خبرنامہ نمبر7672/2026
کوئٹہ، 12 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان جہانزیب خان غوریزئی کے والد محمد اعظم خان پٹھان، ریٹائرڈ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات، کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے وزیر اعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعا کی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
خبرنامہ نمبر7673/2026
کوئٹہ، 12 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی عمل، معدنیات و کان کنی، امن و امان، سیاسی معاملات اور حکومتی اقدامات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان سے متعلق اہم بریفنگز بھی منعقد ہوئیں، جن میں صوبائی حکومت کی حکمت عملی، جاری منصوبوں اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ثمرات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی بریفنگ میں صوبائی حکومت کی سماجی و اقتصادی شعبوں سے متعلق حکمتِ عملی، گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا وزارتِ معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی استعداد، جاری منصوبوں اور اس شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ معدنی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کے عوام کے لیے معاشی اور دیگر فوائد پیدا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ وزارتِ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ سیف سٹی منصوبے، قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔ وزارتی بریفنگز کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں قومی میڈیا کے نمائندوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقی، سیاسی معاملات اور دیگر اہم امور سے متعلق سوالات کیے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے مؤقف اور پالیسی ترجیحات کی وضاحت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں بلوچستان میں اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں علم نہیں۔ حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم جب تک وہ منصب پر ہیں عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، تاہم بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو مؤثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے وزیراعلیٰ نے غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر کبھی کبھار درست تناظر کے بغیر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے، جس سے صورتحال کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
خبرنامہ نمبر7674/2026
گوادر 12 ستمبر:میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسکول اسپورٹس فیسٹیول 2026 کا پانچویں روز کوہ بن مدرسہ گوادر اور بحریہ ماڈل کالج گوادر کے درمیان ایک انتہائی دلچسپ مقابلہ سورگ دل فٹبال اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل، بھرپور جذبے اور بہترین کھیلوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ وقت میں بغیر گول کے دونوں ٹیم برابر رہے جبکہ پینالٹی کک سے کوہ بن مدرسہ نے یہ میچ جیت کر اپنے نام کرلیا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی گوادر کے سنئیر ماہناز کھلاڑی غفور مہر صاحب تھے، جبکہ ان کے ہمراہ کمیٹی ارکان، دیگر معزز اساتذہ اور شخصیات بھی موجود تھیں۔مہمانِ خصوصی اور دیگر معززین نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسکول اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کو بہت سراہا۔آج کے ریفریز کے فرائض شاہ زمان اور اسسٹنٹ ریفریز کے فرائض واحد حاجی و انیس کریم دے رہے تھے.
خبرنامہ نمبر7675/2026
نصیرآباد12 ستمبر :اُستا محمد میں نکاسی آب کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے 15 کروڑ روپے کے تین اہم منصوبوں کے ٹینڈر جاری کر دیے گئے واضح رہے کہ اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے کہا ہے کہ اُستا محمد شہر میں نکاسی آب کا دیرینہ اور اہم مسئلہ شہریوں کی جانب سے مختلف کھلی کچہریوں کے دوران مسلسل زبانی و تحریری طور پر ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے شہریوں کے اس دیرینہ مطالبے اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے صوبائی حکومت بلوچستان کی جانب سے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز تھری کے تحت اُستا محمد میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے 15 کروڑ روپے مالیت کے تین اہم ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر جاری کر دیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد شہر میں سیوریج اور بارشی پانی کی نکاسی کے موجودہ مسائل کو کم کرنا نکاسی آب کے نظام کو منظم بنانا اور شہری آبادی کو درپیش مشکلات کا مستقل بنیادوں پر ازالہ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے شہریوں کی جانب سے کھلی کچہریوں میں بارہا اٹھائے جانے والے اہم عوامی مسئلے کے حل کی جانب ایک بڑی اور عملی پیش رفت ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہریوں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ صوبائی و ضلعی محکموں کے ساتھ مسلسل رابطہ مؤثر پیروی اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کھلی کچہریوں میں شہریوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل کو صرف سنا ہی نہ جائے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں فیز تھری ۔بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت اُستا محمد میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے تین منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن میں پہلے نمبر پر اُستا محمد شہر سے آر بی او ڈی تھری ڈرین تک کچے نالے کی تعمیراس منصوبے کی تخمینہ لاگت 5 کروڑ روپے ہے اس منصوبے کے ذریعے شہر سے نکلنے والے پانی کی نکاسی کے لیے مؤثر راستہ فراہم کیا جائے گا جس سے مختلف علاقوں میں پانی کے جمع ہونے اور نکاسی آب سے متعلق مشکلات میں کمی لانے میں مدد ملے گی دوسرے نمبر پر خانپور ڈسٹری کے شہری علاقے کے بائیں جانب آر سی سی ڈرین کی تعمیر اس منصوبے کی تخمینہ لاگت بھی 5 کروڑ روپے ہے آر سی سی ڈرین کی تعمیر سے شہری علاقے کے سیوریج اور نکاسی آب کے پانی کو مناسب انداز میں منتقل کرنے میں مدد ملے گی جبکہ تیسرا نکاسی آب کا منصوبہ خانپور ڈسٹری کے شہری علاقے کے دائیں جانب آر سی سی ڈرین کی تعمیر اس منصوبے کے لیے بھی 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ڈرین کی تعمیر سے شہری علاقے میں نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور سیوریج کے پانی کی مناسب نکاسی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان تینوں منصوبوں کی مجموعی تخمینہ لاگت 15 کروڑ روپے ہے انہوں نے کہا کہ خانپور ڈسٹری کے شہری علاقے کے دونوں اطراف تعمیر کیے جانے والے آر سی سی ڈرینز نہ صرف نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ اُستا محمد شہر کے وسط سے گزرنے والی خانپور ندی کو سیوریج کے پانی سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے اس کے نتیجے میں شہری ماحول کو بہتر بنانے گندے پانی کے جمع ہونے کے مسئلے کو کم کرنے اور عوام کو درپیش نکاسی آب کی مشکلات میں کمی لانے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جانب سے کھلی کچہریوں میں پیش کیے جانے والے مسائل کو ضلعی انتظامیہ سنجیدگی سے لے رہی ہے اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اُستا محمد میں نکاسی آب کے لیے 15 کروڑ روپے کے ان تین منصوبوں کے ٹینڈر کا اجرا اس امر کی واضح مثال ہے کہ کھلی کچہریاں محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ عوامی مسائل کی نشاندہی ان کی پیروی اور عملی حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی شہری مسائل کا بروقت ازالہ اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچانا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد اُستا محمد شہر میں نکاسی آب کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی اور شہریوں کو دیرینہ مسئلے سے کافی حد تک ریلیف حاصل ہوگا.
خبرنامہ نمبر7676/2026
اوتھل:ضلعی انتظامیہ لسبیلہ کے زیر اہتمام خواتین کے مسائل کے حل اور ان کی شکایات بروقت سننے کے لیے سرکٹ ہاؤس اوتھل میں خواتین کی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس کھلی کچہری کی سرپرستی ڈپٹی کمشنر لسبیلہ محترمہ حمیرا بلوچ نے خود کی جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کنراج محترمہ کشش چوہدری بھی موجود تھیں ۔ تقریب میں اوتھل سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اپنے مسائل کھل کر ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھے۔ کھلی کچہری میں اوتھل اور گردونواح سے خواتین، سول سوسائٹی کی نمائندگان اور مستحق خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ خواتین نے بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، پینے کے پانی کی فراہمی، اور سماجی بہبود سے متعلق درخواستیں پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے خواتین کے مسائل کو غور سے سنا اور متعدد فوری نوعیت کی درخواستوں پرموقع پر ہی احکامات صادرفرمائے متعلقہ محکموں کے افسران کو فوری کارروائی کی ہدایت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا کہنا تھا کہ خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ موصول ہونے والی تمام درخواستوں پرموقو پر احکامات جاری کیں۔مقامی خواتین اور شرکاء نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے اس اقدام کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کھلی کچہریوں کے انعقاد سے خواتین کے مسائل کو براہ راست اعلیٰ حکام تک پہنچانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
خبرنامہ نمبر7677/2026
لورالائی12 ستمبر: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی ہدایت پر میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان کی نگرانی میں صفائی عملہ شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے کی صفائی، منتقلی، نالیوں کی صفائی اور جھاڑو لگانے میں مصروفِ عمل ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کی سوزوکی اور ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے کچرا اٹھا کر مناسب مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ٹیچنگ ہسپتال، سبزی منڈی، پہاڑی محلہ، حافظ سلطانہ دین کونسلر وارڈ، تحصیل روڈ، امبالہ گلی، غازی ارسلان خان روڈ، صدر بازار، باگی بازار، کاکڑی مسجد روڈ، حبیب پلازہ، سینما گلی، پنجابی محلہ، جامعہ مسجد ندی اور ٹپ کالونی سمیت مختلف علاقوں میں صفائی کا کام کیا گیا۔میونسپل کمیٹی کے عملے کی جانب سے شہر میں موجود درختوں کو پانی دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ شہر کو سرسبز و صاف ستھرا رکھا جا سکے۔علاوہ ازیں، شہریوں کو آوارہ کتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی جانب سے کتا مار مہم بھی جاری ہے۔ سپروائزر سلیم داد ولی محمد کی نگرانی میں ٹیچنگ ہسپتال کے علاقے میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔میونسپل کمیٹی حکام نے کہا ہے کہ شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں اور صفائی کے عملے سے تعاون کریں۔
خبرنامہ نمبر7678/2026
سیوی 12 ستمبر:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی خصوصی ہدایت پر ضلع سیوی میں خواتین کے مسائل کے فوری اور بروقت حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا۔خصوصی کھلی کچہری 16 ستمبر کو صبح 11 بجے سرکٹ ہاؤس سیوی میں منعقد ہوگی، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کریں گے۔ کھلی کچہری میں تمام متعلقہ ضلعی محکموں کے افسران بھی شرکت کریں گے۔اس موقع پر خواتین اپنے مسائل اور شکایات براہِ راست ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے افسران کے سامنے پیش کر سکیں گی، جبکہ مسائل کے فوری اور بروقت حل کے لیے موقع پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر سیوی نے ضلع بھر کی خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کریں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اس موقع سے استفادہ کریں۔
خبرنامہ نمبر7679/2026
قلات: ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے ٹیچنگ ہسپتال قلات کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے دستیاب طبی سہولیات، صفائی ستھرائی اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔قائمقام ایم ایس ڈاکٹر محمد یعقوب زہری اور ڈاکٹر گنشام داس نے ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا اور انہیں طبی سہولیات، انتظامی امور اور درپیش مسائل سے متعلق بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی و غیر طبی عملے کی حاضریاں چیک کیں۔ انہوں نے ایمرجنسی، او پی ڈی، آپریشن تھیٹر، آئی ٹی سیکشن اور دیگر شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا، جبکہ مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا بھی بغور جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ اپنی حاضریاں یقینی بناتے ہوئے مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اپنے مقدس پیشے سے مخلص رہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے اور مریضوں و ان کے لواحقین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی.
خبرنامہ نمبر7680/2026
کوئٹہ ، 12 ستمبر :سینٹرل پولیس آفس میں قائم خود احتسابی (اکاونٹیبلٹی) بیورو کے کمپلین سیل میں عام شہریوں کو کسی بھی رینک کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف شکایات درج کرا سکتے ہیں۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر ابتک 615شکایات درج کیے گئے ہے۔ جن میں 562کیسز نمٹا دئے گئے اور 26کیسز شکایات کنندگان کی درخواست پر موخر کردیا ہے۔جبکہ 6 اہلکاروں پر الزامات ثابت ہونے پر 3 کو جبری ریٹائر اور 3 کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔اسی طرح 6 پولیس اہلکاروں کی سروس کی ضبطگی اور 4 کیسز میں مختلف نوعیت کے سزا دینے کے احکامات دے دئے گئے ہیں ۔اسی طرح 112 کیسز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کرنے کے بعد بے بنیاد ثابت ہونے پر فائل کر دئے گئے ہیں ان شکایات میں 95 پولیس اہلکاروں کی اپنے اختیارات سے تجاوز ، 24 کی بد عنوانی، 5 کی حسبہ بیجا،6 کی غلط ایف آئی آر، 2 کی بے جا تشدد ،17 کی بدتمیزی و بد اخلاقی 25 کی ہراسگی 27 کی ایف آئی آر کا اندراج نہ ہونا اور 41 کی تفویض کی گئی ذمہ داریوں میں کاہلی اور ں سست روی کا رویہ رکھنا شامل ہیں۔
اس کے علاؤہ شہریوں کے باہمی تنازعات سے متعلق مجموعی طور پر 371 شکایات موصول ہوئیں جن میں 160 خاندانی تنازعات، 118 رقم کے لین دین سے متعلق تنازعات جبکہ 93 شکایات زمین کے تنازعات سے متعلق تھیں۔ شہریوں کی شکایات کے ازالے اور باہمی تنازعات کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اکاونٹیبلٹی بیورو اور شکایات سیل برانچ میں باقاعدہ موصول ہونے والی شکایات پر قانون اور میرٹ کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ بلوچستان پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہریوں کی جائز شکایات کے ازالے، شفافیت کے فروغ اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید مستحکم کرنے کے لیے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے براہ راست ہر شہری اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز براہِ راست آئی جی پولیس بلوچستان کو دینے کے لیے ان کے واٹس ایپ نمبر03043470110 پر ارسال کر سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ٹول فری نمبر 81-111775544پر درج کروا یا سکتا ہے ۔شکایات کنندگان صوبے کے کسی مقام اور کسی بھی وقت کال کرکے اپنی شکایات درج کرواسکتے ہیں جبکہ تمام پولیس تھانوں کے باہر آویزاں فون نمبرز پر بھی 9203377 ؍ 9204081 ؍ 9204180 ؍ 9204094 پر کال کرکے اپنی شکایا ت کر سکتے ہیں۔ عوامی سہولت کیمراکز پر عام شہری کو آگاہی دینے کی ہدایات آویزاں بھی کر دی گئی ہیں۔جبکہ فیلڈ افسران کو اس حوالے سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کو اس سہولت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر اس کی تشہیر کو یقینی بنائیں ۔واضح رہے کہ اس سہولت کا مقصد بلوچستان پولیس کے سربراہ تک اپنے جائز شکایات کے ازالے کے لیے براہ راست رسائی، پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرنے کے علاوہ شفافیت کا فروغ اور ان کیشکایات کا ازالہ بروقت ممکن بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر7681/2026
نصیرآباد12ستمبر۔ ضلع نصیرآباد میں بے روزگاری کے خاتمے اور سرکاری آسامیوں پر میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب کا عمل جاری ہے اس سلسلے میں آج تیسرے روز بھی محکمہ صحت ضلع نصیرآباد کی مختلف آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز منعقد ہوئے جن کی صدارت چئرمین سلیکشن کمیٹی و ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کی۔انٹرویوز کے دوران محکمہ صحت میں نائب قاصد، چوکیدار اور ڈرائیور کی آسامیوں کے لیے امیدواروں کی تعلیمی قابلیت تجربہ متعلقہ دستاویزات اور اہلیت کا جائزہ لیا گیا سلیکشن کمیٹی کے اراکین نے امیدواروں سے مختلف سوالات کیے اور مقررہ معیار کے مطابق ان کی صلاحیتوں کو جانچا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل نے کہا کہ تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اور بھرتیوں کے عمل میں میرٹ شفافیت اور قواعد و ضوابط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور اہل امیدواروں کا انتخاب مقررہ میرٹ اور ضابطہ کار کے مطابق عمل میں لایا جائے گا انہوں نے سلیکشن کمیٹی کے اراکین کو ہدایت کی کہ انٹرویوز کے عمل کو غیر جانبدارانہ اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ مستحق اور اہل امیدواروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔سلیکشن کمیٹی کے اراکین اور متعلقہ محکمہ صحت کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ امیدواروں کی بڑی تعداد نے انٹرویوز میں شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر7682/2026
جعفرآباد: سیلابی صورتحال اور ہنگامی حالات کے دوران عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے پیشگی حفاظتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت مین حیردین ڈرینج سمیت دیگر اہم ڈرینجز کے حفاظتی بندات کو مضبوط بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے مین حیردین ڈرینج، جھٹ پٹ ڈرین اور روجھان جمالی کے حفاظتی بندات کا تفصیلی دورہ کرکے جاری تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسران سیف اللہ بنگلزئی اور عابد علی کھوسہ نے ڈپٹی کمشنر کو جاری کام، حفاظتی بندات کی مضبوطی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ گل حسن کھوسہ اور امتیاز علی کھوسہ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ حفاظتی بندات کی تعمیر و مضبوطی کا کام منظور شدہ پی سی ون کے مطابق ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے، تعمیراتی کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور متعلقہ انجینئرز اپنی نگرانی میں تمام کام مقررہ معیار اور رفتار کے مطابق مکمل کرائیں تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران انسانی جانوں، آبادیوں اور قیمتی املاک کو نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر7683/2026
نصیرآباد۔ ضلع نصیرآباد میں بے روزگاری کے خاتمے اور سرکاری آسامیوں پر میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب کا عمل جاری ہے اس سلسلے میں آج تیسرے روز بھی محکمہ صحت ضلع نصیرآباد کی مختلف آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز منعقد ہوئے جن کی صدارت چئرمین سلیکشن کمیٹی و ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کی۔انٹرویوز کے دوران محکمہ صحت میں نائب قاصد، چوکیدار اور ڈرائیور کی آسامیوں کے لیے امیدواروں کی تعلیمی قابلیت تجربہ متعلقہ دستاویزات اور اہلیت کا جائزہ لیا گیا ۔سلیکشن کمیٹی کے اراکین نے امیدواروں سے مختلف سوالات کیے اور مقررہ معیار کے مطابق ان کی صلاحیتوں کو جانچا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد و چئرمین سلیکشن کمیٹی وریندر لعل نے کہا کہ تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اور بھرتیوں کے عمل میں میرٹ شفافیت اور قواعد و ضوابط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور اہل امیدواروں کا انتخاب مقررہ میرٹ اور ضابطہ کار کے مطابق عمل میں لایا جائے گا انہوں نے سلیکشن کمیٹی کے اراکین کو ہدایت کی کہ انٹرویوز کے عمل کو غیر جانبدارانہ اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ مستحق اور اہل امیدواروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔سلیکشن کمیٹی کے اراکین اور متعلقہ محکمہ صحت کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ امیدواروں کی بڑی تعداد نے انٹرویوز میں شرکت کی.
خبرنامہ نمبر7684/2026
گوادر12 ستمبر: محکمہ تعلیم گوادر اور میر عبدالغفور کلمتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے طلبہ میں کھیلوں کے فروغ، صحت مند سرگرمیوں اور مثبت مسابقت کے جذبے کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں میر ارشد کلمتی اور میر فٹبال اکیڈمی گوادر کے زیرِ اہتمام جاری میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول 2026ء میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول جدید گوادر کی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں ہیڈ ماسٹر طارق محمود اور اسکول اسٹاف کی جانب سے پرتکلف ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا تقریب میں اسکول کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی گئی اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ہیڈ ماسٹر طارق محمود نے کہا کہ کھیل طلبہ کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، ٹیم ورک اور صحت مند مسابقت کا جذبہ پروان چڑھاتے ہیں انہوں نے کہا کہ طلبہ کی کامیابی ان کی مسلسل محنت، عزم اور باہمی تعاون کا نتیجہ ہے، جبکہ اسکول انتظامیہ مستقبل میں بھی نصابی و کھیلوں کی سرگرمیوں سمیت تمام مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں طلبہ کی بھرپور سرپرستی جاری رکھے گی اس موقع پر اساتذہ نے بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا
خبرنامہ نمبر7685/2026
گوادر12 ستمبر:ڈائریکٹر سوشل ویلفئر مکران ڈویژن محمد عیسیٰ کی خصوصی ہدایات پر محکمہ سوشل ویلفئر اور گوادر پولیس نے شہر میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 5 مردوں اور 6 خواتین سمیت 11 افراد کو گرفتار کرلیا کاروائی کے دوران سوشل ویلفئر ٹیم کے اختر اکبر، حنیف راج اور عدنان بلوچ نے ایس ایچ او سٹی تھانہ محمد ظریف کے ہمراہ گوادر سٹی کے مختلف علاقوں میں گداگری کے خلاف کارروائی کی سوشل ویلفئر حکام کے مطابق پیشہ ورانہ گداگری کی روک تھام، شہریوں کو درپیش مسائل کے ازالے اور شہر کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی اس موقع پر احکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پیشہ ور گداگری کی حوصلہ افزائی سے گریز کریں اور گداگری سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
خبرنامہ نمبر7686/2026
گوادر12 ستمبر:میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے گرلز ایونٹ میں آج ساتویں دن بھی کھیلوں کے مقابلے جوش و خروش سے جاری رہے۔محکمہ تعلیم ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن گوادر اور اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ گوادر کے اشتراک اور میر ارشد کلمتی کے زیر اہتمام اسپورٹس فیسٹیول کے گرلز کرکٹ مقابلوں میں آج دونوں سیمی فائنل میچز کھیلے گئے۔ پہلے سیمی فائنل میچ میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بحریہ ماڈل کالج گوادر کو شکست دے دی۔ جبکہ دوسرے سیمی فائنل میچ میں گوادر گرائمر اسکول نے نیوٹاون گرائمر اسکول کے خلاف جیت حاصل کی۔اس طرح آج کی جیتنے والی دونوں ٹیمیں فائنل کے لئے کوالیفائی کرگئیں۔اور پیر کے دن دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کی مدمقابل ہونگی۔آج کے مہمانان خاص گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر کی سینئیر ٹیچر میڈم فہمیدہ بشیر اور ڈاکٹر فیروزہ اصغر تھیں ان کے ہمراہ اسپورٹس فیسٹیول کمیٹی کی ممبرز و دیگر موجود رہیں۔مہمانان خاص نے طالبات کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ گرلز کے آگے آنے کے لئے ایسے پلیٹ فارم مہیا کرنا میر ارشد کلمتی کی جانب سے خوش آئند عمل ہے اس سے گرلز کو فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔تعلیم اور مثبت سرگرمیوں سے ایک اچھے معاشرے کی نشونما ہوتی ہے۔
خبرنامہ نمبر7687/2026
لورالائی12ستمبر :نیشنل پروگرام محکمہ صحت کے زیر اہتمام ماں اور بچے کا ہفتہ منانے کے سلسلے میں ایک ریلی منعقد کی گئی جسکی قیادت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ کوارڈنیٹر نیشنل پروگرام ثریا ناز ،اکاوئنٹ اسسٹنٹ ضیاء غلزئی ،ڈی ایس وی کل نواز خان ناصر ،اے ایس وی عادل الیاس ،جلال شاء علیزئی ،لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپروائزر نے شرکت کی ۔ریلی کے اختتام پر نیشنل پروگرام کے کنونشن ہال میں ماں اور بچے کے ہفتہ کے حوالے سے سمینار منعقد ہو ،سمینار میں اکاوئنٹ اسسٹنٹ ضیاء غلزئی نے ہفتہ کے حوالے سے مکمل بریفینگ دی جبکہ ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر ثریا ناز نے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو ماں اور بچے ہفتہ کے حوالے سے انہیں مکمل ہدایات دی ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہیکہ پورے صوبے کی طرح لورالائی میں بھی یہ ہفتہ 14 ستژوب؛12ستمبر 2026 محکمہ صحت ژوب کے زیر اہتمام یونیسف کے اشتراک سے ضلع بھر میں 14 سے 19 ستمبر تک ماں اور بچے کی صحت کا ہفتہ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی تقریب اور آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ صحت کے افسران و اہلکاروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فرید احمد خان اور فوکل پرسن حافظ حلیم شاہ نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے ہفتے کے دوران نیشنل پروگرام کے تحت مختلف سرگرمیاں جاری رکھی گئی ہے لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر خواتین کو ٹی ٹی ویکسین لگائیں گی جبکہ بچوں کو کیڑوں سے بچاؤ کی گولیاں فراہم کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران معمول کی حفاظتی ویکسینیشن سے محروم بچوں کو بھی ویکسین لگائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ ہفتہ صحت کے دوران مختلف علاقوں میں ہیلتھ سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے، جن میں ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ویکسینیشن، بیماریوں سے بچاؤ اور صحت سے متعلق دیگر اہم امور کے حوالے سے عوام کو آگاہی دی جائے گی انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی بہتر صحت ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے، اس لیے والدین اور عوام محکمہ صحت کی جانب سے جاری سرگرمیوں میں تعاون کریں اور بچوں کی بروقت حفاظتی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں قبل ازیں ڈی ایچ او ڈاکٹر فرید احمد خان کی قیادت میں آگاہی واک بھی نکالی گئی، جس میں محکمہ صحت کے اہلکاروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے ماں اور بچے کی صحت کی اہمیت اجاگر کرنے اور حفاظتی ویکسینیشن کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے کے عزم کا اظہار کیامبر سے لیکر 19 ستمبر تک جاری رئیگی اس مہم کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز اورسپراوئزر ویکسنیٹرز کے تعاون سے گھر گھر جاکر ماں اور بچوں کو ویکسین کے ساتھ ساتھ کھڑے مار گولیاں اور دیگر ادویات بھی ہرگھر میں ہر ماں اور بچے کو دئیں گے تاکہ ماں اور بچے دونوں خطرناک بیماریوں سے محفوظ ہوسکیں ۔اور ایک بہتر اور محفوظ قوم بن سکیں اس مقصد کے لئیے ہر طبقہ کو نیشنل پروگرام محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔اس موقع پر نیشنل پروگرام کے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپروزا ئزر کو فیلڈ اور گھر گھر جانیکیلئے ادویات گولیاں اور کٹ فراہم کی گئی ۔
خبرنامہ نمبر7688/2026
ژوب؛12ستمبر : محکمہ صحت ژوب کے زیر اہتمام یونیسف کے اشتراک سے ضلع بھر میں 14 سے 19 ستمبر تک ماں اور بچے کی صحت کا ہفتہ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی تقریب اور آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ صحت کے افسران و اہلکاروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فرید احمد خان اور فوکل پرسن حافظ حلیم شاہ نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے ہفتے کے دوران نیشنل پروگرام کے تحت مختلف سرگرمیاں جاری رکھی گئی ہے لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر خواتین کو ٹی ٹی ویکسین لگائیں گی جبکہ بچوں کو کیڑوں سے بچاؤ کی گولیاں فراہم کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران معمول کی حفاظتی ویکسینیشن سے محروم بچوں کو بھی ویکسین لگائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ ہفتہ صحت کے دوران مختلف علاقوں میں ہیلتھ سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے، جن میں ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ویکسینیشن، بیماریوں سے بچاؤ اور صحت سے متعلق دیگر اہم امور کے حوالے سے عوام کو آگاہی دی جائے گی انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی بہتر صحت ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے، اس لیے والدین اور عوام محکمہ صحت کی جانب سے جاری سرگرمیوں میں تعاون کریں اور بچوں کی بروقت حفاظتی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں قبل ازیں ڈی ایچ او ڈاکٹر فرید احمد خان کی قیادت میں آگاہی واک بھی نکالی گئی، جس میں محکمہ صحت کے اہلکاروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے ماں اور بچے کی صحت کی اہمیت اجاگر کرنے اور حفاظتی ویکسینیشن کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر7689/2026
دکی: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران مختلف ہوٹلز، نان بائی شاپس، بیکریوں اور دیگر دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے صفائی ستھرائی، اشیائے خوردونوش کے معیار و میعاد اور پرائس کنٹرول کا جائزہ لیا گیا۔ ایکسپائر اشیاء اور گلے سڑے پھلوں کی چیکنگ کے دوران ناقابلِ استعمال اشیاء کو تلف کیا گیا، جبکہ ناقص صفائی اور غیر تسلی بخش انتظامات پر متعلقہ دکانداروں کو وارننگ جاری کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ صفائی کے معیار کو بہتر بنایا جائے، عوام کو معیاری اور تازہ اشیائے خوردونوش فراہم کی جائیں اور اشیاء کی فروخت مقررہ نرخ نامے کے مطابق یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور بازاروں میں صفائی، معیار اور مقررہ نرخوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے چیکنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر7690/2026
دُکی 12 ستمبر :ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایکسپلوسوز مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، ایس پی دُکی منصور احمد بزدار، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، مائنز انسپکٹر اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع دُکی میں ایکسپلوسوز مٹیریل کی غیر قانونی خرید و فروخت، ذخیرہ اور استعمال کی روک تھام سمیت ایکسپلوسوز سے متعلق سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے بغیر لائسنس ایکسپلوسوز مٹیریل کی خرید و فروخت اور غیر قانونی استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایکسپلوسوز مٹیریل کی غیر قانونی خرید و فروخت پر مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے اور لائسنس کے بغیر کسی بھی قسم کی ایکسپلوسوز سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ایکسپلوسوز کی خرید و فروخت نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے انسانی جانوں اور عوامی و قومی املاک کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے پولیس، مائنز حکام اور دیگر متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں ایکسپلوسوز مٹیریل کی نگرانی اور چیکنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر7691/2026
لورالائی12ستمبر : ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ریونیو کورٹ ڈے کا انعقاد کیا گیا، جس کے دوران اراضی، انتقالات، ریونیو ریکارڈ، ملکیتی تنازعات اور دیگر متعلقہ ریونیو معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی گئی ریونیو کورٹ ڈے کے موقع پر بالخصوص طویل عرصے سے زیرِ التواء اور دیرینہ ریونیو مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف کیسز کا ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے فریقین کا مؤقف سنا اور قانون و ضابطے کے مطابق متعدد مقدمات کے بروقت تصفیے کے لیے ضروری احکامات جاری کییاس موقع پر ریونیو افسران اور متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ زیرِ سماعت مقدمات میں تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ریکارڈ کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ عوام کو غیر ضروری تاخیر اور دفتری پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کا عمل تیز کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ ریونیو اور اراضی سے متعلق معاملات براہِ راست عوام کے بنیادی حقوق سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کے حل میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے اور طویل عرصے سے زیرِ التواء مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہر جمعرات کو ریونیو کورٹ ڈے کے انعقاد کا بنیادی مقصد شہریوں کو اراضی، انتقالات، فرد، ریونیو ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معاملات میں ان کی دہلیز کے قریب بروقت ریلیف فراہم کرنا، زیرِ التواء مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا اور ریونیو نظام میں شفافیت و کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہیریونیو کورٹ ڈے کے انعقاد کو شہریوں کے لیے ایک مؤثر اقدام قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اس تسلسل کے نتیجے میں دیرینہ ریونیو تنازعات کے جلد اور قانون کے مطابق فیصلوں میں مدد ملے گی، جبکہ عوام کا ضلعی انتظامیہ اور ریونیو نظام پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔
خبرنامہ نمبر7692/2026
شیرانی:12ستمبر :ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) مانی خواہ کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور طبی عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیادورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف وارڈز، او پی ڈی، ایمرجنسی سمیت دیگر شعبوں کا معائنہ کیا اور ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کرکے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مریضوں اور عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل بھی سنے اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے طبی عملے کی حاضری اور ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز،پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملہ اپنی ڈیوٹیاں باقاعدگی اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکزِ صحت اور رورل ہیلتھ سینٹرز دیہی علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے، ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ متعلقہ محکمہ صحت کے ساتھ مل کر ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر7693/2026
لورالائی: یونیورسٹی آف لورالائی میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے زیرِ اہتمام “Revival of Balochistan Water Resources Programme” کے تحت چارہ جات (مکئی) کے بیج کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی۔ پروگرام کو یورپی یونین (EU) کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔تقریب میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی پروفیسرڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ان کے ہمراہ ڈاکٹر خالد خان، پی ایس او ٹو وائس چانسلر بھی موجود تھے۔ ایف اے او کی دعوت پر وائس چانسلر نے مقامی مستحق کسانوں اور beneficiaries میں چارہ جات (مکئی) کے بیج تقسیم کیے۔اس موقع پر وائس چانسلر نے مقامی کاشتکاروں کی معاونت، مویشیوں کے لیے معیاری چارے کی دستیابی اور علاقے میں پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے ایف اے او اور یورپی یونین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کو جدید سہولیات و وسائل کی فراہمی نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے بلکہ مویشی پالنے والے افراد کے لیے بھی بہتر مواقع پیدا کرتی ہیانہوں نے کہا کہ لورالائی جیسے زرعی و مالداری سے وابستہ علاقوں میں معیاری چارہ جات کے بیج کی فراہمی سے کسانوں اور مالداروں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ مویشیوں کے لیے خوراک کی دستیابی بہتر ہونے سے لائیو اسٹاک کے شعبے کو بھی فروغ ملے گاتقریب کے شرکاء نے ایف اے او اور یورپی یونین کی جانب سے بلوچستان کے آبی وسائل، زراعت اور مقامی کسانوں کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا، تاکہ ضلع لورالائی کے زیادہ سے زیادہ کسان اور مالدار اس سے مستفید ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر7694/2026
لورالائی:12ستمبر:یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو شعب تعلیم میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں تمغ امتیاز سے نوازے جانے پر یونیورسٹی کیمپس میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں فیکلٹی ممبران، انتظامی افسران، ملازمین اور طلباء نے بھرپور شرکت کی تقریب کے دوران وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے کیک کاٹا، جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلباء نے انہیں تمغ امتیاز کے حصول پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور بطورِ تحفہ یادگاری تحائف بھی پیش کییاس موقع پر شرکاء نے کہا کہ ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کے لیے تمغ امتیاز کا اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی و پیشہ ورانہ کامیابی ہے بلکہ یونیورسٹی آف لورالائی، ضلع لورالائی اور بلوچستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ ان کی تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ قومی سطح پر یہ اعزاز حاصل کرنا نوجوان نسل کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے شعب تعلیم میں اپنی خدمات کے ذریعے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی آف لورالائی میں تعلیمی و انتظامی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے اس موقع پر فیکلٹی، افسران، ملازمین اور طلباء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کی ذات کے ساتھ ساتھ ان تمام افراد کی محنت اور تعاون کا اعتراف ہے جو تعلیم کے فروغ اور یونیورسٹی کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور بہتر مواقع کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتے رہیں گے۔آخر میں یونیورسٹی آف لورالائی کے اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلباء نے ایک بار پھر وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغ? امتیاز حاصل کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے مزید کامیابیوں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر7695/2026
کوئٹہ 12ستمبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ایس او ایس چلڈرن ویلیج گزشتہ 20 برس سے یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت، تعلیم و تربیت اور انہیں ایک باوقار مستقبل فراہم کرنے کیلئے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ آج “لی پوش” کوئٹہ کی جانب سے یتیم اور مستحق بچیوں کو معاشی خودانحصاری کیلئے ایک سالہ پروفیشنل ٹریننگ پروگرام کا انعقاد ایک لائق تحسین اقدام ہے۔ ہم سابق سینیٹر اور چئرپرسن ایس او ایس ویلیج روشن خورشید بروچہ کو ہزاروں یتیم و مستحق بچوں اور بچیوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں صاحبِ استطاعت افراد آگے بڑھیں، یتیموں اور ناداروں اور مستحق افراد کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں تاکہ معاشرے کا کوئی بچہ یا بچی محرومی اور بیبسی کا شکار نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایس او ایس چلڈرن ویلیج میں منعقدہ ایوارڈز تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ظہور احمد بلیدی، ربابہ بلیدی، روشن خورشید بروچہ، وائس چانسلر سردار بہادرخان وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، پروفیسر فرخندہ اورنگزیب اور لی پوش کے سربراہ شان گچکی سمیت کئی اہم شخصیات شریک تھیں۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ انسان کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ دوسروں کیلئے کتنی آسانی، امید اور سہارا پیدا کریں۔ مجھے یہ جان کر بھی بیحد خوشی ہوئی ہے کہ لی پوش کوئٹہ کی جانب سے یتیم اور مستحق بچیوں کی معاشی خودمختاری کیلئے ایک سالہ پروفیشنل ٹریننگ پروگرام کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک تربیتی پروگرام کی تکمیل نہیں بلکہ خودانحصاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بیشمار صاحبِ استطاعت افراد موجود ہیں جو یتیموں اور مستحق خاندانوں کی مدد کیلئے خاموشی سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔بطور گورنر بلوچستان، میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ایس اویس کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم، تربیت اور فلاح و بہبود کیلئے حکومت اور میری گورنر ہاؤس کی ٹیم کی جانب سے ہر ممکن تعاون جاری رہیگا۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ہمیں جدید مہارتیں سکھانے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اب ہمارے نوجوانوں کو وسیع مواقع اور سہولیات میسر ہیں۔ ربابہ بلیدی نے کہا کہ ہماری عورتیں صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہیں ضروری ہے کہ انہیں مواقع فراہم کیا جائیں ۔۔روشن خورشید بروچہ نے یہاں کوئی یتیم نہیں ہے میں خود ہی ان بچوں اور بچیوں کی ماں ہوں۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل ٹریننگ حاصل کرنے والی بچیوں میں اسناد تقسیم کیے۔
خبرنامہ نمبر7696/2026
ہرنائی :ضلع ہرنائی میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور شہر میں امن و امان کی فضا کو مستحکم بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے شہر کے مرکزی بازار اور تجارتی مراکز کا مفصل دورہ کیا اور سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں اور گشتی ٹیموں کی کارکردگی کو براہِ راست دیکھا۔دورے کے دوران ایس پی ہرنائی نے مختلف حساس اور اہم چوراہوں پر تعینات پولیس نفری کی حاضری، ان کے الرٹ رہنے کے معیار اور گشت کرنے والے اسکواڈز کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بازار میں خریداروں اور تاجر برادری کے لیے کیے گئے تحفظاتی اقدامات کو بھی پرکھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سدباب کیا جا سکے۔جرائم میں واضح کمی اور عوامی اعتماد کی بحالی۔مقامی ذرائع اور پولیس ریکارڈ کے مطابق ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ضلع بھر میں اسٹریٹ کرائم، چوری اور دیگر سنگین جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مؤثر پٹرولنگ، جدید نائٹ ویژن کنٹرول اور وقت پر کارروائیوں کے نتیجے میں عوام اور تاجر برادری میں احساسِ تحفظ میں اضافہ ہوا ہے اس موقع پر پولیس اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی ہرنائی نے واضح کیا کہ شہریوں کا تحفظ اور امن کا قیام پولیس کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اہلکاروں کو درج ذیل ہدایات جاری کیں:ہمہ وقت چوکس رہیں: ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکار کسی بھی ممکنہ خطرے یا مشکوک سرگرمی کا بروقت تدارک کرنے کے لیے الرٹ رہیں۔مؤثر گشت: بازاروں اور گنجان آباد علاقوں میں پولیس گشت کا دائرہ کار مزید وسیع اور مربوط بنایا جائے شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے ان کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔عوامی و تجارتی حلقوں نے ایس پی ہرنائی کے اس اقدام اور شہر میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال کو سراہتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس کی کاوشوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے.
خبرنامہ نمبر7697/2026
گوادر؍پسنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی موجودگی میں اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری کی زیرِ نگرانی مختلف محکموں کی کارکردگی اور عوامی مسائل سے متعلق تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، جاری اقدامات اور عوام کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام سرکاری ادارے عوام کو ریلیف کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔اجلاس کے دوران پسنی میں گزشتہ روز سے جاری بجلی کی بندش کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ رکن صوبائی اسمبلی نے بجلی کی طویل بندش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گرڈ اسٹیشن کے خراب ٹرانسفارمر کی مرمت کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ پسنی میں بجلی کی فراہمی جلد بحال اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے تمام ادارے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات یقینی بنائیں۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں۔
خبرنامہ نمبر7698/2026
تربت (12 ستمبر 2026) جامعہ تربت کے شعبہ سوشیالوجی کے سینئر طلبہ نے بلوچستان کے کئی معروف اداروں میں آٹھ ہفتوں پر مشتمل اپنی انٹرن شپ کامیابی سے مکمل کر لی ہے، جن میں کیچ تھیلیسیمیا کئر سینٹر، سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ، بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکائٹری اینڈ بیہیویورل سائنسز، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام، اور پیپلز پرائمری ہیلتھ کئر انیشی ایٹو شامل ہیں۔انٹرن شپ کی کامیاب تکمیل پر کیچ تھیلیسیمیا کئر سینٹر کے چئرمین ارشاد عارف اور سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ کے حکام امتیاز سخی، محمد عیسیٰ اور شاکرعلی شاکر نے طلبہ میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔اس موقع پر پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر طاہر حکیم اور چئرمین شعبہ سوشیالوجی ڈاکٹر نادل بلوچ نے ان تمام اداروں کے سربراہان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انٹرن شپ کے دوران جامعہ کے طلبہ کے ساتھ تعاون کیا۔جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اپنے پیغام میں کہا کہ جامعہ تربت طلبہ کو عملی تربیت کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے، جن کا مقصد طلبہ کو سماجی طور پر ذمہ دار گریجویٹس بنانا اور انہیں اپنی کمیونٹی اور معاشرے کی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک وصوبے کے سرکاری و نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینا یونیورسٹی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
خبرنامہ نمبر7699/2026
کوئٹہ 12ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے بلڈنگ کنٹرول قوانین کے مؤثر نفاذ، محفوظ و قانونی تعمیرات اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے وژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔چیف آرکیٹیکٹ ایم سی کیو اشفاق بادینی اور میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (بلڈنگز) نوید بلوچ نے نیو سبزل روڈ (سی پیک روڈ) اور اے ون سٹی میں کارروائی کرتے ہوئے MCQ کی منظوری اور این او سی کے بغیر یا بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی پر تعمیر کی جانے والی 11 عمارتوں، پلازوں اور دکانوں کو سیل جبکہ 7 افراد کو گرفتار کرلیا۔ غیر قانونی تعمیرات کے بعض حصے مسمار بھی کیے گئے، جبکہ زرغون اور چلتن زون کے مانیٹرنگ سپروائیزرز بھی کارروائی میں موجود رہے۔واضح رہے کہ نیو سبزل روڈ (سی پیک روڈ) کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے نو کنسٹرکشن زون قرار دیا جاچکا ہے، جہاں کسی بھی نئی تعمیر کی اجازت نہیں۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ شہریوں اور بلڈرز سے اپیل کرتا ہے کہ تعمیر شروع کرنے سے قبل تمام ضروری دستاویزات، و دیگر قانونی تقاضے مکمل کریں اور کسی بھی رہنمائی کے لیے متعلقہ دفتر سے رجوع کریں۔میٹروپولیٹن کارپوریشن نے واضح کرتا ہے کہ قانونی تعمیرات میں شہریوں کو ہر ممکن سہولت دی جائے گی، تاہم منظوری کے بغیر تعمیر، قواعد کی خلاف ورزی یا نو کنسٹرکشن زون میں تعمیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
خبرنامہ نمبر7700/2026
دُکی: 12ستمبر 2026 ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی جانب سے جاری پبلک نوٹس میں صوبائی واٹر پالیسی ایکٹ، بلوچستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ قوانین کے تحت ضلع دُکی میں زیرِزمین پانی کے غیر قانونی استعمال کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے.نوٹس کے مطابق ضلع دُکی میں زیرِزمین پانی کے قانونی استعمال کے لیے تمام افراد، زمینداروں، زمین مالکان، ٹھیکیداروں اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے ضلعی واٹر مینجمنٹ کمیٹی (DWC) سے شِپ؍این او سی (NOC) حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بغیر اجازت زمین سے پانی نکالنے یا زرعی ٹیوب ویل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی ڈپٹی کمشنر دُکی نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 1978 کے واٹر ایکٹ کے تحت غیر قانونی طور پر زیرِزمین پانی کا استعمال قابلِ تعزیر جرم ہے، جس کی سزا ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں پبلک نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے ڈرِلنگ مشینری، سولر پینلز، موٹرز، پائپس اور دیگر متعلقہ آلات کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لے کر ضبط کیا جائے گا۔ اس ضمن میں کسی قسم کی درخواست، سفارش یا اعتراض قابلِ قبول نہیں ہوگاتمام متعلقہ محکموں، بالخصوص زراعت، آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی کمشنر دُکی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد زیرِزمین پانی کے ذخائر کا تحفظ، پانی کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام اور ضلع میں آبی وسائل کے منظم و قانونی استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر7701/2026
کوئٹہ, پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون سیاحت و ثقافت نوابزادہ محمد زرین خان مگسی سے مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے نوجوانوں نے ملاقات کی اور اپنے درپیش مسائل اور مشکلات سے انہیں کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر نوابزادہ زرین مگسی نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، انکے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے،نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ آج مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ نوجوانوں کے مسائل سننے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے بیشتر مسائل چھوٹی سطح کے اور قابلِ حل ہیں، اس لیے سب سے پہلے نوجوانوں کے مسائل سننا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب لسبیلہ یا جھل مگسی سمیت جہاں بھی جاتے ہیں، نوجوانوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ یوتھ پالیسی سمیت دیگر پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں نوجوانوں کا کردار اور جدید ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے۔زرین مگسی نے کہا کہ وہ خود بھی نوجوانی کے دور میں مشکل حالات سے گزر چکے ہیں، اس لیے نوجوانوں کو درپیش مشکلات کا بخوبی ادراک ہے۔ جہاں حالات سازگار ہیں وہاں نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھنا چاہیے۔نوابزادہ زرین مگسی نے مزید کہا کہ وہ کوئٹہ کے منتخب نمائندے نہ ہونے کے باوجود نوجوانوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
خبرنامہ نمبر 7702/2026
ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے ہندو محلہ اورگرونانک دربار کا دورہ۔کیا دورے کے موقع پر کالی مندر کے مہاراج گوسائیں شام گر اورگورنانک دربار کے مہاراج گنشام داس ہندو پنچایت کے ڈاکٹرگنشام داس دیوان کملیش کمار مکھی دھنیش کمار راجیش کمار راج کمار و دیگر نے انتظامی افسر کااقلیتی برادری کی عبادت گاہ دورے پر استقبال کیا۔
مہاراج گوسائیں شام گر مہاراج گنشام داس نے ڈپٹی کمشنر اور اسکے اسٹاف کو اپنے روایتی چادر بھی پہنائے اور اپنے مذہبی تاریخ عبادت گاؤں مختلف تہوار رسومات سے متعلق ڈپٹی کمشنرکو بریفنگ دی اور عبادت گاؤں کا دورہ کرایا۔اقلیتی کمیونٹی نے ڈپٹی کمشنر کو ہندو برادری کو درپیش مسائل پینے کے پانی کی قلت صفائی ستھرائی اقلیتی برادری کے طلباء وطالبات کے لیئے سکالرشپ سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کی۔اقلیتی کمیونٹی نے کہا ک ڈپٹی کمشنر کی آمد سے ہندو برادری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ڈپٹی کمشنرعائشہ زہری ایک مخلص آفیسر ہے موصوف علاقائی مسائل کے حل کے لیئے بھرپور جدوجہد کررہی ہے ضلعی انتظامیہ کا اقلیتی برادری کے ساتھ ہمیشہ بھرپور تعاون رہاہے۔
ڈپٹی کمشنر قلات انجییئر عائشہ زہری نے ہندوکمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، ان کے مسائل کا حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہندو برادری ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہے ان کے جان و مال، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندو محلہ قلات کے دورے کا مقصد علاقے کے مسائل کا جائزہ لینا اور ہندو برادری کو درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل کرنا ہےضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے،ہندو برادری کی فلاح و بہبود، صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قلات میں تمام اقلیتی برادریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور ضلعی انتظامیہ ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
خبرنامہ نمبر 7703/2026
لسبیلہ:کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء اورڈی سی لسبیلہ محترمہ حمیرا بلوچ نے ضلع لسبیلہ کے 10ہونہار طلباءوطالبات کو BEEF اسکالرشب 2025 کے لیئے منتخب ہونے پر مبارکبادپیش کی ہے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کا کہنا ہیکہ ضلع لسبیلہ کے 10 ہونہار طلباء و طالبات کوBEEF اسکالرشپ 2025 کے لیے منتخب ہونے ہراظہارمسرت کرتے ہوئے کہا ہیکہ طلباء طالبات کی یہ کامیابی ان کی محنت اورقابلیت کی بدولت ممکن یوئ ہے بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ BEEF کی جانب سے ضلع لسبیلہ کے 10 میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز، جن میں 5 طالبات اور 5 طلباء شامل ہیں، کو شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز فُلی فنڈڈ اسکالرشپ 2025 کے لیے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونا لسبیلہ ڈویژن کیلئے اعزازہے چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد ماندائی نے تمام منتخب طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو اس نمایاں تعلیمی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخاب ان طلباء کی محنت، قابلیت اور تعلیمی برتری کا اعتراف ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منتخب طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ذریعے مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت BEEF میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے مطابق بلوچستان کے باصلاحیت طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔






