خبر نامہ نمبر8492/2026
کوئٹہ، یکم اکتوبر ۔ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری کے مثبت اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں عام شہریوں کے ساتھ اراکین صوبائی اسمبلی بھی سرکاری اسپتالوں سے علاج کرانے لگے ہیں۔ سول سنڈیمن پروانشنل اسپتال کوئٹہ کے شعبہ امراض قلب میں رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ کی کامیاب اینجیو پلاسٹی کی گئی۔ میر رحمت صالح بلوچ نے اسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیاری طبی سہولیات کی دستیابی سے بلوچستان کے عوام کو علاج کے لیے دیگر شہروں کا رخ کرنے کی تکلیف اور اضافی اخراجات سے نجات مل رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ہمراہ سول سنڈیمن پروانشنل اسپتال کا دورہ کیا اور زیر علاج رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کی عیادت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیر اعلیٰ نے میر رحمت صالح بلوچ کی صحت کے بارے میں ڈاکٹروں سے بھی معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے لکھا کہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد صوبے کے عوام کو علاج معالجے کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے سے نجات دلانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور علاج کے معیار میں بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے بڑے اسپتالوں میں ایسے طبی مراکز اور سہولیات دستیاب ہوں جہاں پیچیدہ امراض کا علاج بھی مقامی سطح پر ممکن بنایا جاسکے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے سرکاری اسپتالوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان کا ہر شہری اپنے صوبے میں بروقت اور معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہو اور اسے علاج کے لیے کوئٹہ یا صوبے سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری ایک مسلسل عمل ہے اور حکومت دستیاب وسائل کو عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں طبی آلات، تشخیصی سہولیات، ایمرجنسی سروسز اور مختلف امراض کے علاج کی استعداد میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ میر رحمت صالح بلوچ کی سول سنڈیمن پروانشنل اسپتال میں کامیاب اینجیو پلاسٹی اور وہاں علاج کے بعد ان کا اظہار اطمینان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8493/2026
گوادر یکم اکتوبر ۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے معروف سیاسی و سماجی شخصیت میر ارشد کلمتی اور مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سعید فیض نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک چائنا فرینڈشپ اسپتال کے انتظامی امور، طبی سہولیات اور شہریوں کو درپیش صحت عامہ کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں وفد نے اسپتال سے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی ریفر کیے جانے کے معاملے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے زور دیا کہ گوادر میں طبی سہولیات اور تشخیصی و علاج معالجے کی خدمات کو مزید بہتر اور موثر بنایا جائے، تاکہ مریضوں کو حتی الامکان مقامی سطح پر معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں وفد نے گوادر کے شہریوں کو درپیش دیگر عوامی مسائل اور بنیادی سہولیات سے متعلق امور بھی ڈی جی جی ڈی اے کے سامنے رکھے اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے وفد کے تحفظات اور تجاویز غور سے سنے اور متعلقہ امور کا جائزہ لے کر قواعد و ضوابط کے مطابق ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی ان کہنا تھا کہ گوادر میں صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری، شہریوں کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق ادارہ ترقیات گوادر مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ھے جن میں بہت سے منصوبے مکمل ھوئے ہیں جبکہ بہت سے منصوبوں پر کام تیزی جاری ھے جو جلد تکمیل کو پہنچا جائے گے ادارہ ترقیات گوادر کے مکمل ھونے والے منصوبوں سے عام لوگ مستفید ھورہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8493/2026
کوئٹہ یکم اکتوبر ۔ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کو جسمانی طور پر فٹ، صحت مند اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے ہمہ وقت تیار رکھنے کے عزم کے تحت بدر لائن ہیڈ کوارٹر میں فٹنس کلب کا افتتاح کر دیا گیا۔ فٹنس کلب کا افتتاح ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمانڈنٹ ڈی آئی جی پولیس محترمہ شہلا قریشی، ایس ایس پی ہیڈ کوارٹر کمال خان کبزئی، ونگ کمانڈرز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمانڈنٹ ڈی آئی جی پولیس محترمہ شہلا قریشی نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کی جسمانی فٹنس، صحت اور تندرستی ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا اہم حصہ ہے، اس لیے ان کی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فٹنس کلب کے ذریعے جوانوں کی جسمانی استعداد اور فٹنس کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی ذمہ داریاں مزید چوکسی، مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دینے کے قابل بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں بلوچستان کانسٹیبلری کی مختلف لائنز میں اسپورٹس گراونڈز اور فٹنس کلبز کو مزید وسعت دینے اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے لیے بہتر ماحول میسر ہو۔ انہوں نے ہفتہ وار بنیادوں پر کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد اور جوانوں کو کھیلوں میں بھرپور حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔محترمہ شہلا قریشی نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے جوانوں کے بچوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول میں معاونت حاصل ہو۔انہوں نے لائنز میں صفائی ستھرائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لائنز، میس اور کینٹین میں صفائی ستھرائی، حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی اور معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صفائی، خوراک کے معیار، فٹنس اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوان صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کی جسمانی فٹنس اور صحت کو بہتر بنانا ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کو جدید فٹنس اور کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوان ہر قسم کی ڈیوٹی کے لیے جسمانی اور پیشہ ورانہ طور پر مکمل طور پر تیار رہیں۔تقریب کے اختتام پر افسران نے فٹنس کلب کی مختلف سہولیات کا جائزہ لیا اور جوانوں کے لیے فراہم کردہ فٹنس و کھیلوں کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8494/2026
اورماڑہ یکم اکتوبر: رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ضلع گوادر میں میگا سولرائزیشن منصوبے کے تحت جامعہ عربیہ دارالتوحید، اورماڑہ میں سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کردیا ہے منصوبہ محکمہ توانائی، حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام مکمل کیا جارہا ہے، جس کا مقصد تعلیمی و دینی اداروں کو شمسی توانائی کی سہولت فراہم کرکے بجلی کے مسائل میں کمی لانا اور متبادل توانائی کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ شمسی توانائی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دے کر بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بھی ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔محکمہ توانائی حکومت بلوچستان کے میگا سولرائزیشن پروگرام کے تحت ضلع گوادر میں مختلف اداروں کو شمسی توانائی کی سہولت فراہم کرنے کا عمل جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8495/2026
اورماڑہ یکم اکتوبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے شہر کی مختلف مارکیٹوں میں دکانوں کا اچانک معائنہ کیا اور زائدالمیعاد و ناقابلِ استعمال اشیاء کی فروخت پر سخت برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاءکے معیار اور میعاد کا تفصیلی جائزہ لیا معائنے کے دوران متعدد دکانوں سے زائدالمیعاد اور ناقابلِ استعمال اشیاء بڑی مقدار میں برآمد کرکے ضبط کرلی گئیں، جن میں شیمپو، صابن، ہیئر آئل، باڈی لوشن اور مختلف اشیائے خورونوش شامل ہیں۔ اس موقع پر بعض مصنوعات پر انتہائی پرانی، 2010، 2015 اور 2016 کی زائدالمیعاد تاریخیں بھی درج پائی گئیںاسسٹنٹ کمشنر نے زائدالمیعاد اشیاء کی فروخت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہریوں کی صحت اور زندگی سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زائدالمیعاد یا غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ عوام کو مضرِ صحت اور زائدالمیعاد اشیاء کی فراہمی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ بازاروں میں مسلسل اور اچانک معائنوں کا سلسلہ مزید موثر بنایا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی صحت کے حقوق اور محفوظ اشیاء کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8496/2026
گوادر/ کلانچ یکم اکتوبر ۔ حکومتِ بلوچستان کی تعلیم دوست پالیسی اور طلبہ کو معیاری و جدید تعلیم کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کے تحت گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول بل ہڈوکی، کلانچ میں جدید تدریسی نظام متعارف کرادیا گیا، جہاں طلبہ کو پروجیکٹر اور بڑی اسکرین کے ذریعے تدریسی عمل سے روشناس کرایا جا رہا ہے اس اقدام کے تحت اسکول میں ملٹی میڈیا بیسڈ تدریس کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے طلبہ کو روایتی طریقہ تدریس کے ساتھ جدید اور بصری انداز میں تعلیمی مواد تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس حوالے سے اسکول کے ہیڈماسٹر قرار عمر کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں اس موقع پر اسکول انتظامیہ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل کا حصہ بنانے کا مقصد طلبہ کی تعلیمی استعداد، تخلیقی صلاحیتوں اور سیکھنے کے عمل کو مزید موثر بنانا ہے۔ بغیر کسی سرکاری مالی معاونت کے مکمل ہونے والا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیمی ادارے، اساتذہ اور معاشرے کے باشعور افراد مشترکہ کاوشوں سے طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول تشکیل دے سکتے ہیں حکومت بلوچستان کی جانب سے معیاری تعلیم، جدید تدریسی سہولیات اور نوجوان نسل کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول بل ہڈوکی کلانچ میں جدید تدریسی نظام کا آغاز بھی اسی تعلیمی وژن کی عملی مثال ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8497/2026
اورماڑہ یکم اکتوبر ۔ رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت کی زیرِ صدارت تحصیلدار آفس اورماڑہ میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، بلدیاتی نمائندگان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں انتظامی امور، عوامی مسائل اور جاری ترقیاتی و فلاحی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بلدیاتی سہولیات اور ماہی گیری کے شعبے کے فروغ سمیت دیگر اہم عوامی امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے مختلف محکموں کے افسران سے ان کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بریفنگ لی اور ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احساسِ ذمہ داری اور خلوصِ نیت سے انجام دی جائیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے انتظامی امور، عوامی سہولیات اور مختلف محکموں کی کارکردگی سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی، جبکہ دیگر افسران نے اپنے اپنے محکموں کی پیش رفت اور درپیش مسائل سے اجلاس کوآگاہ کیا بعدازاں مولانا ہدایت الرحمٰن نے میونسپل کمیٹی اورماڑہ کا دورہ کیا اور چیئرمین محفوظ بلوچ سے ملاقات کی بلدیات امور اور جاری کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے نادرا آفس کا بھی دورہ کیا اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8498/2026
گوادر یکم اکتوبر ۔ صوبائی حکومت بلوچستان کی ماحولیاتی بہتری، شجرکاری کے فروغ اور شہری علاقوں کو سرسبز و خوبصورت بنانے کی پالیسی کے تحت ادارہ ترقیات گوادر (GDA) کے زیرِ نگرانی شہر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، گرین بیلٹس کی بحالی اور سبزہ کاری کا عمل جاری ہے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی ہدایت پر شعبہ باغبانی کے افسر حمل دشتی کی نگرانی میں شہر کی مختلف شاہراہوں کے میڈینز، گرین بیلٹس، ساحلی مقامات، عوامی مقامات اور کھیلوں کے میدانوں میں موجود پودوں اور سبزہ زاروں کی باقاعدہ نگہداشت کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد گوادر کو جدید ترقیاتی شہر کے ساتھ ساتھ صاف، سرسبز، خوبصورت اور ماحول دوست شہر کے طور پر فروغ دینا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8499/2026
پسنی یکم اکتوبر ۔: اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے پسنی شہر کو پانی کی فراہمی کے لیے قائم مین واٹر سپلائی پائپ لائن میں لیکیج کی مرمت کے جاری کام کا موقع پر جا کر معائنہ کیا۔اس موقع پر ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) نواز نے اسسٹنٹ کمشنر پسنی کو جاری مرمتی کام، پیش رفت اور پائپ لائن کی بحالی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے متعلقہ حکام اور عملے کو ہدایت کی کہ مین واٹر سپلائی پائپ لائن کی لیکیج کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کیا جائے، تاکہ پسنی شہر میں پانی کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مرمتی کام کے دوران معیار اور مقررہ تکنیکی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8500/2026
جعفرآباد یکم اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا نے شہر کے مختلف پیٹرول پمپس کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران پیٹرول کی دستیابی، پیمائش و گیج، مقررہ نرخنامے اور نرخوں کی نمایاں آویزاں سمیت دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت جاری کردہ ٹوکنز اور متعلقہ ریکارڈ بھی چیک کیا اور پمپ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اسکیم کے تحت مستحق شہریوں کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ ٹوکنز اور ریکارڈ میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے پیٹرول پمپس پر پیمائش کے نظام اور ریکارڈ کا بھی معائنہ کیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام کو مقررہ نرخوں کے مطابق معیاری اور درست مقدار میں پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرا نے واضح کیا کہ پیٹرول پمپس پر نرخنامہ نمایاں طور پر آویزاں رکھنا، درست پیمائش، مقررہ نرخوں کی پابندی اور وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم پر شفاف طریقہ کار کے تحت عملدرآمد لازمی ہے، کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور پیٹرول پمپس کی نگرانی کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو مقررہ نرخوں پر معیاری اور درست مقدار میں پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8501/2026
اورماڑہ یکم اکتوبر ۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ سے صدر انجمن ماہی گیران بنڈی شمبک اور مقامی ماہی گیروں نے ملاقات کی، جہاں ماہی گیروں نے انہیں درپیش مسائل، روزگار سے متعلق مشکلات اور بنیادی ضروریات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر مقامی ماہی گیروں کے لیے گودی (جیٹی) کی تعمیر کی تجویز بھی پیش کی گئی، جس سے ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کو اپنی معاشی سرگرمیوں میں درپیش مشکلات کے ازالے اور سہولیات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے رکن صوبائی اسمبلی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اورماڑہ کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ماہی گیروں کے مسائل کے حل، انتظامی امور میں بہتری اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مو¿ثر اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا عملی اور دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8502/2026
بارکھان/رکنی، یکم اکتوبر ۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان بہادر شاہ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول رکنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کلسٹر کے تحت فراہم کیے گئے سامان کے معیار، مقدار اور کوالٹی کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر سکول کے ہیڈ ماسٹر حاجی محمد صدیق کھیتران نے ڈی ای او بہادر شاہ کو کلسٹر کے تحت فراہم کیے گئے سامان سے متعلق بریفنگ دی اور مختلف اشیاء کا معائنہ کرایا۔ ڈی ای او نے سامان کے معیار اور مقدار کا جائزہ لیتے ہوئے اسے تسلی بخش قرار دیا اور سکول انتظامیہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شاباش دی۔دورے کے دوران ڈی ای او بہادر شاہ نے طلبہ میں سکول یونیفارم بھی تقسیم کیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام کلسٹر سکولوں کو ضروری سامان کی فراہمی کا عمل بروقت مکمل کیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں کی ضروریات پوری ہوں اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔ڈی ای او بہادر شاہ نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی ماحول کی بہتری، طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور کلسٹر سامان کی شفاف و بروقت تقسیم محکمہ تعلیم کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8503/2026
کوئٹہ یکم اکتوبر ۔۔ بدر لائن ہیڈ کوارٹر بلوچستان کانسٹیبلری میں فٹنس کلب کے افتتاح کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد کو اسپورٹس انچارج عبدالرحمٰن یادگاری شیلڈ دے رہے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمانڈنٹ ڈی آئی جی پی/پی ایس پی محترمہ شہلا قریشی اور ایس پی ہیڈکوارٹر بلوچستان کانسٹیبلری کمال خان کبزئی بھی موجود ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8504/2026
گوادریکم اکتوبر ۔ رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں گوادر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سربندر میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی کاموں اور شہر کی صفائی و خوبصورتی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر میونسپل ونگ یحییٰ واڈیلہ اور ایم پی اے کے پی اے وسیم صمد بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران گوادر کے اولڈ ٹاون میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ سربندر میں مجوزہ و جاری منصوبوں، جن میں لنک روڈ کی مزید تعمیر و توسیع، کازوے کی تعمیر اور فش لینڈنگ جیٹی سے متعلق الائیڈ ورکس سمیت دیگر ترقیاتی کام شامل ہیں، پر بھی گفتگو ہوئی۔مولانا ہدایت الرحمن نے گوادر شہر کے داخلی راستے سید ظہور شاہ ہاشمی روڈ ( ایئرپورٹ روڈ )، بالخصوص گھٹی ڈھور کے مقام پر صفائی اور تزئین و آرائش کے موثر انتظامات کرنے پر زور دیا، تاکہ شہر میں داخل ہونے والے شہریوں اور سیاحوں کو ایک صاف ستھرا اور خوبصورت منظر پیش کیا جا سکے۔ملاقات میں شہری صفائی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے جی ڈی اے کے پاس موجود سوئپنگ مشین کو میونسپل کمیٹی گوادر کے زیر استعمال لانے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے کے لیے متعلقہ افسران ضروری اقدامات کریں گے، تاکہ شہر کی اہم شاہراہوں، سڑکوں، چوکوں اور دیگر عوامی مقامات کی صفائی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8505/2026
پسنی یکم اکتوبر ۔: اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) پسنی کے ہمراہ گرانی، چربندر واٹر سپلائی اسکیم (WSS) کا موقع پر جا کر فزیکل معائنہ کیا۔دورے کے دوران PSDP کے تحت جاری Restoration of WSS Gurhani, Churbander, Pasni اسکیم کے تحت مکمل کیے گئے مختلف ترقیاتی و بحالی کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسکیم کے تحت انجام دیے گئے کاموں کا موقع پر معائنہ کیا گیا، جو مجموعی طور پر مکمل اور تسلی بخش پائے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے اسکیم کی تکمیل، بحالی کے کاموں اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلات دریافت کیں۔ اس موقع پر ایس ڈی او پی ایچ ای پسنی نے اسکیم کے مختلف اجزاء، مکمل کیے گئے کاموں اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے ہدایت کی کہ واٹر سپلائی اسکیم کو مو¿ثر طور پر فعال رکھنے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8506/2026
قلات یکم اکتوبر ۔ میں کرکٹ کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں قلات سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کا شاندار افتتاح12 فرنچائزز کے لیے تیار کردہ یونیفارمز کی تقریب رونمائی ڈسٹرکٹ کونسل ہال قلات میں منعقد ہوئی تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری تھیں۔ تقریب میں ٹینس بال کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر وحید مینگل، حاجی خیر جان شاہوانی، عزیز مینگل، حاجی نسیم شاہوانی، جاوید چوہدری، قیوم چنگیز، حفیظ مینگل، کیپٹن یحییٰ، جبار دہوار،مقبول گل محمدشہی میر احمد لانگو یاسرزہری نبی بخش انجم سمیت کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ کھیل نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینے، صحت مند معاشرے کے قیام اور نوجوان نسل میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور برداشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قلات کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، جسے مناسب مواقع اور سہولیات فراہم کرکے ملکی سطح پر اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کے فروغ اور مقامی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے قلات سپر لیگ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے منتظمین اور کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ٹورنامنٹ کے آرگنائزر سلیم کیف کی جانب سے 12 فرنچائزز کے لیے تیار کردہ یونیفارمز ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے فرنچائزز کے مالکان کے حوالے کیے۔تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد اور تمام ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 8517/026
کوئٹہ، یکم اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں مقررہ وزن کے مطابق روٹی کی فروخت یقینی بنانے اور عوام کو مقررہ وزن میں روٹی کی فراہمی کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر کی نگرانی میں قمبرانی روڈ اور ہزارگنجی کے مختلف علاقوں میں تندوروں کی چیکنگ کی گئی۔کارروائی کے دوران تندوروں پر فروخت ہونے والی روٹی کا وزن چیک کیا گیا، جس کے دوران متعدد تندوروں پر مقررہ وزن سے کم روٹی فروخت کیے جانے کی خلاف ورزی سامنے آئی۔انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے مقررہ وزن سے کم روٹی فروخت کرنے پر 10 تندور مالکان و متعلقہ افراد کو گرفتار کر لیا،جبکہ تندور مالکان کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ عوام کو مقررہ وزن کے مطابق روٹی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے کہا کہ شہریوں کو مقررہ وزن اور مقررہ نرخ کے مطابق روٹی کی فراہمی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے تندور مالکان کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ معیار اور وزن کی پابندی کریں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ کے مقررہ نرخ و معیار پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 8518/026
چمن یکم اکتوبر 2026ء:
اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کے ہمراہ کیڈٹ کالج چمن کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف عمارتوں، سیکشنز اور جاری و مکمل ہونے والے ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر کالج انتظامیہ، اے ڈی سی چمن، محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے افسران اور متعلقہ حکام نے جاری کاموں، پیش رفت اور تعمیراتی معیار کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے تعمیراتی کاموں کے معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر چمن نے منصوبوں کی نگرانی اور پیش رفت سے متعلق اسپیکر کو آگاہ کیا۔
خبرنامہ نمبر8519/026
چمن یکم اکتوبر 2026
اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے چمن شہر میں مکمل ہونے والے مختلف بلیک ٹاپ روڈ منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ANF-1 کے قریب تعمیر ہونے والی سڑک (BSDI Phase-II)، سپین چوک روڈ اور عیسیٰ خان گراؤنڈ روڈ کا جائزہ لیا اور منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے منصوبوں کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی، مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر ہوگا اور شہر میں تجارتی و شہری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خبرنامہ نمبر8520/026
گوادر۔ یکم اکتوبر
کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد نے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان سے ملاقات کی اور ایک اہم اجلاس کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔ اجلاس میں گوادر اور پسنی میں پانی کی فراہمی کی موجودہ صورتحال، اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، نکاسی آب کے نظام اور اراضی کی منتقلی و دیگر ریونیو معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ میردودا خان مری اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر مکران کو جی ڈی اے کے جاری و مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت شہر میں بنیادی شہری سہولیات کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت شہر کی تقریباً 25 کلومیٹر طویل شاہراہوں اور اسی نوعیت کی گلیوں اور اندرونی سڑکوں کی تعمیر، توسیع اور پختگی کے کام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملا فاضل چوک، سڑکوں اور گلیوں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب، بازاروں، تعلیمی اداروں، قبرستانوں، قدیم ثقافتی ورثے اور عیدگاہ کی تعمیر، توسیع اور بحالی کے مختلف کام بھی مکمل کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں گوادر شہر اور پسنی کو پانی کی فراہمی کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ چیف انجینیئر جی ڈی اے نے بتایا کہ گوادر شہر میں اس وقت یومیہ تقریباً 35 سے 40 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے سوڈ ڈیم، جو ، بنیادی ذرائع میں شامل ہے خشک ہونے کے قریب ہے، جبکہ متبادل انتظام کے طور پر شادی کور ڈیم سے بھی پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں پانی کے دستیاب ذخائر، بارشوں کی غیر یقینی صورتحال اور مستقبل میں ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر مکران نے ہدایت کی کہ پانی کی دستیابی اور طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے شہریوں کو پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھیں۔
کمشنر مکران نے پسنی میں پانی کی فراہمی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور جی ڈی اے اور پسنی کے درمیان پانی کی ترسیل سے متعلق لائن اور انتظامی امور میں موجود مسائل و ابہام کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ضلعی انتظامیہ، تحصیل انتظامیہ اور جی ڈی اے پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام اور فعال کردار کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا، تاکہ پانی کی فراہمی کے نظام کو باقاعدہ، مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے باہمی تعاون اور مسلسل رابطے کے ذریعے پانی کی ترسیل سے متعلق مسائل حل کریں گے، تاکہ گوادر اور پسنی کے شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔اجلاس کے دوران جی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان اراضی سے متعلق امور، ریونیو معاملات، زمینوں کی منتقلی اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار اراضی کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں حائل اراضی سے متعلق مسائل کو سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کی گائیڈ لائنز کے مطابق اور باہمی مشاورت اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے گا، جبکہ جی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے شہر کی ترقی کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی، عمل درآمد، نگرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مسلسل جاری رکھا جائے۔
خبرنامہ نمبر8521/026
ہرنائی::: تحصیل ہرنائی کے گاؤں قلات غواژہ اور اس کے گرد و نواح میں چکن پاکس (لاکڑا کاکڑا)، جلدی انفیکشن اور خسرہ کے مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی (PPHI) کی مشترکہ ہنگامی ٹیم نے متاثرہ علاقے کا تفصیلی دورہ کیا۔ ماہرین کی ٹیم نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے درجنوں مریضوں کا معائنہ کیا، مفت ادویات فراہم کیں اور بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا اور علاقے کے معززین کی جانب سے بخار اور جسم پر دانے نکلنے کے کیسز کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل کی ہدایت پر ڈزیز سرویلنس آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ اور ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ہرنائی جناب عالمگیر خان اچکزئی پر مشتمل ٹیم نے قلات غواژہ کا دورہ کیا۔
فیلڈ انوسٹی گیشن کے دوران درج ذیل کیسز کی تصدیق اور نشاندہی کی گئی ۔چکن پاکس (لاکڑا کاکڑا) کل 57 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں اکثریت 3 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی ہے۔امپیٹیگو (جلدی انفیکشن) خارش کرنے کی وجہ سے 10 سال سے کم عمر کے 15 بچوں کے دانوں میں ثانوی بیکٹیریل انفیکشن (امپیٹیگو) کی تصدیق ہوئی۔ 5 سال سے کم عمر کے 02 بچوں میں خسرہ کی علامات پائی گئیں، جن کی مزید نگرانی کی جا رہی ہے۔
طبی ٹیم نے تمام 57 متاثرہ بچوں کا طبی معائنہ کیا اور بخار، خارش اور دانوں کی سوزش کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامائن، پیراسیٹامول اور کیلامائن لوشن مفت فراہم کیے۔ اس کے علاوہ جلدی انفیکشن کا شکار 15 بچوں کو اینٹی بائیوٹک مہملاں (Ointments) اور صفائی کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی گئیں۔ہیلتھ ٹیم نے علاقے کے معززین، مباؤں اور بچوں کے ساتھ ایک خصوصی آگاہی نشست کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر زاہد اللہ اور عالمگیر خان اچکزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چکن پاکس کے مریض بچوں کو دانوں کے خشک ہونے تک (کم از کم 5 سے 7 دن) گھروں میں قرنطینہ (Isolation) میں رکھا جائے۔متاثرہ بچے صحت یابی تک اسکول یا مدرسے نہ جائیں تاکہ دیگر بچے اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔بچوں کے ناخن چھوٹے رکھے جائیں تاکہ خارش کی وجہ سے جلد پر زخم نہ بنیں اور انفیکشن نہ پھیلے۔
ذاتی صفائی اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کا خاص خیال رکھا جائے۔علاقے میں بخار یا جسم پر دانوں کی کوئی بھی نئی علامت ظاہر ہونے پر فوری طور پر ہیلتھ حکام کو اطلاع دی جائے۔محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور متاثرہ علاقے کی مسلسل سرویلنس (نگرانی) کی جا رہی ہے۔ مقامی آبادی کے تعاون سے بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔
خبرنامہ نمبر8523/026
لورالائی:ایکم اکتوبر 2026 ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے بریگیڈیئر نغمان نزیر کے ہمراہ یونیورسٹی آف لورالائی میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت زیرِ تعمیر جدید آئی ٹی ہب کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر میجر کامران، ایکسین بلڈنگز محمد نعیم، وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی کے پی ایس او خالد خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران محکمہ بلڈنگز اینڈ روڈز (B&R) کے انجینئر نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں، تعمیراتی پیش رفت اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی آف لورالائی میں BSDI کے تحت جدید سہولیات سے آراستہ آئی ٹی ہب تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں طلبہ و طالبات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق جدید سہولیات اور سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ منصوبے کی تکمیل سے یونیورسٹی کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لرننگ اور آئی ٹی کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے میں مدد ملے گی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید آئی ٹی ہب کا قیام نوجوان نسل کو جدیدٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے بہتر مواقع فراہم کرے گا، جس سے ان کی تعلیمی، فنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید نکھار آئے گاڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تعمیراتی کام کو مقررہ مدت کے اندر تیز رفتاری، شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا اور منصوبوں کی تعمیراتی پیش رفت اور معیار کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی مفاد کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کر رہی ہے تاکہ سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور منصوبے مقررہ معیار اور مدت کے مطابق مکمل ہوں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی غفلت، تاخیر یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8524/026
لورالائی میں ریونیو کورٹ کا انعقاد، اراضی و ریونیو معاملات پر شہریوں کی سماعت، فوری حل کی ہدایات
لورالائی:ایکم اکتوبر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ریونیو کورٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں کی جانب سے پیش کیے گئے اراضی اور دیگر ریونیو سے متعلق مسائل کی سماعت کی گئی۔ ریونیو کورٹ کا مقصد شہریوں کو ان کے ریونیو معاملات کے حل کے لیے بروقت ریلیف اور مؤثر فورم فراہم کرنا ہےریونیو کورٹ کے دوران شہریوں کی جانب سے اراضی ریکارڈ، انتقالات، حد بندی، وراثتی معاملات، ملکیتی حقوق، فرد کے اجرا اور دیگر ریونیو امور سے متعلق درخواستیں اور شکایات پیش کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ریکارڈ اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ ریونیو افسران اور اہلکاروں سے مختلف معاملات پر وضاحتیں طلب کیں اور قانون و قواعد کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے متعلقہ ریونیو حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کے مسائل کو غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہونے دیا جائے اور تمام درخواستوں پر میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے بچانے اور ان کے جائز مسائل کے فوری حل کے لیے ریونیو معاملات میں مؤثر نگرانی ضروری ہےانہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا اور ریونیو سے متعلق معاملات کو مقررہ قوانین اور ضابطہ کار کے تحت نمٹایا جائے گا۔ انہوں نے ریونیو عملے کو ہدایت کی کہ ریکارڈ کی درستگی، بروقت انتقالات، حد بندی اور دیگر متعلقہ امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےاس موقع پر شہریوں نے ریونیو کورٹ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے بعض معاملات پر موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں جبکہ دیگر درخواستوں پر قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ریونیو کورٹ کے انعقاد کا سلسلہ عوامی شکایات کے ازالے، ریونیو معاملات میں شفافیت، سرکاری ریکارڈ کی درستگی اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر مؤثر انتظامی ریلیف کی فراہمی کے لیے جاری رکھا جائے گاانتظامیہ نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے ریونیو معاملات سے متعلق درخواستیں اور دستاویزات مقررہ طریقہ کار کے مطابق متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔
خبرنامہ نمبر8525/026
دُکی:ایکم اکتوبر 2026
ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے ضلع کے مختلف مراکزِ صحت کا تفصیلی دورہ کیا اور طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور ادویات کی دستیابی کا جائزہ لیا
اسسٹنٹ کمشنر نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دُکی، بی ایچ یو کلی علی محمد اور بی ایچ یو کلی محمد خان کا دورہ کیا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے معائنے کے دوران انہوں نے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی حاضری چیک کی، جبکہ ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت زیرِ تعمیر آپریشن تھیٹر کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کا کام مقررہ معیار اور ضوابط کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکےبعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر نے بی ایچ یو کلی علی محمد اور بی ایچ یو کلی محمد خان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی و دیگر عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی ستھرائی اور دستیاب ادویات کے اسٹاک کا جائزہ لیااسسٹنٹ کمشنر فتح خان بنگلزئی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ تمام مراکزِ صحت میں ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی بروقت اور باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے، ادویات کی دستیابی برقرار رکھی جائے اور مریضوں کو معیاری، بروقت اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی، سرکاری مراکزِ صحت کی کارکردگی میں بہتری اور طبی اداروں میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے مسلسل نگرانی جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر8426/026
کوئٹہ، یکم اکتوبر: صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف آف پبلک ایڈمنسٹریشن (NIPA) کوئٹہ میں 47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس (MCMC) کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ سرکاری افسران ریاستی نظام کے اہم ستون ہیں، ان کی پیشہ ورانہ تربیت، انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ اور جدید طرزِ حکمرانی سے آگاہی بہتر عوامی خدمت اور موثر گورننس کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی ادارے افسران کی قائدانہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر علی رضا شاہ نے ادارے کے کردار، تربیتی پروگرامز اور افسران کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کامیابی سے مکمل کرنے والے 27 افسران میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
خبرنامہ نمبر8527/026
کوئٹہ، یکم اکتوبر2026:* چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے محکمہ تعلیم بلوچستان کو متعلقہ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں یونینز و ایسوسی ایشنز کے نام پر موجود غیر مجاز قابضین سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جناب جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران الحسینی بنام سیکریٹری تعلیم (اسکولز) بلوچستان و دیگر سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (اسکولز) کوئٹہ میں یونینز اور ایسوسی ایشنز کے نام پر موجود تمام غیر مجاز قابضین کو بے دخل کر دیا گیا ہے اور اس وقت کوئی غیر مجاز شخص مذکورہ عمارت کے احاطے میں قابض نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے سرکاری مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے رپورٹ کے ساتھ تصویری ثبوت بھی پیش کیے جائیں۔ جس پر عدالت نے دونوں فریقین کو یکساں نوعیت کی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
معزز عدالت نے ڈائریکٹر اسکولز ایجوکیشن بلوچستان کو سیکریٹری تعلیم (اسکولز) کی براہِ راست نگرانی میں بلوچستان بھر کے تمام ضلعی تعلیمی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں یونینز و ایسوسی ایشنز کے نام پر موجود تمام غیر مجاز قابضین کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
معززعدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد کے دوران کسی غیر ضروری یا بلاجواز مزاحمت کا سامنا ہو تو متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا جائے، جو عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے ہر قسم کی ضروری معاونت فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔
معزز عدالت نے حکم نامہ کی کاپی اطلاع اور تعمیل کے لیے ایڈیشنل اے جی جنرل افس بھجوانے کی بھی تاکید کی اور کیس کی آئندہ سماعت 3 نومبر 2026 کو مقرر کردی۔
خبرنامہ نمبر8428/026
کوئٹہ، یکم اکتوبر: خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے میں ان کے فعال کردار کے فروغ کے حوالے سے لیڈیز کلب کوئٹہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا حکومت بلوچستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، خواتین کو تعلیم، ہنر اور بہتر مواقع کی فراہمی سے انہیں معاشی و سماجی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے اور حکومت ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین اور گرلز گائیڈز بلوچستان کی طالبات میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے اور ان کی خدمات و صلاحیتوں کو سراہا۔
خبرنامہ نمبر8430/026
کراچی یکم اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بزرگوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بزرگ شہری ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ اور ہماری اجتماعی دانش، تجربے اور تہذیبی ورثے کے امین ہیں۔ ان کی زندگی بھر کی محنت، بصیرت اور تجربات آنے والی نسلوں کیلئے فکری رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ اپنے بزرگوں کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ ان کے وقار، حقوق اور ضروریات کا احترام کرتے ہوئے انہیں معاشرے کا فعال اور قابلِ قدر حصہ بناتا ہے۔ ہماری قومی اقدار اور روایات بھی بزرگوں کے احترام، خدمت اور نگہداشت کا درس دیتی ہیں۔ عام طور پر عمر کے آخری حصے میں یا بزرگ شہریوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی عدم تحفظ، صحت کے مسائل اور سماجی تنہائی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کیلئے معیاری طبی سہولیات، سماجی تحفظ، باعزت زندگی اور بنیادی خدمات تک مساوی رسائی یقینی بنانا حکومت، معاشرے اور ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تعلیمی اداروں، کمیونٹی مراکز اور مختلف سماجی پلیٹ فارمز پر ایسے پروگرامز منعقد کیے جانے چاہئیں جہاں بزرگ اپنے تجربات، علم اور زندگی کی بصیرت نوجوان نسل کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ اس طرح نسلوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوگا اور بزرگوں کا قیمتی تجربہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوگا۔ نوجوان اپنے بزرگوں کے تجربات اور مشاہدات سے سیکھیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کی عزت و تکریم کو اپنی سماجی ذمہ داری سمجھیں۔ بزرگ ہماری ماضی کی یاد نہیں بلکہ ہمارے حال کی رہنمائی اور مستقبل کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ بزرگوں کا احترام محض ایک روایت نہیں بلکہ ہماری اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ ان کی عزت، نگہداشت اور فلاح کو یقینی بنا کر ہم نہ صرف اپنی اقدار کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں جہاں ہر عمر کے فرد کو وقار، تحفظ اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔
خبرنامہ نمبر8431/026
کوئٹہ، 29 ستمبر 2026: زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔سماعت کے دوران کمیشن نے متعدد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ اس موقع پر کمیشن کے احکامات کی روشنی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر دہشت گردی کے حملے کے بعد سے اب تک کیے گئے اقدامات اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کے خلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جعلی خبروں کے پھیلاؤ میں ملوث متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیا جا چکا ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید کارروائی بھی جاری ہے۔
دریں اثنا، ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے بھی کمیشن کے سامنے اپنے جوابات جمع کرا دیے۔کمیشن نے سماعت کے دوران پیش کیے گئے بیانات اور رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔
خبرنامہ نمبر 8432/026
چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیرِ صدارت صوبائی انتظامی سیکرٹریز کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی حکومت کے انتظامی، مالی، ترقیاتی اور عوامی خدمت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین سی ایم آئی ٹی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی، سیکرٹری خزانہ سمیت انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں مختلف محکموں کی جانب سے دی گئی ہدایات کی پیش رفت اور حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ سرکاری احکامات پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد ہی بہتر حکمرانی کی بنیادی علامت ہے، اس لیے تمام محکمے اپنی کارکردگی، اہداف اور نتائج سے متعلق قابلِ تصدیق پیش رفت یقینی بنائیں۔ اجلاس میں عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ شہریوں کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور شکایات کے اندراج، کارروائی اور حتمی حل کا مؤثر ریکارڈ مرتب کیا جائے تاکہ عوام کو سرکاری اداروں سے فوری اور شفاف ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت میں تاخیر نہ ہوں۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید اور شفاف نظام کے تحت تعیناتی کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کا مقصد میرٹ، مساوی مواقع اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے، اس نظام کے ذریعے امیدواروں کی اہلیت، تعلیمی قابلیت، تجربے اور دیگر مقررہ معیار کا غیر جانب دارانہ انداز میں جائزہ لیا جائے گا، جبکہ انسانی مداخلت کے امکانات کو کم سے کم رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک نہ ہو۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ تمام مراحل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیے جائیں اور ہر حقدار امیدوار کو اس کا جائز حق دیا جائے۔ اس اقدام سے بھرتیوں کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور اعتماد کو فروغ ملے گا، عوامی شکایات میں کمی آئے گی اور صوبائی حکومت پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری گاڑیوں اور دیگر اثاثہ جات کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ اجلاس میں صوبائی محکموں کے زیرِ انتظام ڈیٹا بیسز، ان کے باہمی انضمام اور فیصلہ سازی کے لیے ڈیٹا کے مؤثر استعمال پر بھی غور کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لیے درست، بروقت اور مربوط معلومات ناگزیر ہیں، اس لیے تمام محکمے اپنے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ رکھیں اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفاف و تیز رفتار فیصلہ سازی کو فروغ دیں۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے زیرِ التوا عدالتی و قانونی مقدمات، سرکاری اکاؤنٹس کی تفویض اور خودمختار اداروں سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ متعلقہ سیکرٹریز کو ہدایت کی گئی کہ قانونی معاملات میں مؤثر پیروی، سرکاری مفادات کا تحفظ اور مالیاتی نظم و ضبط ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، شفاف انتظامیہ، میرٹ پر مبنی نظام اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی میں بہتری، فیلڈ مانیٹرنگ، عوامی شکایات کے فوری ازالے اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر8433/026
تربت (یکم اکتوبر 2026) جامعہ تربت کے فیمیل اسٹوڈنٹس لائژن آفس نے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے زیر اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اینٹی ہراسمنٹ پالیسی پر ایک آگاہی سیشن کا انعقاد کیا۔ اس سیشن کا بنیادی مقصد کیمپس میں تمام طلبہ کے لیے ایک محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ سیشن کے دوران شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن اور فیمیل اسٹوڈنٹس لائژن آفس کی فوکل پرسن محترمہ رقیہ میروانی نے ایچ ای سی پالیسی اور جامعہ تربت میں اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے طالبات کو تفصیل سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ہراسمنٹ کی تعریف، طلبہ کے آئینی و تعلیمی حقوق، ان کی ذمہ داریوں اور شکایات درج کرانے کے باضابطہ طریقہ کار پر سیرحاصل روشنی ڈالی۔ سیشن میں طالبات نے بھرپور شرکت کرکے پالیسی کے اطلاق و سیفٹی اقدامات سے متعلق سوالات کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فوکل پرسن نے کہا کہ جامعہ تربت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں ایچ ای سی کی اینٹی ہراسمنٹ پالیسی پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات کو پرامن اور باوقار تعلیمی ماحول کی فراہمی یونیورسٹی کی اولین ترجیح ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8434
کراچی1اکتوبر:ـچیف منسٹر بلوچستان ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت کراچی میں کیو ٹیکنالوجیز کے شراکت سے بلوچستان سے اس پروگرام کے تحت پہلے بیج کے منتخب نوجوانوں کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی۔تقریب سے سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور بلوچستان صالح محمد ناصر۔ایم ڈی بی ٹیوٹا بلوچستان عبدالکبیر خان زرکون۔ڈی جی نیوٹیک سندھ فدا محمد خان بازئی۔کیوٹیکنالوجیز کے بورڈ آف ڈائریکٹر سید واجہ الدین اور دیگر مقرین نے شرکت کی۔تقریب سے سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور صالح محمد ناصرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی۔اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کے وژن کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کو با اختیار بنانے اور انھیں روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا۔جس سے بلوچستان کے نوجوان میں ترقی اور خوشحالی آئیگی۔دیگر مقرین نے کہا کہ یہ پروگرام نوجوان نسل کے لیے روشن مستقبل کی جانب پہلا قدم ہے جوکہ انشاءاللہ مستقبل میں بھی جاری و ساری رہیگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8435
بارکھان1اکتوبر: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کا ایک اہم پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، محکموں کی کارکردگی، مالیاتی امور اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام محکموں کے سربراہان نے شرکت کی اور اپنے اپنے محکموں کی گزشتہ دو ماہ کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، مالیاتی اخراجات، مقررہ اہداف اور حاصل کردہ کامیابیوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔
اجلاس کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، جاری اسکیموں کی رفتار، فنڈز کے استعمال، زیرِ التواء امور اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ عوامی شکایات کے ازالے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور محکموں کی مجموعی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے تمام محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ عوامی فلاح و بہبود اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔انہوں نے تمام محکموں کے افسران اور عملے کی حاضری کے حوالے سے بھی سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام افسران اور ملازمین اپنی حاضری یقینی بنائیں اور دفتری اوقات کی مکمل پابندی کریں۔ غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام محکموں کے سربراہان کو اپنے ماتحت عملے کی حاضری اور کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام محکمے اپنے زیرِ التواء منصوبوں اور مسائل کے حل کے لیے واضح لائحہ عمل اور مقررہ ٹائم لائنز مرتب کریں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے، لہٰذا تمام افسران عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ جاری منصوبوں کی پیش رفت اور زیرِ التواء امور پر باقاعدگی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/8436
بارکھان 1اکتوبر:ـڈی آئی جی کوہ سلیمان رینج ایاز احمد بلوچ اور ایس پی بارکھان عبد الحق رئیس کی ہدایت پر پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر اور مقدمات میں مطلوب مفرور ملزمان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ڈی ایس پی سرکل بارکھان محمد علی کانگھیہ کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ کھٹہ عیشانی گل محمد، ایڈیشنل ایس ایچ او عطا محمد اور ہیڈ محرر کلیم اللہ حسنی نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے تھانہ کھٹہ عیشانی کے مقدمہ نمبر 41/2026 میں مطلوب مفرور ملزم اکبر شاہ ولد امیر شاہ، قوم سید، سکنہ بستی کالا شاہ بارکھان کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ میں دفعات 337-H(2)، 392، 147، 148 اور 149 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی جاری ہے۔پولیس نے گرفتار ملزم کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا ہے، جبکہ مقدمے کی تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔پولیس حکام نے کہا ہے کہ جرائم کے سدباب، امن و امان کے قیام اور مقدمات میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8437
کوئٹہ یکم اکتوبر :۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے صاف کویٹہ وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر کوئٹہ شہر کو تجاوزات سے پاک اور منظم بنانے کے لیے فاطمہ جناح روڈ، بادام گلی اور چوہڑمل روڈ پر غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد حمزہ، اسپیشل مجسٹریٹ عمران زیب کاسی، اعجاز حسین کھوسہ، مجسٹریٹ سٹی، مجسٹریٹ ایم سی کیو اور اینٹی انکروچمنٹ آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے کارروائی میں حصہ لیا۔آپریشن کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر قائم 70 سے زائد غیر قانونی تجاوزات ختم کر دی گئیں، جبکہ تجاوزات میں استعمال ہونے والا سامان ضبط اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ دکانداروں اور تجاوزات قائم کرنے والوں کو پہلے ہی نوٹسز جاری کیے گئے تھے، تاہم مقررہ مدت میں تجاوزات ختم نہ کرنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں، بازاروں اور فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک رکھنے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا اور سرکاری اراضی سمیت عوامی گزرگاہوں پر غیر قانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8438
اُوتھل یکم اکتوبر:ـکمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاءکی زیرِ صدارت ریونیوامور کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کانفرنس ہال، ڈسٹرکٹ کونسل اُوتھل میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) لسبیلہ سراج احمد بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) لسبیلہ ، اسسٹنٹ کمشنرز بیلہ، اُوتھل اور کنراج، متعلقہ تحصیلداروں، تحصیلدار سیٹلمنٹ بیلہ و لیاری سمیت تمام متعلقہ ریونیو افسران و اہلکاروں نے شرکت کی اجلاس میں ریونیو وصولیوں اور بقایاجات، زیرِ التواء ریونیو کیسز، جمع بندی/خسرہ گرداوری، انتقالات، سرکاری و نجی اراضی پر تجاوزات، اراضی کی منتقلی و حصول، حدبندی و تقسیم کے معاملات، ایگریکلچر انکم ٹیکس، پانی کے بورز اور دیگر اہم ریونیو امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژننے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کو مکمل اور درست رکھا جائے، زیرِ التواء معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور سرکاری واجبات کی وصولی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ پانی کے بورز سے متعلق مکمل تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو انتظامیہ کی کارکردگی بہتر بنانے، عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور ریونیو معاملات میں شفافیت، درستگی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔







