20th-August-2026

خبرنامہ نمبر 6891/2026
کوئٹہ:20 آگست ۔صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سے آئے مختلف وفود نے سول سیکرٹریٹ میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود کے شرکاءنے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش عوامی مسائل، بنیادی سہولیات کی کمی، علاقائی ضروریات اور دیگر اہم امور سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا وفود نے مختلف مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر سے عملی اقدامات کی درخواست کی، جبکہ اس موقع پر علاقے کی مجموعی صورتحال، عوامی مشکلات اور ترقیاتی و فلاحی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران ایک مریض کی جانب سے آپریشن کے لیے مالی معاونت کی درخواست بھی پیش کی گئی، جس پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ مریض کے آپریشن کے اخراجات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور مستحق افراد کی بروقت مدد ان کی ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو مشکل کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے وفود کے مسائل اور گزارشات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے، جبکہ عوامی فلاح و بہبود اور پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے حاجی نور محمد دمڑ نے متعلقہ حکام کو عوامی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے ان کی کوشش ہے کہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ان کی دہلیز پر کیا جائے اور دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اس موقع پر زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سے آئے وفود نے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ کا مسائل کو توجہ سے سننے، فوری احکامات جاری کرنے اور مریض کے آپریشن کے اخراجات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی عوام دوست کاوشوں کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6892/2026
گوادر 20 اگست ۔: رکنِ صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ایس ایس پی گوادر عطاءالرحمن سے ملاقات میں امن و امان، منشیات کے خاتمے اور عوامی تحفظ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ واپڈا حکام سے بجلی کے مسائل کے فوری حل اور ماڈل ہائی اسکول کے دورے کے دوران تعلیمی سہولیات کی بہتری پر زور دیا ایس ایس پی گوادر سے ملاقات میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے پشکان میں مبینہ مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق موثر کارروائی اور ضلع بھر میں منشیات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن تیز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے لیویز فورس سے پولیس میں انضمام کے دوران غیر حاضر رہنے والے اور بعد ازاں برطرف اہلکاروں کے معاملات کا قانون و ضابطے کے مطابق جائزہ لینے پر تبادلہ خیال کیا جبکہ رکن صوبائی اسمبلی نے واپڈا حکام سے ملاقات میں ضلع گوادر کے مختلف علاقوں میں خستہ حال بجلی کی تاروں کی تبدیلی، نئے ٹرانسفارمرز کی فراہمی و تنصیب اور بجلی کے مسائل کے فوری حل پر زور دیا گیا۔بعد ازاں رکن اسمبلی نے گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول گوادر کے دورے پر اسکول کے مختلف کلاس رومز اور تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اسکول گراونڈ کی بہتری کے مطالبے پر انہوں نے کام جلد شروع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ امن و امان، تعلیم، بجلی اور عوامی سہولیات کی بہتری ان کی ترجیحات میں شامل ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ موثر رابطہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6893/2026
حب خبرنامہ 20اگست۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے اٹک سیمنٹ فیکٹری کا دورہ کیا جہاں سنئیر منیجر شاکر حسین ورسنئیر ایڈمنسٹریٹیو افیسرکرنل رضاءاللہ نے صنعتی ادارے کی جانب سے جانب سے انہیں فیکٹری کی کارکردگی، پیداواری سرگرمیوں اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی(CSR)کے تحت جاری اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کمشنر نے صنعتی ادارے میں کام کرنے والے محنت کشوں کی ہیلتھ اینڈسیفٹی ایس اوپیزاور سی ایس آر پروگرام کے تحت فلاحی اقدامات پر عملدرآمد کوقابل تحسین قراردیا کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کہا کہ صنعتی اداروں کا مقامی آبادی کی فلاح و بہبود میں کردار انتہائی اہم ہے، سی ایس آر کے تحت علاقے میں بنیادی سہولیات اور عوامی فلاح کے کاموں کو سراہا اور کہا کہ اٹک سیمنٹ فیکٹری کی انتظامیہ نے اپنے سی ایس آر پروگرام کے تحت صحت ، تعلیم اور کمیونٹی کی بہتری کیلئے اہم اورم?وثر اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ فیکٹری منیجمنٹ کی لیبرزکی ویلفئیر اورعلاقے میں معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے حوصلہ افزاء اقدامات ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے اس توقع کااظہار کیا کہ آئندہ بھی اٹک سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ اسی طرح حب کے عوام کے فلاح وبہبود کیلئے اقدامات اٹھاتے رہے گے۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے شجرکاری مہم کے تحت فیکٹری کے احاطے میں پودا بھی لگایا اوراس امید کا اظہار کیا کہ اٹک سیمنٹ انتظامیہ ماحولیاتی بہتری میں مزید کردار ادا کر ے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6894/2026
گوادر 20 اگست۔: تبلیغی اجتماع کے منتظمین کی ایک نمائندہ وفد نے ڈپٹی کمشنر گوادر سے ملاقات کی اور انہیں 30 ستمبر سے گوادر میں منعقد ہونے والے تبلیغی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ ڈپٹی کمشنر نے دعوت کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے اجتماع میں شرکت کی یقین دہانی کرائی اور منتظمین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ دینی و اصلاحی سرگرمیاں معاشرے میں اخوت، بھائی چارے، امن اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں، انتظامیہ اجتماع کے کامیاب اور پرامن انعقاد کے لیے منتظمین کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6895/2026
سنجاوی 20اگست ۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئیوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے کےاحکامات پر تحصیل سنجاوی میں ملیریا سے بچاو کے لیے اسپرے مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب کی نگرانی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر زیارت ڈاکٹر رفیق مستوئی نے کی، جبکہ اس موقع پر ڈی ایم پی پی ایچ آئی زیارت ممتاز علی رند، ڈرگ انسپکٹر تحصیل زیارت محمد عدیل، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ملیریا کنٹرول پروگرام آئی ایچ ایچ این جمعہ خان اور ملیریا سپروائزر غلام اللہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر متعلقہ ٹیم نے ملیریا سے بچاو اور اس کے تدارک کی اہمیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسپرے مہم کو کامیاب بنانے، ملیریا کے پھیلاو کو روکنے اور مقامی آبادی کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔متعلقہ حکام نے کہا کہ ملیریا سے بچاو کے لیے عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے گا، تاکہ علاقے کے عوام کو صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6896/2026
،سنجاو ی20اگست ۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئیوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کےکےاحکامات پربلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ کے تعاون سے ماں کا دودھ پلانے کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار میں اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی میر من کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر زیارت ڈاکٹر رفیق مستوئی، ایم ایس ٹی ایچ کیو سنجاوی ڈاکٹر عبدالباقی، ڈی ایم پی پی ایچ آئی زیارت ممتاز علی رند، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ملیریا کنٹرول پروگرام آئی ایچ ایچ این جمعہ خان اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر بی این ڈی پروگرام زیارت علی شان نے شرکت کی۔اس موقع پر شرکائنے بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ شروع کروانے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے، اور ماں اور بچے کی مناسب غذائیت کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ سیمینار کے اختتام پر ماں کا دودھ پلانے کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینے اور معاشرے میں ماوں اور بچوں کی بہتر صحت کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6897/2026
قلات 20اگست. وزیر اعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی اوروزیرداخلہ میرضیاء لانگو کےاحکامات پرضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر اسد سمالانی کے زیر صدارتکھلی کچہری کا انعقاد کیا گیاکھلی کچہری میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ شہر میں امن وامان کی صورتحال شہر میں صفائی ستھرائی ٹیچنگ ہسپتال میں سرد خانہ کی تعمیر لوکل سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات گیس کی عدم فراہمی قلات میں پرائیویٹ گیس پلانٹ کی تنصیب بینکوں کی بندش نادرا آفس کے کمیٹی اجلاس مہینے میں دو مرتبہ منعقد کرنے قلات بازار میں تجاوزات کاخاتمہ کوئنگ میں پینے کے پانی کی قلت اور دیگراہم مسائل کی نشاندہی کی گئی کھلی کچہری میں ایف سی میجر عمر ڈی ایس پی ماہیوال سمیت تمام محکموں کے سربراہان علاقہ معززین سیاسی سماجی رہنماوں اور صحافی برادری نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں مولانا رحمدل حلیمی شادی خان مینگل وڈیرہ رحیم مینگل عبدالوحید مینگل حاجی غلام قادر عمرانی غلام مصطفی پردیسی نثار احمد محمدرضاامجدی اور دیگر کی بجانب سے پر ش کی گءدرخواستوں پراسسٹنٹ کمشنر اسد سمالانی نے فوری ایکشن لیااور لوگوں کے مسائل توجہ سے سنے انہیں فوری حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئےکہاکہ ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی سربراہی میں علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیئیے تمام تروسائل بروئے کار لاکر بہتر سروسز ڈیلیوری یقینی بنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6898/2026
حب 20اگست ۔ ڈپٹی کمشنر حب کیپٹن (ر) جمعداد خان مندوخیل کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر حب مہیم خان گچکی، ایکسین ایریگیشن کینال عدیل بلوچ اور ایف سی کیپٹن سعد خان کی قیادت میں لسبیلہ کینال کے نان کمانڈ ایریا میں غیر قانونی پانی کے کنکشنز کے خلاف مشترکہ کارروائیاآن کی گئیں ان کاوائہوں میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، ایف سی اور پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ مشترکہ ٹیم نے نان کمانڈ ایریا میں قائم غیر قانونی پانی کے کنکشنز اور غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی پائپس، مشینری اور دیگر سامان کو موقع پر ضبط کرلیں اس موقع پر ہیوی مشینری کی مدد سے غیر قانونی طور پر بچھائی گئی پائپس اور دیگر تنصیبات کو اکھاڑ کر ختم کردیا گیا، جبکہ غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے اور اس کی ترسیل کے تمام ذرائع کو بھی ختم کردیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر حب نے محکمہ ایریگیشن کے حکام کو ہدایت کی کہ لسبیلہ کینال کے نان کمانڈ ایریا میں غیر قانونی کنکشنز کی مسلسل اور موثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور سرکاری آبپاشی نظام سے پانی کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری آبپاشی نظام سے غیر قانونی کنکشنز، پانی چوری اور پانی کے غیر مجاز استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ سرکاری پانی کے وسائل کو نقصان پہنچانے یا غیر قانونی طور پر استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6899/2026
گوادر، 20 اگست ۔: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت نیو ٹاون ہاوسنگ اسکیم میں ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اصل پلاٹ مالکان کی جانب سے پیش کی گئی شکایات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اصل پلاٹ مالکان کی شکایات سنی گئیں اور متعلقہ ریکارڈ، تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اصل پلاٹ مالکان کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور تمام معاملات کو قانون، ضابطے اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں شفاف انداز میں حل کیا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیو ٹاون ہاوسنگ اسکیم میں موجود تمام ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ کرتے ہوئے قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد پلاٹ ان کے اصل اور حقدار مالکان کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کو باہمی رابطے کے ذریعے کارروائی کو موثر اور تیز بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ سرکاری و نجی اراضی پر غیر قانونی قبضہ اور تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی، جبکہ شہریوں کے جائز حقوق کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شکایات کے ازالے میں شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائے۔اجلاس میں پی ڈی نیو ٹاون (اے ڈی سی جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت، نائب تحصیلدار اورنگزیب حفیظ، نائب تحصیلدار مومن نظر، نائب تحصیلدار مطیع اللہ، نیو ٹاون ہاوسنگ اسکیم کے نمائندے دودا بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ، ان کے قانونی حقوق کا تحفظ اور سرکاری و نجی اراضی پر غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6900/2026
اوتھل20اگست ۔ ضلع لسبیلہ میں بریسٹ فیڈنگ منتھ 2026 کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس اوتھل میں ضلعی سطح کا اہم آگاہی مہم کے سلسلے سے میٹنح منعقد کیا گیا، جس کا مقصد ماوں اور خاندانوں میں ماں کے دودھ کی اہمیت، اس کے طبی فوائد اور بہتر بریسٹ فیڈنگ پریکٹسز کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔ میٹنگ کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لسبیلہ ڈاکٹر سید فرید اللہ شاہ ہاشمی نے کی۔سیمینار کا آغاز ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر محمد یوسف رونجھو نے کیا۔ انہوں نے تمام شرکاءکو خوش آمدید کہا اور بریسٹ فیڈنگ منتھ منانے کے مقاصد اور اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ اور محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے UNICEF کے تعاون سے جاری غذائی پروگرامز اور ماں کے دودھ کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لسبیلہ ڈاکٹر سید فرید اللہ شاہ ہاشمی، ڈپٹی ڈی ایچ او قمر اللہ رونجھو اور ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر محمد یوسف رونجھو نے کہا کہ ماں کا دودھ نومولود بچے کے لیے قدرت کا بہترین اور مکمل غذائی ذریعہ ہے، جو بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ اسے مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مقررین نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ شروع کرنا انتہائی ضروری ہے، جبکہ پیدائش سے لے کر پہلے چھ ماہ تک بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلایا جائے۔ چھ ماہ کی عمر مکمل ہونے کے بعد بچے کو مناسب اضافی غذا دینے کے ساتھ ماں کا دودھ بھی جاری رکھنا چاہیے تاکہ بچے کو مطلوبہ غذائیت ملتی رہے اور اس کی صحت مند نشوونما یقینی بنائی جا سکے۔مقررین نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ صرف بچے کی غذائی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں کی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ ماں کا دودھ بچے کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور مختلف بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے صرف محکمہ صحت کی کوششیں کافی نہیں بلکہ ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی، خاندانوں اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماوں کو دورانِ حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے درست معلومات، بروقت رہنمائی، مشاورت اور عملی معاونت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر دوپاسی جہانگیر بلوچ،ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مرف سعد اللہ ،نیشنل پروگرام کی ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر زارا قیوم سمیت لیڈی ہیلتھ ورکرز ودیگر نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6901/2026
نصیرآباد20اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اسمبلی ہال نصیرآباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کی کھلی کچہری کا بنیادی مقصد شہریوں کو براہِ راست اپنے مسائل ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا اور ان کے حل کے لیے فوری و موثر اقدامات یقینی بنانا تھا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے ایک موثر عوامی فورم ہے۔ آج کی کھلی کچہری شہریوں کے مسائل سنے بغیر اختتام پذیر نہیں ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ کے دائر اختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جبکہ ایسے مسائل جو ضلعی انتظامیہ کے اختیار سے باہر ہیں، انہیں متعلقہ اعلیٰ حکام اور محکموں کے سامنے تحریری طور پر پیش کیا جائے گا تاکہ ان کے حل کے لیے موثر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے کھلی کچہری میں ونگ کمانڈر کرنل رضوان طیب، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلدار معظم علی جتوئی، ایکسین بلڈنگز، ایکسین واپڈا، ڈی ایچ او ڈاکٹر ایاز حسین جمالی ضلعی انتظامیہ کے افسران، مختلف محکموں کے سربراہان علمائ کرام، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر شہریوں نے تحریری درخواستوں اور زبانی طور پر مختلف عوامی مسائل ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے شہریوں نے ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس روڈ کی تعمیر میں طویل تاخیر تحصیل تمبو میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی زرعی سیزن کے دوران پانی کی قلت اور پانی کی غیر قانونی چوری کی شکایات سے آگاہ کیا شہریوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں غیر قانونی طور پر پائپوں کے ذریعے پانی چوری کیا جا رہا ہے جس کے باعث زرعی اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے شہریوں نے شہروں میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال طلبہ کے لیے لائبریری کی سہولیات کی کمی بااثر افراد کی جانب سے مبینہ ناجائز قبضوں تحصیل چھتر میں طبی سہولیات کے فقدان، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیوب ویلوں سے سیراب ہونے والی زرعی زمینوں کو درپیش مشکلات اور مویشیوں میں پھیلنے والی بیماریوں کے علاج کے لیے لائیوسٹاک کی موثر خدمات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا اسی طرح ڈیرہ مراد جمالی میں منشیات کی فروخت کی روک تھام، قبرستان کے لیے اراضی مختص کرنے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مستحق خواتین کو درپیش مسائل کے حل، ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر اہم عوامی مسائل بھی ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے گئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو مختلف شکایات کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کے مسائل کو محض درخواستوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے عملی حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کو پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ خالصتاً عوامی مسائل کی نشاندہی، ان کے حل اور متعلقہ اداروں کو ذمہ دار بنانے کے لیے موثر رابطہ کاری ہے۔ شہری مختصر اور جامع انداز میں اپنے مسائل پیش کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی شکایات بیان کرنے کا موقع مل سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے دائراختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ دیگر مسائل متعلقہ اعلیٰ حکام اور محکموں کے سامنے موثر انداز میں اٹھائے جائیں گے کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی جانب سے عوامی مسائل براہِ راست سننے موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرنے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ آئندہ بھی باقاعدگی سے کھلی کچہریوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ عوام کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی حکام تک پہنچانے اور ان کے بروقت حل کا موثر موقع میسر آتا رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6902/2026
صحبت پور 20 اگست ۔: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات اور عوامی مسائل کے فوری حل کی پالیسی کے تحت ضلع صحبت پور میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے کی۔ کھلی کچہری میں ضلع کے تمام متعلقہ محکموں کے ڈسٹرکٹ ہیڈز، افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی، جبکہ ضلع بھر سے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اپنے درپیش مسائل کے متعلق تحریری اور زبانی طور پر ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ افسران کو آگاہ کیا۔ کھلی کچہری میں شہریوں نے تعلیم، امن و امان، ایریگیشن کے مسائل، آبنوشی، بجلی، ریونیو، سڑکوں، صفائی، نکاسی آب دیگر بنیادی نوعیت کے مسائل پیش کیے ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے سائلین کی شکایات اور مسائل کو نہایت توجہ اور تحمل سے سنا اور کئی شکایات پر موقع پر ہی متعلقہ افسران کو احکامات جاری کرتے ہوئے مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے جبکہ دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کو واضح ہدایات جاری کی گئیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور شہریوں کو ان کے مسائل کے حل کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت دستیاب ہے اور کسی بھی شہری کو اپنے جائز مسئلے کے حل کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور سائلین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جائے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی واضح پالیسی ہے کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو عوامی خدمت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے انہوں نے سائلین کو یقین دہانی کرائی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے تمام جائز مسائل کا متعلقہ محکموں کے ذریعے ازالہ کیا جائے گا اور ان پر پیش رفت کی نگرانی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان رابطے کے لیے کھلی کچہریاں انتہائی اہم ہیں، کیونکہ اس فورم کے ذریعے نہ صرف عوام کی شکایات براہِ راست سامنے آتی ہیں بلکہ متعلقہ افسران کو بھی موقع پر مسائل کی نوعیت اور شدت کا اندازہ ہوتا ہے ڈپٹی کمشنر نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے جائز مسائل انتظامیہ کے سامنے پیش کریں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوامی مسائل حل کیے جا سکیں۔ کھلی کچہری کے اختتام پر سائلین نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسائل سننے اور متعدد شکایات پر فوری احکامات جاری کرنے کے اقدام کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6903/2026
کوئٹہ 20 آگست ۔کوئٹہ: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی، جس میں سنجاوی ہسپتال کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو جلد فعال کرنے اور عوام کو مکمل طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے موقع پر فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ، محمد عرفان دمڑ اور موسیٰ کاکڑ بھی موجود تھے ملاقات میں سنجاوی ہسپتال کیلئے بیڈز، آپریشن تھیٹر، ضروری طبی مشینری، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی تعیناتی سمیت ہسپتال کو مکمل طبی سہولیات سے آراستہ کرنے کے امور زیرِ غور آئے اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ سنجاوی ہسپتال کی نئی عمارت کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں جدید طبی مشینری، آپریشن تھیٹر، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ضروری طبی عملے کی تعیناتی یقینی بنائی جائے تاکہ سنجاوی اور گردونواح کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن نے بتایا کہ سنجاوی ہسپتال کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (I H H N) کے حوالے کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے، تاکہ ہسپتال کو فعال بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ان کے دستیاب وسائل سے استفادہ کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ ہسپتال کو فعال کرنے کیلئے درکار طبی مشینری، ضروری سہولیات، ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کی تعیناتی سمیت تمام امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سنجاوی ہسپتال کی نئی عمارت کا جلد دورہ کیا جائے گا اور اس معاملے کو متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے بھی رکھا جائے گا تاکہ ہسپتال کو جلد از جلد فعال کیا جا سکے حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ سنجاوی ہسپتال مکمل طور پر فعال ہونے سے علاقے کے عوام کو علاج معالجے کیلئے کوئٹہ یا دیگر شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور سنجاوی ہسپتال کو فعال کرنا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6904/2026
بارکھان/رکھنی 20 اگست۔ءکمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی سے زیڈ کے بی کمپنی کے اونر حاجی محبت خان، ایکسیئن بی اینڈ آر نارتھ ڈیرہ بگٹی شمس الحق اور دیگر متعلقہ افسران نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر عبدالباسط بزدار بھی موجود تھے۔ ملاقات میں رکھنی تا بیکڑ زیرِ تعمیر اہم شاہراہ سمیت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران رکھنی تا بیکڑ روڈ منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کی پیش رفت، مختلف حصوں میں کام کی صورتحال، تعمیراتی معیار، دستیاب مشینری و افرادی قوت اور منصوبے کی بروقت تکمیل سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمشنر کو منصوبے پر جاری کام اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر زیڈ کے بی کمپنی کے اونر حاجی محبت خان نے کمشنر کو یقین دلایا کہ رکھنی تا بیکڑ روڈ منصوبے کو آئندہ ڈھائی ماہ کے اندر مکمل کرنے کے لیے تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر مشینری اور افرادی قوت میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے کہا کہ رکھنی تا بیکڑ روڈ منصوبہ علاقے کی ترقی اور عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور حکومتِ بلوچستان کی واضح پالیسی ہے کہ عوامی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ معیاری سڑکوں کی تعمیر سے نہ صرف دور دراز علاقوں کے درمیان رابطے بہتر ہوں گے بلکہ عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علاقے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔کمشنر نے ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو مزید منظم اور تیز کیا جائے تاکہ عوام کو منصوبے کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔ملاقات کے دوران منصوبے سے متعلق دیگر امور، تعمیراتی کام میں پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کمشنر نے واضح کیا کہ منصوبے کی رفتار اور معیار کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ رکھنی تا بیکڑ شاہراہ مقررہ مدت میں مکمل ہو کر عوام کے لیے بہتر سفری سہولت کا ذریعہ بن سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6905/2026
گوادر20 اگست ۔: ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر کے ایک علامیہ میں کہاگیا ھے ڈپٹی کمشنر گوادر کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ سماجی بہبود نے ضلع گوادر میں سماجی و ترقیاتی شعبوں میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی تنظیموں (IGOs) سے ان کی تنظیمی حیثیت، سرگرمیوں، جاری و مجوزہ منصوبوں، کارکردگی، عملے اور متعلقہ اجازت ناموں کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر کی دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضلع میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی بین الا قومی تنظیمیں اپنی سرگرمیوں اور منصوبوں سے متعلق مکمل، مستند اور تازہ ترین معلومات محکمہ سماجی بہبود کو فراہم کریں، تاکہ ضلع میں جاری سماجی و ترقیاتی اقدامات کا جامع ریکارڈ مرتب کرنے، اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور حکومتی پالیسی و ضابطہ کار کے مطابق سرگرمیوں کو منظم بنانے میں مدد مل سکے اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ تنظیمیں اپنے ادارے کا نام، قانونی و تنظیمی حیثیت، مکمل کوائف، ضلع گوادر میں جاری سرگرمیوں اور خدمات کی نوعیت و دائر کار، مستفید ہونے والے افراد و علاقوں کی تفصیلات، جاری و مکمل شدہ منصوبوں، مجوزہ پروگرامز، منصوبوں کی پیش رفت اور کارکردگی سے متعلق معلومات، مجاز حکام کی جانب سے جاری کردہ مو¿ثر این او سیز (NOCs)، اجازت ناموں اور دیگر متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی پابند ہوں گی اس کے علاوہ تنظیموں کے فوکل پرسن ،نمائندے کے رابطہ کوائف، ضلع گوادر میں تعینات ملازمین و عملے کی تفصیلات، متعلقہ شعبوں اور شراکت دار اداروں کی معلومات سمیت دیگر ضروری ریکارڈ بھی محکمہ سماجی بہبود گوادر کو فراہم کرنا ہوگا محکمہ سماجی بہبود کے مطابق اس اقدام کا مقصد ضلع گوادر میں سماجی و ترقیاتی سرگرمیوں کو منظم، مربوط، شفاف اور حکومتی پالیسی کے مطابق آگے بڑھانا، مختلف اداروں کی خدمات اور کارکردگی کا مو¿ثر ریکارڈ برقرار رکھنا، ضروری شعبوں میں ترجیحات کا تعین کرنا اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید بہتر بنانا ہے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مطلوبہ تمام معلومات اور متعلقہ دستاویزات نوٹس کے اجرا کی تاریخ سے سات روز کے اندر محکمہ سماجی بہبود گوادر میں جمع کرانا ضروری ہے ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر نے تمام متعلقہ تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرتے ہوئے حکومتی ضابطہ کار، متعلقہ قوانین اور انتظامی ہدایات کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں۔ مقررہ مدت میں معلومات و دستاویزات فراہم نہ کرنے یا متعلقہ احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں قابلِ اطلاق قوانین و ضوابط کے تحت ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ سماجی بہبود نے اس اقدام کو ضلع گوادر میں سماجی شعبے کی موثر نگرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی، شفافیت، جوابدہی اور عوامی مفاد میں جاری ترقیاتی و فلاحی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6906/2026
گوادر، 20 اگست ڈپٹی کمشنر گوادر کی ہدایات پر محکمہ سماجی بہبود نے ضلع گوادر میں کام کرنے والی تمام غیر رجسٹرڈ این جی اوز، بین الاقوامی و دیگر غیر سرکاری تنظیموں کو قانونی تقاضے پورے کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو باقاعدہ بنانے کے لیے بلوچستان چیرٹیز رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) سے رجسٹریشن کا عمل فوری شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر کی جانب سے جاری اعلامیے میں متعلقہ اداروں سے تنظیمی حیثیت، جاری و مجوزہ منصوبوں، سرگرمیوں، عملے، مستفید ہونے والے افراد و علاقوں، فوکل پرسن اور موثر NOCs و دیگر اجازت ناموں سمیت مکمل اور تازہ ترین ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے تمام متعلقہ اداروں کو نوٹس کے اجرا سے سات روز کے اندر رجسٹریشن کے عمل اور مطلوبہ معلومات و دستاویزات محکمہ سماجی بہبود گوادر میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ قانونی رجسٹریشن اور لازمی تقاضے پورے کیے بغیر سرگرمیاں جاری رکھنا خلافِ قانون ہوگا، جس پر متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت بلا مزید نوٹس کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ سماجی بہبود کے مطابق اس اقدام کا مقصد ضلع گوادر میں سماجی و ترقیاتی سرگرمیوں کو قانونی، منظم، شفاف اور مربوط بناتے ہوئے ادارہ جاتی رابطہ کاری، نگرانی اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مزید موثر بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6907/2026
گوادر 20 اگست ۔عوامی حلقوں نے ضلع گوادر میں غیر سرکاری و بین الاقوامی تنظیموں کی سرگرمیوں کو قانونی و انتظامی دائرے میں لانے کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان کی فعال اور عوام دوست انتظامی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے عوامی حلقوں کے مطابق ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی موثر نگرانی، متحرک قیادت اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے والے اقدامات سے ضلع میں شفافیت، جوابدہی، ادارہ جاتی نظم و نسق اور عوامی سہولیات کی بہتری کو فروغ مل رہا ہے۔ غیر سرکاری اداروں کا ریکارڈ طلب کرنا اور غیر رجسٹرڈ تنظیموں کو قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی کہ ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں دیگر شعبوں میں بھی ایسے موثر اور عوام دوست اقدامات جاری رہیں گے، جن کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6908/2026
لورالائی:20اگست۔ یونیورسٹی آف لورالائی کے شعبہ سیاسیات کے طلبہ قدرت اللہ اور محمد بلال نے پاکستانیات کوئز مقابلہ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کی 13 جامعات کے درمیان دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔ کامیاب طلبہ کو بطور انعام 30 ہزار روپے نقد بھی دیے گئے پاکستانیات کوئز مقابلہ 2026 کا انعقاد 11 سے 13 اگست 2026 تک نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(NUST) بلوچستان کیمپس میں کیا گیا، جس میں بلوچستان بھر کی مختلف جامعات کے طلبہ نے شرکت کی۔یونیورسٹی آف لورالائی کے طلبہ کی نمایاں کامیابی پریونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے قدرت اللہ اور محمد بلال کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ادارے کے لیے ایک قابلِ فخر اور اہم کامیابی قرار دیااس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم بلوچستان محترمہ راحیلہ حمید درانی اور محکمہ تعلیم بلوچستان کے حکام کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا، جنہوں نے طلبہ کو صوبائی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنے کے لیے اس سرگرمی کے انعقاد میں تعاون کیااسی طرح NUST بلوچستان کیمپس کے ڈین و کیمپس ڈائریکٹر بریگیڈیئر پروفیسر ڈاکٹر مغیث اسلم اور ہیڈ آف گورنمنٹ اینڈ کارپوریٹ ریلیشنز ریاض الحق کی جانب سے مقابلے کے کامیاب انعقاد اور طلبہ کو اپنی علمی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کو بھی سراہا گیا یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کی قائدانہ صلاحیتوں اور مسلسل سرپرستی کو بھی طلبہ کی اس کامیابی میں اہم قرار دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق وائس چانسلر کی جانب سے طلبہ کی علمی و ہم نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ نے شعبہ سیاسیات کے اساتذہ اورانتظامی عملے کی انتھک محنت، رہنمائی اور سرپرستی کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی کامیابی دراصل اساتذہ اور ادارے کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے یونیورسٹی آف لورالائی کے طلبہ کی یہ کامیابی نہ صرف ادارے بلکہ پورے لورالائی کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس امر کی عکاس ہے کہ بلوچستان کے نوجوان مناسب رہنمائی اور مواقع میسر آنے پر صوبائی اور قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6909/2026
دکی20اگست ۔: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر تھل عبدالسلام شاہوانی نے تحصیل دکی میں مختلف ٹرانسپورٹ اڈوں اور بینکوں کا تفصیلی دورہ کرکے عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اے ٹی ایم سروسز کا جائزہ لیادورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، کرایہ ناموں اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ ذمہ داران کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں سے مقررہ اور سرکاری طور پر طے شدہ کرایے وصول کیے جائیں اور کسی بھی صورت زائد کرایہ وصول نہ کیا جائےاسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری یا شکایت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹرانسپورٹ اڈوں پر صفائی، نظم و ضبط، کرایہ ناموں کی نمایاں آویزاں اور دیگر ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر من و عن عملدرآمد کیا جائےبعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے تحصیل دکی میں مختلف بینکوں کا بھی دورہ کیا اور اے ٹی ایم مشینوں کی فعالیت، رقم کے حصول کی سہولت اور دیگر عوامی خدمات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے بینک انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اے ٹی ایم مشینوں کو ہر ممکن حد تک فعال رکھا جائے تاکہ شہریوں، خصوصاً تنخواہ دار طبقے اور دیگر صارفین کو رقم کے حصول میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےاس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے کہا کہ عوامی سہولیات سے متعلق امور میں غفلت اور کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی، مقررہ کرایوں پر سفری سہولیات کی دستیابی اور بینکنگ سروسز کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6910/2026
لورالائی20اگست ۔ : ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لورالائی علی نواز جمالی کی زیرِ صدارت ضلعی صحت کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت عامہ کی صورتحال طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر زمان حمزہ زئی، ایم ایس ڈاکٹر نقیب اللہ، پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر نسرین گل سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع کے مختلف ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیگر طبی مراکز میں دستیاب سہولیات، ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، ضروری ادویات کی دستیابی، مراکز صحت کی فعالیت، حفاظتی ٹیکہ جات کی سرگرمیوں اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااس موقع پر محکمہ صحت کے افسران نے ضلعی صحت کی صورتحال اور مختلف مراکز میں جاری طبی سرگرمیوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز جمالی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری مراکز صحت میں ڈاکٹرز، نرسنگ اور دیگر طبی عملے کی باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے جبکہ ضروری ادویات اور طبی سامان کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر فعال یا کم سہولیات والے مراکز صحت کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےانہوں نے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کو مزید موثر بنانے اور بچوں کو بروقت حفاظتی ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں اور ماوں کی صحت، بیماریوں سے بچاو اور بروقت طبی امداد کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہےعلی نواز جمالی نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں اپنی نگرانی کا عمل مزید موثر بنائیں اور صحت کے مراکز کے باقاعدہ دورے کرکے مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کریںاجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صحت عامہ سے متعلق امور کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی اور عوامی شکایات کے ازالے کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ باہمی رابطے کے ساتھ اقدامات جاری رکھیں گے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع لورالائی کے شہریوں کو معیاری، بروقت اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام دیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6911/2026
لورالائی:20اگست ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لورالائی علی نواز جمالی کی زیرِ صدارت ضلعی تعلیمی گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی سہولیات اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بختیار خان کاکڑ سمیت محکمہ تعلیم کے تمام متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری، طلبہ کی حاضری، سکولوں کی فعالیت، دستیاب بنیادی سہولیات، تدریسی سرگرمیوں اور معیارِ تعلیم سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔شرکاء نے ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو مزید موثر بنانے، طلبہ کی حاضری میں بہتری لانے اور سکولوں میں دستیاب سہولیات کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سکولوں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز جمالی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے اور غیرحاضری کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بروقت اور باقاعدہ موجودگی تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ غیر فعال یا کم فعال سکولوں کی نشاندہی کرکے ان کی فعالیت بہتر بنائی جائے، جبکہ سکولوں میں پینے کے صاف پانی، واش رومز، بجلی، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طلبہ کے لیے سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکےعلی نواز جمالی نے طلبہ کی حاضری بہتر بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے درمیان مو¿ثر رابطہ کاری کے ذریعے بچوں کو سکولوں میں لانے اور ان کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ض سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہےاجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو محض حاضری تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کے تعلیمی نتائج، تدریسی معیار اور سیکھنے کے عمل کو بھی مسلسل مانیٹر کیا جائے بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے موجودہ نظام میں بھی سکولوں کی فعالیت، اساتذہ و طلبہ کی حاضری اور بنیادی سہولیات کی نگرانی کو اہمیت دی جا رہی ہےایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دائرہ کار میں تعلیمی اداروں کے باقاعدگی سے دورے کریں، مسائل کی نشاندہی کریں اور ان کے حل کے لیے بروقت اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی شعبے میں غفلت اور فرائض میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ ضلعی تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ و طلبہ کی حاضری اور تدریسی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں تاکہ لورالائی میں سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار مزید بلند اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6912/2026
لورالائی20اگست ۔لورالائی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز جمالی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے تعین، مارکیٹ میں قیمتوں کی صورتحال اور عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ خوراک، میونسپل انتظامیہ، انجمن تاجران اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف اشیائے ضروریہ، بالخصوص آٹا، چینی، گھی، دالیں، چاول، سبزیاں، گوشت اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیائ کی موجودہ مارکیٹ قیمتوں کا جائزہ لیا گیااس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز جمالی نے کہا کہ عوام کو مقررہ اور مناسب نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کی کسی صورت اجازت نہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اہلکار بازاروں، مارکیٹوں اور دکانوں کے باقاعدگی سے دورے کریں اور ڈی سی آفس کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نےدکانداروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ نمایاں مقامات پر سرکاری نرخ نامہ آویزاں کریں اور مقررہ نرخوں کے مطابق اشیاءفروخت کریں اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ قیمتوں کی نگرانی کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پرائس کنٹرول کی سرگرمیوں کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے اور مارکیٹوں میں ہونے والی کارروائیوں، جرمانوں اور دیگر اقدامات کی رپورٹ باقاعدگی سے ضلعی انتظامیہ کو پیش کی جائےانہوں نے کہا کہ رمضان، عید یا دیگر خصوصی مواقع تک محدود رہنے کے بجائے قیمتوں کی نگرانی کا نظام مستقل بنیادوں پر فعال رکھا جائے تاکہ شہریوں کو سال بھر ریلیف فراہم کیا جا سکےاجلاس کے شرکاءنے ضلعی انتظامیہ کو مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ لورالائی میں سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے تدارک اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے مشترکہ اور موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6913/2026
لورالائی 20اگست۔ ماں کا دودھ بچوں کی صحت اور قوتِ مدافعت کے لیے قدرتی تحفظ ہے، لورالائی: بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام اور یونیسف کے تعاون سے ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈاکٹر نعیم خان زرکون کی خصوصی ہدایت پر لورالائی کالج آف نرسنگ میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے قائمقام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شا ہ زمان حمزہ زئی ،ہیڈ آف چلڈرن وارڈ ڈاکٹر حنیف دمڑ ،اے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی محیب اللہ کاکڑ ،ایس او ایم این سی ایچ پروگرام محمد عثمان موسی خیل اور پرنسپل کالج آف نرسنگ میڈیم سکینہ کاکڑ ، ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوارڈنیٹر نقیب اللہ ناصر اور سیفٹی آفیسر بلوچستان فوڈ اتھارٹی شہزاد ناصر نے کہا کہ ماں کے لیے دورانِ حمل متوازن خوراک کا استعمال، ٹی ٹی ویکسینیشن اور کسی بھی طبی پیچیدگی کی صورت میں بروقت طبی عملے سے رجوع کرنا ضروری ہے، جس سے ماں اور بچے کی صحت بہتر رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور قوتِ مدافعت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں قدرتی حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔مقررین نے کہا کہ ماں اور بچے کی شرحِ اموات میں کمی کے لیے شعور و آگاہی، بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کی صحت، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف مدافعت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی دودھ وقتی طور پر بچے کی بھوک مٹا سکتا ہے، تاہم ماں کے دودھ میں موجود قدرتی غذائی اجزا اور حفاظتی خصوصیات بچے کی بہتر نشوونما اور صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس لیے ماوں کو بچوں کو ابتدائی چھ ماہ تک صرف اپنا دودھ پلانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔مقررین کا کہنا تھا کہ ماں اور بچے دونوں کے لیے متوازن خوراک ضروری ہے، تاہم مہنگائی، غربت اور قدرتی آفات کے باعث بعض خاندان غذائی کمی کا شکار ہیں۔ نوشکی میں غذائی کمی کے باعث بچوں میں لاغر پن، قد کی مناسب نشوونما نہ ہونا اور دیگر صحت کے مسائل سامنے آ رہے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی اور موثر آگاہی ناگزیر ہے۔سمینار میں ایل ایچ ڈبلیو ٹیموں، بینظیر پروگرام کے مراکز، نیوٹریشن پروگرام کے او ٹی پی سینٹرز اور نرسزز ہیلتھ کیئر پروائڈر ڈاکٹرز ڈویژنل پولیو آفیسر ڈاکٹر حنیف لونی ،ویکسنیٹرز ایم این ای آفیسر سید رفیع اللہ شاہ ،ڈی ایس وی گل نواز خان ناصر ،اے ڈی سی جنرل علی نواز جمالی اور دیگر نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6914/2026
لورالائی:20اگست ۔ یونیورسٹی آف لورالائی نے عالمی سطح پر تعلیم کے فروغ اور بین الاقوامی جامعات کے درمیان تعلیمی روابط مضبوط بنانے کے لیے منعقدہ گلوبل ایجوکیشن ڈائیلاگ میں بھرپور شرکت کی سمٹ کے دوران “Accessible Global Education: Unlocking Opportunities for Students & Universities Worldwide” کے عنوان سے ایک اہم پینل ڈسکشن منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر میں طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع، طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت، جامعات کے درمیان تعاون اور جامع و قابلِ رسائی تعلیمی نظام کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے پینل ڈسکشن میں بطور ممتاز پینلسٹ شرکت کی اور عالمی سطح پر جامعات کے درمیان تعلیمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے، بین الاقوامی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے اپنی قیمتی آراءاور تجاویز پیش کیں یونیورسٹی آف لورالائی کے وفد میں رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان، ڈائریکٹر ORIC مسٹر اسلم زیب اور اسسٹنٹ رجسٹرار (ایڈمن) محمد بلال بھی شامل تھے، جنہوں نے سمٹ اور ایکسپو میں شرکت کی اور مختلف تعلیمی اداروں کے نمائندگان کے ساتھ بین الاقوامی تعلیمی تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیاپینل ڈسکشن میں جنرل (ر) پروفیسر طاہر مختار سید، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، پروفیسر شاہد محمود اور پروفیسر ڈاکٹر تنویر خلیق نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ سیشن کی میزبانی مس قرت العین، نائب صدر FPCCI نے کی مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں جامعات کے درمیان بین الاقوامی روابط، طلبہ و فیکلٹی ایکسچینج پروگرامز، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور علمی تعاون کو فروغ دینا اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہےگلوبل ایجوکیشن ڈائیلاگ کے دوران مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط بین الاقوامی اکیڈمک نیٹ ورک کے قیام، باہمی تعاون اور دیرپا تعلیمی شراکت داری کے حوالے سے بھی اہم تجاویز سامنے آئیں یونیورسٹی آف لورالائی کی اس بین الاقوامی تعلیمی سرگرمی میں شرکت کو ادارے کی عالمی سطح پر تعلیمی روابط کے فروغ، تحقیق، جدت اور طلبہ کے لیے بین الاقوامی مواقع پیدا کرنے کی کوششوں کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6915/2026
لورالائی: 20اگست ۔ضلعی انتظامیہ لورالائی کے زیرِ اہتمام منعقدہ آل بلوچستان پ±رامن پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کامیابی اور شاندار مقابلوں کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ فائنل میچ میں ژوب کی ٹیم نے عمدہ کھیل کامظاہرہ کرتے ہوئے میزبان لورالائی کی ٹیم کو شکست دے کر ٹورنامنٹ کی ٹرافی اپنے نام کرلی فائنل مقابلہ لورالائی اور ژوب کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، جس میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بھرپور جوش و جذبے، بہترین کھیل اور کھیلوں کی اعلیٰ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا۔ میچ کے دوران شائقینِ فٹبال کی بڑی تعداد گراونڈ میں موجود رہی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی رہی فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لورالائی علی نواز جمالی تھے۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے افسران، محکمہ کھیل سے وابستہ شخصیات، کھلاڑیوں، نوجوانوں اور فٹبال کے شائقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز جمالی نے کہا کہ کھیل نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینے، صحت مند معاشرے کے قیام اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کھیلوں کے مقابلوں سے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر آتے ہیں جبکہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے درمیان بھائی چارے اور باہمی روابط کو بھی فروغ ملتا ہےانہوں نے کہا کہ پرامن پاکستان کا پیغام صرف امن و امان تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے سے بھی وابستہ ہے جہاں نوجوان تعلیم، کھیل اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ ضلعی انتظامیہ نوجوانوں کو صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گیایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، ضلعی انتظامیہ، کھلاڑیوں، ریفریز اور شائقینِ فٹبال کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی ضلع لورالائی میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں اورنوجوانوں کے لیے تفریحی و مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گااس موقع پر فاتح ٹیم ڑوب کے کھلاڑیوں کو شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی جبکہ رنر اَپ ٹیم لورالائی کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔ ٹورنامنٹ میں شریک دیگر ٹیموں اور کھلاڑیوں کی جانب سے دکھائے گئے جذبے، نظم و ضبط اور کھیلوں کی اسپرٹ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیامنتظمین کا کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو کھیلوں کے صحت مند مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ امن، بھائی چارے، برداشت، باہمی احترام اور مثبت طرزِ زندگی کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں اختتامی تقریب میں کامیاب ٹیم اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور دیگر انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن و استحکام اور بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6916/2026
کوئٹہ:20اگست۔ 12 ربیع الاول کے سلسلے میں تیاریوں، سکیورٹی انتظامات اور دیگر ضروری امور کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر (ویسٹ) منیر احمد درانی سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران، جماعت اہلسنت کے عہدیداران،علماءکانفرنس اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں 12 ربیع الاول کے جلوس و مجالس کے روٹس، صفائی ستھرائی، سکیورٹی، بجلی کی فراہمی اور شہر میں روشنی کے انتظامات سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں صفا کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ (MCQ)، پی ڈی ایم اے، کیسکو، سوئی گیس، پولیس، ایف سی، محکمہ صحت (DHO) اور دیگر متعلقہ اداروں نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ مجالس اور جلوس کے تمام روٹس پر صفائی کے خصوصی انتظامات یقینی بنائے جائیں، تمام مجالس کے مقامات پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں جبکہ شہر اور اہم شاہراہوں پر لائٹس کی تنصیب و مرمت مکمل کی جائے۔انہوں نے سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی کہ 12 ربیع الاول کے تمام پروگرامز کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ ٹریفک مینجمنٹ، ایمرجنسی رسپانس، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات کو بھی مربوط بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے موقع پر امن و امان، صفائی، سکیورٹی اور شہری سہولیات کی فراہمی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6917/2026
کوئٹہ 20اگست۔ڈپٹی کمشنر(ویسٹ)کوئٹہ منیر احمد درانی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر فرائص کی ادائیگی شروع کردی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 6918/2026
کوئٹہ: 20 اگست ۔حکومتِ بلوچستان کی جانب سے قائم کردہ عدالتی تحقیقاتی کمیشن، معزز جسٹس محمد عامر نواز رانا ضلع زیارت کے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کر رہا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق تحقیقاتی کمیشن واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے، جن میں واقعے کے اصل حقائق، اسباب و محرکات، ذمہ داریوں کا تعین، سیکیورٹی انتظامات، پولیس کی تیاری، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور واقعے سے متعلق دیگر اہم امور شامل ہیں۔کمیشن کا بنیادی مقصد واقعے کے حقائق کو مکمل طور پر سامنے لانا، ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کرنا ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی قیاس آرائی، غیر مصدقہ معلومات، افواہوں یا قبل از وقت رائے کے اظہار سے گریز کیا جائے۔ تحقیقاتی کمیشن اپنی کارروائی دستیاب ریکارڈ، دستاویزات، شواہد اور قانونی وتحقیقاتی اصولوں کے مطابق مکمل کرے گا، جبکہ حتمی نتائج اور سفارشات کمیشن کی رپورٹ میں سامنے لائی جائیں گی۔کمیشن نے عوام، متعلقہ اداروں اور تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کرتے ہوئے درست معلومات، شواہد اور متعلقہ دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کریں، تاکہ واقعے کے حقائق تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔اعلامیے کے مطابق 28 اگست 2026ء تک دفتری اوقاتِ کار کے دوران تمام متعلقہ افراد تحقیقاتی کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے دفتر، واقع عدالتِ عالیہ بلوچستان، ہائی کورٹ روڈ کوئٹہ، میں حاضر ہو کر اپنا نام، عہدہ/پیشہ، موجودہ و مستقل پتہ، رابطہ نمبر اور شناختی کارڈ کی نقل کے ہمراہ واقعے سے متعلق معلومات، شواہد اور دستاویزات پیش کر سکتے ہیں۔تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے عوام اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے صرف درست، مستند اور قابلِ تصدیق معلومات پیش کریں تاکہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور مؤثر انداز میں مکمل کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر 6919/2026
کوئٹہ، 20 اگست ۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ میں گزشتہ 22 سال سے تعلیمی سرگرمیاں اور کلاسز معطل رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عمران بلوچ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چنگیز دشتی اور مدعا علیہ نمبر 4 کے وکیل ایمل خان کاکڑ کو تفصیل سے سنا گیا۔ فریقین کے وکلاء کے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ میں گزشتہ 22 برس سے کلاسز معطل ہیں۔
عدالت عالیہ نے تعلیمی سرگرمیوں کی اتنی طویل معطلی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کا مسلسل غیر فعال رہنا نہ صرف طلباء کے لیے مشکلات کا باعث ہے بلکہ ان کی تعلیم، مستقبل اور پیشہ ورانہ کیریئر کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ عوامی فنڈز سے قائم کیے گئے ادارے اور اس کے انفراسٹرکچر پر ہونے والے سرکاری اخراجات طویل عرصے تک ادارہ غیر فعال رہنے کی صورت میں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سیکرٹری کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومت بلوچستان اور پرنسپل گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ کی ذاتی حاضری یقینی بنائی جائے۔عدالت نے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، جس میں گزشتہ 22 سال سے کلاسز کی معطلی کی وجوہات، تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے محکمہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور ادارے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل واضح کیا جائے۔عدالت نے سیکرٹری سے کالج کی موجودہ صورتحال، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی دستیابی، طلباء کے داخلوں، عمارت و بنیادی ڈھانچے، آلات اور دیگر ضروری سہولیات سے متعلق بھی تفصیلی معلومات طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کلاسز کے دوبارہ اجراء کے لیے ایک واضح، قابلِ عمل اور مقررہ مدت پر مبنی منصوبہ بھی پیش کیا جائے۔
دو رکنی بینچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے اور آئندہ سماعت پر محض عمومی یا روایتی وضاحتیں پیش کرنے کے بجائے ٹھوس اقدامات اور عملی پیش رفت عدالت کے سامنے رکھی جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ رپورٹ میں ادارے کو فعال بنانے کے لیے کیے گئے حقیقی اقدامات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کو دوبارہ فعال کیا جاسکے اور طلباء کو ان کے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم نہ رہنا پڑے۔کیس کی آئندہ سماعت 10 ستمبر 2026 کو ہوگی۔

خبرنامہ نمبر6920/2026
جھل مگسی20 اگست ۔
اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد نے گورنمنٹ بوائز ہائیر سکینڈری اسکول گنداواہ، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول حسینی محلہ گنداواہ اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بستی کمال شاہ گنداواہ کا سرپرائز دورہ کیا اساتذہ ، استانیوں و دیگر عملے کی حاضری چیک کیں۔اس موقع پر مذکورہ اسکولوں کے صدر مدرسین و ہیڈ مسٹریس نے انھیں مختلف کلاس رومز کا معائنہ کروایا اور اسکول ہٰذہ کے تعلیمی پس منظر اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیں۔
اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد نے اسکولز کے اساتذہ و دیگر عملے کو اپنی حاضری و تعلیمی مراکز کی صفائی و ستھرائی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں اور درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی انھوں نے کہا کہ غیر حاضر اساتذہ، استانیاں و دیگر عملے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ضلع کے مستقبل کے معماروں کی تعلیم کے حوالے سے کوئی کوتاہی و غفلت نا قابل برداشت عمل تصور کی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر6921/2026
نصیرآباد۔20اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اسمبلی ہال نصیرآباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کی کھلی کچہری کا بنیادی مقصد شہریوں کو براہِ راست اپنے مسائل ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا اور ان کے حل کے لیے فوری و مؤثر اقدامات یقینی بنانا تھا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے ایک مؤثر عوامی فورم ہے۔ آج کی کھلی کچہری شہریوں کے مسائل سنے بغیر اختتام پذیر نہیں ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جبکہ ایسے مسائل جو ضلعی انتظامیہ کے اختیار سے باہر ہیں، انہیں متعلقہ اعلیٰ حکام اور محکموں کے سامنے تحریری طور پر پیش کیا جائے گا تاکہ ان کے حل کے لیے مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے کھلی کچہری میں ونگ کمانڈر کرنل رضوان طیب، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلدار معظم علی جتوئی، ایکسین بلڈنگز، ایکسین واپڈا، ڈی ایچ او ڈاکٹر ایاز حسین جمالی ضلعی انتظامیہ کے افسران، مختلف محکموں کے سربراہان علماء کرام، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر شہریوں نے تحریری درخواستوں اور زبانی طور پر مختلف عوامی مسائل ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے شہریوں نے ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس روڈ کی تعمیر میں طویل تاخیر تحصیل تمبو میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی زرعی سیزن کے دوران پانی کی قلت اور پانی کی غیر قانونی چوری کی شکایات سے آگاہ کیا شہریوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں غیر قانونی طور پر پائپوں کے ذریعے پانی چوری کیا جا رہا ہے جس کے باعث زرعی اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے شہریوں نے شہروں میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال طلبہ کے لیے لائبریری کی سہولیات کی کمی بااثر افراد کی جانب سے مبینہ ناجائز قبضوں تحصیل چھتر میں طبی سہولیات کے فقدان، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیوب ویلوں سے سیراب ہونے والی زرعی زمینوں کو درپیش مشکلات اور مویشیوں میں پھیلنے والی بیماریوں کے علاج کے لیے لائیوسٹاک کی مؤثر خدمات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا اسی طرح ڈیرہ مراد جمالی میں منشیات کی فروخت کی روک تھام، قبرستان کے لیے اراضی مختص کرنے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مستحق خواتین کو درپیش مسائل کے حل، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر اہم عوامی مسائل بھی ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے گئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو مختلف شکایات کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کے مسائل کو محض درخواستوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے عملی حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کو پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ خالصتاً عوامی مسائل کی نشاندہی، ان کے حل اور متعلقہ اداروں کو ذمہ دار بنانے کے لیے مؤثر رابطہ کاری ہے۔ شہری مختصر اور جامع انداز میں اپنے مسائل پیش کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی شکایات بیان کرنے کا موقع مل سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ دیگر مسائل متعلقہ اعلیٰ حکام اور محکموں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائے جائیں گے کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی جانب سے عوامی مسائل براہِ راست سننے موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرنے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ آئندہ بھی باقاعدگی سے کھلی کچہریوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ عوام کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی حکام تک پہنچانے اور ان کے بروقت حل کا مؤثر موقع میسر آتا رہے

خبرنامہ نمبر6922/2026
کوئٹہ 20اگست۔ اسپیشل مجسٹریٹ واسا حبیب الرحمن کاکڑ نے غیر قانونی واٹر سپلائی بورنگ، غیر قانونی کنکشنز اور واسا کے واجب الادا بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایئرپورٹ روڈ خیزی چوک کے مقام پر 05 غیر قانونی واٹر سپلائی بورنگ/کنکشنز سیل کر دیے۔کارروائی کے دوران واسا حکام اور متعلقہ عملے نے غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے والے کنکشنز کا معائنہ کیا اور قوانین کی خلاف ورزی پر پانچ سپلائی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر اسپیشل مجسٹریٹ واسا حبیب الرحمن کاکڑ نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی بورنگ، غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشنز اور واسا کے بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ واسا کے قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ پانی کے غیر قانونی استعمال اور واجبات کی عدم ادائیگی سے ادارے کو مالی نقصان کے ساتھ شہریوں کو پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔حبیب الرحمن کاکڑ نے واضح کیا کہ غیر قانونی کنکشنز اور بورنگ کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شہر کے دیگر علاقوں تک بھی وسیع کیا جائے گا اور آئندہ دنوں میں کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کے حصول کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کریں اور واسا کے واجب الادا بل بروقت ادا کریں ۔واسـا حکام کے مطابق غیر قانونی واٹر سپلائی کنکشنز اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف کارروائی بلاامتیاز جاری رہے گی۔

خبرنامہ نمبر 6923/2026
گوادر20اگست بلوچی زبان، فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے معروف بلوچی فنکار سرفراز احمد کو ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی جانب سے ان کی فنی و ادبی خدمات کے اعتراف میں خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔سرفراز احمد نے بلوچی زبان کے فروغ اور ثقافتی ورثے کی ترویج میں طویل عرصے سے اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بلوچی زبان کی متعدد فلموں میں مختلف اور یادگار کردار ادا کرتے ہوئے مقامی فن، زبان اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ زبانیں صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی بھی قوم کی تاریخ، تہذیب، روایات اور اجتماعی شناخت کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ بلوچی زبان و ثقافت کے لیے فنکاروں، ادیبوں اور اہلِ قلم کی خدمات ہمارے ثقافتی ورثے کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی حوصلہ افزائی معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد کی فنی خدمات کسی ایک اعزاز کی محتاج نہیں، تاہم ان کی خدمات کا اعتراف اور حوصلہ افزائی نئی نسل کے فنکاروں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ ایسے فنکار جو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے مقامی زبان، ثقافت اور روایات کو زندہ رکھتے ہیں، معاشرے میں قدر و منزلت کے مستحق ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچی زبان، مقامی فنون اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ گوادر سمیت بلوچستان کی منفرد تہذیبی شناخت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔
اس موقع پر معروف فنکار سرفراز احمد نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی جانب سے اپنی فنی خدمات کے اعتراف پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ فنکار کی اصل پذیرائی اس وقت ہوتی ہے جب اس کے فن اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ انہوں نے اس اعزاز کو اپنے لیے حوصلہ افزائی قرار دیتے ہوئے بلوچی زبان و ثقافت کے لیے اپنی فنی خدمات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔سرفراز احمد کی فنی زندگی بلوچی سینما اور ثقافتی منظرنامے سے گہری وابستگی رکھتی ہے، جہاں انہوں نے متعدد بلوچی فلموں میں مختلف کردار نبھا کر نہ صرف اپنی فنی صلاحیتوں کا اظہار کیا بلکہ بلوچی زبان اور مقامی ثقافت کو وسیع سطح پر متعارف کرانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے معروف فنکار کو اعزاز سے نوازنے کے اس اقدام کو بلوچی زبان و ثقافت سے وابستہ فنکاروں کی حوصلہ افزائی، مقامی فن کے اعتراف اور بلوچستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر 6924/2026
سوراب20اگست۔ضلعی انتظامیہ سوراب کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت 21 اگست 2026 بروز جمعہ، دن 1:30 بجے مین آر سی ڈی روڈ، جامعہ مسجد الفلاح تبلیغی مرکز میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا کھلی کچہری میں عوام اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز براہ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کر سکیں گے تمام معززین علاقہ، سماجی و سیاسی شخصیات، صحافی برادری اور عوام الناس سے بروقت شرکت کی درخواست کی گئ ہے۔

خبرنامہ نمبر 6925/2026
گوادر: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے مؤثر نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ایم ایم ڈی دفتر کا اچانک دورہ کیا، جہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے دفتر میں افسران و ملازمین کی حاضری، دفتری امور، ریکارڈ اور ادارے کے مجموعی انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے موقع پر متعلقہ افسر بھی دفتر میں موجود نہیں تھے، جبکہ حاضری کی جانچ کے دوران 35 ملازمین میں سے صرف 3 ملازمین حاضر پائے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے حاضری کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا تو اٹینڈنس رجسٹر فعال نہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی بروقت حاضری اور ذمہ داریوں کی انجام دہی کسی صورت نظرانداز نہیں کی جا سکتی، کیونکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی براہِ راست عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات سے وابستہ ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ایم ایم ڈی کے انفراسٹرکچر کا بھی معائنہ کیا اور ادارے میں موجود مشینری و دیگر وسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مشینری کی خستہ حالی اور ادارے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم ڈی کے نظام میں مؤثر اصلاحات اور انتظامی بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ اداروں کی فعالیت، ملازمین کی حاضری، سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال اور عوامی خدمت ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ایم ایم ڈی سمیت تمام سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ سرکاری مشینری کو فعال اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے ادارے کے ملازمین، حاضری، مشینری، اثاثوں اور دیگر انتظامی امور سے متعلق مکمل ریکارڈ اور تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام معاملات کی شفاف جانچ کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور سرکاری فرائض میں غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کے اس اچانک معائنے کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں میں احتساب، نظم و ضبط، شفافیت اور کارکردگی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سرکاری محکموں کو فعال بنا کر عوام کو بہتر اور بروقت سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/6926
نصیرآباد20اگست:ـڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا ہے ک۔ نصیرآباد کی باصلاحیت بچیوں کی جانب سے یومِ آزادی کے موقع پر پیش کیا گیا پرفارمنس واقعی شاندار، مثالی اور دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان کی غیر معمولی کارکردگی، حب الوطنی کے جذبے اور بہترین پیشکش نے ان کی اعلیٰ صلاحیتوں، نظم و ضبط اور بھرپور لگن کا شاندار مظاہرہ کیا، جس نے یومِ آزادی کی تقریبات کو مزید یادگار بنا دیا انہوں نے کہا کہ 14 اگست پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور یادگار دن ہے کیونکہ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ایک طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد آزاد وطن پاکستان حاصل کیا آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں، ماؤں بہنوں اور نوجوانوں نے بے مثال قربانیاں دیں لہٰذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وطن کی سلامتی ترقی خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ عبدالوہاب سومرو سکول میں نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز یار محمد سمیجہ و ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے باہمی تعاون سے 14 اگست کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں طلباء و طالبات اساتذہ والدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر طلباء و طالبات نے ملی نغمے تقاریر ٹیبلو اور دیگر مختلف پروگرام پیش کرکے وطن سے اپنی محبت اور جذبۂ حب الوطنی کا اظہار کیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے اس لیے ہمیں آزادی کی قدر و منزلت کو سمجھتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط محنت دیانت داری اور حب الوطنی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے اور ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے ہر شہری کو اپنے فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریاں ایمانداری خلوص اور لگن کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی۔ سرکاری افسران اور ملازمین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھیں اور اپنے فرائض میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اس قومی سفر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے درمیان اتحاد، اتفاق، بھائی چارے اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال ملک بنایا جاسکے انہوں نے طلباء و طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے پروگرامز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات نئی نسل میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور پاکستان سے محبت کے جذبات اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلباء کی کردار سازی اور انہیں ایک ذمہ دار اور محب وطن شہری بنانے کے لیے اپنی کاوشیں مزید تیز کریں تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6927
گوادر20اگست:ـضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے مؤثر نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ایم ایم ڈی دفتر کا اچانک دورہ کیا، جہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے دفتر میں افسران و ملازمین کی حاضری، دفتری امور، ریکارڈ اور ادارے کے مجموعی انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے موقع پر متعلقہ افسر بھی دفتر میں موجود نہیں تھے، جبکہ حاضری کی جانچ کے دوران 35 ملازمین میں سے صرف 3 ملازمین حاضر پائے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے حاضری کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا تو اٹینڈنس رجسٹر فعال نہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی بروقت حاضری اور ذمہ داریوں کی انجام دہی کسی صورت نظرانداز نہیں کی جا سکتی، کیونکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی براہِ راست عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات سے وابستہ ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ایم ایم ڈی کے انفراسٹرکچر کا بھی معائنہ کیا اور ادارے میں موجود مشینری و دیگر وسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مشینری کی خستہ حالی اور ادارے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم ڈی کے نظام میں مؤثر اصلاحات اور انتظامی بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ اداروں کی فعالیت، ملازمین کی حاضری، سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال اور عوامی خدمت ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ایم ایم ڈی سمیت تمام سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ سرکاری مشینری کو فعال اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے ادارے کے ملازمین، حاضری، مشینری، اثاثوں اور دیگر انتظامی امور سے متعلق مکمل ریکارڈ اور تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام معاملات کی شفاف جانچ کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور سرکاری فرائض میں غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کے اس اچانک معائنے کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں میں احتساب، نظم و ضبط، شفافیت اور کارکردگی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سرکاری محکموں کو فعال بنا کر عوام کو بہتر اور بروقت سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/6928
کوئٹہ20اگست:ـبلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ٹیکس شیڈول کے مطابق کسٹمز ایجنٹس کی جانب سے گڈز ڈیکلریشن (Goods Declaration) کے اجراء سے متعلق فراہم کردہ خدمات پر فی گڈز ڈیکلریشن 1,000 روپے بلوچستان سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔شیڈول کے مطابق مذکورہ خدمات پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ/ایڈجسٹمنٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام متعلقہ کسٹمز ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین کے تحت اپنی رجسٹریشن، درست ٹیکس رپورٹنگ، بروقت ریٹرن فائلنگ اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد شفاف اور مؤثر ٹیکس نظام کے قیام، ٹیکس تعمیل میں بہتری اور صوبے کے محصولات میں اضافے کیلئے ضروری ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6929
ہرنائی20اگست :ـضلع ہرنائی میں عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو فعال بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کے الگ الگ جائزہ اجلاس منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں ضلع بھر کے ہسپتالوں، بنیادی مراکزِ صحت اور سرکاری سکولوں کی کارکردگی، عملے کی حاضری اور درپیش مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجر PPHI، ڈرگ انسپکٹر اور دیگر شعبہ جات کے متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع کے تمام ہسپتالوں، دیہی و بنیادی مراکز صحت کی مجموعی کارکردگی، طبی و انتظامی عملے کی حاضری، ضروری ادویات کا اسٹاک اور عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عوام کو طبی سہولیات کے حصول میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جائے
بعد ازاں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) اور کمیٹی اراکین نے شرکت کی اجلاس میں ضلع کے تمام سرکاری سکولوں کی فعال حالت، اساتذہ اور طلبہ کی روزمرہ حاضری، تدریسی معیار اور سکولوں کو درپیش بنیادی مسائل و انفراسٹرکچر پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، اساتذہ کی غیر حاضری کا خاتمہ کرنے اور تعلیمی معیار کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کی ہدایت کی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے تمام متعلقہ افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کو ان دونوں شعبوں میں واضح اور مثبت تبدیلیاں نظر آنی چاہئیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی انتظامی ذمہ داریاں قومی و اخلاقی فرض سمجھ کر بھرپور انداز میں ادا کریں تاکہ ضلع ہرنائی کے شہریوں کو دہلیز پر تمام بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6930
نصیرآباد20اگست:ـڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا ہے ک۔ نصیرآباد کی باصلاحیت بچیوں کی جانب سے یومِ آزادی کے موقع پر پیش کیا گیا پرفارمنس واقعی شاندار، مثالی اور دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان کی غیر معمولی کارکردگی، حب الوطنی کے جذبے اور بہترین پیشکش نے ان کی اعلیٰ صلاحیتوں، نظم و ضبط اور بھرپور لگن کا شاندار مظاہرہ کیا، جس نے یومِ آزادی کی تقریبات کو مزید یادگار بنا دیا انہوں نے کہا کہ 14 اگست پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور یادگار دن ہے کیونکہ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ایک طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد آزاد وطن پاکستان حاصل کیا آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں، ماؤں بہنوں اور نوجوانوں نے بے مثال قربانیاں دیں لہٰذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وطن کی سلامتی ترقی خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ عبدالوہاب سومرو سکول میں نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز یار محمد سمیجہ و ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے باہمی تعاون سے 14 اگست کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں طلباء و طالبات اساتذہ والدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر طلباء و طالبات نے ملی نغمے تقاریر ٹیبلو اور دیگر مختلف پروگرام پیش کرکے وطن سے اپنی محبت اور جذبۂ حب الوطنی کا اظہار کیا ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے اس لیے ہمیں آزادی کی قدر و منزلت کو سمجھتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط محنت دیانت داری اور حب الوطنی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے اور ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے ہر شہری کو اپنے فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریاں ایمانداری خلوص اور لگن کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی۔ سرکاری افسران اور ملازمین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھیں اور اپنے فرائض میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اس قومی سفر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے درمیان اتحاد، اتفاق، بھائی چارے اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال ملک بنایا جاسکے انہوں نے طلباء و طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے پروگرامز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات نئی نسل میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور پاکستان سے محبت کے جذبات اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلباء کی کردار سازی اور انہیں ایک ذمہ دار اور محب وطن شہری بنانے کے لیے اپنی کاوشیں مزید تیز کریں تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6931
کوئٹہ20 اگست:ـبلوچستان حکومت، ایف اے او اور جامعہ بلوچستان کے اشتراک سے خواتین کی معاشی شمولیت اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر ایف اے او کے قائم مقام سربراہ جیمز اوکوتھ نے کہا ہے کہ لائیو اسٹاک سے وابستہ روزگار میں خواتین کے کردار، مواقع اور مشکلات کو سمجھنا مؤثر حکمت عملیوں کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ اور مشترکہ تحقیق سے خواتین کو وسائل، فیصلہ سازی اور منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم شواہد ملے ہیں، جو بلوچستان کی دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔مہمان خصوصی محکمہ ترقیِ نسواں بلوچستان کے سیکریٹری شیر شاہ غلزئی نے کہا کہ خواتین کو وسائل، ہنر، منڈیوں اور فیصلہ سازی تک رسائی فراہم کرنا معاشی مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نمائندہ حکومت بلوچستان بتول اسدی ڈی جی لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد فاروق ترین نے بھی خطاب کیا اور اور امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے صوبہ کی خواتین کو فوائد حاصل کرنے میں معاونت حاصل ہوگی
خبر نامہ نمبر 2026/6932
نصیرآباد20اگست:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اسمبلی ہال نصیرآباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کی کھلی کچہری کا بنیادی مقصد شہریوں کو براہِ راست اپنے مسائل ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا اور ان کے حل کے لیے فوری و مؤثر اقدامات یقینی بنانا تھا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے ایک مؤثر عوامی فورم ہے۔ آج کی کھلی کچہری شہریوں کے مسائل سنے بغیر اختتام پذیر نہیں ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جبکہ ایسے مسائل جو ضلعی انتظامیہ کے اختیار سے باہر ہیں، انہیں متعلقہ اعلیٰ حکام اور محکموں کے سامنے تحریری طور پر پیش کیا جائے گا تاکہ ان کے حل کے لیے مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے کھلی کچہری میں ونگ کمانڈر کرنل رضوان طیب، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلدار معظم علی جتوئی، ایکسین بلڈنگز، ایکسین واپڈا، ڈی ایچ او ڈاکٹر ایاز حسین جمالی ضلعی انتظامیہ کے افسران، مختلف محکموں کے سربراہان علماء کرام، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر شہریوں نے تحریری درخواستوں اور زبانی طور پر مختلف عوامی مسائل ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے شہریوں نے ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس روڈ کی تعمیر میں طویل تاخیر تحصیل تمبو میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی زرعی سیزن کے دوران پانی کی قلت اور پانی کی غیر قانونی چوری کی شکایات سے آگاہ کیا شہریوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں غیر قانونی طور پر پائپوں کے ذریعے پانی چوری کیا جا رہا ہے جس کے باعث زرعی اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے شہریوں نے شہروں میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال طلبہ کے لیے لائبریری کی سہولیات کی کمی بااثر افراد کی جانب سے مبینہ ناجائز قبضوں تحصیل چھتر میں طبی سہولیات کے فقدان، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیوب ویلوں سے سیراب ہونے والی زرعی زمینوں کو درپیش مشکلات اور مویشیوں میں پھیلنے والی بیماریوں کے علاج کے لیے لائیوسٹاک کی مؤثر خدمات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا اسی طرح ڈیرہ مراد جمالی میں منشیات کی فروخت کی روک تھام، قبرستان کے لیے اراضی مختص کرنے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مستحق خواتین کو درپیش مسائل کے حل، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر اہم عوامی مسائل بھی ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے گئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو مختلف شکایات کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کے مسائل کو محض درخواستوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے عملی حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کو پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ خالصتاً عوامی مسائل کی نشاندہی، ان کے حل اور متعلقہ اداروں کو ذمہ دار بنانے کے لیے مؤثر رابطہ کاری ہے۔ شہری مختصر اور جامع انداز میں اپنے مسائل پیش کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی شکایات بیان کرنے کا موقع مل سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ دیگر مسائل متعلقہ اعلیٰ حکام اور محکموں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائے جائیں گے کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی جانب سے عوامی مسائل براہِ راست سننے موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرنے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ آئندہ بھی باقاعدگی سے کھلی کچہریوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ عوام کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی حکام تک پہنچانے اور ان کے بروقت حل کا مؤثر موقع میسر آتا رہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6933
زیارت 20اگست:_صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سے آئے مختلف وفود نے سول سیکرٹریٹ میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود کے شرکاء نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش عوامی مسائل، بنیادی سہولیات کی کمی، علاقائی ضروریات اور دیگر اہم امور سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا وفود نے مختلف مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر سے عملی اقدامات کی درخواست کی، جبکہ اس موقع پر علاقے کی مجموعی صورتحال، عوامی مشکلات اور ترقیاتی و فلاحی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران ایک مریض کی جانب سے آپریشن کے لیے مالی معاونت کی درخواست بھی پیش کی گئی، جس پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ مریض کے آپریشن کے اخراجات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور مستحق افراد کی بروقت مدد ان کی ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو مشکل کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے وفود کے مسائل اور گزارشات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے، جبکہ عوامی فلاح و بہبود اور پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے حاجی نور محمد دمڑ نے متعلقہ حکام کو عوامی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے ان کی کوشش ہے کہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ان کی دہلیز پر کیا جائے اور دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اس موقع پر زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سے آئے وفود نے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ کا مسائل کو توجہ سے سننے، فوری احکامات جاری کرنے اور مریض کے آپریشن کے اخراجات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی عوام دوست کاوشوں کو سراہا۔

خبرنامہ نمبر2026/6934
کوہلو 20 اگست ۔اسسٹنٹ کمشنر کوہلو یحییٰ خان نے شہر کے مختلف بازاروں کا دورہ کیا اور پھلوں، سبزیوں سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، معیار اور صفائی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ اشیائے خوردونوش کے معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور صفائی کا خصوصی خیال رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اشیاء کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فروخت یقینی بنائی جائے، اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی، ناقص اشیاء کی فروخت اور صفائی کے حوالے سے غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6935
کوئٹہ20اگست:ـصوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی، جس میں سنجاوی ہسپتال کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو جلد فعال کرنے اور عوام کو مکمل طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے موقع پر فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ، محمد عرفان دمڑ اور موسیٰ کاکڑ بھی موجود تھے ملاقات میں سنجاوی ہسپتال کیلئے بیڈز، آپریشن تھیٹر، ضروری طبی مشینری، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی تعیناتی سمیت ہسپتال کو مکمل طبی سہولیات سے آراستہ کرنے کے امور زیرِ غور آئے اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ سنجاوی ہسپتال کی نئی عمارت کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں جدید طبی مشینری، آپریشن تھیٹر، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ضروری طبی عملے کی تعیناتی یقینی بنائی جائے تاکہ سنجاوی اور گردونواح کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن نے بتایا کہ سنجاوی ہسپتال کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (I H H N) کے حوالے کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے، تاکہ ہسپتال کو فعال بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ان کے دستیاب وسائل سے استفادہ کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ ہسپتال کو فعال کرنے کیلئے درکار طبی مشینری، ضروری سہولیات، ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کی تعیناتی سمیت تمام امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سنجاوی ہسپتال کی نئی عمارت کا جلد دورہ کیا جائے گا اور اس معاملے کو متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے بھی رکھا جائے گا تاکہ ہسپتال کو جلد از جلد فعال کیا جا سکے حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ سنجاوی ہسپتال مکمل طور پر فعال ہونے سے علاقے کے عوام کو علاج معالجے کیلئے کوئٹہ یا دیگر شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور سنجاوی ہسپتال کو فعال کرنا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6936
تربت20 اگست:ـاسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی کی سربراہی میں محکمہ صحت تربت کی مختلف آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز ڈپٹی کمشنر آفس تربت میں منعقد ہوئے۔انٹرویوز کے دوران محکمہ صحت کی مختلف یونین کونسلز کے لیے مختص 24 آسامیوں پر بھرتی کے عمل کے سلسلے میں امیدواروں کی قابلیت اور اہلیت کا جائزہ لیا گیا۔مذکورہ آسامیوں کے لیے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین سمیت مجموعی طور پر 245 امیدواروں نے آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواستیں جمع کرائی تھیں جنہوں نے مقررہ شیڈول کے مطابق انٹرویوز میں شرکت کی۔انٹرویو کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف بلوچ، آر ایم او سول ہسپتال تربت ڈاکٹر مہرین باقر، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر ارسلان سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران و نمائندگان شامل تھے۔اس موقع پر امیدواروں کے انٹرویوز شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کرنے کے لیے ضروری امور کا جائزہ لیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6937
نصیرآباد20اگست:ـڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کھلی کچہری کے دوران عوام کی جانب سے پیش کی جانے والی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے کھاد کی زائد قیمتوں پر فروخت، منشیات کی خرید و فروخت اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق شکایات پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر انتظامیہ نے کھاد کی مقررہ قیمت سے زائد نرخ وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کھلی کچہری کے اختتام کے بعد فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے آج ہی 20اگست کے روز تین دکانوں کو سیل کردیا جبکہ زائد قیمت پر کھاد فروخت کرنے میں ملوث دیگر دکانداروں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کھاد کی قیمتوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسانوں کو ناجائز منافع خوری سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔اسی طرح کھلی کچہری میں منشیات کی فروخت اور اس کے کاروبار سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا بھی فوری نوٹس لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو منشیات جیسی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے شراب خانوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد محض عوامی شکایات سننا نہیں بلکہ ان کے حل کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں کھلی کچہری کے دوران موصول ہونے والی تمام شکایات اور مسائل کی فہرستیں مرتب کرلی گئی ہیں، جنہیں حل کے لیے متعلقہ محکموں اور افسران کو ارسال کیا جائے گا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ ہر شکایت پر مقررہ وقت کے اندر عملی پیش رفت یقینی بنائیں اور اس حوالے سے رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو پیش کریں۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل اور شکایات براہِ راست انتظامیہ کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جاسکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/6938
کوئٹہ20 اگست:_بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتِ عالیہ بلوچستان میں نئے تعینات ہونے والے ایڈیشنل ججز کے اعزاز میں پروقار ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، عدالت عالیہ بلوچستان کے معزز ججز، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان لطیف کاکڑ، سروس ٹربیونل کے چیئرمین اکبر شاہ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عطا اللہ لانگو، سینئر وکلاء اور لا افسران نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے نئے تعینات ججز اور لا افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں وکلاء کا کردار ناگزیر ہے، جبکہ بار اور بینچ عدالتی نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ دونوں اداروں کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور اعتماد ہی مؤثر نظامِ انصاف کی ضمانت ہے۔چیف جسٹس نے عدالتوں میں غیر ضروری رش اور غیر متعلقہ افراد کی آمد سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صرف متعلقہ مقدمات سے وابستہ افراد ہی عدالتوں میں آئیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو غیر ضروری طور پر عدالت میں جمع کرنے کی مہم سے بھی اجتناب کیا جائے، کیونکہ اس سے نہ صرف عدالتی امور متاثر ہوتے ہیں بلکہ سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے وکلاء سے اپیل کی کہ عدالت کے سکیورٹی عملے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تعاون اور احترام سے پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکار وکلاء، ججز اور سائلین کی حفاظت کے لیے سخت حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جائے۔جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے بتایا کہ وکلاء اور سائلین کی سہولت کے لیے فیسلیٹیشن سینٹرز کو ون ونڈو سہولت میں تبدیل کرنے، خواتین کے لیے علیحدہ سہولیات فراہم کرنے اور ویڈیو لنک کی سہولت کو مزید وسعت دینے پر کام جاری ہے، جبکہ مارچ تک مزید ویڈیو لنک سہولت فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے بار روم، لائبریری اور وکلاء کے لیے دیگر سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بار قیادت کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عطا اللہ لانگو نے کہا کہ بار اور بینچ دونوں اپنی شاندار روایات کے پاسدار ہیں اور وکلاء انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور عدالتی وقار کے لیے عدلیہ کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے نئے تعینات ہونے والے تمام ایڈیشنل ججز، ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور لا افسران کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/6939
موسیٰ خیل20اگست:ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن بگٹی، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی سید امان شاہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ اور دیگر متعلقہ کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضلع بھر میں صحت کے شعبے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے امور پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ فرض شناس اور دیانتدار عملے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ فرائض سے غفلت برتنے والے غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں فوری طور پر منہا کی جائیں اور ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ حکام کو عزم کے ساتھ ہدایات دی گئیں کہ وہ اپنے دائرہ کار میں بہتری لائیں تاکہ ضلع کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر اور شفاف سہولیات بروقت میسر آ سکیں۔ خبر نامہ نمبر 2026/6940 موسیٰ خیل20اگست:ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ اور ASV شیر زمان نے تحصیل تویسر کی مختلف بنیادی مراکز صحت کا تفصیلی دورہ کیا جن میں نالی میردادزئی پائیو خان سلی اور شاہ نادر آباد واہ حسن خیل کا معائنہ کیا گیادورے کا مقصد بنیادی مراکزِ صحت میں ILR کی مینٹیننس، ویکسین اسٹاک، EPI سائٹ پر مانیٹرنگ چارٹس، پرماننٹ رجسٹر اور اسٹاک رجسٹر کا جائزہ لینا تھا۔ اس کے ساتھ جاری 16 روزہ آؤٹ ریچ سرگرمیوں کی بھی تفصیلی نگرانی کی گئی۔دورانِ دورہ فیلڈ میں ویکسینیٹرز کی حاضری اور فالو اَپ کا جائزہ لیا گیا اور ویکسینیشن کارڈز بھی چیک کیے گئے۔ ویکسینیٹرز کے ہمراہ مستقل طور پر ویکسینیشن سے انکار کرنے والے گھرانوں کا بھی دورہ کیا گیا۔ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ نے والدین کو بچوں کو جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت حفاظتی ویکسینیشن کی اہمیت اور فوائد کے بارے میں آگاہی فراہم کی والدین نے ویکسین کے بارے میں دی گئی آگاہی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آخر میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ویکسینیٹرز کو سختی سے ہدایت کی کہ 0 ڈوز بچوں کی نشاندہی کریں اور ان کا ریکارڈ مکمل اور بروقت اپڈیٹ رکھیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے.

خبر نامہ نمبر 2026/6941
ہیوسٹن20اگست:گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اپنے دورہ ہیوسٹن کے دوران جناح لائبریری کا خصوصی دورہ کیا جہاں معروف پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین تنویر احمد اور ڈاکٹر آصف قریر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان کو جناح لائبریری کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا گیا اور انہیں یہاں موجود کتابوں، علمی ذخیرے اور کمیونٹی کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
گورنر جعفر خان مندوخیل نے لائبریری میں کچھ وقت گزارا اور وہاں موجود کتابوں اور مجموعی سہولیات میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے علم، تعلیم اور نئی نسل کو اپنی تاریخ اور ثقافت سے جوڑنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے جناح لائبریری کے قیام اور اسے ایک مؤثر علمی و کمیونٹی پلیٹ فارم بنانے کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے تنویر احمد اور ڈاکٹر آصف قریر کی خدمات کو بھی سراہا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *