خبرنامہ نمبر 6345/2026
کوئٹہ، 22 جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع سوراب اور ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو سراہتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیوں پر پاک فوج، دیگر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سوراب اور مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں دہشت گردوں کا ہلاک ہونا سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا گیا ہے، جبکہ خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث عناصر کی گرفتاری بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے امن کو سبوتاڑ کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی اور ریاست دشمن عناصر کے لیے بلوچستان کی سرزمین کو کسی صورت استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6346/2026
کوئٹہ، 22 جولائی ۔ مشیر وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بینظیر بھٹو ایمرجنسی رسپانس ٹراما سینٹر کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا اس موقع پر ٹراما سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران خان کاسی اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحفیظ سیال نے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو سینٹر کی کارکردگی، جدید طبی سہولیات اور ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینظیر بھٹو ایمرجنسی رسپانس ٹراما سینٹر مکمل طور پر پیپر لیس نظام پر کام کر رہا ہے، جہاں تمام انتظامی اور طبی امور ڈیجیٹلائزڈ ہیں۔ مریضوں کا مکمل ریکارڈ مرکزی ڈیجیٹل سسٹم میں محفوظ کیا جاتا ہے، جس کے باعث علاج معالجے، ریکارڈ کی دستیابی اور خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور تیزی کو یقینی بنایا گیا ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے جدید طبی سہولیات، ڈیجیٹل نظام اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس اور ڈیجیٹل نظام نہ صرف انتظامی امور کو موثر بناتا ہے بلکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے انہوں نے ٹراما سینٹر کی انتظامیہ اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ صوبے کے دیگر سرکاری طبی اداروں میں بھی جدید اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ کے لیے اسی طرز پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو مزید بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, July 22Dr. Rubaba Khan Buledi, Advisor to the Chief Minister of Balochistan for Women Development visited the Benazir Bhutto Emergency Response Trauma Center in Quetta, where she inspected various wards and reviewed the medical services being provided to patients.During the visit, the Trauma Center’s Managing Director, Dr. Kamran Khan Kasi, and Additional Director, Dr. Abdul Hafeez Sial, briefed Dr. Buledi on the center’s performance, advanced medical facilities, and digital healthcare system.The briefing highlighted that the Benazir Bhutto Emergency Response Trauma Center operates on a fully paperless system, with all administrative and clinical processes digitized. Patients’ complete medical records are securely maintained in a centralized digital database, ensuring greater efficiency, transparency, and faster access to healthcare services.Expressing satisfaction with the center’s modern medical facilities, digital infrastructure, and patient care services, Dr. Rubaba Khan Buledi said that the adoption of advanced technology in Balochistan’s healthcare sector is a highly encouraging development. She noted that a paperless and digital system not only enhances administrative efficiency but also plays a vital role in ensuring the timely delivery of quality healthcare services to patients.Dr. Runaba Buledi also commended the efforts of the Trauma Center’s management and medical staff and expressed hope that similar digital transformation initiatives would be implemented across other government healthcare institutions in the province, enabling the public to benefit from improved and more efficient medical services.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6347/2026
کوئٹہ22 جولائی ۔ این-25 ڈوئلائزیشن میگا منصوبے سے متعلق پراجیکٹ فیسیلیٹیشن کمیٹی کا اہم اجلاس سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں منصوبے پر جاری پیش رفت درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ممبر نیشنل ہائی وے اتھارٹی بلوچستان بشارت حسین فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے کرنل شاہد عباسی جی ایم کراچی-خضدار سیکشن کاشف شیخ پراجیکٹ ڈائریکٹر این-25 کچلاک تا چمن ریاض احمد ڈائریکٹر لیگل این ایچ اے عبدالمنان اور چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ بذریعہ زوم شریک ہوئے اس کے علاوہ متعلقہ محکموں کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی اجلاس کو منصوبے کی مجموعی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ کے دوران این-25 پر واقع شہروں اور قصبوں میں بائی پاسز کی تعمیر منصوبے سے متعلق مختلف ادارہ جاتی اور سیکیورٹی سطح کے امورکرش پلانٹس کی منتقلی اور شاہراہ کے اطراف شجرکاری مہم سمیت دیگر اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے مختلف معاملات پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے درپیش رکاوٹوں اور ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بھی بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ این-25 ڈوئلائزیشن صوبے کے لیے انتہائی اہم نوعیت کا میگا منصوبہ ہے جس کی تکمیل بلوچستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سفری سہولیات کو بہتر بنائے گا بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ سفری دورانیے میں کمی اور شاہراہ پر ٹریفک کے محفوظ اور موثر نظام کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر رابطہ کاری کے ذریعے درپیش مسائل کو جلد از جلد حل کریں تاکہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جا سکےاجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ این-25 ڈوئلائزیشن منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کر کے عوام کو جدید محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6348/2026
نصیرآباد22جولائی۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ڈیرہ مراد جمالی کے شہریوں کی جانب سے پانی کی قلت کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی تفصیلات کے مطابق عوامی شکایات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نے لانگو محلہ، کلرک کالونی اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کی بحالی کے لیے فوری احکامات جاری کیے۔ ان احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلدار معظم خان جتوئی اور ریونیو عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جمالی واہ سے تالابوں تک پانی کی سپلائی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال ہو گئیضلعی انتظامیہ کے مطابق پانی کی فراہمی کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کی نگرانی میں پوری رات پانی کی فراہمی کا عمل جاری رہا، جبکہ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل خود بھی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے رہے اور لمحہ بہ لمحہ رپورٹ حاصل کرتے رہےڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے اس موقع پر کہا کہ عوامی مسائل کا فوری حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات پر بروقت اور موثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6349/2026
اوتھل، 22 جولائی۔ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے ٹریفک حادثے میں شہید ہونے والی لیڈی پولیو ورکر کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ لسبیلہ اور محکمہ صحت کی مشترکہ کاوشوں کے تحت مالی امداد کا چیک ان کے لواحقین کے حوالے کیا، جبکہ شہید پولیو ورکر کے بیٹے کی میٹرک تک مفت تعلیم کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ نے کہا کہ پولیو ورکرز قومی فریضہ انجام دیتے ہوئے بچوں کو موذی مرض سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید لیڈی پولیو ورکر کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ خاندان کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔واضح رہے کہ مذکورہ ٹریفک حادثے میں ایک لیڈی پولیو ورکر شہید جبکہ ایک دوسری شدید زخمی ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران متاثر ہونے والے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔اس موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) ضلع لسبیلہ کے نمائندہ ڈاکٹر منیر بلوچ، جنرل کونسلر میونسپل کمیٹی اوتھل نصیر احمد لنگاہ اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) لسبیلہ کی ڈاکٹر ندا رشید بھی موجود تھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6350/2026
گوادر22 جولائی ۔: گوادر پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرتے ہوئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران موٹرسائیکل چوری میں ملوث ایک گینگ کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی ڈی آئی جی مکران رینج عمران قریشی اور ایس ایس پی گوادر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) عطاءالرحمٰن خان، PSP, PPM کی خصوصی ہدایات پر، جبکہ ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او چاکر حیات کی نگرانی میں ایس ایچ او سٹی پولیس اسٹیشن گوادر سب انسپکٹر بشیر احمد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ انجام دی کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے پانچ چوری شدہ موٹرسائیکلیں برآمد کر لی گئیں۔ گرفتار ملزمان میں ملا بخش ولد سخی داد، سکنہ کلانچی پاڑہ گوادر، عبداللہ ولد شفیع محمد، سکنہ کلانچی پاڑہ گوادر، اور حاصل ولد بابو، سکنہ دشت/کلانچی پاڑہ گوادر شامل ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ گینگ کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری اور مزید مسروقہ موٹرسائیکلوں کی برآمدگی کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں گوادر پولیس نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا جرائم سے متعلق معلومات فوری طور پر پولیس کو فراہم کریں تاکہ ضلع گوادر کو ایک محفوظ، پرامن اور جرائم سے پاک معاشرہ بنانے کی مشترکہ کوششوں کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6351/2026
لسبیلہ22جولائی ۔ : ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہنر مند نوجوان ہی ملکی ترقی، معاشی استحکام اور خوشحالی میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں، اسی لیے حکومت بلوچستان نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی و تکنیکی مہارتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آئی ٹی اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین سے ملاقات کی، جس میں نوجوانوں کی فنی و تکنیکی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بریگیڈیئر فواد احمد بھی موجود تھے۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے آئی ٹی اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں جدید کمپیوٹر لیبارٹریز، ڈیجیٹل لرننگ سہولیات اور جاری تربیتی پروگراموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ نے سینٹر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مراکز نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق جدید مہارتیں فراہم کرنے، خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے، معیاری فنی و تکنیکی تعلیم کے فروغ اور ہنر پر مبنی تربیتی پروگراموں کی ہر ممکن سرپرستی جاری رکھے گی۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین نے یونیورسٹی میں جاری آئی ٹی اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز، تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم اور جدید تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔دورے کے موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ رشید، ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ڈاکٹر احمد نواز کھوسہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنا مہ نمبر6352/2026
گوادر22 جولائی۔ : سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گوادر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) عطاء الرحمٰن خان، PSP, PPM کی سربراہی میں ایس ایس پی آفس گوادر میں عوامی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں پولیس افسران، ضلعی انتظامیہ، سول سوسائٹی، انجمن تاجران، اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی شرکاءنے منشیات فروشی، ون ویلنگ، موٹر سائیکل و کار ریسنگ، غیر قانونی ایل ای ڈی لائٹس اور دیگر عوامی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر پولیس کی مجموعی کارکردگی کو بھی سراہا گیا سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گوادر نے شہریوں کے مسائل اور تجاویز تفصیل سے سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید موثر بنائی جائیں گی، پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے گا، منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے اور کمیونٹی پولیسنگ کو مزید فعال بنایا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور شہری مسائل کے بروقت حل کے لیے گوادر پولیس تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔ شرکاء نے کھلی کچہری کے انعقاد اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایس ایس پی گوادر کے اقدامات کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6353/2026
نصیرآباد:22جولائی ۔ سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نہری نظام میں صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور گڈو بیراج و سکھر بیراج سے پٹ فیڈر کینال، کیرتھر کینال، اوچ کینال سمیت دیگر نہروں میں پانی کی ترسیل میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی ہدایات کی روشنی میں کاشتکاروں کو منصفانہ طریقے سے زرعی پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ چیف انجینیئر کینالز قربان علی جتوئی خود نہری نظام کی نگرانی کر رہے ہیں اور مختلف کینالوں کے اچانک دورے کرکے پانی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ مدثر ظفر کھوسہ نے بتایا کہ ارسا قوانین کے مطابق پٹ فیڈر کینال کا حصہ 6700 کیوسک ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور آر ڈی 109 کے مقام پر 6444 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ کیرتھر کینال کو 2400 کیوسک کے بجائے 1478 کیوسک پانی مل رہا ہے، اسی طرح مانجھوٹی اور اوچ کینال میں بھی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کے انجینیئرز کی اولین ذمہ داری نہری نظام کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے اور اس مقصد کے لیے کڑی مانیٹرنگ کا عمل مسلسل جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6354/2026
لورالائی22جولائی ۔: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ڈویژنل ڈائریکٹرز کا محکمانہ ترقیاتی جائزہ اجلاس کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوا، جس میں لورالائی ڈویژن کے تمام محکموں کے ڈویژنل سربراہان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف محکموں کے افسران نے جولائی 2025 سے جون 2026 تک کی سالانہ محکمانہ کارکردگی، ترقیاتی سرگرمیوں اور عوامی خدمات کی فراہمی پر مشتمل جامع مگر مختصر پیش رفت رپورٹیں اور پریزنٹیشنز پیش کیں۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ تمام محکمے جاری ترقیاتی سکیموں کی رفتار مزید تیز کریں، فنڈز کے شفاف اور موثر استعمال کو یقینی بنائیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے جاری اور مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کی مادی و مالیاتی پیش رفت، عوامی خدمات کی فراہمی، فیلڈ وزٹس، مانیٹرنگ، معائنہ کاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں، فنڈز کے موثر استعمال، بین المحکماتی ہم آہنگی، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور آئندہ مالی سال کی ترجیحات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔کمشنر لورالائی ڈویژن نے تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی، شفافیت، معیار اور مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر محکمہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت، آبنوشی، زراعت، مواصلات اور دیگر شعبوں میں جاری سکیموں کی پیش رفت پر خصوصی توجہ دے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام محکمے اپنی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ جاری رکھیں گے، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ لورالائی ڈویژن میں پائیدار ترقی اور بہتر عوامی خدمات کے حکومتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6355/2026
گوادر22 جولائی ۔: انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان کا وژن اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت شہید خماری پولیس اسٹیشن گوادر میں عوامی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ڈی ایس پی چاکر، ایس ایچ او بشیر احمد اور فیمیل ایس ایچ او مسیرہ نے شرکت کی، جبکہ شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست پولیس حکام کے سامنے پیش کیں اس موقع پر پولیس حکام نے کہا کہ بلوچستان پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ عوام اور پولیس کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، شہریوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا اور کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کے ذریعے پرامن معاشرے کا قیام موجودہ پالیسی کا اہم حصہ ہے پولیس حکام نے شرکای کو جرائم کی روک تھام، امن و امان کے قیام اور کمیونٹی پولیسنگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر موثر پولیسنگ ممکن نہیں، لہٰذا شہری بروقت معلومات کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں کھلی کچہری کے دوران خواتین کو درپیش مسائل، بالخصوص ہراسمنٹ اور گھریلو تشدد جیسے معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ فیمیل پولیس اسٹیشن کے قیام سے خواتین کی شکایات کے اندراج اور بروقت داد رسی میں آنے والی بہتری پر بھی روشنی ڈالی گئی پولیس حکام نے بتایا کہ صوبائی حکومت اور آئی جی بلوچستان پولیس کے وڑن کے مطابق خواتین، نوجوانوں اور طلبہ میں قانونی شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہم کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں خصوصی آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو ان کے قانونی حقوق، شکایت درج کرانے کے طریقہ کار اور جرائم سے بچاو کے متعلق موثر معلومات فراہم کی جا سکیں.پولیس حکام نے شہریوں کو یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل، شفاف پولیسنگ، فوری انصاف کی فراہمی اور عوام کے اعتماد کے فروغ کے لیے ایسے عوامی رابطہ پروگرام مستقبل میں بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جاتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6356/2026
تربت22 جولائی ۔:ڈپٹی کمشنر کیچ کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر دشت، ندیم اقبال بنگلزئی نے سب ڈویڑن دشت کے مختلف سرکاری محکموں کا دورہ کیا۔دورہ کیے گئے اداروں میں رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) کڈان، بنیادی مرکز صحت (BHU) کنچیتی، پولیس اسٹیشن کدان،، نادرا آفس، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) آفس، پبلک لائبریری اور کڈن پارک شامل تھے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی، حاضری، ریکارڈ اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ غیر حاضر عملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دشت نے تمام افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو بروقت، شفاف اور بہترین خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور اپنے فرائض پوری ذمہ داری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6357/2026
موسیٰ خیل22جولائی ۔اسسٹنٹ کمشنر درگ اظہر الدین سے اہلیانِ درگ کے ایک وفد نے سردار اقبال احمد خان جعفر اور ملک نصر من اللہ جعفرکی قیادت میں ملاقات کی ملاقات کے دوران وفد نے اسسٹنٹ کمشنر کو درگ میں تعنیاتی پر مبارکباد دی اور خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر علاقے کے عوامی و انتظامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ زمینوں اور کھیتوں تک رسائی کے راستوں کی بحالی اور درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا مال مویشی چرانے کی وجہ سے زمینداروں اور کسانوں کی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھانے پہ بھی تفصیلی گفتگو کی زرعی زمینوں کی سیرابی کے لیے ویالوں اور نالیوں کی بروقت صفائی کے نظام کی بہتری کے لئے اقدامات بھی زیر بحث لائے گئے ۔زرعی زمینوں کے لیے پانی کی تقسیم کے دیرینہ مسائل کو باہمی رضامندی اور انصاف کے اصولوں پر حل کرنے کے لیے اہم فیصلے اور پیش رفت اسسٹنٹ کمشنر درگ نے وفد کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6358/2026
تربت. 22 جولائی ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر بلوچ نے بلیدہ میں مختلف سرکاری دفاتر، عوامی سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ نے لوکل سرٹیفکیٹ برانچ اور دفتر کا دورہ کیا، جہاں عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات، ریکارڈ اور دفتری امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔بعد ازاں انہوں نے ڈمبانی روڈ پر زیرِ تعمیر پل، بلیدہ۔تربت روڈ تا کوشک روڈ، کالج مسجد، کالج کی اندرونی سڑک، پرنسپل لاونج، بیچلر لاونج، ڈمبانی بازار میں حفاظتی بند (Protection Band)، کورِ پشت بٹ، پل اور اندرونی سڑکوں سمیت مختلف زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے منصوبوں پر جاری پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر بلوچ نے منصوبوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی معیار، رفتارِ کار اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار، شفافیت اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر سفری، تعلیمی اور بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایات کی روشنی میں تمام ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا ناقص معیار ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6359/2026
سوراب 22 جولائی ۔: وزیراعلی بلوچستان کے تعلیم دوست پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ضلعی انتظامیہ سوراب متحرکانہ کرداراداکررہی ہے ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی، آر ٹی ایس ایم ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، خزانہ افسر، مختلف سب ڈویژنز کے میل و فیمیل ڈی ڈی اوز، محکمہ تعلیم کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کی تعلیمی صورتحال، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی حاضری، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے ہدایت دی کہ اسکولوں میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری، تدریسی سرگرمیوں کے تسلسل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے اساتذہ کی غیر حاضری پر سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ضلع سوراب میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6360/2026
سوراب 22جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بگٹی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال سوراب کا اچانک دورہ کیاٹریفک حادثہ کے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا دورہ کے موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر یوسف ثانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹریفک حادثےمیں 03 افراد جاں بحق جبکہ 04 افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پرریسکیو کرکے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ ریفر کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر گدر نے ایمرجنسی وارڈ، ادویات کی دستیابی، ایمبولینس سروس اور دیگر طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو بروقت، معیاری اور بلا تاخیر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ہسپتال انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ ایمرجنسی کی صورت میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6361/2026
قلات 22جولائی ۔تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی کے زیر صدارت لوکل کمیٹی کا ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوااجلاس میں لوکل کمیٹی ممبران میر منیر شاہوانی موسی خان مینگل حاجی غلام قادر عمرانی وڈیرہ رحیم مینگل شیراحمدمینگل علی رودینی چوہدری مدن لال نے شرکت کی۔اجلاس میں لوکل سرٹیفکیٹ کے لیئے درخواست گزار کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے کمیٹی ممبران نے درخواستوں کی جانچ پڑتال کےبعد لوکل سرٹیفکیٹس اجراءکیلئے دستخط کردیئے۔جبکہ کوائف پورا نہ ہونے والے درخواستوں کو مسترد کردیاگیا۔ تحصیلدارقلات حاجی عبدالغفار لہڑی نے لوکل کمیٹی ممبران کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوے کہا کہ ہر بدھ کو لوکل کمیٹی کا اجلاس ہوگا کمیٹی میں شامل تمام ممبران اپنی شرکت یقینی بنائیں تاکہ لوکل سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیئے لوگوں کو کسی قسم کا مشکل پیش نہ آئے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6362/2026
موسی’ خیل 22جولائی ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت عامہ کی صورتحال اور طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلع کی اہم انتظامی اور طبی شخصیات نے شرکت کی، جن میں ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ کاکڑڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی اوردیگر متعلقہ محکموں کے آفیسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے سابقہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عوامی مفاد میں انتہائی سخت فیصلے کیے۔اجلاس میں طے پانے والے اہم نکات: ہیلتھ سینٹرز میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی سو فیصد حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ضلع کے تمام دور دراز مراکزِ صحت RHCs اور BHUsمیں بنیادی ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ایس پی کلیم اللہ کاکڑ نے یقین دہانی کرائی کہ طبی عملے اور صحت کے مراکز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں اجلاس کے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہصحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6363/2026
نصیرآباد22جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت مون سون سیزن کے دوران ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی اجلاس کے دوران سال 2010 اور 2022 میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے تجربات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی سے موثر اور جامع حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت اور بہتر انداز میں نمٹا جا سکےڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داریوں کو مکمل سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرے اور کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مشینری کو فوری طور پر فعال اور مرمت شدہ حالت میں رکھا جائے اور انہیں حساس اور نشیبی علاقوں کے قریب تعینات کیا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت استعمال ممکن ہو سکے انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگرچہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، تاہم بروقت اور موثر پیشگی اقدامات کے ذریعے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں تمام اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری اور موثر ردعمل دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6364/2026
جعفرآباد22جولائی ۔: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ پری مون سون بارشوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے فرضی حفاظتی مشق (موک ایکسرسائز) کا انعقاد کیا گیا، جس میں میونسپل کارپوریشن، محکمہ ایریگیشن، محکمہ زراعت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس نے اپنی مشینری، آلات اور افرادی قوت کے ساتھ بھرپور حصہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرا، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ڈیرہ اللہ یار احمد نواز جتک، سب ڈویژنل آفیسر ایریگیشن سید امجد شاہ سمیت دیگر افسران اور اہلکار موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ ممکنہ بارشوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہے، تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس، بروقت امدادی کارروائیاں اور نکاسی آب کے موثر انتظامات اولین ترجیح ہوں گے، جبکہ تمام محکمے اپنی مشینری، وسائل اور عملے کو ہمہ وقت فعال رکھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6365/2026
قلات22جولائی ۔ بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ایم سی قلات وارڈ نمبر13شیشہ ڈغار اور یوسی نمبر 6نیچارہ وارڈ نمبر 5 امیری کے خالی نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کو ریٹرننگ افسر کی جانب سے انتخابی نشانات الاٹ کردیئے گئے ہیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6366/2026
نصیرآباد22جولائی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے متعلقہ تعلیمی افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائےاجلاس میں 14 اگست یومِ آزادی پاکستان کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں تقریبات، ملی نغموں، تقاریر، مختلف مقابلہ جات اور پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ طلباء میں حب الوطنی کے جذبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ جبکہ مرکزی اور سب سے بڑی تقریب ضلعی صدر مقام پر منعقد ہوگیڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ہدایت کی کہ تمام تعلیمی ادارے یومِ آزادی کی تقریبات کو منظم، بھرپور اور قومی جذبے کے ساتھ منعقد کریں اور اس ضمن میں مکمل تیاری کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نئی نسل میں قومی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا اس موقع کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6367/2026
کوئٹہ:22 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان نے ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت پولیس تھانہ صدر میں جاری تعمیراتی و مرمتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا اور منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا دورے کے دوران ایس ایچ او تھانہ صدر محمد خان نے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی پولیس کو جاری ترقیاتی اور مرمتی کاموں کے مختلف مراحل، تعمیراتی معیار، دستیاب سہولیات اور منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا مقصد تھانے کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا، پولیس اہلکاروں کے لیے بہتر دفتری ماحول فراہم کرنا اور عوام کو معیاری پولیس خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان نے تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی و مرمتی کاموں کے معیار، شفافیت اور پائیداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام اور پولیس فورس جلد از جلد بہتر سہولیات سے مستفید ہو سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری پولیس خدمات کی فراہمی اور پولیس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو بہتر سہولیات اور جدید ورکنگ ماحول کی فراہمی سے نہ صرف ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور قانون کی عملداری کو مزید موثر بنایا جا سکے گا ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ نے بھی اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا اور متعلقہ حکام مسلسل نگرانی جاری رکھیں گے تاکہ تمام کام اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہوں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کرتے ہوئے منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6368/2026
کوئٹہ: 22 جولائی ۔ ایس پی ٹریفک صدر کوئٹہ سید عاصم علی شاہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شہر میں جاری ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کے باعث مختلف شاہراہوں اور اہم چوراہوں پر ٹریفک کا دباو معمول سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، لہٰذا عوام ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کریں انہوں نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ شہر کے مختلف مقامات پر جاری تعمیراتی کاموں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے، تاہم ٹریفک پولیس شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے اور ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنانے کے لیے دن رات اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے ایس پی ٹریفک صدر نے کہا کہ فیضی چوک سمیت مختلف مقامات پر ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی موثر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کا عملہ تمام اہم شاہراہوں، چوراہوں اور مصروف پوائنٹس پر محنت، لگن اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ فرائض سرانجام دے رہا ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے سید عاصم علی شاہ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلاتے وقت اپنی لین میں رہیں، ون وے کی خلاف ورزی سے گریز کریں، غیر ضروری اوور ٹیکنگ نہ کریں اور ٹریفک اہلکاروں کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کا تعاون ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور حادثات کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور قانون کی پاسداری ہی محفوظ سفر کی ضمانت ہے۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے شہر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6369/2026
ژوب22جولائی ۔ کمشنر ژوب ڈویژن آصف علی فرخ نے اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید عالم کے ہمراہ تورہ خولہ کے بارش سے متاثرہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور حالیہ شدید بارشوں اور برساتی ریلوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران کمشنر نے متاثرہ رابطہ سڑکوں، آبگاہوں، ندی نالوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں، خصوصاً مواصلات و تعمیرات، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ رابطہ سڑکوں کی بحالی، ملبہ ہٹانے اور آمدورفت کی جلد از جلد بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہعلاقوں کے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کمشنر آصف علی فرخ نے کہا کہ حکومت بلوچستان بارش سے متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کے لیے پرعزم ہے اور متاثرین کی بحالی، ریلیف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی جا رہی ہے۔اس موقع پر کمشنر نے بارش سے متاثرہ خاندانوں میں راشن، خیمے، کمبل اور دیگر ضروری امدادی سامان بھی تقسیم کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔دورے کے دوران کمشنر آصف علی فرخ نے بارش کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو سالہ بچے کے اہل خانہ سے ملاقات کی، مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ برساتی ندی نالوں کی مسلسل نگرانی، نشیبی علاقوں کی صورتحال پر کڑی نظر اور ہنگامی مشینری کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں سے دور رہیں اور ضلعی انتظامیہ کی جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6370/2026
نصیرآباد22جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے آج ڈائریکٹر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نصیرآباد عبدالرحیم بلوچ نے ان کے دفتر میں ملاقات کی ملاقات کے دوران ڈائریکٹر بی آئی ایس پی نے ضلع بھر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت، ادائیگی کے طریقہ کار، درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک اہم فلاحی منصوبہ ہے جس کا مقصد غریب، نادار اور مستحق طبقات خصوصاً خواتین کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے انہوں نے ہدایت کی کہ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی رقوم کی ادائیگی مکمل شفافیت کے ساتھ یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی، کٹوتی یا تاخیر کی شکایت سامنے نہ آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائیں کہ مستحق خواتین کو ان کی رقوم بغیر کسی دشواری، دباو یا اضافی اخراجات کے بروقت مل سکیں اس کے ساتھ ساتھ ادائیگی مراکز پر نظم و ضبط برقرار رکھا جائے اور خواتین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ اگر کسی بھی سطح پر شکایات موصول ہوں تو ان کا فوری ازالہ کیا جائے اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ حکومتی امداد حقیقی حقداروں تک بروقت اور شفاف انداز میں پہنچ سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6371/2026
گوادر/پسنی: 22جولائی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہریوں کو فلاحی سہولیات، معاشرتی بحالی اور منشیات سے پاک صحت مند معاشرے کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ گوادر متحرک ہے۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے متعلقہ افسران کے ہمراہ پسنی میں قائم ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی پی او پولیس ملک احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سینٹر کی عمارت، دستیاب سہولیات، بنیادی انفراسٹرکچر اور بحالیِ مریضاں کے لیے درکار انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سینٹر کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات اور درکار سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ منشیات کے عادی افراد کو علاج، بحالی اور معاشرے کا باوقار اور مفید شہری بنانے کے لیے موثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کی روشنی میں ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کو جلد فعال کیا جائے گا۔ اس اقدام سے ضلع میں منشیات کے خاتمے، نوجوانوں کی بحالی اور معاشرتی اصلاح کے حکومتی اقدامات کو مزید تقویت ملے گی۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست ویژن کے تحت شہریوں کو صحت مند، محفوظ اور مثبت سماجی ماحول کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جبکہ منشیات کے تدارک اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6372/2026
نصیرآباد22جولائی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے متعلقہ تعلیمی افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائےاجلاس میں 14 اگست یومِ آزادی پاکستان کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں تقریبات، ملی نغموں، تقاریر، مختلف مقابلہ جات اور پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ طلباء میں حب الوطنی کے جذبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ جبکہ مرکزی اور سب سے بڑی تقریب ضلعی صدر مقام پر منعقد ہوگی.ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ہدایت کی کہ تمام تعلیمی ادارے یومِ آزادی کی تقریبات کو منظم، بھرپور اور قومی جذبے کے ساتھ منعقد کریں اور اس ضمن میں مکمل تیاری کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نئی نسل میں قومی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا اس موقع کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 22جولائی 2026:نوشکی پولیس کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے موثر اقدامات۔ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی کی سربراہی میں صدر تھانہ نوشکی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پولیس افسران،انجمن تاجران اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سماجی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔شرکائنے منشیات فروشی ، پولیسنگ، امن و امان اور دیگر عوامی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے موثر کارروائی کرنے پر زور دیا۔ ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی نے شہریوں کی شکایات سنیں اور متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے فوری اقدامات کیے جس سے کئی شکایات کا فوری ازالہ ممکن بنایا گیا۔اس موقع پر ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز سمیت پولیس کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ان کے مسائل کا حل پولیس کی اولین ترجیح ہے کھلی کچہریوں کا مقصد شہریوں کو براہِ راست اپنی شکایات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6373/2026
کوئٹہ 22 جولائی۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ اور اسکے مضافات میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ، پانی کی قلت، صفائی کی ابتر صورتحال اور خاصکر منشیات کا بڑھتا ہوا خطرہ فوری اور مربوط اقدامات کے متقاضی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کے مضافاتی علاقوں کے تواتر ساتھ دورے کریں کیونکہ گڈ گورننس کا آغاز ہی عام شہریوں کی آواز سننے سے ہوتا ہے۔ کوئٹہ محض ایک شہر نہیں ہے بلکہ یہ پورے صوبے کا انتظامی، سیاسی، تعلیمی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ کوئٹہ کے مسائل کا حل کئی حوالوں سے آدھے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ کے مضافات میں اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہمارے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ہر گھر کو پینے کے صاف پانی کی غیرضروری مشکلات کے بغیر رسائی یقینی بنائیں۔ اسی طرح بجلی کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ شہریوں، تاجروں، طلبائ اور چھوٹے کاروباریوں کیلئے مایوسی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام جب بھی بحالی یا ناگزیر بندش واقع ہو تو بروقت معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ صاف ستھرا شہر ذمہ دارانہ طرزحکمرانی اور صحتمند معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ ماحولیاتی صفائی کا براہ راست تعلق عوامی صحت اور شہری زندگی کے معیار سے ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ منشیات کی لت معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اس خطرے سے بچانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی. کوئٹہ کی تاریخی خوبصورتی، صفائی، امن اور وقار کو بحال کرنا محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی مشن ہے جس میں حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور ہر ذمہ دار شہری کا تعاون درکار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6374/2026
کوئٹہ:22 جولائی ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ناقص اور مضر صحت خوراک کے خلاف جاری کریک ڈاون کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ ایئرپورٹ کے قریب خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر ملتان سے آنے والی مسافر بس نمبر BSB-743 سے بڑی مقدار میں ناقص مرغی کا گوشت برآمد کر لیا۔ بروقت کارروائی کے باعث مضر صحت گوشت کی شہر بھر میں سپلائی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔کارروائی ڈائریکٹر آپریشنز فخر الدین مری کی سربراہی میں گئی جن کے مطابق برآمد شدہ گوشت کو انتہائی نامناسب، غیر صحت بخش اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی طریقے سے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا تھا، جسے بعد ازاں مختلف ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر خوراک کے مراکز کو سپلائی کیے جانے کا خدشہ تھا۔ بروقت کارروائی سے شہریوں کو ممکنہ صحت عامہ کے سنگین خطرات سے محفوظ بنایا گیا۔دوسری جانب بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں روزمرہ نگرانی مہم کے تحت کوئٹہ، پنجگور، ڈیرہ اللہ یار، لورالائی اور لسبیلہ میں بھی فوڈ سیفٹی ٹیموں کے ذریعے مختلف بیکریز، بیکنگ یونٹس، جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، پکوان ہاو¿سز اور دیگر خوراک کے مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ فوڈ سیفٹی قوانین، صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر 25 خوراک کے مراکز کو جرمانے جبکہ 26 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔معائنوں کے دوران فوڈ بزنس آپریٹرز کو صفائی، خوراک کی محفوظ تیاری، مناسب ذخیرہ اندوزی، معیاری خام مال کے استعمال اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مقررہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ناقص، مضر صحت اور ملاوٹی خوراک کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری رہے گا اور عوامی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ مرغی کا گوشت خریدتے وقت حتیٰ الامکان اپنے سامنے مرغی ذبح اور کٹوائیں جبکہ مشکوک یا غیر معیاری خوراک کی فروخت کی فوری اطلاع بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ بروقت قانونی کارروائی کے ذریعے انسانی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6375/2026
کوئٹہ، 16 جولائی: محکمہ خزانہ حکومتِ بلوچستان نے سرکاری محصولات کی وصولی کے نظام کو جدید، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے بلوچستان ای پے (B-Pay) کو صوبے میں تمام سرکاری وصولیوں کے لیے خصوصی ڈیجیٹل ریونیو پلیٹ فارم قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے بلوچستان پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2020 (ترمیمی ایکٹ 2026) کے تحت باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق بی پے (Balochistan E-Pay) حکومتِ بلوچستان کا مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہوگا، جس کے ذریعے تمام سرکاری محصولات کے لیے پیمنٹ سسٹم آئیڈینٹیفکیشن نمبر (PSID) اور ڈیجیٹل چالان جاری کیے جائیں گے، جبکہ ادائیگیوں کی پراسیسنگ، سیٹلمنٹ، ریکنسیلی ایشن اور ریکارڈ کی تکمیل بھی اسی نظام کے تحت انجام پائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6376/2026
سیوی22 جولائی ۔کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض کی زیرِ صدارت مون سون بارشوں کے پیشِ نظر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، حفاظتی اقدامات اور کنٹیجنسی پلان کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، محکمہ ایریگیشن، محکمہ ایگریکلچر انجینئر نگ ، محکمہ لائیو سٹاک کے نمائندگان جبکہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی ساوتھ اور ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ڈی واٹرنگ پمپس، ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر ضروری مشینری مکمل طور پر تیار رکھی گئی ہے جبکہ حساس اور نشیبی مقامات پر ڈوزرز اور ٹریکٹرز بھی تعینات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ممکنہ بارشوں کی صورت میں سات ریلیف کیمپس بھی قائم کرنے کے لیے مقامات کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کچھی اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی نے بھی اپنے اپنے اضلاع میں کیے گئے حفاظتی اقدامات، مشینری کی دستیابی، ریسکیو انتظامات اور ریلیف پوائنٹس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر کچھی نے بتایا کہ مچھ کے علاقے میں کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور بارشوں کے دوران انہیں کانوں میں نہیں رہنے دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع کچھی میں 11 ریلیف پوائنٹس کی نشاندہی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے کہا کہ مون سون بارشوں کے دوران انسانی جانوں اور مال مویشی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے محکمہ لائیو سٹاک کو ہدایت کی کہ مالداروں میں احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات سے متعلق بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ مال مویشی کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ کمشنر سیوی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ اسسٹنٹ کمشنرز کو فوری طور پر حساس اور نشیبی علاقوں کا دورہ کرنے کی ذمہ داریاں سونپی جائیں، مقامی آبادی کو ندی نالوں کے قریب رہائش کے خطرات سے آگاہ کیا جائے اور بارشوں سے قبل محفوظ مقامات پر منتقلی کے حوالے سے بھرپور شعور بیدار کیا جائے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ دو روز کے اندر اپنی تیاریوں اور اقدامات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرکے انسانی جانوں اور املاک کے ساتھ ساتھ مال مویشی کے نقصانات سے بھی بچا جا سکے۔اجلاس کے دوران کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے ڈویژنل ڈائریکٹر صحت کو ہدایت کی کہ مون سون بارشوں کے پیشِ نظر ڈویژن بھر کے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (MSs) کو پابند بنایا جائے کہ وہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات، خصوصاً سانپ کے کاٹنے (Snake Bite) کے علاج کے لیے مطلوبہ ادویات اور ویکسین کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ایمبولینس سروسز، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملہ ہر وقت ہائی الرٹ رہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو فوری اور موثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔کمشنر سیوی نے محکمہ ایریگیشن کو ہدایت کی کہ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے ممکنہ اسٹوریج ڈیمز کے مقامات کی نشاندہی کی جائے تاکہ مستقبل میں پانی ذخیرہ کرنے کے موثر منصوبوں پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6377/2026
نصیرآباد22جولائی ۔:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ممکنہ پری مون سون بارشوں کے پیش نظر پورے ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پیشگی حفاظتی اقدامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا ہے کہ ایریگیشن، زرعی انجینئرنگ، محکمہ زراعت، لائیو اسٹاک، بلڈنگز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت تمام متعلقہ محکموں کو اپنی مشینری، افرادی قوت اور وسائل کے ساتھ مکمل طور پر متحرک رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ حساس اور نشیبی علاقوں میں مشینری بھی الرٹ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر معمولی بارشوں کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اضلاع میں محفوظ مقامات کی نشاندہی کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو فوری طور پر منتقل کیا جا سکے۔ کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود فیلڈ میں رہ کر حفاظتی انتظامات، نکاسی آب، مشینری کی دستیابی اور دیگر ضروری امور کی مسلسل نگرانی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے ڈویژنل انتظامیہ چوبیس گھنٹے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے مکمل طور پر تیار ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6378/2026
کوئٹہ: 22 جولائی ۔ایس پی ٹریفک صدر کوئٹہ سید عاصم علی شاہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شہر میں جاری ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کے باعث مختلف شاہراہوں اور اہم چوراہوں پر ٹریفک کا دباو معمول سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، لہٰذا عوام ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کریں انہوں نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ شہر کے مختلف مقامات پر جاری تعمیراتی کاموں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے، تاہم ٹریفک پولیس شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے اور ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنانے کے لیے دن رات اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے ایس پی ٹریفک صدر نے کہا کہ فیضی چوک سمیت مختلف مقامات پر ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی موثر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کا عملہ تمام اہم شاہراہوں، چوراہوں اور مصروف پوائنٹس پر محنت، لگن اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ فرائض سرانجام دے رہا ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے سید عاصم علی شاہ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلاتے وقت اپنی لین میں رہیں، ون وے کی خلاف ورزی سے گریز کریں، غیر ضروری اوور ٹیکنگ نہ کریں اور ٹریفک اہلکاروں کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کا تعاون ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور حادثات کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور قانون کی پاسداری ہی محفوظ سفر کی ضمانت ہے۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے شہر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6379/2026
کوئٹہ:22 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان نے ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت پولیس تھانہ صدر میں جاری تعمیراتی و مرمتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا اور منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا دورے کے دوران ایس ایچ او تھانہ صدر محمد خان نے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی پولیس کو جاری ترقیاتی اور مرمتی کاموں کے مختلف مراحل، تعمیراتی معیار، دستیاب سہولیات اور منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا مقصد تھانے کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا، پولیس اہلکاروں کے لیے بہتر دفتری ماحول فراہم کرنا اور عوام کو معیاری پولیس خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان نے تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی و مرمتی کاموں کے معیار، شفافیت اور پائیداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام اور پولیس فورس جلد از جلد بہتر سہولیات سے مستفید ہو سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری پولیس خدمات کی فراہمی اور پولیس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو بہتر سہولیات اور جدید ورکنگ ماحول کی فراہمی سے نہ صرف ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور قانون کی عملداری کو مزید موثر بنایا جا سکے گا ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ نے بھی اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا اور متعلقہ حکام مسلسل نگرانی جاری رکھیں گے تاکہ تمام کام اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہوں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کرتے ہوئے منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6380
کوئٹہ 22جولائی:۔صوبائی حکومت کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے ایس پی ٹریفک کے ہمراہ پشتونستان چوک میں انسدادِ تجاوزات آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران سڑک اور راستے تھڑوں پر قائم تجاوزات، ریڑھیاں اور دیگر عارضی رکاوٹیں ہٹا دی گئیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔انتظامیہ نے کہا کہ شہر بھر میں تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی تھی اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا تھا۔ کارروائی کے دوران پورے علاقے کو کلیئر کر کے ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی لہذا دکاندار حضرات اپنے سامان دکان کے اندر یا اس کے حدود میں رکھے فٹ پاتھ یا باہر رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کا عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6381
نصیرآباد22 جولائی:ـڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی خصوصی ہدایت پر تحصیلدار صحبت پور دیدار علی گولا کی سربراہی میں شہر کے مرکزی بازار میں تجاوزات کے خلاف ایک بھرپور اور منظم آپریشن کیا گیا اس کارروائی کا بنیادی مقصد عوام الناس کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا، بازار کے ماحول کو کشادہ اور منظم بنانا، اور شہری نظم و ضبط کو یقینی بنانا تھا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑےآپریشن کے دوران مجموعی طور پر 59 تجارتی یونٹس کا تفصیلی معائنہ کیا گیا، جن میں دکانیں، ریڑھیاں اور دیگر کاروباری مراکز شامل تھے۔ تجاوزات کے زمرے میں آنے والی 10 ریڑھیاں فوری طور پر ہٹا دی گئیں، جبکہ 7 غیر قانونی ہورڈنگز اور سائن بورڈز کو بھی موقع پر ہی اتار دیا گیا جو سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رکاوٹ کا باعث بن رہے تھےمزید برآں، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 6,700 روپے جرمانہ عائد کیا گیا اس کے علاوہ 12 دکانداروں کو سختی سے تنبیہ کی گئی کہ آئندہ کسی بھی قسم کی تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صحبت پور نے اپنے بیان میں کہا کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹریفک کی روانی، شہری سہولیات کی بہتری اور بازاروں کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہےانہوں نے تاجر برادری اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سرکاری اراضی، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تجاوزات سے مکمل اجتناب کریں اور ایک صاف، منظم اور خوشحال شہر کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6382
زیارت22جولائی:ـڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر زیارت شیر شاہ غلزئی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈاکٹر محمد انور مندوخیل، خزانہ افسر علی اصغر،ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی، ایم ایس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سنجاوی ڈاکٹر نورالباقی، ڈرگ انسپکٹر محمد عدیل، امین اللہ اور فرمان اللہ نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں محکمہ صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر اور فعال بنانے کے حوالے سے مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران غیر حاضر ڈاکٹرز اور عملے کی تنخواہوں سے کٹوتی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے ڈی ایچ او ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں کے دورے کئے جائیں اور ہسپتالوں کو مزید فعال کیا جائے سنجاوی اور زیارت کے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز چوبیس گھنٹے اپنی الرٹ رہ کر عوام کی خدمت کریں انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی غیر موجودگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی
خبر نامہ نمبر 2026/6382
اوتھل22 جولائی :_ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی (DEA) لسبیلہ کا اہم اجلاس ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) لسبیلہ مسعود حلیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اتھارٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی اجلاس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) نوید احمد ہاشمی، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر لسبیلہ کامران ۔ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے نمائندے محمد سلیم، ڈی ڈی او ای بیلہ سید حسن شاہ، ڈی ڈی او ای اوتھل محمد عطار، ڈی ڈی او ای (خواتین) مس شمیم عزیز اور سپرنٹنڈنٹ ڈی ای او آفس محمد حسین بھی موجود تھے اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم لسبیلہ کے مختلف انتظامی اور سروس سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ریٹائرمنٹ، پنشن، جنرل پروویڈنٹ فنڈ (GPF)، رخصت اور دیگر محکمانہ معاملات پر غور کے بعد متعدد اہم کیسز کی متفقہ منظوری دی گئی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لسبیلہ مسعود حلیم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اتھارٹی کی جانب سے کیے گئے تمام فیصلوں پر مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق فوری اور مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ محکمہ تعلیم کے ملازمین کے جائز مسائل بروقت حل ہوں اور محکمانہ امور میں شفافیت، میرٹ اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور محکمہ تعلیم کی بہتری اور ملازمین کی فلاح کے لیے باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دینے کی ضرورت پر زور دیا.









