خبرنامہ نمبر6553/2026
کوئٹہ، 30 جولائی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں کے ہاتھوں چھ بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر انسانیت، بلوچستان اور پاکستان کے دشمن ہیں وزیر اعلیٰ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ شہید ہونے والے مزدور کسی ایک قوم، زبان یا صوبے سے نہیں بلکہ پاکستان کے شہری تھے۔ دہشتگردوں نے پنجابیوں کو نہیں بلکہ بے گناہ پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کو قومیت کا رنگ دینا دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو تقویت دینے کے مترادف ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ قوم کی روایات مہمان نوازی، بھائی چارے، عزت اور انسانیت کے احترام پر مبنی ہیں۔ نہتے اور بے گناہ شہریوں کا قتل بلوچ روایات کا حصہ نہیں بلکہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی سفاک سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جن کا مقصد بلوچستان اور پاکستان میں نفرت، خوف اور انتشار پھیلانا ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد بلوچستان کی ترقی، امن اور قومی یکجہتی کے دشمن ہیں اور ریاست ایسے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ معصوم پاکستانیوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا اور دہشتگرد قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6554/2026
کوئٹہ، 30 جولائی۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے ضلع کیچ میں بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر انسانیت، امن اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے دشمن ہیں اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ دہشتگردوں نے نہتے مزدوروں کو شہید کرکے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں ضائع کیں بلکہ بلوچستان کی ترقی، معاشی سرگرمیوں اور عوام کے روزگار کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ افعال سے دہشتگردوں کے مکروہ عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ریاست پوری قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتی رہے گی معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معصوم مزدوروں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ دہشتگردی کے ذریعے عوام کے حوصلے پست کرنے اور بلوچستان کے امن و استحکام کو سبوتاڑ کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دشمن عناصر کے ناپاک عزائم عوام، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی اتحاد اور مشترکہ کوششوں سے خاک میں ملا دیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت، عزم اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی معاون وزیر اعلیٰ شاہد رند نے شہداءکے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل دے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6555/2026
کوئٹہ، 30 جولائی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دونوں ہاتھوں سے معذور مگر غیر معمولی عزم اور حوصلے کے حامل ہونہار طالب علم رفیع اللہ کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ مدعو کرکے ان سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران رفیع اللہ نے ڈاکٹر بننے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر وزیر اعلیٰ نے ان کی ہمت، عزم اور خود اعتمادی کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون اور سرپرستی کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رفیع اللہ جیسے باہمت نوجوان بلوچستان کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی معذوری کبھی بھی بلند حوصلوں اور بڑے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور رفیع اللہ نے اپنی جدوجہد سے یہ حقیقت ثابت کر دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے رفیع اللہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کا خواب اب حکومت بلوچستان کا عزم ہے۔ آپ کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی تاکہ آپ اپنے خواب کو حقیقت میں بدل سکیں۔” انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رفیع اللہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر ممکن طبی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہاں بھی ان کے علاج کی بہتر سہولت دستیاب ہوگی، حکومت بلوچستان ان کے علاج کا مکمل انتظام کرے گی۔ انہوں نے رفیع اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، حکومت ہر قدم پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رفیع اللہ کی ہمت اور عزم پوری قوم، بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ایسے باصلاحیت اور پرعزم نوجوانوں کی سرپرستی حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے اور ملک کی خدمت کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رفیع اللہ کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے رفیع اللہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے حوصلہ افزائی، سرپرستی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی پر دلی تشکر کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے ڈاکٹر بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6556/2026
کوئٹہ، 30 جولائی ۔چیف جسٹس عدالتِ عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ سید نذیر آغا کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک مینجمنٹ، سڑکوں کی تعمیر، تجاوزات، نکاسی آب، ریلوے کراسنگ، سیف سٹی منصوبے اور ایف سی چیک پوسٹ سے متعلق متعدد اہم احکامات جاری کیے۔سماعت کے دوران چیف منسٹر کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج (CMQDP) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد رفیق بلوچ نے عدالت میں پیش ہو کر زرغون روڈ، ریلوے اسٹیشن چوک اور امداد چوک کے اطراف ٹریفک کی صورتحال اور مختلف یوٹرن آپشنز پر مبنی تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو پریزنٹیشن پیش کی۔رپورٹ کے مطابق ریلوے اسٹیشن چوک پر چھٹی کے اوقات میں ٹریفک کا تفصیلی سروے کیا گیا، جس میں روزانہ تقریباً 9,144 گاڑیوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ امداد چوک سے ریلوے اسٹیشن کی جانب جانے والی گاڑیوں کی تعداد مجموعی ٹریفک کا بہت معمولی حصہ ہے، لہٰذا امداد چوک سے پہلے یا بعد میں نیا یوٹرن تعمیر کرنا نہ صرف غیر ضروری ہوگا بلکہ اس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور مزید رش پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ موجودہ یوٹرن کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جس کے لیے مزید وقت درکار ہے۔عدالت نے رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ موجودہ ٹریفک ماڈل کو برقرار رکھا جائے اور موجودہ یوٹرن کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ زرغون روڈ اور انسکمب روڈ پر تعمیر کیے گئے ڈرینیج چیمبرز میں بعض افراد کی جانب سے ملبہ، کچرا اور عیدالاضحی کے بعد جانوروں کی آلائشیں پھینکی گئیں، جس سے نکاسی آب شدید متاثر ہوئی۔ اگرچہ رکاوٹیں منصوبے کے وسائل سے دور کر دی گئی ہیں، تاہم عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی صورت ڈرینیج چیمبرز میں ملبہ پھینکنے کی اجازت نہ دی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔عدالت نے زرغون روڈ کے دونوں اطراف قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، عارضی اسٹالز، کیبنز اور غیر قانونی پارکنگ ختم کرنے کا بھی حکم دیا اور ڈی آئی جی کوئٹہ رینج، ایس ایس پی ٹریفک، ڈپٹی کمشنر اور ایم سی کیو کو مشترکہ کارروائی کی ہدایت جاری کی۔سماعت کے دوران عدالت کے علم میں لایا گیا کہ سڑکوں کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود سیف سٹی منصوبے کے تحت نئی کیبلز اور پول نصب کرنے کے لیے دوبارہ نئی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی کھدائی کی جا رہی ہے، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے سیف سٹی حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ بغیر اجازت کسی بھی نئی تعمیر شدہ سڑک یا فٹ پاتھ کو نہ کھودیں۔ اگر کسی کام کی ضرورت ہو تو پہلے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سے منظوری حاصل کی جائے اور متبادل راستے اختیار کیے جائیں۔سمنگلی روڈ کی اپ گریڈیشن سے متعلق عدالت کو بتایا گیا کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں زمین کے حصول کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جا چکا ہے، تاہم اجلاس کے منٹس کا انتظار ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔عدالت کے روبرو یہ بھی بتایا گیا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور پاکستان ریلوے کے درمیان کوئلہ پھاٹک ریلوے کراسنگ کو کشادہ کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے اور مطلوبہ ادائیگی بھی جاری کر دی گئی ہے۔ عدالت نے ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے کو فوری طور پر سول ورک شروع کرنے جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔خصوصی کمیٹی کے کنوینر شئے حق بلوچ کی رپورٹ میں کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کو 2012 سے آکٹروئی/جی ایس ٹی فنڈز کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2026 تک کنٹونمنٹ بورڈ کے 876.523 ملین روپے واجب الادا ہیں، جن کی ادائیگی کے لیے حکومت بلوچستان سے اقدامات کی سفارش کی گئی۔عدالت نے امداد چوک کے قریب ایف سی کی چیک پوسٹ پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیک پوسٹ ٹریفک کی روانی میں مستقل رکاوٹ بن چکی ہے اور خصوصاً دفتری اور اسکول اوقات میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، چیف سیکرٹری بلوچستان اور محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ معاملہ فوری طور پر متعلقہ ایف سی حکام کے ساتھ اٹھایا جائے۔عدالت نے سریاب سروس روڈ پر جاری تعمیراتی کام کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو تصویری شواہد اور ویڈیو ریکارڈنگ سمیت جامع پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔مزید برآں عدالت نے شہر کے مختلف اوورہیڈ پلوں کے ستونوں کو نشے کے عادی افراد کی جانب سے نقصان پہنچانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس کو ہدایت دی کہ متعلقہ تھانوں کے ذریعے پلوں اور ان کے حفاظتی ڈھانچے کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔عدالت کے علم میں یہ بھی آیا کہ ضلعی پولیس سے ادھار لیے گئے ٹریفک اہلکار واپس لے لیے گئے ہیں، جس سے ٹریفک پولیس کو شدید نفری کی کمی کا سامنا ہے۔ عدالت نے آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی کو ہدایت دی کہ ٹریفک اہلکاروں کو فوری طور پر دوبارہ ٹریفک پولیس کے سپرد کیا جائے تاکہ نئی بھرتیوں تک ٹریفک کا نظام متاثر نہ ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی اپنے ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق تمام ذمہ داریاں مکمل کر چکی ہے، لہٰذا اسے تحلیل کیا جاتا ہے۔عدالت نے اپنے احکامات کی نقول ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل، پاکستان ریلوے، کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ، خصوصی کمیٹی کے کنوینر اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ عدالتی احکامات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6557/2026
قلات 30جولائی ۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کی جانب سے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کے بعد خالق آباد بازاردوبارہ کھل گیا۔خالق آباد بازار میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہوتے ہی شہریوں نے بازاروں کارخ کیا اشیائے ضروریہ کی خریداری شروع کردی ہےصوبائی وزیر داخلہ میرضیاء لانگو کی ہدایت پرسیکیورٹی اور دیگر انتظامات پر انتظامیہ نے کڑی نظر رکھنے اورایس اوپیز پرعنلدرآمد شروع کردیا ہے شہریوں نے بازار کھلنے معمولات زندگی بحال ہونے پر ضلعی انتظامیہ سے اظہار تشکرکیاہے۔
﴾﴿﴾﴿ا﴾﴿
خبرنامہ نمبر6558/2026
حب، 30 جولائی۔ضلع حب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت معیار اور رفتار کا جائزہ لینے کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کے ڈائریکٹر رفیق بلوچ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی ٹیم نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا دورہ کرنے والی ٹیم میں ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ایم اینڈ ای رفیق بلوچ کے ہمراہ ڈائریکٹر قلات ڈویژن لطف اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شامل تھے اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع حب عبد الوہاب زہری نے وفد کا استقبال کیا اور انہیں ضلع بھر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کرایا وفد نے گڈانی اور حب سٹی سمیت مختلف اہم ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جہاں جاری تعمیراتی سرگرمیوں منصوبوں کی رفتار معیار اور مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت کا معائنہ کیا گیااس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع حب عبد الوہاب زہری نے منصوبوں کی موجودہ صورتحال تکمیل کی شرح درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ منصوبوں پر حکومتی ہدایات کے مطابق کام جاری ہے اور انہیں بروقت مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ایم اینڈ ای رفیق بلوچ نے مختلف منصوبوں پر ہونے والے کام کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور تعمیراتی معیار تکنیکی تقاضوں اور منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کی کارکردگی کو سراہا اور منصوبوں کے معیار کو تسلی بخش قرار دیا انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت معیار اور رفتار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ حکومتی وسائل کا موثر استعمال ممکن ہو اور عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6559/2026
سیوی 30 جولائی ۔شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر موصول ہونے والی شکایات اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے شہر میں قائم غیر ضروری اور اضافی اسپیڈ بریکرز کے خاتمے کے احکامات جاری کر دیے۔ڈپٹی کمشنر کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ کی نگرانی میں متعلقہ عملے نے میر چاکر روڈ، ہرنائی پھاٹک، اور دیگر شاہراہوں پر قائم غیر ضروری اسپیڈ بریکرز کو مرحلہ وار ہٹا دیا، تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو اور ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو محفوظ، آسان اور بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جائز شکایات کا بروقت ازالہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی غیر ضروری رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہر کی مختلف شاہراہوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے تاکہ جہاں ٹریفک کی حفاظت کے لیے اسپیڈ بریکر ضروری ہوں انہیں برقرار رکھا جائے، جبکہ غیر ضروری اور اضافی اسپیڈ بریکرز کو ختم کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6560/2026
کوئٹہ ، 30جولائی ۔ سندھ اور بلوچستان کی بین الصوبائی سرحد کی سیکیورٹی کے حوالے سے حب میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں دونوں صوبوں کا معلومات کا تبادلہ اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف مطلوب ،عدالت سے مفررو سزا یافتہ ، اشتہاری اور دوسرے جرائم میں ملوث مجرمان کا تبادلہ ان کے خلاف بروقت کارروائی اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں نقل و حرکت کا تدارک کرنا ہے۔ تمام اقسام کی چوری شدہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے حوالے سے ایک صوبے سے دوسرے صوبے روک تھام کے لئے سیف سٹی نظام کے ذریعے معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی نگرانی میں مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے۔ موبائل سمز کی جانچ پڑتال اور خصوصاً غیر قانونی افغان تارکین وطن کی نقل و حرکت کے تدارک کے لیے سرحدی علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بین الصوبائی سرحد پر ہر قسم کی غیر قانونی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور افراد کی نقل و حرکت کے دوران اسلحہ، منشیات، ایرانی تیل اور دیگر ممنوعہ اشیا کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کریک ڈاون مزید موثر بنایا جائے گا اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔دونوں صوبوں کے سرحد پر گاڑیوں اور لوگوں کے نقل و حمل کے دوران ہر قسم ممنوعہ اشیاء خصوصاً اسلحہ ، منشیات اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ کرنے والوں حوصلہ شکنی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈان جاری رکھا جائے گا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ سند ھ پولیس اور بلوچستان پولیس کو تکینکی معاونت ، جیوفنیسنگ ، آئی ٹی اور دوسرے شعبوں میں بلوچستان پولیس کے اہلکاروں کو تربیت دینے کی سہولیات فرائم کرئے گی۔اس کے علاوہ دونوں صوبوں کے پولیس اہلکاروں کے مابین کراچی پولیس اور حب پولیس کی مواصلاتی نظام کو مزید بہتر اور موثر بنایا جائے گا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق ہو ا کہ سہ مائی اجلاس کا اگلہ دور سندھ میں منعقد ہو گا۔سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں نئی چیک پوسٹیں بنانے کے حوالے سے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ اس کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں نئی چیک پوسٹوں کے قیام کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ سندھ پولیس، بلوچستان پولیس کو تکنیکی معاونت، جیو فینسنگ، آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت فراہم کرے گی جبکہ کراچی اور حب پولیس کے درمیان مواصلاتی نظام کو مزید موثر اور مربوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں صوبوں کے درمیان سہ ماہی اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا جس کا اگلا اجلاس سندھ میں منعقد ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6561/2026
اوتھل 30جولائی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ نے جام محمد یوسف عالیانی پبلک لائبریری اوتھل کا دورہ کیا ، ایس ڈی او بی اینڈ آر لطیف بلوچ و بلوچستان اسپیشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) ٹیم ممبران کے ہمراہ لائبریری کے انتظام و بلڈنگ کا جائزہ لیا ، اس موقع پر عوامی کتب خانے کی خدمات کے منتظم قاضی محمد یاسر سے لائبریری کے معمول کے متعلق بریفنگ لی ، اے ڈی سی لسبیلہ سراج احمد بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان ، ضلعی انتظامیہ لسبیلہ کی جانب سے بی ایس ڈی آئی کے تحت اوتھل لائبریری میں قارئین کے لئے مزید سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جس سے علاقے کے طلباء و طالبات و مجموعی طور پر پبلک لائبریری کے قارئین کے لئے مزید آسانیاں پیدا ہوں گی ، ایڈیشنل ڈی سی لسبیلہ نے لائبریری میں قارئین کو علمی مواد تک آسان رسائی و نظم و ضبط کے قیام پر اسٹاف کی خدمات کو سراہا ، انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں قارئین کو درپیش بنیادی مشکلات و مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس میں مسلسل بجلی کی فراہمی کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب ، خواتین کے لئے علیحدہ بلاک کی تعمیر اور موجودہ بلڈنگ و ریڈنگ ہالز کی مرمت و بہتری کو یقینی بنایا جائیگا، اس موقع پر لائبریری اسسٹنٹس ودیگر موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6562/2026
چمن30جولائی۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت 14 اگست یومِ آزادی پاکستان کی تقریبات کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر میٹنگ ہال چمن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایس پی چمن اشفاق احمد ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ضلعی محکموں کے سربراہان، بوائز ڈگری کالج کے پرنسپل، میونسپل کارپوریشن، ضلعی آئی ٹی آفیسر، IRC، UNICEF اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں یومِ آزادی کی تقریبات کو شایانِ شان، منظم اور قومی جذبے کے ساتھ منانے کے لیے مختلف انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سرکاری و نجی عمارتوں، اہم شاہراہوں اور عوامی مقامات کو قومی پرچموں اور سبز ہلالی پرچم کے رنگوں سے سجانے، پرچم کشائی، قومی ترانے، ملی نغموں، تقاریر، طلبہ کے پروگرامز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے حوالے سے امور زیرِ غور آئے۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ 14 اگست کی تقریبات کے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور اس قومی دن کو بھرپور جوش و جذبے، نظم و ضبط اور وقار کے ساتھ منانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں پاکستان کی آزادی کی قدر، قومی یکجہتی، اتحاد اور ملکی ترقی کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تمام ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو یقینی بناتے ہوئے تقریبات کو کامیاب بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔اجلاس میں امن و امان، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی ستھرائی، بجلی و دیگر ضروری سہولیات سمیت یومِ آزادی کی تقریبات کو کامیاب بنانے کے لیے دیگر انتظامی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6563/2026
سیوی 30 جولائی ۔ سوشل میڈیا پر بارہ سنگھا آٹے کے متعلق شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ کو کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر منصور علی شاہ نے مارکیٹ کا معائنہ کیا اور ریٹیلرز کے پاس موجود شکایت شدہ مخصوص بیچ کے بارہ سنگھا آٹے کو فوری طور پر فروخت سے رکوا کر مارکیٹ سے اٹھوا لیا۔ جہاں اسے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق تلف (Destroy) کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ عوام کی صحت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ناقص یا مشتبہ اشیائے خورونوش کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6564/2026
کوئٹہ، 30 جولائی ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مشترکہ تعاون سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی افسران (FSOs) اور سالٹ پروسیسرز کے لیے سالٹ فورٹیفیکیشن پروگرام کے موضوع پر ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی پروگرام کا مقصد آیوڈائزڈ نمک کی معیاری پیداوار، موثر مانیٹرنگ، کوالٹی کنٹرول، پالیسیوں اور رہنما اصولوں پر موثر عملدرآمد اور متعلقہ افسران و صنعتکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ٹریننگ میں زونل منیجر ڈاکٹر محمود خان نے شرکاءکو آیوڈین کی انسانی صحت میں اہمیت، آیوڈین کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، غیر آیوڈائزڈ نمک کے نقصانات اور معیاری آیوڈائزڈ نمک کے استعمال کے فوائد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سالٹ فورٹیفیکیشن کے جدید تقاضوں، پوٹاشیم آئیوڈیٹ کے درست استعمال، آیوڈین کی مطلوبہ مقدار برقرار رکھنے، پیداواری مراحل، پیکنگ، ذخیرہ، کوالٹی کنٹرول اور ریپڈ ٹیسٹنگ کٹ (RTK) کے موثر استعمال پر بھی تفصیلی عملی رہنمائی فراہم کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر ٹیکنیکل بلوچستان فوڈ اتھارٹی انور کاکڑ ، ڈپٹی پروونشل کوآرڈینیٹر فیملی پلاننگ ڈاکٹر کامران الٰہی، ڈپٹی ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ ڈاکٹر اویس ترین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایمل مندوخیل اور پروونشل پروگرام منیجر سید خلیل آغا نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے غذائی کمیوں کے خاتمے، آیوڈین کی کمی سے بچاو، معیاری آیوڈائزڈ نمک کی دستیابی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر تعاون، نگرانی اور استعدادِ کار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔تربیتی پروگرام میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی افسران، سالٹ پروسیسرز اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معیاری آیوڈائزڈ نمک کی پیداوار، موثر نگرانی اور عوام میں اس کے استعمال کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں مزید موثر انداز میں انجام دیں گے۔پروگرام کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی، حبیب اللہ خان نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ انہوں نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے سالٹ فورٹیفیکیشن پروگرام کے تحت کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ غذائی قلت اور آیوڈین کی کمی جیسے صحت عامہ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایسے تربیتی پروگرام نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نیوٹریشن انٹرنیشنل اور دیگر شراکت دار اداروں کے تعاون سے صوبے بھر میں معیاری آیوڈائزڈ نمک کی پیداوار، موثر نگرانی اور عوام تک محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6565/2026
کوئٹہ، 30 جولائی۔حکومت بلوچستان نے ضلع مستونگ میں 23 جولائی 2026 کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (بی پی ایس-21) عبدالحکیم کاکڑ اور پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل محمد زمان کو بلوچستان سول سرونٹس اینڈ ایمپلائز بینیفٹس اینڈ ڈیتھ کمپنسیشن پالیسی 2020 کے تحت باضابطہ طور پر شہید قرار دے دیا ہے محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشنز کے مطابق یہ اقدام بلوچستان سول سرونٹس اینڈ ایمپلائز بینیفٹس اینڈ ڈیتھ کمپنسیشن پالیسی 2020 کی دفعہ 17 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ 23 جولائی 2026 کو ضلع مستونگ میں مین آر سی ڈی روڈ، ریلوے پھاٹک ولی خان کراس کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ میں شہید ہوئے تھے۔ اسی حملے میں ان کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل محمد زمان نے بھی جام شہادت نوش کیا تھا محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں شہداء کو حکومتی کمپنسیشن پالیسی کے تحت تمام متعلقہ مالی اور سروس فوائد فراہم کیے جائیں گے حکومت بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سرکاری اہلکاروں اور افسران کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے اہل خانہ کی ہر ممکن سرپرستی اور معاونت یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6566/2026
جعفرآباد30جولائی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں انسداد پولیو مہم کا با ضابطہ افتتاح کردیا افتتاحی تقریب میں محکمہ صحت کے افسران، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، پولیو ورکرز اور متعلقہ عملے نے شرکت کی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کو انسداد پولیو مہم، مائیکرو پلان، ٹیموں کی تعیناتی اور حساس علاقوں میں خصوصی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی بھی موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ضلع جعفرآباد کے ہر بچے کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پولیو ٹیمیں انتہائی ذمہ داری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض سرانجام دیں تاکہ پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے انہوں نے کہا کہ مائیکرو پلان پر خصوصی توجہ دی جائے، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک بھی ٹیموں کی رسائی یقینی بنائی جائے اور خانہ بدوش آبادیوں سمیت ہر گھر تک پہنچ کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے، ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور کسی بھی شکایت یا کوتاہی کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے والدین، علمائے کرام، اساتذہ، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے محکمہ صحت سے بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع جعفرآباد کو پولیو سے پاک بنا کر بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6567/2026
لورالائی 30جولائی .۔کیپٹن وقار کاکڑ شہید بلوچستان ریزیڈنشل کالج (بی آر سی) لورالائی کے جماعت نہم اور دہم کے طلبہ نے تعلیمی و مطالعاتی دورے کے سلسلے میں یونیورسٹی آف لورالائی کا دورہ کیا۔طلبہ کے وفد کے ہمراہ کالج کے اساتذہ پروفیسر احسان اور پروفیسر ذوالفقار بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران طلبہ نے یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ سے ملاقات کی۔وائس چانسلر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کو اپنی ترجیح بنائیں، جدید علوم سے استفادہ کریں اور اپنی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موثر ذریعہ ہے اور یہی ملک کی ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہےبعد ازاں وائس چانسلر کے پرنسپل اسٹاف آفیسر ڈاکٹر خالد خان نے طلبہ کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا۔ اس موقع پر طلبہ کو جامعہ کے تعلیمی پروگراموں، جدید تدریسی سہولیات، سائنسی تجربہ گاہوں، مرکزی لائبریری، تحقیقی سرگرمیوں اور طلبہ کے لیے دستیاب مختلف سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی مطالعاتی دورے کے دوران طلبہ نے مختلف شعبوں، لیبارٹریوں اور دیگر تعلیمی مراکز کامشاہدہ کیا اور جامعہ میں فراہم کی جانے والی تعلیمی و تحقیقی سہولیات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ ایسے مطالعاتی دوروں کا مقصد طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع، تحقیقی سرگرمیوں اور جدید تعلیمی ماحول سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر تعلیمی فیصلے کرنے کے قابل ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6568
کراچی 30 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کے اعزاز میں سندھ کے دارالحکومت کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر مس ایلیسن بلیک برن ( Ms Alisom Blackburne ) کی جانب سے ظہرانے کا اہتمام کیا۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران گورنر بلوچستان اور ڈپٹی ہائی کمشنر نے ریجنل پیش رفت، بلوچستان میں منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ گورنر مندوخیل نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقعوں سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا صوبہ قیمتی معدنیات، قدرتی وسائل، ماہی گیری، زراعت، لائیو سٹاک اور ملنسار لوگوں کی سرزمین ہے نئے ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سولر انرجی میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ سرمایہ کاروں کیلئے دستیاب مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ صوبہ کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر کی حیثیت سے گورنر مندوخیل نے برطانوی حکومت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری میں تعلیمی معیار، تحقیقی تعاون اور مہارت کی ترقی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ محترمہ بلیک برن نے سوشو اکنامک ترقی کیلئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی بصیرت کو سراہا اور تعاون و سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی میں، پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے برطانیہ کی خواہش کی تصدیق کی۔ ملاقات کا اختتام باہمی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور عوام سے عوام کے روابط کو بڑھانے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6569
کوئٹہ 30 جولائی: ـ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبائی حکومت نے غیر رسمی تعلیم کے وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ 9 تا 16 سال کے 18 لاکھ بچے جو مختلف وجوہات کی بنا پر رسمی تعلیمی نظام سے محروم رہ گئے، انہیں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائینگے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب سے مرکزی توجہ 9 سے16 سال عمر کے بچوں کے پڑھائی پر مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسمی تعلیم میں حکومتی اقدامات 5 سے 9 سال کے بچوں کے لیے مرکوز تھے، جس کے قابلِ ستائش نتائج سامنے آئے، تاہم اس مرحلے میں 9 تا 16 سال کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت ایک اہم منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ محکمہ سماجی بہبود کی زیر نگرانی چلایا جائے گا ۔ مالی سال 2026ـ27 میں اسکیم کے لیے کل 8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اور منصوبہ پانچ سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 2 لاکھ بچوں کو تعلیم دلائی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت 9 تا 16 سال کے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ بنیادی خواندگی حاصل کر سکیں اور بعد ازاں باقاعدہ اسکولنگ یا پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی حاصل کریں۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ دو ہفتوں کے اندر اس منصوبے کا پی سی ون (PC1) تیار کیا جائے، تاکہ ستمبر میں باقاعدہ آغاز ممکن بن سکے۔اس منصوبے کو عوام تک پہنچانے کے لیے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر گاؤں میں آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی تاکہ وہ بچے جو اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، آسانی سے رجسٹر ہو سکیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محروم بچے جب تعلیم حاصل کریں گے تو وہ قومی ترقی میں مؤثر حصہ ڈال سکیں گے، غربت میں کمی اور سماجی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔صوبائی محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مختص فنڈز کی شفاف تقسیم، تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی، نصاب کی مطابقت (مقامی زبانوں بشمول) اور ڈیٹا بیس تیار کرنے پر فوری کام شروع کریں۔ اجلاس میں غیر رسمی تعلیم کا اپنا ایکٹ بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات ذاہد سلیم، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سید فیصل احمد، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش، سیکرٹری سکولز لعل جان جعفر و دیگر بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6570
کوئٹہ 30 جولائی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر محکمہ داخلہ بلوچستان نے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہرنائی کے جنرل سیکرٹری، شہید ملک شنگل ترین کو سرکاری طور پر ’شہید‘ قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے ان کے لواحقین کے لیے مالی امداد اور شہید کے بچوں کی مکمل تعلیمی اخراجات سرکاری سطح پر ادا کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حلومت بلوچستان اور ریاست اپنے ان بہادر اور نڈر رہنماؤں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی جنہوں نے دہشت گردی کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔حکومتِ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہید کے خاندان کی ہر ممکن سرپرستی کی جائے گی اور اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں حکومت، عوام و ریاست کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6571
کوئٹہ 30 جولائی: سیکرٹری ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی بلوچستان نور احمد پرکانی نے بلوچستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (بیپا) کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں، ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد، عوامی شکایات کے ازالے اور ادارے کو درپیش چیلنجز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بیپا ظہور بلوچ، ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ بریفنگ کے دوران سیکرٹری ماحولیات نے ادارے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں بلوچستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں، جبکہ ناقص کارکردگی، غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ نور احمد پرکانی نے فضائی آلودگی کے تدارک، پولٹری اور ڈیری فارمز، سیوریج کے پانی سے ہونے والی کاشتکاری اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں قائم فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کا جامع ڈیٹا مرتب کیا جائے۔ انہوں نے عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید فعال بنانے، شکایات پر ہونے والی کارروائی کی باقاعدہ مانیٹرنگ، ملازمین کی روزانہ حاضری یقینی بنانے، غیر ضروری اٹیچمنٹس کے خاتمے اور ادارے کو درپیش سہولیات کی کمی دور کرنے کے لیے قابلِ عمل سفارشات جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سیکرٹری ماحولیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں ماحولیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور عوام کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین افسران اور ملازمین کو محفوظ، باوقار اور سازگار دفتری ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6572
کوئٹہ30 جولائی: صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ سورینج میں کوئلہ کان کے افسوسناک حادثے میں اب تک 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور چیف انسپکٹر آف مائنز، پی ڈی ایم اے، ریسکیو ٹیموں اور متعلقہ اداروں کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت متاثرہ کان کنوں کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ انہوں نے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔ صوبائی وزیر نے اعلان کیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ہر کان کن کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والے ہر کان کن کو تین لاکھ روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات اور مائن سیفٹی کے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے کی ہر پہلو سے شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی میر شعیب نوشیروانی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق کان کنوں کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6573
تمپ30 جولائی: ضلع انتظامیہ تمپ کے زیرِ اہتمام عوامی مسائل کے براہِ راست حل اور عوام و انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطے کے فروغ کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے کی، جبکہ کرنل شیر عالم کنڈی مہمانِ خصوصی تھے۔کھلی کچہری میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، علاقائی معتبرین، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، یونین کونسلوں کے چیئرمینوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر نصیر احمد گچکی، حاجی حنیف رند، چیئرمین شاہو رند، گل جان ملک، بابو بدر، علی جمعہ زعمرانی اور دیگر مقررین نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل اجاگر کیے اور متعلقہ محکموں کے سربراہان سے مختلف امور پر سوالات کیے۔شرکاء نے امن و امان، ضلع تمپ کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، روزگار کے مواقع، آبپاشی کے مسائل، سوراپ بارڈر کی بندش، تحصیل مند میں بجلی کی فراہمی، راہداریوں کی بندش، تمپ تا تربت (زبیدہ جلال) شاہراہ پر جاری مرمتی کام کی مؤثر نگرانی، خشک کاریزات کی بحالی، زرعی شعبے کی ترقی اور دیگر عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکاء کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے اور مختلف مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔بعد ازاں کرنل شیر عالم کنڈی، ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ، ایس ایس پی عارف علی، محکمہ پی پی ایچ آئی، محکمہ زراعت، محکمہ بی اینڈ آر اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے فرداً فرداً شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی۔تقریب میں چیئرمین امین قریشی، اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیخ حیات، اسسٹنٹ کمشنر مند میر حسن، ڈی ایس پی اسماعیل بلوچ، ڈی ڈی ای او تمپ و مند، مختلف یونین کونسلوں کے چیئرمین، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔کھلی کچہری کے اختتام پر ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے بروقت حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایسے عوامی رابطہ پروگرام آئندہ بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6574
گوادر30جولائی :ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (ESP) گوادر کے پروگرام منیجر عادل نودزئی کی جانب سے گوادر آرٹ اکیڈمی کی تعلیمی، ثقافتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں ایک پروقار عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں اکیڈمی کے نمائندہ فنکاروں اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر عادل نودزئی نے گوادر آرٹ اکیڈمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے نوجوانوں میں تعلیم، تخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت، مثبت سماجی اقدار اور مقامی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی تربیت اور مقامی ثقافت کے تحفظ کے لیے اکیڈمی کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔مقررین نے کہا کہ گوادر آرٹ اکیڈمی نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، فنونِ لطیفہ، مقامی زبان و ثقافت اور ہنر مندانہ صلاحیتوں کی جانب راغب کر کے معاشرے میں شعوری بیداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے وژن کے مطابق نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا پائیدار ترقی اور باعزت روزگار کے حصول کے لیے ناگزیر ہے، جس میں گوادر آرٹ اکیڈمی جیسے ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 30 جولائی:ـبلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BBISE) نے ایس ایس سی (9ویں اور 10ویں جماعت) سالانہ امتحان 2027 کے لیے امتحانی فارم اور فیس جمع کرانے کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ بورڈ کے مطابق امتحانی فارم 2 اگست 2026 سے آن لائن اپ لوڈ کیے جائیں گے جبکہ سالانہ امتحان 2027 کے آغاز کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق امیدوار بغیر لیٹ فیس کے 3 اگست سے 2 ستمبر 2026 تک امتحانی فارم اور فیس جمع کرا سکیں گے۔ ڈبل فیس کے ساتھ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 ستمبر سے 18 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے، جبکہ تین گنا فیس کے ساتھ 19 ستمبر سے 30 ستمبر 2026 تک فارم جمع کرائے جا سکیں گے۔یہ شیڈول نئے ریگولر اور پرائیویٹ امیدواروں، 9ویں جماعت کے ناکام امیدواروں، نمبروں میں بہتری کے خواہشمند طلبہ، 10ویں جماعت کے فیل امیدواروں اور بورڈ کی جانب سے مخصوص مضامین کی اجازت حاصل کرنے والے امیدواروں پر لاگو ہوگا۔بورڈ نے واضح کیا ہے کہ 9ویں جماعت کے وہ ناکام یا بہتری کے امیدوار جنہوں نے پہلے ہی ایس ایس سی سیکنڈ سالانہ امتحان کے لیے داخلہ فارم جمع کرا رکھے ہیں، وہ اس مرحلے پر نئے فارم جمع نہیں کریں گے۔ ایسے امیدواروں کے لیے نتائج کے اعلان کے بعد الگ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔فیس شیڈول کے مطابق 9ویں یا 10ویں جماعت کے سائنس و آرٹس (ریگولر و پرائیویٹ) امیدواروں کے لیے امتحانی فیس 3000 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ 9ویں اور 10ویں دونوں جماعتوں یا 10ویں فیل/بہتری کے پرچوں کے ساتھ 9ویں جماعت کے امیدواروں کے لیے فیس 4000 روپے ہوگی۔ ایک پرچے کے پرائیویٹ امیدواروں کے لیے فیس 1500 روپے اور غیر رجسٹرڈ امیدواروں کے لیے رجسٹریشن فیس 2000 روپے مقرر کی گئی ہے۔بورڈ کے مطابق آن لائن پُر شدہ اور پرنٹ شدہ امتحانی فارم مقررہ تاریخوں کے اندر جمع کرانا لازمی ہوگا۔ 30 ستمبر 2026 کے بعد تین گنا فیس کے علاوہ 100 روپے یومیہ جرمانہ وصول کیا جائے گا، جبکہ 23 نومبر 2026 کے بعد کسی بھی صورت فارم قبول نہیں کیا جائے گا۔ پرائیویٹ امیدواروں کو بی بی آئی ایس ای کے اصل ڈی ایم سی یا وفاق المدارس کے اصل اسناد بھی فارم کے ساتھ منسلک کرنا ہوں گے۔






