25th-August-2026

خبرنامہ نمبر6945/2026
کوئٹہ 25اگست ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے 19 افسران کی میرٹ پر تعیناتی کا عمل مکمل ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نو منتخب افسران میں تقرری کے لیٹرز تقسیم کیے اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے محنت، لگن، دیانت داری اور ریاست سے غیر مشروط وفاداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے کے معاشی مستقبل میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صوبے کے وسائل کا ایک بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہوجاتا ہے، جس کے باعث عام بلوچستانی کی فلاح و بہبود کے لیے محدود وسائل دستیاب رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی سے توقع ہے کہ وہ صوبے کے ریونیو میں اضافہ کرتے ہوئے کم از کم غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ کم کرنے کے لیے خاطر خواہ وسائل پیدا کرے گی۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی سے بچنے والے وسائل کو عوامی فلاح، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور دیگر ترقیاتی ترجیحات پر خرچ کیا جاسکے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے روز اول ہی بلوچستان کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہوں گی اور بھرتیوں میں میرٹ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔ محکمہ تعلیم میں 14 ہزار 500 سے زائد اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ پر کی گئیں اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں افسران کی حالیہ تعیناتی اسی پالیسی کا عملی تسلسل ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں میرٹ کی سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے اپنے ضلع ڈیرہ بگٹی سے بھی کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔ بھرتی کے پورے عمل میں کسی بھی ایگزیکٹو آفس سے کوئی دباو نہیں ڈالا گیا اور تقرریاں سو فیصد میرٹ پر عمل میں لائی گئیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے میرٹ کو یقینی بنانے پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان نورزئی اور پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتیاں ہی نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنے کا موثر ذریعہ ہیں انہوں نے نو منتخب افسران سے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے نوجوان افسران خلوص، محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے کام کریں۔ آئندہ مالی سال کے اہداف میں نمایاں بہتری کا حصول ان کا پہلا امتحان ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست سے غیر مشروط اخلاص ہر سرکاری افسر کا طر امتیاز ہونا چاہیے۔ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے اور فرائض کی انجام دہی میں ریاست کو ہر سطح پر مقدم رکھنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے ہر سطح پر میرٹ کو فروغ دینا ہوگا میرٹوکریسی کو مضبوط بنا کر ہی نوجوانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور وابستگی کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم اور اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے جامع اقدامات کررہی ہے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کو صوبے کا ایک مثالی، موثر اور فعال ادارہ بنایا جائے گا جو صوبے کے مالی استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا انہوں نے نو منتخب افسران پر زور دیا کہ وہ محنت، لگن اور ریاست سے غیر مشروط وفاداری کے عہد کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا آغاز کریں اور ادارے کی کارکردگی کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ میرٹ کی بنیاد پر بلوچستان کی باصلاحیت خواتین بھی بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں افسران کے طور پر منتخب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سمیت صوبے کے تمام باصلاحیت نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6946/2026
کوئٹہ، 25 اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عید میلاد النبیﷺ کے بابرکت موقع پر پوری قوم اور بالخصوص اہل بلوچستان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیے محبت، اخوت، برداشت، عدل، مساوات، رواداری اور انسانیت کی خدمت کا کامل نمونہ ہے اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عید میلاد النبیﷺ ہمیں اس عظیم ہستی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی یاد دہانی کراتی ہے جنہوں نے انسانیت کو جہالت، ظلم اور ناانصافی کے اندھیروں سے نکال کر علم، عدل اور اخوت کی روشنی عطا کی۔ نبی کریمﷺ نے معاشرے کے کمزور طبقات، یتیموں، مسکینوں، خواتین اور ضرورت مندوں کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی زور دیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل ضابط حیات ہے۔ آپﷺ نے عدل و انصاف، دیانت داری، امانت، مساوات اور باہمی احترام کو معاشرے کی بنیاد بنایا۔ آج ہمیں درپیش چیلنجز کا مقابلہ بھی انہی سنہری اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا کر کیا جاسکتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور ہماری قومی شناخت اسلام کی امن، سلامتی، بھائی چارے اور انسانیت سے محبت کی تعلیمات سے جڑی ہوئی ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں نفرت، تعصب، انتہا پسندی اور تقسیم کے بجائے اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف اقوام، قبائل، زبانوں اور ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں بسنے والے تمام شہری ہمارے لیے برابر ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں انسانوں کے درمیان برابری، بھائی چارے اور حقوق کی ادائیگی کا درس دیتی ہیں۔ صوبے میں امن، بھائی چارے اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود، امن و امان، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ ریاستی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کمزور اور محروم طبقات کی ضروریات کو ترجیح دینا بھی سیرت النبی ﷺ کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج کے دن ہمیں خصوصی طور پر اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو مشکلات، غربت اور دیگر مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ خوشی کے اس موقع پر مستحق افراد کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بننا ہی حقیقی معنوں میں سیرت طیبہ سے محبت کا عملی اظہار ہے۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ عید میلاد النبی ﷺ کے اجتماعات اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران امن و امان، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کو برقرار رکھا جائے اور ایک دوسرے کے عقائد و جذبات کا احترام کیا جائے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنے فرائض ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کریں گے۔ ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان ہی ہماری آنے والی نسلوں کا بہتر مستقبل یقینی بنا سکتا ہے میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، پاکستان کو امن و استحکام اور بلوچستان کو ترقی و خوشحالی عطا کرے، ملک و قوم کو ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رکھے اور پوری امت مسلمہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6947/2026
کوئٹہ 25 اگست ۔صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان چیف سردار کوہیار خان ڈومکی نے 12 ربیع الاول، جشنِ میلاد النبیﷺ کے موقع پر امتِ مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے عظیم نعمت اور رحمت کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺنے محبت، اخوت، رواداری، عدل و انصاف اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنائیں اور معاشرے میں بھائی چارے، امن اور اتحاد کو فروغ دیں۔ سردار کوہیار خان ڈومکی نے کہا کہ 12 ربیع الاول ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم نبی کریم ﷺکی سیرت و کردار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور ملک و صوبے کی ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس بابرکت موقع پر امتِ مسلمہ، بالخصوص پاکستان اور بلوچستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6948/2026
کوئٹہ: 25 اگست ۔صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے سابق گورنر بلوچستان جنرل (ر) عمران اللہ خان کی وفات پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ جنرل (ر) عمران اللہ خان ایک باوقار، مدبر، نفیس اور قابلِ احترام شخصیت کے مالک تھے انہوں نے کہا کہ مرحوم جنرل (ر) عمران اللہ خان کی قومی و عوامی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے ایک مخلص، مدبر اور قابلِ احترام شخصیت ہم سے جدا ہو گئی ہے، جس سے پیدا ہونے والا خلا طویل عرصے تک محسوس کیا جائے گا صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ وہ غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کے لیے مغفرت و بلندیِ درجات کی دعا کرتے ہیں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم جنرل (ر) عمران اللہ خان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6949/2026
کوئٹہ 25 اگست ۔سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے تمام ونگز اور سیکشنز کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ کی مجموعی کارکردگی، گزشتہ اور موجودہ مالی سال کے اہداف، ترقیاتی منصوبوں، انتظامی امور، افرادی قوت، اضلاع میں محکمانہ موجودگی اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ شجاعت علی بلوچ، چیف افیسر میٹر پولیٹین کارپوریشن کوئٹہ نظر زہری، طحہٰ جنید فوکل پرسن لوکل گورنمنٹ سمیت محکمہ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری بلوچستان کے دفتر کی جانب سے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی سے مطلوبہ محکمانہ پریزینٹیشن کو حتمی شکل دی گئی، جس میں محکمہ کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف سے متعلق تفصیلات شامل کی گئیں۔اجلاس میں گزشتہ سال کی محکمانہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے PSDP اور Non-PSDP کے تحت مکمل کیے گئے منصوبوں، جاری ترقیاتی اسکیموں اور محکمہ کی جانب سے انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ موجودہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ اہداف، PSDP اور Non-PSDP منصوبوں اور Rules of Business کے تحت محکمہ کی ذمہ داریوں اور ترجیحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو محکمہ میں موجود خالی آسامیوں، گریڈ وائز افرادی قوت، ابتدائی بھرتی اور ترقی (Promotion) کے لیے مختص آسامیوں سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے ہدایت کی کہ بھرتیوں اور ترقیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ محکمہ میں اہل اور باصلاحیت افرادی قوت کو آگے آنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جاسکیں۔اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع اور سب ڈویژنز میں محکمہ کی موجودگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں زیرِ کوریج اضلاع اور سب ڈویژنز کی تعداد، مختلف دفاتر میں تعینات عملے، خالی آسامیوں، سرکاری ملکیتی اور کرائے کی عمارات میں قائم دفاتر جبکہ فعال اور غیر فعال دفاتر سے متعلق تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔شرکاء کو محکمہ کے افسران و اہلکاروں کے لیے دستیاب رہائشی سہولیات، متعلقہ اضلاع میں ان کی دستیابی، استعمال اور عملے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ ان سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں نئے اضلاع، سب ڈویژنز اور ڈویژنز کے قیام سے متعلق زیرِ غور کیسز اور سمریوں کی موجودہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مجوزہ نئے انتظامی یونٹس کے لیے درکار آسامیوں، بنیادی ڈھانچے، دفتری عمارات، رہائشی سہولیات اور دیگر انتظامی ضروریات سے متعلق تفصیلات پیش کی گئیں۔اجلاس میں محکمہ کے PSDP اور موجودہ بجٹ کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی فنڈز کے استعمال، جاری منصوبوں کی پیش رفت اور آئندہ کے لیے مالی ترجیحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ افسران کو ہدایت کی گئی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، فنڈز کے موثر اور شفاف استعمال اور محکمانہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔اس موقع پر گزشتہ دو سال کے دوران مارچ 2024ء سے 30 جون 2026ءتک محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کی اہم کامیابیوں کو بھی پریزینٹیشن کا حصہ بنایا گیا، جن میں مختلف ترقیاتی و غیر ترقیاتی اقدامات، بلدیاتی اداروں کی بہتری، انتظامی اصلاحات، عوامی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی سے متعلق اہم پیش رفت شامل تھی۔سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی صوبے میں بنیادی سطح پر عوام کو سہولیات کی فراہمی اور بلدیاتی نظام کو موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے شفافیت، میرٹ، موثر نگرانی، وسائل کے بہتر استعمال اور مقررہ اہداف کے بروقت حصول کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ محکمہ کے تمام ونگز اور سیکشنز اپنی کارکردگی، اہداف، بجٹ، افرادی قوت، خالی آسامیوں، اضلاع میں موجودگی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تمام اعداد و شمار اور ریکارڈ کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ رکھیں، تاکہ محکمہ کی کارکردگی کا درست اور جامع جائزہ پیش کیا جاسکے۔عبدالروف بلوچ نے مزید ہدایت کی کہ تمام افسران چیف سیکریٹری آفس کی جانب سے مطلوبہ معلومات اور پریزینٹیشن کی تیاری میں مکمل تعاون کریں اور فراہم کردہ اہداف کے مطابق تفصیلات بروقت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی مجموعی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام ونگز اور سیکشنز کے درمیان باہمی رابطہ اور کوآرڈی نیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیں اور محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائیںکی مجموعی کارکردگی، گزشتہ اور موجودہ مالی سال کے اہداف، ترقیاتی منصوبوں، انتظامی امور، افرادی قوت، اضلاع میں محکمانہ موجودگی اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ شجاعت علی بلوچ، چیف افیسر میٹر پولیٹین کارپوریشن کوئٹہ نظر زہری، طحہٰ جنید فوکل پرسن بڑے لوکل گورنمنٹ سمیت محکمہ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری بلوچستان کے دفتر کی جانب سے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی سے مطلوبہ محکمانہ پریزینٹیشن کو حتمی شکل دی گئی، جس میں محکمہ کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف سے متعلق تفصیلات شامل کی گئیں۔اجلاس میں گزشتہ سال کی محکمانہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے PSDP اور Non-PSDP کے تحت مکمل کیے گئے منصوبوں، جاری ترقیاتی اسکیموں اور محکمہ کی جانب سے انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ موجودہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ اہداف، PSDP اور Non-PSDP منصوبوں اور Rules of Business کے تحت محکمہ کی ذمہ داریوں اور ترجیحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو محکمہ میں موجود خالی آسامیوں، گریڈ وائز افرادی قوت، ابتدائی بھرتی اور ترقی (Promotion) کے لیے مختص آسامیوں سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے ہدایت کی کہ بھرتیوں اور ترقیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ محکمہ میں اہل اور باصلاحیت افرادی قوت کو آگے آنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جاسکیں۔اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع اور سب ڈویژنز میں محکمہ کی موجودگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں زیرِ کوریج اضلاع اور سب ڈویژنز کی تعداد، مختلف دفاتر میں تعینات عملے، خالی آسامیوں، سرکاری ملکیتی اور کرائے کی عمارات میں قائم دفاتر جبکہ فعال اور غیر فعال دفاتر سے متعلق تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔شرکاءکی محکمہ کے افسران و اہلکاروں کے لیے دستیاب رہائشی سہولیات، متعلقہ اضلاع میں ان کی دستیابی، استعمال اور عملے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ ان سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں نئے اضلاع، سب ڈویژنز اور ڈویژنز کے قیام سے متعلق زیرِ غور کیسز اور سمریوں کی موجودہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مجوزہ نئے انتظامی یونٹس کے لیے درکار آسامیوں، بنیادی ڈھانچے، دفتری عمارات، رہائشی سہولیات اور دیگر انتظامی ضروریات سے متعلق تفصیلات پیش کی گئیں۔اجلاس میں محکمہ کے PSDP اور موجودہ بجٹ کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی فنڈز کے استعمال، جاری منصوبوں کی پیش رفت اور آئندہ کے لیے مالی ترجیحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ افسران کو ہدایت کی گئی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، فنڈز کے موثر اور شفاف استعمال اور محکمانہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔اس موقع پر گزشتہ دو سال کے دوران مارچ 2024ء سے 30 جون 2026ء تک محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کی اہم کامیابیوں کو بھی پریزینٹیشن کا حصہ بنایا گیا، جن میں مختلف ترقیاتی و غیر ترقیاتی اقدامات، بلدیاتی اداروں کی بہتری، انتظامی اصلاحات، عوامی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی سے متعلق اہم پیش رفت شامل تھی۔سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی صوبے میں بنیادی سطح پر عوام کو سہولیات کی فراہمی اور بلدیاتی نظام کو موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے شفافیت، میرٹ، موثر نگرانی، وسائل کے بہتر استعمال اور مقررہ اہداف کے بروقت حصول کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ محکمہ کے تمام ونگز اور سیکشنز اپنی کارکردگی، اہداف، بجٹ، افرادی قوت، خالی آسامیوں، اضلاع میں موجودگی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تمام اعداد و شمار اور ریکارڈ کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ رکھیں، تاکہ محکمہ کی کارکردگی کا درست اور جامع جائزہ پیش کیا جاسکے۔عبدالروف بلوچ نے مزید ہدایت کی کہ تمام افسران چیف سیکریٹری آفس کی جانب سے مطلوبہ معلومات اور پریزینٹیشن کی تیاری میں مکمل تعاون کریں اور فراہم کردہ اہداف کے مطابق تفصیلات بروقت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی مجموعی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام ونگز اور سیکشنز کے درمیان باہمی رابطہ اور کوآرڈی نیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیں اور محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6950/2026
پسنی 25 اگست ۔: محکمہ تعلیم ضلع گوادر کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول پسنی میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر پروقار اور روح پرور تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خاص رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین تھے۔ تقریب میں طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تقریب میں پسنی کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سمیت اورماڑہ کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ طلبہ نے حمد، نعتِ رسولِ مقبول اور سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلووں پر تقاریر پیش کیں تقریری مقابلے کے لیے چار رکنی جیوری پینل تشکیل دیا گیا، جس میں مولانا امان اللہ، مولانا صغیر بلوچ، مولانا فقیر بشیر اور مولانا عبداللہ شامل تھے۔ نتائج کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول باغ بازار کی طالبہ خدیجہ نے پہلی، بوائز ہائی اسکول اورماڑہ کے طالب علم مصیب نے دوسری، جبکہ بوائز ہائی اسکول شپا نکو بازار کے طالب علم عاصم خان نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ قوالی پیش کرنے والی ٹیم کو خصوصی انعام دیا گیا تقریب میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباءو طالبات ضلع گوادر کی سطح پر محکمہ تعلیم کے زیرِ اہتمام مرکزی سیرت النبی ﷺ مقابلوں میں اپنے اداروں کی نمائندگی کریں گے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ نبی کریمﷺ کی مبارک زندگی پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور اسوہ حسنہ کا بہترین نمونہ ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔تقریب میں نظامت کے فرائض عابد دلمراد نے انجام دیے، جبکہ اختتام پر پرنسپل گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول پسنی حاجی مولا بخش نے تمام مہمانوں، اساتذہ، طلبا و طالبات اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6951/2026
کوئٹہ 25اگست ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن عبداللہ خان نورزئی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں بھرتیوں اور تعیناتیوں کا عمل مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے مطابق انجام دیا گیا ہے۔ اتھارٹی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت انسانی وسائل کی شمولیت سے ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید موثر، جدید اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں تکنیکی شعبے کے لیے انسپکٹرز، ٹیکس آڈیٹرز، سرویئرز، آئی ٹی سے متعلق افسران اور دیگر عملے کی تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ حکومت بلوچستان، بالخصوص وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی واضح پالیسی ہے کہ سرکاری ملازمتیں صرف میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت اہل امیدواروں کو فراہم کی جائیں، اسی وژن کے تحت بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے بھرتیوں کے پورے عمل میں میرٹ کو اولین ترجیح دی عبداللہ خان نورزئی نے بتایا کہ امیدواروں کی اہلیت جانچنے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے تحریری امتحان کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 468 امیدواروں نے شرکت کی تحریری امتحان میں مقررہ کوالیفائنگ مارکس حاصل کرنے والے 72 امیدوار اگلے مرحلے یعنی انٹرویوز کے لیے اہل قرار پائے، جبکہ حتمی مرحلے میں 21 امیدواروں کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا جس میں دو امیدواروں نے جوائننگ نہیں دی جبکہ 19 منتخب افسران کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے دست مبارک سے تقرری لیٹر دئیے جن سے انکی حوصلہ افزائی ہوئی انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے والے امیدوار اعلیٰ صلاحیت اور مختلف شعبوں میں خصوصی مہارت رکھنے والے انسانی وسائل پر مشتمل ہیں، جن میں معاشیات، شماریات، قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔ ان باصلاحیت نوجوان افسران کی شمولیت سے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ ہوگا اور ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے میرٹ کے ذریعے منتخب کیے گئے نئے افسران کی حوصلہ افزائی کے لیے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب منعقد کی جو حکومت کی میرٹ پر مبنی پالیسی اور باصلاحیت نوجوانوں پر اعتماد کا واضح اظہار ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے تعینات ہونے والے افسران اپنی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ ٹیکس کسی بھی معاشی نظام کی بنیاد ہوتا ہے، ٹیکس وصولی میں بہتری کے نتیجے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کوشش ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور صوبے کے ریونیو نظام کو زیادہ موثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے عبداللہ خان نورزئی نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں اصلاحات کے عمل میں گڈ گورننس، میرٹ بیسڈ ریکروٹمنٹ اور ڈیجیٹلائزیشن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے موثر استعمال، انسانی وسائل کی استعداد کار میں اضافے اور ٹیکس نظام میں شفافیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں اصلاحات کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور سیکرٹری خزانہ کی جانب سے بھرپور تعاون اور رہنمائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی سرپرستی سے ادارے کو جدید اور موثر ریونیو اتھارٹی بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور میرٹ پر مبنی انسانی وسائل کے ذریعے بلوچستان ریونیو اتھارٹی مستقبل قریب میں صوبے کے ریونیو میں اضافے، معاشی استحکام اور ترقیاتی عمل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ریونیو نظام ہی صوبے کے عوام کو بہتر سہولیات، زیادہ ترقیاتی مواقع اور پائیدار معاشی خوشحالی فراہم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6952/2026
جعفرآباد25گست ۔ جعفرآباد میں ماں کے دودھ کی اہمیت، افادیت اور نومولود بچوں کی بہتر صحت و نشوونما کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان تھے۔ سیمینار میں محکمہ صحت کے افسران، مختلف سرکاری محکموں کے نمائندگان، طبی ماہرین، خواتین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار کے دوران مقررین نے ماں کے دودھ کو بچے کے لیے قدرتی، مکمل اور بہترین غذا قرار دیتے ہوئے اس کے طبی فوائد اور بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں اس کے اہم کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ماں کا دودھ بچے کو مختلف بیماریوں اور انفیکشنز سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے جبکہ اس سے بچے کی قوت مدافعت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ ماں کا دودھ قدرت کی جانب سے نومولود بچے کے لیے بہترین تحفہ ہے، جس کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند بچوں سے قائم ہوتی ہے، اس لیے ماوں میں ماں کے دودھ کی اہمیت اور اس کے فوائد کے حوالے سے بھرپور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کی ابتدائی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کے استعمال سے بچوں کی صحت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں سے بچاو میں بھی مدد ملتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوام بالخصوص خواتین میں اس حوالے سے مزید شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور سیمینارز کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ ہر ماں اپنے بچے کو ماں کے دودھ کی نعمت سے بھرپور فائدہ پہنچا سکے۔ سیمینار کے اختتام پر شرکاءنے ماں کے دودھ کی اہمیت کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6953/2026
بارکھان24 اگست ۔: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان، خزانہ آفیسر، انچارج آر ٹی ایس ایم، ڈپٹی ڈی ای اوز اور یونین کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر بارکھان کو ضلع بھر کے سرکاری سکولوں کی صورتحال، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے مسلسل غیر حاضر رہنے والے بعض اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی، تنخواہوں میں کٹوتی اور دیگر ضروری اقدامات کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری سکولوں کی روزانہ کی بنیاد پر موثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور اساتذہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ غیر حاضر اساتذہ کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6954/2026
ہرنائی25اگست۔ ضلع ہرنائی میں امن و امان کی فضا کو بحال رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی نے رات کے وقت شہر کے مختلف حساس اور اہم مقامات کا سرپرائز دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے گشت پر مامور اہلکاروں کی حاضری، ناکہ بندیوں اور سکیورٹی کے مجموعی نقل و حرکت کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ایس پی ہرنائی نے ڈیوٹی پر موجود پولیس جوانوں سے ملاقات کی اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہمہ وقت چوکس اور الرٹ رہنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کی محافظ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری شہر میں امن و امان کا قیام ہے۔ انہوں نے اہلکاروں کو تاکید کی کہ شہر کی چوراہوں اور داخل و خارج کے راستوں پر مشکوک افراد اور غیر قانونی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور تلاشی کے عمل کو موثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ایس پی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی نے مزید کہا کہ پولیس فورس کا عزم عوام کی خدمت اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے افسران و جوانوں کو ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 24 گھنٹے تیار رہنے کی ہدایت کی تاکہ شہری ایک پرامن اور محفوظ ماحول میں زندگی بسر کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6955/2026
بارکھان24 اگست۔: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات، جاری صحت پروگرامز، طبی مراکز کی کارکردگی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بارکھان، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی بارکھان، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر بارکھان، اسسٹنٹ کمشنر بارکھان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع کے ڈی ایچ کیو، بی ایچ یوز اور دیگر بنیادی مراکزِ صحت کی کارکردگی، عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری و کارکردگی، جاری صحت پروگرامز اور مالی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اداروں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق بریفنگ بھی دی۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود رہ کر مراکزِ صحت کی موثر نگرانی کریں اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنائیں۔اجلاس میں طبی عملے کی حاضری کا خصوصی جائزہ لیتے ہوئے مختلف مراکزِ صحت میں غیر حاضر پائے جانے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی اور غیر حاضری کے ایام کی تنخواہوں سے کٹوتی کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے واضح کیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام طبی افسران و اہلکار اپنی حاضری یقینی بنائیں اور عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی سے گریز کریں، بصورتِ دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قواعد کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر ضلع بارکھان میں صحت کے نظام کو مزید موثر، فعال اور عوام دوست بنانے اور عوام کو بہتر و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6956/2026
موسیٰ خیل25اگست۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر موسیٰ خیل عبداللہ جان نے گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول طور خان کا دورہ کیا اور تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انھوں نے مختلف کلاس رومز کا دورہ کیا اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا طالب علموں سے نصابی سوالات کیے اور ان کی تعلیمی پیشرفت، پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیتوں کو پرکھا۔ ڈی ڈی ای او نے اساتذہ سے ملاقات کی، ان کے انتظامی و تعلیمی مسائل اور درپیش مشکلات کو تفصیل سے سنا اور ان کے حل کی یقین دہانی کروائی۔اس موقع پر عبداللہ جان نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کی معیاری تعلیم، اخلاقی تربیت اور سکول میں حاضری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بکار لائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6957/2026
ہرنائی 25اگست ۔ ڈسٹرکٹ پولیس ہرنائی نے جرائم پیشہ عناصر اور سارقین کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سال 2023ء میں چوری ہونے والا ٹریکٹر برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت اور موثر کارروائی سے علاقے کے شہریوں اور خصوصاً نجی و زراعت سے وابستہ حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے ایس پی پولیس ہرنائی، انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کی سخت ہدایات کی روشنی میں ضلع بھر میں امن و امان کے قیام اور چوری کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ وار پیشرفت کے تحت ایس ایچ او پولیس تھانہ ڈیلکونہ، ملک حبیب اللہ ترین نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سرتوڑ کوششیں اور شواہد کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے 2023ءمیں چوری ہونے والے ٹریکٹر کا سراغ لگا کر اسے کامیاب عملیاتی اقدام کے بعد برآمد کر لیا۔اس کامیاب کارروائی پر ضلع ہرنائی کے مختلف عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس اور بالخصوص ایس ایچ او ڈیلکونہ ملک حبیب اللہ ترین کی پیشہ ورانہ صلاحیات اور ٹیم ورک کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ پولیس کے اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کے مال و اسباب کا تحفظ یقینی ہوا ہے بلکہ خطے میں پولیس پر شہریوں کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عوامی و سماجی نمائندوں نے ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر، چوروں اور امن دشمنوں کے خلاف اس نوعیت کی بلا تفریق اور سخت کارروائیاں مستقبل میں بھی اسی جذبے سے جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6958/2026
ساوتھ ڈیرہ بگٹی/سوئی 25 اگست .ڈپٹی کمشنر ساوتھ ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق کی زیرِ صدارت تحصیل سوئی میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن کمیٹی (DICC) کا اجلاس منعقد ہوا، جبکہ ساوتھ ڈیرہ بگٹی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی زیرِ صدارت DICC اجلاس منعقد ہوا۔اجلاسوں میں ماہِ ربیع الاول کے بابرکت مہینے اور 26 اگست کے حوالے سے علاقے میں امن و امان اور سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران 26 اگست کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے جامع لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ ماہِ ربیع الاول کے دوران ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں منعقد ہونے والی محافل اور نکالے جانے والے جلوسوں کے روٹس سمیت دیگر اہم مقامات کی سیکیورٹی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جلوسوں اور محافل کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر ساوتھ ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق نے کہا کہ ماہِ ربیع الاول کے دوران تمام جلوسوں اور محافل کے لیے جامع اور مربوط سیکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا ہے، جس پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطہ کاری کو مزید موثر بنایا جائے اور جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی، صفائی ستھرائی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6959/2026
موسیٰ خیل 25اگست۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر خان ڈسٹرکٹ سپرینٹنڈنٹ ویکسینیشن گل داد جعفر اور اسسٹنٹ سپرینٹنڈنٹ ویکسینیشن شیر زمان نے تحصیل درگ کی مختلف یونین کونسلز کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران آر ایچ سی درگ بنیادی مراکز صحت کرکنہ اور گڑگوجی کا خصوصی معائنہ کیا گیا۔دورے کا مقصد EPI سائٹس پر عملے کی حاضری، آئی ایل آر کی مینٹیننس، ویکسین اسٹاک، کولڈ چین اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینا تھا۔ مستقل رجسٹر، اسٹاک رجسٹر اور دیگر ضروری دستاویزات بھی چیک کیے گئے تاکہ ای پی آئی سرگرمیاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق چلیں۔اس کے ساتھ جاری 16 روزہ آوٹ ریچ سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فیلڈ میں ویکسینیٹرز کی حاضری، بچوں کا فالو اپ، ویکسین کارڈز اور ویکسینیشن کی صورتحال دیکھی گئی۔ ویکسینیٹرز کو ہدایت کی گئی کہ کولڈ چین ہر صورت برقرار رکھیں، ویکسین کی مناسب نگہداشت کریں اور زیرو ڈوز و ڈیفالٹر بچوں پر خصوصی توجہ دے کر ان کی بروقت ویکسینیشن مکمل کریں۔دورانِ دورہ والدین اور کمیونٹی کو ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ زور دیا گیا کہ رہ جانے والے بچوں تک رسائی مزید بہتر بنائی جائے تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے۔آخر میں ڈی ایس وی اور اے ایس وی کو ہدایت کی گئی کہ فیلڈ اور ای پی آئی مراکز کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں۔ کسی قسم کی کوتاہی یا انتظامی کمی کو فوری دور کیا جائے اور بچوں کو معیاری ویکسینیشن کی سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6960/2026
ہرنائی25اگست۔:گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان (ہرنائی) کے ایک اہم وفد نے ضلعی صدر صاحب جان ترین اور سرپرستِ اعلیٰ صالح محمد بنگلزئی کی قیادت میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین سے ان کے دفتر میں ایک خاص ملاقات کی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ محمد اسرار شاہوانی بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران جی ٹی اے بی کے رہنماوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین کی شاندار عوامی خدمات، بہترین رویے اور فرض شناسی کو زبردست الفاظ میں سراہا صدر صاحب جان ترین کا کہنا تھا کہ اے ڈی سی سلیم ترین کے دفتر میں آنے والے ہر سائل کو مکمل عزت و احترام دیا جاتا ہے۔ ان کی نرم گفتاری اور شائستہ رویہ عوام کے دل جیت رہا ہے رہنماوں نے کہا کہ محمد سلیم ترین علاقے کے پیچیدہ قبائلی اور عوامی مسائل سے نہ صرف بخوبی واقف ہیں، بلکہ ان کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات یقینی بناتے ہیں جی ٹی اے بی کے وفد نے ان کے مسئلہ حل کرنے کے جذبے کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی اسی خلوص اور جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6961/2026
حب 25اگست ۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہریوں کو صحت کے سہولیات ان کے دہلیز تک پہنچانے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو بیہرا اور بی ایچ یو ڈام کا مانیٹرنگ دورہ کیا، جہاں انہوں نے بنیادی مراکز صحت کی معمول کی سرگرمیوں، عملے کی حاضری اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے ادویات کے اسٹاک، کولڈ چین، سروس ڈیلیوری، ڈیٹا کے معیار اور عملے کی کارکردگی کا معائنہ کیا، جبکہ طبی عملے کو مو¿ثر خدمات کی فراہمی مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری رہنمائی بھی فراہم کی۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے مراکز صحت میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے موقع پر ہی متعلقہ امور کے حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی، بنیادی مراکز صحت کی موثر فعالیت اور سروس ڈیلیوری میں بہتری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6962/2026
ہرنائی 25اگست ۔ ضلعی انتظامیہ ہرنائی کی جانب سے عوام الناس کے درپیش مسائل کی براہِ راست شنواہٹ اور ان کے فوری تدارک کے لیے ‘ڈپٹی کمشنر کمپلیکس ہرنائی’ میں ایک پروقار کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کی۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد عام شہریوں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان حائل دوریاں ختم کرنا اور عوامی شکایات کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کرنا تھا۔اس موقع پر سول، عسکری اور پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک پیج پر نظر آتے ہوئے عوامی مسائل سنے۔ کھلی کچہری میں ایف سی ہرنائی (81 ونگ) کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ارباب علی خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین، ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھاکرانی اور اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی اسرار احمد شاھوانی نے بالخصوص شرکت کی۔ ان کے علاوہ تمام سرکاری محکموں کے آفیسران، علاقے کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات، معتبر قبائلی عمائدین اور مذہبی رہنماوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔کچہری کے دوران علاقے کے لوگوں نے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، انفراسٹرکچر اور امن و امان سے متعلق اپنے درپیش مسائل اور درپیش مشکلات کو تفصیلاً حکام کے سامنے رکھا۔ ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے شہریوں کے مسائل توجہ سے سنے اور متوقع محکموں کے افسران کو متعدد مسائل پر موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ علاقے کی ترقی اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کھلی کچہریوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ گڈ گورننس کے ثمرات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ سکیں۔ تقریب کے اختتام پر سیاسی و قبائلی عمائدین نے ضلعی انتظامیہ کے اس عوام دوست اقدام کی شدید سراہنا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6963/2026
کوئٹہ25 اگست ۔ضلع زیارت میں منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر دہشت گرد حملے اور پولیس اہلکاروں کی قیمتی جانوں کے المناک نقصان کے حوالے سے عدالتی انکوائریمندرجہ بالا موضوع کے حوالے سے مطلع کیا جاتا ہے کہ مورخہ 24.08.2026 کو معزز انکوائری کمیشن، جو ضلع زیارت میں منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر دہشت گرد حملے اور پولیس اہلکاروں کی قیمتی جانوں کے المناک نقصان کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، نے ایک حکم جاری کیا ہے، جو معلومات اور ضروری کارروائی کے لیے منسلک ہے۔2۔ معزز کمیشن کے حکم کی روشنی میں معلومات/شہادتیں جمع کرانے اور رجسٹریشن کے لیے مقررہ آخری تاریخ، یعنی 28.08.2026 کو دفتری اوقات کے دوران، بڑھا کر 03.09.2026 دفتری اوقات تک کر دیا گیا ہے۔اس مدت کے دوران تمام متعلقہ افراد، خواہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، بشمول شہید پولیس اہلکاروں کے قانونی ورثاء/قریبی رشتہ دار، زخمی افراد، نیز عام عوام میں سے وہ تمام اشخاص جن کے پاس مذکورہ واقعہ/حملے سے متعلق کوئی معلومات موجود ہوں، بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افسران جو مذکورہ واقعے کے وقت کسی ڈیوٹی پر مامور یا کسی بھی حیثیت سے متعلق تھے، نیز ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں کے افسران، اور دیگر تمام دلچسپی رکھنے والے افراد جن کے پاس کوئی معلومات، ٹھوس مواد یا شواہد موجود ہوں یا جو کسی متعلقہ حقیقت کے بارے میں بیان ریکارڈ کرانا چاہتے ہوں، انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے نام اور مکمل کوائف، موجودہ و مستقل پتہ، رابطہ نمبر اور شناختی کارڈ (CNIC) کی نقل کے ساتھ رجسٹرار/سیکریٹری، انکوائری کمیشن کے دفتر میں، جو احاطہ ہائی کورٹ ہالی روڈ، کوئٹہ میں واقع ہے، حاضر ہو کر اپنا نام رجسٹر کروائیں، تاکہ ان کی فراہم کردہ معلومات/مواد معزز انکوائری کمیشن کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6964/2026
کوئٹہ25اگست ۔ صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے 12 ربیع الاول، عید میلاد النبی ﷺکے موقع پر پوری امتِ مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے محبت، امن، بھائی چارے، برداشت، عدل و انصاف اور انسانیت کی خدمت کا عملی نمونہ ہے۔ آپﷺ نے انسانوں کو رنگ، نسل، زبان اور قبیلے کے امتیاز سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے اور امن و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیا۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ 12 ربیع الاول ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے۔ معاشرے میں محبت، رواداری، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہی نبی کریم ﷺ سے حقیقی محبت کا تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بابرکت موقع پر ہمیں ملک و قوم کی ترقی، امن و استحکام اور بلوچستان کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے اور ہمیں نبی کریمﷺکی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6965/2026
کوئٹہ 25 اگست ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے 12 ربیع الاول کے مبارک دن اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد دراصل بنی آدم اور پوری کائنات کو اس کے اصل روح کے مطابق چلانا اور دوام بخشنا تھا۔انہوں نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو وجہ کائنات کا شرف بخشتے ہوئے ان کی حیات طیبہ کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا زینہ قرار دیا گیا ہے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ 12 ربیع الاول کا دن ہمیں اپنی زندگیوں کو کی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا درس دیتا ہے۔ اس دن کا اصل مقصد یہ عہد کرنا ہے کہ ہم عملی زندگی میں نبی کریم ﷺ کے اخلاق، کردار اور فرمودات پر عمل پیرا ہوکر حقوق اللّٰہ کے ساتھ حقوق العباد کی پاسداری میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی دنیا کے لیے سراپا رحمت تھی، اس لیے ہمیں بھی معاشرے میں امن و سلامتی، بھائی چارہ اور رواداری کی فضاء قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس مبارک مہینے اور دن میں کثرت سے درود و سلام بھیجنا حضورﷺسے سچی محبت اور عقیدت کا عملی اظہار ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اعمال اور اخلاق کا جائزہ لینے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69662026
کوئٹ25 اگست۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی زیرِ صدارت صوبے میں جاری وفاقی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ مختلف منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ نے صوبے میں جاری تمام وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت منصوبوں کی تکمیل کے لیے مقررہ ٹائم فریم درپیش مالی و تکنیکی مشکلات اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر سیکریٹری مواصلات وتعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی اور ترقی کے عمل میں ایک نئی رفتار پیدا ہوگی انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے ان منصوبوں پر پیش رفت کا تسلسل کے ساتھ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مزید کہا کہ منصوبوں کی راہ میں حائل مالی یا تکنیکی نوعیت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا اور انہیں تکمیل کی جانب لے جانا قابلِ تحسین اقدام ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وفاقی منصوبوں پر کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبے صوبے کے عوام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی تکمیل سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو سفری سہولیات کے حوالے سے درپیش مشکلات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے لیے اہم نوعیت کے متعدد منصوبے فراہم کیے گئے ہیں جن سے صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو فروغ ملے گا صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنائیں اور ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر عملی جامہ پہنانے کے لیے موثر حکمتِ عملی اختیار کریں انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کی ترقی اور عوام کو بہتر سفری و بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے جبکہ وفاقی منصوبوں کی بروقت تکمیل اس سلسلے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69672026
کوئٹہ، 25 اگست ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے سرکاری ملازمتوں میں شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ہیں، بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں 19 افسران کی بھرتی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے اور اس عمل میں کسی قسم کی سفارش یا دباو کو قبول نہیں کیا گیا ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے روزِ اول سے واضح کر رکھا ہے کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہوں گی اور نوجوانوں کو ان کا حق صرف میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ اسی پالیسی کے تحت محکمہ تعلیم میں 4,500 اور محکمہ خزانہ میں 111 آسامیوں پر بھی شفاف اور میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں 19 افسران کی حالیہ تقرریاں بھی اسی میرٹ پر مبنی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ ان بھرتیوں میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے آبائی ضلع سے ایک بھی امیدوار کا کامیاب نہ ہونا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بھرتی کے عمل میں کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت نہیں کی گئی۔شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا مقصد نوجوانوں کو محض سرکاری ملازمتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر نوجوان کو اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا یکساں موقع حاصل ہو۔ میرٹ پر ہونے والی بھرتیاں اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بحال کریں گی۔معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں سفارش اور اقربا پروری کے تاثر نے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کی، تاہم موجودہ حکومت اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ سرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ اہل اور حقدار نوجوانوں کا حق ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی جیسے اہم ادارے میں اہل اور قابل افسران کی شفاف طریقے سے تعیناتی صوبے کی معاشی اور انتظامی بہتری کے لیے بھی اہم ہے۔ میرٹ پر بھرتی ہونے والے نوجوان افسران اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبے کی ترقی، محصولات میں بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات میں موثر کردار ادا کریں گے شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان میرٹوکریسی، شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں پر کاربند ہے اور آئندہ بھی سرکاری بھرتیوں میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان بلوچستان کا مستقبل ہیں اور حکومت انہیں باعزت روزگار، ترقی کے مساوی مواقع اور اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بالادستی ہی ایک مضبوط، شفاف اور باصلاحیت بلوچستان کی بنیاد ہے، اور حکومت اس اصول پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69682026
کوئٹہ، 25 اگست .۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے میرٹ پر مبنی تقرریوں کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں ٹیکس انسپکٹرز، ٹیکس آڈیٹرز، سروےئرز اور آئی ٹی افسران کی بھرتی کا عمل انتہائی شفاف انداز میں مکمل کر لیا گیا۔اس عمل کو صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی اور چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی مکمل معاونت حاصل رہی۔ چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور ان کی ٹیم نے ایک جامع اور میرٹ پر مبنی بھرتی کے فریم ورک کے تحت نئے افسران کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا۔مسابقتی اور شفاف عمل کو یقینی بنانے کیلئے امیدواروں کا تحریری امتحان ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے آزادانہ طور پر منعقد کیا گیا۔نئے باصلاحیت افسران کی شمولیت سے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی انتظامی، فیلڈ اور آپریشنل استعداد میں نمایاں بہتری متوقع ہے، جس سے صوبے کے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والے محصولات میں اضافے میں بھی مدد ملے گی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے میں ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے، تمام قابلِ ٹیکس کاروباری سرگرمیوں اور خدمات کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور مساوات، شفافیت اور معاشی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے بلوچستان کی پائیدار ترقی کیلئے محصولات میں اضافہ یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69692026
لورالائی25اگست ۔: ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جیل خانہ جات بلوچستان ضیاء اللہ ترین نے سیکرٹری آبپاشی حکومتِ بلوچستان سہیل الرحمن سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی اور مختلف انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاملاقات کے دوران دونوں افسران نے مختلف محکمانہ معاملات، اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صوبے میں جاری سرکاری امور اور عوامی مفاد سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو ہوئی ملاقات میں ایکسین پی ایچ ای جناب شکیل بلوچ، جناب احمد درانی، محکمہ آبپاشی کے ایس او جناب انجم بشیر اور کوئٹہ ڈویژن کے ایس ڈی او آبپاشی محراب بھی موجود تھےڈی آئی جی جیل خانہ جات ضیاءاللہ ترین اور سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف سرکاری محکموں کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون انتظامی امور کی بہتر انجام دہی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی سطح پر روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیااس موقع پر شرکاءنے محکمانہ امور سے متعلق اپنے تجربات اور تجاویز بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے۔ ملاقات میں مختلف امور پر مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی جبکہ مستقبل میں بھی باہمی رابطے اور تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ملاقات کے دوران دوستانہ ماحول برقرار رہا اور شرکاء نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے اختتام پر ڈی آئی جی جیل خانہ جات ضیاء اللہ ترین نے سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن کا شکریہ ادا کیا، جبکہ سیکرٹری آبپاشی نے بھی ان کی آمد کو خوش آئند قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69702026
خضدار: 25اگست ۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت (PSDP) کمیٹی 2025 اور 2026 کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خضدار ڈویڑن کے متعلقہ محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں بالخصوص (PSDP) فیز ٹو اور فیز3 کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر متعلقہ افسران کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنایا جائے اور منصوبوں کو شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیا جائے۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی بھی نشاندہی کی جائے جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانے اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69712026
خضدار 25 اگست۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی سے جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے پرنسپل ڈاکٹر ارشاد احمد کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں کالج کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پرنسپل جے ایم سی ڈاکٹر ارشاد احمد نے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کو جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی تعلیمی کارکردگی اور جاری پیش رفت و طلباء کو درپیش تعلیمی اور انتظامی مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ڈاکٹر ارشاد احمد نے کمشنر خضدارڈویژن کو بتایا کہ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کا منصوبہ ہے جہاں کالج کا مستقل کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا۔ اس پر بعض معاملات کی وجہ سے تعمیراتی کام رکا ہوا ہے۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ضلع کے تمام تعلیمی ادارے بہتر انداز میں فعال ہوں۔ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کو ضروری سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ یہاں کے طلباء ڈاکٹریٹ کی بہترین تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کو ماڈل ادارہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کا کہنا تھا کہ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کا شہر میں پولیس لائن کے ساتھ واقع ہاسٹل سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام سے طلباءکو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران بھی سہولت میسر ہوگی اور وہ بہتر انداز میں مطالعہ کر سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے ایم سی کالج خضدار کو فلش فائبر سے جلد منسلک کیا جائے گا بالخصوص تعلیمی اداروں کو جدید کمیونیکیشن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے حوالے سے پی ٹی سی ایل کے ذمہ داران سے بات چیت کیا جائے گا اور جلد ہی اس پر عمل درامد کو یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کی طلباء کو ریسرچ ان لائن لائبریری اور بین الاقوامی میڈیکل جرنلز تک رسائی کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ ناگزیر ہے اس کے علاوہ کالج کے ملازمین کے بائیو میٹرک حاضری اور ان لائن ریکارڈ کے نظام کو بھی اس سے فعال کیا جائے گا جس سے شفافیت اور تعلیم کے معیار میں بہتری ائے گی میں سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ کیمپس میں سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور کالج کی ناہموار زمین کو ہموار کیا جائے گا تاکہ طلباء اور فیکلٹی ممبرز کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پرنسپل ڈاکٹر ارشاد احمد نے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انتظامیہ کے تعاون سے جھالاوان میڈیکل کالج کو مزید تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69722026
کوئٹہ 25اگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ایسٹ مہر اللہ بادینی کی زیر صدارت ایف آئی پی وی / او پی وی پولیو کمپین کے حوالے سے اہم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 31 اگست سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے دوران اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے اور ویکسین پلانے کے حوالے سے انتظامات اور حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سرکاری و نجی اسکولوں اور مدارس میں پولیو مہم کے مو¿ثر انعقاد کے لیے جامع پلان مرتب کیا گیا، جبکہ پولیو ٹیموں کے ساتھ محکمہ تعلیم، مدارس اور نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسکولوں اور مدارس میں پولیو ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے اور والدین، اساتذہ اور طلبہ میں پولیو ویکسین کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے۔اجلاس میں پولیو مہم کے دوران بچوں کی زیادہ سے زیادہ کوریج، ٹیموں کی نگرانی، اسکولوں اور مدارس میں بروقت رسائی، والدین کے تحفظات دور کرنے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کے امور بھی زیرِ غور آئے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، وفاق المدارس کے نمائندے، محکمہ تعلیم کے نمائندگان، پرائیویٹ اسکولز کے نمائندے، پولیو حکام، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ اور تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69732026
سوئی 25 اگست ۔ اسسٹنٹ کمشنر سوئی سید منصور علی شاہ کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاول، جشنِ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی اور انتظامی ترتیبات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دعوتِ اسلامی، تحریک لبیک پاکستان، انجمن تاجران کے نمائندگان، پولیس حکام، اسسٹنٹ مینیجر آپریشنز پبلک ویلفیئر ہسپتال اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں 12 ربیع الاول کے مرکزی جلوس کے مقررہ روٹس، سیکیورٹی انتظامات، صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے اور طبی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر سوئی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جلوس کے تمام راستوں پر صفائی کے بہترین انتظامات، تجاوزات کا فوری خاتمہ اور فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے پبلک ویلفیئر ہسپتال انتظامیہ کو جلوس کے روز ہنگامی طبی سہولیات اور ایمبولینس سروس کو الرٹ رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں تمام مذہبی و تجارتی تنظیموں نے عید میلاد النبی ﷺکے موقع پر مذہبی احترام، بھائی چارے، امن و امان اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69742026
دکی 25اگست ۔: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاول کے موقع پر منعقد ہونے والے جلوس اور دیگر مذہبی پروگراموں کے لیے سکیورٹی و انتظامی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی دکی منصور احمد بزدار، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سمندر خان ناصر، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈاکٹر جوہر شادوزئی اور میلاد کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس کے دوران 12 ربیع الاول کے موقع پر منعقد ہونے والے جلوس کے روٹس، سکیورٹی انتظامات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر ضروری انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جلوس اور مذہبی پروگراموں کے دوران عوام کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور تمام انتظامات کو بروقت مکمل کیا جائے۔انہوں نے سکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان موثر رابطہ کاری، جلوس کے روٹس پر مناسب سکیورٹی انتظامات اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے مذہبی پروگراموں کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69752026
دکی:25اگست ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سید امیر شاہ بخاری، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبد الباقی، آر ٹی ایس ایم ہیڈ محمد جمیل ناصر اوردیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ DEG اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد، غیر حاضر تدریسی و غیر تدریسی عملے، فیلڈ وزٹ رپورٹس، فعال و بند اسکولوں، RTSM رپورٹ اور تدریسی و غیر تدریسی منظور شدہ، پر اور خالی آسامیوں کی تفصیلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال، اساتذہ و عملے کی حاضری اور بند اسکولوں سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے، غیر حاضر اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور بند اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے اور تعلیمی اداروں کی صورتحال سے متعلق رپورٹس بروقت پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69762026
شیرانی25اگست ۔: ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ضلع شیرانی کے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی و انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کے سربراہان، ضلعی افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے آغاز میں مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں، ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی خدمات اور انتظامی امور سے متعلق تفصیلی پروگریس رپورٹس پیش کیں۔ افسران نے اپنے محکموں کو درپیش مسائل، دستیاب وسائل اور جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیاڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے پیش کی جانے والی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مختلف محکموں کی کارکردگی، منصوبوں کی رفتار اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں متعلقہ افسران سے بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری امور کی انجام دہی میں شفافیت، میرٹ اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سرکاری سہولیات کی فراہمی اور ضلع میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے، اس لیے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس باہمی رابطے اور موثر حکمتِ عملی کے تحت اپنے فرائض انجام دیں ڈپٹی کمشنر نے جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور تعمیراتی کاموں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ سرکاری وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہوں اجلاس میں عوامی مسائل کے فوری ازالے، سرکاری اداروں میں نظم و ضبط، افسران و اہلکاروں کی حاضری، عوامی شکایات کے بروقت حل اور محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیاکلیم اللہ کاکڑ نے کہا کہ افسران عوام کے خادم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں اور لوگوں کو سرکاری دفاتر میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے موثر اقدامات کریں اور جاری منصوبوں و سرگرمیوں کی پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو باقاعدگی سے آگاہ کرتے رہیں انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، سرکاری امور میں غفلت اور عوامی مسائل کے حل میں سستی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ شیرانی عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ضلع کی مجموعی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہےاجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں تاکہ ضلع شیرانی میں جاری ترقیاتی و انتظامی سرگرمیوں کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69772026
دکی:25اگست ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمٰن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے دکی بازار کا دورہ کرتے ہوئے مختلف کھاد سیلرز اور زرعی ادویات کی دکانوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر محکمہ زراعت ضلع دکی کے فوکل پرسن ادریس خان بھی ان کے ہمراہ تھےمعائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت کھاد کی خرید و فروخت پر عائد پابندی اور مقررہ ضوابط پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ کارروائی کے دوران بعض کھاد فروشوں کی جانب سے حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا، جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد دکانیں سیل کر دیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال نے کھاد فروشوں کو واضح ہدایت کی کہ حکومتی احکامات اور محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ مدت کے دوران کھاد کی خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی یا سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ، کھاد کی منصفانہ فراہمی اور مارکیٹ میں حکومتی نرخوں و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ کھاد ایک اہم زرعی ضرورت ہے اور اس کی غیر قانونی فروخت، ذخیرہ اندوزی یا مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی سے نہ صرف کاشتکار متاثر ہوتے ہیں بلکہ زرعی شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہےاسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بازاروں میں کھاد کی خرید و فروخت کی مسلسل نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے اہلکاروں پر بھی زور دیا کہ وہ مارکیٹ میں موجود کھاد کے اسٹاک، سیلرز کے ریکارڈ اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال جاری رکھیں۔انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ دکی میں قانون و ضابطے کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے کھاد فروشوں اور دیگر کاروباری افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ مقررہ قوانین و ضوابط کی پابندی کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی مفاد میں مارکیٹوں کی نگرانی اور سرکاری نرخ ناموں و متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 69782026
سوئی/ ساوتھ ڈیرہ بگٹی 25 اگست۔ سیوی سے تبادلے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر سوئی منصور علی شاہ نے اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھال لیا اور باقاعدہ طور پر فرائض منصبی کی ادائیگی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل، سرکاری امور کی بروقت انجام دہی اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69792026
دکی:25اگست ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال دکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، عملے کی حاضری اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف وارڈز اور شعبہ جات کا دورہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ہسپتال میں موجود ادویات اور ضروری طبی سامان کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا جبکہ مریضوں اور ان کے لواحقین سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے دریافت کیاڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہسپتال کے عملے کی حاضری چیک کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین اپنی ڈیوٹی پر بروقت موجود رہیں اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال کے تمام وارڈز، گیلریوں، واش رومز اور اطراف کے علاقوں میں صفائی کے موثر اور مستقل انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صاف ستھرا اور صحت بخش ماحول مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے انتہائی ضروری ہےبعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں زیرِ تعمیر آپریشن تھیٹر کا بھی معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے بریفنگ لی اور ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مقررہ معیار اور فنی تقاضوں کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ آپریشن تھیٹر کو فعال کرکے عوام کو سرجری کی بہتر اور بروقت سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو ادویات، تشخیص، علاج اور دیگر ضروری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دی جائے اور ہسپتال کے انتظامی و طبی امور کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ عوام کو معیاری، بروقت اور موثر صحت کی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ سرکاری ہسپتال عوام کو بنیادی اور ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے ان کے انتظامی معاملات، صفائی، ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہےانہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال میں طبی خدمات، صفائی ستھرائی، عملے کی حاضری اور مریضوں کی دیکھ بھال سمیت کسی بھی معاملے میں غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد میں تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہسپتال کی کارکردگی اور سہولیات میں مزید بہتری لائی جائےڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ دکی عوام کو صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی اور سرکاری اداروں میں عوام کو درپیش مسائل کے فوری ازالے اور سہولیات کی بہتری کے لیے نگرانی کا عمل مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر69802026
لسبیلہ 24اگست ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیرصدارت ضلع لسبیلہ کے مختلف محکموں کے ملازمین کے محکمانہ ریکارڈ اور سیف سسٹم میں تاریخ پیدائش کے غلط اندراج کی درستگی کے حوالے سے ایک اہم کمیٹی میٹنگ منعقد ہوئی۔اجلاس میں مختلف محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ شرکاء میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سید فریداللہ شاہ ہاشمی، ایم ایس سول ہسپتال بیلہ ڈاکٹر عبدالحیکم ،ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر لسبیلہ کامران یونس، DSP سید راحق شاہ، ویٹنری آفیسرڈاکٹر عبداللہ خان، ڈپٹی سپرینٹنڈینٹ ڈی سی آفس سلیم اللہ رونجھا،حضور بخش کھوسہ شامل تھے۔میٹنگ کا مقصد پولیس، ہیلتھ اور لائیواسٹاک محکموں کے ملازمین کے سروس ریکارڈ میں تاریخ پیدائش کی غلطیوں کو فوری طور پر درست کرنا تھا، تاکہ ریٹائرمنٹ، پنشن اور دیگر سروس بینیفٹس کے معاملات میں ملازمین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 69812026
سیوی 25 اگست ۔اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی کی زیر صدارت پی پی ایچ آئی ڈسٹرکٹ آفس سیوی میں ماہانہ جائزہ اجلاس (MRM) منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کی کارکردگی، صحت کی سہولیات کی فراہمی اور رپورٹنگ کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالقادر ہارون، اے ڈی ایچ او ڈاکٹر ذیشان بشیر، ایم اینڈ ای آفیسر لالہ صمد خان عثمانی، اے کیو یو ارسلان لاشاری، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی محمد شعیب، ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر حاجی خان اور تمام بی ایچ یو انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اجلاس میں تمام بنیادی مراکزِ صحت میں عملے کی حاضری، DHIS-2 رپورٹنگ، قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش نگہداشت، صحت سے متعلق ریکارڈ کی بروقت تکمیل و درستگی، ملیریا کی اسکریننگ کے لیے RDTs کے موثر استعمال اور خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان نے ہدایت کی کہ تمام بی ایچ یو انچارجز حاضری اور رپورٹنگ کے مقررہ نظام پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، ریکارڈ کو مکمل اور تازہ ترین رکھیں اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔اجلاس میں رپورٹنگ کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے لیے اصلاحی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے صحت کے شعبے میں کارکردگی کے اشاریوں (KPIs) کو مزید بہتر بنانے اور ضلع سیوی میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6982/2026
نصیرآباد12اگست ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت 12 ربیع الاول، جشنِ عید میلاد النبیﷺ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، علماءکرام، مذہبی شخصیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران 12 ربیع الاول کے موقع پر ضلع بھر میں منعقد ہونے والی محافلِ میلاد، جلوسوں اور دیگر مذہبی پروگراموں کے انتظامات سیکیورٹی، صفائی ستھرائی ٹریفک کی روانی، بجلی کی فراہمی اور دیگر ضروری امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے سیکیورٹی کے موثر انتظامات، جلوسوں کے روٹس پر صفائی ستھرائی، ٹریفک کی روانی اور دیگر انتظامی امور کو یقینی بنانے پر زور دیاانہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اور بابرکت دن ہے اس موقع پر امن و امان برقرار رکھنا اور تمام مذہبی پروگراموں کے لیے بہترین انتظامات کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اجلاس میں علماءکرام نے ضلعی انتظامیہ کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی امن و امان اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے علماء کرام اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اجلاس کے اختتام پر 12 ربیع الاول کے حوالے سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے اور متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6983/2026
نصیرآباد25اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کو انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر احمد بخش ابڑو نے بینظیر نشونما پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ کے دوران پروگرام کے اغراض و مقاصد طریقہ کار اور ضلع نصیرآباد میں اس کے تحت جاری سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر احمد بخش ابڑو نے بتایا کہ بینظیر نشونما پروگرام کا بنیادی مقصد حاملہ خواتین دودھ پلانے والی ماوں اور کم عمر بچوں میں غذائی کمی کو دور کرنا، ماں اور بچے کی صحت و نشوونما کو بہتر بنانا اور خاندانوں میں متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے انہوں نے پروگرام کے تحت مستحق خواتین اور بچوں کو فراہم کی جانے والی غذائی معاونت صحت سے متعلق سہولیات غذائیت کے حوالے سے رہنمائی اور آگاہی سرگرمیوں کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کیںانہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام کے ذریعے حاملہ خواتین کو دورانِ حمل مناسب غذائیت صحت کی دیکھ بھال اور ضروری احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے جبکہ دودھ پلانے والی ماوں کو بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے متوازن غذا، ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت اور دیگر ضروری امور کے بارے میں رہنمائی دی جاتی ہے۔ کم عمر بچوں کی غذائی ضروریات، جسمانی نشوونما اور صحت کی بہتری کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ ماں اور بچے کی بہتر صحت معاشرے کی مجموعی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ بینظیر نشونما پروگرام کے ثمرات مستحق افراد تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور پروگرام کے حوالے سے عوام میں بھرپور آگاہی پیدا کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے استفادہ کر سکیںڈپٹی کمشنر نے متعلقہ نمائندگان کو ہدایت کی کہ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات، غذائی معاونت اور آگاہی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور دور دراز علاقوں میں بھی مستحق خواتین اور بچوں تک پروگرام کی رسائی کو مزید بہتر بنایا جائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس کے نمائندہ و فوکل پرسن یونس رضا اور میڈم حنا بھی موجود تھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6984/2026
ہرنائی 25اگست ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے بازار ہرنائی کا تفصیلی دورہ کیا دورے کا بنیادی مقصد عوام الناس کو بنیادی اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر فراہمی، تجاوزات کے خاتمے اور بازار میں صفائی ستھرائی کے معوجی امور کو یقینی بنانا تھا معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر خوست نے سبزی و پھل منڈی، گوشت کی دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے نرخ ناموں کی پڑتال کرتے ہوئے تمام دکانداروں کو سخت ہدایت کی کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ریٹ لسٹ کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور کسی بھی صورت میں مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی نہ کریں۔اس موقع پر انہوں نے قصابوں کو خاص طور پر ہدایت کی کہ وہ دکانوں میں معیار اور صفائی کا خاص خیال رکھیں اور گوشت کو جراثیم و دھول سے بچانے کے لیے ہر وقت ڈھانپ کر رکھیں۔ مزید برآں، انہوں نے بازار میں قائم تجاوزات کا بھی جائزہ لیا تاکہ آمدورفت اور ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔اسسٹنٹ کمشنر خوست نے واضح کیا کہ عوام کو گرانفروشی اور ملاوٹ سے بچانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ تمام تاجر اور دکاندار انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں؛ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، گرانفروشی اور عدم صفائی پر ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6985/2026
مچھ، 25 اگست۔ : انسپکٹریٹ آف مائنز مچھ میں آج مورخہ 25 اگست 2026 کو مچھ کول فیلڈ میں مائن سیفٹی قوانین کے موثر نفاذ، کان کنوں کے تحفظ اور حفاظتی معیار میں مزید بہتری کے حوالے سے مائن مالکان، مائن منیجرز، مائن سرداروں، ریزنگ کنٹریکٹرز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی، الیکٹرک انسپکٹر آف مائنز مچھ عارف حسین عمرانی اور جونیئر انسپکٹر آف مائنز مچھ محمد اسامہ نے شرکائ کو مائن سیفٹی قوانین، حفاظتی انتظامات، برقی تحفظ اور کان کنوں کے تحفظ سے متعلق قانونی تقاضوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ اور تربیت فراہم کی۔ اس موقع پر مچھ کول فیلڈ میں مائن سیفٹی کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، بالخصوص حفاظتی انتظامات، کان کنوں کی حاضری اور ریکارڈ، صحت و طبی سہولیات کے موثر انتظامات، مناسب وینٹیلیشن، برقی نظام کی حفاظت، ریسکیو سہولیات، فرسٹ ایڈ، حفاظتی آلات کی دستیابی، مائن انسپکشن، تربیت یافتہ افرادی قوت اور دیگر متعلقہ قانونی تقاضوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مائن مالکان، مائن منیجرز اور دیگر ذمہ داران مائنز میں حفاظتی قوانین اور محکمہ مائنز کی جانب سے وضع کردہ قواعد و ضوابط پر مکمل اور موثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں کارکنوں کی باقاعدہ سیفٹی ٹریننگ، حاضری و ریکارڈ کی درستگی، صحت و صفائی کے موثر انتظامات، مناسب حفاظتی آلات کی فراہمی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ریسکیو سہولیات کو یقینی بنانے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ شرکائ کو آگاہ کیا گیا کہ موثر حفاظتی انتظامات اور قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے کان کنی کے دوران حادثات کی روک تھام، قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اور کان کنوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور بہتر کام کا ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ورکشاپ کا مقصد مائنز میں حفاظتی کلچر کو مزید فروغ دینا، قوانین پر عملدرآمد کو موثر بنانا اور کان کنوں کے تحفظ کے معیار کو بہتر بنانا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6986/2026
ہرنائی/خوست25اگست :اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا ایک اہم اور باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقے میں عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اور گرانفروشی کی روک تھام کے لیے اشیائے خوردونوش کے نئے اور متوازن نرخ مقرر کر دیے گئے۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر کے علاوہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے ممبران، تاجر برادری کے نمائندوں اور مقامی دکانداروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے تمام اشیائے ضروریہ کی مارکیٹ میں دستیابی اور ان کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کا بنیادی مقصد عوام کو مناسب اور کنٹرول شدہ نرخوں پر معیار کے مطابق بنیادی ایشیا کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ تاجر نمائندوں کی تجاویز اور موجودہ مارکیٹ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے خوردونوش کے نرخ طے کیے گئے، جن کا تفصیل سے اطلاق فوری طور پر کیا جائے گا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے واضح اور سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام دکاندار اور تاجر کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ نئی پرائس لسٹ کو اپنی دکانوں پر واضح اور نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے کے پابند ہوں گے۔ کسی بھی دکاندار کو مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے یا مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔نرخ نامے کی عدم موجودگی، گرانفروشی اور ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے خلاف موقع پر سخت قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6987/2026
اسلام آباد/گوادر۔ 25 اگست ۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر میں مکمل، زیرِ تکمیل اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWG on Gwadar) کے نویں اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں آج اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری پلاننگ کمیشن ڈاکٹر محمد طاہر نور نے کی، جس میں مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داو¿د کلمتی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کی پیشرفت، جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لیے تجویز کردہ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاکہ آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے نویں اجلاس میں ان منصوبوں کے حوالے سے اہم فیصلے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان 2017-2050، اس پر عملدرآمد کی پیشرفت اور گوادر کی مستقبل کی شہری و معاشی ترقی کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے اہم منصوبوں میں شامل ہے اور اسے گوادر کی آئندہ شہری ترقی، لینڈ یوز، مائیکرو پلاننگ، بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بنیادی گائیڈ لائنز ڈاکومنٹس کی حیثیت حاصل ہے۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے جی ڈی اے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال گوادر کی پیشرفت اور موجودہ آپریشنل صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال زیر انتظام انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک گوادر مکران اور بلوچستان کے عوام کے لیے چین کی جانب سے ایک اہم اور قابلِ قدر تحفہ ہے، جو صحت کے شعبے میں مقامی آبادی کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے تجویز پیش کی کہ سی پیک کے آئندہ منصوبوں میں پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کی توسیع کو شامل کیا جائے، جس کے تحت ہسپتال کی استعداد کو 300 بستروں تک بڑھانے کے ساتھ میڈیکل کالج اور نرسنگ کالج کے قیام پر بھی غور کیا جائے۔ ان تجاویز کا مقصد گوادر سمیت بلوچستان کے عوام کو طبی تعلیم اور جدید صحت کی سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرنا ہے۔انہوں نے گوادر کے ویسٹ بے/پدی زر میں جدید فش لینڈنگ جیٹی، فش ہاربر اور بوٹ میکنگ انڈسٹری کے قیام کو بھی سی پیک کے آئندہ منصوبوں میں شامل کرنے کی تجویز دی۔ اس منصوبے کا مقصد گوادر کی ماہی گیری کی صنعت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا، مقامی ماہی گیروں کے لیے بہتر کاروباری مواقع پیدا کرنا، کشتی سازی کو فروغ دینا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں گوادر کے دیگر اہم سی پیک منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جن میں گوادر پورٹ اور فری زون، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پانی کی فراہمی اور ڈیسینیشن پلانٹس سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داود کلمتی نے گوادر پورٹ کی موجودہ آپریشنل صورتحال، گوادر فری زون فیز-I اور فیز-II، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور دیگر متعلقہ منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ گوادر فری زون کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں وسیع رقبے پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گوادر میں سی پیک کے تحت جاری ترقیاتی عمل کا بنیادی مقصد نہ صرف بندرگاہ اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے بلکہ گوادر شہر کو جدید شہری سہولیات، صحت، تعلیم، پانی، روزگار اور معاشی مواقع سے آراستہ کرنا بھی ہے۔سی پیک کے تحت گوادر پورٹ سے الائیڈ مستقبل کی ترجیحات میں بریک واٹر کی تعمیر، برتھنگ ایریاز اور چینلز کی ڈریجنگ اور انڈسٹری کیلئے پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے لیے منصوبوں سے متعلق تازہ ترین پیشرفت، ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے، تاکہ سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6988/2026
زیارت 25اگست ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی،تحصیلدار نور احمد کاکڑایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر انور مندوخیل، ایم ایس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سنجاوی ڈاکٹر نورالباقی، اکاونٹس آفیسر عبدالغنی پانیزئی، ڈرگ انسپکٹر محمد عدیل، امین اللہ اور فرمان اللہ نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں محکمہ صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر اور فعال بنانے کے حوالے سے مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں کنٹریکٹ ڈاکٹرز کی جلد تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا اجلاس کے دوران غیر حاضر ڈاکٹرز اور عملے کی تنخواہوں سے کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا۔۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے واضح کیا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی غیر موجودگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر6989/2026
موسیٰ خیل 25 اگست:۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں فرائض سے غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیرِ صدارت منعقدہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی صورتحال، تعلیمی شعبے کی بہتری، طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران مختلف تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے غیر حاضر ملازمین کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ بلاجواز غیر حاضری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کے ساتھ ان کی تنخواہیں بھی قواعد و ضوابط کے مطابق منہا کی جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری، ذمہ داری اور پابندیِ وقت کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی غیر حاضری کا براہِ راست اثر طلبہ کی تعلیم اور ان کے مستقبل پر پڑتا ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے تمام متعلقہ افسران اور محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں کے اسکولوں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں، اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنائیں اور تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کریں۔عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ضلع کے بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول، معیاری تعلیم اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف اجلاس منعقد کرنا کافی نہیں بلکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملی طور پر عملدرآمد بھی نظر آنا چاہیے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر پیش رفت کی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں غفلت کے مرتکب افسران اور ملازمین سے جواب طلبی کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تعلیم کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا اور کسی بھی سطح پر غفلت، غیر حاضری یا فرائض سے چشم پوشی کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل کے بچوں کا مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری میں کوتاہی کرنے والوں کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے تمام متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں، اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائیں اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں۔
خبر نامہ نمبر6990/2026
زیارت25اگست:۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لطیف اللہ غرشین،ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن عبدالمالک تاج،اکاونٹس افسر عبدالنعیم پانیزئی ڈی او فیمیل میمونہ فہیم، ڈی ڈی او فیمیل فرزانہ ارباب، ڈی ڈی او فیمیل سنجاوی فرزانہ کلثوم، ڈی ڈی او سنجاوی عبدالخالق،ڈی ڈی او زیارت نقیب اللہ کاکڑ،بی ایف ڈسٹرکٹ آرگنائزر فیض خلجی، آر ٹی ایس ایم بدرالدین نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور، اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس اچکزئی نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیز فور کنٹریکٹ اساتذہ کی تعیناتی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر6991/2026
کوئٹہ 25اگست:۔کپٹن (ریٹائرڈ) عبد الکبیر زرکون نے بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (B-TEVTA) کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کا عہدہ سنبھالنے کے بعد باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اپنے عہدے کا چارج لیتے ہی انہوں نے اپنے دیگر افسران کے ہمراہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کوئٹہ کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران پرنسپل گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، ملک داد رئیسانی نے ایم ڈی بی ٹیوٹا کو ادارے کی کارکردگی، تعلیمی شعبہ جات اور درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں ایم ڈی بی ٹیوٹا نے کالج کی تمام لیبز اور مختلف ٹریڈز کا معائنہ کیا، اور وہاں موجود اسٹاف، انسٹرکٹرز اور دیگر افسران سے ملاقات کر کے ان کے مسائل دریافت کیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈی بی ٹیوٹا کپٹن (ر) عبد الکبیر زرکون نے کہا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے تحت کہ بی ٹیوٹا بہت جلد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کو جدید ترین مشینری اور وقت کی تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ایک ‘ماڈل انسٹیٹیوٹ’ میں ڈھالے گا، تاکہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان فوری طور پر باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے (انڈسٹری) کی جدید ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور بہتر حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع اور بہتر مواقع میسر آسکیں۔ واضح رہے کہ بی ٹیوٹا ترمیمی ایکٹ 2026ء کی منظوری کے بعد صوبے کے تمام فنی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی ادارے اب بی ٹیوٹا کی چھتری تلے کام کریں گے، جس کا مقصد فنی تعلیم کے معیار کو یکساں اور مؤثر بنانا ہے۔دورے کے اختتام پر کالج انتظامیہ اور اسٹاف نے ایم ڈی بی ٹیوٹا کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور عزم ظاہر کیا کہ ادارے کی بہتری اور اس کا تعلیمی و فنی مقام بلند کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر6992/2026
موسیٰ خیل25 اگست:ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تعلیمی شعبے کی بہتری اور گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں حاضری کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لانے اور ان کی تنخواہیں منہا کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سر انجام دیں اور اسکولوں میں حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر6993/2026
کوئٹہ 25اگست:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی خصوصی ہدایت پر معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے اہلِ سنت کے جید علمائے کرام اور جلوس کے منتظمین سے ملاقات کی، جس میں ربیع الاول اور عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر منعقد ہونے والے جلوس کے انتظامات، سیکیورٹی اقدامات، امن و امان کی صورتحال اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر بابر یوسفزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے لیے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ربیع الاول کے بابرکت مہینے کے دوران مذہبی اجتماعات اور عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر جلوس کے منتظمین اور شرکاء کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام بھرپور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ جشنِ آمدِ رسولِ اکرم ﷺ کی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تمام مکاتبِ فکر کے درمیان مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ ہمیں محبت، امن، برداشت، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے، اس لیے اس مقدس موقع پر ہمیں اتحاد اور باہمی احترام کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔معاون برائے داخلہ نے کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔ جلوس کے روٹس، داخلی و خارجی راستوں، ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کا ازسرِنو جائزہ لے کر تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ صوبائی حکومت علمائے کرام، مذہبی جماعتوں، جلوس منتظمین اور عوام کے تعاون کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ حکومت اور عوام کے درمیان مؤثر رابطہ ہی کسی بھی بڑے مذہبی اجتماع کو پرامن اور کامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ملاقات کے دوران علمائے کرام نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر صوبائی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ علمائے کرام نے کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس بھرپور مذہبی جوش و جذبے، عقیدت اور احترام کے ساتھ منعقد کیا جائے گا اور اس موقع پر امن و امان کے قیام کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔علمائے کرام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جشنِ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مذہبی رواداری، بھائی چارے اور امن کا پیغام عام کیا جائے گا اور تمام مکاتبِ فکر ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی خواہش ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ کے تمام پروگرام پرامن، منظم اور مثالی انداز میں منعقد ہوں۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جلوس منتظمین کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد پوری انسانیت کے لیے رحمت اور ہدایت کا پیغام ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے امن، محبت، بھائی چارے، برداشت اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینا چاہیے۔معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت ربیع الاول کے دوران تمام مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے لیے بہترین انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت، علمائے کرام، مذہبی رہنماؤں اور عوام کے باہمی تعاون سے عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کو امن، عقیدت اور مذہبی احترام کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/6994
تربت25اگست:ـجامعہ تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے زیر اہتمام بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے دوسری سیرت النبیؐ کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کی۔ کانفرنس میں طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے نے عقیدت و احترام کے ساتھ بڑی تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز چاکر حیدر نے انجام دیے۔اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری امت کے محسن ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تمام عالم انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی سیرت کو اپنانا ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح رحمی، حقدار کو اس کا حق دلانے اور لوگوں کے درمیان رشتہ داری اور خاندانی وابستگی کے بجائے اہلیت اورانصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے روشناس کرانے کے لیے جامعہ تربت میں سیرت کانفرنسز کا تسلسل کے ساتھ انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سالم، مفتی ظہیر احمد اور دیگر مقررین نے سیرت النبیؐ کی روشنی میں موجودہ نظام تعلیم، معاشرتی عدل و انصاف اور اداروں میں میرٹ کی پاسداری کی اہمیت کے علاوہ اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنانے کے سلسلے میں فکر انگیز خیالات پیش کیے۔مقررین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیمات کو جدید نصاب کا حصہ بنانے اور مطالعہ سیرت النبیؐ کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر مذہبی ہم آہنگی، احترام انسانیت، عدم تشدد، باہمی اتحاد و اتفاق اور مفاہمتی کلچر پر مبنی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں جامعہ تربت اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی، قومی اور مذہبی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا رہی ہے۔کانفرنس کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی و خوشحالی، قیام امن اور اسوۂ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کی توفیق کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6995
بارکھان25 اگست: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاس منعقد ہوئے، جن میں پولیس، ایف سی، حساس اداروں اور متعلقہ ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بارکھان کی مجموعی امن و امان، سیکیورٹی صورتحال، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی، قانون و انتظام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اہم سرکاری و حساس تنصیبات، عوامی مقامات، بازاروں اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے، داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی اور چیکنگ کا نظام بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پولیس اور ایف سی کو حساس علاقوں اور اہم شاہراہوں پر گشت مزید فعال بنانے جبکہ مشکوک افراد، گاڑیوں اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے بروقت تبادلے اور باہمی رابطہ مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں Fourth Schedule سے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو فہرستوں کی بروقت اپ ڈیٹ، مؤثر نگرانی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں ممکنہ ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات، خطرات کی بروقت نشاندہی اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان فوری رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے کہا کہ ضلع میں پائیدار امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ، بین الادارہ کوآرڈینیشن اور بروقت کارروائی کے ذریعے امن و امان کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے سیکیورٹی امور سے متعلق پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو بروقت آگاہ کیا جائے۔

خبر نامہ نمبر 2026/6996
تربت25 اگست:حکومتِ بلوچستان اور بی آر ایس پی کے تعاون سے کونسل فار کمیونٹی ڈویلپمنٹ کیچ کے زیرِ اہتمام رائز بلوچستان منصوبے کے حوالے سے ایک تعارفی ورکشاپ کا انعقاد گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول دشت کنچتی میں کیا گیا،جس کا مقصد مقامی اداروں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی، امن، ترقی اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈی او محکمہ تعلیم تحصیل دشت شیرجان دشتی، یونین کونسل دشت کوہک کے چیئرمین مہراب دشتی، بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے پروگرام کوآرڈینیٹر و تربت انچارج نور احمد، وائس چیئرمین سنگئی اسحاق دشتی، ٹیچر نبیلہ اکبر اور سی سی ڈی ایم کے فوکل پرسن برکت بلوچ نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد علاقے کے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے. مقررین نے کہا کہ پروگرام کے تحت اسکولوں میں فیسٹیول، نمائشیں، تقریری مقابلے، مختلف تعلیمی و تخلیقی مقابلے اور کھیلوں کے ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں گے، تاکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع میسر آئیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کو عملی طور پر سامنے لاسکیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے بہت سے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم مناسب مواقع اور پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں اجاگر نہیں ہو پاتیں۔ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کرنے، انہیں نکھارنے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے سے نہ صرف ان میں خود اعتمادی پیدا ہوگی بلکہ وہ تعلیم، کھیل اور دیگر تعمیری شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ بھی کر سکیں گے۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے دیہی اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو بھی پروگرام میں شامل کرنے کے اقدام کو سراہا اور اسے نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ورکشاپ میں مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، محکمہ تعلیم کے افسران، مقامی نمائندگان اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داران اور دشت کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء میں اے ڈی ای او دشت کہدہ نبی بخش، ہیڈماسٹر نبی بخش ہائر سیکنڈری اسکول دشت کنچتی، بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے پروگرام کوآرڈینیٹر و تربت انچارج نور احمد، ہیڈماسٹر سید جان بوائز ہائی اسکول کنچتی، گرلز سیکنڈری اسکول دشت کی کھڈان امبر باقی، مڈل اسکول کوہک کے پرنسپل دودا خان، گرلز مڈل اسکول تولاگی دشت کی انچارج، فوکل پرسن برکت بلوچ، وائس چیئرمین سنگائی اسحاق دشتی، کونسل فار کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے سینئر ممبر عبدالحکیم، تحصیلدار باہوٹ دشتی اور ڈپٹی ڈی او دشت شیرجان دشتی سمیت دیگر افراد خواتین اور مرد شامل تھی۔شرکاء نے پروگرام کو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، انہیں مثبت سرگرمیوں سے جوڑنے اور دیہی علاقوں میں ترقی و سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/6997
قلات 25اگست:_ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری سے مختلف قبائلی عمائدین اور مکتبہ فکر کے لوگوں نے ملاقات کی
عمنائدین اورشہریوں نے ڈپٹی کمشنر قلات کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا اور تحریری درخواستیں پیش کیی ۔ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے کہاکہ عوامی مسائل کا فوری حل اولین انکی ترجیح ہے عوامی مسائل کا فوری اور مؤثر حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہےعوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنا ہوں گی انہوں نے کہا کہ شہریوں کی شکایات پر فوری توجہ دی جائے گی اور عوام کو سرکاری دفاتر میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ تمام افسران و اہلکار عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور جائز مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔ڈپٹی کمشنر قلات نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ غفلت یا سستی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6998
قلات 25اگست: ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے انتظامی عہدے کا چارج سنھبالتے ہی عوام الناس کودرپیش مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ مرکوزکی یے ڈپٹی کمشنرقلات نے پیر کے روزمحکمہ مواصلات وتعمیرات محکمہ حیوانات، محکمہ جنگلات، محکمہ خوراک اور محکمہ خزانہ کے دفاتر کا اچانک دورہ کیادورے کے دوران مذکورہ محکموں کے سربراہان اپنے دفاتر سے غیر حاضر جبکہ دیگر اسٹاف کی حاضری بھی انتہائی کم پائی گئی ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے افسران اور ملازمین کی غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غیر حاضر افسران اور دیگر اسٹاف کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے ملازمین کی فہرستیں فوری طلب کرلیں اورمختلف سرکاری دفاتر میں دستیاب سہولیات، درپیش مسائل، صفائی ستھرائی اور افسران و ملازمین کی حاضری کاجائزہ لیاانہوں نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دفاتر میں اپنی حاضری یقینی بنائیں اور اپنے ماتحت تمام ملازمین کی بروقت حاضری کو بھی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران اور ملازمین عوام کے خادم ہیں، عوامی مسائل کا بروقت حل ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا دفاتر سے غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری دفاتر میں افسران اور ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مختلف محکموں کے اچانک دورے کیے جائیں گے اور حاضری چیک کی جائے گی غیر حاضر افسران اور ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 2026/6999
کوئٹہ26اگست:ـصوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سیلم احمد کھوسہ نے عید میلادالنبی ﷺ کے پُرمسرت موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے رحمت اور ہدایت کا عظیم پیغام ہے اپنے پیغام میں صوبائی وزیر نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے زندگی کے ہر شعبے میں مشعلِ راہ ہے آپ ﷺ نے محبت، اخوت، رواداری، عدل، مساوات اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی عملی زندگی میں تعلیماتِ نبوی ﷺ کو اپنائیں اور معاشرے میں بھائی چارے، برداشت اور اتحاد کو فروغ دیں۔صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ عید میلادالنبی ﷺ ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم ملک و قوم کی ترقی خوشحالی اور استحکام کے لیے اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے ملک و صوبہ میں امن و استحکام قائم کرنے اور پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7000
قلات25اگست:ـضلعی انتظامیہ قلات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے مورخہ 27 اگست 2026 بروز جمعرات بوقت 11:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیاہے کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں منعقد ہوگی۔لہذا متعلقہ افراد علاقہ معززین سے گزارش کی گئی ہےکہ 27 اگست کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7001
کوئٹہ25اگست:صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے 12 ربیع الاول، عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اہلِ اسلام بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت کا مظہر ہے۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ محبت، اخوت، رواداری، عدل، انصاف، برداشت اور انسانیت کی خدمت کا جامع درس دیتی ہےاپنے ایک خصوصی پیغام میں میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ کے ذریعے انسانیت کو امن، بھائی چارے، مساوات اور احترامِ انسانیت کا عملی راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ، عدل و انصاف کے قیام اور باہمی اتحاد و اتفاق پر خصوصی زور دیا، جو آج بھی ہمارے لیے بہترین رہنمائی کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سیرتِ طیبہ کے سنہری اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ ہمیں اختلافات اور باہمی رنجشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد، اتفاق، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ معاشرے میں امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کی روایات کے امین رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کرتے ہوئے معاشرے میں محبت، برداشت اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام عام کیا جائے۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں امن، ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ایک پرامن، مضبوط اور خوشحال بلوچستان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کریں اور آپ ﷺ کے کردار، علم، دیانت، امانت اور خدمتِ خلق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میلاد النبی ﷺ کا حقیقی پیغام صرف خوشی منانے تک محدود نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں امن، محبت، انصاف اور انسانیت کی خدمت کو فروغ دینا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے پاکستان خصوصاً بلوچستان کو امن و سلامتی، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے، امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق نصیب کرے اور ہمیں سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *