خبر نامہ نمبر6308/2026
بیجنگ/چین:21جولائی ۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کی سربراہی میں چیرمین گوادر پورٹ نور الحق بلوچ اور اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد نے چین کا دورہ کیا، جہاں وفد نے بیجنگ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سیمینار ”پاک۔چین انٹرنیشنل لاجسٹکس حب کے ذریعے اقتصادی ترقی کا فروغ“ میں شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اقتصادی و اسٹریٹجک شراکت داری، علاقائی روابط اور مربوط لاجسٹکس نیٹ ورک کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کے ذریعے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا کیئے جا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، ساحلی پٹی اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کے باعث خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کو جدید لاجسٹکس، ٹرانس شپمنٹ، بحری خدمات اور علاقائی تجارت کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے پاکستان چین سمیت دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مربوط ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر کے ذریعے چین، پاکستان، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چینی حکومتی اداروں، کاروباری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بالخصوص گوادر پورٹ اور گوادر فری زون سے منسلک شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ سیمینار سے چیرمین گوادر پورٹ نور الحق بلوچ نے اپنے خطاب میں گوادر پورٹ کی منفرد جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گوادر مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مغربی چین کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے علاقائی لاجسٹکس، ٹرانس شپمنٹ، بنکرنگ اور بحری خدمات کے مرکز کے طور پر غیر معمولی اہمیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے شرکائ کو گوادر پورٹ پر جاری تجارتی سرگرمیوں، کارگو ہینڈلنگ، حالیہ کمرشل بنکرنگ آپریشنز، ٹرانس شپمنٹ سہولیات، جدید بندرگاہی انفراسٹرکچر اور گوادر فری زون میں دستیاب سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کو ٹیکس مراعات، کسٹمز سہولیات اور کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ چیرمین نور الحق بلوچ نے چینی سرمایہ کاروں کو بندرگاہ سے منسلک صنعتوں، لاجسٹکس، ویئر ہاوسنگ، جہازوں کی مرمت، ماہی گیری، قابلِ تجدید توانائی، ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس اور دیگر صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ مستقبل قریب میں پورے خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کا اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے گوادر پورٹ کو صرف ایک تجارتی بندرگاہ نہیں بلکہ مستقبل کے علاقائی انرجی، لاجسٹکس اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ حب کے طور پر پیش کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع صلاحیتوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے لینڈ بیسڈ ایل این جی ٹرمینل کے تصور پر بھی روشنی ڈالی، جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توانائی رابطہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے۔ نور الحق بلوچ نے بتایا کہ مجوزہ منصوبہ 3 سے 4 ارب امریکی ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری، 35 بی سی ایف (BCF) ایل این جی اسٹوریج اور تقریباً 125 ایکڑ پر محیط جدید انفراسٹرکچر پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان میں توانائی کی دستیابی اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ گوادر کو جدید انرجی لاجسٹکس حب میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سیمینار کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، مربوط لاجسٹکس نیٹ ورک، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز اور بندرگاہ سے منسلک صنعتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں ایسے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن کی مجموعی ممکنہ سرمایہ کاری 10 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ مجوزہ منصوبوں میں ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز، لاجسٹکس پارکس، میری ٹائم سروسز، بندرگاہ سے منسلک صنعتی انفراسٹرکچر، ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس پلیٹ فارمز اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ چینی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں نے گوادر پورٹ کی ترقی اور مستقبل کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔ چیرمین نور الحق بلوچ نے کہا کہ گوادر پورٹ پر عالمی معیار کی بندرگاہی سہولیات، گہرے پانی کی بندرگاہ، گوادر فری زون، حالیہ کامیاب کمرشل بنکرنگ آپریشنز، ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں اور مستقبل کے انرجی منصوبوں کا امتزاج گوادر کو خطے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک منفرد اور پرکشش منزل بناتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی سرمایہ کاروں کو شفاف، سازگار اور بین الاقوامی معیار کی کاروباری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پ±رعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ نہ صرف سی پیک کا سمندری دروازہ ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان کو علاقائی تجارت، ٹرانزٹ، لاجسٹکس اور بحری معیشت کا مرکزی مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ بیجنگ میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی فورم میں لوہانگ ریل ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ (Luhang Rail Transportation Technology Company Ltd) کے چیئرمین لن جیان ہوئی (Lin Jianhui) سمیت چینی حکومتی نمائندوں، سرکاری اداروں، لاجسٹکس کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ فورم میں گوادر پورٹ اتھارٹی کی شرکت پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور گوادر کو عالمی معیار کے تجارتی، لاجسٹکس اور انرجی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6309/2026
کوئٹہ،21 جولائی۔: بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے زیر اہتمام حقِ معلومات ایکٹ سے متعلق ایک روزہ آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر بلوچستان انفارمیشن کمیشن، عبدالشکور نے کہا کہ حقِ معلومات کا قانون شفاف، جوابدہ اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری معلومات تک بروقت رسائی فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ معلومات تک رسائی سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ گورننس کے نظام میں بھی بہتری آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان انفارمیشن کمیشن عوام میں حقِ معلومات کے قانون سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف اضلاع میں آگاہی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اپنے قانونی حق سے آگاہ ہو سکیں۔تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر کمشنر بلوچستان انفارمیشن کمیشن عبدالشکور نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ شرکاء حقِ معلومات کے پیغام کو معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔شرکاء نے حق معلومات کے قانون کے حوالے سے منعقدہ آگاہی نشست کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بلوچستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے حقِ معلومات کے قانون کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6310/2026
بارکھان،21 جولائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے امن، عوامی تحفظ اور موثر طرزِ حکمرانی کے وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے ماہانہ اجلاس منعقد ہوئے۔اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، حساس اداروں کے نمائندگان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات، بین الادارہ تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور عوامی مفاد سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے باہمی رابطے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے قومی شاہراہ این-70 پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے، مشترکہ گشت میں اضافہ، چیکنگ کے نظام کو موثر بنانے اور مشکوک افراد و سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت جاری کی تاکہ شاہراہ استعمال کرنے والے شہریوں کو محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ضلع میں پائیدار امن و استحکام کا قیام تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس ادارے باہمی تعاون، پیشہ ورانہ اندازِ کار اور بروقت اقدامات کے ذریعے امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دیتے رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6311/2026
لورالائی، 21 جولائی ۔: صوبائی حکومت کے وژن، کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ کی ہدایت اور نگرانی میں شہر بھر میں خصوصی صفائی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ شہریوں کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول کی فراہمی کے لیے میونسپل کمیٹی لورالائی کا عملہ مختلف علاقوں میں نالوں، گلیوں، برساتی گزرگاہوں اور کچرے کی بروقت صفائی یقینی بنا رہا ہے۔صفائی مہم کے دوران ملا خدر نیکہ قبرستان کے برساتی نالے، لیویز لائن، حریف گلی، کامران صاحب ٹپ، ایس ایس پی دفتر، ٹھنڈا مسجد، ڈاکٹر سعادت ہسپتال، حنظلہ مسجد، امیر زمان محلہ، اے کیو خان سکول، چکئی گلی، جان محمد گلی، کباڑی سکول اور پرانے نادرا دفتر کے اطراف نالوں اور گلیوں کی صفائی کی گئی، جبکہ عوامی شکایات موصول ہونے پر بعض مقامات پر دوبارہ صفائی بھی عمل میں لائی گئی۔ صفائی آپریشن میں ٹریکٹر ٹرالی، سوزوکی اور دیگر مشینری استعمال کی گئی۔اسی سلسلے میں شہر کے مختلف مقامات پر لگائے گئے درختوں کو باقاعدگی سے پانی فراہم کیا گیا تاکہ شجرکاری مہم کو موثر بنایا جا سکے، درختوں کی بہتر نشوونما یقینی ہو اور شہریوں کو سرسبز، صاف ستھرا اور خوشگوار ماحول میسر آئے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ بلوچ نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ صفائی مہم کو مزید موثر بنایا جائے، تمام علاقوں میں بلا تعطل صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھا جائے اور شہری مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صفائی برقرار رکھنے میں میونسپل کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں، کچرا مقررہ مقامات پر تلف کریں اور اپنے شہر کو صاف، سرسبز اور خوبصورت بنانے میں بھرپور کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6312/2026
بارکھان21 جولائی ۔ڈی آئی جی کوہِ سلیمان ڈویژن ایاز احمد بلوچ کے احکامات اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارکھان عبدالحق رائس کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں بارکھان پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران مقدمہ نمبر 05/2026 بجرم 379، 337-H(2)، 3/39-A میں مطلوب مفرور اشتہاری ملزم کو گرفتار کر لیا۔تفصیلات کے مطابق، تھانہ ناہڑ کوٹ کے اے ایس آئی/ایس ایچ او نیاز احمد عیشانی نے ہیڈ محرر حبیب خان اور دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے سعید احمد ولد نور محمد، قوم نانڈھا کو قانون کے مطابق گرفتار کیا۔گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ بارکھان منتقل کر دیا گیا ہے۔بارکھان پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6313/2026
چمن21جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت آج ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں ضلعی ترقیاتی کمیٹی (DDC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران، سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں، ایکسیئنز اور بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے انجینئرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع چمن میں فیز ون اور فیز ٹو کے مکمل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ فیز تھری کے منصوبوں پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ متعلقہ محکموں نے منصوبوں کے پی سی ون، جی پی ایس کوآرڈینیٹس، سائٹس کی تصاویر اور پیش رفت رپورٹس اجلاس میں پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار، شفافیت اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات حکومتِ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ضلع چمن میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری، شفافیت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ضلع کی پائیدار ترقی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہی ہے اور ہر منصوبے کی باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر63114/2026
گوادر 21 جولائی۔: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر گواد ر رومیل نعیم خان کے زیر صدارت کھلی کچہری منعقد ہوا کھلی کچہری میں عوامی مسائل کے حل کے لیے مو¿ثر اقدامات کی ہدایت، طلبہ اور ماہی گیروں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا کھلی کچہری میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم، میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین ماجد جوہر سمیت دیگر مختلف محکموں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی عوامی مسائل کے بروقت اور مو¿ثر حل کے حکومتی وڑن کے تحت منعقدہ کھلی کچہری میں شہریوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈائریکٹر فشریز، چئیرمین میونسپل کارپوریشن ودیگر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی شکایات کے فوری ازالے، باہمی رابطے کو موثر بنانے اور مقررہ مدت میں پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی کھلی کچہری کے دوران پانی، بجلی، بارڈر ٹریڈ، امن و امان، صحت، تعلیم، ریونیو، پولیس، صفائی، بلدیاتی خدمات، شہری سہولیات اور نیو ٹاون ہاوسنگ اسکیم سمیت مختلف عوامی مسائل زیرِ بحث آئے، جن پر متعلقہ افسران نے موقع پر ضروری احکامات جاری کرتے ہوئے موثر کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف سے متعلق مسائل پیش کیے، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرکے مسائل کے حل اور طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے فنی و پیشہ ورانہ تربیت پروگرامز کے فروغ پر بھی زور دیا گیا ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد نے فشریز، بیچم مچھلی کی شکار خرید و فروخت اور ماہی گیروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جس پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ اس شعبے کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے اس کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیاد ہے، جبکہ کھلی کچہری جیسے عوامی فورمز مسائل کے بروقت حل، شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمت کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے ایسے عوامی رابطہ پروگرام باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6315/2026
اوتھل 21جولائی ۔ایڈ یشنل چیف سکیٹری حمزہ شفقات کے حکامات پر ضلعی انتظامیہ لسبیلہ نے عملدرآمد شروع کردیا ہے امن وامان کی صورتحال اورسیکیورٹی ایس اوپیز کے پیش نظر ضلع بھرمیں رہائشی مکانات کی کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کیلئے ضلعی پولیس کوہدایات جاری کردی گئی ہیں ضلعی پولیس لسبیلہ کاکہنا ہے کہ تمام مالکان رہائشی وکمرشل مکانات دکانوں کے مالکان اور زمینداروں کو اپنے کرایہ داروں ہاریوں کے کوائف فوری طور پر پولیس اسٹیشن اوتھل میں آن لائن درج کروائیں بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے جاری کئے گئے اعلامیہ میں پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے ا ورنوٹسز جاری کیے گئے ہیں مالکان اور زمیندار اپنے کرایہ داروں اور زرعی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کا اندراج کروائیں پولیس اسٹیشن اوتھل میں کرایہ داروں اور ہاریوں کے کوائف کے آن لائن اندراج کا عمل چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے، لہٰذا شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کریں کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6316/2026
خضدار21جولائی ۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی ہدایت پر عوامی مسائل کے فوری حل اور ضلعی انتظامیہ سے براہِ راست رابطے کو موثر بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ کونسل ہال خضدار میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا اس کھلی کچہری کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ قلات سکاوٹ خضدار کے میجر اسرار نے مشترکہ طور پر کی کھلی کچہری میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل بلاجھجھک تحریری و زبانی طور پر پیش کیے عوام کی جانب سے جن اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی ان میں تعلیم پینے کے صاف پانی اور صحت کی سہولیات میں بہتری، ادویات کی دستیابی، ایمبولینس سروس کی فراہمی، فائر بریگیڈ کے قیام، تعلیمی نظام کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و بحالی، پینے کے صاف پانی کی منصفانہ تقسیم، امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر بنیادی عوامی مسائل شامل تھے۔کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر خضدار عابد حسین بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک افیسر ڈاکٹر محمد انور زیری ایکسیئن پی ایچ ای عبدالروف قمبرانی ایس ڈی او بی اینڈ ار نیاز احمد زہری پی پی ایچ ائی کے ڈی ایم صدام حسین ڈپٹی منیجر پی پی ایچ ائی ناصر احمد انجمن تاجران کے نمائندے محمد اقبال لانگو ہندو ہندو پنچایت کے سیٹھ جواری لال سنیل کمار اور تمام ضلعی محکموں کے سربراہان اور ان کے نمائندگان بھی موجود تھے، جنہوں نے موقع پر ہی متعدد مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کیے جبکہ بعض مسائل کو متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی کے لیے بھجوا دیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست اور موثر رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے مسائل بغیر کسی رکاوٹ کے پیش کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری اور موثر اقدامات یقینی بنائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے انتظامیہ عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی۔اس موقع پر کھلی کچہری سے قلات سکاوٹ کے میجر اسرار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت ضلع خضدار میں متحد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ کہیں دیگر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن کی تکمیل سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور ان کے مسائل میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6317/2026
لورالائی 21 جولائی ۔ اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیر صدارت اسسٹنٹ کمشنر آفس میں عوامی مسائل کے بروقت حل اور شہریوں کو سرکاری سہولیات کی موثر فراہمی کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی)محمد اکبر ، اسسٹنٹ کمشنر میختر اسرار احمد، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) قمر سلطانہ، ایم ایم ڈی کے انجینئر گل محمد خان خروٹی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر زمان حمزہ زئی، واپڈا حکام، انجمن تاجران کے نمائندگان، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، ضلعی محکموں کے سربراہان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، بجلی، سڑکوں، نکاسی آب، امن و امان، ریونیو، انفراسٹرکچر اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق زبانی اور تحریری درخواستیں پیش کیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے عوام کی شکایات اور تجاویز کو تفصیل سے سنا اور متعدد مسائل کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر نوعیت کے معاملات کے لیے مقررہ مدت میں کارروائی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، اسی مقصد کے تحت باقاعدگی سے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکےانہوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) سمیت دیگر ترقیاتی پروگراموں کے تحت ضلع لورالائی اور صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیم، صحت، سڑکوں، آبنوشی، توانائی اور دیگر بنیادی شعبوں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جن کی تکمیل سے عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی ہوگی اور علاقے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گااسسٹنٹ کمشنر نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی شکایات کے ازالے میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کریں، دفاتر میں آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط انداز میں کام کریں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مختلف محکمے باہمی تعاون اور موثر رابطے کے ذریعے عوامی مسائل کے پائیدار حل کو یقینی بنائیں۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کے افسران نے اپنی اپنی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کو مقررہ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان کے ثمرات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔ شرکائ نے کھلی کچہری کے انعقاد کو عوامی مسائل کے حل اور ضلعی انتظامیہ و شہریوں کے درمیان موثر رابطے کا مثبت اقدام قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6318/2026
گوادر: 21جولائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام بلوچ نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) جیوانی کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران آر ایچ سی جیوانی کے انچارج ڈاکٹر ادریس بلوچ نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، دستیاب طبی سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کی فراہمی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور ادارے کو درپیش مسائل سے متعلق اسسٹنٹ کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لیے درکار اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں او پی ڈی، ایمرجنسی، مردانہ و خواتین وارڈز، لیبارٹری، ایم این سی ایچ سینٹر، نیوٹریشن سینٹر، فارمیسی، ریکارڈ روم اور دیگر طبی سہولیات شامل تھیں۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی کی صورتحال، ادویات کی دستیابی اور مجموعی انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی حاضری چیک کی اور ہدایت جاری کی کہ تمام افسران و ملازمین مقررہ اوقات کار کی سختی سے پابندی کریں، مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور عوام کو بروقت، معیاری اور بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔بعدازاں اسسٹنٹ کمشنر نے فارمیسی اسٹور کا بھی معائنہ کیا اور ادویات کے ذخیرے، ریکارڈ اور دستیابی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ لائف سیونگ ڈرگز، ایمرجنسی ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان ہر وقت وافر مقدار میں دستیاب رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو فوری اور موثر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر طارق امام بلوچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر کے سرکاری صحت مراکز کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی اور عوام کو معیاری، بروقت اور بلا امتیاز طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مزید بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6319/2026
گوادر/اورماڑہ: 21جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہریوں کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے عزم کے تحت تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ نے میٹرنل چائلڈ ہیلتھ سنٹر اورماڑہ کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران تحصیلدار نور خان بلوچ نے سنٹر کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، عملے کی حاضری چیک کی اور ادویات کے اسٹاک کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے انچارج میٹرنل چائلڈ ہیلتھ سنٹر ملک آلیہ سے ادارے کو درپیش مسائل، دستیاب طبی سہولیات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔تحصیلدار نے سنٹر میں موجود بنیادی سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور موقع پر ہی ضروری بنیادی ساز و سامان فراہم کیا۔ انہوں نے پانی کے دیرینہ مسئلے کے فوری حل کے لیے متعلقہ عملے کو ہدایت کی، جس پر کھدائی کر کے نئی پائپ لائن بچھائی گئی اور پانی کی فراہمی بحال کر دی گئی۔نور خان بلوچ نے کہا کہ عوام کو صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فیلڈ وزٹس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور ادویات کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6320/2026
نصیرآباد21جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج مختلف محکموں کے افسران سے تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عابد علی رند اور ایکسین واپڈا وریام منجھو سمیت متعلقہ افسران موجود تھے اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عابد علی رند نے اپنے محکمے کی کارکردگی پر جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں سوشل ویلفیئر کے تحت مختلف فلاحی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے محکمے میں تعینات افسران و عملے کی تعداد، عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات، اور بالخصوص غریب و نادار افراد کے علاج و معالجے کے لیے انڈومنٹ فنڈز کے موثر استعمال کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے محکمے کو درپیش مسائل اور چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی دریں اثناء ایکسین واپڈا وریام منجھو نے بجلی کی فراہمی سے متعلق امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی، مختلف سرکاری محکموں پر بقایاجات، اور لوڈشیڈنگ کے اوقات جیسے مسائل درپیش ہیں۔ اجلاس میں ان مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور احسن طریقے سے ادا کریں انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دی جائے اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے انہوں نے سوشل ویلفیئر محکمے کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انڈومنٹ فنڈز کو شفاف انداز میں استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف مل سکے مزید برآں ڈپٹی کمشنر نے ایکسین واپڈا کو ہدایت کی کہ علاقے کی ضروریات، شدید گرمی کے موسم اور خاص طور پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے منصوبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور عوامی خدمت کو اپنا اولین مقصد بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6321/2026
کوئٹہ ،21 جولائی ۔آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی ہدایت پر ایس پی اوستہ محمد حافظ معاز الرحمٰن نے تحصیل مسجد شاہی بازار میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔کھلی کچہری میں شہریوں، معززینِ علاقہ اور تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایس پی اوستہ محمد نے عوام سے براہِ راست ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل شکایات اور تجاویز سنیں۔ انہوں نے شکایات کے فوری ازالے کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔ایس پی اوستہ محمد نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنانا اور پولیسنگ کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6322/2026
لسبیلہ۔21جولائی ۔ وفاقی وزیر تجارت جام میرکمال خان عالیانی اور پارلیمانی سیکریٹری میر زرین خان مگسی کی ہدایت پر اقلیتی رہنما ڈاکٹر تولا رام لاسی کی قیادت میں ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرہ ا بلوچ سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران لاکھڑا فیڈر پر حالیہ بجلی لوڈشیڈنگ کے شیڈول میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی عوامی مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفد نے موقف اختیار کیا کہ رات کے اوقات میں بجلی کی بندش کے باعث علاقوں کے عوام شدید گرمی میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا سابقہ شیڈول فوری طور پر بحال کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ رات کی لوڈشیڈنگ ختم کرکے لاکھڑا فیڈر کا پرانا بجلی شیڈول بحال کر دیا جائے گا، تاکہ عوام کو رات کے وقت درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔وفد میں جام گروپ کے رہنما محمد رمضان جاموٹ،جنرل کونسلر نصیر احمد لنگاہ،اقلیتی رہنما لال چند لاسی عاشق بلوچ،محمد انور ،عبدالستار خاصخیلی،ماسٹر خمیسہ گنگو،قیمت رام سمیت اقلیتی برادری کے دیگر افراد شامل تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6323/2026
نصیرآباد21جولائی ۔نرسنگ کالج نصیرآباد کے زیرِ اہتمام اسمبلی ہال ڈیرہ مراد جمالی میں نرسنگ سیمینار کا انعقاد کیا گیا،جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل جبکہ اعزازی مہمانِ خصوصی چیئرمین مارکیٹ کمیٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی نصیرآباد ڈویژن کے صدر میر بلال صادق عمرانی تھے۔سیمینار میں چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر عارف لہڑی، مرزا مینگل، بابو محمد اعظم بہرانی، ارشاد علی جمالی، محمد رحیم بگٹی، نرسنگ کالج کی لیکچرار رابیہ فراح، آسیہ سمیت نرسنگ اسٹاف کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر نرسنگ اسٹاف کی جانب سے ڈیزاسٹر اور ہنگامی حالات میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے ٹیبلو پیش کیا گیا،جبکہ بیسک لائف سپورٹ (BLS) کے متعلق عملی آگاہی بھی فراہم کی گئی۔نرسنگ کالج کو درپیش مسائل اور تدریسی عمل کے حوالے سے پرنسپل فوزیہ یاسین اور لیکچرار جمعہ خان رند نے تفصیلی بریفنگ دی سیمینار سےاپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ ہنگامی حالات اور روزمرہ مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں نرسنگ اسٹاف کی خدمات کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتاایمرجنسی کے دوران جب مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے ساتھ نرسنگ اسٹاف انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے سفید لباس میں ملبوس نرسیں مریضوں کے لیے سکون، امید اور بہترین نگہداشت کی علامت ہیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آج کے اس عملی سیمینار کے دور رس اور مثبت نتائج برآمد ہوں گے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین مارکیٹ کمیٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی نصیرآباد ڈویژن کے صدر میر بلال صادق عمرانی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مفاد میں عملی اقدامات کر رہی ہے نصیرآباد میں قائم نرسنگ کالج نہ صرف مقامی بچیوں کے لیے ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے بلکہ مستقبل میں یہاں سے تربیت یافتہ نرسیں خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ صحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کریں گی انہوں نے کہا کہ سیمینار کے دوران کالج کی عمارت اور ہاسٹل کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے، ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کے فنڈز سے عمارت اور ہاسٹل سمیت بنیادی مسائل حل کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر نرسنگ طالبات اور اسٹاف کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے سیمینار سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے بھی خطاب کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6324/2026
کوئٹہ 21جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، نان فنکشنل اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی دستیابی اور اسکولوں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل)، متعلقہ ڈی ڈی اوز، آر ٹی ایس ایم (RTSM) اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع میں موجود 150 نان فنکشنل اسکولوں میں سے 128 اسکول مکمل طور پر فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی اسکولوں کو بھی جلد فعال بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔اجلاس کے دوران ان اسکولوں کا تفصیلی ڈیٹا بھی پیش کیا گیا جہاں اساتذہ کی کمی درپیش ہے۔ آر ٹی ایس ایم نے ضلع بھر کے اسکولوں کی مانیٹرنگ رپورٹ پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے 35 اساتذہ کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری اسکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کو مزید مو¿ثر بنایا جائے، اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6325/2026
کوئٹہ 21جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات، طبی عملے کی حاضری، ادویات کی فراہمی، ڈرگ کنٹرول اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی، محکمہ پاپولیشن، ایم ایس مفتی محمود ہسپتال، ڈرگ کنٹرولر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈی ایچ او کوئٹہ نے تمام آر ایچ سیز میں عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی اور درپیش مسائل پر بریفنگ دی، جبکہ ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے ضلع کوئٹہ کے 53 بی ایچ یوز کی کارکردگی اور سہولیات سے متعلق تفصیلی آگاہ کیا۔ ڈرگ کنٹرولر نے ضلع میں ادویات کی نگرانی اور ڈرگ قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ پیش کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی میڈیکل اسٹور مستند ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر کنٹرول شدہ ادویات فروخت نہیں کرے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ میڈیکل اسٹور کو فوری طور پر سیل کیا جائے گا اور مالک کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، ادویات کی دستیابی اور ڈرگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6326/2026
تربت:21جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں منعقد ہوا، جس میں ضلع کیچ میں صحت کے شعبے کی مجموعی صورتحال، طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت کو درپیش مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر ہیلتھ مکران ڈاکٹر محب اللہ بلوچ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدئی، عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر ارسلان، پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر (ڈی ایس ایم) ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ، ڈرگ انسپکٹر محمد اکرم بلوچ، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر (خزانہ) صدام بلوچ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع کیچ میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی، سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کو درپیش مسائل اور صحت کے شعبے کو مزید موثر بنانے کے مختلف پہلووں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدئی نے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے طبی خدمات، مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، محکمہ صحت کے ملازمین کے رہائشی کوارٹرز کی الاٹمنٹ، بجلی، پانی، سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور سے متعلق اجلاس کو آگاہ کیا۔ انہوں نے درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔بعد ازاں ڈرگ انسپکٹر محمد اکرم بلوچ نے ضلع بھر میں غیر قانونی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف جاری کارروائیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔ اسی طرح پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ اور عالمی ادارصحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر ارسلان نے اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی، جاری صحت پروگراموں اور عوامی صحت کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ پیش کی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری، بروقت اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔ انہوں نے غیر قانونی ادویات کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنانے، سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے، طبی سہولیات میں مزید بہتری لانے اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے پر زور دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے شعبے کی ترقی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6327/2026
کوئٹہ21 جولائی ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے زہریلی سبزیوں، ملاوٹ زدہ دودھ و دہی، ناقص خوراک اور زائدالمعیاد اشیاءکے خلاف موثر آپریشنز کیے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق سب سے بڑی کارروائی میں ارباب کرم خان روڈ کوئٹہ کے مختلف مقامات پر سیوریج کے پانی سے سیراب تقریباً 48 ایکڑ پر مشتمل سلاد، پالک، پودینہ اور دیگر ہری پتوں والی سبزیوں کی فصلیں موقع پر تلف کر دی گئیں۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے آلودہ سبزیوں کی مارکیٹ تک رسائی روکنے کے ساتھ ساتھ سیوریج کے پانی کی فراہمی کے تمام راستے بھی بند کر دیے۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق شہریوں کو مضر صحت سبزیاں کسی صورت فروخت نہیں ہونے دی جائیں گی اور اس حوالے سے مرحلہ وار کریک ڈاون مزید تیز کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں بوستان میں عوامی شکایت پر دہی تیار کرنے والے 25 یونٹس کا خصوصی معائنہ کیا گیا۔ دودھ، دہی اور لسی کے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ تسلی بخش آئے تاہم صفائی کے ناقص انتظامات اور دستاویزی بے ضابطگیوں پر 4 یونٹس کو جرمانے جبکہ 3 کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔اسی طرح کوئٹہ میں ایئرپورٹ روڈ، علمدار روڈ اور مشن روڈ پر کارروائیوں کے دوران کیٹرنگ یونٹ، میٹ شاپ، بیکنگ یونٹس، جنرل اسٹورز اور متعدد دیگر مراکز مالکان کو صفائی کے ناقص انتظامات، فوڈ بزنس لائسنس نہ ہونے، خراب گوشت، ایکسپائرڈ اشیائ ، غیر معیاری ذخیرہ، کھلے کوکنگ آئل اور دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانہ کیاگیا۔مزید برآں ملک سیفٹی ٹیم نے الماس چوک اور ایئرپورٹ روڈ پر دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دودھ میں پانی اور اسکمڈ ملک پاو¿ڈر کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 3 دودھ فروشوں کو جرمانہ جبکہ 4 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔ترجمان کے مطابق دیگر اضلاع میں بھی انسپیکشن کا سلسلہ جاری رہا جہاں پنجگور میں زائدالمعیاد اور ممنوعہ اشیاء فروخت کرنے پر جنرل اسٹورز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں اشیاء ضبط کرکے تلف کی گئیں۔ خضدار میں جنرل اسٹورز، نان شاپس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس سمیت متعدد مراکز کو ناقص صفائی، مضر صحت کوکنگ آئل، ایکسپائرڈ مصنوعات اور ممنوعہ اشیائ رکھنے پر جرمانے جبکہ متعدد کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔اسی طرح ڈیرہ مراد جمالی میں کریانہ اسٹورز سے ایکسپائرڈ اشیاء اور نان فوڈ گریڈ کلرز برآمد ہونے پر کارروائی کی گئی، جبکہ اوتھل میں جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹ اور آر او پلانٹ کے خلاف ناقص صفائی، زائدالمعیاد مصنوعات اور ممنوعہ اشیاء رکھنے پر جرمانے عائد کیے گئے اور صفائی کے ناقص انتظامات پر ایک آر او پلانٹ بند کر دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6328/2026
تربت:21جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی نظام کی بہتری، تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور شعب تعلیم سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) شائستہ حاصل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دشت شیر جان بلوچ، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر آر ٹی ایس ایم حلیم بلوچ سمیت ضلع کیچ کی مختلف تحصیلوں کے مرد و خواتین تعلیمی افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، تدریسی ماحول کو مزید بہتر بنانے اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خواندگی کی شرح میں اضافے کے لیے موثر اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے غیر حاضری کے رجحان کی موثر روک تھام کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنانے اور متعلقہ افسران کو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دینے کی تاکید کی۔اجلاس میں اسکول داخلہ مہم کو مزید موثر، منظم اور تیز رفتار بنانے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانے، طلبہ کے ڈراپ آوٹ کی شرح میں کمی لانے اور والدین میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے اور اس پر موثر عملدرآمد کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ تعلیمی افسران کو ہدایت کی کہ وہ تعلیم کے فروغ، اداروں کی بہتری، داخلہ مہم کی کامیابی اور تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے باہمی رابطے، موثر نگرانی اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیں تاکہ ضلع کیچ میں تعلیمی شعبے کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6329/2026
سیوی21 جولائی۔کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض کی زیرِ صدارت ڈویژنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی آئی جی پی سیوی رینج پرویز احمد عمرانی، ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران، ایس ایس پی سبی عبدالحمید سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی اور دیگر متعلقہ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں تین اہم ایجنڈا نکات پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں پروونشل ایکشن پلان (Provincial Action Plan)، امن و امان کی مجموعی صورتحال (General Law & Order) اور قومی شاہراہ N-65 پر کمبڑی پل کے مقام پر پیش آنے والے چوری و ڈکیتی کے واقعات کی روک تھام شامل تھے۔ ڈی آئی جی پی سیوی رینج پرویز احمد عمرانی نے اجلاس کو پروونشل ایکشن پلان پر عملدرآمد، سکیورٹی انتظامات، سنیپ چیکنگ، پولیس چوکیوں کی کارکردگی اور مختلف اضلاع میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ضلع کچھی اور ضلع ڈیرہ بگٹی کی سکیورٹی صورتحال اور وہاں کیے جانے والے اقدامات سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں قومی شاہراہ N-65 پر واقع کمبڑی پل کے مقام پر چوری اور ڈکیتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر خصوصی غور کیا گیا۔ شرکاءنے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ علاقے میں جرائم کے موثر تدارک کے لیے جامع سکیورٹی پلان مرتب کیا جائے گا، جس کے تحت حساس مقامات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی بڑھائی جائے گی، سنیپ چیکنگ کو مزید موثر بنایا جائے گا، جبکہ ضرورت کے مطابق نئی چیک پوسٹوں کے قیام اور موجودہ چیک پوسٹوں کو فعال بنانے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ شاہراہ استعمال کرنے والے مسافروں کو محفوظ سفری ماحول فراہم کیا جا سکے۔ کمشنر سیوی ڈویڑن اسداللہ فیض نے ہدایت کی کہ تمام ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنائیں، انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ یقینی بنائیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر ہر وقت الرٹ رہتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے موثر اور مربوط اقدامات جاری رکھیں۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سیوی ڈویژن میں امن و امان کے قیام، قومی شاہراہوں کی سکیورٹی اور جرائم کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6330/2026
کوئٹہ21 جولائی۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف تربت مختلف حوالوں سے ایک قابل فخر اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر ابھری ہے۔ یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں طلبائ کی کل تعداد کا نصف سے زیادہ حصہ فیمیل اسٹوڈنٹس پر مشتمل ہے جو سماجی تبدیلی اور تعلیمی ترقی کی ایک طاقتور علامت ہے۔ ایک اور کامیابی جو خراج تحسین کی مستحق ہے وہ ہے یونیورسٹی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں شاندار پیش رفت ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ یونیورسٹی آف تربت کا آئندہ پانچ سالہ منصوبہ بھی بہت واضح ہے اور اس نے اپنی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کی کارکردگی کو %91.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے جس کا کریڈیٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم کے سر ہے تاہم یہ کامیابی کی آخری منزل نہیں ہے کیونکہ ایکسیلینس ایک مسلسل عمل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے دسویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، وائس چانسلر تربت یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ ڈاکٹر ظہور بازئی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈین فیکلٹی ڈاکٹر عبدالصبور (تمغہ امتیاز)، ڈین فیکلٹی ڈاکٹر طاہر حکیم، رجسٹرار گنگوزار بلوچ، ڈائریکٹر ریاض احمد اور ڈائریکٹر اعجازِ احمد سمیت تمام سینیٹ ممبرز موجود تھے۔ شرکائ سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی سینیٹ کی آئینی اور انتظامی پوزیشن کو واضح کرنا ضروری ہے۔ سینیٹ کو یونیورسٹی کے اندر وہی حیثیت حاصل ہے جو کابینہ کو حکومت میں حاصل ہے۔ یہ یونیورسٹی کا سب سے زیادہ قانونی فیصلہ ساز ادارہ ہے لہٰذا جب بھی سینیٹ مناسب غور و خوض کے بعد کسی فیصلے پر پہنچتا ہے تو مذکورہ فیصلہ حتمی ہو جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد لازمی ہے۔ یہ ادارہ جاتی فریم ورک ہماری یونیورسٹیوں میں شفافیت، جوابدہی اور تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ سینیٹ کے فیصلوں کا احترام درحقیقت قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی سالمیت اور علمی برادری کی اجتماعی حکمت کا احترام ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیورسٹی آف تربت کے اسٹوڈنٹس کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کی سیکھنے کی محبت اور کتاب دوستی ہے۔ اپنی تعلیم سے ذوق و شوق جاری رکھیں کیونکہ علم سب سے طاقتور سرمایہ کاری ہے جو آپ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ یونیورسٹی آف تربت کے دسویں سینیٹ اجلاس کے تمام شرکائ کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6331/2026
کوئٹہ:21جولائی ۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے صوبے بھر کے تمام سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں تو فوری طور پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔اتھارٹی کے مطابق تمام رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کیلئے لازم ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے ٹیکس گوشوارے (Returns) بروقت جمع کرائیں، واجب الادا ٹیکس ادا کریں اور کاروباری لین دین سے متعلق انوائسز، ریٹرنز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو قانون کے مطابق محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی جانچ اور تصدیق کی جا سکے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری بلکہ ایک باشعور اور ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا بھی ہے۔ محصولات کی بروقت ادائیگی سے حاصل ہونے والے وسائل صوبے میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں، جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بی آر اے نے اس بات پر زور دیا کہ رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی سمیت تمام خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن بنا دیا گیا ہے تاکہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولت، شفافیت اور آسانی فراہم کی جا سکے۔اتھارٹی نے تمام سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ٹیکس نظام میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا حصہ ڈالیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6332/2026
کوئٹہ، 21 جولائی:صوبائی حکومت کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے عالمو چوک میں سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔کارروائی کے دوران آٹا، سبزیاں، پھل، گوشت، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا معائنہ کیا گیا۔ پرائس کنٹرول لسٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب 8 دکانداروں کو گرفتار، 5 کو وارننگ جاری کی گئی،جبکہ ممنوعہ پلاسٹک شاپنگ بیگز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 600 بیگز قبضے میں لے لیے گئے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئٹہ کا کہنا ہے کہ شہر میں گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے گرانفرشوں کے خلاف کاروائی ناگزیر ہے اس کے علاوہ شہر بھر پلاسٹک کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہے لہذا انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے پلاسٹک کی خرید فروخت سے گریز کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6333/2026
کوئٹہ: 21جولائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی اور چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ہدایات پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی جانب سے ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد کیلئے انفورسمنٹ مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔اسی سلسلے میں آج بالانہ مارکی کو بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 کی عدم تعمیل، لازمی رجسٹریشن نہ کروانے اور ٹیکس قوانین کے تحت مقررہ ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے پر سیل کر دیا گیا۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ تمام سروس فراہم کنندگان کیلئے بی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن، بروقت ریٹرن فائلنگ، واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی، درست سیلز رپورٹنگ اور دیگر قانونی تقاضوں کی پابندی لازمی ہے۔ ان ذمہ داریوں سے غفلت برتنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق سیلنگ، بینک اکاونٹس کی اٹیچمنٹ، جرمانوں اور دیگر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔بی آر اے نے تمام کاروباری اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن، ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل اور شفاف کاروباری طریقہ کار کو یقینی بنائیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچتے ہوئے بلوچستان کی ترقی اور محصولات میں اضافے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6334/2026
چمن 21جولائی ۔ اسسٹنٹ کمشنر صدر امتیاز علی بلوچ کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ضلع چمن میں انتظامی امور کو مزید موثر بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر صدر امتیاز علی بلوچ کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کا اضافی چارج تفویض کر دیا گیا ہے۔وہ اپنے موجودہ فرائض کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ضلعی انتظامیہ کے امور میں مزید بہتری، موثر نگرانی اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6335/2026
کوئٹہ 21جولائی۔صوبائی حکومت بلوچستان کے احکامات پر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کوئٹہ ڈویژن نعمت اللہ ترین اور ایس پی ٹریفک صدر سرکل عاصم شاہ کے نگرانی میں آر ٹی اے اور ٹریفک پولیس کے عملے نے طور ناصر کراس اور کوئلہ پھاٹک پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی ٹوڈی کار سروسز مسافر اٹھانے والون کے خلاف بھرپور کریک ڈاون کیا۔کارروائی کے دوران تین ٹوڈی کاریں اور ایک سوزوکی پک اپ گاڑی کو اوور لوڈنگ اور اضافی کرایہ وصول کرنے پر بند کر دی گئی۔ اس دروان گاڑیوں کے کاغذات، روٹ پرمٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور مسافروں کے قومی شناختی کارڈز کی بھی جانچ کی گئی۔ بغیر شناختی کارڈ مسافروں کو سفر کرانے والے ڈرائیوروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اس کے علاوہ مسافروں سے زائد کرایہ وصول کرنے اور اوور لوڈنگ کرنے پر 21 گاڑیوں کے چالان کیے گئے،۔سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن نعمت اللہ ترین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کے واضح احکامات کی روشنی میں غیر ملکی افراد کو قانونی دستاویزات اور متعلقہ اجازت کے بغیر سفر کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اوور لوڈنگ، غیر قانونی مسافر برداری، بغیر روٹ پرمٹ گاڑیاں چلانے اور مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس موقع پر کوئٹہ ٹو چمن، پشین، لورالائی اور قلعہ عبداللہ سمیت مختلف روٹس پر چلنے والی غیر قانونی ٹوڈی کار سروسز کا معائنہ بھی کیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اضافی کرایہ اور اور لوڈنگ سے گریز کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6336/2026
تربت21جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے گزشتہ شب ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ایمرجنسی وارڈ میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایمرجنسی وارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور وہاں موجود زیر تربیت عملے، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے سے ملاقات کی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر وحید بلیدی، پولیس حکام اور دیگر متعلقہ افسران سے واقعے کی مکمل تفصیلات حاصل کیں۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرنے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ طبی اداروں کا پرامن اور محفوظ ماحول ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قانون شکن کو سرکاری امور میں مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے پولیس حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام ملوث ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں فوری گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کی سیکیورٹی کو مزید مور اور فول پروف بنانے، مرکزی گیٹ پر نگرانی سخت کرنے اور کسی بھی مسلح شخص کو احاطے میں داخل نہ ہونے دینے کی ہدایت کی۔ آخر میں، ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹرز اور طبی عملے پر زور دیا کہ وہ عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بلاخوف و خطر جاری رکھیں، جبکہ ان کے اس بروقت نوٹس، ہسپتال کے دورے اور فوری احکامات کو ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور عوامی حلقوں نے ایک ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6337/2026
کوہلو 21 جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ کی سربراہی میں ضلع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسیحی برادری کے ساتھ خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد مسیحی کمیونٹی کے مسائل کو براہِ راست سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ اس موقع پر مسیحی برادری کے نمائندوں نے اپنے درپیش مسائل تفصیل سے پیش کیے۔ ان میں قبرستان کے لیے اراضی کی فراہمی، چرچ کی تعمیر و مرمت، سرکاری ملازمتوں میں مختص کوٹے پر عملدرآمد، بجلی کی فراہمی، رہائشی کالونی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مطالبات شامل تھے۔ ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ نے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبرستان کے لیے فوری طور پر مناسب اراضی فراہم کی جائے گی، جبکہ مسیحی برادری کو درپیش بجلی کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چرچ کی تعمیر و مرمت کا کام بلا تاخیر شروع کیا جائے گا، جبکہ میونسپل کمیٹی میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر مسیحی برادری کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسیحی برادری ہمارے معاشرے کا ایک قابلِ احترام اور اہم حصہ ہیں ، اور ضلعی انتظامیہ ان کے مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔کھلی کچہری میں ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل طحہٰ علی خان، چیئرمین میونسپل کمیٹی کوہلو ایڈووکیٹ علی شیر زرکون، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر اصغر مری، نمائندہ ڈی ایچ او ڈاکٹر عطائ اللہ مری، اسسٹنٹ کمشنر یحییٰ خان، میونسپل کمیٹی کے انجینئر شکور مری، ایس ڈی پی او غوث بخش سیلاچی سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کے اختتام پر مسیحی برادری کے نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پہلی مرتبہ براہِ راست مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6338
اسلام آباد21 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صوبہ سیستان کے گورنر منصور بجار نے ملاقات کی، جس میں پاک۔ایران تعلقات، دوطرفہ تجارت، بارڈر مینجمنٹ، سرمایہ کاری، بارڈر مارکیٹس، علاقائی امن، سیکیورٹی تعاون اور معاشی روابط کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے آغاز میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر گورنر سیستان منصور بجار سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے عوام اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اس موقع پر گورنر سیستان منصور بجار نے بلوچستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے عوام کی محبت اور تعاون پر ہم شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینا ہے گورنر سیستان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ تجارتی حجم تقریباً تین ارب ڈالر ہے، تاہم مشترکہ کوششوں سے اسے بڑھا کر دس ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تعلقات اور تجارت کے فروغ سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ سیکیورٹی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان بارڈر پر بارٹر ٹریڈ کو فروغ دینے اور تجارتی حجم کو دس ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گورنر سیستان کی اس رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ امن، استحکام اور بہتر سیکیورٹی ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر قائم ابتدائی تین بارڈر مارکیٹس کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ مستقبل میں مزید بارڈر مارکیٹس کے قیام پر بھی کام کیا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کو روزگار اور تجارت کے بہتر مواقع میسر آسکیں انہوں نے کہا کہ چاغی سے سکھر تک ریلوے ٹریک کی بہتری کا منصوبہ دونوں برادر ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے سامان کی ترسیل میں سہولت، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ ملے گا وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ حکومت ویسٹرن کوریڈور کے تحفظ اور مؤثر نگرانی کے لیے ایک علیحدہ سیکیورٹی ڈویژن قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف منرل کوریڈور کو محفوظ اور فعال بنانے میں مدد ملے گی بلکہ ایران کے ساتھ تجارت کو بھی نئی تقویت ملے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مزید مستحکم ہوں گے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پائیدار امن ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کہ اپنی سرزمین پر موجود نان اسٹیٹ ایکٹرز کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ سرحد کے دونوں جانب آباد بلوچ عوام امن، استحکام اور ترقی کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کر سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان لائیو اسٹاک کی تجارت کے فروغ کے لیے جدید سلاٹر ہاؤسز اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات قائم کر رہی ہے اور اس شعبے میں ایرانی وفد کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیرمقدم کرتی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تجویز دی کہ بلوچستان اور سیستان کی صوبائی حکومتیں مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت، لائیو اسٹاک اور عوامی روابط سے متعلق معاملات پر مستقل بنیادوں پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، سرحدی تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو فروغ دیا جائے گا اور امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے باہمی تعاون مزید وسعت اختیار کرے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6339
کوئٹہ21 جولائی:ـ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے لیے جاری تعلیمی و ہنر مندی پروگرام پر کامیابی سے عمل درآمد کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کی روشنی میں بیف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر میر وائس خان اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن سمیع اللہ خان کے ہمراہ تربیتی ادارے کا دورہ کیا۔ ایس ایس پی ای سی (SSPEC) کے ڈائریکٹر عرفان اعوان نے وفد کو پروگرام کی پیش رفت پر بریفنگ دی، جبکہ وفد نے مختلف تربیتی شعبوں کا معائنہ اور زیرِ تربیت طلباء سے ملاقات کی۔اس موقع پر سی ای او بیف خالد ماندائی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کی روشنی میں بیف معاشرے کے تمام طبقات کو معیاری تعلیم، ہنر اور مساوی مواقعوں کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیف بلا کسی تفریق معاشرے میں یکساں تعلیم کے فروغ اور حصولِ علم کے مواقعوں کی یکساں فراہمی پر عمل پیرا ہے.
خبر نامہ نمبر 2026/6340
ضلع چمن 21 جولائی: ـڈی آئی جی پولیس ژوب رینج سہیل خالد کا ضلع چمن کا دورہ، امن و امان اور سکیورٹی اقدامات کا جائزہ
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس ژوب رینج سہیل خالد نے آج ضلع چمن کا دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے پولیس تھانہ ژڑہ بند اور سٹی تھانہ چمن کا معائنہ کرتے ہوئے ریکارڈ، سکیورٹی انتظامات اور پولیس کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا اور افسران و اہلکاروں کو ضروری ہدایات جاری کیں۔
بعد ازاں ایس پی آفس چمن میں پولیس کے چاک و چوبند دستے نے ڈی آئی جی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اس موقع پر ایس پی چمن اعتزاز عارف نے ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جبکہ ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی نے انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) اور جاری کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، اے ڈی سی چمن فدا بلوچ، ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی اور انچارج سپیشل برانچ بھی شریک تھے۔ڈی آئی جی پولیس ژوب رینج سہیل خالد نے بریفنگز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امن و امان کے مزید استحکام، جرائم کی مؤثر روک تھام، پولیس کی کارکردگی میں بہتری اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6341
چمن 21 جولائی: ـڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر پروگرام احمد حسین اور صوبائی سربراہ بلوچستان شریف مینگل شامل تھے۔ملاقات میں ضلع چمن میں جاری تعمیراتی، تعلیمی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جبکہ منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے لیے ضلعی انتظامیہ اور IRC کے درمیان باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات کے اختتام پر IRC وفد نے ڈپٹی کمشنر چمن کی مؤثر معاونت، تعاون اور رہنمائی کے اعتراف میں انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4342
ضلع چمن 21 جولائی: ـضلع چمن میں ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) کے وفد کے ہمراہ جاری ترقیاتی، تعلیمی اور تعمیراتی منصوبوں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران مختلف منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام نے جاری کاموں سے متعلق بریفنگ بھی دی۔
ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کے معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیے جائیں۔
اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور IRC کے نمائندوں نے باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے اور ضلع چمن میں عوامی فلاح، تعلیم اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6343
سکھر21 جولائی: ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کی قیادت میں صوبائی وزراء کی کمیٹی کی جانب سے زرعی پانی کے حصول کے لیے کیے گئے اقدامات کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔سندھ اعلیٰ سطح حکام سے گفت و شنید کے بعد پٹ فیڈر کینال، کیرتھر کینال اور دیگر نہروں میں پانی کی ترسیل میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی ہدایت پر چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے سپرنٹنڈنگ انجینئر کینالز نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی اور ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی کے ہمراہ سکھر بیراج کا دورہ کیا۔دورے کے موقع پر چیف انجینئر سکھر بیراج مختیار احمد ابڑو نے انہیں بلوچستان کو زرعی پانی کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے کہا کہ اس مرتبہ بلوچستان کے نہری نظام کو سندھ ایریگیشن حکام کی جانب سے کم زرعی پانی فراہمی سے بلوچستان کی کینالز میں شاٹ فال رہا اس کمی پر قابو پانے کے لیے نہ صرف محکمہ آبپاشی بلکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزراء اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی نے بھی بین الصوبائی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پٹ فیڈر کینال میں 6208 کیوسک، کیرتھر کینال میں 1425 کیوسک اور اوچ کینال میں 500 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود بلوچستان کو مجموعی طور پر اب بھی 17 فیصد پانی کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے ہماری ٹیمیں سرگرم عمل ہیں اور کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6344
استامحمد21 جولائی: ـڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر استامحمد محمد رمضان اشتیاق، پرنسپل گرلز کالج استامحمد، پرنسپل بوائز ڈگری کالج استامحمد پروفیسر عبیداللہ خان زہری، ایکسین بلڈنگز، ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، ایکسین اریگیشن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد یاسین جمالی، سی ٹی ڈی، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ایجوکیشن آفیسر عبدالکریم مستوئی سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں پولیس اور کسٹمز حکام کی عدم شرکت پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ ایسے اہم اجلاسوں میں متعلقہ اداروں کی حاضری یقینی بنائی جائےاجلاس کے دوران بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مدارس کی رجسٹریشن، ٹریفک نظام کی بہتری، غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی اور ایرانی پیٹرول کی فروخت و قیمتوں کے تعین سے متعلق اہم فیصلے کیے گئےڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی ایک اہم فورم ہے جہاں ضلع بھر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی و عوامی فلاحی منصوبوں کی منظوری اور نگرانی کی جاتی ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں، خصوصاً پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ 30 جولائی 2026ء تک تمام زیر تعمیر منصوبے ہر صورت مکمل کیے جائیں مزید برآں اجلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ پر خصوصی غور کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اس منصوبے کو اعلیٰ معیار کے مطابق اور منظور شدہ پی سی ون کے تحت مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو جدید سکیورٹی سہولیات فراہم کی جا سکیں
اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں


