خبر نامہ نمبر8018/2026
کوئٹہ21ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پنجگور کے علاقے اپھان کوہ، پروم میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پنجگور کے علاقے اپھان کوہ، پروم میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی جس کے نتیجے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، قوم کو اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، ریاست دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8019/2026
کوئٹہ، 21 ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی پیر کے روز سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے گھر گئے اور ان کے انتقال پر لواحقین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی محمد ہاشم کے گھر بھی گئے اور ان کے والد حاجی عبدالواحد کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔ اس موقع پر صوبائی وزراء پارلیمانی سیکرٹریز اور اراکین صوبائی اسمبلی بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8020/2026
گوادر21 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے پانچ سالہ بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر ضلع گوادر میں قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع گوادر میں پانچ سال تک عمر کا کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ موثر رابطہ کاری، جامع نگرانی اور بروقت اقدامات کے ذریعے مہم کو کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں ڈپٹی کمشنر نے مہم کے دوران مائیکرو پلاننگ پر موثر عملدرآمد، پولیو ٹیموں کی تربیت، ویکسین اور ضروری سامان کی بروقت فراہمی، کمیونٹی موبلائزیشن اور رہ جانے والے بچوں کی فوری کوریج یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یونین کونسل، تحصیل اور ضلعی سطح پر روزانہ کی بنیاد پر مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر طاہر نے بتایا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم 21 سے 24 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران ضلع گوادر میں پانچ سال تک عمر کے 35 ہزار 664 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کے لیے 166 موبائل ٹیمیں، 20 سپروائزرز، 38 ایریا انچارجز، 29 فکسڈ سینٹرز اور 12 ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر اورنگزیب، نیشنل پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبدالوحد، میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالمجید، ڈپٹی ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر فاروق، پی پی ایچ آئی کے ضلعی منیجر ڈاکٹر منیر احمد سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8021/2026
پسنی 21 ستمبر۔ ضلعی ایجوکیشن آفیسر تعلیم گوادر زاہد حسین بلوچ نے تحصیل پسنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مستانی ریک بازار کا معائنہ کرتے ہوئے جاری ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی سہولیات اور درس و تدریس کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جہاں پر اسکول کے ہیڈماسٹر عبدالخالق نے ضلعی ایجوکیشن آفیسر کو ادارے کے تعلیمی امور، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔ زاہد حسین بلوچ نے اسکول میں تعلیمی معیار، طلبہ کی حاضری، تدریسی عمل اور بنیادی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے پر زور دیا ضلعی ایجوکیشن آفیسر نے محکمہ تعلیم بلوچستان اور یونیسیف کے زیر اہتمام جاری 16 روزہ اساتذہ تربیتی ورکشاپ کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے تربیتی پروگرام میں شریک اساتذہ سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافے اور جدید تدریسی طریقوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی استعدادِ کار میں اضافے، طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرتے ہوئے طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8022/2026
گوادر 21 ستمبر ۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی رہائش گاہ پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل، مشکلات اور عوامی نوعیت کے امور سے آگاہ کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بزرگوں، نوجوانوں، بچوں اور دیگر شہریوں سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل اور تجاویز سنیں اور مختلف امور پر گفتگو کی۔ شہریوں نے بنیادی سہولیات اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق اپنی گزارشات پیش کیں اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ عوامی مسائل سے آگاہی اور ان کے حل کے لیے شہریوں سے مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ ان کی رہائش گاہ پر ہونے والی یہ ملاقاتیں عوامی مسائل کے ادراک، تجاویز کے حصول اور شہریوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے مو¿ثر رابطے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8023/2026
پسنی 21 ستمبر ۔ حکومت بلوچستان کی تعلیمی پالیسی کے تحت ضلع گوادر میں معیاری تعلیم کے فروغ، تدریسی معیار میں بہتری اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے مختلف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اسی سلسلے میں گوادر پبلک اسکولز اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ (GPE) اور یونیسیف (UNICEF) کے تعاون سے سینٹر فار پروفیشنل ڈویلپمنٹ (CPD) پروونشل انسٹی ٹیوٹ فار ٹیچر ایجوکیشن (PIET) بلوچستان کے زیرِ اہتمام اساتذہ کی 16 روزہ تربیتی نشست کا آغاز ہوگیا تربیتی ورکشاپ پروگرام گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مستانی ریک بازار پسنی میں جاری ہے، جس میں ضلع گوادر کے مختلف سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ شرکت کر رہے ہیں۔ تربیت کے دوران اساتذہ کو انگریزی، اردو، ریاضی اور جدید تدریسی طریقہ کار (پیڈاگوجی) کے حوالے سے عملی و علمی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ضلعی ٹریننگ منیجر صقر ناصر کی نگرانی میں جاری تربیتی نشست کا مقصد اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، جدید تدریسی حکمتِ عملی سے آگاہی اور کلاس روم میں طلبہ کو موثر تعلیمی رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔عوامی و تعلیمی حلقوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین اور ڈسٹرکٹ ٹریننگ منیجر صقر ناصر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے تربیتی پروگرام اساتذہ کی استعدادِ کار بڑھانے، تدریسی معیار بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے حکومتی عزم کو عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 21ستمبر ۔ نیب بلوچستان کی جانب سےشکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد بمقام دفتر نیب (بلوچستان)واقع شاہراہ گلستان ، کوئٹہ کینٹصوبہ بلوچستان میں بڑی مالی بد عنوانیوں کے خلاف شکایات کے اندراج کیلئے چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق کھلی کچہری کا انعقادہر ماہ کی آخری جمعرات کو کیا جاتا ہے۔ جس میں ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان شکایت کنندگان کو بذات خود سنتے ہیں۔ اس ماہ کھلی کچہری کا انعقاد مورخہ 24ستمبر2026بروز( جمعرات) بوقت صبح 11:00 تا 01:00 بجے سہ پہرکو نیب (بلوچستان) کے دفتر واقع شاہراہ گلستان کوئٹہ کینٹ میں کیا جائے گا درخواست کنندگان سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ تحریری شکایات میں مندرجہ ذیل معلومات لازماً مہیا کریں۔
1۔نام بمعہ ولدیت
2۔کاپی قومی شناختی کارڈ
3۔ مکمل پتہ / ایڈریس
4۔ نشان انگوٹھا / دستخط
5۔ رابطہ نمبر موبائل / گھر / ای میل
واضح کیا جاتا ہے کہ چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق اب نیب گم نام/ فرضی شکایات پر کاروائی نہیں کرے گا۔ صرف ایسی مصدقہ شکایات جو نیب کے دائرہ کار پر پورا ا±تر تی ہوں ا±ن پرقانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ایسی شکایات پر کاروائی سے قبل شکایات کنندگان سے بیان حلفی اسٹامپ پیپر پر لیا جائے گا۔ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ نیب میں شکایات مندرجہ ذیل طریقہ سے جمع کروائی جا سکتی ہیں۔
1۔ بذریعہ ڈاک/ بذات خود نیب بلوچستان دفتر واقع شاہراہ گلستان، کوئٹہ کینٹ
2۔بذریعہ ای میل balochistan@nab.gov.pk
3۔بذریعہ ڈاک / بذات خود نیب کے دفترشکایات واقع DCآفس انسکمب روڈ کوئٹہ
4۔ بذریعہ کھلی کچہری ڈائریکٹر جنرل سے بالمشافہ ملاقات کے ذریعہ( ہر ماہ کی آخری جمعرات ) مزیدمعلومات کیلئےعلاقائی دفتر شکایات نیب بلوچستان کے فون نمبرز: 9203614 081-، 081-9203468 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Press Release
Conduct of Open Court (Khuli Kachehri) at NAB (Balochistan) Complex situated at Shahra-e-Gulistan, Quetta Cantt
In compliance with instructions of the Chairman, NAB (Balochistan) holds Open Court (Khuli Kachehri) on the last Thursday of every month for inviting complaints from general public regarding mega financial scams in Balochistan Province. The Director General NAB (Balochistan) personally listens to the complainants therein. This time, the Open Court will be held on 24th September, 2026 (Thursday) from 11:00am to 01:00pm at NAB (Balochistan) Complex situated at Shara-e-Gulistan, Quetta Cant Applicants are required to provide following information / documents along with their complaints:
Name with parentage.
Copy of Computerized National Identity Card.
Complete Postal Address.
Thumb Impression / Signature
Contact Information: Cell / Landline number / E-mail
As per the revised SOP for complaints, NAB will no longer proceed on anonymous complaints. Only verified complaints, which are within the purview of NAB, will be dealt with, an accordance with law. NAB (B) will proceed on such complaints after obtaining affidavit on stamp paper from the complainants.
The general public is informed that complaint can be lodged with NAB in the following manner:
By post / in person at NAB office Shahra-e-Gulistan, Quetta Cantt.
Through E-mail balochistan@nab.gov.pk
By post / in person at NAB complaints office situated at DC Quetta Office, Anscombe Road, Quetta.
Through an Open Court while meeting with Director General (last Thursday of every month).
For more information, please contact Regional Complaint Cell NAB (Balochistan) on following numbers: 081-9203614, 081-9203468.
خبر نامہ نمبر8024/2026
21 ستمبر نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر ضلع نصیرآباد میں پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نصیرآباد ڈاکٹر ایاز حسین جمالی اور عالمی ادارہ صحت WHO کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالسمیع نے بھی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے والدین سول سوسائٹی علماء کرام اساتذہ، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازمی پلوائیںانہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران محکمہ صحت کی ٹیمیں ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی پولیو ورکرز کی جانب سے بچوں کو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ والدین کو پولیو سے بچاو اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کی جائے گیڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے بتایا کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی کارکردگی کی مو¿ثر نگرانی کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں پر آنے والی پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیںڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالسمیع نے بھی پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8025/2026
گوادر 21 ستمبر۔ حکومتِ بلوچستان کی نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے، کھیلوں کے فروغ اور مقامی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت ادارہ ترقیات گوادر کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی، بہتری اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دے رہا ہے کھیلوں کے میدان نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں، جسمانی و ذہنی نشوونما اور کھیلوں کے ٹیلنٹ کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق کرکٹ گراونڈ اور بابا بزنجو فٹبال اسٹیڈیم گوادر کے اہم کھیلوں کے مراکز ہیں، جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ کھیلوں کے میدانوں اور سہولیات کی بہتری کا مقصد نوجوان نسل کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا، صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا اور مقامی سطح پر کھیلوں کے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا ہے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8026/2026
گوادر 21 ستمبر۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر عیسیٰ خان نے ضلع گوادر میں ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تنظیم کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے تین دن کے اندر ڈپٹی کمشنر آفس سے فراہم کردہ پروفارمہ مکمل کرکے متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ سوشل ویلفیئر آفس گوادر میں جمع کرائیں۔انہوں نے بالخصوص زر ماہی گیر اتحاد گوادر ٹاون، باتیل ماہی گیر اتحاد گوادر ٹاون، کاروان ماہی گیر اتحاد گوادر ٹاون، گوادر ماہی گیر اتحاد گوادر ٹاون اور متحدہ ماہی گیر اتحاد گوادر ٹاون سمیت دیگر غیر رجسٹرڈ ماہی گیر تنظیموں سے کہا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کا مقصد ماہی گیر تنظیموں کی فلاحی سرگرمیوں کو باقاعدہ قانونی و انتظامی دائرہ کار میں لانا اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے موثر انداز میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8027/2026
کوئٹہ 21ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات،عوامی شکایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی محمد امیر حمزہ کی زیر نگرانی اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے گوالمنڈی چوک، سرکی روڈ اور خدائے داد روڈ پر پرائس کنٹرول اور قیمتوں کی چیکنگ کے حوالے سے کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر گوشت فروخت کرنے اور گرانفروشی میں ملوث 10 قصابوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور گرانفروشی و ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے کاروائیاں جاری رہیں گی۔تمام قصائی دکاندار سرکاری نرخ نامے کے مطابق گوشت کی فروخت کو یقینی بنائیں وگرنہ خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8028/2026
کوئٹہ21ستمبر۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیرِ صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی کارکردگی، ٹیکس وصولی میں بہتری اور ریونیو بیس کو وسیع کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور ان پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمپنیوں، ہوٹلز، ہسپتالوں اور دیگر مختلف شعبوں کے آڈٹ کے عمل کو مزید تیز، مو¿ثر اور شفاف بنایا جائے گا، تاکہ ٹیکس نظام میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے صوبائی ریونیو میں اضافہ کیا جا سکےاس موقع پر بتایا گیا کہ گوادر میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا دفتر فعال کر دیا ہے، جس سے گوادر اور گردونواح میں ٹیکس سے متعلق امور کی نگرانی اور ٹیکس دہندگان کو خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔ اس کےعلاوہ جیولرز، بیکریوں، پراپرٹی ڈیلرز، کار شورومز، پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ کاروباری شعبوں کو بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ٹیکس دائرءکار میں لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ یوٹیوبرز اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد و اداروں کو بھی قانونی تقاضوں کے مطابق بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ٹیکس دائر کار میں شامل کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹیکس قوانین پر موثر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ جدید کاروباری رجحانات اور آن لائن معیشت کو بھی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ تمام اقدامات قانون اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیئے اجلاس میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور صوبائی آمدن میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8029/2026
تربت21ستمبر۔ ضلع کیچ میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ اس سلسلے میں ٹیچنگ ہسپتال تربت میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی، ڈبلیو ایچ او کیچ کے ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر ارسلان، ظریف عالیان، پولیو ٹیموں کے ارکان اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ اہلکار بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے بھی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے۔اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، عوام، محکمہ صحت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں اور گھر گھر آنے والی پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے اور تمام علاقوں میں پولیو ٹیموں کی موثر رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کے قومی مشن میں محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔دریں اثناءڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع کیچ میں انسدادِ پولیو مہم کے لیے 315 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے 71 فکسڈ مراکز اور 9 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چار روزہ انسدادِ پولیو مہم 21 سے 24 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران پولیو ٹیمیں ضلع بھر میں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی۔ محکمہ صحت کی جانب سے والدین اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8030/2026
کوئٹہ 21ستمبر۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر، یونیسف کوآرڈینیٹر، تمام متعلقہ ڈی ڈی اوز (میل/فیمیل) اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ تعلیم سے متعلق ریشنلائزیشن ڈیٹا، غیر حاضر ملازمین کا ریکارڈ اور نئے کنٹریکٹ ملازمین کا ڈیٹا پیش کیا گیا اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر RTMM کی جانب سے ضلع کے تمام اسکولوں میں حاضر اور غیر حاضر اساتذہ کا ڈیٹا بھی پیش کیا گیا، جبکہ غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق ڈیٹا بھی اجلاس کے سامنے رکھا گیا۔یونیسف آفیسر کی جانب سے کوئٹہ کے 6 اسکولوں میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ڈیٹا پیش کیا گیا، جبکہ یونیسف کی جانب سے مختلف اسکولوں میں فراہم کی جانے والی اسکول ٹریننگ سے متعلق رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری، ریکارڈ کی درستگی، ترقیاتی امور اور تعلیمی نظام کی مو¿ثر نگرانی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8031/2026
21 ستمبر ۔کوئٹہ: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے ان کے دفتر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور عوامی وفود نے ملاقات کی اور اپنے درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ امور پر تفصیلی غور کیا۔ انہوں نے بعض مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے فوری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی، جبکہ دیگر مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ عوامی خدمت اور لوگوں کے مسائل کا ازالہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور جائز مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر ملاقات کرنے والے افراد نے اپنے مسائل سننے، فوری کارروائی اور حل کی یقین دہانی پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ کا شکریہ ادا کیا اور ان کے عوام دوست رویے کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8032/2026
21 ستمبر کوئٹہ۔ صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے ان کے دفتر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور عوامی وفود نے ملاقات کی اور اپنے درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ امور پر تفصیلی غور کیا۔ انہوں نے بعض مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے فوری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی، جبکہ دیگر مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ عوامی خدمت اور لوگوں کے مسائل کا ازالہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور جائز مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر ملاقات کرنے والے افراد نے اپنے مسائل سننے، فوری کارروائی اور حل کی یقین دہانی پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ کا شکریہ ادا کیا اور ان کے عوام دوست رویے کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8033/2026
کوئٹہ21 ستمبر۔ بلوچستان کے وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیرِ صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کا ماہانہ پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی اور محکمہ خزانہ کے متعلقہ حکام، بشمول سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، نے شرکت کی۔اجلاس میں چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے ٹیکس وصولی میں پیش رفت، جاری اصلاحات، فنانس ایکٹ میں کی گئی ترامیم کے محصولات پر اثرات اور ٹیکس وصولی میں مزید بہتری کے لیے تجاویز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ پیش کی۔وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس وصولی اور اصلاحات کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹیکس نظام میں شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ٹیکس دہندگان کو رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ریٹرن جمع کرانے کے مراحل میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹیکس دہندگان کو بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کا موثر موقع فراہم کیا جائے، جبکہ عدم تعمیل کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف قانون کے مطابق انفورسمنٹ کے اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل نظام، شفافیت، ٹیکس دہندگان کی سہولت اور موثر انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس بیس کو وسعت دیتے ہوئے صوبائی محصولات میں مزید بہتری لائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8034/2026
کوئٹہ21ستمبر۔ بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (B-TEVTA) اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) نے صوبے کے نوجوانوں کو جدید فنی و ٹیکنیکل تربیت فراہم کر کے بین الاقوامی سطح پر روزگار کے قابل بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عزم کا اعادہ ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر خان زرکون اور ڈی جی نیووٹک ڈاکٹر حسین بخش مگسی کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات میں کیا گیا۔ملاقات کے دوران بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، صوبے بھر کے فنی تربیتی مراکز کو جدید ترین مشینری اور آلات کی فراہمی کو یقینی بنانے، اور خلیجی (جی سی سی) و دیگر غیر ملکی مارکیٹوں میں ہنر مند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک اور دنیا بھر میں روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بلوچستان کے نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اعلیٰ فنی تربیت اور روزگار کی فراہمی میں اہمیت دی جائے گی۔ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر خان زرکون اور ڈی جی نیووٹک ڈاکٹر حسین بخش مگسی کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اس ویڑن کا حصہ ہیں جس کا مقصد صوبے کے یوتھ کو جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم و فنون سے لیس کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت نوجوانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ دنیا کے ہر کونے میں بلوچستان کے بہترین، باصلاحیت اور ہنر مند نمائندے کے طور پر جا سکیں اور ملک و صوبے کی اقتصادی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA: The Balochistan Technical Education and Vocational Training Authority (B-TEVTA) and the National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) have agreed to strengthen mutual cooperation to equip the province’s youth with modern technical skills, making them eligible for international employment. This commitment was reaffirmed during an important meeting between MD B-TEVTA, Abdul Kabeer Khan Zarkoon, and DG NAVTTC, Dr. Hussain Bakhsh Magsi.During the meeting, detailed discussions were held on empowering a maximum number of youth in Balochistan, equipping vocational training centers across the province with state-of-the-art machinery and equipment, and meeting the growing demand for skilled manpower in the Gulf (GCC) and other international markets. It was decided that priority would be given to providing high-level technical training and employment opportunities to the youth of Balochistan so they can capitalize on job prospects in Gulf countries and worldwide.MD B-TEVTA Abdul Kabeer Khan Zarkoon and DG NAVTTC Dr. Hussain Bakhsh Magsi stated that these initiatives are part of the vision of Prime Minister of Pakistan Mian Shehbaz Sharif and Chief Minister of Balochistan Mir Sarfraz Bugti, which aims to equip the province’s youth with modern technology and technical expertise. Under this strategy, the youth will be enabled to represent Balochistan globally as skilled and talented individuals, contributing actively to the economic growth of the country and the province.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta — Marks a major milestone for vocational training in the province, trainees from the Balochistan Technical Education and Vocational Training Authority (BTEVTA) recently participated for the first time in the prestigious WorldSkills Competition, showcasing their talents across the Cooking, Graphic Design, and Electrical trades.
Following a competitive selection process at the provincial level, BTEVTA sent the top candidates to Islamabad to represent Balochistan at the National Skills Competition, organized by the National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC). This national platform serves as the gateway to selecting candidates for international-level exposure.To mark this historical participation, Managing Director of BTEVTA, Abdul Kabeer Khan Zarkhoon, hosted a special commendation ceremony where he met with the returning candidates to hear their experiences, receive direct feedback, and present them with official certificates of participation.During the interaction, MD Zarkhoon praised the dedication and grit of the young trade competitors for proudly representing the talent and potential of Balochistan on a national stage.Addressing the trainees, MD Abdul Kabeer Khan Zarkhoon assured them that BTEVTA is committed to raising the quality of training across all provincial centers to meet global standards.” In the near future, the youth of Balochistan will compete with the world through their skills,” MD stated, highlighting the Authority’s ongoing efforts to modernize facilities, upgrade curricula, and empower local talent for national and international workforce demands.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8035/2026
21حبستمبر۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا ہے کہ بلوچستان کی صنعتی ترقی میں ضلع حب ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتایےکوئٹہ میں رول آوٹ کے بعد حکومت بلوچستان نے صنعتی ضلع حب میں ڈیجیٹل نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو تعینات کرنے کے لیے تکنیکی اقدامات کیے ہیں سیف سٹی پراجیکٹ کےہائی ریزولوشن AI مانیٹرنگ کے انضمام اور اسٹریٹ کرائم کو روکنے میں مددملی ہے یہ بات انہوں نے پیرکے روز سیف سٹی پراجیکٹ ضلع حب کے سرویلنس سینٹر دورے کے موقع پر متعلقہ حکام سے گفتگوکرتے ہوئے کہی کمشنرلسبیلہ ڈویژن کو اے ایس پی عدنان نے سرویلنس کیمروں کے ذریعے شہر کی سیکیورٹی مانیٹرنگ کےحوالے سےکئےگئے اقدامات سے آگاہ کیااس موقع پرکمشنر نےسرویلنس سینٹر کے مختلف سیکشن کا دورہ کیاکمشنرسائرہ عطاءکہاکہ وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اورچیف سیکرٹری شکیل قادرخان کی ہدایت پرسرمایہ کاروں کومستحکم ماحول فراہم کرنےجدیدحفاظتی اقدامات کےانفراسٹرکچرکاقیام تیزی سے پھیلتے حب سٹی کوکرائم فری زون بنانے میں اہم کرداراداکریگی کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطاء نےاس سلسلے میں سیف سٹی پراجیکٹ کی آپریشنل سرگرمیوں کاجائزہ لیاجو شہر کے مختلف مقامات پرنصب کئے گئے ہیں کمشنر نےضلع حب کےسرویلنس کیمروں کےذریعےجدیدشہری کمیونٹی سسٹم بلوچستان سیف سٹی پراجیکٹ کاجائزہ لیاکمشنر کوبتایا گیاکہ سندھ بلوچستان کی سرحدی پٹی پرواقع ضلع حب ایک اہم صنعتی مرکز اور ٹرانزٹ زون کے طور پر کام کرتا ہےکمشنر لسبیلہ ڈویژن کا کہنا ہیکہ صوبہ بھرکےاسٹریٹجک اضلاع بشمول ضلع حب تک سیف سٹی پراجیکٹ کوپھیلایا گیاہےاورسیف سٹی منصوبےکامقصد قانون کے نفاذ کو بہتر بنانے اور سندھ بلوچستان کی سرحدی پٹی پرانسداد اسمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ نفاذکویقینی بناناہےاورخصوصی آئی ٹی اورسسٹم مینیجرزڈیٹالنکس اورکمپیوٹر کی مدد سے ہنگامی واقعات کےدوران پولیس کےریپڈرسپانس کوممکن بناتے یے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8036/2026
کوئٹہ21ستمبر۔ محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان اور ناروے کی ممتاز یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کے درمیان بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کو مزید مستحکم بنانے، DHIS2 کے موثر نفاذ، مقامی اختراعات، تحقیق اور تکنیکی استعداد کار کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BHMIS/DHIS2) کی جانب سے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ابابگر بلوچ جبکہ یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر کرسٹن برا نے دستخط کیے۔ یہ مفاہمتی یادداشت سیکرٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمٰن کی موجودگی اور نگرانی میں طے پائی۔تقریب میں یونیسیف بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر عامر، بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احمد ولی اور ہیلتھ سروسز ریفارمز یونٹ (HSRU) بلوچستان کے ڈاکٹر شاہکو مینگل بھی موجود تھے۔بلوچستان میں DHIS2 کے نفاذ، رپورٹنگ کمپلائنس میں بہتری اور نظام کو فعال و موثر بنانے میں یونیسیف پاکستان کا تعاون بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یونیسیف پاکستان نے متعلقہ عملے کی تربیت، ضروری آلات کی فراہمی، عملی نفاذ، مسلسل تکنیکی معاونت اور فیڈبیک کی بنیاد پر نظام میں بہتری کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ اسی طرح HISP پاکستان نے یونیسیف کے تعاون سے DHIS2 کی تکنیکی تشکیل، مقامی ضروریات سے ہم آہنگی اور صوبے بھر میں اس کے موثر نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد محکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان علمی، تحقیقی اور عملی تعاون کو فروغ دینا، جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے نظام کو بہتر بنانا اور دونوں اداروں کے تجربات اور مہارت سے باہمی استفادہ کرنا ہے۔معاہدے کے تحت بلوچستان میں DHIS2 کے نفاذ کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن، موسمیاتی تبدیلی اور صحت، اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مقامی اختراعات کو فروغ دیا جائے گا۔ محکمہ صحت بلوچستان کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار DHIS2 کور ٹیم کا قیام اور متعلقہ افسران و تکنیکی عملے کی استعداد کار میں اضافہ بھی تعاون کے اہم نکات میں شامل ہے۔دونوں ادارے DHIS2 سے متعلق تجربات، کامیاب عملی ماڈلز اور مقامی اختراعات کا باہمی تبادلہ کریں گے۔ بلوچستان میں متعارف کرائے گئے موثر اقدامات اور حاصل ہونے والے تجربات کو عالمی DHIS2 کمیونٹی تک پہنچایا جائے گا اور انہیں DHIS2 ایشیا کانفرنس، اوسلو میں منعقد ہونے والی DHIS2 سالانہ کانفرنس اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر پیش کیا جائے گا۔مفاہمتی یادداشت کے تحت باہمی مطالعاتی دوروں، تکنیکی اجلاسوں، مشترکہ تحقیق، علمی مطبوعات اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر مواد کے تبادلے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ دونوں ادارے مشترکہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے رابطہ کار نامزد کریں گے۔ یونیورسٹی آف اوسلو کی جانب سے اولاو پوپے جبکہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر ابابگر بلوچ مشترکہ سرگرمیوں کی پیش رفت اور انتظام کی ذمہ داری انجام دیں گے۔معاہدے کے مقاصد کے حصول کے لیے دستیاب انسانی اور مالی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص پروگرام، منصوبے اور تعاون کے مزید معاہدے تشکیل دیے جائیں گے، جبکہ مفاہمتی یادداشت کے دائرکار میں دونوں فریق نئی مشترکہ سرگرمیوں کی تجاویز بھی پیش کر سکیں گے۔اس موقع پر یونیورسٹی آف اوسلو کے نمائندوں نے محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان کے ڈیجیٹلائزیشن اقدامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے BHMIS ٹیم کی جانب سے DHIS2 کے نفاذ، رپورٹنگ کمپلائنس، ڈیٹا کے استعمال اور نظام کی بہتری کے لیے کیے گئے کام کو سراہا۔یونیورسٹی آف اوسلو کی جانب سے توقع ظاہر کی گئی کہ بلوچستان کا ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل نہ صرف پاکستان کے دیگر صوبوں اور اداروں کے لیے قابلِ تقلید ثابت ہوگا بلکہ DHIS2 کے مو¿ثر استعمال، شراکت داری اور مقامی اختراعات کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئے گا۔سیکرٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمٰن نے اس پیش رفت کو صوبے کے نظامِ صحت کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی علمی و تکنیکی تعاون اور ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت سے صحت سے متعلق معلومات کے معیار، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی، نگرانی، جواب دہی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے BHMIS ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ یونیسیف پاکستان اور HISP پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی نظامِ صحت کے قیام کے لیے اصلاحات کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8037/2026
چمن21 ستمبر ۔ضلع چمن میں 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغازبلوچستان بھر کی طرح ضلع چمن میں بھی 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اپنے دفتر میں بچوں کو پولیو سے بچاوکے حفاظتی قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔اس موقع پر سماجی رہنما محمد علی اچکزئی اور ضلعی پولیو افسر محمد اشرف اچکزئی بھی موجود تھے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق مہم کے دوران ضلع چمن میں 83 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پولیو ٹیمیں ضلع بھر میں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائیں گی۔مہم کے دوران چمن شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم چیک پوسٹوں پر بھی پولیو ٹیمیں تعینات رہیں گی، جہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرنے والے اور پیدل چلنے والے بچوں کو بھی پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے والدین اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو کے حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، پولیو ٹیموں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کے مشترکہ تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8038/2026
کوئٹہ: 21 ستمبر۔ سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی اور کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان انعام الحق نے ای او سی بلوچستان میں بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔ مہم کے دوران صوبے میں پانچ سال سے کم عمر 23 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی کے مطابق بلوچستان میں 24 ماہ سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم ڑوب اور چمن میں وائرس کی موجودگی اور افغانستان سے وائرس کی منتقلی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8039/2026
گوادر21 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت قومی انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت، انتظامات اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ جہانزیب خان، ڈپٹی ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر فاروق اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اجلاس میں پولیو مہم کی کوریج، ٹیموں کی کارکردگی، فیلڈ نگرانی اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا، جبکہ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے تک رسائی اور کسی بھی بچے کے ویکسین سے محروم نہ رہنے کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مہم کے مقررہ اہداف حاصل کیے جائیں، فیلڈ ٹیموں کی مو¿ثر نگرانی کی جائے اور سیکیورٹی سمیت دیگر درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8040/2026
برشور21 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر برشور کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق،عوام کے مسائل کے فوری حل کے لیے 24 ستمبر 2026 بروز جمعرات،بوقت دوپہر 12:00 بجے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں ’کھلی کچہری‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے،جہاں ڈپٹی کمشنر سمیت تمام ضلعی افسران شہریوں کی شکایات سن کر موقع پر ہی احکامات جاری کریں گے۔اعلامیے میں سائلین کے لیے طریقہ کار واضح کیا گیا ہے کہ وہ کچہری میں شرکت کے وقت اپنے ہمراہ قومی شناختی کارڈ کی کاپی اور تحریری درخواست لائیں، جبکہ مو¿ثر کارروائی اور فالو اپ کے لیے درخواست پر اپنا فعال رابطہ نمبر بھی درج کریں،اس طریقہ کار کا مقصد شکایات کے اندراج اور ان پر ہونے والی پیشرفت کو شفاف اور آسان بنانا ہے۔ڈپٹی کمشنر دفتر نے ضلع بھر کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مسائل و مشکلات کے بروقت اور ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے اس کھلی کچہری میں بروقت شرکت کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8041/2026
سیوی21 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت پولیو مہم کے پہلے روز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سیوی عمران مندوخیل، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران اور ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر صلاح الدین مری سمیت ادارہ صحت عالمی (ڈبلیو ایچ او)، یونیسیف اور آئی ایس ڈی کے افسران کے علاوہ یو سی ایم اوز، مانیٹرز اور دیگر متعلقہ عملے نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام یو سی ایم اوز اور مانیٹرز نے متعلقہ یونین کونسلوں کے حوالے سے ٹارگٹ، زیرو ڈوز، این اے، مسڈ اور ریفیوزلز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زیرو ڈوز اور مسڈ یا ریفیوزلز والے تمام بچوں کو آج ہی کور کیا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈی سی نے تمام ٹیموں کو مکمل ذمہ داری، فرض شناسی اور شفافیت کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ عملہ ہر گھر تک رسائی یقینی بنائے اور مانیٹرنگ ٹیمیں مسلسل کارکردگی کا جائزہ لیتی رہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8042/2026
کوہلو 21 ستمبر۔محکمہ زراعت توسیع کوہلو کے دفتر سے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق تمام کسان کارڈ ہولڈرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کسان کارڈ کے حصول کے لیے کسی بھی پی سی او یا غیر متعلقہ ایجنٹ کو چارجز ادا نہ کریں۔ کسان کارڈ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہل زمینداروں کو بلا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے کسان کارڈ کے حصول، رجسٹریشن،طریقہ کار اور دیگر متعلقہ معلومات کے لیے دفتری اوقات میں محکمہ زراعت توسیع کوہلو کے دفتر سے رجوع کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8043/026
جعفرآباد۔۔۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت ضلع جعفرآباد میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعمیراتی معیار اور کام کی رفتار کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے سول ہسپتال اور گورنمنٹ کالج میں جاری تعمیر و مرمت کے کاموں کا معائنہ کیا اور مختلف حصوں میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سب ڈویژنل آفیسر مواصلات و تعمیرات بلڈنگز محمد صدیق زہری نے ڈپٹی کمشنر خالد خان کو جاری تعمیراتی کاموں، منصوبوں کی پیش رفت اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ان منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات جبکہ طالبات کو تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری تعمیراتی کاموں میں مزید تیزی لائی جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، جبکہ منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہوئے مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی سامان کے معیار کو یقینی بنایا جائے اور تمام کام منظور شدہ ڈیزائن اور تخمینے کے مطابق مکمل کیے جائیں، تاکہ عوام کو دیرپا اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی اور عوامی مفاد میں جاری منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8044/026
جیوانی21 ستمبر 2026: اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہ سر بازار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری اور اسکول کے نظم و ضبط کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے طالبات سے مختلف تعلیمی سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد، معلومات اور تدریسی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے اساتذہ کی حاضری بھی چیک کی اور غیر حاضر اساتذہ کو آئندہ باقاعدگی سے حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم، اساتذہ کی بروقت حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل یقینی بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں
خبرنامہ نمبر8045/026
کوئٹہ 21ستمبر۔ سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی کی زیرِ صدارت گزشتہ پولیو مہم کے جائزے اور آئندہ پولیو مہم کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی کوارڈینیٹر ای او سی انعام الحق،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن، مدارس ایسوسی ایشن اور سرکاری اسکولوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ضلع کوئٹہ میں پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور اسکولوں، مدارس اور تعلیمی اداروں کے تعاون سمیت مہم کے دوران کیے گئے اقدامات اور حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا۔اس موقع پر سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی نے پولیو کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام اداروں کا باہمی تعاون اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کے دوران اسکولوں، مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کے بھرپور تعاون کو یقینی بنانے اور بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی غور کیا گیا اجلاس میں پولیو مہم کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پرائیویٹ اسکولوں، مدارس اور سرکاری اسکولوں کے نمائندگان میں تعریفی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔
اس موقع پر سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور پولیو کوآرڈینیٹر انعام الحق نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں کے نمائندگان کو تعریفی سرٹیفکیٹس پیش کیے۔
خبرنامہ نمبر8046/026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی خصوصی ہدایت پر شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں سورج گنج بازار اور سرکلر روڈ پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کے انسدادِ تجاوزات عملے نے تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ کارروائی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے میونسپل مجسٹریٹ عمران زیب کاسی اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ کی نگرانی میں کی گئی۔کارروائی کے دوران سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات کو ہٹایا گیا اور دکانداروں و شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ سرکاری اراضی، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کسی قسم کی تجاوزات قائم نہ کی جائیں۔انتظامیہ کے مطابق شہر میں ٹریفک کی روانی، پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھوں کی بحالی اور شہری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر8047/026
کوئٹہ 21 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہماری اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ محسوس کریں کہ ان کی صلاحیت، ان کا علم اور ان کا مستقبل اسی سرزمین پر قدر و منزلت رکھتا ہے۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ہمارے نوجوان نہ صرف اپنے مستقبل کو بہتر بنائیں بلکہ ملک و قوم کے مستقبل کی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں وائس چانسلر محض کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کا سربراہ ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ نوجوان نسل کے مستقبل، جدید ریسرچ کے فروغ اور معاشرے کی فکری سمت کے تعین میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ہماری مشترکہ کاوشوں سے تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو معیار اور مقدار کے اعتبار سے بلند تر مقام تک پہنچانے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں جو سب کیلئے باعث فخر و مسرت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رزاق صابر اور تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی وسیع و عریض ساحلی پٹی میں مستقبل کی ایک بڑی معاشی و تجارتی صلاحیت موجود ہے۔ گوادر اور تربت صرف جغرافیائی اہمیت نہیں رکھتے بلکہ بلیو اکانومی، میری ٹائم ٹریڈ، ماہی گیری، کوسٹل مینجمنٹ اور سمندری وسائل کے حوالے سے بھی غیر معمولی امکانات رکھتے ہیں۔ اس روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے گوادر یونیورسٹی اور تربت یونیورسٹی دونوں کے کندھوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی پروگرامز اور تحقیقی ترجیحات کو اپنی مقامی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ کریں اور یونیورسٹی طلباء و طالبات کو بلیو اکانومی، کوسٹل بیلٹ مینجمنٹ، میرین سائنسز اور فشریز کی تجارت سمیت جدید شعبوں کیلئے تیار کریں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آج کی دنیا میں قدرتی وسائل سے زیادہ اہم انسانی وسائل ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان معیاری تعلیم، ڈیجٹل ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں سے لیس ہوں تو بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار، کاروبار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔میری اولین ترجیح کوالٹی ایجوکیشن کا فروغ ہے۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے تمام وائس چانسلرز صاحبان اور دیگر متعلقہ ذمہ داران کا بھرپور تعاون اشد ضروری ہے۔
خبرنامہ نمبر8048/026
تربت21 ستمبر2026 2026:** ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ضلع کیچ میں جاری چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت اور اسے کامیابی سے مکمل کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس ڈی سی آفس تربت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او محسن، ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر ارسلان بلوچ، ڈاکٹر احسان اللہ، یونین کونسل مینجمنٹ آفیسرز، ڈسٹرکٹ مانیٹرز، ڈبلیو ایچ او مانیٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی، مختلف علاقوں میں جاری سرگرمیوں اور ٹیموں کی جانب سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کی جانب سے مہم کی مجموعی صورتحال اور فیلڈ میں درپیش مسائل سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور گھر گھر پہنچ کر پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ والدین اور معاشرے کے ہر فرد کا تعاون ناگزیر ہے۔ والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔واضح رہے کہ ضلع کیچ میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے چار روزہ انسدادِ پولیو مہم جاری ہے، جو 21 سے 24 ستمبر تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران ضلع بھر میں 315 موبائل ٹیمیں خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ 71 فکسڈ اور 9 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے انسدادِ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول، تمام بچوں تک رسائی اور مہم کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے لیے اپنی بھرپور کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر8049/026
کوئٹہ:سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی نے کہا ہے کہ صوبے کے 32ہائی رسک اضلاع میں سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے، جس کے دوران 23لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو برس سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اہم کامیابی ہے، تاہم ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔اپنے بیان میں سیکرٹری صحت بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور مختلف مقامات پر پوائنٹس قائم کرکے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، تاہم صرف کیسز کا سامنے نہ آنا کافی نہیں بلکہ ماحولیاتی نمونوں کو بھی مسلسل منفی رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ژوب اور چمن میں دو سرکلز کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق یہ وائرس افغانستان سے بلوچستان میں آنے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں انسدادِ پولیو سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ چمن اور ژوب میں پولیو مہمات بھرپور انداز میں جاری ہیں جبکہ مختلف مقامات پر بچوں کو ویکسین پلانے کے لیے خصوصی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ بلوچستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک قرار دینے کے لیے مسلسل تین سال تک ماحولیاتی نمونے منفی آنا ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لیے پولیو کی نگرانی، ویکسی نیشن اور ماحولیاتی سیمپلنگ کے نظام کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔مجیب الرحمن پنیزئی نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، اساتذہ، علما کرام، میڈیا، قبائلی رہنماں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچا کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ویکسین سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم کو سیکیورٹی کے حوالے سے بھی مختلف چیلنجز درپیش ہیں، تاہم حکومت پولیو ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم کے لیے سیکیورٹی پلان چیف سیکرٹری بلوچستان کی نگرانی میں تیار اور منظور کیا جاتا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سیکرٹری صحت بلوچستان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پولیو کے حوالے سے رابطہ کاری کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں کوآرڈینیشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب وائرس کی منتقلی کے امکانات موجود ہونے کے باعث مشترکہ اور مربوط کوششیں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں21ستمبر سے انسدادِ پولیو مہم جاری ہے جبکہ افغانستان میں بھی پولیو مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں وائرس کی موجودگی برقرار ہے اور حالیہ ہفتے میں وہاں تین سے چار پولیو کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ افغانستان میں بعض علاقوں میں گھر گھر ویکسی نیشن کے بجائے مختلف پوائنٹس پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس کی نگرانی اور بچوں کی ویکسی نیشن مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔سیکرٹری صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسی نیشن، ماحولیاتی نگرانی، سرحدی علاقوں میں خصوصی اقدامات اور عوامی تعاون کے ذریعے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر 8050/026
تربت: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤوف بلوچ نے ستمبر 2026ء کی پولیو مہم کے پہلے روز تحصیل تربت کی یونین کونسل تربت سٹی کا دورہ کیا اور مختلف پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے فیلڈ میں موجود فرنٹ لائن ورکرز سے ملاقات کی، ان کی خدمات کو سراہا اور مؤثر انداز میں مہم جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر حاجی عبدالرؤوف رند نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے فیلڈ ورکرز کی ذمہ دارانہ کارکردگی اور والدین کا تعاون نہایت اہم ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں اور مہم کو کامیاب بنانے میں محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں۔
خبرنامہ نمبر8051/026
تربت (21 ستمبر 2026) جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کوئٹہ میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ حافظ محمد قاسم بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات، یونیورسٹی فنانس کمیشن کے آئندہ اجلاس، اور سینئر فیکلٹی و انتظامی عملے کی کمی کے باعث یونیورسٹی میں پیدا ہونے والے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وائس چانسلر نے وزیر خزانہ سے جامعہ تربت میں سینئر فیکلٹی، آئینی اور انتظامی آسامیاں تخلیق کرنے، انہیں مشتہر اور پُر کرنے کی منظوری دلوانے میں تعاون کی درخواست کی۔وائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام نہ صرف مختلف پروفیشنل کونسلز اور ایکریڈیٹیشن اداروں کے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے، بلکہ یونیورسٹی کے وژن اور اسٹریٹجک پلان 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کو آگاہ کیا کہ آئینی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے اشتہار پہلے ہی شائع کیا جا چکا ہے اور امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے، جبکہ بقیہ مراحل مروجہ قواعد اور آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔
ڈاکٹر گل حسن نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے خالی فیکلٹی اور انتظامی آسامیوں پر بھرتی کا معاملہ حکومت بلوچستان کے محکمہ کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو بھجوا دیا ہے، جسے اب غور و خوض اور حتمی منظوری کے لیے یونیورسٹی فنانس کمیشن کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے وائس چانسلر کو یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان جامعہ تربت میں فیکلٹی اور انتظامی آسامیوں کو پُر کرنے سمیت تمام درپیش مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
خبرنامہ نمبر8052/026
زیارت :ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کر دیا*
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع زیارت میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر زیارت محمد عبدالقدوس اچکزئی نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر شہباز اور ڈپٹی ڈی ایچ او مقیت خان کاکڑ سمیت محکمہ صحت کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران ضلع زیارت میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 27 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کے دوران موبائل پولیو ٹیمیں ضلع بھر میں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی، جبکہ بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے 29 فکسڈ سائٹس اور 12 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت محمد عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ضلع زیارت میں انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پولیو ٹیموں کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کی گئی ہےتاہم انسدادِ پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے یا سرکاری ٹیموں کے فرائض کی انجام دہی میں مداخلت کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے والدین پر زور دیا کہ وہ حکومت اور محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور معذوری کا باعث بننے والا مرض ہے، جس کا ملک میں موجود ہونا باعثِ تشویش ہے۔ اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت، محکمہ صحت، والدین، علماء کرام، اساتذہ، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی اور تمام مکاتبِ فکر کے افراد کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
خبرنامہ نمبر8053/026
صحبت پور۔۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ صدارت ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری پانچ روزہ پولیو مہم کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی اور مقررہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ محکمہ صحت کے افسران اور پولیو مہم سے وابستہ ذمہ داران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے پولیو مہم کے دوران فیلڈ میں تعینات ٹیموں کی کارکردگی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی صورتحال، کوریج اور رہ جانے والے بچوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی انہوں نے ہدایت کی کہ پانچ سال تک کی عمر کے کسی بھی بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے بغیر نہ چھوڑا جائے اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ والدین کو پولیو سے بچاؤ کی اہمیت کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کریں ڈپٹی کمشنر نے مہم کی روزانہ کی بنیاد پر مؤثر نگرانی اور رپورٹنگ کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی
خبرنامہ نمبر 8054/026
چمن: ژڑہ بند پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو مبینہ ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے شہری سے چھینی گئی موٹرسائیکل اور ایک پسٹل برآمد کرلیا گیا، جبکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس کے مطابق ایس پی چمن کی خصوصی ہدایات پر ژڑہ بند پولیس چوکی کے انچارج انسپکٹر محمد حنیفیا کی سربراہی میں پولیس فورس چمن کوئٹہ قومی شاہراہ اور گردونواح میں امن و امان کے قیام کے لیے 24 گھنٹے گشت اور سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔پولیس کو اطلاع ملی کہ ژڑہ بند کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ایک شہری سے موٹرسائیکل چھین لی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا، جس پر ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق دوطرفہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے مسروقہ موٹرسائیکل اور ایک پسٹل برآمد کیا گیا۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی اور تفتیش شروع کردی ہے۔
خبرنامہ نمبر8055/026
نصیرآباد:چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات بشیر ناصر نے نصیرآباد میں مفاد عامہ کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا،اس موقع پر انہوں نے نوتال پولیس اسٹیشن کی چار دیواری واچ ٹاورز، انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ پیکج برائے ڈیرہ مراد جمالی بلیک ٹاپ روڈز کوٹ سردار خان رند فتح آباد ٹو بابا کوٹ۔ پٹ فیڈر تا قبولہ شاخ اور نیو ہسپتال میر حسن روڈ سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا موقع پر معائنہ کیا۔اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر بی اینڈ آر فدا حسین کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر روڈز بوستان خان چانڈیو،خلیل احمد عمرانی سمیت سب ڈویژنل آفیسران نادر علی پہنور، ذوالفقار علی لہڑی، اصغر علی چنہ، عابد علی پہنور، ندیم احمد سولنگی، سجاد علی عمرانی، سمیع اللہ کاکڑ اور دیگر افسران موجود تھے۔متعلقہ انجینئرز نے چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات کو جاری ترقیاتی منصوبوں، تعمیراتی پیش رفت، معیار اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ چیف انجینئر بشیر ناصر نے تمام منصوبوں کے تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے انجینئرز کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، حکومتی اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام افسران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ترقیاتی منصوبوں کو معیار کے مطابق مکمل کروانے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور صوبائی سیکرٹری بابر خان کی ہدایات کی روشنی میں نصیرآباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور تمام منصوبے معیاری انداز میں بروقت مکمل ہوں انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام انجینئرز اپنی نگرانی میں ترقیاتی منصوبوں کا تعمیراتی کام مکمل کروائیں تاکہ ان منصوبوں سے عوام دیرپا فوائد حاصل کرسکیں۔
خبرنامہ نمبر 8056/026
زیارت21 ستمبر 2026
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ضلع زیارت میں جاری چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مانیٹرنگ افسران اور زونل سپروائزرز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی مجموعی کارکردگی، پولیو ٹیموں کی فیلڈ سرگرمیوں، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی صورتحال، ٹیموں کی حاضری اور مانیٹرنگ کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انسدادِ پولیو مہم کے دوران تمام ٹیمیں اپنے فرائض محنت، ذمہ داری اور جذبے کے ساتھ انجام دیں اور پانچ سال تک عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مانیٹرنگ افسران اور زونل سپروائزرز کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں پولیو ٹیموں کی مؤثر نگرانی کی جائے، کسی بھی قسم کی کمی یا مسئلے کی فوری نشاندہی کرکے اس کا بروقت ازالہ کیا جائے اور مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
خبرنامہ نمبر8057/026
زیارت21 ستمبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابقڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نےایف اے او کے زیرِ اہتمام زیارت کے 100 زمینداروں میں بیج تقسیم کئے۔**
ایف اے او (FAO) کے زیرِ اہتمام محکمہ زراعت واٹر مینجمنٹ کے تعاون سے ضلع زیارت کے 100 زمینداروں میں مختلف اقسام کے بیج تقسیم کیے گئے۔ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی تھے، جبکہ محکمہ زراعت، واٹر مینجمنٹ، لائیو اسٹاک، ترقی فاؤنڈیشن کے نمائندوں، متعلقہ افسران اور بڑی تعداد میں زمینداروں نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ضلع زیارت ایک اہم زرعی علاقہ ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کا ذریعۂ معاش زراعت اور باغبانی سے وابستہ ہے۔ زیارت کے معیاری اور ذائقہ دار پھل ملک بھر میں منفرد مقام رکھتے ہیں، اس لیے زرعی شعبے کی ترقی، جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور زمینداروں کو سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت کے شعبے کی بہتری، پانی کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کاشتکاروں کو ضروری زرعی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ زمینداروں میں معیاری بیج کی فراہمی سے زرعی پیداوار میں بہتری اور کاشتکاروں کی معاشی حالت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ڈپٹی کمشنر نے زراعت کے شعبے میں ایف اے او کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے باہمی تعاون سے ضلع زیارت میں زرعی ترقی کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں بھی ایسے اقدامات اور تعاون کے تسلسل کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر زمینداروں نے اپنے مختلف زرعی مسائل اور ضروریات سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ان کے مسائل غور سے سنے اور متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اور مسائل کے حل کے لیے ہدایات دینے کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر 8058/026
کوئٹہ 21ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت جاری انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا،جس میں مہم کی پیش رفت اور ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام نے انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر انکاری والدین (رفیوزلز)، نان ایکسیس ایبل (NA) بچوں، سکیورٹی انتظامات اور دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کم کوریج والے یونین کونسلز (UCs) کا ڈیٹا بھی پیش کیا گیا، جبکہ مہم کے دوران درپیش مسائل کے حل اور کوریج کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور کم کوریج والے علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹیم دوران مہم اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے 100 فیصد ہدف کو حاصل کریں اس حوالے سے حائل رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کیا جائے انکاری والدین اور مسنگ چلڈرنز کے حوالے سے خصوصی پلان بنائیں۔
خبرنامہ نمبر8059/026
قلات:ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل ثناء اللہ ثناء، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل فرزانہ احمدزئی، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر عبدالفتاح سمیت محکمہ تعلیم قلات و خالق آباد کے افسران، کالجز کے پرنسپلز اور آر ٹی ایس ایم نے شرکت کی۔
جلاس میں ضلع قلات میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی، سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری، زیرِ تعمیر سکولوں کی تکمیل، سکولوں کی عمارتوں کی مرمت، اساتذہ کی کمی، ٹرانسفر و پوسٹنگ، اٹیچمنٹ اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔محکمہ تعلیم کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں سے کی جانے والی کٹوتیوں اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے محکمہ تعلیم کو درپیش مسائل کے حل اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کسی صورت قابلِ قبول نہیں، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اساتذہ کرام اپنی تمام تر توجہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور ان کی بہترین تربیت پر مرکوز رکھیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں، انہیں معیاری تعلیم اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے محکمہ تعلیم کے افسران اور آر ٹی ایس ایمز کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر سکولوں کے دورے کریں اور اساتذہ کی حاضری سمیت تعلیمی سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کو یقینی بنائیں، تاکہ ضلع میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے
خبرنامہ نمبر8060/026
قلات ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت پولیو مہم کے پہلے روز کے اختتام پر ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، ڈی پی او ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر مجتبیٰ باجوئی، ڈی ایم پی پی ایچ آئی جہانگیر زہری، ڈاکٹر گنشام داس، ڈی ایس پی قلات شکیل احمد عمرانی سمیت محکمۂ صحت کے سربراہان، ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان، مانیٹرنگ افسران، یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔اجلاس میں پہلے روز کی پولیو مہم سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ پولیو ٹیموں کو درپیش مسائل اور مشکلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں مہم کے دوران سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری نے کہا کہ پولیو مہم میں حصہ لینے والی ٹیمیں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام ٹیمیں صبح مقررہ وقت پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں تاکہ مقررہ ہدف بروقت حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور ٹیموں کو باہمی رابطے اور تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ ضلع قلات میں کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے
خبرنامہ نمبر8061/026
ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی تقریب
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ بلوچستان کی صدر غزالہ گولہ کی جانب سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر آفس میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنان کے ہمراہ سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور بلاول بھٹو زرداری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ تقریب میں پارٹی کارکنان نے بھی شرکت کی اور چیئرمین پیپلز پارٹی کی درازی عمر اور کامیابی کے لیے دعا کی۔
خبرنامہ نمبر8062/026
کوئٹہ21 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جہانگیر شاہ اور شوکت بلوچ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والے اصغر بگٹی، خالد آبڑو، محمد ابراہیم جتوئی، نور احمد سمالانی، علی سمالانی اور حامد کاکڑ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، صوبے میں عوامی مسائل، ترقیاتی امور اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو صوبے میں مزید فعال اور منظم بنانے سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی مضبوطی، جمہوری عمل کے تسلسل اور عوامی مسائل کے حل کیلئے سیاسی کارکنوں کا مثبت اور فعال کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صوبے میں ترقیاتی عمل کو مؤثر بنانے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کیلئے تعلیم و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8063
کوئٹہ21 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جہانگیر شاہ اور شوکت بلوچ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والے اصغر بگٹی، خالد آبڑو، محمد ابراہیم جتوئی، نور احمد سمالانی، علی سمالانی اور حامد کاکڑ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، صوبے میں عوامی مسائل، ترقیاتی امور اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو صوبے میں مزید فعال اور منظم بنانے سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی مضبوطی، جمہوری عمل کے تسلسل اور عوامی مسائل کے حل کیلئے سیاسی کارکنوں کا مثبت اور فعال کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صوبے میں ترقیاتی عمل کو مؤثر بنانے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کیلئے تعلیم و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8064
کوئٹہ 21 ستمبر: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں واسا، لیڈا، فوڈ اتھارٹی اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ سیکرٹریز نے اپنے محکموں کی دو سالہ کارکردگی، حاصل شدہ کامیابیاں اور آئندہ لائحہ عمل تفصیل سے پیش کیا۔اجلاس میں مذکورہ محکموں میں لازمی اصلاحات، سروس ڈیلیوری میں بہتری، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے واسا کو بل کلیکشن کے عمل کو مؤثر، شفاف اور صارف دوست بنانے کی فوری ہدایات دیں جبکہ واٹر سیکٹر میں ریونیو اکٹھا کرنے کے طریقہ کار بہتر کرنے پر زور دیا۔ فوڈ اتھارٹی نے مختلف اضلاع میں اشیائے خورونوش کے معیار کو چیک کرنے کے لیے سیٹ اپ قائم کیا ہے۔ اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے پیپلز ٹرین، گرین بسز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ان محکموں میں اصلاحات عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط کریں گی اور ہر محکمے کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8065
کوئٹہ 21ستمبر۔:ـکمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویژن میں محکمہ صحت کی مجموعی صورتحال اور عوام کو فراہم کرہ سہولیات اور طبی خدمات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کوئٹہ ڈویژن میں صحت کے شعبے کی موجودہ صورتحال، عوام کو فراہم کردہ طبی سہولیات، افرادی قوت، سرکاری اسپتالوں کی حالت زار اور متعدی امراض کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ سمیت محکمہ صحت کے افسران کے علاؤہ ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام خان نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو ڈویژن بھر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں مختلف سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں دستیاب طبی سہولیات، ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت دیگر افرادی قوت کی صورتحال، ادویات کی دستیابی اور اسپتالوں میں عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اسپتالوں کی حالت زار، طبی عملے کی دستیابی اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ صحت کے افسران نے ڈویژن میں متعدی امراض کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی اجلاس کو بریفنگ دی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے متعلقہ حکام کو صحت کے شعبے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل، بنیادی و ضروری طبی سہولیات کی دستیابی اور سرکاری اسپتالوں میں خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی اہم ذمہ داری ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اسپتالوں اور مراکز صحت میں طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی باقاعدگی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کریں تاکہ صحت کے حوالے سے سہولیات میں مزید بہتری لائی جاسکے۔سے نگرانی کی جائے جبکہ متعدی امراض کی روک تھام کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کو مزید فعال بنایا جائے۔اجلاس میں صحت کے شعبے سے متعلق مختلف امور پر غور و خوض کے بعد عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت عامہ کے مسائل کے بروقت ازالے کے لیے باہمی رابطے اور مؤثر نگرانی کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8066
ضلع چمن21ستمبر:ـچمن میں جاری انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت چمن کے افسران، پولیو افسران، ضلعی پولیو افسر محمد اشرف اچکزئی اور دیگر متعلقہ افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیو ٹیموں کے متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر چمن کو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل، ٹیموں کی فیلڈ سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پانچ سال تک کی عمر کے کسی بھی بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے بغیر نہ چھوڑا جائے اور ضلع چمن کے دور دراز، دشوار گزار علاقوں سمیت ہر گلی، محلے اور کونے تک پولیو ٹیموں کی رسائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران کسی قسم کی مصلحت پسندی یا نرمی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور تمام اہلِ عمر بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کے لیے بھرپور اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ ٹیموں کی مسلسل نگرانی، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور انہیں پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کو ہر صورت مکمل کیا جائے۔اجلاس میں انسداد پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پولیو ٹیموں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ و تعاون یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ قومی اہمیت کی حامل انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری لگن، جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ ضلع چمن میں کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8067
ضلع قلعہ عبداللہ:ـقلعہ عبداللہ میں حکومت بلوچستان کی جانب سے 19 نومبر 2025ء کو قبرستان چوکی قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس سب اسسٹنٹ انسپکٹر (اے ایس آئی) سعداللہ خان عرف ڈاکٹر کے لواحقین کو شہداء پیکیج کے تحت ایک کروڑ 22 لاکھ روپے کا امدادی چیک حوالے کر دیا گیا۔یہ امدادی چیک شہید اے ایس آئی سعداللہ خان کے بیٹے جہانگیر خان کو ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انجینئر نجم الدین کبزئی کی موجودگی میں دیا گیا۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ملک محمد حنیف اچکزئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر نظر محمد خان کاکڑ، اکاؤنٹ آفیسر فیصل خان، انسپکٹر حبیب اللہ خان سمیت کاکوزئی قوم کے معتبرین، شہید کے بھائی محمد حنیف اور سیف اللہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، سیاسی و قبائلی عمائدین اور شہید کے اہلِ خانہ نے شہید اے ایس آئی سعداللہ خان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ ملک، قوم اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید سعداللہ خان نے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی جان قربان کی، جو ایک عظیم قومی خدمت ہے۔مقررین نے کہا کہ پولیس فورس کے جوان امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ شہید سعداللہ خان کی قربانی پولیس فورس اور معاشرے کے لیے عزم، فرض شناسی اور خدمت کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت اور متعلقہ ادارے اپنا کردار جاری رکھیں گے، جبکہ شہید کے اہلِ خانہ نے امدادی پیکیج کی فراہمی پر حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام اور متعلقہ تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔شہید کے اہلِ خانہ اور قبائلی عمائدین نے شہید سعداللہ خان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، عوامی تحفظ اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے اپنا کردار جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8068
ضلع قلعہ عبداللہ:ـقلعہ عبداللہ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع میں صحتِ عامہ کی مجموعی صورتحال، بنیادی مراکزِ صحت کی کارکردگی، طبی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو بروقت و معیاری طبی خدمات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل انجینئر نجم الدین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ضیاء الرحمن، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر فیصل خان، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر عبدالغفار کاکڑ، مسعود احمد اچکزئی سمیت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اراکین اور ACASUS ٹیم نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (IMU) کی جانب سے ضلع قلعہ عبداللہ کے صحت مراکز اور صحتِ عامہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں مختلف طبی مراکز کی کارکردگی اور جاری صحت سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا گیا۔ رپورٹ پر اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا اور مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے محکمہ صحت اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ضیاء الرحمن، ایم ایس ڈاکٹر عبدالغفار کاکڑ سمیت تمام افسران اور طبی عملے کی محنت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانا اور عوام کو بروقت و معیاری طبی خدمات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ بنیادی صحت کی سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے مؤثر نگرانی، باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات مزید تیز کیے جائیں، تاکہ ضلع کے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر صحت کے شعبے میں جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور عوامی خدمات کے معیار میں مسلسل بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8069
ضلع قلعہ عبداللہ:_قلعہ عبداللہ میں ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال، تدریسی عمل، اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل انجینئر نجم الدین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر احمد خان، ڈی او ای سید محمد امین آغا، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر قلعہ عبداللہ عبدالمنان اچکزئی، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر گلستان حفیظ اللہ پیرعلیزئی، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر دوبندی عبدالمتین اچکزئی، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ محمد شفیق خان، ترقی فاؤنڈیشن کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر خلیل خان سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف تعلیمی اداروں کی کارکردگی، اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور اداروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی معیار میں بہتری، مؤثر نگرانی اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی بنیاد ہے، اس لیے تعلیمی اداروں میں معیاری تدریس، سازگار ماحول اور طلبہ کو ضروری سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے. انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ تعلیمی اداروں کی نگرانی مزید مؤثر بنائیں، اساتذہ و طلبہ کی حاضری یقینی بنائیں اور اداروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ضلع قلعہ عبداللہ میں تعلیم کے فروغ اور سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے محکمہ تعلیم کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کو بہتر اور معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8070
کوئٹہ21ستمبر:ـاسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے سب ڈویژن صدر کے مختلف شاپنگ مالز اور جنرل اسٹورز کا دورہ کیا اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر صدر نے متعلقہ دکانداروں کو ڈی سی کاؤنٹرز قائم کرنے کے احکامات جاری کیے، جہاں عوام کو مقررہ نرخوں سے کم قیمت پر مختلف اشیائے خوردونوش فراہم کی جائیں گی۔اسسٹنٹ کمشنر صدر نے متعلقہ حکام کو ڈی سی کاؤنٹرز کی باقاعدہ نگرانی اور مقررہ نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔


