خبرنامہ نمبر 5158/2026
کوئٹہ، 28 جون :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت زلزلہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کا حکومت کو مکمل احساس ہے اور متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی ہدایات پر ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے زلزلہ متاثرہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ متاثرہ خاندانوں میں امدادی سامان بھی تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی فوری امداد، بحالی اور ضروری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور امدادی سامان کی تقسیم شفاف، بروقت اور بلاامتیاز یقینی بنائی جائے تاکہ ہر مستحق خاندان تک حکومتی امداد پہنچ سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے زلزلہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں اور باہمی رابطے کے ذریعے مؤثر امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات کا جامع سروے مکمل کرکے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت قدرتی آفات سے متاثرہ شہریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف، بحالی اور تعمیر نو کے اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تاکہ متاثرین جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی بحال کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر 5159/2026
اسلام آباد، 28 جون :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو یہاں اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کی امن و امان کی موجودہ صورتحال اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے عزم سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے ملکی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور بلوچستان میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
خبرنامہ نمبر 5160/2026
کوئٹہ، 28 جون :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔وزیر اعلیٰ نے حملے میں شہید ہونے والے رینجرز کے جوانوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے ماتھے کا جھومر رہیں گی۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل اور زخمی اہلکاروں کی جلد و مکمل صحت یابی کی دعا کی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پوری قوم ایک صفحے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کار اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ریاست پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردی کے ہر منصوبے کو آہنی عزم، قومی اتحاد اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے، ریاستی پالیسی اور سیکیورٹی فورسز کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کا امن، استحکام اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد پوری قوت سے جاری رہے گی۔
خبرنامہ نمبر 5161/2026
ہرنائی: صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوامی دوست وژن کے عین مطابق، عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سننے اور ان کے بروقت و مؤثر حل کو یقینی بنانے کے مقصد سے ضلع ہرنائی کے دور افتادہ علاقے سپین تنگی میں ایک گرینڈ کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی سربراہی میں منعقدہ اس کھلی کچہری میں ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام اہم سرکاری محکموں کے سربراہان نے تفصیلی شرکت کی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا موقع پر ہی ازالہ کیا جا سکے۔اس اہم اور بڑے عوامی اجتماع میں سیکیورٹی اور انتظامی محکموں کے افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء میں ونگ کمانڈر 155 ونگ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ہرنائی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او)، اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) سمیت مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی افسران شامل تھے۔ اس موقع پر علاقے کے معزز قبائلی عمائدین، معروف سیاسی و سماجی شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سپین تنگی و گردونواح کے شہریوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے مطالبات انتظامیہ کے سامنے رکھے کھلی کچہری کے دوران شہریوں اور عمائدین نے علاقے کو درپیش مختلف نوعیت کے بنیادی مسائل سے حکام کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ عوام کی جانب سے تعلیم، صحت کی سہولیات کی کمی، اسکولوں و ہسپتالوں کی حالتِ زار، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور وولٹیج کا مسئلہ، لنک روڈز اور اہم سڑکوں کی خستہ حالی، امن و امان کی صورتحال، اور موبائل و انٹرنیٹ سمیت دیگر مواصلاتی سہولیات کی عدم موجودگی سے متعلق شکایات اور تعمیری تجاویز پیش کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کھلی کچہری میں موجود ایک ایک شہری کی شکایت کو نہایت توجہ اور بغور سنا۔ انہوں نے عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو فوری اور ضروری ہدایات جاری کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سختی سے تاکید کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے تفویض کردہ امور کو جلد از جلد اور مؤثر انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے کہا کہ ان کھلی کچہریوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے مابین براہِ راست رابطے کے پل کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کے گھر کی دہلیز پر جا کر سنے اور ان کا فوری ازالہ کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو تمام بنیادی زندگی کی سہولیات کی فراہمی اور پسماندگی کے خاتمے کے لیے اپنے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔ سپین تنگی کے قبائلی عمائدین اور عام شہریوں نے اپنے علاقے میں اس نوعیت کی کھلی کچہری کے انعقاد کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو انتہائی خوش آئند اور “عوام دوست” قرار دیا۔ شرکاء نے ڈپٹی کمشنر ہرنائی اور دیگر افسران کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے پائیدار حل اور تعمیر و ترقی کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایسے مخلصانہ اقدامات اور براہِ راست رابطوں کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 5162/2026
ہرنائی : ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے عوامی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے سول ڈسپنسری میاں کچ اور سول ڈسپنسری سپین تنگی کا اچانک اور غیبی دورہ کیا۔ اس سرپرائز وزٹ کا بنیادی مقصد دور افتادہ علاقوں میں غریب عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیار کو جانچنا، ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا اور ڈیوٹی پر موجود عملے کی حاضری کا معائنہ کرنا تھا۔ دورے کے دوران ڈی ایچ او نے فرائض میں غفلت برتنے والے اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موقع پر ہی تادیبی کارروائی کے احکامات جاری کر دییڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں سول ڈسپنسری میاں کچ کا رخ کیا۔ انہوں نے ڈسپنسری کے مختلف شعبوں، بشمول او پی ڈی، فارمیسی اور اسٹور روم کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ڈی ایچ او نے حاضری رجسٹر کی خود پڑتال کی اور بعض ملازمین کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دکھی انسانیت کی خدمت میں کسی بھی قسم کی سستی یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے موقع پر موجود انچارج کو ہدایت کی کہ مریضوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے اور ادویات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں، ڈی ایچ او ہرنائی نے سول ڈسپنسری سپین تنگی کا سرپرائز وزٹ کیا۔ وہاں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ڈسپنسری میں ملنے والی طبی سہولیات اور عملے کے رویے کے بارے میں دریافت کیا۔ ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے ڈسپنسری میں ادویات کے اسٹاک اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حاضری کو سو فیصد یقینی بنائیں، بصورت دیگر غیر حاضر پائے جانے والے ملازمین کے خلاف محکمہ جات کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کی تنخواہیں بھی روک دی جائیں گی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی اولین ترجیح عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی بہترین اور مفت سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرنائی کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں قائم ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت (BHUs) کی مانیٹرنگ کا عمل مستقبل میں بھی اسی طرح اچانک اور سخت رکھا جائے گا تاکہ کوئی بھی ملازم اپنے فرائض سے چشم پوشی نہ کر سکے۔ عوام نے ڈی ایچ او کے اس اقدام کو خوب سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے سرپرائز دوروں سے سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔
خبرنامہ نمبر 5163/2026
نصیرآباد 28جون :حکومت بلوچستان کی جانب سے عوام کو سستے داموں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں ۔انہی احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر صحبت پور کی ہدایت پر آج تحصیلدار مانجھی پور حبیب اللہ کی زیرِ نگرانی مانجھی پور بازار میں پرائس کنٹرول مہم کے سلسلے میں خصوصی کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی کے دوران تحصیلدار نے بازار کا تفصیلی دورہ کیا اور سبزی، گوشت سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کے سرکاری نرخ ناموں کا بغور جائزہ لیا دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ تمام اشیاء صرف سرکاری نرخ نامے کے مطابق فروخت کی جائیں اس موقع پر ناجائز تجاوزات کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی اور متعدد تجاوزات کو ختم کروایا گیا تحصیلدار نے دکانداروں کو خبردار کیا کہ ناجائز منافع خوری سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے اور تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔پرائس کنٹرول مہم کے دوران مجموعی طور پر 23 کاروباری مراکز کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 9 دکانداروں کو وارننگ جاری کی گئی جبکہ مختلف خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 3,300 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔تحصیلدار نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے اور ناجائز تجاوزات کے مکمل خاتمے کے لیے بازاروں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائس کنٹرول مہم آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف فراہم کیا جا سکے
خبرنامہ نمبر 5164/2026
نصیرآباد: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں عوامی مسائل ان کی دہلیز پر سننے کے لیے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کی سربراہی میں ڈیرہ رحمان جمالی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ظہیر احمد عمرانی، شمن علی سولنگی، سکندر علی کھوسہ، سلیم بہرانی، خاوند بخش منجھو، محبوب علی رند سید سجاد شاہ میر حفیظ پرکانی سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کے دوران علاقہ مکینوں اور معتبرین نے ربیع کینال میں پانی کی قلت،امن و امان کی بحالی، ڈیرہ رحمان جمالی۔ قومی شاہراہ کی خستہ حالی اور دیگر بنیادی مسائل سے انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سن کر ان کے مؤثر اور دیرپا حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حکومتی احکامات کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ محکموں کے ساتھ اٹھایا جائے گا، جبکہ بی ایس ڈی آئی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے لیے بھی مؤثر کوششیں کی جائیں گی تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔
خبرنامہ نمبر 5165/2026
تربت، 28 جون 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی نے اتوار کے روز اپنے دفتر میں بارڈر نمائندگان کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ضلع کیچ میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے باقاعدہ سرحدی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا جائے گا، جبکہ اس سلسلے میں چند تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) میجر جنرل بلال سرفراز کی بھرپور کاوشوں سے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ اور ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) باہمی تعاون سے باقی ماندہ تکنیکی معاملات کو جلد مکمل کر رہے ہیں، جن کی تکمیل کے فوراً بعد جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کو تجارت کے لیے فعال کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بارڈر کی بندش کے باعث ضلع کیچ کے عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد بارڈر کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر لیا گیا اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ایرانی حکام جالگی کراسنگ پوائنٹ کھولنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو عوام اور مقامی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔یاسر اقبال دشتی نے بتایا کہ سوراپ بارڈر کراسنگ پوائنٹ اس وقت فعال ہے، تاہم ضلع تمپ کے قیام کے بعد یہ کراسنگ پوائنٹ ضلع کیچ کی حدود سے نکل کر ضلع تمپ میں شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کیچ کے عوام کی سہولت کے لیے آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے عارضی طور پر ضلع پنجگور میں جیرک کراسنگ پوائنٹ کھول رکھا ہے، جبکہ جولائی میں ضلع کیچ کے لیے مستقل بنیادوں پر جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کو فعال کیا جائے گا تاکہ مقامی عوام اپنے ہی ضلع میں سرحدی تجارت سے مستفید ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کیچ کے عوام، بارڈر نمائندگان اور تاجر برادری کے صبر و تحمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ کئی ماہ انتہائی بردباری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جالگی بارڈر کے فعال ہونے کے بعد سرحدی تجارت، روزگار اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر کھلنے کے بعد تمام متعلقہ اداروں، بارڈر نمائندگان اور تاجروں کی مشاورت سے ایک شفاف، منظم اور مؤثر نظام وضع کیا جائے گا تاکہ سرحدی تجارت عوام کے بہترین مفاد میں مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکے۔
خبرنامہ نمبر 5166/2026
موسی خیل28جون:وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کے ہمراہ ضلع موسی’ خیل کی تحصیل کنگری کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کھجوری چھاپ اور غڑوندی کا تفصیلی دورہ کیا زلزلے سے متاثرہ مکانات کا جائزہ لیا اور متاثرہ زخمیوں کی عیادت کی اس موقع پہ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ مریضوں اور مکانات کی سروے رپورٹ بنا کر بھیجیں تاکہ وزیراعلی بلوچستان کی ہدایات پہ عمل کرکے زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی امداد جلد از جلد پہنچاء جاسکے اس موقع پہ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں سے حال احوال معلوم کیا موقع پہ تمام متاثرہ خاندانوں کو ٹینٹ راشن، برتن وغیرہ فراہم کئے ڈی جی پی ڈی ایم اے اس موقع پہ متاثرہ لوگوں سے کہا کہ لانگ ٹرم مکانات کی تعمیر وغیرہ کے حوالے جلد سروے مکمل کرکے رپورٹ مرتب کی جائیگی جس کے بعد بہت جلد آپکو سر کاری امداد ملے گی اس موقع پہ متاثرہ لوگوں نے حکومت بلوچستان کی طرف سے اقدامات کو سراہا ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا دورے کے دوران تمام دیگر انتظامی آفیسران نے بھی شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر 5167/2026
ہرنائی: ضلع ہرنائی کے علاقے ناکس پل کے قریب تیز رفتار پک اپ اور موٹر سائیکل کے درمیان ہونے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں واپڈا کا ملازم کبیر خجک موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم خان ترین فوری طور پر لیویز فورس اور امدادی ٹیموں کے ہمراہ جائے حادثہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں، لاش کی منتقلی اور ٹریفک کی بحالی کے اقدامات کی خود نگرانی کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار کبیر خجک شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے،، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور مرحوم کی جسدِ خاکی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قانونی کارروائی اور دیگر ضروری مراحل جلد از جلد مکمل کرکے میت ورثاء کے حوالے کی جائے۔ اس موقع پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے محمد سلیم خان ترین نے کہا کہ یہ ایک نہایت افسوسناک سانحہ ہے اور ضلعی انتظامیہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گریز کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔






