خبرنامہ نمبر9526/2026
بارکھان: ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر مہردین خان کھیتران نے ضلع بارکھان کے بنیادی مرکزِ صحت (BHU) عیشانی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مہردین خان کھیتران نے عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، او پی ڈی رجسٹر، صفائی ستھرائی اور دیگر طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مرکزِ صحت میں موجود مریضوں سے ملاقات بھی کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ڈویژنل ڈائریکٹر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو معیاری اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کو فعال اور مؤثر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبرنامہ نمبر9527/2026
نصیرآباد: ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال شمس الملک بادینی نے کہا ہے کہ ربیع سیزن کے دوران کاشتکاروں کو زرعی پانی کی فراہمی میں بہتری اور اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ سندھ سے پٹ فیڈر کینال میں پانی کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے اور اس وقت کینال میں 3500 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے کاشتکاروں کو درپیش پانی کی قلت اور مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں زمینداروں کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم اور فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پٹ فیڈر کینال کے دورے کے موقع پر پانی کی فراہمی کے نظام کا جائزہ لینے اور کاشتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر عبدالظاہر مینگل بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔شمس الملک بادینی نے مزید کہا کہ پانی کی فراہمی میں اضافے کے بعد ربیع کینال اور پٹ فیڈر کینال کی تمام ذیلی شاخوں میں زرعی پانی منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ ہر زمیندار کو اس کے مقررہ حصے کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ سب ڈویژنل افسران پانی کی تقسیم اور فراہمی کے تمام انتظامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ وہ خود بھی مختلف ذیلی شاخوں کے اچانک دورے کرکے پانی کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، تاکہ تقسیمِ آب کے نظام میں کسی قسم کی بے ضابطگی، غفلت یا کوتاہی کا امکان باقی نہ رہے اور کسی بھی کاشتکار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ربیع سیزن کے دوران زمینداروں کو زرعی پانی کی بلاتعطل، منصفانہ اور بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر9528/2026
تربت:جامعہ تربت نے جنوری 2027 میں اپنا چوتھا کانووکیشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانووکیشن میں شرکت کے خواہش مند گریجویٹس کے لیے رجسٹریشن کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق 2025 میں اپنی ڈگری مکمل کرنے والے ریگولر بی ایس، ایم ایس اور ایم فل گریجویٹس مقررہ تاریخ تک رجسٹریشن کروا کر کانووکیشن میں شرکت کرسکتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس 3,500 روپے مقرر کی گئی ہے، جو بینک چالان یا بینک ڈرافٹ کے ذریعے جامعہ تربت کے ڈائریکٹر فنانس کے نام پر نیشنل بینک آف پاکستان کی یونیورسٹی برانچ کے اکاؤنٹ نمبر 2257003139765868 میں جمع کرانا ہوگی۔ رجسٹریشن فارم، مطلوبہ تعلیمی دستاویزات اور دیگر شرائط کی چیک لسٹ کے ساتھ، مین کیمپس میں کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کے دفتر اور سٹی کیمپس میں فیکلٹی آف لا سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فارم یونیورسٹی کی ویب سائٹ https://uot.edu.pk/downloads/uot-convocation-form-2027 سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ امیدوار https://forms.gle/Rm15VgSn9YykY5i96 پر آن لائن رجسٹریشن بھی کروا سکتے ہیں۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق کانووکیشن کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لیے فل ڈریس ریہرسل میں حاضری لازمی ہوگی۔ ریہرسل کے دن قابل واپسی سیکیورٹی ڈپازٹ کی ادائیگی پر گریجویٹس کو گاؤن اور کانووکیشن کیپ جاری کی جائیں گی۔ مزید معلومات کے لیے امیدوار کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کے دفتر سے یا فون نمبرز 0852-400508 اور 0852-400510 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر9529/2026
بارکھان:ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے آج ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نسیم زرکون کے ہمراہ بارکھان شہر کی مین واٹر ٹینکی کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے پانی کی فراہمی کے نظام، موٹرز اور مین پائپ لائنوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایکسیئن پی ایچ ای نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز پانی کی مین لائن میں تکنیکی خرابی کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا تھا، جسے ہنگامی بنیادوں پر مرمت کر کے دور کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پائپ لائنوں کی مرمت کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور بارکھان شہر میں پانی کی فراہمی مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے پی ایچ ای عملے کو ہدایت جاری کی کہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
خبرنامہ نمبر9530/2026
مستونگ: ڈسٹرکٹ مستونگ ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی قادر بخش بنگلزئی نے مستونگ سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل ویٹ لفٹر محمد یاسر بنگلزئی کو دوسری ایشین اینڈ ورلڈ ماسٹر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ اور گرینڈ پرکس 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشین اور ورلڈ سطح پر دو برونز میڈلز جیتنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ محمد یاسر بنگلزئی کی یہ کامیابی نہ صرف مستونگ بلکہ پورے بلوچستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کی نمایاں کارکردگی نے علاقے کا نام روشن کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ محنت، عزم، مستقل مزاجی اور کھیلوں سے لگن کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔حاجی قادر بخش بنگلزئی نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقدہ اس بین الاقوامی چیمپئن شپ میں محمد یاسر بنگلزئی کی کامیابی ان کی مسلسل محنت اور کھیلوں سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی اس کامیابی پر اہلِ مستونگ اور کھیلوں سے وابستہ حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محمد یاسر بنگلزئی کی کامیابی نوجوان نسل کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ کھیلوں کے میدان میں محنت، لگن اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ ملک و قوم کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر9531/2026
ہرنائی ضلع ہرنائی میں انسدادِ پولیو کی سہ روزہ قومی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 2 نومبر سے 4 نومبر 2026 تک ضلع بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم کا افتتاح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ہرنائی میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میر سیف اللہ مری اور محکمہ صحت کی ضلعی ٹیم بھی موجود تھی۔ افتتاحی تقریب کے شرکا اور میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے کہا کہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا نہایت ضروری ہے، لہٰذا والدین اس قومی فریضے کی ادائیگی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے ضلع ہرنائی کے تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ پانچ سال تک کی عمر کے اپنے تمام بچوں کو لازمی طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائیں اور انسدادِ پولیو کی فرنٹ لائن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ اس موذی مرض کے مکمل خاتمے اور ضلع کو پولیو سے پاک رکھنے کے قومی مقصد کو کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9532/2026
صحبت پور:ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے انہوں نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے پولیو جیسی مہلک اور معذور کر دینے والی بیماری کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون بھی نہایت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خلاف جاری قومی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے.ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج نومبر میں شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، عالمی ادارہ صحت WHO کے نمائندگان اور محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی.اجلاس کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو نومبر میں شروع ہونے والی پولیو مہم کی تیاریوں انتظامات مائیکرو پلاننگ پولیو ٹیموں کی تشکیل، تربیت حساس علاقوں کی نشاندہی ٹرانزٹ پوائنٹس اور مہم کو مؤثر انداز میں کامیاب بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر علاقے اور ہر گھر تک رسائی کو یقینی بنایا جائے پولیو ٹیموں کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی کی جائے اور کسی بھی علاقے میں پانچ سال تک کی عمر کا کوئی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہنے پائے۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے اور پولیو ٹیموں کو درکار سہولیات اور سکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین میں شعور و آگاہی پیدا کرنا انتہائی اہم ہے۔ علماء کرام، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور بلدیاتی نمائندوں کو بھی اس قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام میں پولیو ویکسین کی اہمیت کے حوالے سے اعتماد پیدا ہو اور ہر گھرانے کو اس بات کا احساس ہو کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے.ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھیں گے
خبرنامہ نمبر9533/2026
صحبت پور۔۔ ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع صحبت پور میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا.تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے آج بچے کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلا کر ضلع صحبت پور میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ حکومت بلوچستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو اس موذی مرض اور عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے والدین اساتذہ علماء کرام قبائلی عمائدین اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کوئی بھی بچہ ان حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کے افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے انہوں نے مزید کہا کہ مہم کی مؤثر نگرانی ٹیموں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ اور مقررہ اہداف کا حصول ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع صحبت پور کو پولیو سے پاک بنانے کے حکومتی مشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9534/2026
جعفرآباد یکم نومبر۔صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پی ٹی اے بلوچستان عبدالحمید جونیجو کی خصوصی ہدایات پر پی ٹی اے بلوچستان، ڈسٹرکٹ پولیس جعفرآباد اور ٹریفک پولیس جعفرآباد نے قومی شاہراہ کوئٹہ۔سکھر سندھ بلوچستان بارڈر پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گڈز ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 14 گاڑیوں کے چالان کیے، جبکہ 10 گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کو وارننگ جاری کر دی گئی۔کارروائی کے دوران بغیر پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ، مقررہ روٹ کی خلاف ورزی اور دیگر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے گاڑیوں کے روٹ پرمٹس، فٹنس سرٹیفکیٹس اور دیگر ضروری دستاویزات کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔چیکنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعدد گاڑیوں کے پاس مبینہ طور پر جعلی یا غیر مستند روٹ پرمٹس اور فٹنس سرٹیفکیٹس موجود تھے، جبکہ بعض پرمٹس پر متعلقہ روٹ کا اندراج بھی نہیں تھا۔حکام کے مطابق ایسی گاڑیوں کو متعلقہ روٹ پر چلانے کی اجازت نہیں، کیونکہ روٹ پرمٹ کی شرائط کی خلاف ورزی ٹرانسپورٹ قوانین کے منافی ہے۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ جعلی یا غیر مستند دستاویزات کے استعمال اور مقررہ روٹس کی خلاف ورزی سے نہ صرف سرکاری محصولات کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ قانونی تقاضے پورے کرنے والے ٹرانسپورٹرز کو بھی غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر چلنے والی گاڑیاں ٹریفک کے نظام اور مسافروں و دیگر شاہراہ استعمال کرنے والوں کی حفاظت کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔حکام نے واضح کیا کہ گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے میں قانونی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے، سرکاری محصولات کے تحفظ اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ بغیر پرمٹ، غیر مؤثر فٹنس سرٹیفکیٹس، جعلی دستاویزات اور مقررہ روٹ کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر9535/2026
سیوی 31 اکتوبر:ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت روٹین ایمونائزیشن (EPI) پروگرام کے حوالے سے سہ ماہی جائزہ اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کی مجموعی کارکردگی، یونین کونسلز کی پیش رفت، ویکسینیٹرز کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) آفیسر محمد شعیب خجک نے روٹین ایمونائزیشن پروگرام کی کارکردگی، یونین کونسلز کی صورتحال، ویکسینیٹرز کی کارکردگی اور فیلڈ میں درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام یونین کونسلز اور ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں بعض مسائل سامنے آئے ہیں جن کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور افسران کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا امکان ہے کیونکہ سرد علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے ضلع میں منتقل ہوئے ہیں، لہٰذا اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے سختی سے ہدایت کی کہ اس مرتبہ کوئی بھی ویکسینیٹر فیلڈ سے غیر حاضر نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت بلوچستان کی واضح ہدایات کے مطابق محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران اور اہلکار بھی فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے اسی روز کوریج مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے اور زیرو ڈوز (Zero-Dose) بچوں کی نشاندہی کے لیے گھر گھر اور علاقے میں مؤثر تلاش یقینی بنائی جائے تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں اور فیلڈ میں سامنے آنے والے مسائل کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔اجلاس کے اختتام پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مانیٹرز اور ویکسینیٹرز میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر صلاح الدین، این اسٹاپ (NSTOP) آفیسر ڈاکٹر شہلا، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر میر وئیس خان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر اے کے یو ارسلان خان، مانیٹرز، ضلع بھر کے ویکسینیٹرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر9536/2026
لسبیلہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے BSDI کے تحت لسبیلہ ڈویژن کے تینوں اضلاع (حب، آواران، لسبیلہ) کے مختلف شعبوں میں انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے بتایا کہ ان منصوبوں میں پاکستان پوائنٹ کی ترقی، جدید آئی ٹی حبز کا قیام، سڑکوں کی بحالی و تعمیر، اور کھیلوں کے میدانوں کی فراہمی شامل ہے۔ مزید برآں، واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی بہتری اور ماہی گیروں کے لیے فشنگ شیڈز کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔ صنعتی شہر حب میں عوامی سہولت کے لیے پبلک ٹوائلٹس کی تعمیر، تعلیمی اداروں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی اور اسکولوں کی سولرائزیشن کے منصوبے بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد بلوچستان کے عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانا، نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا اور تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ بی ایس ڈی آئی بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوامی خوشحالی کی جانب عملی پیش رفت کی بنیاد ہے۔ انتظامی امور کی بہتری اور گورننس کے لیے نئے ڈویژن کا قیام حکومت کی اسی عوام دوست پالیسی کا تسلسل ہے
خبرنامہ نمبر9537/2026
کوئٹہ، یکم نومبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ ویمن انٹرپرینیورز نیٹ ورک نمائش (WEXNET)کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔ بیوٹمز ایکسپو سینٹر کوئٹہ میں منعقدہ اختتامی تقریب سے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے نمائش کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پروگرام ہماری توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں بلوچستان بھر سے خواتین کاروباری شخصیات اور ہنرمند خواتین کو اپنی مصنوعات اور صلاحیتوں کی نمائش کا بہترین موقع فراہم کیا گیا، جس سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہوئی بلکہ انہیں نئی کاروباری منڈیوں اور مواقع تک رسائی کے امکانات بھی میسر آئے۔ بلال خان کاکڑ نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں تعاون پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ان کے لیے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے. انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں اور کاروباری استعداد موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم، تربیت، سہولیات اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔ WEXNET جیسی نمائشیں خواتین کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، کاروباری روابط قائم کرنے اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ٹی ڈی اے پی کے سیکرٹری شہریار تاج نے اپنے خطاب میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ اور اس کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور اپنی مصنوعات کی نمائش کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کی فراہمی ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی خواتین کاروباری افراد کو مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے اور آئندہ منعقد ہونے والی نمائشوں اور تقریبات میں بھی بلوچستان کی خواتین کو بھرپور نمائندگی اور شرکت کے مواقع دیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر9538/2026
نصیرآباد1 نومبر:نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ٹرین حادثے میں ایک کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ٹراما سینٹر ڈیرہ مراد جمالی کا اچانک دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے حاضری رجسٹر چیک کیا اور ڈیوٹی سے غیر حاضر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر حاضر عملے کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ ٹراما سینٹر ایک انتہائی اہم طبی ادارہ ہے جہاں حادثات اور ہنگامی صورتحال میں زخمیوں اور مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹرز نرسنگ اسٹاف اور دیگر طبی عملہ ہر وقت اپنی ڈیوٹی پر موجود رہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بروقت علاج معالجے کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ اور مریضوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی محکمہ صحت کی بنیادی ذمہ داری ہے بالخصوص ٹراما سینٹر میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی غیر حاضری کسی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ معمولی تاخیر بھی کسی قیمتی انسانی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ طبی حکام کو ہدایت کی کہ ٹراما سینٹر میں عملے کی حاضری ایمرجنسی سروسز اور علاج معالجے کی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تمام ڈاکٹرز و طبی عملے کی ڈیوٹی پر موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مشکل اور ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد میسر آ سکے۔
خبرنامہ نمبر 9539/2026
کوئٹہ، یکم نومبر 2026
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے وزیراعلیٰ ہاؤس پر چھاپے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ نہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ ہاؤس پر کسی قسم کا کوئی چھاپہ مارا گیا ہے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم انداز میں منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد وزیراعلیٰ کی کردار کشی اور صوبے میں بے یقینی و عدم اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی سے خائف بعض عناصر جھوٹی اور من گھڑت خبروں کے ذریعے عوام میں غلط تاثر پیدا کرنے اور حکومتی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاہد رند نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا کو منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہوئے حکومتی اداروں اور قیادت کے خلاف بے بنیاد خبریں پھیلا رہے ہیں، تاہم حقائق کو مسخ کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ معاونِ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی خبریں پھیلانے، کردار کشی کرنے اور دانستہ طور پر گمراہ کن معلومات کی تشہیر میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شاہد رند نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں جھوٹ، بہتان اور منظم کردار کشی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسے عناصر کو اپنی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کا قانونی جواب دینا ہوگا اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔







