خبر نامہ نمبر8071/2026
بارکھان21 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی زیرِ صدارت ضلع بارکھان میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو میٹنگ (ERM) منعقد ہوئی۔
اجلاس میں پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی، ٹیموں کی حاضری، فیلڈ سرگرمیوں، بچوں کی ویکسینیشن کوریج اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسان الدین کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حسن ڈومکی، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر/WHO ڈاکٹر ناصر خان کھیتران، ڈی ایم پی پی ایچ آئی غلام رسول کھیتران سمیت متعلقہ افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کو موثر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام ٹیمیں فیلڈ میں بھرپور انداز میں خدمات انجام دیں اور پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ٹیموں کی موثر مانیٹرنگ اور کم کوریج والے علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس میں مختلف یونین کونسلز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ فیلڈ میں درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے موثر اقدامات جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8072/2026
پسنی21 ستمبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی زیرِ صدارت قومی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیو ٹیموں کی فیلڈ کارکردگی، مہم کی پیش رفت اور مقررہ اہداف کے حصول کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں بچوں کی ویکسینیشن کوریج اور فیلڈ سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے موثر انداز میں فرائض انجام دیے جائیں انہوں نے کہا کہ فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے اور ٹیموں کی ذمہ دارانہ کارکردگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ہر اہل بچے تک رسائی اور ویکسینیشن یقینی بنانا ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8073/2026
گوادر/پسنی 22 ستمبر۔عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی عوامی فلاح، گڈ گورننس اور موثر انتظامی نظام کی پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی زیرِ صدارت پسنی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں مختلف محکموں کے افسران، لوکل باڈیز کے نمائندگان اور شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہریوں نے اپنے مسائل اور تجاویز انتظامیہ کے سامنے پیش کیں، جبکہ مختلف عوامی نوعیت کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔کھلی کچہری میں پسنی کالج کے مسائل، انسدادِ منشیات کے موثر اقدامات، شہر میں سیوریج لائن کے مسائل، پسنی جیٹی کی مرمت و بحالی، تعلیم و صحت سمیت دیگر اہم عوامی مسائل زیرِ بحث آئے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو شہریوں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات اور موثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق عوامی مسائل کا بروقت ازالہ اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور مسائل کے حل کے لیے موثر انتظامی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8074/2026
گوادر 22 ستمبر ۔قومی انسدادِ پولیو مہم گوادر، سر بندن جیوانی، گنز ،پیشکان پسنی اور اورماڑہ میں گھر گھر ویکسینیشن کا عمل جاری قومی انسداد پولیو مہم کے تحت ضلع گوادر کے مختلف علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیموں کی جانب سے پانچ سال تک عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر مقررہ اہداف کے مطابق بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنا رہی ہیں۔ضلعی آفیسر صحت گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیو مہم کی فیلڈ مانیٹرنگ اور ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا، جبکہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر جہانزیب خان نے کلانچی پاڑہ میں مہم کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے ویکسینیشن سرگرمیوں کا جائزہ لیا اس طرح تحصیلدار جیوانی محمد اعظم خان نے بھی شہر کے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی اور بچوں کی ویکسینیشن کا جائزہ لیا۔ پسنی اور اورماڑہ میں بھی محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال تک عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا رہی ہیں۔مانیٹرنگ کے دوران ٹیموں کی حاضری، گھر گھر رسائی، بچوں کی ویکسینیشن اور رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی سمیت مہم کے مقررہ اہداف کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8075/2026
نصیرآباد 22 ستمبر استا محمد۔۔ ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر ربنواز سومرو نے کہا ہے کہ ضلع استا محمد میں جدید سہولیات سے آراستہ ویٹرنری ہسپتال کے قیام سے علاقے کے مالداروں اور مویشی پال حضرات کو اپنے جانوروں کے علاج معالجے تشخیص اور سرجری سمیت دیگر ضروری طبی سہولیات مقامی سطح پر میسر آ رہی ہیں، جس سے انہیں اپنے بیمار جانوروں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ ضلع استا محمد کے علاقے کوٹ نور محمد جمالی میں نئی تعمیر ہونے والی جدید ویٹرنری ہسپتال کا باقاعدہ افتتاح کیا انہوں نے کہا کہ اس جدید ویٹرنری ہسپتال کی تکمیل صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی کاوشوں اور دلچسپی کا نتیجہ ہے جس پر علاقے کے مالداروں اور مویشی پال افراد میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے ڈاکٹر ربنواز سومرو نے یہ باتیں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویڑنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد نیک محمد سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں انہوں نے بتایا کہ ضلع استا محمد میں قائم کیا گیا یہ جدید ویٹرنری ہسپتال نصیرآباد ڈویژن میں اپنی نوعیت کا منفرد اور اہم ادارہ ہے جبکہ بلوچستان کے چند جدید ویٹرنری ہسپتالوں میں اس کا شمار ہوتا ہے انہوں نے بتای کہ ہسپتال میں جانوروں کی بیماریوں کی بہتر تشخیص اور علاج کے لیے جدید ویٹرنری لیبارٹری، سرجیکل سیکشن، الٹراساو¿نڈ سسٹم جانوروں کا وزن کرنے کی جدید مشین اور دیگر ضروری شعبے قائم کیے گئے ہیں، جہاں مویشیوں کو جدید طبی اصولوں کے مطابق علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ان سہولیات کی بدولت مالداروں کو اپنے قیمتی مویشیوں کے علاج اور بیماریوں کی بروقت تشخیص میں نمایاں مدد ملے گی ڈاکٹر ربنواز سومرو نے بتایا کہ انہوں نے چین سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور جانوروں کی مختلف بیماریوں کی تشخیص علاج اور جدید ویٹرنری طریقہ کار کے حوالے سے علمی و عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ہسپتال میں دستیاب سہولیات کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے مال مویشیوں کی صحت کے مسائل پر قابو پانے اور مویشی پال افراد کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ مال مویشی پالنے سے وابستہ ہیں اور ان کا روزگار بڑی حد تک مویشیوں سے منسلک ہے، اس لیے جانوروں کی بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف مالداروں کے معاشی مفادات کے لیے ضروری ہے بلکہ علاقے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہےڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک نے ہسپتال میں اسٹاف کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جدید انفراسٹرکچر اور طبی سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق تربیت یافتہ اور فنی اسٹاف کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اگر ہسپتال کو مطلوبہ افرادی قوت فراہم کر دی جائے تو یہ ادارہ علاقے کے مالداروں اور مویشی پال افراد کو مزید بہتر اور موثر خدمات فراہم کرتے ہوئے نمایاں نتائج دے سکتا ہے انہوں نے کہا کہ جدید ویٹرنری ہسپتال کی فعالیت میں اضافے ضروری اسٹاف کی فراہمی اور جدید سہولیات کے موثر استعمال سے ضلع استا محمد سمیت نصیرآباد ڈویڑن کے مالداروں کو جانوروں کے علاج معالجے کی معیاری سہولیات ان کی دہلیز کے قریب میسر آسکیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8076/2026
اورماڑہ22 ستمبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اورماڑہ، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہ بن اور بوائز پرائمری اسکول کوہ بن کا دورہ کیا، جہاں پر انہوں نے اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں، اسکول کے انفراسٹرکچر اور دستیاب بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کرتے ہوئے تعلیمی ماحول اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی، حاضری میں بہتری اور تدریسی سرگرمیوں کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اسسٹنٹ کمشنر نے اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام و انتظامیہ کو ضروری اقدامات اور سروس ڈلیوری میں بہتری کے لیے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سازگار اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8081/2026
کوئٹہ۔22 ستمبر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آپریشن شعبان 2 کے تحت ساران تنگی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد ہلاک جبکہ 9 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کارروائی کے ذریعے دہشتگرد عناصر کے خلاف اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل قدر ہیں اور ریاستی ادارے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی، قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8082/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں انسدادِ پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ داخلہ بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ شہید پولیس اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے، ان کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ واقعے کے محرکات اور اس میں ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ متعلقہ ادارے واقعے کے تمام پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم بچوں کو ایک خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے کی قومی کاوش ہے، اس مہم سے وابستہ ٹیموں کی حفاظت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8083/2026
کوئٹہ22 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں پولیو مہم کی ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعے میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے شاہد رند نے کہا کہ پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دلی رنج ہے انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت اور پولیس شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے شاہد رند نے کہا کہ واقعے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے تمام پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8084/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، ساران تنگی کے علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد ہلاک جبکہ 9 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شعبان 2 کے تحت دہشتگرد عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جبکہ 9 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔معاون وزیر اعلیٰ برائے اطلاعات نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے لیے ریاستی ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8085/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری تعلیمی اقدامات اور مختلف اسکالرشپ اسکیمز کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی گئی۔اس موقع پر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا استقبال کیا اور انہیں ادارے کے مختلف امور، اسکالرشپ پروگرامز اور طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ صوبے کے باصلاحیت، مستحق اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرامز پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ ان پروگرامز کا مقصد مالی معاونت کے ذریعے طلبہ و طالبات کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع کو بہتر بنانا ہے اس موقع پر ادارے کی مختلف اسکالرشپ اسکیمز اور ان کے دائرہ کار کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ مکمل مالی معاونت پر مبنی ضلعی ٹاپر اسکالرشپ کے تحت ہر ضلع کی سطح پر نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو مکمل مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ اپنی تعلیم کو مزید آگے بڑھا سکیں۔ٹرانس جینڈر اسکالرشپ کے ذریعے ٹرانس جینڈر طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور ان کی تعلیمی ضروریات میں معاونت کے لیے وظائف دیے جاتے ہیں، جبکہ سول شہداء اسکالرشپ کے تحت سول شہداء کے بچوں کو تعلیمی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں مکمل مالی معاونت پر مبنی صادق پبلک اسکول اسکالرشپ کے ذریعے منتخب باصلاحیت طلبہ کو صادق پبلک اسکول میں معیاری تعلیم کے حصول کے لیے مکمل مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ کیڈٹ ایکسیلینس اسکالرشپ کے تحت کیڈٹ کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے نمایاں اور باصلاحیت طلبہ کی تعلیمی معاونت کی جاتی ہے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی صوبے سے باہر اسکالرشپ کے ذریعے بلوچستان کے ایسے طلبہ کو معاونت فراہم کی جاتی ہے جو صوبے سے باہر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی سہولت میسر ہو۔ اسی طرح جزوی مالی معاونت پر مبنی اسکالرشپ کے تحت اہل طلبہ کو تعلیمی اخراجات کی مد میں جزوی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے ادارے کے اسکالرشپ نظام، طلبہ کی سہولت، میرٹ پر مبنی طریقہ کار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اسکالرشپ اسکیمز کا مقصد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی جانب سے طلبہ و طالبات کے لیے جاری مختلف اسکالرشپ پروگرامز اور تعلیمی اقدامات کو سراہا۔ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر مسرت و اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا صوبے کے روشن مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی وظائف کی فراہمی میں میرٹ، شفافیت اور مستحق طلبہ تک رسائی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے مختلف شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اور ادارے کے انتظامی و تعلیمی امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت اور اسکالرشپ پروگرامز کے حوالے سے ادارے کی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے افسران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ادارے کی موجودہ سرگرمیوں، اسکالرشپ پروگرامز اور بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی مواقع کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8086/2026
کوئٹہ: 22 ستمبر۔پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی رہنما و صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک بیان میں نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا کہ انسداد پولیو ٹیم پر حملہ بلوچستان کے مستقبل کے معماروں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر بچوں کو معذوری سے بچانے کے لیے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ صوبائی مشیر نوابزدہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا کہ بلوچستان کے بچوں کو محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کرنے کے لیے انسداد پولیو ٹیمیں دن رات کوشاں ہیں۔ بچوں کو بیماریوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر انسانیت کے تقاضوں سے عاری ہیں۔ صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے مطالبہ کیا کہ افسوسناک واقعے میں ملوث دہشتگردوں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور پولیو ورکرز سمیت حفاظتی اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8087/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔ وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ کیچ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تربت مند روڈ منصوبے کی صورت میں پورا ہو رہا ہے اور اس اہم منصوبے پر معیاری کام جاری ہےمیر ظہور احمد بلیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تربت مند روڈ جنوبی بلوچستان میں رابطہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم منصوبہ ہے۔ بلوچستان حکومت صوبے بھر میں معیاری روڈ انفراسٹرکچر کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جنوبی بلوچستان کے عوام کو بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے کیچ اور جنوبی بلوچستان میں آمدورفت اور رابطہ کاری میں بہتری آئے گی اور خطے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8088/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی سربراہی میں صوبے میں جدید پولیسنگ کے فروغ اور امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس کے مختلف اضلاع، اہم یونٹس اور شعبوں کو مجموعی طور پر 865 موٹر سائیکلیں فراہم کردی گئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق موٹر سائیکلوں کی فراہمی کا مقصد بالخصوص گنجان آباد علاقوں، تنگ راستوں اور دشوار گزار مقامات پر پولیس گشت، فوری رسپانس اور فیلڈ کارکردگی کو مزید موثر بنانا ہے۔ اس اقدام سے پولیس اہلکاروں کی بروقت رسائی اور کارروائی میں بہتری کے ساتھ وقت اور ایندھن کی بچت بھی ممکن ہوگی۔حکام کے مطابق پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور دور دراز علاقوں میں پولیسنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید آلات اور ضروری وسائل کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ گاڑیوں کے ساتھ موٹر سائیکل گشت کو منظم اور موثر بنانے سے مختلف علاقوں میں پولیس کی موجودگی میں اضافہ ہوگا اور جرائم پیشہ و سماج دشمن عناصر کے خلاف فوری کارروائی میں مدد ملے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان موٹر سائیکلوں کو موبائل گشت، فوری رسپانس اور فیلڈ پولیسنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا جس سے شہری و گنجان آباد علاقوں کے ساتھ ساتھ دور دراز اور دشوار گزار مقامات پر بھی پولیس کی رسائی اور موجودگی کو مزید موثر اور ممکن بنایا جاسکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
نصیرآبادڈویژن16ستمبر۔جعفرآباد:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایت پر ضلع بھر کے مختلف مقامی پیٹرول پمپس پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے نام سے ریلیف بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔اس اقدام کا مقصد عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومتی ریلیف اور اس حوالے سے جاری کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ شہریوں کو پٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے دوران حکومتی پالیسی اور ریلیف سے متعلق مکمل معلومات دستیاب رہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف پیٹرول پمپس پر بینرز کی تنصیب کے عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوامی سہولت اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف کی فراہمی، شفافیت اور حکومتی اقدامات کی موثر تشہیر کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے اقدامات پر عملدرآمد میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8089/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ضلع نوشکی کے علاقہ جمال آباد میں انسدادِ پولیو مہم کی ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر تخریبی کارروائیوں کے ذریعے پولیو جیسے موذی مرض سے معصوم بچوں کو بچانے کے لیے جاری حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ دہشت گرد اپنے بیرونی آقاوں کی ایماء پر بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے ذریعے قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان پر واضح ہو کہ صوبائی حکومت سیکورٹی اداروں کی مدد ان غیر ریاستی عناصر کا جلد صفایا کرے گی۔ انہوں نے واقعہ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ پاک دونوں شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8090/2026
تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں ضلع کیچ کے اسٹیٹ ایجنسی مالکان کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ہاوسنگ اسکیموں کی صورتحال اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسٹیٹ ایجنسی مالکان نے بتایا کہ ضلع کیچ میں اس وقت 32 اسٹیٹ ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جبکہ 150 سے زائد ہاوسنگ اسکیمیں جاری ہیں۔ اس موقع پر ہاوسنگ اسکیموں سے متعلق مختلف امور اور درپیش مسائل سے بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے ہدایت کی کہ ہاوسنگ اسکیموں کے قیام سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور متعلقہ اداروں سے ضروری این او سی حاصل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کو باقاعدہ معاہدوں کا حصہ بنایا جائے تاکہ خریداروں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو۔انہوں نے ہاوسنگ اسکیموں میں سڑکوں اور راستوں کی مناسب منصوبہ بندی، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کے لیے پیشگی جگہ مختص کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی فراہمی کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی جائے اور ایک ہی علاقے میں ضرورت سے زیادہ بور کرنے سے گریز کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے ہاوسنگ اسکیموں میں اسکول، مسجد، قبرستان اور پارک سمیت دیگر عوامی ضروریات کے لیے مناسب جگہ پہلے سے مختص کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ضروری سہولیات، راستوں اور عوامی مقامات کو منصوبہ بندی اور معاہدوں میں واضح طور پر شامل کیا جائے تاکہ مستقبل میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یاسر اقبال دشتی نے ہاوسنگ اسکیموں میں شجرکاری کے فوری آغاز کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نئی آبادیوں میں درختوں کے لیے مناسب جگہ مختص کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہاوسنگ اسکیموں کا مقصد صرف پلاٹوں کی خرید و فروخت نہیں بلکہ شہریوں کو صاف ستھرا، محفوظ اور بنیادی سہولیات سے آراستہ رہائشی ماحول فراہم کرنا بھی ہے، اس لیے منصوبہ بندی میں موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8091/2026
کوئٹہ 22ستمبر۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میر اللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈویژنل کوآرڈینیشن اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، تمام اسسٹنٹ کمشنرز،ٹریفک، محکمہ ایکسائز،فوڈ اتھارٹی بلوچستان، محکمہ ماحولیات،واسا،صفاءکوئٹہ،میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ ڈویژن میں مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور کوآرڈینیشن مزید بہتر بنانے، شہری مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اور منظم کارروائیوں کو یقینی بنانے سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اور ادارے اپنی کارروائیوں کا ہفتہ وار شیڈول مرتب کرکے تین روز کے اندر کمشنر آفس کے ساتھ شیئر کریں گے۔ موصول ہونے والے شیڈول کی روشنی میں ضلع انتظامیہ کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ مختلف محکموں کی کارروائیوں میں باہمی ربط پیدا کرکے انہیں مو¿ثر اور منظم انداز میں انجام دیا جاسکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے سب ڈویڑن کی سطح پر اپنا ایک فوکل پرسن مقرر کریں گے، جو اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا۔ فوکل پرسنز کے ذریعے گرانفروشی، تجاوزات، ٹریفک کے مسائل، پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائی اور دیگر شہری مسائل کے حوالے سے مشترکہ کارروائیوں کو منظم کیا جائے گا۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میر اللہ بادینی نے کہا کہ تمام محکمے اپنے متعلقہ قوانین اور دائرہ کار کے مطابق طے شدہ شیڈول کے تحت کارروائیاں کریں اور ان کارروائیوں کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں کی جائے، تاکہ مختلف اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید موثر بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ اداروں کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرنے کے لیے ایک موثر نظام کے تحت لانا اور شہریوں کو بہتر سروس ڈلیوری فراہم کرنا ہے۔ کوئٹہ شہر میں شہری مسائل کے حل کے لیے تمام محکموں کی مشترکہ اور بروقت کارروائیاں ضروری ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ کوئٹہ کے تمام سب ڈویڑنز میں متعلقہ ڈیپارٹمنٹس اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق کارروائیاں کریں۔ تمام ادارے اپنی ہفتہ وار سرگرمیوں اور کارروائیوں کا باقاعدہ شیڈول تیار کرکے کمشنر آفس کے ساتھ شیئر کریں، جبکہ طے شدہ شیڈول کے مطابق کارروائیوں کو موثر بنانے کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز نگرانی اور رابطہ کاری کا عمل یقینی بنائیں۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شہری مسائل کے حل، قانون پر عملدرآمد، تجاوزات کے خاتمے، گرانفروشی کی روک تھام، ٹریفک کی بہتری اور ماحول کے تحفظ سمیت دیگر امور پر تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ کوئٹہ میں انتظامی امور اور سروس ڈلیوری کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8092/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر: کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران مری آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، فیلڈ سرگرمیوں اور مانیٹرنگ کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے مختلف پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور مہم کے دوران جاری فیلڈ سرگرمیوں، بچوں کی کوریج اور ٹیموں کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ لی۔انہوں نے پولیو ٹیموں کی جانب سے مرتب کی جانے والی ایکسل شیٹس کا بھی جائزہ لیا اور بچوں کے فنگر مارکس اور گھروں پر لگائے گئے ہاوس مارکس چیک کیے۔کمشنر ذیشان لاشاری نے پولیو سے انکار کرنے والے والدین اور خاندانوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں پولیو کے قطروں کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے پر قائل کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انکاری خاندانوں کو بھی موثر انداز میں کور کیا جائے اور کسی بھی بچے کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے پولیو ٹیموں کو سو فیصد کوریج یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری ذمہ داری اور موثر انداز میں انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ذیشان لاشاری نے متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں اور مہم کے دوران انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں، تاکہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ امیر حمزہ اور ڈپٹی ڈی ایچ او سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی ہمراہ تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8093/2026
تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی کی زیرِ صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی تربت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کو ریلیف کی فراہمی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد اور شہر میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر حاجی کریم، حافظ ولی، سبزی و پھل فروشوں کے نمائندے فضل، الداود ہوٹل کے نمائندے، پرائس کنٹرول کمیٹی کے نمائندے نیاز احمد سمیت دیگر متعلقہ نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاءنے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور شہریوں کو درپیش مسائل سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مرغی کے گوشت کی قیمت 700 روپے سے کم کرکے 650 روپے فی کلو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو اشیائے ضروریہ مناسب نرخوں پر فراہم کرنا اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایات کی روشنی میں شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ نمائندگان کو ہدایت کی کہ دکانوں اور ہوٹلوں میں صفائی ستھرائی کے مو¿ثر انتظامات یقینی بنائے جائیں، سرکاری نرخنامہ نمایاں مقامات پر آویزاں کیا جائے اور اشیائے خوردونوش کی خرید و فروخت مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق کی جائے۔اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، گران فروشی اور صفائی کے ناقص انتظامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تربت شہر میں قیمتوں اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کی نگرانی کے لیے باقاعدگی سے معائنہ اور دورے کیے جائیں گے علاوہ ازیں اسسٹنٹ کمشنر ابوبکر میروانی نے ہول سیلرز اور پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندگان کو ہدایت کی کہ ریسٹورنٹس اور گھروں میں ہوم ڈیلیوری کے لیے نامزد کیے گئے کارکنوں کو ضلعی انتظامیہ کیچ کے دفتر میں بھیجا جائے تاکہ ان کے نام باقاعدہ طور پر درج کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی بہتری اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8094/2026
کوئٹہ، 22 ستمبر ۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے بانی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری تعلیمی اقدامات اور مختلف اسکالرشپ اسکیمز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا استقبال کیا اور انہیں ادارے کے مختلف امور، اسکالرشپ پروگرامز اور طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ صوبے کے باصلاحیت، مستحق اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرامز پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ ان پروگرامز کا مقصد مالی معاونت کے ذریعے طلبہ و طالبات کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع کو بہتر بنانا ہے اس موقع پر ادارے کی مختلف اسکالرشپ اسکیمز اور ان کے دائرہ کار کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مکمل مالی معاونت پر مبنی ضلعی ٹاپر اسکالرشپ کے تحت ہر ضلع کی سطح پر نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو مکمل مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ اپنی تعلیم کو مزید آگے بڑھا سکیں۔ٹرانس جینڈر اسکالرشپ کے ذریعے ٹرانس جینڈر طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور ان کی تعلیمی ضروریات میں معاونت کے لیے وظائف دیے جاتے ہیں، جبکہ سول شہداء اسکالرشپ کے تحت سول شہداءکے بچوں کو تعلیمی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں مکمل مالی معاونت پر مبنی صادق پبلک اسکول اسکالرشپ کے ذریعے منتخب باصلاحیت طلبہ کو صادق پبلک اسکول میں معیاری تعلیم کے حصول کے لیے مکمل مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ کیڈٹ ایکسیلینس اسکالرشپ کے تحت کیڈٹ کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے نمایاں اور باصلاحیت طلبہ کی تعلیمی معاونت کی جاتی ہے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی صوبے سے باہر اسکالرشپ کے ذریعے بلوچستان کے ایسے طلبہ کو معاونت فراہم کی جاتی ہے جو صوبے سے باہر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی سہولت میسر ہو۔ اسی طرح جزوی مالی معاونت پر مبنی اسکالرشپ کے تحت اہل طلبہ کو تعلیمی اخراجات کی مد میں جزوی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے بریفنگ کے دوران ادارے کے اسکالرشپ نظام، طلبہ کی سہولت، میرٹ پر مبنی طریقہ کار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اسکالرشپ اسکیمز کا مقصد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی جانب سے طلبہ و طالبات کے لیے جاری مختلف اسکالرشپ پروگرامز اور تعلیمی اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا صوبے کے روشن مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی وظائف کی فراہمی میں میرٹ، شفافیت اور مستحق طلبہ تک رسائی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے مختلف شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اور ادارے کے انتظامی و تعلیمی امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت اور اسکالرشپ پروگرامز کے حوالے سے ادارے کی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے افسران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ادارے کی موجودہ سرگرمیوں، اسکالرشپ پروگرامز اور بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی مواقع کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8095/2026
لورالائی، 22 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی کی سربراہی میں کوئٹہ روڈ پر پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کی گئی۔ آپریشن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کے ایکسین ڈاکٹر گل محمد اور ان کی ٹیم نے بھی حصہ لیا کارروائی کے دوران کوئٹہ روڈ کے مختلف مقامات پر قائم متعدد غیر قانونی پانی کے کنکشنز منقطع کیے گئے، جبکہ سرکاری پانی کی لائنوں سے غیر قانونی طور پر منسلک پائپ لائنوں کو ہٹانے کے لیے مشکل مقامات پرایکسکیویٹر مشین بھی استعمال کی گئی انتظامیہ اور محکمہ PHE کی ٹیموں نے موقع پر پانی کی لائنوں اور کنکشنز کا معائنہ کیا اور غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے والے کنکشنز کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ حکام کے مطابق غیر قانونی کنکشنز کے باعث پانی کی ترسیل کا نظام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ قانونی صارفین کو بھی پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ PHE کے افسران نے کہا کہ شہر میں پانی کی منصفانہ اور بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ سرکاری پانی کی لائنوں سے غیر قانونی طور پر کنکشن حاصل کرنے اور پائپ لائنوں کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی حکام نے واضح کیا کہ پانی ایک بنیادی شہری ضرورت ہے اور اس کی منصفانہ تقسیم کے لیے سرکاری واٹر سپلائی نظام کو غیر قانونی کنکشنز سے پاک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پانی کی لائنوں اور کنکشنز کی نگرانی جاری رکھی جائے اور غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےانتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ پانی کے غیر قانونی کنکشنز سے مکمل طور پر گریز کریں، سرکاری پانی کی لائنوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور پانی کے نظام میں کسی بھی غیر قانونی مداخلت سے اجتناب کریں۔ شہری کسی بھی غیر قانونی کنکشن کی نشاندہی متعلقہ حکام کو کریں تاکہ پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکےضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور تمام علاقوں میں دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے انتظامی اور محکمہ جاتی سطح پر موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8096/2026
شیرانی، 22ستمبر ۔ ضلع شیرانی میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو میٹنگ (ERM) ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔ اجلاس میں پولیو مہم کے پہلے روز کی پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی کوریج، ٹیموں کی حاضری اور فیلڈ میں درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محکمہ صحت، انسدادِ پولیو پروگرام، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو مہم کے دوران مختلف علاقوں میں ٹیموں کی سرگرمیوں، بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کی صورتحال اور کوریج سے متعلق بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک عمر کے ہر بچے تک رسائی اور اسے پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقے یا بچے کا مہم سے رہ جانا قابلِ قبول نہیں ہوگا، اس لیے تمام ٹیمیں اپنے مقررہ علاقوں میں مکمل ذمہ داری اور محنت کے ساتھ خدمات انجام دیں انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی موثر مانیٹرنگ پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے اور جہاں کوریج کم ہو یا بچے رہ گئے ہوں، وہاں فوری طور پر ری وزٹ اور خصوصی ٹیموں کے ذریعے رہ جانے والے بچوں کو ویکسین پلانے کا انتظام کیا جائے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے گھر گھر ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ انکاری والدین، دور دراز علاقوں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں اور مشکل رسائی والے علاقوں پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیلڈ میں ٹیموں کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ مہم کی رفتار متاثر نہ ہو انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور بچوں کو مستقل معذوری سے دوچار کرنے والا مرض ہے، تاہم موثر ویکسینیشن کے ذریعے اس سے بچاو ممکن ہے۔ والدین اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران مانیٹرنگ، ڈیٹا کی درست رپورٹنگ، ٹیموں کی حاضری اور کوریج کے اعداد و شمار میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض کاغذی کارروائی کے بجائے فیلڈ میں حقیقی کوریج کو ترجیح دی جائے تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے اجلاس میں مختلف علاقوں اور یونین کونسلز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور کمزور کارکردگی والے علاقوں میں مزید موثر اقدامات کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع شیرانی میں انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، پولیو پروگرام اور تمام شراکت دار ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا محفوظ مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8097/2026
دکی22ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز III کے تحت منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز اوپن کرنے کا عمل مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف انداز میں مکمل کرلیا گیا۔ ٹینڈر اوپننگ کے موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران، ٹھیکیداران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اس موقع پر ونگ کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، ایکسین روڈز ماجد خان ترین، ایکسین ملک اسد خان ترین، متعلقہ ٹھیکیداران اور دیگر حکام موجود تھے۔ ٹینڈرز کی اوپننگ کے دوران موصول ہونے والی بولیوں اور متعلقہ دستاویزات کا مقررہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ BSDI فیز III کے ترقیاتی منصوبے ضلع دکی میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم پیش رفت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں پر عملدرآمد کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ، معیار اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ ٹینڈر کے عمل کے بعد منصوبوں پر عملی کام شروع ہونے کی صورت میں معیارِ تعمیر، کام کی رفتار، منظور شدہ ڈیزائن، تخمینہ اور تکنیکی specifications کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ سرکاری وسائل کا موثر اور درست استعمال یقینی بنایا جا سکےڈپٹی کمشنر نے ٹھیکیداران کو بھی ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں ناقص یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے گریز کیا جائے اور ہر منصوبہ مقررہ معیار اور منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور کام کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائےانہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو براہِ راست ریلیف اور دیرپا سہولیات فراہم کرنا ہے، اس لیے منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے رفتار کے ساتھ ساتھ معیار پر بھی خصوصی توجہ دی جائےڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی فیلڈ میں مسلسل مانیٹرنگ کی جائے، کام کے مختلف مراحل کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے اور کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی رکاوٹ کی صورت میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت مسئلے کا حل نکالا جا سکےانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ BSDI فیز III کے تحت جاری اور آئندہ شروع ہونے والے منصوبوں کی نگرانی جاری رکھے گی تاکہ عوامی مفاد میں مختص فنڈز کو شفاف انداز میں استعمال کرتے ہوئے معیاری ترقیاتی کام مکمل کیے جا سکیں ٹینڈر اوپننگ کے عمل کے اختتام پر متعلقہ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ BSDI فیز III کے منصوبوں کو مقررہ قواعد، شفاف طریقہ کار اور اعلیٰ معیار کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ ضلع دکی میں سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر عوامی سہولیات کے نظام میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8098/2026
برشور :22 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں پاک فوج،پولیس,قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفسران سمیت حساس اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس کے دوران ضلع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال،سرحدی امور اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنانے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،ڈپٹی کمشنر نے حساس مقامات اور داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور امن کی بحالی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،اجلاس میں ضلع کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے افیون اور بھنگ کی غیر قانونی کاشت کے خلاف سخت کریک ڈاون کا فیصلہ بھی کیا گیا،ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے احکامات جاری کیے کہ ممنوعہ فصلیں اگانے والے کاشتکاروں کے خلاف فوری مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے اور علاقے میں موجود تمام غیر قانونی فصلوں کو فی الفور تلف کیا جائے،انہوں نے تاکید کی کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا بلکہ سماج دشمن اور امن و امان میں خلل پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8099/2026
لورالائی:22ستمبر2026 کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیرِ صدارت لورالائی ڈویژن کے مختلف اضلاع میں محکمہ صحت کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کا عمل جاری ہے۔ انٹرویوز میں ضلع لورالائی، دکی، زیارت اور ہرنائی سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین ڈاکٹرز، اسسٹنٹ پروفیسرز، ڈینٹل ڈاکٹرز، نرسز، گائناکالوجسٹ اور دیگر طبی شعبوں سے وابستہ امیدواروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی انٹرویوز کے دوران امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربہ، متعلقہ شعبے میں مہارت، عملی کارکردگی اور دیگر مقررہ معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، جبکہ امیدواروں کے پیشہ ورانہ علم اور متعلقہ پوسٹ کے لیے اہلیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہےاس موقع پر ڈویڑنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر مقبول احمد، پرنسپل میڈیکل کالج لورالائی ڈاکٹر محمد اکرم، ایم ایس سول ہسپتال لورالائی ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی، ایم ایس سول ہسپتال دکی ڈاکٹر جوہر خان، ڈاکٹر محمد فہیم اتمانخیل سمیت محکمہ صحت کے سینئر ڈاکٹرز اور متعلقہ حکام موجود تھے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے انٹرویوز کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا بنیادی مقصد اہل اور قابل افراد کو سامنے لاکر عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امیدواروں کی اہلیت اور میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے گی اور کسی بھی امیدوار کی حق تلفی نہیں ہونے دی جائے گی انہوں نے کہا کہ بھرتیوں کے تمام مراحل شفاف انداز میں مکمل کیے جائیں گے اور کسی قسم کی سفارش، دباو یا غیر ضروری مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صرف وہی امیدوار کامیاب ہوں گے جو مقررہ معیار پر پورا اتریں گےکمشنر ولی محمد بڑیچ نے مزید کہا کہ صحت کا شعبہ براہِ راست عوامی فلاح و بہبود سے وابستہ ہے، اس لیے طبی اداروں میں قابل، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی ماہرین کی تعیناتی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انٹرویوز کے دوران ہر امیدوار کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور تمام امیدواروں کی قابلیت و اہلیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائےانہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں موجود خالی آسامیوں کو پر کرنا ناگزیر ہے، تاکہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی کمی کو دور کرکے مریضوں کو ان کی دہلیز پر بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکیںانٹرویوز کے عمل میں بڑی تعداد میں امیدواروں کی شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ محکمہ صحت میں دستیاب مواقع کے ذریعے اہل اور تربیت یافتہ افرادی قوت کو نظامِ صحت کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ متعلقہ حکام نے میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق بھرتیوں کے عمل کو مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9000/2026
بارکھان/رکھنی، 22 ستمبر ۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت کمشنر آفس رکھنی میں ڈویژنل پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ، ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ، ڈپٹی کمشنر نارتھ ڈیرہ بگٹی محمد ریاض داوڑ اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں BSDI منصوبوں کی پیش رفت، نئے منتقل شدہ علاقوں کے انتظامی و ریونیو معاملات، نئے قائم شدہ سب ڈویژنز کے دفاتر و سرکاری رہائش، لائن ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی اور شہری سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر نے شہروں میں صفائی و کوڑا کرکٹ کی موثر تلفی، بازاروں میں ٹریفک کی روانی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے باقاعدہ کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے بازاروں کے مسلسل معائنے، زائد المیعاد اشیاء و جعلی ادویات کے خلاف کارروائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی موثر نگرانی پر بھی زور دیا۔
کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ عوامی سہولت اور سروس ڈیلیوری کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام انتظامی و ترقیاتی امور پر موثر نگرانی اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے-
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9001/2026
دکی، 22 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے آر ٹی ایس ایم ہیڈ محمد جمیل خان کے ہمراہ تحصیل تھل چوٹیالی کے مختلف سرکاری سکولوں کا دورہ کیا اور تعلیمی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور تعلیمی ماحول کا معائنہ کیا، جبکہ مختلف کلاس رومز میں جاکر طلبہ سے سبق سنا اور ان کی تعلیمی استعداد و کارکردگی کا جائزہ لیااسسٹنٹ کمشنر نے اساتذہ کی تدریسی سرگرمیوں، طلبہ کی پڑھائی، سکولوں میں دستیاب بنیادی سہولیات اور تعلیمی نظم و ضبط کے حوالے سے سکول انتظامیہ سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری سہولیات میسر ہیں یا نہیں اس موقع پر کلسٹر بجٹ کے تحت سکولوں کو فراہم کیے گئے سامان، تعلیمی مواد اور دیگر وسائل کی دستیابی اور استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ کلسٹر بجٹ کے تحت فراہم کیے جانے والے تمام وسائل کو شفاف اور موثر انداز میں طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جائےاسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے کہا کہ معیاری تعلیم کے لیے اساتذہ کی باقاعدہ حاضری، موثر تدریسی عمل اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور تدریسی عمل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کیا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری سکولوں میں دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لاکر طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ سکولوں کو فراہم کیے گئے کلسٹر بجٹ اور دیگر وسائل کے استعمال میں مکمل شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیےباقاعدگی سے نگرانی جاری رکھے گی اور سکولوں میں حاضری، نظم و ضبط، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گےدورے کے اختتام پر متعلقہ سکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے، تدریسی سرگرمیوں کو موثر بنانے اور سرکاری وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9002/2026
گوادر22 ستمبر۔گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج گوادر میں فرسٹ ایئر کے طلبہ کے اعزاز میں ویلکم پارٹی اور کیریئر کونسلنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کی مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت تھیں اس موقع پر پرنسپل پروفیسر نصیر احمد نے طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے تعلیم، نظم و ضبط اور محنت کی اہمیت پر زور دیا۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ماہ نور برکت نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ تجربات شیئر کیے اور اعلیٰ تعلیم، مختلف کیریئر مواقع اور مقابلے کے امتحانات سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ واضح اہداف مقرر کرکے مستقل مزاجی اور محنت سے اپنے مستقبل کو روشن بنائیں تقریب میں فرسٹ ایئر کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی، جبکہ کالج انتظامیہ نے نئے طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9003/2026
نصیرآباد 22 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں تدریسی امور، اساتذہ و دیگر عملے کی حاضری، تعلیمی معیار میں بہتری اور طلبہ کی تربیت سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے واضح کیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بروقت اور باقاعدہ حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کیونکہ اساتذہ کی حاضری براہِ راست بچوں کی تعلیم اور تعلیمی معیار سے وابستہ ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام صرف نصابی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کی اخلاقی، سماجی اور عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ بچوں میں نظم و ضبط، ذمہ داری، برداشت، مثبت سوچ اور معاشرتی اقدار کو فروغ دیا جا سکے انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کی تعلیمی استعداد اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے جدید تدریسی طریقہ کار اختیار کریں اور ہر بچے کی تعلیمی ضروریات پر انفرادی توجہ دیںڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں بہتری اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاہم ان اقدامات کے ثمرات اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اساتذہ اور محکمہ تعلیم کا عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے اساتذہ کی حاضری کا ریکارڈ مرتب رکھا جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں اجلاس میں تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی اور درپیش مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان کے حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8104/026
کوئٹہ 22ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر(سریاب) کیپٹن(ر) کبیر مزاری نے سیٹلائٹ ٹاؤن، ایسٹرن بائی پاس اور بھوسہ منڈی میں ناجائز منافع خوروں،گرانفروشوں اور حفظان صحت کے اصولوں کے پاسداری نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی اور زائد قیمت پر اشیاء فروخت کرنے پر 9 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد اور عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔اس کے علاؤہ عوام کی صحت کو نقصان اور حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس اشیاء خوردونوش کی تیاری اور فروخت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی لہذا تمام تاجر اور دوکاندار سرکاری نرخ نامے کے مطابق اور معیاری اشیاء خوردونوش فروخت کریں بصورت دیگر ضلعی انتظامیہ سخت کارروائی کرےگی۔
خبرنامہ نمبر8105/026
Quetta, September 22: German Ambassador to Pakistan Ina Lepel met Governor of Balochistan, Jaffar Khan Mandokhel at the Governor House Quetta. Bilateral relations between Pakistan and Germany, the regional political situation and matters of mutual interest were discussed in detail. Speaking on the occasion, Governor Mandokhel said there are bright prospects for further promoting cooperation and relations between Pakistan and Germany in various modern fields. He lauded that Germany has gained significant experience and expertise in modern technology, renewable energy, technical and vocational education from which Balochistan can also benefit. The Governor emphasized the importance of benefiting from German cooperation and educational expertise for the promotion of higher education in Balochistan. He added that keeping in mind the requirements of the modern era, special attention is being paid to quality education and promotion of vocational education in the province. It is the need of time to further strengthen the private sector to provide employment opportunities for our youth. In this regard, market-aligned vocational training and skill development programs can play an important role,” he said. He also expressed appreciation for the cooperation and assistance provided by the German government in education, health & disaster relief. Governor Mandokhel urged German investors to take advantage of lucrative investment opportunities in Balochistan in numerous sectors including the blue economy, fisheries, minerals and agriculture. Both leaders agreed to further promote mutual cooperation in higher education, vocational training, solar energy, and other innovative sectors. German Ambassador Ina Lepel thanked the Governor of Balochistan and assured Germany’s continued support for the development of the people of Balochistan. At the end of the meeting, a lunch was hosted at Governor House in honor of Ambassador Ina Lepel and other distinguished guests. Honorary Consul General to Germany Mir Murad Baloch, Ms. Mirjam Arista, Provincial minister Mir Shoaib Nosherwani, Muhammad Khan Lehri, Mir Barkat Rind, MPA Zarak Khan Mandokhel, Mr. Risk Samuel, Higher Education Secretary Hashim Khan Ghilzai and Wali Khan Mandokhel were also present on the occasion.
خبرنامہ نمبر 8105/026
کوئٹہ 22 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے پاکستان میں تعینات جرمن سفیر انیا لیپل (Ina Lepel) نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان مختلف جدید شعبوں میں باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید فروغ دینے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے جدید ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، فنی و تکنیکی تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں تجربہ اور مہارت حاصل کی ہے جن سے بلوچستان بھی استفادہ کر سکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے جرمنی کے تعاون اور اسکے تعلیمی تجربات سے فائدہ اٹھانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور تکنیکی مہارتوں کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کیلئے روزگار کے بہتر مواقع کی خاطر پرائیویٹ سیکٹر کو مزید مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جدید مہارتوں، ووکیشنل ٹریننگ اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی و تربیتی پروگرام اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے مختلف مواقعوں پر جرمن حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تعاون اور امداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے جرمن سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں بلیو اکانومی، فشریز، معدنیات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں موجود سرمایہ کاری کے منافع مواقعوں سے استفادہ کریں۔ دونوں رہنماؤں نے ہائیر ایجوکیشن، ووکیشنل ٹریننگ، سولر انرجی اور دیگر جدید شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ جرمن سفیر انیا لیپل نے گورنر بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جرمنی کے تعاون کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات کے اختتام پر جرمن سفیر انیا لیپل اور دیگر معزز مہمانوں کے اعزاز میں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ ملاقات میں اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، میرجَم اریستا (Mirjam Arista)، پارلیمنٹرینز میر شعیب نوشیروانی، محمد خان لہڑی، برکت رند، زرک خان مندوخیل، رسک سیموئل (Risk Samuel)، صوبائی سیکرٹری ہاشم خان غلزئی اور ولی خان مندوخیل بھی شریک تھے۔
خبرنامہ نمبر8106/026
کوئٹہ: بلوچستان کے ثانوی اور چھوٹے شہروں میں گرمی کی شدید لہروں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے اور عوامی سطح پر استعداد کار بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت یواین ہبٹیٹ کے وفد نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔
یواین ہبٹیٹ بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر میر وائس خان کی قیادت میں وفد نے ریلیف کمشنر/ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے اصغر علی جمالی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران بلوچستان کے ان اضلاع اور شہروں کی نشاندہی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جو گرمی کی شدید لہروں اور دیگر موسمیاتی خطرات سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ اس موقع پر اصغر علی جمالی نے وفد کو بلوچستان کے موسمیاتی خطرات، ماضی میں پیش آنے والی ہیٹ ویو کی صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تیاریوں اور رسپانس میکنزم سے آگاہ کیا۔فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ منصوبے کیلئے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار اضلاع اور شہروں کو حتمی شکل دینے کیلئے باقاعدہ فالو اَپ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں منصوبے کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا تاکہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے اور مقامی آبادی کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر8107/026
تربت22 ستمبر 2026: جامعہ تربت کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے سٹی کیمپس میں جامعہ تربت کے زیر اہتمام جاری آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل فوٹوگرافی اور دیگر آئی ٹی و پیشہ ورانہ کورسز کی کلاسز کا تفصیلی دورہ کیا اور طلبہ کے لرننگ آؤٹ کم اور تربیتی معیار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد اور شعبہ قانون کے سربراہ محمود امیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل تربیتی معیار، طلبہ کی حاضری اور عملی سرگرمیوں کی سہولیات کا براہ راست جائزہ لینا تھا۔اس دوران پرو وائس چانسلر نے مختلف کمپیوٹر لیبز اور کلاس رومز کا معائنہ کیا اورکورس انسٹرکٹرز اور طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے کورسز کے معیار، کمپیوٹر لیبز، سافٹ ویئرز، تربیتی طریقہ کار اور انٹرنیٹ کی سہولیات پر تفصیلی فیڈ بیک حاصل کیا، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر کمال احمد نے کہا کہ موجودہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور آئی ٹی کی مہارتیں حاصل کرنا نوجوانوں کے محفوظ اور کامیاب مستقبل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرنے میں طلبہ کی لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ تربت، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں خطے کے نوجوانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اسمارٹ فون کو محض تفریح کی بجائے اپنے مستقبل کی تعمیر کے آلہ کے طور پر استعمال کریں۔بعد ازاں پرو وائس چانسلر نے حکومت بلوچستان کے رائز پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لیے جاری ڈیجیٹل اسکلز اور پیشہ ورانہ تربیتی کورسز کی کلاسوں کا بھی معائنہ کیا۔
خبرنامہ نمبر8108/026
نصیرآباد22 ستمبر 2026
صحبت پور۔۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے ریونیو افسران کے ہمراہ صحبت پور بازار کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے بازار میں جاری صفائی ستھرائی ٹریفک کی روانی، ناجائز تجاوزات اور عوامی آمدورفت سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا اس موقع پر تاجر یونین کے نمائندگان بھی موجود تھے ۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ بازار میں قائم ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے قانون کے مطابق مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں اور خریداروں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ اور بازار میں نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت صحبت پور بازار کی خوبصورتی، تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر بازار کے داخلی و خارجی راستوں دکانوں کے سامنے کے حصوں صفائی ستھرائی، پیدل چلنے والوں کے لیے سہولیات اور مجموعی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف امور پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ صحبت پور بازار شہر کا اہم تجارتی مرکز ہے اس لیے اس کی خوبصورتی اور بہتر انتظام نہ صرف شہریوں بلکہ تاجروں کے لیے بھی اہم ہے انہوں نے کہا کہ بازار کی بہتری کے لیے ترقیاتی اقدامات میں تاجروں اور شہریوں کی تجاویز کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ منصوبہ بندی مقامی ضروریات کے مطابق کی جا سکے
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تاجروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور بازار کی خوبصورتی تجاوزات کے خاتمے صفائی ستھرائی اور دیگر شہری مسائل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا تاجروں نے بازار کی بہتری کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی
ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بازار کی خوبصورتی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے جامع سفارشات مرتب کی جائیں اور متعلقہ حکام کو پیش کی جائیں
خبرنامہ نمبر8109/026
گوادر22 ستمبر 2026: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت قومی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری مہم کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی اور پانچ سال تک عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں مہم کے دوران بچوں تک رسائی، فیلڈ ٹیموں کی نگرانی، رہ جانے والے بچوں کی دوبارہ ویکسینیشن اور مؤثر مانیٹرنگ کے حوالے سے امور زیرِ غور آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے مقررہ اہداف کے حصول، ٹیموں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی رہ جانے والے بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور فیلڈ میں مسلسل نگرانی ضروری ہے اجلاس ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر طاہر، اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر جہانزیب خان پی پی ایچ آئی کے ضلعی مینجر ڈاکٹر منیراحمد سمیت ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق ودیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی
خبرنامہ نمبر8010/026
حب: صوبائی حکومت کی جانب سے عوام کو معیاری بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے اقدامات کے تحت ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی حب ڈاکٹر مرشد دشتی نے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) افسر کے ہمراہ بنیادی مراکز صحت (BHU) حسن آباد اور BHU پنیان کا مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران مراکز صحت کی مجموعی فعالیت، طبی سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری، ای پی آئی مراکز کی فعالیت، ادویات کی دستیابی، ماں اور بچے کی صحت (MNCH) مراکز کی کارکردگی سمیت مختلف ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ عملے کو طبی خدمات کے معیار میں مزید بہتری، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
خبرنامہ نمبر8111/026
گوادر22 ستمبر2026: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی، گورننس اور عوامی ریلیف سے متعلق اقدامات کا جامع جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام سب ڈویژنز میں صحت، تعلیم، پرائس کنٹرول، تجاوزات کے خاتمے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سمیت اہم شعبوں میں جاری اقدامات اور کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اجلاس تمام ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز اور نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے علاقوں میں اب تک کی کارکردگی اور پیش رفت پر انہیں آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے بنیادی سہولیات کی فراہمی، سرکاری اداروں کی نگرانی، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد اور تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے انہوں
نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ متعلقہ انڈیکیٹرز پر مؤثر عملدرآمد، فیلڈ مانیٹرنگ اور شفاف رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے، جبکہ تمام سب ڈویژنز کی کارکردگی پر مبنی اسسمنٹ رپورٹ مرتب کرکے پیش کیا جائے تاکہ پورٹ جلد از جلد اعلیٰ حکام کو پیش کیا جاسکے ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی، شفاف انتظامی نظام اور عوام کو بروقت ریلیف کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ترجیحات ہیں۔
خبرنامہ نمبر8112/026
زیارت، 22 ستمبر 2026:
تعمیرِ نو پبلک ماڈل ہائی سکول زیارت کے پرنسپل عبدالمالک اور طلبہ نے ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کا مطالعاتی دورے (Study Tour) کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر پرنسپل اور طلبہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر زیارت کی جانب سے طلبہ کے مطالعاتی دورے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس طرح کے مطالعاتی دورے طلبہ کے علمی مشاہدے، معلومات میں اضافے اور عملی تجربات کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے تعلیمی اداروں کی سرپرستی اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں تعاون قابلِ قدر ہے۔ ادارہ انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ نے ان کی تعلیمی سرپرستی اور تعاون پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی طلبہ کی تعلیمی و مطالعاتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر8113/026
زیارت، 22 ستمبر 2026:
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز مانیٹرنگ افسران، زونل سپروائزرز اور یونین کونسل انچارجز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی، فیلڈ میں پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ممتاز رند، تحصیلدار زیارت نور احمد پانیزئی اور تمام یونین کونسل انچارجز نے شرکت کی۔ اس موقع پر یونین کونسل انچارجز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری مہم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی اور فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل سے آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور ٹیموں کو ہدایت کی کہ گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے اور رہ جانے والے بچوں کی بروقت نشاندہی کرکے انہیں قطرے پلائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم ایک اہم قومی ذمہ داری ہے اور بچوں کو موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور فیلڈ ٹیموں کو مکمل ذمہ داری، جذبے اور پیشہ ورانہ انداز میں فرائض انجام دینا ہوں گے۔ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت، سستی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مانیٹرنگ افسران فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی جاری رکھیں، مہم کی روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے اور فیلڈ میں درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ مقررہ اہداف حاصل کرتے ہوئے ضلع زیارت میں پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر8114/026
سنجاوی22 ستمبر 2026
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی جناب شیر شاہ غلزئی کی زیرِ صدارت چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز مانیٹرنگ افسران، زونل سپروائزرز اور یونین کونسل انچارجز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی کارکردگی، پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی سرگرمیوں اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران یونین کونسل انچارجز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری مہم کی مجموعی صورتحال، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی پیش رفت اور فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شہر شاہ غلزئی نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہنے پائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں پر زور دیا کہ وہ گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنائیں اور رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے انہیں قطرے پلائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے تمام فیلڈ ٹیمیں مکمل ذمہ داری، محنت اور جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مؤثر مانیٹرنگ اور باہمی رابطہ یقینی بنایا جائے جبکہ فیلڈ میں درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور فیلڈ ٹیموں کی مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں، اور مہم کے اختتام تک پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر8115/026
وندر 22ستمبر
کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنےساحلی بندرگاہ ڈام کا دورہ کیادورے کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج بلوچ اسسٹنٹ کمشنر وندر سیف علی مغل انکے ہمراہ تھے ڈائریکٹر فشریز میرین نے کمشنرلسبیلہ ڈویژن کوبریفنگ میں بتایا کہ 14بلین کی لاگت کے فلوٹنگ جیٹی قیام کا پروپوزل فیزیبلٹی اسٹڈی کیلئےزیرغورہے ڈائریکٹر میرین فشرہز لسبیلہ حب ظہوراحمد نے کمشنر کوبریفنگ میں بتایا کہ ڈام بندر میں بی سی ڈی اے کی جانب سے 55کروڑ لاگت سے بنایا گیا جیٹی پراجیکٹ نان فنکشنل ہےجس کی وجہ سے سی فوڈبرآمدات کی 70فیصد مچھلیاں سے بھری کشتیاں کراچی ہاربر لنگر انداز یوتی ہیں انہوں نے بتایا کہ جھینگا فارمنگ کنسلٹنسی فرم کام کررہی ہےحکومت نے شرمپ فارمنگ کیلئے30ایکڑ اراضی الکرم کودی ہےجوکنسلٹنسی کررہی ہے ماہیگیرنمائندوں نے کمشنر لسبیلہ کو گزشتہ دنوں سمندر میں کشتی ڈوبنے اورریسکیو معاملات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز پٹرولنگ کی عدم فرض شناسی کے معاملے سے آگاہ کیا سونمیانی ڈام ساحلی بستی میں کولڈاسٹوریج آئس فیکرٹری کی عدم سہولت سونمیانی وندرڈام لنک روڈکی عدم بحالی ماہیگیر بستی ڈام سونمیانی کی ماہیگیر بستی بلزادائیگی کے باوجود کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ کی ایشوز فٹسال گرائونڈایشوز سے آگاہ کیاکمشنر نے متعلقہ حکام اوراسپورٹس سیکرٹری کو لیٹرلکھنے کے احکامات جاری کئےکمشنرلسبیلہ نےفشریزپٹرولنگ ٹیم افسر اورماہیگیروں کے مابین کوآرڈینیشن کی کمی کوسنگین مسئلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ ماہیگیر گھرانے کی فوری امداد اورفشرمین کمپلین ریسکیو ڈیسک قائم کرنےکےاحکامات جاری کئےکمشنر نے کہا کہ بلیواکنامی سےوابستہ فشرمینوں کےکشتیوں کی فوری رجسٹریشن کیجائےکمشنر لسبیلہ ڈویژن نے عوامی شکایات پرساحلی بندرگاہ کے گرلزاسکول میں پندرہ مہینوں سے ڈیوٹی سے غیرحاضر اساتدہ کےتبادلے کاحکم جاری کیافشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے وائس چیئرمین ارشادپارس مگسی نے کمشنر کوبتایا کہ سی فوڈانڈسٹری بدحالی سے دوچارہے غلط پلاننگ اور ماییگیروں سےکوآرڈینیشن کے بغیر کنسلٹنسی پراجیکٹ بنائے جاتے ہیںسمندر میں ماہیگیری کرنے والے فشرمین کشتی حادثات کی صورت میں سال بھر کی جمع پونجی صحت پرخرچ کرتے ہیں فشریز ڈہپارٹمننت ماہیگیروں کے بنیادی مسائل سے عدم دلچسپی کررہی ہے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے وائس چیئرمین نےکمشنر کوبتایا کہ بلوچستان کےماہیگیر سمدری گیٹ وے کی دہلیز پرمشکل حالات میں ملک کے لئےزرمبادلہ کماتے ہیں بلوچستان کے ماہیگر قدرتی سمندری وسائل کے باوجود کسمپرسی کا شکارہیں کمشنر نے ماہیگیر نمائندوں کی فریاد پر آئندہ ہفتے کھلی کچہری کے انعقاد کیلئے انتظامیہ کواحکامات جاری کیں کمشنر کے دورے کے موقع پرچیئرمین فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی بلوچستان میراکبرزہری وائس چیئرمین ارشادمگسی تحصیلدارخدادادماہیگیرنمائندوں فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے عہدیداران ڈائریکٹر فشریزمیرین ظہوراحمد ڈائریکٹر شکیل ڈپٹی ڈائریکٹراوراسسٹنٹ ڈائریکٹر پٹرولنگ فشریز وانسپکٹر شکوررونجہ سمیت ماہیگیر ویلفئیر آرگنائزیشن حب کے غلام قادر انگاریہ وکونسلر فیص محمد انکے ہمراہ تھے
خبرنامہ نمبر8116/026
چمن22 ستمبر 2026
گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چمن اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چمن میں ضلعی انتظامیہ چمن کے زیرِ اہتمام جاری دو روزہ ایجوکیشنل فیسٹیول کے پہلے روز ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور چمن سکاؤٹس کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر ضرار حیدر نے فیسٹیول میں شرکت کی، جہاں طلبہ و طالبات نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر خوشی اور ثقافتی اظہار کے لیے روایتی ملی اتن کا بھی مظاہرہ کیا گیا، جبکہ طلبہ، طالبات، اسکالرز، مقررین اور ماہرینِ تعلیم نے فیسٹیول کی مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ دو روزہ ایجوکیشنل فیسٹیول کے پہلے روز طلبہ کو تعلیم، اعلیٰ تعلیمی مواقع، کیریئر کے انتخاب، مطالعہ اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کے حوالے سے مفید معلومات اور رہنمائی فراہم کی گئی، جبکہ فیسٹیول کا دوسرا اور آخری روز کل مختلف تعلیمی و رہنمائی سرگرمیوں کے ساتھ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر8117/026
چمن: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ چمن کے زیر اہتمام طلباء کی تعلیمی، فکری اور تخلیقی رہنمائی کے لیے دو روزہ ایجوکیشنل فیسٹیول کا آغاز کر دیا گیا۔فیسٹیول کا افتتاح ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، چمن سکاؤٹس کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر ضرار حیدر اور کالج پرنسپل نے مشترکہ طور پر فیتہ کاٹ کر کیا۔ فیسٹیول کے دوران گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چمن اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چمن میں مختلف معلوماتی، تعلیمی، فکری اور رہنمائی پر مبنی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں۔فیسٹیول کے پہلے روز گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چمن میں منعقدہ تقریب سے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، چمن سکاؤٹس کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر ضرار حیدر سمیت مختلف مقررین، ماہرین تعلیم اور اسکالرز نے خطاب کیا۔ مقررین نے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع، مختلف شعبہ جات میں کیریئر کے انتخاب، مطالعہ، تحقیق اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کے حوالے سے مفید معلومات اور رہنمائی فراہم کی۔
مقررین نے کہا کہ تعلیم، علم، تحقیق اور مطالعہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی اساس ہیں۔ نوجوان نسل اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح اہداف مقرر کرے، تعلیمی مواقع سے بھرپور استفادہ کرے اور علم کے حصول کو اپنی ترجیح بنائے تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ایجوکیشنل فیسٹیول کے دوران طلباء کی دلچسپی اور ذہنی و فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر معروف پشتو مزاحیہ فنکار کلیم اللہ اچکزئی نے خصوصی مزاحیہ خاکہ پیش کیا، جس سے تقریب میں خوشگوار اور تفریحی ماحول پیدا ہوا اور طلباء نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
فیسٹیول میں کتب کا خصوصی بک اسٹال بھی قائم کیا گیا، جہاں مختلف موضوعات پر مفید اور معلوماتی کتب دستیاب تھیں۔ اسکالرز، مقررین اور طلباء نے بک اسٹال کا دورہ کیا اور کتب میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ مقررین نے طلباء میں مطالعہ کے فروغ اور کتاب سے وابستگی کو علمی و فکری ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے فیسٹیول میں علمی و تعلیمی خدمات اور طلباء کی رہنمائی میں حصہ لینے والے مختلف اسکالرز اور مقررین میں اعزازی شیلڈز اور تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اسکالرز اور مقررین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کی علمی و فکری رہنمائی میں اساتذہ، اسکالرز اور اہلِ علم کا کردار انتہائی اہم ہے۔دو روزہ ایجوکیشنل فیسٹیول کا بنیادی مقصد طلباء کو تعلیمی اور کیریئر کے مواقع سے آگاہ کرنا، ان کی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، مطالعہ کے رجحان کو فروغ دینا اور انہیں ماہرین، اسکالرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے براہِ راست رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر8118/026
چمن 22 ستمبر 2026:
ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز ایوننگ ریویو اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں آج پولیو مہم کے دوسرے دن کی کارکردگی کے حوالےسے ڈی سی چمن کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالرشید پولیو ٹیم افسران اسد صافی ڈسٹرکٹ کوارڈینٹر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی بچوں کو پولیو کے قطرے ہر حال میں پلائی جائیں اور کوئی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے انہوں نے کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جس کی تدارک صرف پولیو ویکسینیشن ہی سے ممکن ہے لہذا اپنے بچوں اور قوم کے مستقبل کے ہونہاروں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کا واحد ذریعہ پولیو ویکسین ہی ہے انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران علماء کرام اساتذہ قبائلی عمائدین اور تمام ذیشعور افراد انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے انسانیت دوستی اور خیرخواہی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پر مامور افسران و اہلکاران پولیو ورکرز کے ساتھ اکٹھے رہیں اور آخر وقت اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیں
خبرنامہ نمبر8119/026
سیوی 22 ستمبر2026
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز سیوی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور فیلڈ میں موجود پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف مقامات پر پولیو ٹیموں کی جانب سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کا جائزہ لیا اور متعدد بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پولیو کے قطرے بھی پلائے۔ اس موقع پر انہوں نے پولیو ٹیموں کی ٹیلی شیٹس، ویکسین کے وائلز اور دیگر ریکارڈ چیک کیا اور ٹیموں سے مہم کے حوالے سے پیش رفت اور کوریج کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ دورے کے دوران پولیو ٹیموں کی جانب سے لاک ہاؤسز کی نشاندہی کیے جانے پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے خود ان گھروں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ بعض گھروں میں خاندان موجود نہیں تھے اور گرمیوں کے باعث یہ خاندان سرد علاقوں کی جانب منتقل ہوئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے۔ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے انہوں نے ٹیموں کو فیلڈ میں ذمہ داری، محنت اور احتیاط کے ساتھ کام جاری رکھنے، ریکارڈ کو مکمل رکھنے اور مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت بھی کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، اس لیے والدین، سول سوسائٹی اور متعلقہ ادارے پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8120
کوئٹہ 22 ستمبر: ـمانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج مورخہ 22 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے۔مزید برآں، تحقیقاتی کمیشن نے اس امر پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردانہ حملوں اور امن و امان سے متعلق ناخوشگوار واقعات کے بارے میں مختلف سوشل میڈیا صفحات پر جھوٹی، من گھڑت اور سنسنی خیز خبریں بلا روک ٹوک صوبے اور ملک بھر میں پھیلائی جا رہی ہیں، جو عوام میں خوف و ہراس اور مایوسی کا باعث بن رہی ہیں۔ جس سے عیاں ہوتا ہے کہ متعلقہ ذمہ دار ادارے اس قسم کی مہم جوئی کی باقاعدہ نگرانی، روک تھام اور سنسر کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہے، جس سے متعلقہ ذمہ دار اداروں کی کارکردگی اور امور کا طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔لہٰذا اس حوالے سے تحقیقاتی کمیشن نے ڈائریکٹر، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، سرکل آفس کوئٹہ کو ہدایت جاری کی کہ اگلی تاریخ پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور اس سلسلے میں اب تک اٹھائے گئے ضروری اقدامات پر مبنی تحریری رپورٹ بھی ہمراہ لائیں۔علاوہ ازیں، شہداء کے لیے معاوضے کے پیکیج کی ادائیگی کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن کے استفسار پر، شہداء کے لواحقین کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کارروائی کی گزشتہ تاریخ پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ شہداء کے لواحقین کے نمائندوں اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم) بلوچستان کے درمیان ملاقات کا انتظام کریں، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔اس موقع پر، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (لیگل)، سی پی او، کوئٹہ نے کمیشن کو بتایا کہ شہداء کے قانونی ورثاء کے حق میں جانشینی سرٹیفکیٹ (Succession Certificates) کے حصول کے عمل میں کچھ نقائص/کمیوں کے باعث ادائیگی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا؛ انہوں نے تجویز دی کہ شہداء کے قانونی ورثاء معاملے پر مزید کارروائی کے لیے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو یہ سرٹیفکیٹ فراہم کریں۔جس پر تحقیقاتی کمیشن نے اے آئی جی پی (لیگل)، سی پی او کوئٹہ کو ہدایت جاری کی کہ وہ شہداء کے سوگوار خاندانوں کو درپیش رکاوٹوں اور مشکلات کے حوالے سے ایک خصوصی دربار کے انعقاد کا انتظام کریں۔ اور کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کو بھی حکم دیا کہ اس سلسلے میں شہداء کے قانونی ورثاء کے نمائندوں، اے آئی جی پی (لیگل)، سی پی او کوئٹہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ) بلوچستان کے مابین تعاون کے لیے رابطہ کاری کریں، تاکہ معاوضے کے پیکیج کی ادائیگی کے معاملے پر مثبت پیش رفت ہو سکے۔19 ستمبر 2026 کے ایک حکم نامہ کی تعمیل میں، انچارج افسر ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے دینی تعلیم، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ریجنل آفس کوئٹہ کمیشن کی معاونت کے لیے پیش ہوئے اور مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق جامع رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی۔جس پر تحقیقاتی کمیشن نے انہیں جامع رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک ہفتہ کی مہلت دے دی۔




