14th-July-2026

خبرنامہ نمبر6140/2026
کوئٹہ 14 جولائی ۔ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع قلات اور ضلع کوہلو میں محکمہ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے خصوصی ہدایات اور سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے زیر نگرانی تسلسل کے ساتھ ڈی ایس سی کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ صوبے میں ان اسکیموں کو جلد از جلد شروع کیا جائے اجلاس میں چیف انجینئر سبی زون زبیر احمد کھوسہ چیف انجینئر قلات خضدار زون عزیز اللہ کاسی ایس ای قلات سرکل ظفر بنگلزئی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی اینڈ ڈی کے حکام اور متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران ان اضلاع میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف سڑکوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے منصوبوں کی فزیبلٹی تخمینہ لاگت تکنیکی پہلووں اور مجوزہ مدتِ تکمیل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی نے مختلف نئے روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق متعدد اسکیموں کی منظوری کی سفارش کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ منصوبوں پر جلد از جلد عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی انتظامی اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں گے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6141/2026
کوئٹہ:14جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی اور چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان کی ہدایات پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے ضلع حب میں ڈاکٹروں، میڈیکل کنسلٹنٹس اور ہسپتالوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس تعمیل کو یقینی بنانے کیلئے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔اس سلسلے میں مختلف ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ، 2015 کے تحت رجسٹریشن، بروقت ٹیکس ریٹرن فائلنگ، واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی اور دیگر قانونی تقاضوں کی تکمیل کیلئے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ تمام قابلِ ٹیکس سروس فراہم کنندگان کیلئے قانون کے مطابق رجسٹریشن، بروقت ریٹرن جمع کرانا اور ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق جرمانوں، بینک اکاونٹس کی اٹیچمنٹ، کاروباری مراکز کی سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔بی آر اے نے تمام ڈاکٹروں، ہسپتالوں اور دیگر طبی خدمات فراہم کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کریں، بروقت رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کو یقینی بنائیں اور صوبے میں شفاف، منصفانہ اور مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6142/2026
موسیٰ خیل 14جولائی ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج لورالائی-درگئی شبوزئی تا تونسہ شریف روڈ کے تعمیراتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر احمد سعید جعفر نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے پر جاری پیش رفت اور دیگر تکنیکی امور پر بریفنگ دی معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے منصوبے پر کام کی سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تعمیراتی معیار کو برقرار رکھنے اور منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت بڑھانے اور کام کی رفتار کو فوری طور پر تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ’توئی سر ندی کا بھی دورہ کیا، جہاں مقامی آبادی نے انہیں درپیش مشکلات اور آمدورفت میں رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔ عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے ندی میں فوری طور پر پائپ لائن بچھانے کا اعلان کیا تاکہ مقامی لوگوں کی آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے مقامی عمائدین اور شہریوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر کے بروقت اقدام اور ندی میں پائپ لائن بچھانے کے اعلان پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6143/2026
نصیرآباد14جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی [ڈی آر سی ] کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز میل و فیمیل نصیرآباد، خزانہ آفیسر نصیرآباد ،منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کا انعقاد سی آر سی کے اجلاس میں جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں کیا گیا جس کا بنیادی مقصد بھرتیوں کے عمل کو مکمل شفاف، منصفانہ اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنانا تھا اس موقع پر منٹس آف میٹنگ میں درج تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان پر موثر و بروقت عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیاڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ بھرتی کے ہر مرحلے و اشتہار اور درخواستوں کی وصولی اسکرونٹی شارٹ لسٹنگ انٹرویوز اور فائنل سلیکشن میں مکمل شفافیت غیر جانبداری اور قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک کی قطعاً گنجائش نہیں ہونی چاہیے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جہاں کہیں بھی ریکارڈ اسکرونٹی یا دیگر مراحل میں کسی قسم کی کمی بیشی ابہام یا تکنیکی خامی سامنے آئے اسے فوری طور پر متعلقہ ہدایات اور قواعد کے مطابق درست کیا جائے تاکہ بعد ازاں کسی بھی قسم کے اعتراض یا شکایت کا امکان ختم ہو سکےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نہایت دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور شفاف انداز میں انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ میرٹ کی بالادستی ہر صورت برقرار رہے، کیونکہ شفاف اور منصفانہ بھرتی کا عمل ہی عوام کے اعتماد کی بنیاد ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6144/2026
سکھر14جولائی ۔: کیرتھر کینال میں بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کی مسلسل عدم فراہمی پر چیف انجینئر کینالز بلوچستان قربان علی جتوئی نے سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی اور چیف انجینئر سکھر بیراج سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے ہمراہ ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی اور ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی بھی موجود تھے، جبکہ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی بھی مسلسل رابطے میں رہے۔ اس موقع پر کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے بلوچستان کو کیرتھر کینال میں اس کے جائز حصے کا پانی فراہم کرنے کی یقین دیہانی کرائی، جبکہ سکھر بیراج مختیار احمد ابڑو نے چیف انجینئر کو پانی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ قربان علی جتوئی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کو اس وقت ارسا قوانین کے مطابق مقررہ 2400 کیوسک پانی نہیں دیا جا رہا، جس کے باعث کیرتھر کینال کے ہزاروں کاشتکار شدید مشکلات سے دوچار اور محکمہ آبپاشی شدید دباو کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی ہدایات پر دورہ کیا گیا ہے اور امید ہے کہ بلوچستان کو فوری طور پر اس کا مکمل حق دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شارٹ فال کے باوجود سندھ اور پنجاب کے آبپاشی حکام بلوچستان کو اس کا جائز حصہ دینے کے پابند ہیں کیونکہ بلوچستان کا پانی مجموعی حصے کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اگر بروقت زرعی پانی فراہم نہ کیا گیا تو بلوچستان کا گرین بیلٹ شدید تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی ہدایات کے مطابق کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور پانی کی فراہمی کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات جاری رہیں گے اور بلوچستان کے کسانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6145/2026
جعفرآباد14جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد کاظم لونی، ایگزیکٹو انجینئر مواصلات و تعمیرات عرفان علی سمیت مختلف محکموں کے افسران اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، فنڈز کے استعمال، بلوں کی ادائیگی، معیار تعمیر اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیامتعلقہ افسران نے اجلاس کو جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مکمل ہونے والے منصوبوں کے بل صرف جامع تکنیکی جانچ پڑتال اور مقررہ معیار کی تصدیق کے بعد ہی جاری کیے جائیں تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی تمام منصوبوں کی مسلسل نگرانی کرتی رہے گی اور کسی بھی قسم کی غفلت، ناقص تعمیراتی کام یا بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ ترقیاتی عمل کی موثر مانیٹرنگ کے ذریعے اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت، اعلیٰ معیار اور مکمل شفافیت کے ساتھ پای? تکمیل تک پہنچیں تاکہ ضلع جعفرآباد کے عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے بھرپور انداز میں مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6146/2026
موسیٰ خیل 14 جولائی ۔ حکومتِ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر درگ اظہر الدین نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول درگ اور گورنمنٹ بوائز مڈل سکول درگ کا اچانک تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور تعلیمی معیار کی جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے کلاس رومز کا معائنہ کیا اور تعلیمی ریکارڈ سمیت دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر درگ اظہر الدین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں غیر حاضری اور سست روی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور طلبا کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں تعلیمی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ پرعزم ہے اور سکولوں کی مانیٹرنگ کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6147/2026
کوئٹہ 14جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران، محکمہ صحت، ای پی آئی، عالمی ادار صحت (WHO)، یونیسیف اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پولیو مہم کی پہلے روز کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی، کوریج، درپیش مسائل اور ان کے فوری حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں ٹیموں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے، غیر حاضر بچوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی جائے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6148/2026
موسیٰ خیل14جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج لورالائی-درگئی شبوزئی تا تونسہ شریف روڈ کے تعمیراتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر احمد سعید جعفر نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے پر جاری پیش رفت اور دیگر تکنیکی امور پر بریفنگ دی معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے منصوبے پر کام کی سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تعمیراتی معیار کو برقرار رکھنے اور منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت بڑھانے اور کام کی رفتار کو فوری طور پر تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ’توئی سر ندی کا بھی دورہ کیا، جہاں مقامی آبادی نے انہیں درپیش مشکلات اور آمدورفت میں رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔ عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے ندی میں فوری طور پر پائپ لائن بچھانے کا اعلان کیا تاکہ مقامی لوگوں کی آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے مقامی عمائدین اور شہریوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر کے بروقت اقدام اور ندی میں پائپ لائن بچھانے کے اعلان پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6149/2026
گوادر: 14جوالائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوامی مسائل کے بروقت حل اور ساحلی آبادی کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے پسنی فش ہاربر جیٹی کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے موقع پر بی این پی گوادر کے ضلعی رہنما امان جمعہ، تحصیل صدر نعیم کمال اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے فش ہاربر کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور خصوصاً اس مرکزی نیویگیشن چینل کا جائزہ لیا جو ریت جمع ہونے کے باعث بند ہونے سے ماہی گیروں کی آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے متعلقہ حکام کو مسئلے کے فوری اور پائیدار حل کے لیے ضروری اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ چینل سے ریت کی صفائی اور بحالی کے لیے جلد بھاری مشینری فراہم کی جائے گی تاکہ مرکزی گزرگاہ کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ماہی گیر برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مین چینل کی بحالی سے کشتیوں کی محفوظ آمد و رفت ممکن ہوگی، ماہی گیری کی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور مقامی معیشت کو بھی مثبت فروغ حاصل ہوگا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کی ترقی، ماہی گیر برادری کی فلاح و بہبود اور روزگار کے مواقع کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے بروقت اور موثر حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بی این پی کے ضلعی و تحصیل عہدیداروں کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ سے ملاقات کر کے پسنی فش ہاربر کے بند مین چینل کی بحالی اور ماہی گیروں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر اس معاملے پر فوری عملی پیش رفت کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاکہ ماہی گیر برادری کو درپیش مشکلات کا جلد از جلد ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6150/2026
موسی خیل14جولائی۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی ہدایات اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت شمس الحق کی نگرانی پارتھینیم گاجر بوٹی اور دوسری مضر جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لئے سپرے مہم کا آغاز کیا گیااس مہم کا تسلسل کسانوں کے نقصانات کو کم کرنے اور مقامی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک بہترین کاوش ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت نے اس موقع پہ گاجر بوٹی پارتھینیم اور دوسری مضر جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے سپرے کے دوران احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کہا کہ سپرے کرنے والے عملے کو ماسک، دستانے اور حفاظتی عینک لازمی استعمال کرنی چاہیے تاکہ اس زہریلی بوٹی کے اثرات سے بچا جا سکے کاشتکاروں کی آگاہی مقامی کسانوں کو اس مہم میں شامل کرنا اور انہیں اس بوٹی کی پہچان اور نقصانات سے آگاہ کرنا مہم کو طویل مدتی بنیادوں پر کامیاب بنائینگے حیاتیاتی اور میکانکی طریقہ کار سپرے کے ساتھ ساتھ، جہاں ممکن ہو پھول آنے سے پہلے ان جڑی بوٹیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر تلف کرنا خاص طور پر گھروں اور سکولوں کے قریب زیادہ محفوظ رہتا ہے۔امید ہے کہ اس منظم مہم سے موسیٰ خیل کے زرعی رقبے کو اس موذی جڑی بوٹی سے پاک کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنا مہ نمبر6151/2026
تربت 14 جولائی ۔:ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے ایکسئین کیسکو ضلع کیچ اور ملک آباد، میری اور گوگدان فیڈرز کے عوامی نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات کی جس میں بجلی کی فراہمی کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفد نے بجلی کے بلوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کے حوالے سے عوامی تعاون کو اجاگر کیا اور امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اور کیسکو حکام باہمی تعاون سے بجلی کی فراہمی کے دورانیے کو دوبارہ 20 گھنٹے تک بحال کریں گے۔ ایکسیئن کیسکو آصف عزیز مگسی نے گریڈ اسٹیشن پر جاری تکنیکی بہتری کے کاموں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ 18 جولائی کے بعد بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے عوامی مسائل کے حل کے لیے کیسکو حکام کو ہدایت جاری کی کہ شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع میں عوام کو بنیادی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام جاری رہے گا۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ کے اس مثبت اور فعال کردار کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں عوامی مسائل کا حل ممکن بنے گا اور شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6152/2026
اسلام آباد14جولائی ۔ محکمہ صحت حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام اور یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) کے تکنیکی تعاون سے “وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور موثر رسپانس کے لیے کثیر شعبہ جاتی رابطہ کاری” کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ مشاورتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ کا مقصد مختلف سرکاری شعبوں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو فروغ دینا اور وبائی امراض سمیت صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔یہ ورکشاپ گزشتہ ایک سال کے دوران منعقد ہونے والی متعدد مشاورتی نشستوں کا تسلسل تھی، جن کا مقصد بلوچستان میں ملٹی سیکٹر کوآرڈینیشن (MSC) کا ایک موثر اور پائیدار نظام قائم کرنا ہے۔ دو روزہ ورکشاپ میں حکومتِ بلوچستان کے مختلف کلیدی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جس سے صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پورے حکومتی نظام (Whole-of-Government Approach) پر مبنی مربوط حکمتِ عملی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ورکشاپ میں ایڈیشنل سکیٹری ا یس ،اینڈ جی اے ،ڈی محمد نعیم بازئی سمیت محکمہ صحت، پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA)، محکمہ لائیو اسٹاک، محکمہ بلدیات، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (P&D)، محکمہ طلاعات اور حکومتِ بلوچستان کے دیگر متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دو روزہ مشاورتی عمل کے دوران مختلف محکموں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے، ادارہ جاتی کردار اور ذمہ داریوں کو واضح کرنے اور عوامی صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کو مزید موثر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ورکشاپ کا ایک اہم ایجنڈا ملٹی سیکٹر کوآرڈینیشن (MSC) نیٹ ورک کے مجوزہ گورننس اسٹرکچر کی پیشکش اور اس پر تفصیلی غور و خوض تھا۔ شرکاء نے مجوزہ فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا اور متفقہ سفارشات مرتب کیں، جن کی روشنی میں اس گورننس اسٹرکچر کو حکومتِ بلوچستان کی باضابطہ منظوری اور ادارہ جاتی نفاذ کے لیے حتمی شکل دی جائے گی۔دو روزہ ورکشاپ کے دوران بین الادارہ جاتی رابطہ کاری، معلومات کے موثر تبادلے، وبائی امراض اور دیگر صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال میں مشترکہ رسپانس، بیماریوں کی نگرانی (Disease Surveillance)، رسک کمیونیکیشن، ایمرجنسی آپریشنز، ون ہیلتھ (One Health) اپروچ اور ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے سمیت مختلف تکنیکی موضوعات پر تفصیلی سیشنز منعقد ہوئے، جن میں شرکاءنے اپنے تجربات اور آراء کا تبادلہ کیا۔اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کی ڈاکٹر نصرت، بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نور قاضی، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک ڈاکٹر فاروق ترین، ڈائریکٹر جنرل MERC جناب ذوالفقار جتوئی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) کے چیف ڈاکٹر ممتاز علی خان اور محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب فاروق ترین نے کہا کہ وبائی امراض جیسے پیچیدہ چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری، بروقت معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر آصف خان بیٹنی، ڈپٹی کنٹری لیڈ، یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) نے بلوچستان میں ملٹی سیکٹر کوآرڈینیشن نیٹ ورک کے قیام کے سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کی فعال شرکت اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ UKHSA مستقبل میں بھی حکومتِ بلوچستان کو تکنیکی معاونت، استعدادِ کار میں اضافے، تربیتی پروگراموں اور موثر گورننس نظام کی تشکیل میں ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔شرکاءنے بلوچستان میں ملٹی سیکٹر کوآرڈینیشن کے فروغ کے لیے UKHSA کی مسلسل تکنیکی معاونت کو سراہتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا کہ ادارے نے تکنیکی رہنمائی، ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافے اور ایک موثر گورننس فریم ورک کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اختتامی اجلاس میں متفقہ طور پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ملٹی سیکٹر کوآرڈینیشن نیٹ ورک کو موثر، فعال اور پائیدار بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریوں کو واضح انداز میں ادا کریں گے، باقاعدہ رابطہ کاری کا نظام قائم رکھا جائے گا اور مشترکہ مشقوں، تربیتی سرگرمیوں اور معلومات کے بروقت تبادلے کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی وبائی مرض یا صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر رسپانس ممکن بنایا جا سکے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء مشترکہ اعلامیے کی صورت میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ورکشاپ کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے، مجوزہ گورننس اسٹرکچر کی جلد منظوری، ادارہ جاتی اشتراک کو مضبوط بنانے اور ون ہیلتھ اپروچ کے تحت صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات کو ترجیح دی جائے گی۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دو روزہ مشاورتی عمل کے نتائج بلوچستان میں وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری، بروقت رسپانس اور صحتِ عامہ کے نظام کو مزید موثر اور مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Islamabad: A two-day consultative workshop on “Multisectoral Coordination for Epidemic Preparedness and Effective Response”, organized by the Health Department, Government of Balochistan, with technical support from the UK Health Security Agency (UKHSA), concluded in Islamabad with a renewed commitment to strengthening interdepartmental coordination and institutional collaboration for effective preparedness and response to epidemics and other public health emergencies. The workshop formed part of an ongoing series of consultations initiated over the past year to establish a sustainable and institutionalized Multisectoral Coordination (MSC) Network in Balochistan. Senior officials from key government departments reaffirmed their commitment to advancing a Whole-of-Government Approach to public health emergency preparedness and response. Participants included representatives from the Health Department, Provincial Disaster Management Authority (PDMA), Livestock Department, Local Government Department, Planning and Development (P&D) Department, Information Department, Services and General Administration Department (S&GAD), and other relevant line departments. Mr. Muhammad Naeem Bazai, Additional Secretary, S&GAD, actively participated in the deliberations, underscoring the department’s commitment to strengthening institutional coordination and governance mechanisms. During the two-day consultation, participants reviewed strategies to enhance interdepartmental collaboration, clarify institutional roles and responsibilities, and strengthen coordinated action against epidemics and other public health threats. A key focus of the workshop was the presentation and comprehensive review of the proposed governance structure for the Multisectoral Coordination Network. Participants examined the framework in detail and reached consensus on a number of recommendations, which will be incorporated into the final governance structure for formal approval and institutionalization by the Government of Balochistan. Technical sessions covered a broad range of priority areas, including interagency coordination, disease surveillance, information sharing, risk communication, emergency operations, joint response mechanisms, the One Health approach, and institutional capacity strengthening. Participants also exchanged experiences and shared best practices aimed at improving preparedness and response systems across sectors. Addressing the closing session, Dr. Nusrat from the Ministry of National Health Services, Regulations and Coordination, Dr. Noor Qazi, Chief Executive Officer of the Balochistan Healthcare Commission, Dr. Muhammad Farooq Tareen, Director General Livestock, Mr. Zulfiqar Jatoi, Director General MERC, Dr. Mumtaz Ali Khan, Chief, Centre for Disease Control (CDC), National Institute of Health (NIH), Mr. Farooq Tareen, Additional Secretary, Local Government Department, and Mr. Muhammad Naeem Bazai, Additional Secretary, Services and General Administration Department (S&GAD), emphasized that effective management of complex public health emergencies requires strong multisectoral coordination, timely information sharing, and joint planning among all relevant institutions. They reaffirmed their commitment to further strengthening institutional collaboration to safeguard public health in Balochistan. Speaking on the occasion, Dr. Asif Khan Bettani, Deputy Country Lead, UK Health Security Agency (UKHSA), appreciated the active participation and commitment demonstrated by all departments toward establishing the Multisectoral Coordination Network in Balochistan. He reaffirmed UKHSA’s continued technical support through capacity-building initiatives, specialized training programmes, and assistance in developing an effective governance framework. Participants acknowledged UKHSA’s sustained technical support in promoting multisectoral coordination in Balochistan, recognizing its significant contribution to technical guidance, institutional capacity development, and the formulation of a robust governance system. The concluding session highlighted the importance of ensuring that all participating departments fulfill their respective responsibilities, maintain regular coordination mechanisms, strengthen joint simulation exercises and training programmes, and ensure timely information sharing to enable rapid and effective responses to future epidemics and other public health emergencies. At the conclusion of the workshop, participants adopted a joint communiqué reaffirming their commitment to implementing the workshop’s recommendations, securing early approval of the proposed governance structure, strengthening institutional collaboration, and advancing integrated public health actions under the One Health approach. Participants expressed confidence that the outcomes of the two-day consultative process would significantly enhance epidemic preparedness, improve coordinated response mechanisms, and strengthen the resilience of Balochistan’s public health system.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 6153/2026
کوئٹہ14 جولائی ۔ : صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل سے گزشتہ روز مختلف سیاسی، سماجی، قبائلی اور شہری نمائندوں پر مشتمل وفود نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، عوام کو درپیش مسائل، صوبے کی ترقی، امن و امان، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفود نے صوبائی مشیر کو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل، عوامی مشکلات اور ترقیاتی ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ماحولیات کے تحفظ، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال، شجرکاری، صفائی کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔صوبائی مشیر نسیم الرحمن خان ملاخیل نے وفود کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کرکے ان کے ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات بہت جلد مزید بہتر ہوں گے اور موجودہ صوبائی حکومت عوامی فلاح، سیاسی استحکام، امن و امان اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پوری تندہی اور سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام ہے۔صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان کو خشک سالی، کم بارشوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے،۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ پانی کے وسائل کا محتاط اور دانشمندانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماحول دوست پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور موسمیاتی خطرات سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی ہے، جبکہ اسپتالوں کے فضلات کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے جدید انسینیریشن یونٹس کو بھی فعال بنایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہری علاقوں میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے، فضلے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ، ڈمپنگ سائٹس کی اپ گریڈیشن اور شجرکاری مہمات کو مزید موثر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔ صوبائی مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام، سماجی تنظیموں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں، پانی کے ضیاع سے گریز کریں، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں اور شجرکاری مہمات میں بھرپور حصہ لے کر بلوچستان کو سرسبز، صاف ستھرا اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ملاقات کے اختتام پر وفود نے صوبائی مشیر نسیم الرحمن ملاخیل کی جانب سے عوامی مسائل کے حل، ماحولیاتی تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے مثبت نتائج جلد عوام تک پہنچیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6154/2026
ہرنائی14جولائی ۔ : محکمہ کھیل ضلع ہرنائی کے زیر اہتمام ورلڈ بیڈمنٹن فیڈریشن کا انٹرنیشنل کوچنگ کورس کامیابی سے مکمل کرنے پر مایہ ناز لوکل کوچ ماسٹر فضل الرحمن کے اعزاز میں ڈی سی کمپلیکس سپورٹس آفس میں ایک پروقار اور پرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین اور سابقہ سپورٹس آفیسر محمد دین ترین تھے۔ تقریب میں بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے عہدیداران، سول سوسائٹی اور نوجوان کھلاڑیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے کوچ فضل الرحمن کی عالمی سطح پر کامیابی کا جشن منایا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) محمد سلیم ترین نے کہا کہ یہ ہرنائی اور بالخصوص یہاں کے کھیلوں کے حلقوں کے لیے انتہائی فخر کا مقام ہے کہ ہمارے ایک سپوت نے صوبہ بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح کے کوچنگ کورس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ضلعی انتظامیہ ضلعے میں کھیلوں کے فروغ، بیڈمنٹن کورٹ کی بہتری اور نئے کوچنگ سیشنز کے انعقاد کے لیے ہر ممکنہ انتظامی و مالی تعاون فراہم کرے گی تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔?اس موقع پر سابقہ سپورٹس آفیسر محمد دین ترین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوچ فضل الرحمن کی یہ کامیابی نہ صرف ضلع ہرنائی یا صوبہ بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ محدود وسائل اور کٹھن حالات کے باوجود ہرنائی کے نوجوانوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ محکمہ کھیل اپنی بساط اور دائرہ کار کے مطابق بیڈمنٹن سمیت تمام انڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں کی سرپرستی اور نگرانی کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گا۔ عالمی کورس کامیابی سے مکمل کرنے والے مایہ ناز کوچ ماسٹر فضل الرحمن نے محکمہ کھیل ہرنائی اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس پزیرائی نے ان کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں۔ انہوں نے ضلع کے نوجوانوں اور طلباءکے لیے ایک بڑے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا میں ہرنائی کے طلبائ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مفت کوچنگ سروسز کا اعلان کرتا ہوں۔ اگر محکمہ کھیل اور ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی اسی طرح حاصل رہی، تو وہ دن دور نہیں جب ہرنائی سے قومی اور بین الاقوامی سطح کے بیڈمنٹن چیمپئنز پیدا ہوں گے۔تقریب کے آخری مرحلے میں معزز مہمانوں نے کوچ فضل الرحمن کی خدمات اور تاریخی کامیابی کے اعتراف میں محکمہ کھیل ضلع ہرنائی کی جانب سے انہیں خصوصی اعزازی شیلڈ اور تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ تقریب میں شریک بیڈمنٹن کے جنرل سیکرٹری حاجی امان اللہ ترین، سید آمین شاہ، پی ایس ٹو ڈی سی امیر محمد ترین، ماسٹر مجتبیٰ اور دیگر کھلاڑیوں نے کوچ فضل الرحمن کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کے تجربے سے ہرنائی کے گراس روٹ لیول پر بیڈمنٹن کو ایک نئی زندگی ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6155/2026
گوادر: 14جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے بھر میں گڈ گورننس، شفافیت، جوابدہی اور سرکاری اداروں کی موثر کارکردگی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے محکمہ لائیو اسٹاک گوادر کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی، دفتری امور، سروسز ڈلیوری اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ملازمین اور ویٹرنری ڈاکٹروں کی حاضری، کارکردگی رپورٹس، ریکارڈ، ادویات کی دستیابی اور سرکاری ادویات کے اسٹاک کی بھی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ڈپٹی کمشنر نے ضلعی افسر محکمہ لائیو اسٹاک سے ضلع بھر میں مویشی پال حضرات کو فراہم کی جانے والی ویٹرنری سہولیات، فیلڈ سروسز، ویکسینیشن، علاج معالجہ اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے عوام کو معیاری اور بروقت خدمات کی فراہمی کو حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح قرار دیا۔جائزہ کے دوران حاضری رپورٹ میں متعدد ملازمین کی غیر حاضری سامنے آنے پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر حاضر ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی اولین ذمہ داری عوام کی خدمت ہے اور فرائض میں غفلت یا غیر ذمہ داری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل سرکاری اداروں پر خرچ کرتی ہے، لہٰذا ہر محکمہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، شفافیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری افسران اور ملازمین عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، اس لیے سروسز ڈلیوری میں بہتری، دفتری نظم و ضبط اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ محکمہ لائیو اسٹاک کی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنانے، ادویات کی دستیابی، فیلڈ سروسز کی موثر نگرانی اور مویشی پال افراد کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس بھی محکمہ کی کارکردگی غیر تسلی بخش پائی گئی یا جہاں غفلت، غیر حاضری اور بدانتظامی سامنے آئی، وہاں ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں کے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت، جوابدہی اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید موثر بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر6156/2026
کوئٹہ 14جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پہلی انٹرپرہنورشپ وان ایٹ (Won-it) کا قیام ایک احسن اقدام ہے۔ وان ایٹ دراصل جدید ڈیجٹل تجارتی رجحانات سے ہم آہنگ ہونے، کاروبار کے نت نئے طریقے اختیار کرنے اور معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے کیلئے ایک منفرد ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم ہے۔ اس کا مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو نئے بزنس آئیڈیاز اور اسٹارٹ اپس کو ایک ایسا قومی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے کاروباری خیالات پیش کریں، ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کیلئے بزنس گرانٹس حاصل کر سکیں۔ اس ضمن میں چیئرمین وان ایٹ پرنس آغا عمر احمدزئی اور ان کی پوری ٹیم کی کوششیں خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی میں ڈیجیٹل انٹرپرہنورشپ وان ایٹ کے زیر اہتمام پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈیجیٹل انٹرپرہنورشپ پروگرام کے تمام فائنلسٹس نے ایک دلچسپ اور مسابقتی پچ شو میں اپنے کاروباری تصورات پیش کیے جن کو گورنر بلوچستان نے لائق تحسین قرار دیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے بہبود آبادی پرنس آغا عمر احمدزئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میروایس کاسی اور ادارہ وان ایٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر اجمل سمیت بیوٹمز یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ڈیجیٹل انٹرپرہنورشپ وان ایٹ کے قیام کا مقصد بلوچستان میں نئے تجارتی رحجانات اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا، نوجوانوں کے جدید کاروباری آئیڈیاز کو قومی سطح پر نمایاں کرنا، اسٹارٹ اپس کو سرمایہ، رہنمائی اور نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کرنا اور معاشی خود انحصاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نئے رجحانات کو متعارف کرانے سے ہمیں بلوچستان کی مثبت، باصلاحیت اور ترقی پسند امیج دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد ملے گی۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے صوبے کے نوجوان پوشیدہ صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہے لہٰذا ضروری ہے کہ انہیں تمام ضروری مواقع اور سہولیات فراہم کیا جائیں۔ ڈیجیٹل انٹرپرہنورشپ کے قیام کے بعد اب باصلاحیت نوجوانوں کو چاہیے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے، انفرادی سطح پر اپنا کاروبار شروع کرنے اور معاشی طور پر خودمختار بننے کے مساوی مواقع بھرپور استفادہ کریں۔ اسطرح وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے قابل بن جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر6157/2026
کوئٹہ14 جولائی:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بلوچستان ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں اور یہ رشتہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں، آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے 20 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تشدد، سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا ریاست مخالف پروپیگنڈا اور دہشت گردوں کی ایلیجیٹیمیٹڈ وائسز ریاست کے خلاف نفرت اور انتشار کو فروغ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہی حربوں کے ذریعے ریاستِ پاکستان کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کی منظم سازشیں کی جا رہی ہیں، جنہیں ہر صورت ناکام بنایا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر متوازن ترقی کو تشدد اور دہشت گردی کی بنیادی وجہ قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج تربت سمیت بلوچستان کے کئی علاقے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں تو کیا وہاں نام نہاد تحریکیں ختم ہو گئی ہیں؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ ترقی نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ ہے انہوں نے کہا کہ ریاست مخالف عناصر کا مقصد عوام کی ترقی، خوشحالی یا پسماندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا ہے۔ ایسے عناصر پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن قوم اور ریاست ان کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اگر کوئی ریاستِ پاکستان کو توڑنے یا اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی سوچ رکھتا ہے تو ایسی سوچ پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی انہوں نے کہا کہ ریاست ہر چیز سے مقدم ہے اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستِ پاکستان کے دفاع، استحکام اور بقا کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کریں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گورننس، انتظامی امور اور عوامی خدمات سے متعلق شکایات اور تحفظات ہو سکتے ہیں اور حکومت ان کے ازالے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم ریاست کی سلامتی اور وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد صرف شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے سرکاری بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر استوار کرے گی تاکہ ہر اہل امیدوار کو بلاامتیاز مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء کے سوالات کے تفصیلی اسر مدلل جواب بھی دئیے اور سوالات و جواب کا یہ سیشن ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت پر محیط رہا۔
خبر نامہ نمبر6158/2026
کوئٹہ 14جولائی:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی خدمت کو اولین فوقیت دیتی ہے، صوبائی انتظامیہ نے عوامی فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اسٹریٹجک اقدامات شروع کیے ہیں جن کا مقصد طویل المدتی سماجی و اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کی سماجی و معاشی حالت تبدیل کرنے کے لیے دس سالہ جامع ترقیاتی منصوبہ شروع کیا ہے اس منصوبے کا بنیادی مقصد پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، عوامی خدمات کی فراہمی میں اضافہ کرنا، اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور روزگار کے مواقع تک مساوی رسائی کو یقینی بنا کر صوبے کو ایک لچکدار اور خوشحال خطہ بنانا ہے۔ صوبائی حکومت نے صوبے کی ترقی اور معیشت کی بہتری کے لیے اسٹریٹجک پروجیکٹس شروع کیے ہیں جن میں انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ کے ذریعے مقامی صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو تقویت دینے کیلئے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ روزگار کی فراہمی یقینی بنایا جاسکے، 9 شہروں میں سیف سِٹیز پر کام شروع ہے، میونسپل سروسز میں بہتری، شہروں اور دیہی علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی مستقل فراہمی کیلئے اقدامات، بنیادی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن سمیت اہم منصوبے شامل ہیں جن پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صوبے میں 3,900 اسکولوں کو فعال کیا جبکہ 14500 اساتذہ کی بھی تقرریاں کر دی گئی ہے تاکہ اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جاسکے تعلیمی معیار بہتر ہو۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ 3,000 اسکولوں میں دو اضافی کلاس رومز تعمیر کئے جارہے ہیں رواں سال 279000 سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا گیا جبکہ گزشتہ دو سال میں مجموعی طور پر 700,000 سے زائد بچوں کا انرولمنٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے رواں سال سے اے آئی ریکروٹمنٹ پالیسی نافذ کردیا ہے تاکہ شفافیت اور اہلیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ سرکاری ڈھانچے میں غیر ضروری 8,000 آسامیوں کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہو، ہسپتالوں میں ادویات اور طبی ساز و سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود مستحکم پالیسیوں کے ذریعے نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم عوامی شراکت اور محکموں کی مربوط کوششیں ضروری ہیں تاکہ یہ اقدامات مستقل اور پائیدار نتائج دیں۔
خبر نامہ نمبر6159/2026
صحبت پور14جولائی:۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے، بین الاداراتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور سکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانے سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا اجلاس میں حساس اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کا خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان تنصیبات کی حفاظت کے لیے اپنے انتظامات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائیں مزید برآں ضلع کی بین الاضلاعی سرحدی حدود میں سکیورٹی کو بہتر بنانے، غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے نگرانی کے نظام کو فعال بنانے اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو فروغ دینے پر بھی اتفاقِ رائے کیا گیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع میں امن و امان کا قیام، حساس تنصیبات کا تحفظ، بین الاضلاعی سرحدی حدود کی مؤثر نگرانی اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، انٹیلی جنس ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون اور مربوط اقدامات کے ذریعے ضلع میں پائیدار امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔

خبر نامہ نمبر6160/2026
خضدار 14 جولائی:۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں ہائیڈرو تھون 2026 کا کامیاب انعقادبلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے آڈیٹوریم میں ہائیڈرو تھون 2026 کا شاندار اور کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا اہتمام پیس اینڈ کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار نے ریوائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام (RBWRP) کے تحت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت اور یورپی یونین کے اشتراک سے کیا۔تقریب کی مجموعی منصوبہ بندی، انتظامات اور کامیاب انعقاد اسرار رئیسانی پراجیکٹ کوآرڈینیٹر، آر بی ڈبلیو آر پی، انجینئر شکیل بلوچ پراجیکٹ منیجر اور سید عبداللہ شاہ کمیونیکیشن، آؤٹ ریچ اینڈ انگیجمنٹ اسپیشلسٹ نے انجام دی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی پرو وائس چانسلر انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار ڈاکٹر سہراب خان بزنجو تھے، جو کہ اپنے خطاب میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو پائیدار آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگی، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس نوعیت کی سرگرمیوں کو بلوچستان کے مستقبل کے لئے نہایت اہم قرار دیا۔ پرووائس چانسلر ڈاکٹر سہراب بزنجو نے شرکاء کو عملی اقدامات کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب وقت صرف مشورے دینے کا نہیں بلکہ عملی طور پر کچھ کر دکھانے کا ہے۔ پانی ہماری سب سے بنیادی ضرورت ہے، اس لیئے ہم سب کو مل کر پانی کی بچت کرنی ہوگی۔ یہ بچت ہم نے اپنے لئے اور اپنے آنے والے کل کے لیے کرنی ہے۔ اس موقع پر طلباء کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ خصوصی طور پر ہنگول اور ہامون ماشکیل کے دریائی طاسوں کو ہدف بناتا ہے، جو خشک سالی اور زیر زمین پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ ہائیڈرو۔ تھون ”26” جیسے اقدامات سے جہاں مقامی نوجوانوں میں مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کا احساس پیدا ہوگا، وہاں بارانی پانی جمع کرنے کے اسمارٹ آبپاشی کے طریقوں، کم پانی والی فصلوں کی کاشت اور ڈیزل بورنگ پر انحصار کم کر کے متبادل توانائی کی طرف منتقلی میں مدد ملے گی۔تقریب میں رجسٹرار بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار ڈاکٹر سید جلال شاہ۔ ڈائریکٹر جنرل کوالٹی انہانسمنٹ سیل انجینئر لیاقت علی لہڑی۔ انجینئر شکیل احمد (پراجیکٹ منیجر، آر بی ڈبلیو آر پی ساؤتھ انجینئر شکیل احمد۔ایچ آر منیجر اسرار رئیسانی۔ سبجیکٹ میٹر ایکسپرٹ ڈاکٹر صلاح الدین۔۔کمیونیکیشن، آؤٹ ریچ اینڈ انگیجمنٹ اسپیشلسٹ، آر بی ڈبلیو آر پی سید عبداللہ شاہ۔ مانیٹرنگ آفیسر فرحان مگسی،آئی ٹی ایکسپرٹ انجینئر شیر مینگل، آر بی ڈبلیو آر پی ساؤتھ)، یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے چیئرمین صاحبان، رضوان احمد ایف اے او نمائندہ، خضدار اپنی ٹیم کے ہمراہ، اور انجینئر احتشام الحق (ایف اے او نمائندہ، کوئیٹہ نے شرکت کی۔ جبکہ انجینئر طلال نصیر اور اسد نے آن لائن شرکت کرتے ہوئے پروگرام کا حصہ بنے۔ ہائیڈرو تھون 2026 کے دوران طلبہ و طالبات کے لئے مختلف علمی، تخلیقی اور فنی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں انگریزی اور اردو مباحثہ، پوسٹر مقابلہ، فوٹوگرافی مقابلہ، مختصر دستاویزی فلم شارٹ ڈاکیومنٹری مقابلہ اور تھیٹر پرفارمنس شامل تھے۔ ان تمام سرگرمیوں کا مرکزی موضوع پائیدار آبی وسائل کا انتظام، موسمیاتی لحاظ سے موافق زراعت لائیو اسٹاک کی ترقی اور رینج لینڈ کے تحفظ تھا۔ طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں، جدت پسندی اور ماحولیاتی شعور کا بہترین مظاہرہ کیا۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں شیلڈ اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ منتظمین نے ایف اے او، یورپی یونین، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کی انتظامیہ،بی آر سی سے پروفیسر انعام اللّٰہ مینگل۔سمیت فیکلٹی ممبران، ججز، طلبہ صحافی برادری اور تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کے تعاون اور بھرپور شرکت سے ہائیڈرو تھون 2026 ایک یادگار اور کامیاب تقریب ثابت ہوئی۔ہائیڈرو تھون 2026 نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، ایف اے او اور یورپی یونین پائیدار قدرتی وسائل کے مؤثر انتظام، آبی وسائل کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور نوجوانوں کو مستقبل کے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے مشترکہ مشن پر کاربند ہیں۔
خبر نامہ نمبر6161/2026
کوئٹہ14 جولائی:۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کا انحصار محکمہ کی مؤثر اور بروقت کارکردگی پر ہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے ان خیالات کا اظہار محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت اور مجموعی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس تمام زونز کے چیف انجینئرز سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ضلعی ایگزیکٹو انجینئرز نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی جاری ترقیاتی منصوبوں اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی تکنیکی یا انتظامی رکاوٹ کو بروقت دور کرکے منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے حال ہی میں بھرتی ہونے والے 192 سب انجینئرز کی شمولیت سے محکمہ کی استعداد کار اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ اگرچہ ترقیاتی منصوبوں پر کام تسلی بخش رفتار سے جاری ہے تاہم عوامی مفاد کے پیش نظر اس میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں اور عوام کو بروقت سہولیات میسر آئیں انہوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران دستیاب ترقیاتی فنڈز کے مؤثر اور شفاف استعمال کو محکمہ کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کی کارکردگی کو سراہاصوبائی وزیر نے تمام چیف انجینئرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے زونز کا باقاعدگی سے دورہ کریں جاری منصوبوں کی نگرانی کو یقینی بنائیں اور اپنی وزٹ رپورٹس باقاعدگی سے ارسال کریں تاکہ منصوبوں کی رفتار اور معیار کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے میر سلیم احمد کھوسہ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے میں جاری اہم نوعیت کے میگا ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے چیف انجینئرز کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور باقاعدگی سے پروگریس رپورٹس پیش کریں انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام کو جدیدمعیاری اور پائیدار سہولیات کی فراہمی خواہ وہ شاہراہوں سے متعلق ہوں یا سرکاری عمارتوں کی تعمیر و ترقی سے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کو دیانت داری، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں نبھانا ہی محکمہ کا نصب العین ہونا چاہیے۔
خبر نامہ نمبر6162/2026
نصیرآباد14 جولائی:۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کو عوامی حلقوں کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئیں کہ ضلع میں دودھ سرکاری نرخ سے زائد، یعنی 280 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے، جس پر انہوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی ڈپٹی کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں نائب تحصیلدار جھٹ پٹ، سلطان احمد نے بائی پاس کے علاقے کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف دودھ فروشوں کی دکانوں کا معائنہ کیا اور موقع پر دودھ کی فروخت کے نرخ چیک کیے معائنے کے دوران دودھ فروشوں کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخ 220 روپے فی لیٹر کے مطابق ہی دودھ فروخت کریں نائب تحصیلدار نے واضح کیا کہ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی، ناجائز منافع خوری یا عوام کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ جعفرآباد عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ اشیائے ضروریہ کی دستیابی سرکاری نرخوں پر یقینی بنائی جا سکے اس سلسلے میں ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی ضلع انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر6163/2026
ضلع چمن 14جولائی:۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت مالی سال 2025-26 کے دوران مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل ویریفکیشن سے متعلق اجلاس منعقد ہوا ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت مالی سال 2025-26 کے دوران مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں (Development Schemes) کی فزیکل ویریفکیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی، جہاں ضلع بھر میں مکمل کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، معیارِ تعمیر، شفافیت اور عوامی افادیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ تمام مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل ویریفکیشن مقررہ مدت میں شفاف، غیر جانبدارانہ اور مؤثر انداز میں مکمل کی جائے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام منصوبے منظور شدہ معیار، ڈیزائن اور حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اگر ویریفکیشن کے دوران کسی منصوبے میں خامی، کوتاہی یا بے ضابطگی سامنے آئی تو متعلقہ محکموں کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈی سی نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات بروقت اور بلاامتیاز عوام تک پہنچ سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/6164
کوئٹہ 14جولائی:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ مختلف علاقوں میں کیے گئے آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 39 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ متعدد دکانداروں اور تجاوزات قائم کرنے والوں کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔ یہ کارروائیاں سریاب روڈ، نواں کلی، کچلاک بازار، مسجد روڈ، تھانہ روڈ اور منصفی روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کی گئیں۔جس میں اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے کچلاک بازار میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 15 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ نے مسجد روڈ، تھانہ روڈ اور منصفی روڈ پر کارروائیاں کرتے ہوئے 15 افراد کو گرفتار کیا۔اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے نواں کلی پہلے اسٹاپ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران 9 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا جبکہ اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سریاب روڈ کے مختلف مقامات پر تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی اور سرکاری املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6165
چمن 14 جولائی :ـڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ضلع چمن میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے شام کا ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید اچکزئی، این اسٹاف آفیسر اسد صافی، محکمہ صحت کے ٹیکنیکل فوکل پرسن برائے انسداد پولیو پروگرام ڈاکٹر نجیب ٹی وی آئی ضلع چمن کے سربراہ محمد علی اچکزئی، پولیو آفیسر ڈاکٹر نادر اچکزئی، ضلعی کمیونیکیشن آفیسر اشرف اچکزئی اور ڈاکٹر امین سمیت محکمۂ صحت کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پولیو ٹیموں کی مجموعی کارکردگی، کوریج، بچوں تک رسائی، فنگر مارکنگ، ہاؤس مارکنگ، سیکیورٹی صورتحال، فیلڈ میں درپیش چیلنجز، مس شدہ بچوں کی وجوہات اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو مہم کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے اور FIPV ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیموں کی مسلسل نگرانی، مؤثر مائیکرو پلاننگ، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مربوط رابطہ اور والدین سے بھرپور تعاون کے ذریعے مہم کو کامیاب بنایا جائے۔
اجلاس میں آئندہ دنوں کی حکمت عملی، مشکل علاقوں تک مؤثر رسائی، مس شدہ بچوں کی فوری کوریج، ٹیموں کی نگرانی مزید مؤثر بنانے اور سیکیورٹی انتظامات کو مضبوط رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/6166
کوئٹہ14 جولائی:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قومی میڈیا چینلز کے کوئٹہ بیوروز کی بندش اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں پر ایک بار پھر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو غریب اور محنت کش میڈیا کارکنوں کے مسائل کا احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر قومی ٹی وی چینلز کے مالکان ان کے ذاتی دوست ہیں، تاہم وہ اس اہم معاملے پر انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کر چکے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان میں شریک قومی میڈیا کے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے میڈیا ورکرز کی اکثریت محدود وسائل میں اپنے فرائض انجام دینے والے محنت کش افراد پر مشتمل ہے حکومت نے ہمیشہ کیمرے کے سامنے نظر آنے والے صحافیوں کے ساتھ ساتھ کیمرے کے پیچھے خدمات انجام دینے والے کیمرہ مین اور دیگر میڈیا کارکنوں کی فلاح و بہبود کو بھی مدنظر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیمرہ مین حضرات کے لیے جرنلسٹ کالونی میں مفت رہائشی فلیٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس پر عملی پیش رفت جاری ہے میر سرفراز بگٹی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قومی میڈیا میں بلوچستان کو زیادہ تر کرائم نیوز تک محدود کر دیا جاتا ہے، جبکہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے ہر بیچ میں قومی میڈیا کے اہم صحافی شریک ہوتے ہیں، جہاں انہیں بلوچستان کے زمینی حقائق، عوامی مسائل اور حکومتی اقدامات سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے میں قومی میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ ریاست اور حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمت کے اقدامات کو بھی اجاگر کرے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں پیش آنے والے جرائم کی خبریں فوری طور پر قومی میڈیا کی زینت بن جاتی ہیں، مگر عوامی فلاح کے لیے کیے جانے والے تاریخی اقدامات اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ای-لوکل اور ای-ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء کا جدید نظام متعارف کرایا گیا، لیکن اس اہم اصلاحاتی اقدام کو قومی ٹی وی چینلز پر وہ نمایاں جگہ نہیں مل سکی جو کرائم نیوز کو دی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان محدود ترقیاتی بجٹ کے باعث دیگر صوبوں کی طرح بڑے پیمانے پر تشہیری مہمات پر وسائل خرچ نہیں کر سکتی۔ ہماری ترجیح اپنی تشہیر کے بجائے ان وسائل کو عوامی خدمت پر صرف کرنا ہے تاکہ کسی دور افتادہ دیہی علاقے میں ایک اسکول یا اسپتال کو فعال بنایا جا سکے۔ وقتی تعریف سے زیادہ ہمارے لیے عوام کی خدمت اور تاریخ کا فیصلہ اہم ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کا محور بلوچستان کا وہ عام محنت کش شہری ہے جو سخت گرمی اور شدید سردی میں بھی اپنے خاندان کی کفالت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اور حکومت اسی طبقے کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے اصلاحاتی ایجنڈے اور گڈ گورننس کے فروغ میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومتی مشینری کے پرنسپل ایڈوائزر افسر کی حیثیت سے ہمیشہ قانون، میرٹ، شفافیت اور عوامی مفاد کو ترجیح دی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اس موقع پر نیشنل ورکشاپ بلوچستان میں شریک قومی میڈیا کے صحافیوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے اپنے اداروں اور پروگراموں میں بلوچستان کے ترقیاتی پہلو، اصلاحاتی اقدامات اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بھی خصوصی اہمیت کے ساتھ اجاگر کریں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6167
کوئٹہ 14 جولائی: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے وزیراعظم کی پولیو مہم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق اور سربراہ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر انوارالحق نے صوبے میں پولیو کے خاتمے اور آئندہ مہم کی حکمتِ عملی کے حوالے سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک کرنا اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے کہا کہ ہر بچے تک ویکسین پہنچانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے اور پولیو مہم میں کوئی بھی بچہ مس نہ ہو۔ انہوں ڈیرہ بگٹی اور چمن میں پولیو کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائرس اب بھی بعض علاقوں میں گردش کر رہا ہے۔ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بچوں کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی سرگرمیوں میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ویکسی نیشن مہمات، سرویلنس سسٹم کی بہتری، ماحولیاتی نمونوں کی مسلسل جانچ، اور رسائی سے محروم آبادیوں تک ٹیموں کی مؤثر پہنچ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں، مقامی انتظامیہ، صحتِ عامہ کے کارکنوں، علما، سماجی رہنماؤں اور والدین کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ قوم کے مستقبل کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے اجتماعی عزم اور فوری عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ نومبر 2024 سے بلوچستان میں پولیو کا ایک بھی کیا درج نہیں ہوا جو کہ بڑی کامیابی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، صوبائی کوآرڈینیٹر ای او سی انعام الحق و دیگر بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6168
کوئٹہ 14 جولائی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں گرانفروشوں اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 25 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے کچلاک، سریاب، کاسی روڈ، گوالمنڈی چوک اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے گوشت فروشوں، تندوروں، ملک شاپس سمیت مختلف کاروباری مراکز کا معائنہ کیا۔ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ کرنے، زائد قیمت وصول کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ عوام کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور گرانفروشی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6169
کوئٹہ14جولائی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کی روشنی میں شہر بھر میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم تیزی سے جاری ہے اس سلسلے میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے مشترکہ آپریشن کیا گیا۔یہ کارروائی اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کے انچارج علی رضا کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی، جس کے دوران سرکاری اراضی، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، سرکاری اراضی کا تحفظ یقینی بنانے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے انسدادِ تجاوزات مہم بلاامتیاز جاری رہے گی۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ازخود تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں اور شہر کو صاف، منظم اور تجاوزات سے پاک بنانے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6170
ضلع قلعہ عبداللہ 14 جولائی: ـڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کے شعبے کی کارکردگی، سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت (BHUs)، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اور پی پی ایچ آئی کے زیرِ انتظام مراکز میں طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر عبدالغفار کاکڑ، پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر ضیاء الرحمان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں معیاری طبی سہولیات، ادویات کی دستیاب، طبی عملے کی حاضری، صفائی کے مؤثر انتظامات اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6171
ضلع قلعہ عبداللہ14 جولائی :ـڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) میں خصوصی انسدادِ پولیو ایف آئی پی وی (FIPV) مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ضیاء الرحمن، پولیو آفیسر ڈاکٹر احمد جمالی، ایس بی سی سی آفیسر عبدالباسط اچکزئی، ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر ڈاکٹر دولت خان کاکڑ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مہم کی مجموعی پیش رفت، بچوں کی ویکسینیشن، ٹیموں کی کارکردگی، کوریج، سیکیورٹی انتظامات اور فیلڈ میں درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مہم کو مزید مؤثر، شفاف اور کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر اہل بچے تک پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کی بروقت فراہمی قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون، مؤثر نگرانی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینا ہوں گی۔ انہوں نے پولیو ورکرز، محکمہ صحت، سیکیورٹی اداروں اور فیلڈ اسٹاف کی انتھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع قلعہ عبداللہ کو پولیو سے پاک بنانے کے قومی مشن کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *