میں نظم و ضبط، باقاعدہ حاضری اور سرکاری فرائض کی بروقت و مؤثر انجام دہی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرائض منصبی میں غفلت، غیر مجاز غیر حاضری اور محکمانہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انسپکٹر جنرل
محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان

خبرنامہ نمبر 9496/026
لورالائی30اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ریٹائرڈ) حسیب شجاع اور ڈی ایچ او (DHO) ڈاکٹر فہیم اوتمانخیل نے ڈی سی آفس لورالائی میں نومبر 2026 کی پولیو مہم (جو 2 نومبر سے 5 نومبر تک جاری رہے گی) کا افتتاح کیا۔ اس سے قبل، انہوں نے اپنے دفتر کے کانفرنس ہال میں تیاریوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں محکمہ صحت، متعلقہ اداروں کے افسران اور پولیو مہم سے وابستہ ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس کے دوران پولیو مہم کے مائیکرو پلانز، ویکسینیشن ٹیموں کی تعیناتی، عملے کی تربیت، ویکسین کی دستیابی، سیکیورٹی انتظامات، حساس علاقوں کی نشاندہی اور دیگر انتظامی و عملی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم کے آغاز سے قبل تمام انتظامات ہر صورت مکمل کیے جائیں اور تمام ویکسینیشن ٹیموں کی بروقت تعیناتی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا غیر ذمہ داری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی
اجلاس میں خصوصی طور پر پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں، انکاری والدین اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے حوالے سے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ صحت اور مانیٹرنگ افسران کو ہدایت کی کہ وہ مہم کے دوران فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں، ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کریں اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے سامنے آنے والی خامیوں کو فوری طور پر دور کریں انہوں نے مزید کہا کہ انسدادِ پولیو مہم محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس قومی فریضے کی انجام دہی میں تمام اداروں کو باہمی تعاون، سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا
آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع لورالائی کے ہر مستحق بچے تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پہنچانے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر9497/026
دکی:30اکتوبر 2026 ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع دکی میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تھل عبدالسلام شاہوانی، محکمہ صحت کے افسران، پولیو ٹیموں کے ذمہ داران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے، تاہم بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے ذریعے اس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ بچوں کو مستقل معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع دکی میں انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام تر ضروری انتظامات مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ محکمہ صحت، پولیو ورکرز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ والدین میں آگاہی بھی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز اور حساس علاقوں تک پولیو ٹیموں کی رسائی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی بچے کے قطرے پینے سے رہ جانے کی صورت میں فوری طور پر فالو اَپ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت یا محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، علماء کرام، اساتذہ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خلاف قومی مہم میں بھرپور تعاون کریں اس موقع پر محکمہ صحت کے حکام نے ڈپٹی کمشنر کو انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، فیلڈ سرگرمیوں اور بچوں کی کوریج کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیو مہم کی مؤثر نگرانی، ٹیموں کی حاضری اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور صحت مند و محفوظ مستقبل کے لیے قومی انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر9498/026
کوئٹہ 30 اکتوبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ایک وفد نے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی قیادت میں گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد میں پروفیسر ڈاکٹر سمعیہ سیف اللہ، پروفیسر عاصمہ اوپل، پروفیسر فضل داد کاکڑ، پروفیسر حبیب اللہ اور ڈاکٹر رضوانہ شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں میڈیکل ایجوکیشن، میڈیکل ریسرچ، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور صحت کے شعبے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میڈیکل یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالجز عموماً صحت کے شعبے میں تحقیق، اکیڈمک سرگرمیوں اور ڈگری پروگرامز پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاہم طبی شعبے میں عملی مہارت، اسپشلائزشن اور پروفیشنل استعداد کار میں اضافے کیلئے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان جیسے اداروں کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں معیاری طبی تعلیم اور ٹریننگ کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے نوجوان ڈاکٹرز کو اعلیٰ پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کرنے کیلئے دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے اور انہیں اپنے ہی صوبے میں بہتر تعلیمی و تربیتی سہولیات میسر آسکیں۔ گورنر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں تحقیق اور جدید طبی علوم کو فروغ دینے کیلئے میڈیکل یونیورسٹز، کالجز اور پیشہ ورانہ طبی اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور اشتراک کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں قائم تربت اور لورالائی کی دونوں برانچوں کی موجودگی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مراکز کی استعداد کار میں اضافے اور تربیتی سہولیات کی بہتری سے صوبے کے مختلف علاقوں کے ڈاکٹروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں میڈیکل ایجوکیشن، جدید طبی تحقیق اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے فروغ کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دی جائیگی تاکہ بلوچستان میں صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی نکھارا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9499/026
کوئٹہ30 اکتوبر 2026: بلوچستان رورل ڈویلپمنٹ اکیڈمی (BRDA) کوئٹہ کے زیرِ اہتمام سرکاری افسران کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے عملی استعمال سے متعلق دس روزہ تربیتی پروگرام، جو 19 سے 30 اکتوبر 2026ء تک جاری رہا، کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔تربیتی پروگرام میں خالد محمود لاشاری (نیپا کوئٹہ)، بخت محمد، ڈاکٹر محمود بریالے اور ڈاکٹر صبغت اللہ (بیوٹمز) نے بطور ریسورس پرسنز سرکاری امور، دفتری انتظام، ڈیٹا تجزیہ اور عوامی خدمات کی بہتری میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر تربیت فراہم کی۔اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی خالد محمود لاشاری، ایڈیشنل ڈائریکٹنگ اسٹاف، نیپا کوئٹہ تھے۔ انہوں نے جدید طرزِ حکمرانی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر روشنی ڈالی، شرکاء کو تربیت کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی اور بی آر ڈی اے کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار بڑھانے کی کوششوں کو سراہا۔شرکاء کی نمائندگی کرتے ہوئے قیصر خان، اسسٹنٹ پروفیسر، اور فاطمہ منور، ڈائریکٹر پائٹ (PITE) نے تربیت کے معیار، عملی مشقوں اور بہترین انتظامات کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کے انعقاد پر زور دیا۔ شرکاء نے پورے پروگرام کے دوران بھرپور دلچسپی اور سیکھنے کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر محمد عارف مینگل، ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن و فنانس) و کورس کوآرڈینیٹر نے ریسورس پرسنز، شرکاء اور اکیڈمی کی انتظامیہ کا تعاون اور خدمات پر شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر کامیاب شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں ۔ بی آر ڈی اے نے جدید ٹیکنالوجی اور عملی تربیت کے ذریعے سرکاری افسران کی استعدادِ کار میں اضافے اور عوامی خدمات کی بہتری کے عزم کا اعادہ کیا۔

خبرنامہ نمبر9500/026
قلعہ عبداللہ: ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر ڈاکٹر دولت خان کاکڑ، محکمہ صحت کے فوکل پرسنز مسعود احمد اچکزئی، عطاء اللہ خان اور نجیب اللہ کاکڑ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر 2 نومبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کی کامیابی کے لیے باہمی رابطوں، مؤثر حکمتِ عملی اور مربوط اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ضلع قلعہ عبداللہ کو پولیو سے پاک بنانے کی قومی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9501/026
چمن 30 اکتوبر 2026:
چمن: چمن میں تین روزہ کوژک مہران ایف سی بلوچستان نارتھ باکسنگ چیمپئن شپ شاندار اور سنسنی خیز مقابلوں کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔ فائنل مقابلوں میں مختلف ویٹ کیٹیگریز کے باکسرز نے اپنی فنی مہارت، بہترین کھیل اور بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ کامیاب کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 17 گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول چمن کے گراؤنڈ میں منعقدہ اس تین روزہ چیمپئن شپ میں بلوچستان سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باکسرز نے شرکت کی۔ فائنل مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں نے رنگ میں بہترین کھیل، غیر معمولی مہارت اور بھرپور مقابلے کا مظاہرہ کیا، جس سے شائقین خوب محظوظ ہوئے۔ مختلف ویٹ کیٹیگریز میں کامیابی حاصل کرنے والے باکسرز نے 17 گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔
چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں کمانڈر چمن اسکاؤٹس بریگیڈ بریگیڈیئر ضرار احمد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ قبائلی مشران اور عمائدین بھی موجود تھے۔ مہمانِ خصوصی نے قبائلی مشران کے ہمراہ کامیاب باکسرز میں میڈلز، ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔اس موقع پر بریگیڈیئر ضرار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھیلوں کا فروغ نوجوان نسل کو مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چیمپئن شپ کے سرپرستِ اعلیٰ اختر گلفام کو کامیاب اور شاندار انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔دریں اثناء چیمپئن شپ میں ضلع پشین سےشرکت کرنے والے آٹھ باکسرز نے اختتامی مقابلوں کے بعد ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی، کھیل کے میدان میں ان کی صلاحیتوں اور مثبت سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نوجوان باکسرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کے فروغ، باصلاحیت نوجوانوں کی سرپرستی اور انہیں مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔تین روزہ باکسنگ چیمپئن شپ کا کامیاب انعقاد ضلع چمن میں کھیلوں کے فروغ، نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے درمیان باہمی روابط، بھائی چارے اور مثبت کھیلوں کے رجحان کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

خبرنامہ نمبر9502/026
صحبت پور۔۔۔۔صحبت پور میں ڈرینج سسٹم کی تعمیر و مرمت کے بڑے منصوبے کا افتتاح، تین سال کے دوران مین حیئر دین ڈرینج سمیت دیگر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا، منصوبے کی تکمیل سے سیلابی صورتحال کے خطرات میں نمایاں کمی آئے گی، صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ نے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین اور پروجیکٹ ڈائریکٹر گل حسن کھوسہ کے ہمراہ ربن کاٹ کر پروجیکٹ کا افتتاح کردیا۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ نے کہا ہے کہ ضلع صحبت پور کی عوام کو درپیش بنیادی اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، ڈرینج سسٹم کی تعمیر و مرمت کا منصوبہ ضلع صحبت پور کی ترقی اور عوامی مشکلات کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس کی تکمیل سے نہ صرف نکاسی آب کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران پانی کی بروقت نکاسی ممکن ہوگی اور سیلابی خطرات پر بھی کافی حد تک قابو پایا جا سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع صحبت پور کے بڑے منصوبے ڈرینج سسٹم کی تعمیر و مرمت کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس کا انعقاد پی ڈی آفس صحبت پور میں کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین،ایس ایس پی خلیل اللہ کاکڑ سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ میر سرفراز خان کھوسہ عطاء اللہ کھوسہ حاجی ریاض احمد کھوسہ سمیت دیگر مہمانان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر گل حسن خان کھوسہ نے صوبائی وزیر کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں، مجوزہ تعمیراتی کاموں اور اس کی مدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تین سالہ منصوبہ ہے، جس کے دوران مین حیئر دین ڈرینج سمیت ضلع کے دیگر اہم ڈرینج سسٹمز کی تعمیر و مرمت اور بہتری کے لیے کام کیا جائے گا تاکہ نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ انجینئر پروجیکٹ عابد علی کھوسہ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ نے مزید کہا کہ ضلع صحبت پور سمیت دیگر اضلاع کے عوام کی دیرینہ خواہش تھی کہ ڈرینج سسٹم کو بہتر بنایا جائے، اس اہم منصوبے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی کاوشوں سے عملی کام شروع کیا گیا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے خطیر بجٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل اور تعمیراتی کاموں کے معیار کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو اس کے ثمرات حاصل ہوں اور علاقے کو درپیش نکاسی آب اور سیلابی مسائل کے مستقل حل کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر9503/026
گوادر30 اکتوبر2026: صوبائی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے تحت ادارہ ترقیات گوادر کی نگرانی میں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران گوادر کی تعمیر و ترقی، جدید شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، پانی کی فراہمی، سیوریج و نکاسی آب، کھیلوں کے میدان، پارکس، سرکاری عمارتیں، ساحلی تحفظ، ماہی گیری کی سہولیات، تاریخی ورثے کی بحالی، شجرکاری اور اسٹریٹ لائٹنگ شامل ہیں صوبائی حکومت کی ترقیاتی وژن کے ۔تحت گوادر کے ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً 253 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و ترقی، 23 کلومیٹر سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و بحالی، 300 کلومیٹر واٹر ڈسٹری بیوشن لائنز اور 150 کلومیٹر مین واٹر ٹرانسمیشن لائنز شامل ہیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چار بڑے زیرِ زمین ٹینکس، جن کی مجموعی گنجائش ایک کروڑ گیلن بتائی گئی ہے، آٹھ چھوٹے واٹر ٹینکس اور 12 چھوٹے بڑے واٹر پمپنگ اسٹیشنز بھی اس بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں جبکہ شہری صفائی اور نکاسی آب کے لیے تقریباً 30 کلومیٹر سیوریج لائنز، 23 کلومیٹر ڈرینج لائنز اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے منصوبے شامل ہیں۔ کھیلوں اور تفریحی سہولیات میں ایک کرکٹ اسٹیڈیم، دو فٹبال اسٹیڈیمز، دو فٹبال گراؤنڈز، ایک اسپورٹس کمپلیکس، دو فٹسال گراؤنڈز، ایک والی بال گراؤنڈ اور تین بڑے پارکس شامل ہیں اور گوادر شہر کی تاریخی و ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے اولڈ ٹاؤن کی بحالی، عمانی قلعے اور پرتگالی واچ ٹاور سمیت تاریخی مقامات کے تحفظ کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ساحلی تحفظ کے سلسلے میں دیمی زر اور پدی زر میں بریک واٹرز اور حفاظتی بندوں کی تعمیر جبکہ پشکان اور سربندر میں فش لینڈنگ جیٹیوں کی تعمیر و ترقی بھی ادارے کی سرگرمیوں کا حصہ ہے صوبائی حکومت کی عوامی سہولیات کے شعبے میں جی ڈی اے آفس کمپلیکس، جی ڈی اے ہسپتال، جی ڈی اے اسکول، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، بنیادی مرکز صحت ، اسکولوں کی بہتری، بازاروں اور مارکیٹس کی بحالی، قبرستانوں کی چاردیواروں کی بہتری، شاہراہوں، چوکوں اور یادگاروں کی تعمیر و تزئین سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شجرکاری، سبزہ زاروں کی بہتری اور میرین ڈرائیو، استاد عبدالمجید گوادری روڈ اور سید ظہور شاہ ہاشمی ایونیو پر اسٹریٹ لائٹس اور سولر لائٹنگ کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں صوبائی حکومت کی یہ ترقیاتی سرگرمیاں شہر میں بنیادی شہری ڈھانچے کی بہتری، عوامی سہولیات کی توسیع اور جدید ساحلی شہر کی تشکیل کے لیے جاری کوششوں کی عکاس ہیں۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے تحت ان منصوبوں کی مؤثر تکمیل، دیکھ بھال اور مزید توسیع گوادر کی پائیدار ترقی، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Recasted
خبرنامہ نمبر9495/026
کوئٹہ30 اکتوبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے کے ایسے شہری جو وکلا کی بھاری فیسیں اور طویل عدالتی کارروائیوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے انہیں بروقت اور آسان انصاف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی مقصد کے تحت صوبائی محتسب کے ادارے کو مزید فعال، موثر اور عوامی مسائل کے حل کا ایک قابلِ اعتماد فورم بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ کوئی بھی غریب یا بے سہارا شہری اپنے جائز حق کے حصول سے محروم نہ رہے اور اسے انصاف کیلئے دربدر نہ ہونا پڑے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں مختلف سرکاری محکموں کے خلاف موصول ہونے والی عوامی شکایات اور درخواستوں کی ہفتہ وار سماعت کے دوران کیا۔گورنر جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو انصاف کی فراہمی محض ایک انتظامی ضرورت نہیں ھے بلکہ ریاست کی اہم آئینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ جب عام شہری کو بغیر کسی غیرضروری تاخیر اور مالی بوجھ کے انصاف میسر آئے گا تو سرکاری اداروں پر اس کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ مساوی حقوق، سماجی انصاف اور عوامی داد رسی کا موثر نظام ہی ایک ذمہ دار حکومت کی پہچان ہے۔ انہوں نے صوبائی محتسب کو ہدایت کی کہ ادارے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے، عوامی شکایات کے اندراج، ان کی غیرجانبدارانہ جانچ پڑتال اور بروقت فیصلوں کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صوبائی محتسب کا ادارہ شہریوں کیلئے ایسا قابلِ رسائی فورم بنے جہاں انہیں اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے طویل قانونی پیچیدگیوں اور بھاری اخراجات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ کسی بھی سرکاری ادارے کی کارکردگی کا حقیقی پیمانہ اس کی عمارت، وسائل یا انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے مسائل کے حل میں اس کی سنجیدگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بالخصوص غریب اور نادار افراد کیلئے کئی گنا زیادہ مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے سادہ، شفاف اور نتیجہ خیز طریقہ کار اپنایا جائے۔ واضح رہے کہ گورنر ہاؤس کے شکایات سیل کے تحت منعقد ہونے والی یہ ہفتہ وار سماعت ایک نیم عدالتی فورم، جسے قانونی اصطلاح میں کوائزی کورٹ (Quasi Court) کہا جاتا ہے، کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس فورم کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کے خلاف شہریوں کی شکایات کا جائزہ لیکر متعلقہ قوانین اور ضابطوں کی روشنی میں ان کے حل کیلئے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

خبرنامہ نمبر9504/026
گوادر30 اکتوبر2026: صوبائی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے تحت ادارہ ترقیات گوادر کی نگرانی میں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران گوادر کی تعمیر و ترقی، جدید شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، پانی کی فراہمی، سیوریج و نکاسی آب، کھیلوں کے میدان، پارکس، سرکاری عمارتیں، ساحلی تحفظ، ماہی گیری کی سہولیات، تاریخی ورثے کی بحالی، شجرکاری اور اسٹریٹ لائٹنگ شامل ہیں صوبائی حکومت کی ترقیاتی وژن کے .تحت گوادر کے ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً 253 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و ترقی، 23 کلومیٹر سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و بحالی، 300 کلومیٹر واٹر ڈسٹری بیوشن لائنز اور 150 کلومیٹر مین واٹر ٹرانسمیشن لائنز شامل ہیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چار بڑے زیرِ زمین ٹینکس، جن کی مجموعی گنجائش ایک کروڑ گیلن بتائی گئی ہے، آٹھ چھوٹے واٹر ٹینکس اور 12 چھوٹے بڑے واٹر پمپنگ اسٹیشنز بھی اس بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں جبکہ شہری صفائی اور نکاسی آب کے لیے تقریباً 30 کلومیٹر سیوریج لائنز، 23 کلومیٹر ڈرینج لائنز اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے منصوبے شامل ہیں۔ کھیلوں اور تفریحی سہولیات میں ایک کرکٹ اسٹیڈیم، دو فٹبال اسٹیڈیمز، دو فٹبال گراؤنڈز، ایک اسپورٹس کمپلیکس، دو فٹسال گراؤنڈز، ایک والی بال گراؤنڈ اور تین بڑے پارکس شامل ہیں اور گوادر شہر کی تاریخی و ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے اولڈ ٹاؤن کی بحالی، عمانی قلعے اور پرتگالی واچ ٹاور سمیت تاریخی مقامات کے تحفظ کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ساحلی تحفظ کے سلسلے میں دیمی زر اور پدی زر میں بریک واٹرز اور حفاظتی بندوں کی تعمیر جبکہ پشکان اور سربندر میں فش لینڈنگ جیٹیوں کی تعمیر و ترقی بھی ادارے کی سرگرمیوں کا حصہ ہے صوبائی حکومت کی عوامی سہولیات کے شعبے میں جی ڈی اے آفس کمپلیکس، جی ڈی اے ہسپتال، جی ڈی اے اسکول، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، بنیادی مرکز صحت ، اسکولوں کی بہتری، بازاروں اور مارکیٹس کی بحالی، قبرستانوں کی چاردیواروں کی بہتری، شاہراہوں، چوکوں اور یادگاروں کی تعمیر و تزئین سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شجرکاری، سبزہ زاروں کی بہتری اور میرین ڈرائیو، استاد عبدالمجید گوادری روڈ اور سید ظہور شاہ ہاشمی ایونیو پر اسٹریٹ لائٹس اور سولر لائٹنگ کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں صوبائی حکومت کی یہ ترقیاتی سرگرمیاں شہر میں بنیادی شہری ڈھانچے کی بہتری، عوامی سہولیات کی توسیع اور جدید ساحلی شہر کی تشکیل کے لیے جاری کوششوں کی عکاس ہیں۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے تحت ان منصوبوں کی مؤثر تکمیل، دیکھ بھال اور مزید توسیع گوادر کی پائیدار ترقی، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

خبرنامہ نمبر9505/026
کوئٹہ:30اکتوبر 2026: سیکرٹری حکومتِ بلوچستان، محکمہ آبپاشی محمد سہیل الرحمن کی زیرِ صدارت محکمہ آبپاشی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت، انتظامی امور، تکنیکی معاملات اور منصوبوں کی بروقت تکمیل سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیااجلاس میں چیف انجینئر کوئٹہ زون، ایڈیشنل سیکرٹری، مختلف اضلاع کے سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز، ڈپٹیو سیکرٹری (ٹیکنیکل) اور سیکشن آفیسر (B&A)، محکمہ آبپاشی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، کام کی رفتار، درپیش انتظامی و تکنیکی رکاوٹوں اور منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر منصوبوں میں معیارِ تعمیر، منظور شدہ ڈیزائن اور تکنیکی اصولوں پر عمل درآمد، فنڈز کے مؤثر استعمال اور مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کی تکمیل کو بھی زیرِ بحث لایا گیا سیکرٹری محکمہ آبپاشی محمد سہیل الرحمن نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے ہر صورت گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، جبکہ متعلقہ افسران فیلڈ میں منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہوئے کام کے معیار اور پیش رفت کو یقینی بنائیں
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں آبپاشی کے منصوبے زرعی شعبے، پانی کے بہتر انتظام اور عوام کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دستیاب وسائل کو مؤثر اور شفاف انداز میں استعمال کرتے ہوئے عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائےسیکرٹری نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں سے متعلق تکنیکی اور انتظامی مسائل کو بروقت حل کرنے کے لیے باہمی رابطہ مزید مؤثر بنایا جائے اور ہر منصوبے کی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائےاجلاس کے اختتام پر جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ متعلقہ افسران نے منصوبوں کی مقررہ اہداف کے مطابق تکمیل کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر9506/026
تربت 30 اکتوبر 2026: جامعہ تربت کے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے بائیو کیمسٹری پروگرام کے طلبہ نے کورس سپروائزر ضمیرہ واحد اور جیئند بلوچ کی سربراہی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال تربت کا تعلیمی دورہ کیا۔ طلبہ نے کلینیکل تشخیصی لیبارٹری میں کام کے طریقۂ کار کا عملی مشاہدہ کیا اور ہسپتال کے مختلف شعبوں، بشمول یورینالیسس، ہیماٹولوجی، سیرولوجی اور کلینیکل کیمسٹری کا معائنہ کیا۔ اس دوران طلبہ نے جدید لیبارٹری آلات کا مشاہدہ کیا اور خودکار کیمسٹری اینالائزرز کے طریقۂ کار سے آگاہی حاصل کی۔ انہیں سی بی سی، بلڈ گلوکوز اور گردوں کے ٹیسٹ سمیت بنیادی بائیو کیمیکل معائنوں کے بارے میں عملی معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ دورے کے اختتام پر شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر ارشاد معیار نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وحید بلیدی اور ان کی طبی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ کے تعاون کی بدولت طلبہ کو کلینیکل تشخیص اور لیبارٹری کے روزمرہ امور کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اس دورے کے انعقاد پر شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے دورے کلاس روم میں پڑھائے جانے والے تھیوریٹیکل علم کو لیبارٹری کے عملی تجربے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ تربت تحقیقی اداروں اور صنعتی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتوں سے لیس کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9507/026
کوئٹہ، 30 اکتوبر2026: ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے سیکرٹری شہریار تاج نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) کے دفتر کا دورہ کیا اور وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بی بی او آئی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالمنان اور ٹی ڈی اے پی بلوچستان کے ڈائریکٹر نور علی اچکزئی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران بلوچستان میں سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، خواتین کاروباری شخصیات کی حوصلہ افزائی اور مقامی مصنوعات کو قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں اداروں کے اشتراک سے منعقد ہونے والی ویمن انٹرپرینیورز نیٹ ورک (WEXNET) نمائش کو صوبے کی خواتین کاروباری شخصیات کے لیے اپنی مصنوعات متعارف کرانے، کاروباری روابط قائم کرنے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا اہم موقع قرار دیا گیا۔اس موقع پر وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں کاروباری سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ WEXNET جیسی نمائشیں خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی تیار کردہ مقامی مصنوعات کی تشہیر اور انہیں قومی و بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی بی او آئی ٹی صوبے میں سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ اشتراک کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ مقامی کاروباری افراد، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔سیکرٹری ٹی ڈی اے پی شہریار تاج نے کہا کہ بلوچستان میں مقامی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ٹی ڈی اے پی صوبے کے کاروباری شعبے، بالخصوص خواتین کاروباری شخصیات کی معاونت، مصنوعات کی تشہیر اور انہیں نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے بی بی او آئی ٹی کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ملاقات کے بعد سیکرٹری ٹی ڈی اے پی شہریار تاج نے بی بی او آئی ٹی کے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (BFC) کا دورہ بھی کیا، جہاں منیجر بی ایف سی جمشید تصدق نے انہیں سینٹر کے طریقہ کار، فراہم کی جانے والی سہولیات اور سرمایہ کاروں و کاروباری افراد کو ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری خدمات کی فراہمی کے نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

خبر نامہ نمبر 2026/9508
تربت30 اکتوبر:ـجامعہ تربت کے شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے بائیو کیمسٹری پروگرام کے طلبہ نے کورس سپروائزر ضمیرہ واحد اور جیئند بلوچ کی سربراہی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال تربت کا تعلیمی دورہ کیا۔ طلبہ نے کلینیکل تشخیصی لیبارٹری میں کام کے طریقۂ کار کا عملی مشاہدہ کیا اور ہسپتال کے مختلف شعبوں، بشمول یورینالیسس، ہیماٹولوجی، سیرولوجی اور کلینیکل کیمسٹری کا معائنہ کیا۔ اس دوران طلبہ نے جدید لیبارٹری آلات کا مشاہدہ کیا اور خودکار کیمسٹری اینالائزرز کے طریقۂ کار سے آگاہی حاصل کی۔ انہیں سی بی سی، بلڈ گلوکوز اور گردوں کے ٹیسٹ سمیت بنیادی بائیو کیمیکل معائنوں کے بارے میں عملی معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ دورے کے اختتام پر شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر ارشاد معیار نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وحید بلیدی اور ان کی طبی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ کے تعاون کی بدولت طلبہ کو کلینیکل تشخیص اور لیبارٹری کے روزمرہ امور کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اس دورے کے انعقاد پر شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے دورے کلاس روم میں پڑھائے جانے والے تھیوریٹیکل علم کو لیبارٹری کے عملی تجربے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ تربت تحقیقی اداروں اور صنعتی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتوں سے لیس کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9509
سوراب30 اکتوبر:ـایس پی سوراب جناب خورشید احمد بلوچ کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی روک تھام کے لیے سنیپ چیکنگ جاری ہے۔ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او بلاول بلوچ،ایس ایچ او سٹی محمد یونس محمد شہی، اور ڈپٹی افسر کی نگرانی میں مختلف داخلی و خارجی راستوں اور اہم مقامات پر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور مشکوک افراد کی چیکنگ کی جا رہی ہے. پولیس کے مطابق کارروائی کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *