15th-July-2026

خبرنامہ نمبر6172/2026
کوئٹہ 15 جولائی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں گرانفروشوں اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 25 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے کچلاک، سریاب، کاسی روڈ، گوالمنڈی چوک اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے گوشت فروشوں، تندوروں، ملک شاپس سمیت مختلف کاروباری مراکز کا معائنہ کیا۔ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ کرنے، زائد قیمت وصول کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ عوام کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور گرانفروشی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6173/2026
نصیرآباد15جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے ضلع بھر میں صحت عامہ کی صورتحال اور عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے آگاہ کیا کہ محکمہ صحت کی جانب سے دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکز صحت (BHU) اور دیہی مراکز صحت (RHC) عوام کو ان کے گھروں کے قریب معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں تعینات ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ دیہی علاقوں اور گوٹھوں میں رہنے والے افراد بلا تعطل طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے مانیٹرنگ اور اچانک دورے کیے جاتے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی اور ان کے ریکارڈ کی بھی تسلسل کے ساتھ جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بتایا کہ ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی میں بھی طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ہسپتال آنے والے مریضوں کو بہترین اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیںڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے اس موقع پر ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے اور ادویات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6174/2026
نصیرآباد15 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کو آج ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی نے ہسپتال میں دی جانے والی طبی سہولیات، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور مجموعی انتظامی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران انہیں ادویات کی دستیابی، زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات، او پی ڈی میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد، آپریشن تھیٹر کی کارکردگی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، درپیش مسائل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا گیامیڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ ہسپتال میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سہولیات میں مزید بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ہسپتال غریب اور نادار عوام کے لیے ایک اہم سہارا اور امید کی کرن ہے، لہٰذا یہاں آنے والے ہر مریض کو بہترین ممکنہ علاج اور سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہےانہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعیناتی کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا بروقت حل ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹرز اور عملہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیں، مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ اور خوش اخلاق رویہ اپنائیں اور علاج معالجے کے تمام مراحل میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنائیں انہوں نے مزید کہا کہ جب مریض علاج کے بعد مطمئن ہو کر جائیں اور انتظامیہ کے لیے دعائیں دیں، تو یہی اس بات کا واضح ثبوت ہوگا کہ عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہا ہے.ڈپٹی کمشنر نے ادویات کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں موجود ادویات اور ان کی تقسیم کا مکمل اور شفاف ریکارڈ رکھا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں آخر میں انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو درپیش مسائل کے فوری حل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور متعلقہ حکام کو اس ضمن میں موثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6175/2026
حب:15جولائی ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا ماہانہ اجلاس ڈپٹی کمشنر حب کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس حب میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے ضلعی افسران، ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs)، بنیادی مراکز صحت (BHUs) اور دیگر طبی مراکز کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، طبی سہولیات کی فراہمی، زچہ و بچہ کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات، اور عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری، بروقت اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ صحت میں فرائض کی انجام دہی میں غفلت، غیر حاضری اور عوامی خدمت میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے محکمہ صحت کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری صحت مراکز میں ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ادویات اور طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھی جائے، جبکہ عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس کے دوران مختلف صحت مراکز سے مسلسل غیر حاضر رہنے والے ملازمین کی رپورٹس کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حب نے قواعد و ضوابط کے مطابق ایسے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی عمل میں لانے کا حکم دیا۔اجلاس میں دائمی غیر حاضر (Chronic Absentee)، فرائض میں غفلت اور ناقص کارکردگی کے مرتکب ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے خلاف سخت تادیبی کارروائی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی نے ایسے ملازمین کی ملازمت کے خاتمے (Termination) کے لیے متعلقہ حکام کو سفارشات ارسال کرنے کی منظوری دی تاکہ محکمہ صحت میں نظم و ضبط، احتساب اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر حب نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ صحت کے شعبے کو درپیش مسائل کے موثر اور پائیدار حل کے لیے باہمی رابطے، مربوط حکمت عملی اور مشترکہ کاوشوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع حب کے عوام کو بہتر، معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6176/2026
کوئٹہ: 15جواائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی اور چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان کی ہدایات پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کیفے، کافی ہاوسز، فوڈ ہٹس، آئس کریم شاپس اور دیگر فوڈ سروس فراہم کنندگان کیلئے بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 کے تحت نظرثانی شدہ 4 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کے نفاذ کیلئے آگاہی اور مانیٹرنگ مہم مزید تیز کر دی ہے۔اس سلسلے میں بی آر اے کی ٹیم نے کابل جی ریسٹورنٹ، ایمپائر فوڈ کارنر، نیو ڈومینوز پیزا، سویٹ بائٹس، کیفے زمزمہ، بی بیری سمیت متعدد ریسٹورنٹس اور فوڈ آوٹ لیٹس کا دورہ کیا۔دورے کے دوران کاروباری اداروں کو آگاہ کیا گیا کہ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت ان خدمات پر بلوچستان سیلز ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دی گئی ہے۔ انہیں نظرثانی شدہ شرح کے مطابق ٹیکس وصولی، بروقت ریٹرن فائلنگ، واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی، بی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن اور پوائنٹ آف سیل (POS) کے موثر استعمال سمیت تمام قانونی تقاضوں پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل تمام سروس فراہم کنندگان کی قانونی ذمہ داری ہے، جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفاف ٹیکس نظام، کاروبار دوست ماحول اور محصولات میں اضافے کیلئے صوبہ بھر میں آگاہی اور انفورسمنٹ مہمات بلا تعطل جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6177/2026
چمن 15جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت آج ڈپٹی کمشنر میٹنگ ہال چمن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکیورٹی فورسز اور مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔\اجلاس میں BSDI فیز-II کے تحت مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ BSDI فیز-III کے پی سی-ون (PC-I) کی تیاری اور بروقت جمع کرانے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ضلع چمن کی مجموعی انتظامی صورتحال، بین الادارہ جاتی روابط اور دیگر اہم عوامی و ترقیاتی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے، اداروں کے درمیان موثر رابطہ برقرار رکھنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفاف، معیاری اور بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کے افسران نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور درپیش مسائل سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے عوامی خدمت کی فراہمی کو مزید موثر بنانے پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6178/2026
گوادر: 15جولائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ گوادر عوامی مسائل کے بروقت اور موثر حل کے لیے متحرک ہے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ سے ماہی گیروں کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور بیچ چم مچھلی کے شکار سے متعلق درپیش مسائل، روزگار سے وابستہ مشکلات اور فشریز سیکٹر کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا کہ بیچ چم مچھلی کے شکار پر عائد پابندی کے باعث سینکڑوں ماہی گیروں اور ان کے خاندانوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ اس معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لے کر ایسا حل نکالا جائے جس سے ماہی گیروں کے معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ وفد نے حالیہ مالی نقصانات کے ازالے اور متعلقہ معاملات کو قانون کے مطابق حل کرنے کی بھی درخواست پیش کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے وفد کے مسائل تفصیل سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ ماہی گیروں کے جائز تحفظات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے تمام قانونی اور انتظامی پہلووں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ایسا متوازن اور پائیدار حل نکالا جا سکے جو قانون، عوامی مفاد اور ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ سے ہم آہنگ ہو۔وفد نے موقف اختیار کیا کہ بیچ چم ایک اہم برآمدی مچھلی ہے جس کی بین الاقوامی منڈی میں نمایاں طلب موجود ہے اور اس کی تجارت سے ضلع گوادر کے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے میں مثبت پیش رفت کو یقینی بنائے گی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر مسائل کے دیرپا حل پر یقین رکھتی ہے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے مقامی ماہی گیروں کے معاشی مفادات کا تحفظ، فشریز سیکٹر کی ترقی اور قانون پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6179/2026
کوئٹہ15جولائی۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں نیشنل ای او سی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، ڈپٹی ڈی ایچ او، پراونشل مانیٹرز، متعلقہ افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی، او پی وی (OPV) کوریج، ایف آئی پی وی (fIPV) کوریج، ریفیوزلز، اسکول کوریج اور ٹیموں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے تمام مانیٹرز، متعلقہ اہلکاروں اور اسسٹنٹ کمشنرز کو مہم کے اہداف کے حصول کے لیے واضح ٹاسک سونپتے ہوئے ہدایت کی کہ ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی علاقے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔اجلاس میں جعلی (فیک) فنگر مارکنگ اور فرضی کوریج کے معاملات پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ فیک کوریج کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے متعدد پولیو ٹیموں کو تبدیل بھی کر دیا گیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام فیلڈ ٹیمیں دیانتداری، شفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں تاکہ ہر بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جا سکیں اور مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6180/2026
نصیرآبا15جولائی ۔ د:بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت ایس بی کے (SBK) بھرتیوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع صحبت پور کے ایک امیدوار کی جانب سے عدالت میں میرٹ اور داد رسی کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر احکامات کے مطابق جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی کے دیگر ارکان، ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز عبدالواسع کاکڑ، وائس پرنسپل بوائز ڈگری کالج خالد سلطان، سعدیہ خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔عدالتی احکامات کی روشنی میں امیدوار کے تمام دستاویزات کی تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ درخواست گزار کے اصل نمبر زیادہ تھے تاہم انہیں کم ظاہر کیا گیا تھا۔اس موقع پر کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حقدار امیدوار کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے گا،جبکہ میرٹ کی بنیاد پر شفاف تعیناتیاں موجودہ حکومت کا وژن ہیں اور اس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6181/2026
کوئٹہ ، 15 جولائی۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے سینٹرل پولیس آفس میں ڈاکٹر سمیع ملک اور فریال فرید کی صوبہ خیبر پختون خواہ تعیناتی پر الوداع کیا اور پولیس یادگاری شیلڈ دونوں افسران کو دیا۔ اور ان کی بلوچستان پولیس کے لیے گراں قدر خدمات کوخراجِ تحسین پیش کیا گیا۔اس موقع آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں افسران نے رینجز ، کوئٹہ اور سینٹرل پولیس آفس میں مختلف حیثیت میں اپنی ذمہ داریاں نہایت دیانت، محنت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں، جو بلوچستان پولیس اور شہریوں کے لیے باعثِ فخر ہیں۔آئی جی پولیس نے کہا کہ ڈاکٹر محمد سمیع ملک اور فریال فرید کی خدمات ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔ انہوں نے دونوں افسران کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریوں میں بھی اسی جذبے اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دے کر ادارے کا نام روشن کریں گے۔تقریب میں ایڈ یشنل آئی جی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد ، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز شہزاد اکبر ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر ز حسن اسد علوی ، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت سمیت پولیس کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے ، جنہوں نے دونوں افسران کی خدمات کو سراہا اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر6182/2026
لورالائی، 15 جولائی ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی کی نگرانی میں شہر کو صاف، سرسبز اور خوبصورت بنانے کے لیے صفائی و شجرکاری کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر بھر میں درختوں کو پانی فراہم کیا، جبکہ باران زون میں ڈی سی ہاوس، کوئٹہ روڈ اور اطراف سے کیکر کی جھاڑیوں اور کچرے کی صفائی کی گئی۔ شہر کے مختلف علاقوں سے سوزوکی اور ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے کچرا اٹھا کر مقررہ مقام پر منتقل کیا گیا۔اسی طرح عبدالخالق زون میں دوبی گاٹ محلہ، عجب خان زون میں عزیز پٹھان مسجد کے قریب نالی کی صفائی، جبکہ سلیم داد زون کے عملے نے عدالت کالونی اور جوڈیشل آفیسرز کالونی میں صفائی مہم کامیابی سے مکمل کی۔جوڈیشل آفیسرز کالونی میں سپروائزر کی زیر نگرانی مثالی صفائی اور بہترین انتظامات پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لورالائی نے میونسپل کمیٹی کے صفائی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔میونسپل کمیٹی لورالائی کے مطابق شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے صفائی، نکاسی آب اور شجرکاری سے متعلق سرگرمیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6183/2026
تربت.15 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ کی زیرِ صدارت بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام فیز 3 کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ بی اینڈ آر، اربن پلاننگ، ڈسٹرکٹ کونسل، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، ایریگیشن، اسپورٹس، بی ایس ڈی آئی پروگرام کے فوکل پرسن اعجاز نور سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے فیز 1 اور فیز 2 کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ فیز 3 میں ضلع کیچ کی ترقی کے لیے 78 نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے فیز 3 کو بھی اسی کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔اجلاس کے دوران فیز 3 کی تمام مجوزہ اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تکنیکی امور پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان منصوبوں کو آئندہ چند روز میں ٹینڈر کے عمل کے لیے بھیج دیا جائے گا تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز بروقت یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اپنے خصوصی پیغام میں واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام فیز 3 کے تمام منصوبوں میں معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی موثر نگرانی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوام دوست وژن کے باعث ضلع کیچ میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے ذریعے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6184/2026
دکی، 15 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال دکی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی کی صورتحال، ادویات کی دستیابی اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ایمرجنسی وارڈ، آوٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی)، میڈیسن سٹور، مختلف وارڈز اور دیگر شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری چیک کی اور متعلقہ حکام سے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات کے ذخیرے اور مریضوں کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام نے زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور ان سے علاج، ادویات اور دیگر سہولیات کے حوالے سے دریافت کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مریضوں کی شکایات کو فوری طور پر حل کیا جائے اور علاج معالجے کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر بنانے، ادویات کی مسلسل اور بروقت فراہمی یقینی بنانے، طبی آلات کو فعال رکھنے اور تمام شعبوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی۔اسسٹنٹ کمشنر نے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض پوری دیانتداری، احساسِ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں، لہٰذا مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی، بہتر رویہ اور فوری طبی امداد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی ہدایت کے مطابق تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ہسپتالوں سمیت تمام سرکاری اداروں میں اچانک دوروں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، جبکہ غفلت، لاپروائی یا غیر حاضری کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6185/2026
کوئٹہ، 15 جولائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات اور وطن کے لیے عظیم قربانی دینے والی شہید پروفیسر ناظمہ طالب کی یاد کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج، کوئٹہ کینٹ کے سامنے واقع سڑک کو “شہید پروفیسر ناظمہ طالب روڈ” کا نام دینے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے تاکہ ضروری قانونی اور انتظامی کارروائی مکمل کی جا سکے انہوں نے کہا کہ شہید پروفیسر ناظمہ طالب نے شعبہ تعلیم میں نمایاں خدمات انجام دیں اور اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران عظیم قربانی پیش کی۔ حکومت بلوچستان اس قربانی کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ایسے افراد کی خدمات کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ سمجھتی ہے معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوامی مقامات کو قومی ہیروز، شہداء اور ممتاز شخصیات کے نام سے منسوب کرنا ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں حب الوطنی، خدمت اور ایثار کے جذبے کو فروغ دینے کا موثر ذریعہ ہے شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء ، اساتذہ اور معاشرے کی خدمت کرنے والی شخصیات کی عزت و تکریم کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6186/2026
کوئٹہ، 15 جولائی ۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ریاستی دفاعی کانفرنس (ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس) کا 26واں اجلاس بدھ کو یہاں کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور امن و استحکام کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے باہمی تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے بلوچستان میں پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے مشترکہ آپریشن شعبان کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس کے شرکائ نے ہنہ اوڑک اور منگی ڈیم کے شہدائ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بلوچستان کے امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت عوام کے تعاون سے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے لیے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں گورننس کو مزید موثر بنانے کے لئے اصلاحاتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تا کہ ریاستی اداروں کی کارگردگی میں بہتری آئے اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت نہ صرف امن و امان کے قیام بلکہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی، خصوصاً دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے، کیونکہ پائیدار امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور سکیورٹی فورسز بشمول پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور، پاکستان کوسٹ گارڈ ،پولیس ، ،ایف آئی اے ،کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں امن، ریاستی رٹ کے استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6187/2026
کوئٹہ، 15 جولائی۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کلی ببری، ہنہ اڑک میں شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے موقع پر علاقے کی طالبات کے لیے گورنمنٹ گرلز اسکول کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ انتظامی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے شاہد رند نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے اعلان پر فوری عملدرآمد کے لیے سمری جلد از جلد وزیراعلیٰ کو منظوری اور احکامات کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا یہ اعلان صرف ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور علاقے کے عوام سے کیے گئے وعدے کی عملی تعبیر ہے۔ کلی ببری ہنہ اڑک میں گرلز اسکول کے قیام سے مقامی بچیوں کو اپنے علاقے میں معیاری تعلیمی سہولت میسر آئے گی، جس سے بچیوں کی تعلیم کو فروغ ملے گا اور والدین کی مشکلات میں بھی نمایاں کمی آئے گی شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کو پائیدار ترقی کی بنیاد سمجھتی ہے اور صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اس عزم پر قائم ہیں کہ صوبے کا کوئی بھی بچہ یا بچی تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے معاون وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل، عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ متعلقہ محکموں کو وزیراعلیٰ کے اعلان پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6188/2026
سیوی 15 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ونگ کمانڈرز کرنل زبیر، کرنل عبدالمنان، ایس ایس پی سیوی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، ضلعی محکموں کے سربراہان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز II کے 95 فیصد ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ BSDI فیز III کے تحت عوامی مطالبات اور کھلی کچہریوں میں سامنے آنے والی ضروریات کے مطابق نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ BSDI فیز III کے منظور شدہ منصوبوں کے ٹینڈرز آئندہ دو روز کے دوران اخبارات اور ویب پورٹل پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مطالبات کے مطابق تمام شعبوں کو بھرپور انداز میں مدنظر رکھا گیا ہے۔ صاف پینے کے پانی، صحت، تعلیم، بنیادی شہری سہولیات، گلیوں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب اور دیگر عوامی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اجلاس میں موجود تمام محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ملازم کسی مشکوک یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہو۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر اپنے بچوں اور بچیوں کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں اور ان کی مثبت رہنمائی کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں امن و امان، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل کے بروقت حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ضلع میں امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی خدمت، شفافیت، جوابدہی اور باہمی رابطے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں اور حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے فوری اور موثر حل کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر6189/2026
کوئٹہ 15جولائی: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبے میں پہلی وویمن یونیورسٹی کی شاندار ترقی درحقیقت ہماری نصف آبادی کی ہمت، عزم اور تبدیلی کی قابل فخر مثال ہے۔ وویمن یونیورسٹی کی زبردست پیش رفت کے پیش نظر یہ اعلیٰ تعلیمی ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکسپرٹ، انجینئر، ریسرچر، منیجر، اساتذہ، کاروباری اور پالیسی ساز پیدا کر رہی ہے۔ سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی محض خواتین کو تعلیم نہیں دیتی بلکہ یہ ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے روشن مستقبل کو تشکیل دے رہی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ اگرچہ وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور انکی پوری کی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں رینکنگ اور اسکورنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کافی تگ و دو کے وویمن یونیورسٹی کو ترقی اور استحکام کی راہ گامزن ہو چکی ہے۔ تقریبا دو سال کے عرصے میں ہم نے جو بھی اقدام کیا یا جس گمبھیر بحران نکالا وہ ہمارے اجتماعی دانش اور ٹیم ورک کی مسلسل جدوجہد اور فکری رہنمائی کا نتیجہ ہے۔ گورنر مندوخیل نے وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی ڈاکٹر روبینہ مشتاق کو ہدایت کی کہ معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ پل پل بدلتی دنیا کے موجودہ تقاضوں کے مطابق ماڈرن اسکلز ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ہماری خواتین بھی معاشرے کی اقتصادی اور سماجی ترقی و خوشحالی میں بامعنی شراکت کے قابل بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وویمن یونیورسٹی میں نہ صرف سینیٹ اور سینڈیکیٹ اجلاس مقررہ وقت پر منعقد ہو رہے ہیں بلکہ معیاری تعلیم اور جدید مہارت دونوں محاذوں پر آگے بڑھ رہی ہے اور یہی ہمارے صوبے کیلئے فخر اور اعزاز کی علامت ہے۔
خبر نامہ نمبر6190/2026
گوادر15جولائی:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق قدرتی وسائل کے تحفظ، پائیدار ترقی، ماحول دوست پالیسیوں اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت مختلف ماہی گیر گروپوں، محکمہ فشریز، متعلقہ اداروں اور فش فیکٹری، مالکان کا ایک اہم عوامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیچ چم مچھلی کی شیکار پر پابندی اور سمندری وسائل کے تحفظ، غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق اہم اور متفقہ فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ، ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم، ایس پی گوادر واحد بلوچ، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، فش فیکٹری مالکان، سربندن، پشکان اور گوادر سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر برادری کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تفصیلی مشاورت کے بعد تمام فریقین کے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ 15 جولائی سے 15 اگست تک صرف 25 نمبر جال کے استعمال کی اجازت ہوگی، جبکہ اس سے بڑے سائز کے جال کے استعمال پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ غیر قانونی جالوں کے استعمال سے سمندری حیات، خصوصاً کم عمر مچھلی (بیچ چم مچھلی) کے ذخائر کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث مستقبل میں ماہی گیری کا شعبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ مقررہ سائز سے بڑے جال استعمال کرنے والے ناخداؤں، فش فیکٹریوں اور دکانوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں غیر قانونی شکار ضبط کیا جائے گا، متعلقہ فیکٹری یا دکان کو سیل کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد کسی کے روزگار کو متاثر کرنا نہیں بلکہ سمندری وسائل کا تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے مچھلی کے قدرتی ذخائر کو محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام فیصلے قانون، مشاورت اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔اجلاس کے شرکاء، فش فیکٹری مالکان اور ماہی گیر نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کے متوازن، دانشمندانہ اور مشاورتی کردار کو سراہتے ہوئے فیصلوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی قیادت میں کیے گئے اقدامات کو سمندری وسائل کے تحفظ، ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ اور ماہی گیری کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خبر نامہ نمبر6191/2026
لورالائی 15جولائی:۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیرِ صدارت ڈویژن میں بلوچستان سوشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع موسیٰ خیل کے ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، ایکسین بی اینڈ آر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ، اسسٹنٹ انجینئر ایم ایم ڈی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اربن ڈیولپمنٹ سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران نے BSDI کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیشتر منصوبوں پر تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی ماندہ کام بھی تیزی سے جاری ہے اور مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ BSDI اور PSDP کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اور ہر منصوبے میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں، اس لیے ان کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو اور وہ ان منصوبوں کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے، کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ کمشنر نے واضح کیا کہ ناقص یا غیر معیاری تعمیراتی کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور غفلت برتنے والے متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تمام محکموں کو ہدایت کی گئی کہ ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل کے لیے باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر6192/2026
خضدار 15 جولائی:۔بولان مائننگ انٹرپرائزز بی ایم ای تعلیم کے فروغ اور مقامی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار بی یو ای اٹی کے با صلاحیت طلباء و طالبات کو ایک ایک لاکھ روپے فی کس کی ریکارڈ میرٹ اسکالرشپس فراہم کی ہیں۔بی ایم ای انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے نزدیک سب سے بڑی سرمایہ کاری صرف زمین کے نیچے موجود معدنیات میں نہیں بلکہ زمین کے اوپر موجود انسانی صلاحیتوں میں ہے۔ اسی ویژن کے تحت بی ایم ای تعلیم سمیت صحت، روزگار اور سماجی فلاح و بہبود کے تمام شعبوں میں دن رات فلاحی کاموں میں مصروف ہے۔ادارے کے ترجمان کے مطابق یہ اسکالرشپس طلبہ کی محنت، عزم اور تعلیمی کارکردگی کو سراہنے کے لیے دی گئی ہیں اور یہ بی ایم ای کے اس دیرینہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں جس کا مقصد صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور انجینئرز، موجدوں اور قائدین کی اگلی نسل کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے جو بلوچستان کا مستقبل سنواریں گے۔بی ایم ای انتظامیہ نے کہا کہ یہ خدمت خلق کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا اور ادارہ عوامی فلاح کے لیے ہمیشہ دلچسپی کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔بی ایم ای نے تمام اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی کامیابی آنے والے کل میں بے شمار دیگر نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بنے گی۔ تعلیمی حلقوں نے بی ایم ای کے اس تاریخی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی اسکالرشپس سے غریب اور قابل طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں بڑا سہارا ملے گا یقیناً بی ایم ای طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جو کہ قابل تحسین عمل ہے۔ اسکالرشپس چیک طلباء میں بی ایم ای خضدار کے آپریشنز منیجر ندیم احمد نے تقسیم کیئے اس موقع پر پرو وائس چانسلر خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی ڈاکٹر سہراب بزنجو رجسٹرار ڈاکٹر جلال شاہ ایڈمن آفیسر انجینئر رضاء زہری بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر6193/2026
ضلع چمن 15جولائی:۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز ایوننگ ریویو اجلاس ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے تیسرے روز منعقدہ ایوننگ ریویو اجلاس کی صدارت کی، جس میں پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت، پولیو ٹیموں کی کارکردگی، سیکیورٹی انتظامات اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پولیو پروگرام سے وابستہ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو مہم کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ٹیموں کی مؤثر نگرانی، سیکیورٹی اور فیلڈ میں درپیش مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنایا جائے تاکہ مہم اپنے مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل کر سکے۔انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر6194/2026
کوئٹہ15 جولائی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی سے آج کمشنر آفس کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (کوئٹہ زون) اور الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے موجودہ صوبائی صورتحال، امن و امان کی نازک کیفیت اور عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان سے درخواست کی کہ وہ اپنے جاری احتجاج کو مؤخر کرتے ہوئے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی سمیت تمام طبی سہولیات بحال کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور ڈاکٹرز کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے احتجاجی مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کوششیں کی جائیں گی۔وفد کی نمائندگی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (کوئٹہ زون) کے صدر ڈاکٹر نادر بلوچ اور الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے صدر جمال شاہ کاکڑ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کی۔اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو بلوچستان میں جاری مخدوش امن و امان کی صورتحال، زیارت میں جاری دھرنے، شہداء کے لواحقین کے غم، اور ان مشکل حالات میں عوام کو علاج و معالجہ کی سہولیات کی شدید ضرورت کا مکمل احساس ہے۔ انہی غیر معمولی حالات اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی خصوصی درخواست کے احترام میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا احتجاج عارضی طور پر مؤخر کرنے اور کل سے بلوچستان بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی سمیت تمام طبی خدمات مکمل طور پر بحال کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑنے ڈاکٹرز کو درپیش مسائل، عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور جاری احتجاج کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی، جہاں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ینگ ڈاکٹرز کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سننے اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی یقین دہانیوں اور مثبت پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج مؤخر کیا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مزید اعلان کیا کہ کل سے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں تمام او پی ڈیز معمول کے مطابق فعال ہوں گی اور مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ینگ ڈاکٹرز کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی اعتماد اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں گے اور عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر6195/2026
خضدار15جولائی: ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے جھالاوان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن خضدار کے صدر چیف حاجی محمد نور زہری کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر مئیر خضدار میر محمد آصف جمالدینی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار وڈیرہ محمد صالح جاموٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی خضدار کے ممبر رئیس محمد اکبر گنگو بھی موجود تھے۔ملاقات میں خضدار کی سبزی منڈی کی مجموعی کارکردگی، اجناس کی ترسیل کے نظام اور ٹیکس وصولی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفد نے ڈپٹی کمشنر خضدار سبزی منڈی میں درپیش مسائل اور کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ سبزی منڈی کی بہتر انتظامیہ کی بدولت خضدار اور گرد و نواح کے اضلاع کو تازہ سبزیاں اور پھل مناسب قیمت پر میسر آ رہے ہیں۔ منڈی کی فعال ہونے سے نہ صرف کسانوں کو اپنی اجناس کی بروقت فروخت کا موقع مل رہا ہے بلکہ شہریوں کو بھی ریلیف ملا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تاجر برادری کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سبزی منڈی عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی کامیابی میں سب کا مفاد ہے۔ معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا خضدار میر محمد آصف جمالدینی چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے ہمیشہ تاجر برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سبزی منڈی کی ترقی سے نہ صرف ضلع خضدار کی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
خبر نامہ نمبر6196/2026
گوادر15جولائی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد اور ریونیو امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے گرانڈانی جنوبی کی اراضی کا تفصیلی دورہ کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ، نائب تحصیلدار حاجی جاوید، قانون گو حاجی ابراہیم، پٹواری محمد یاسین بلوچ اور دیگر ریونیو افسران و عملہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے گوادر پورٹ سے متعلق انفراسٹرکچر کی ترقی، گوادر پورٹ ماسٹر پلان کے تحت مجوزہ اراضی اور اس سے متعلق سیٹلمنٹ کے مختلف ریونیو امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے پیش رفت، ریکارڈ، حدودِ اراضی اور قانونی تقاضوں کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ہدایت کی کہ تمام ریونیو امور قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق، مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دیے جائیں تاکہ گوادر پورٹ سے وابستہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اراضی کے تحفظ، درست ریکارڈ کی تیاری اور سیٹلمنٹ کے عمل کو مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ ضلع گوادر کی پائیدار ترقی اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو مزید تقویت مل سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/6197
ضلع چمن 15 جولائی:اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے آج ضلع چمن میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت فیز ون اور فیز ٹو میں مکمل کیے گئے فلڈ پروٹیکشن منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے فلڈ واٹر کے بہاؤ سے تحفظ کے لیے پتھروں سے تعمیر کی گئی حفاظتی دیواروں اور دیگر حفاظتی ڈھانچوں کا جائزہ لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف مقامات پر مکمل ہونے والے ترقیاتی کاموں کا معائنہ کرتے ہوئے منصوبوں کے معیار، مضبوطی اور افادیت کا جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر نے ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران عوام اور املاک کا مؤثر تحفظ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جاری منصوبوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6198
خضدار 15 جولائی: ـڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال خضدار کی لیڈی ڈاکٹرز اور فیمیل اسٹاف کے ایک وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ہسپتال کے انتظامی و طبی امور، خواتین مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وفد کی قیادت سینئر لیڈی ڈاکٹرز نے کی۔ اس موقع پر جی پی او، زچہ بچہ وارڈ، گائناکالوجی اور پیڈز وارڈ میں کام کرنے والی خواتین ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف بھی موجود تھیں لیڈی ڈاکٹرز نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ ہسپتال میں روزانہ سینکڑوں خواتین اور بچے علاج کے لیے آتے ہیں۔ زچہ بچہ وارڈ اور گائناکالوجی وارڈ میں مریضوں کے رش کے پیش نظر اضافی بیڈز اور طبی عملے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خضدار ساسولی نے وفد کے مسائل غور سے سنے اور انہیں فوری حل کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور ضلعی انتظامیہ لیڈی ڈاکٹرز اور فیمیل اسٹاف کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری کی خصوصی دلچسپی سے جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال میں 1 ارب روپے کی لاگت سے جدید آپریشن تھیٹر کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس کمپلیکس میں خواتین کے امراض، زچگی اور بچوں کے آپریشنز کے لیے بین الاقوامی معیار کی سہولیات موجود ہوں گی۔ نئے کمپلیکس میں لیڈی ڈاکٹرز اور فیمیل اسٹاف کے لیے علیحدہ ڈیوٹی رومز اور دیگر سہولیات بھی شامل کی جائیں گی۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کی توجہ اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی تجاویز پر عمل کر کے ہسپتال کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال کو جلد ایک ماڈل ہسپتال کی شکل دی جائے گی تاکہ خضدار سمیت پورے جھالاوان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آئیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6199
گوادر 15 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) پلّیری کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی (توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات) کے انتظامات، ادویات کے دستیاب ذخیرے، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔معائنے کے دوران تمام طبی و معاون عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود پایا گیا، جبکہ بی ایچ یو میں ضروری ادویات کا وافر ذخیرہ بھی دستیاب تھا۔ ڈسٹرکٹ منیجر نے ریکارڈ کی ترتیب اور صحت کی سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور انہیں بروقت، معیاری اور بلا تعطل طبی خدمات فراہم کی جائیں۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق دور دراز علاقوں کے عوام تک بنیادی صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی پی پی ایچ آئی کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ نگرانی، کارکردگی کا جائزہ اور طبی سہولیات کی مسلسل بہتری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6200
تربت 15جولائی :یونیورسٹی آف تربت کی ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کمیٹی کا پانچواں اجلاس وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کی۔اجلاس میں ڈین فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ (تمغۂ امتیاز)، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، ڈین فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس ڈاکٹر عدیل احمد (بذریعہ ویڈیو لنک)، ڈاکٹر مظفر حسین، ڈین فیکلٹی آف لاء، رجسٹرار گنگزار بلوچ اور ڈائریکٹر فنانس شاہ بیک سید نے شرکت کی۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس کی توثیق کی۔ بعد ازاں، ملک اور بیرون ملک ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے فیکلٹی ممبران سے متعلق مختلف تعلیمی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اس موقع پر کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ جامعہ تربت کو ملک کے صف اول کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے برابر لانے کے لیے فیکلٹی اور عملے کی پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی ناگزیر ہے۔اجلاس کے دوران انسانی وسائل کے جدید چیلنجز سے نمٹنے، پالیسیوں پر موثر عمل درآمد اور یونیورسٹی میں اسمارٹ ورکنگ کلچر کو فروغ دینے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کنٹینیوئس پروفیشنل ڈویلپمنٹ (سی پی ڈی) کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔ مزید برآں، کمیٹی نے ملازمین کے لیے ایک جامع اور بامقصد تربیتی فریم ورک تیار کرنے کی بھی سفارش کی، جس کے تحت آئی ٹی کی مہارت، سافٹ اسکلز، قائدانہ صلاحیتوں،ٹائم مینجمنٹ اور اسٹریٹجک پلاننگ جیسے جدید تقاضوں پر خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ بدلتے ہوئے تعلیمی منظر نامے میں جامعہ تربت کا عملہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنا سکے۔ خبر نامہ نمبر 2026/6201 ضلع قلعہ عبداللہ 15 جولائی:ـڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) میں ایف آئی پی وی (FIPV) مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ضیاء الرحمن، پولیو آفیسر ڈاکٹر احمد جمالی، ایس بی سی سی آفیسر عبدالباسط اچکزئی، ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر ڈاکٹر دولت خان کاکڑ اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مہم کی پیش رفت، بچوں کی ویکسینیشن، ٹیموں کی کارکردگی، کوریج اور فیلڈ میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ہر اہل بچے تک بروقت حفاظتی ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے، کسی بھی بچے کو مہم سے محروم نہ رہنے دیا جائے اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔انہوں نے پولیو ورکرز، محکمہ صحت، پی پی ایچ آئی، سیکیورٹی اداروں اور فیلڈ اسٹاف کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ حکومت بلوچستان اور قومی انسدادِ پولیو پروگرام کے تعاون سے ضلع قلعہ عبداللہ کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ خبر نامہ نمبر 2026/6202 ضلع قلعہ عبداللہ 15 جولائی:ـڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کے بجٹ، مالی نظم و نسق اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر فیصل خان، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین، سید محمد امین آغا، عبدالمنان اچکزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، تینوں تحصیلوں کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DDEOs)، ترقی فاؤنڈیشن کے نمائندگان اور مختلف کلسٹر بجٹ ہیڈ اسکولوں کے سربراہان نے شرکت کی اجلاس میں تعلیمی کلسٹرز کے بجٹ، اخراجات، دستیاب فنڈز اور مالی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ متعلقہ افسران نے اپنے اداروں کی مالی صورتحال اور ضروریات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے ہدایت کی کہ سرکاری فنڈز کو مکمل شفافیت، دیانتداری اور حکومتی مالیاتی قواعد کے مطابق استعمال کیا جائے، بجٹ ریکارڈ درست رکھا جائے اور وسائل کے بروقت استعمال سے تعلیمی اداروں میں سہولیات اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائےاجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں تعلیم کے شعبے کی بہتری، وسائل کے شفاف استعمال اور مالی نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ خبر نامہ نمبر 2026/6203 زیارت 15جولائی :ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے سنجاوی پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے فرداً فرداً پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی اور پولیس کی کارکردگی کے بارے میں آگاہی حاصل کی ۔انہوں نے کہا پولیس اپنے استعداد کار میں مزید بہتری لائیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *