خبرنامہ نمبر7611/2026
کوئٹہ، 11 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قائداعظم کا پاکستان ہماری نسلوں کی امانت ہے، جس کی مضبوطی، استحکام اور خوشحالی ہی بانی پاکستان کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی میراث پاکستان ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کو ذاتی مفاد سے بالاتر رکھتے ہوئے ایک قومی مقصد کے لیے وقف کیا اور اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور ثابت قدمی سے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاستیں محض نعروں سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ آئین و قانون کی بالادستی، مضبوط اداروں، ذمہ دار قیادت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے مستحکم ہوتی ہیں۔ قائداعظم کے اصول آج بھی پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے پاکستان میں ہر صوبے اور ہر شہری کو مساوی احترام، مواقع اور حقوق حاصل ہیں۔ قومی یکجہتی اسی وقت مضبوط ہوگی جب ملک کے تمام حصوں اور شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں اور ریاستی معاملات میں انصاف اور میرٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قانون کی بالادستی، دیانت داری اور نظم و ضبط قائداعظم کے بنیادی اصولوں میں شامل تھے۔ موجودہ دور میں ان اصولوں پر کاربند رہنا محض قومی فریضہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ضرورت بھی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ سیاسی و سماجی اختلافات کے باوجود ملک کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھنا اور قومی اداروں کو مضبوط بنانا ہی ایک مستحکم پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی برسی ہمیں صرف ان کی عظیم جدوجہد کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتی بلکہ اپنے مستقبل کے حوالے سے قومی عہد کی تجدید کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ ہمیں قائداعظم کے افکار کو عملی زندگی میں اپناتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جہاں انصاف، میرٹ، قانون کی حکمرانی اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں تعلیم، ہنر اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ ایک باصلاحیت اور بااختیار نوجوان نسل ہی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قائداعظم جسمانی طور پر آج ہمارے درمیان موجود نہیں، تاہم ان کا قائم کیا ہوا پاکستان اور ان کے اصول آج بھی قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ بانی پاکستان کے افکار کو عملی کردار میں ڈھال کر پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور باوقار ریاست بنایا جا سکتا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور قوم کو ان کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7612/2026
سبی 11 ستمبر ۔صوبائی وزیر انڈسٹریز و کامرس چیف سردار کوہیار خان ڈومکی کے ایم پی اے فنڈز سے مکمل ہونے والے ہاکی گراونڈ کا افتتاح سردارزادہ میر دینار خان ڈومکی نے بطور مہمانِ خصوصی ربن کاٹ کر کردیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر بابر علی سیلاچی، ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد جمال مری سمیت سیاسی و سماجی شخصیات، قبائلی عمائدین، کھلاڑیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔سردارزادہ میر دینار خان ڈومکی نے گراونڈ میں موجود کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ ہاکی اسٹک سے گیند پر شاٹ بھی لگایا۔ افتتاح کے بعد گراونڈ میں پہلے ہاکی مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔شرکاء نے ہاکی گراونڈ کی تکمیل کو سبی میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر انڈسٹریز و کامرس چیف سردار کوہیار خان ڈومکی کی کاوشوں کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7613/2026
کوئٹہ 11 ستمبر۔: سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عبدالروف بلوچ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کوئٹہ کی دو اضلاع میں تقسیم کے بعد بلدیاتی نظام میں ضروری قانونی و انتظامی ترامیم، مقامی کونسلوں کے قیام، ٹی ایم سیز اور شہری یونین کونسلوں کی ازسرِنو حد بندی سمیت دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر بڑیچ، سیکرٹری لوکل کونسلز بلوچستان عبدالوحید بادینی، فوکل پرسن محکمہ بلدیات و دیہی ترقی طحہٰ جنید، الیکشن کمیشن، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بلدیاتی نظام کو نئے انتظامی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010ئ میں ضروری قانون سازی اور ترامیم، بالخصوص نئے نوٹیفائیڈ اضلاع میں مقامی کونسلوں کے قیام سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔اجلاس میں کوئٹہ کی چار ٹی ایم سیز (TMCs) اور ان کے تحت آنے والی شہری یونین کونسلوں (Urban UCs) کی موجودہ حدود کا بھی جائزہ لیا گیا اور ضلع کی نئی انتظامی تقسیم کے تناظر میں ان کی ازسرِنو تعیینِ حدود اور ضرورت کے مطابق حد بندی میں ترمیم کے امور پر غور کیا گیا۔شرکائ نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ ضلع کوئٹہ کی تقسیم کے بعد مردم شماری سے متعلق چارجز، سرکلز (Circles) اور سی بی سیز (CBCs) کی موجودہ تقسیم میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں، جبکہ ضرورت پڑنے کی صورت میں متعلقہ ٹی ایم سیز اور شہری یونین کونسلوں میں ان کی دوبارہ تقسیم اور انتظامی ترتیب کے حوالے سے تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کوئٹہ کی انتظامی تقسیم کے بعد بلدیاتی اداروں کے نظام کو نئی انتظامی ضروریات کے مطابق منظم کرنا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام قانونی، انتظامی اور حد بندی سے متعلق امور کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں تاکہ نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق بلدیاتی نظام کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نچلی سطح پر مو¿ثر انتظامی ڈھانچے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے نئی اضلاع کی تشکیل کے بعد بلدیاتی اداروں کی حدود، کونسلوں کی تشکیل اور دیگر متعلقہ معاملات کو واضح قانونی و انتظامی طریقہ کار کے تحت حتمی شکل دینا ضروری ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قانونی ترامیم، حد بندی، مردم شماری سے متعلق امور اور مقامی کونسلوں کے قیام کے معاملات میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور مشاورت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ آئندہ بلدیاتی انتظامات میں کسی قسم کی انتظامی یا قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔اجلاس کے اختتام پر دیگر متعلقہ امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ضلع کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جولائی 2026 میں جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد بلدیاتی نظام کو نئی انتظامی تقسیم کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے امور اہمیت اختیار کر گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7614/2026
کوئٹہ 11ستمبر۔بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے ماہی گیری کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان عبدالمجید بادینی، ظفر علی آغا، برکت علی رند، میر ظہور بلیدی اور صفیہ فضل نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل فشریز، ایڈیشنل سیکرٹری فشریز، ایڈیشنل سیکرٹری قانون اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے آغاز میں محکمہ ماہی گیری کی جانب سے بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 کے حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں ماہی گیری، ایکوا کلچر، فشریز ہاربرز اور ساحلی ترقی سے متعلق موجودہ قوانین پرانے اور مختلف قوانین میں منقسم ہیں، جن میں بلوچستان فشریز آرڈیننس 1961، بلوچستان سی فشریز آرڈیننس 1971، پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی آرڈیننس 1983 اور بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1998 شامل ہیں۔ ان قوانین کے باعث بعض معاملات میں انتظامی و قانونی خلا اور ادارہ جاتی اختیارات میں باہمی تداخل پیدا ہو رہا ہے۔بریفنگ کے مطابق مجوزہ بل کا مقصد فشریز اور ایکوا کلچر کے شعبے کے لیے ایک مربوط اور جدید قانونی نظام وضع کرنا ہے، جس کے تحت پائیدار ماہی گیری و ایکوا کلچر، ہاربرز اور ساحلی ترقی، لائسنسنگ، ڈیجیٹل گورننس، نگرانی و مانیٹرنگ، ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو موثر بنایا جائے گا۔مجوزہ قانون کے ذریعے صوبائی قانون سازی کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی اور بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو تحلیل کرکے ان کے اثاثہ جات، واجبات، فرائض اور ذمہ داریاں محکمہ فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ کو منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ ادارہ جاتی کارکردگی، رابطہ کاری اور انتظامی امور کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی مولانا ہدایت الرحمٰن نے اہم نوعیت کے مذکورہ بل پر متعلقہ محکمے کے سیکرٹری کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہم قانون سازی کے معاملے پر متعلقہ اعلیٰ حکام کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کمیٹی کو تمام پہلووں سے مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔کمیٹی ارکان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 پر عوام، ماہی گیروں اور فش فارمرز کی آراءکو شامل کیا جانا چاہیے۔ ارکان نے کہا کہ چونکہ بل کا براہِ راست تعلق ساحلی علاقوں، ماہی گیروں اور فش فارمنگ سے وابستہ افراد سے ہے، اس لیے اس پر حتمی پیش رفت سے قبل گوادر اور لسبیلہ میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بل کے حوالے سے آئندہ اجلاس گوادر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں فش فارمرز اور دیگر متعلقہ نمائندگان کو مدعو کرکے ان کی تجاویز اور آراءحاصل کی جائیں گی۔ ارکان نے کہا کہ اگر باقاعدہ اجلاس کے انعقاد کی صورت ممکن نہ ہو تو گوادر میں اس اہم موضوع پر سیمینار منعقد کرکے عوامی و متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے حاصل کی جائے۔کمیٹی نے مزید فیصلہ کیا کہ بل پر غور کے دوران محکمہ خزانہ اور محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (S&GAD) کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ عوام کو بل کے خدوخال اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے اس کے اہم نکات کو میڈیا کے ذریعے تشہیر کرنے پر بھی زور دیا گیا۔کمیٹی ارکان نے اس امر پر اتفاق کیا کہ بلوچستان میں فشریز اور ایکوا کلچر کے وسائل کے پائیدار فروغ، تحفظ، موثر انتظام و انصرام اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے جدید اور جامع قانون سازی ناگزیر ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی موثر مشاورت اور تجاویز کو شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7615/2026
خوست ،ہرنائی11ستمبر۔ نائب قاصد سے لے کر اعلیٰ حکام تک عوامی ریلیف کی فراہمی کے حکومتی عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انتظامیہ پوری طرح متحرک ہو گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں قائم پیٹرول پمپوں کا اچانک دورہ کیا اور فیول کی قیمتوں، ماپ (گیج) اور ذخیرہ اندوزی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ترجمان کے مطابق یہ سرپرائز وزٹ عوامی سطح پر ملنے والی شکایات اور حکومتِ بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے پیٹرولیم مصنوعات کی مقررہ سرکاری نرخوں پر فروخت کا معائنہ کیا اور پیٹرول پمپوں پر نصب فیول میٹرز اور پیمانوں (Gauges) کی درستگی کی خود جانچ کی۔ انہوں نے مختلف پمپوں کے عملے سے ریکارڈ طلب کیا اور تیل کی دستیابی و مقدار کا موقع پر ہی جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خوست نے پیٹرول پمپ مالکان اور منیجرز کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومت کی طے شدہ قیمتوں سے زائد پر تیل بیچنے یا پیمانے میں کسی بھی قسم کی کمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی قحط پیدا کرنے، ذخیرہ اندوزی کرنے یا گرانفروشی میں ملوث پائے جانے والے پمپ مالکان کے خلاف ضابطے کے تحت سخت قانونی کارروائی، پمپ سیل کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام الناس کے مفادات کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نگرانی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے جاری رہے گا تاکہ گرانفروشی کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7616/2026
گوادر:11ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری صحت مراکز کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے صحت مراکز کی نگرانی کا عمل جاری ہے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے بنیادی مرکز صحت (BHU) شادوبند کا دورہ کیا اور مرکز میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے طبی و معاون عملے کی حاضری چیک کی اور مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرنے والے اہلکاروں سے ملاقات کی۔ عملے کی حاضری تسلی بخش پائی گئی۔ انہوں نے ویکسینیشن روم کا معائنہ کرتے ہوئے ویکسینز کی مناسب ذخیرہ کاری، کولڈ چین اور حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز میں ادویات کے اسٹور کا بھی معائنہ کیا اور دستیاب ادویات کی مقدار، میعادِ استعمال اور محفوظ ذخیرہ کاری کے انتظامات کا جائزہ لیا تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مریضوں کے لیے دستیاب سہولیات اور فوری طبی نگہداشت کے لیے مختص کمرے کا بھی معائنہ کیا۔ بعد ازاں ٹیلی ہیلتھ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں شادوبند کے مریضوں کو COMSATS اسلام آباد کے ڈاکٹروں کے ذریعے آن لائن طبی مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ٹیلی ہیلتھ سسٹم کے ذریعے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے براہِ راست رابطہ کیا اور دور دراز علاقوں کے مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں کی ریموٹ طبی مشاورت کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ طبی عملے کی باقاعدہ حاضری، ادویات و ویکسینز کی مناسب ذخیرہ کاری اور عوام کو بروقت و موثر طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت مراکز کو فعال اور موثر بنانا حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کے لیے طویل فاصلوں کا سفر نہ کرنا پڑے اور صحت کی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7617/2026
گوادر: 11ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری صحت مراکز کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے صحت مراکز کی نگرانی کا عمل جاری ہے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے بنیادی مرکز صحت (BHU) شادوبند کا دورہ کیا اور مرکز میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے طبی و معاون عملے کی حاضری چیک کی اور مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرنے والے اہلکاروں سے ملاقات کی۔ عملے کی حاضری تسلی بخش پائی گئی۔ انہوں نے ویکسینیشن روم کا معائنہ کرتے ہوئے ویکسینز کی مناسب ذخیرہ کاری، کولڈ چین اور حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز میں ادویات کے اسٹور کا بھی معائنہ کیا اور دستیاب ادویات کی مقدار، میعادِ استعمال اور محفوظ ذخیرہ کاری کے انتظامات کا جائزہ لیا تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مریضوں کے لیے دستیاب سہولیات اور فوری طبی نگہداشت کے لیے مختص کمرے کا بھی معائنہ کیا۔ بعد ازاں ٹیلی ہیلتھ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں شادوبند کے مریضوں کو COMSATS اسلام آباد کے ڈاکٹروں کے ذریعے آن لائن طبی مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ٹیلی ہیلتھ سسٹم کے ذریعے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے براہِ راست رابطہ کیا اور دور دراز علاقوں کے مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں کی ریموٹ طبی مشاورت کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ طبی عملے کی باقاعدہ حاضری، ادویات و ویکسینز کی مناسب ذخیرہ کاری اور عوام کو بروقت و موثر طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت مراکز کو فعال اور موثر بنانا حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کے لیے طویل فاصلوں کا سفر نہ کرنا پڑے اور صحت کی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7618/2026
اورماڑہ11 ستمبر۔: اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے حکومتِ بلوچستان کی تعلیم دوست پالیسی، معیاری تعلیم کے فروغ اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کے تحت پنجگ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ دفتر اور ملحقہ واٹر سپلائی کا دورہ اور معائنہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے دونوں تعلیمی اداروں میں تدریسی و انتظامی امور، دستیاب تعلیمی سہولیات، طلبہ و طالبات کی حاضری اور تدریسی انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ دفتر اور واٹر سپلائی نظام کے دورہ کے دوران پانی کی فراہمی، ذخیرہ اور تقسیم کے انتظامات کا معائنہ کیا انہوں نے متعلقہ حکام کو تعلیمی اداروں میں سہولیات کی بہتری، محفوظ و سازگار تعلیمی ماحول کے فروغ اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی موثر اور بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7619/2026
گوادر: 11ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت نوجوانوں کو جدید و روایتی ہنر سے آراستہ کرنے، فنی تعلیم کے فروغ اور مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے ماڈل ہائی اسکول گوادر میں قائم بوٹ میکنگ سینٹر کا دورہ کیا۔یونیسف کے تعاون سے قائم کیے گئے فنی تربیتی مرکز میں اسسٹنٹ کمشنر کو عادل نودیزئی نے طلبہ کو دی جانے والی تربیت اور مرکز کی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ گوادر کی قدیم سمندری شناخت اور ساحلی ثقافت سے جڑے روایتی ہنر کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے طلبہ کو چھوٹی اور دیدہ زیب کشتیوں کے ماڈلز تیار کرنے کی عملی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔مرکز میں پرائمری کی اعلیٰ جماعتوں سے لے کر ہائی اسکول تک کے طلبہ کو کشتیوں کے خوبصورت اور منفرد ماڈلز تیار کرنے کا ہنر سکھایا جا رہا ہے، جو نہ صرف فنی صلاحیتوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں بلکہ گوادر کی سمندری تہذیب، ثقافتی ورثے اور مقامی شناخت کی خوبصورت عکاسی بھی کرتے ہیں۔ طلبہ کی تربیت کے لیے دو تربیت یافتہ انسٹرکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مرکز میں عملی تربیت کے لیے جدید آلات اور ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے طلبہ کی تیار کردہ کشتیوں کے ماڈلز کا معائنہ کیا اور ان کے ہنر و تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے اس منفرد اقدام کو گوادر کے روایتی ہنر کے تحفظ، نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور مقامی دستکاری کو فروغ دینے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ مرکز میں تیار ہونے والی مصنوعات کو گوادر شہر میں قائم مقامی آوٹ لیٹ کے ذریعے مارکیٹ کیا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ہدایت کی کہ مقامی دستکاری کی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے بڑے شہروں، بالخصوص کراچی، کی مارکیٹ تک رسائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ طلبہ کی تیار کردہ مصنوعات کو وسیع منڈی میسر آئے اور گوادر کی منفرد سمندری شناخت کو ملک بھر میں اجاگر کیا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر نے انسٹرکٹرز، اسکول انتظامیہ اور یونیسف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فنی تربیت، مقامی ہنر کا تحفظ اور نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے گوادر کے نوجوان نہ صرف اپنی ثقافتی روایات کو آگے بڑھائیں گے بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں بھی تبدیل کر سکیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7620/2026
گوادر11 ستمبر۔ ضلعی آفیسر تعلیم گوادر زاہد حسین اور میر عبدالغفور کلمتی ویلفیئر فاونڈیشن کے چیئرمین میر ارشد کلمتی نے یونیسیف کے ضلعی پروگرام منیجر عادل نودیزئی، ڈسٹرکٹ ٹریننگ منیجر سقر ناصر، پرنسپل مجید کے بی اور دیگر اساتذہ کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول گوادر کا دورہ کیا، جہاں اسکول ڈویلپمنٹ پلان کے تحت جاری و مکمل ترقیاتی کاموں، تعلیمی سہولیات اور تدریسی ماحول کا جائزہ لیا گیا اس پر ضلعی آفیسر تعلیم زاہد حسین بلوچ و،میر ارشد کلمتی نے ECE کلاس روم کا دورہ کیا اور یونیسیف کی جانب سے فراہم کردہ ECE کٹس اساتذہ اور طلبہ کے حوالے کیں۔ بعد ازاں کشتی سازی اسکلز سینٹر کا معائنہ کرتے ہوئے طلبہ کی عملی مہارت، تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کو سراہا میر ارشد کلمتی نے کہا کہ معیاری تعلیم کے ساتھ فنی و عملی مہارتوں کا فروغ نوجوانوں کو باصلاحیت، خودانحصار اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم اور یونیسیف کی جانب سے تعلیمی سہولیات اور ہنرمندی کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7621/2026
گوادر11 ستمبر: حکومتِ بلوچستان کے RISE پروگرام کے تحت بی آر ایس پی کے صوبائی و ضلعی نمائندگان نے یونیورسٹی آف گوادر اور پاک-چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا، جہاں طلبہ و طالبات کے لیے جاری مختلف جدید آئی ٹی کورسز اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔پاک-چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں پروگرام کے تحت ویب ڈویلپمنٹ، گرافکس ڈیزائننگ، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سمیت مختلف شعبوں میں 100 طلبہ و طالبات کو جدید آئی ٹی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔وفد نے تربیتی سہولیات، طلبہ کی شرکت اور کورسز کے موثر نفاذ کا جائزہ لیتے ہوئے اداروں کے حکام، اساتذہ اور طلبہ و طالبات سے ملاقات کی۔ اس موقع پر تربیتی پروگرامز کی پیش رفت، طلبہ کی دلچسپی اور مستقبل میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر RISE بلوچستان پروگرام کے نمائندگان نے کہا کہ موجودہ دور میں روایتی تعلیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں کا حصول بھی ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے باعث نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ویب ڈویلپمنٹ سمیت روزگار اور خود روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ تربیتی پروگرامز میں بھرپور دلچسپی لیتے ہوئے باقاعدگی سے کلاسز میں شرکت کریں اور مسلسل محنت و مشق کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بہتر بنائیں، تاکہ وہ مستقبل میں باعزت روزگار اور خود روزگاری کے بہتر مواقع سے استفادہ کر سکیں۔دورے میں صوبائی کوآرڈینیٹر کیپیسٹی بلڈنگ رحیم ساسولی، کوآرڈینیٹر لاہیولی ھڈ نثار خان مری، ڈسٹرکٹ کیپیسٹی بلڈنگ آفیسر عبدالروف، ایم ای آر آفیسر گوادر شعیب اختر سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7622/2026
گوادر 11 ستمبر ۔: حکومتِ بلوچستان کی کسان دوست اور پائیدار زرعی پالیسی کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیعی)، ضلع گوادر مقبول احمد بلوچ کی نگرانی میں محکمہ زراعت توسیع گوادر نے اگست 2026 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، زرعی پیداوار میں بہتری اور کسانوں کو جدید زرعی سہولیات و رہنمائی کی فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ محکمہ کی مجموعی حاضری 92 فیصد رہی جبکہ محکمے کی جانب سے کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر (CSA)، فارمر فیلڈ اسکولز، انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ (IPM) اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے ساتھ کسانوں کو موسم، فصلوں کی بیماریوں اور کیڑوں کے تدارک سے متعلق بروقت آگاہی فراہم کی گئی۔ اگست کے دوران 135 نئے کسان رجسٹر کیے گئے، جبکہ 65 سے زائد کسانوں میں کسان کارڈز تقسیم کیے گئے محکمہ زراعت کے رپورٹ کے مطابق محکمہ نے 120 فیلڈ وزٹس، 100 فارمر فیلڈ ڈیز و آگاہی سیشنز، 50 کسان تربیتی سرگرمیوں اور 50 تکنیکی و مشاورتی خدمات کے اہداف کے مقابلے میں بالترتیب 9، 5، 3 اور 45 سرگرمیاں مکمل کیں، جبکہ سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے 23 سے زائد آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے گئے ہیں موسمیاتی تبدیلی اور غیر موسمی بارشوں کے ممکنہ نقصانات سے بچاو کے لیے کسانوں کو SMS اور واٹس ایپ الرٹس، ریزڈ بیڈز پر کاشت، مٹی کی نمکیات کے تدارک، مٹی کے نمونے لیبارٹری بھجوانے اور جپسم کے مناسب استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی۔ فصلوں کو گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹمپریچر کنٹرولڈ اسٹوریج اور زرعی انفراسٹرکچر سے متعلق تجاویز پر بھی کام جاری ہے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیعی)، ضلع گوادر کے مطابق ضلع میں معیاری بیج و کھاد کی دستیابی، پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب، پختہ زرعی نالیاں اور فارم ٹو مارکیٹ سڑکیں اہم ضروریات ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود محکمہ زراعت توسیع حکومتِ بلوچستان کی کسان دوست پالیسی کے تحت جدید، پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کے فروغ اور کسانوں کی پیداوار و خوشحالی میں اضافے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7623/2026
سیوی 11 ستمبر۔کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے BSDI فیز تھری کے تحت گاوں تلی میں 10 ملین روپے کی لاگت سے ہیٹ اسٹروک سینٹر کے منصوبے کے کام کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی و بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون سمیت ضلعی افسران، معززین علاقہ اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر محکمہ CW&PPH کے انجینئر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سول ورک کے ساتھ ساتھ سولرائزیشن، لیتھیم بیٹریز، اوور ہیڈ ٹینک، پنکھے، الیکٹرک موٹر اور ایئر کنڈیشنز سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہیٹ اسٹروک سینٹر کی تکمیل سے گاوں تلی اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران بروقت طبی سہولیات میسر ہوں گی، جبکہ مقامی آبادی کو علاج معالجے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر بھی نہیں کرنا پڑے گا۔علاقہ مکینوں نے گاوں تلی میں ہیٹ اسٹروک سینٹر کے منصوبے کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقے کی اہم ضرورت قرار دیا اور حکومت و ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی عوام دوست پالیسی اور عوامی خدمت کے عزم کا عملی مظہر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7624/2026
سیوی11 ستمبر ۔کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے BSDI فیز تھری کے تحت گاوں کڑک میں De-silting of Raw Water Tank, Water Supply Scheme Kurak کے منصوبے کے کام کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سیوی و بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ گلاب خان سمیت ضلعی افسران، معززین علاقہ اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔اس موقع پر ایس ڈی او پی ایچ ای گلاب خان نے منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب تعمیر کیا جائے گا، جہاں پانی کو اسٹور کرنے کے بعد پائپ لائنز کے ذریعے اوور ہیڈ ٹینک تک پہنچایا جائے گا۔ اس نظام کی تکمیل سے گاوں کڑک میں پانی کی فراہمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی اور علاقے کے عوام کو پانی کی سہولت میسر آئے گی کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے منصوبے کے کام کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو اس منصوبے کے ثمرات جلد حاصل ہو سکیں۔علاقہ مکینوں نے واٹر سپلائی اسکیم کے منصوبے کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقے کی اہم ضرورت قرار دیا اور حکومت بلوچستان کے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7625/2026
سیوی11 ستمبر کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے BSDI فیز تھری کے تحت گاوں خجک میں 50 ہزار گیلن گنجائش کے اوور ہیڈ اسٹوریج ریزروائر (OHSR) پر مشتمل واٹر سپلائی اسکیم کے منصوبے کے کام کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سیوی و بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ گلاب خان سمیت ضلعی افسران، معززین علاقہ اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔اس موقع پر ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ گلاب خان نے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 25 ملین روپے کی لاگت سے گاوں خجک میں 50 ہزار گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھنے والا نیا اوور ہیڈ اسٹوریج ریزروائر تعمیر کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گاوں خجک میں پہلے سے موجود واٹر اسٹوریج ٹینک پرانا اور اپنی مدتِ استعمال تقریباً مکمل کر چکا ہے، جبکہ آبادی میں اضافے کے باعث پانی کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ ذخیرہ کرنے کی سہولت آبادی کی موجودہ ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ نئے منصوبے کی تکمیل سے گاوں خجک میں پانی ذخیرہ کرنے کی اضافی گنجائش پیدا ہوگی اور تقریباً 3 ہزار افراد کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی بہتر اور باقاعدہ فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ منصوبے کا مقصد موجودہ اور مستقبل کی پانی کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے واٹر سپلائی کے مجموعی نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے منصوبے کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل کیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی سہولت جلد میسر آ سکے۔ علاقہ مکینوں نے منصوبے کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گاوں خجک کی دیرینہ ضرورت قرار دیا اور حکومت بلوچستان کے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7626/2026
سیوی 11 ستمبر .۔بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) 2026-27 کے تحت میر چاکر خان رند یونیوسٹی سیوی میں دو اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا گیا۔ منصوبوں کا افتتاح کمانڈنٹ سیوی اسکاو¿ٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر میر چاکر خان رند یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ سمیت متعلقہ افسران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایس ڈی او اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ محمد حنیف نے کمانڈنٹ سیوی اسکاو¿ٹس اور ڈپٹی کمشنر سیوی کو دونوں منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ میر چاکر خان رند یونیورسٹی سیوی میں ویٹنگ ہال کی تعمیر کے منصوبے پر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئے گی، جس میں 20 کلوواٹ سولر سسٹم اور 6 ایئر کنڈیشنرز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دوسرے منصوبے کے تحت پارکنگ شیڈ اور ٹف ٹائلز کی تنصیب کی جائے گی، جس پر 1 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ پارکنگ شیڈ میں تقریباً 50 گاڑیوں کی گنجائش ہوگی۔ ایس ڈی او نے بتایا کہ دونوں منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے اور ان کی تکمیل سے میر چاکر خان رند یونیورسٹی سیوی میں طلباء و طالبات کو سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ انتظار اور پارکنگ کے حوالے سے بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے منصوبوں پر جاری کام کا جائزہ لیتے ہوئے تعمیراتی معیار اور کام کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7627/2026
سیوی 11 ستمبر ۔کمانڈنٹ سیوی اسکاو¿ٹس کرنل منیر احمد سلطان اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت ناڑی گیج کے مقام پر “ناڑی ہیڈ ورکس ویئر اور پروٹیکشن بند کی بحالی” کے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی، ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن خادم حسین چانڈیو سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ ایگزیکٹو انجینیئر ایریگیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ محکمہ ایریگیشن حکومت بلوچستان کی جانب سے 18.231 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔منصوبے کی تفصیلات کے مطابق ناڑی ہیڈ ورکس، جو دریائے ناڑی پر واقع ہے، سیوی شہر اور گردونواح کے دیہات کے لیے آبپاشی اور پینے کے پانی کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔ برطانوی دور حکومت میں 1917ءمیں تعمیر کیے گئے اس نظام نے طویل عرصے تک علاقے کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی، تاہم 28 جون 2007ء کو 230,000 کیوسک کے شدید سیلابی ریلے نے پورا ڈھانچہ بہا دیا تھا، جس کے بعد 2008ء میں بحالی کے کام کے ذریعے پانی کی فراہمی دوبارہ بحال کی گئی۔ دریائے ناڑی کا کیچمنٹ ایریا 8800 مربع میل جبکہ کمانڈ ایریا 97,864 ایکڑ پر محیط ہے، جہاں معمول کے مطابق 120 سے 130 کیوسک پانی کا بہاو رہتا ہے۔ سیوی اور گردونواح کی بیشتر آبادی کا انحصار زراعت اور مویشی بانی پر ہے، اور یہ خطہ سبزیوں، گندم اور دیگر موسمی فصلوں کی کاشت کے حوالے سے مشہور ہے۔منصوبے کے مقاصد میں ناڑی ہیڈ ورکس ویئر کی بحالی، پروٹیکشن بند کی تعمیر و بحالی، ڈائیورشن صلاحیت کی بحالی، پانی کے بہاو کے نظم و نسق میں بہتری، ملحقہ علاقوں کو سیلابی نقصان سے تحفظ، اور کمانڈ ایریا کو آبپاشی کے پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت ویئر کے ڈھانچے کو 150 فٹ طویل حصے پر 18 انچ (225 ملی میٹر) موٹی آر سی سی دیوار و پایوں کے ساتھ دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ ڈھانچہ 2022ء کے 230,000 کیوسک جیسے شدید سیلابی ریلوں کو بھی محفوظ طریقے سے گزار سکے۔ اس کے علاوہ کٹاوسے تحفظ کے لیے پتھروں سے بھرے وائر کریٹس پر مشتمل 150 فٹ × 12 فٹ × 4 فٹ کا اپ اسٹریم ایپرن بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس اور ڈپٹی کمشنر سیوی نے منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا اور کہا کہ اس سے علاقے کے کاشتکاروں اور مقامی آبادی کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7628/2026
سیوی 11 ستمبر ۔بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت محکمہ سی ڈبلیو اینڈ پی پی ایچ کے زیرِ اہتمام ڈی ایچ کیو ہسپتال سیوی میں دو ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ سی ڈبلیو پی پی اینڈ ایچ ڈپارٹمنٹ (Comunication works physical planing and housing Department) ڈسٹرکٹ سیوی کے ایس ڈی او کی جانب سے بریفنگ کے مطابق پہلا منصوبہ “ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مردہ خانہ (مورچری) کی 10 ملین لاگت10.00 ملین روپے کی آئے گی. منصوبے کے تحت سول ورک کے ساتھ ساتھ 6 کلو واٹ سولرائزیشن، انورٹر انرجی سیور ماڈل 2.0 کے دو ایئرکنڈیشنرز، دو لیتھیم بیٹریاں، ایک الیکٹرک موٹر، ایک اوور ہیڈ ٹینک اور تین سیلنگ فینز نصب کیے جائیں گے۔ دوسرا منصوبہ “ڈی ایچ کیو ہسپتال سیوی میں ماربل ٹائلز کی فراہمی اور تنصیب ہے، جس کی لاگت 4.00 ملین روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 7575 مربع فٹ رقبے پر ماربل و ٹائلز نصب کی جا رہی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر ر الیاس کبزئی اور کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان نے منصوبوں کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کا معیار برقرار رکھتے ہوئے اسے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے سیوی میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور BSDI کے تحت جاری منصوبے علاقے کے عوام کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔ محکمہ سی ڈبلیو پی پی اینڈ ایچ کے حکام کے مطابق دونوں منصوبے مکمل ہونے پر ڈی ایچ کیو ہسپتال سیوی میں طبی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جہانزیب سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7629/2026
گوادر: 11ستمبر۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی گوادر کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع میں تدریسی عملے سے متعلق مختلف سروس معاملات اور درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زراتون بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) وہاب مجید اور ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر سوبان بلوچ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اساتذہ کے ریٹائرمنٹ، سروس، میڈیکل، اسٹڈی لیو، فیملی پنشن، جی پی فنڈ، گروپ انشورنس اور دیگر متعلقہ معاملات زیرِ غور آئے۔ اس موقع پر مختلف تعلیمی اداروں سے موصول ہونے والی درخواستوں اور سروس کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے دائر کار کے تحت تدریسی عملے کے سروس معاملات کا جائزہ لے کر انہیں متعلقہ فورم کو مزید ضروری کارروائی اور منظوری کے لیے ارسال کیا جاتا ہے، جبکہ قواعد و ضوابط کے مطابق ڈسپلنری معاملات اور ضرورت پڑنے پر انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق امور بھی اسی فورم پر زیرِ غور آتے ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے ہدایت کی کہ اساتذہ کے تمام سروس کیسز کی دستاویزات مکمل اور قواعد و ضوابط کے مطابق مرتب کی جائیں تاکہ کسی قسم کی تاخیر کے بغیر متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا سکے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر کو بھی ہدایت کی کہ مالی و سروس معاملات سے متعلق کیسز کی مکمل جانچ پڑتال اور سکروٹنی مقررہ طریقہ کار کے مطابق یقینی بنائی جائے اور ضروری کارروائی مکمل کرکے کیسز بروقت متعلقہ فورم کو بھجوائے جائیں۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کے جائز سروس معاملات کو میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد کے مطابق بروقت نمٹانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور موثر کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7630/2026
سیوی 11 ستمبر .۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی اور کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی (MCKRU) کا دورہ کیا، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ سے تفصیلی ملاقات کی گئی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر اور کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت یونیورسٹی میں قائم کی گئی ڈیجیٹل آئی ٹی لیب کا تفصیلی معائنہ کیا۔لیب میں 55 جدید لیپ ٹاپس، 2 ایل ای ڈی اسکرینز، سولر سسٹم اور ایئرکنڈیشنز نصب کیے گئے ہیں، جو طلبہ کو جدید تعلیمی و تکنیکی سہولیات فراہم کریں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی اور کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کرنل منیر احمد سلطان نے کہا کہ BSDI کے تحت میر چاکر خان رند یونیورسٹی میں ڈیجیٹل آئی ٹی لیب کا قیام علاقے کے طلبہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے وہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور سیوی میں تعلیمی و تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ نے ڈپٹی کمشنر اور کمانڈنٹ سیوی اسکاوٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل لیب کے قیام سے یونیورسٹی کے طلبہ کو تحقیق اور جدید تعلیمی سرگرمیوں میں بڑی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7631/2026
برشور۔11 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے کہا ہے کہ عوامی شکایات کا بروقت آزالہ اور بنیادی سہولیات کی دہلیز پر فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،اس سلسلے میں کھلی کچہریوں میں موصول تمام درخواستیں باقاعدہ سیریل نمبر کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جن پر مرحلہ وار عمل درآمد یقینی بنا کر سائلین کی شکایات کا خاتمہ کیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع برشور کے قبائلی و سیاسی عمائدین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر قبائلی عمائدین نے ضلع برشور میں زراعت کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور پانی کی کمی کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا،جس پر ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے واضح موقف اختیار کیا کہ ضلع میں زرعی ترقی اور پانی کے بحران کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے،جبکہ قبائلی عمائدین نے ڈپٹی کمشنر کی متحرک کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل میں گہری دلچسپی پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا،تاہم ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش چیلنجز سے مطلع اور ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی کے لیے دن رات برسرِ پیکار ہے،اور موصول شدہ درخواستوں کو سیریل نمبر الاٹ کرنے کا مقصد شفافیت اور سخت مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوام اور انتظامیہ کے مابین فاصلے ختم کر کے مسائل کا فوری حل نکالا جاسکے،انہوں نے واضح کیا کہ ضلع برشور کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے اس مشن میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7632/2026
کوئٹہ 11ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ضلعی انتظامیہ کے افسران کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، پرائس کنٹرول کارروائیوں اور کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی اسکیمات کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو آٹے کی قیمتوں اور مارکیٹ میں اس کی دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آٹے کی قیمتوں پر موثر کنٹرول یقینی بنایا جائے اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے پرائس کنٹرول کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں میں اضافہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی اسکیمات کی مسلسل نگرانی کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار، رفتار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ افسران باقاعدگی سے فیلڈ میں جا کر منصوبوں کا معائنہ کریں۔انہوں نے تمام انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے فوری حل، پرائس کنٹرول اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور فعال انداز میں انجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7633/2026
کوئٹہ 11 ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے لائیو اسٹاک کی سرکاری زمین پر مبینہ قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو گرفتار کرلیا۔کارروائی کے دوران انتظامیہ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر سرکاری اراضی پر جاری تعمیراتی کام کو فوری طور پر رکوا دیا۔ موقع پر موجود 6 افراد کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کردیا گیا، جبکہ سرکاری زمین پر قبضے کی غرض سے قائم کی گئی غیر قانونی تعمیرات اور تعمیر شدہ حصے کو بھی موقع پر مسمار کردیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے کہا کہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کے قبضے، تجاوزات یا غیر قانونی تعمیرات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افراد کو ہدایت کی کہ سرکاری زمین پر غیر قانونی سرگرمیوں سے فوری طور پر باز رہیں، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری املاک اور اراضی کے تحفظ کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7634/2026
کوئٹہ 11ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کی تعمیراتی کام کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کمانڈنٹ 115 ونگ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو، آرکیٹیکٹ سی اینڈ ڈبلیو، آئی ٹی سے متعلق ممبران اور کنسٹرکٹر سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کے جاری تعمیراتی کام، پیش رفت اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ حکام اور کنسٹرکٹر کو ہدایت کی کہ منصوبے کے باقی ماندہ کام کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے اور دو ہفتوں کے اندر منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت، سستی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ کام کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کو فعال بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ جدید آئی ٹی و ای کامرس لیب نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور ای کامرس کے شعبے میں مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7635/2026
لسبیلہ11ستمبر۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کہا ہیکہ بی۔ایس ڈی آءکی بدولت ہائیدار ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد سےبہتری آءہے ترقیاتی امور کی مانیٹرنگ سے مفادعامہ کے جاری ترقیاتی منصوبوں سے عوام الناس کوسہولیات اورخدمات کی فراہمی بہتر ہوءہے یہ بات انہوں نے ڈی سی آفس اوتھل کے کانفرنس ہال میں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرابلوچ کی۔جانب سے دی گءبریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ڈپٹی کمشنر نے بریفنگ میں بتایا ک بی ایس ڈی آءکے تحت فیز ون میں 27فیزٹو میں گیارہ اورفیز3میں 65 ترقیاتی منصوبے شامل کئے گئے ہیں فیمیل کیلئے علیحیدہ پبلک لائبریری لاکھڑامیں بنیادی صحت کے ہروگرام کے تحت رورل ہیلتھ سینٹر کی تعمیر ترقیاتی پروگرام شامل ہیں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ تعلیم آبنوشی صحت اسپورٹس بلڈنگا روڈزکی تعمیراورمیونسپل سروسزکی فراہمی کے منصوبے فیز تھری ترجیحی بنیادوں پر شامل۔ کئے گئے ہیں تمام ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے ٹینڈرزاپلوڈردیے گئے ہیں ڈی سی لسبیلہ نے بریفنگ میں بتایا کہ۔ کسانکارڈ پروگروم پر عملدرآمد اورزمینداروں کی رجسٹریشن شروع کردی گءہے زمینداروں نے ایف بی آرسے رجسٹریشن کروانے کا پراسیس شروع کیا ہے کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع لسبیلہ میں سبزی منڈی نہ ہونے سے کسان سال بھر کی محنت کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں اوربیوپاری زرعی اجناس سستے داموں خریدتے ہیں کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ لسبیلہ کوئٹہ شاہراہ کی ڈویلائزیشن منصوبے پراین ایچ اے کے زیرنگرانی کام جاری ہے ریونیوڈیپارٹمنٹ روڈکی پیمائش کے سیکشن ،4پر کام مکمل کرچکی ہے اب سیکشن 8کے مرحلے پر اراضیات کی کلیریفکیشن کا کام اسسٹنٹ کمشنر کنراج کی زیرنگرانی مکمل اسسٹمنٹ رپورٹ تیاری کے مراحل میں ہے ریونیو ڈیپارٹمنٹ تمام امورکی تصدیق کے بعداوتھل بیلہ کی متاثرہ لینڈ کی ریٹ اسسمنٹ رہورٹ فائنل کرکے این ایچ اے حکام کو پیش کریگی کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی یقینی ننانے کیلئے لینڈسروے اسسمنٹ رپورٹ جلدازجلداین ایچ اے کو پیش کی جاِئے تاکہ کسی بھی مرحلے پرروڈ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7636/2026
جعفرآباد: 11ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی کاوشوں سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات اور کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی کی ہدایات کی روشنی میں ضلع جعفرآباد میں پہلی مرتبہ خواتین کے مسائل معلوم کرنے اور ان کے بہتر حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جو اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا کی سربراہی میں منعقد ہوئی، جس میں ضلع کے تمام متعلقہ محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ کھلی کچہری میں جعفرآباد سے تعلق رکھنے والی کثیر تعداد میں خواتین نے بھرپور شرکت کی اور تعلیم، صحت، آب نوشی، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے جائز حصے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں درپیش مشکلات سمیت دیگر مسائل سے ضلعی افسران کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس موقع پر تمام خواتین سائلین کی شکایات فرداً فرداً اور بالترتیب سنی گئیں، جبکہ متعلقہ محکموں کے افسران نے ان کے مسائل اور شکایات پر جوابات فراہم کیے اور ممکنہ حل کے حوالے سے آگاہی دی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خواتین کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کے سامنے پیش کرنے کے لیے موثر پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے اور ان کے مسائل کا بہتر اور بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے، ضلعی انتظامیہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7637/2026
کوئٹہ:11ستمبر۔ بلوچستان سول سروسز اکیڈمی (BCSA)، کوئٹہ میں 8ویں ایڈہاک نصابی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی، ڈائریکٹر جنرل بی سی ایس اے نے کی۔ اجلاس میں اعلیٰ سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ مواصلات، تعمیرات، فزیکل پلاننگ و ہاوسنگ کے انجینئرز/سب ڈویژنل آفیسرز کے لیے 12 ہفتوں کے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے سپرنٹنڈنٹس و آفس کوآرڈینیٹرز کے لیے 8 ہفتوں کے تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ کمشنرز و سیکشن آفیسرز کے لیے پہلے پری سروس تربیتی پروگرام کے نصاب پر غور کیا گیا اور منظوری دی گئی۔اجلاس میں مسٹر دوستین خان جمالدینی، مسٹر عبداللہ خان، ڈاکٹر جاوید انور شاہوانی، ڈاکٹر فیصل خان، سید غوث علی شاہ، مسٹر رحمت اللہ چانگیزی اور مسٹر نذر محمد کاکڑ سمیت کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی، جبکہ مسٹر محمد رفیق رئیسانی، مسٹر محمد رفیق اور ڈاکٹر علی نواز بلوچ خصوصی مدعوین کے طور پر شریک ہوئے۔تربیتی پروگراموں کا مقصد سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ، انتظامی، تکنیکی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور موثر، شفاف اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کے لیے ان کی استعدادِ کار میں اضافہ کرنا ہے۔بلوچستان سول سروسز اکیڈمی سرکاری افسران کی استعدادِ کار میں اضافے، پیشہ ورانہ معیار کی بہتری اور بہترین طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7638/2026
چمن11ستمبر۔ چمن شہید پولیس اہلکار نظام الدین کے اہلِ خانہ کو 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک پیش چند روز قبل پولیو مہم کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار نظام الدین کے اہلِ خانہ کو ایس پی چمن اعتزاز عارف اور اے ڈی سی چمن فدا احمد بلوچ آج 10 لاکھ روپے مالیت کا امدادی چیک پیش کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ایس پی چمن اور اے ڈی سی چمن اور محکمہ انسدادِ پولیو کے افسران نے شہید اہلکار نظام الدین کی خدمات اور قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔افسران نے کہا کہ شہید نظام الدین نے پولیو مہم کے دوران اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانی کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے شہید کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی اور تعاون کے عزم کا اظہار کیا.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7639/2026
چمن11ستمبر۔ چمن وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی خصوصی ہدایات پر چمن شہر میں صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری پر مشتمل 10 روزہ خصوصی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ مہم کے دوران شہر کے مختلف علاقوں، سڑکوں، گلیوں اور میدانوں سے کچرے کے ڈھیروں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہر کی خوبصورتی اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف مقامات پر درختوں کے پودے بھی لگائے جا رہے ہیں۔صفائی مہم کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا احمد بلوچ، میئر میونسپل کارپوریشن و قبائلی رہنما حاجی حبیب اللہ اچکزئی، ڈپٹی میئر مطیع اللہ اچکزئی، چیف آفیسر حافظ منیر اور سینیٹری آفیسر محمد اصغر خان کر رہے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فدا احمد بلوچ، چیف آفیسر حافظ منیر اور ڈپٹی میئر مطیع اللہ اچکزئی نے کہا کہ صفائی مہم کا مقصد چمن شہر کو صاف ستھرا، خوبصورت اور سرسبز بنانا ہے۔ مہم کے دوران صفائی کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور شہر کی تزئین و آرائش پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف چمن، سرسبز چمن کے مقصد کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ ادارے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس مہم کی کامیابی کے لیے شہریوں کا تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں، صفائی کا خیال رکھیں اور شہر کو صاف، خوبصورت اور سرسبز بنانے کی اجتماعی کوششوں میں بھرپور تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7640/2026
کوئٹہ 11ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت قومی شاہراہ NA-25 پر جاری تعمیر و ترقیاتی کام اور اس کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، قومی شاہراہ پر جاری کام، مختلف امور میں پیش رفت اور درپیش مسائل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے متعلقہ حکام اور ریونیو اہلکاران شریک ہوئے۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے NA-25 سڑک کے مختلف حصوں میں جاری کام کی صورتحال، اب تک ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہم شاہراہوں پر جاری ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان منصوبوں کا براہِ راست تعلق شہریوں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی، ٹریفک کے نظام میں بہتری اور آمدورفت کو محفوظ اور آسان بنانے سے ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ NA-25 سڑک کے کام میں مزید تیزی لائی جائے اور ترقیاتی کام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کام کے دوران معیار اور مقررہ ضوابط پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ منصوبہ دیرپا اور عوام کے لیے موثر ثابت ہو۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سڑک کے کام سے متعلق تمام امور کو باہمی رابطے اور موثر حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے، جبکہ کسی بھی رکاوٹ یا مسئلے کی صورت میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ اس کے حل کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔انہوں نے ریونیو حکام کو بھی ہدایت کی کہ سڑک کے منصوبے سے متعلق انتظامی اور ریونیو امور کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ تعمیراتی کام میں غیر ضروری تاخیر پیدا نہ ہو۔اجلاس کے دوران NA-25 پر جاری کام کی نگرانی، متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7641/2026
کوئٹہ11 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی زیر صدارت لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز کے 9ویں سینیٹ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں مذکورہ یونیورسٹی کی حاصل کردہ نمایاں کامیابیوں، تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں، انتظامی امور اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ظہور احمد بلیدی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، پرووائس چانسلر ڈاکٹر الہی بخش، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری اور رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ بلوچ سمیت سینیٹ کے تمام اراکین نے شرکت کی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کیلئے باعثِ فخر ہے کہ گزشتہ دو برس کے مختصر عرصے میں بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثر کو تبدیل کرکے ایک قابلِ ستائش اور امید افزا تصویر پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز اس مثبت تبدیلی کی ایک روشن مثال ہے۔ جامعہ نے اپنی کارکردگی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ 41 فیصد سے بڑھا کر 85.32 فیصد تک پہنچانا اور ایک سال میں 86 ملین کی بچت کر کے نہ صرف نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک نئی تاریخ بھی رقم کی ہے جس کیلئے وائس چانسلر ڈاکٹر عبد المالک ترین اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ وژنری قیادت، میرٹ کی پاسداری، مالیاتی شفافیت اور ادارہ جاتی ڈسپلن کے ذریعے محدود وسائل میں بھی بڑے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کی 177 ریسرچ پبلیکشنز اس کے علمی و تحقیقی سفر میں ایک اہم پیش رفت ہیں جبکہ قیام سے اب تک 5 ہزار گریجویٹس کی تیاری بھی یونیورسٹی کی ایک قابلِ فخر قومی خدمت ہے۔ یہی نوجوان مستقبل میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی معیشت، سمندری وسائل، ماحولیات، لائیو اسٹاک، آبی شعبے اور دیگر متعلقہ شعبوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کا محلِ وقوع اسے پاکستان کی بلیو اکانومی، سمندری علوم، فشریز، میرین بائیو ڈائیورسٹی، کوسٹل اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ایک منفرد علمی مرکز بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی اپنی تعلیمی ترجیحات کو بلوچستان کی زراعت اور آبی وسائل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی معیشتیں صرف روایتی وسائل پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور افرادی قوت کو ترقی کا بنیادی محرک سمجھتی ہیں۔ بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی اس گلوبل چینج کا حصہ بننا ہوگا تاکہ ہمارے نوجوان روزگار کے متلاشی ہی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔ گورنر مندوخیل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹیوں میں تحقیق کو صرف تحقیقی مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے صنعت، زراعت، فشریز، آبی وسائل، ماحولیات اور لوکل اکانومی کے عملی مسائل کے حل سے جوڑا جائے۔ کسی بھی یونیورسٹی کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف رینکنگ نہیں بلکہ کوالٹی ایجوکیشن، سائنٹفک ریسرچ اور معاشرے کو درپیش مسائل کا سائنسی حل پیشِ کرنا ہے۔ لسبیلہ یونیورسٹی کے 9ویں سینیٹ اجلاس کے دوران یونیورسٹی کی تعلیمی و انتظامی کارکردگی، مالی امور، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ سینیٹ کے شرکاء اور اراکین کی تجاویز، سفارشات اور باہمی مشاورت کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
خبر نامہ نمبر7642/2026
کوئٹہ11ستمبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے میرٹ کے فروغ اور ملازمتوں کی فروخت کی روک تھام کے لیے بیوروکریسی سے حلف لینے کے اقدام کو تاریخی اور قابلِ تحسین پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صوبے میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے، جس سے نوجوانوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہوگا اور انہیں سفارش یا مالی مفادات کے بجائے قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ملازمتوں کی خرید و فروخت نہ صرف نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی بلکہ اداروں کی کارکردگی اور ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے میرٹ اور شفافیت کے لیے واضح پالیسی صوبے میں ایک منصفانہ نظام کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ میرٹ پر اہل افراد کی تقرری سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی، عوام کا اعتماد بڑھے گا اور نوجوانوں میں محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
HANDOUT NUMBER 2026/7643
QUETTA, 11 sep: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade, Bilal Khan Kakar, has termed Chief Minister Balochistan Mir Sarfraz Bugti’s initiative of administering an oath to the bureaucracy to promote merit and prevent the sale of jobs as a historic and commendable development.In a statement, he said that the initiative is an important step towards promoting transparency, merit, and good governance in the province. It will help restore the confidence of young people in public institutions and ensure that employment opportunities are provided on the basis of merit, competence, and qualifications rather than recommendations or financial considerations.Bilal Khan Kakar said that the youth of Balochistan are the province’s most valuable asset, and it is the government’s responsibility to provide them with equal opportunities to progress according to their abilities and potential. He said that the buying and selling of jobs is not only an injustice to young people but also adversely affects the performance and credibility of public institutions.He said that Chief Minister Mir Sarfraz Bugti’s clear policy for merit and transparency reflects his commitment to establishing a fair and just system in the province. The appointment of qualified and deserving individuals on merit will improve the performance of public institutions, strengthen public confidence, and promote a spirit of hard work, competence, and progress among the youth.
خبر نامہ نمبر7644/2026
کوئٹہ 11ستمبر:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آئندہ مہم کی تیاریوں، مائیکرو پلاننگ، ویکسینیشن کوریج اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو محترمہ عائشہ رضا نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی۔،صوبائی کوآرڈینیٹر ای او سی انعام الحق، اسپیشل سیکرٹری صحت شہک بلوچ، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران گزشتہ مہم کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ آئندہ مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبے سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے مستقل تدارک کے لیے بھی مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آئندہ نسلوں کو محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کرنے کے لیے صوبے سے پولیو وائرس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو ویکسین پلانے سے انکار اور زیرو ڈوز بچوں کی موجودگی دو مختلف مسائل ہیں، جن کے اسباب کا الگ الگ جائزہ لے کر مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے خاص طور پر ان اضلاع کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا جہاں گزشتہ مہمات کے دوران ویکسینیشن کوریج بہتر رہی، تاہم حالیہ مہم میں اس میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کوریج میں کمی کی وجوہات کا فوری طور پر تعین کیا جائے اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ چیف سیکرٹری نے پولیو ٹیموں اور ویکسینٹرز کی حاضری اور فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوٹی میں غفلت یا عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ جہاں عملے کی کمی ہے وہاں محکمہ صحت فوری طور پر ضروری اقدامات اٹھائے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ کوئی ناقابلِ حصول ہدف نہیں، بلکہ مؤثر حکمتِ عملی، ذمہ داری، اخلاص اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور کئی شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لہٰذا پولیو کے خاتمے کے قومی مقصد کے حصول کے لیے بھی اجتماعی عزم اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیف سیکرٹری نے آئندہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں، مہم کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا غیر ذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی۔ قبل ازیں ای او سی کوآرڈینیٹر بلوچستان انعام الحق نے سابقہ پولیو مہمات کی کارکردگی، موجودہ صورتحال اور آئندہ مہم کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔
خبر نامہ نمبر7645/2026
نصیرآباد11ستمبر:۔ماں اور بچے کی صحت محفوظ زچگی غذائیت اور صحت سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے سلسلے میں نصیرآباد میں ایک آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی و ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر نیشنل پروگرام ڈاکٹر زہیر حسین نے کی جبکہ ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے افسران و اہلکاران ضلعی سربراہان، طبی عملے سماجی کارکنوں سول سوسائٹی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کے ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں آگاہی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ماں اور بچے کی صحت، محفوظ زچگی حاملہ خواتین کی بروقت طبی نگہداشت بچوں کی بہتر نشوونما حفاظتی ٹیکہ جات متوازن غذا اور صحت کی بنیادی سہولیات کے استعمال سے متعلق پیغامات درج تھے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند ماں اور صحت مند بچے سے وابستہ ہے۔ حاملہ خواتین کو دورانِ حمل باقاعدگی سے طبی معائنہ ضروری ادویات اور متوازن غذا کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زچگی کے دوران ماہر طبی عملے کی خدمات تک رسائی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے آگاہی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گاڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے عوام پر زور دیا کہ حاملہ خواتین کے باقاعدہ طبی معائنے حفاظتی ٹیکہ جات غذائی ضروریات اور نومولود بچوں کی بروقت ویکسینیشن پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ماں اور بچے کو مختلف بیماریوں اور پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا جا سکے ریلی کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے عوامی آگاہی کو مزید فروغ دیا جائے گا اور معاشرے کے تمام طبقات کو صحت مند اور محفوظ مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر7646/2026
نصیرآبا11ستمبر:۔محکمہ صحت ضلع نصیرآباد میں گریڈ BPS-01 سے BPS-15 تک مختلف آسامیوں پر بھرتی کے لیے انٹرویوز کا آج دوسرا روز تھا انٹرویوز ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر DHO آفس نصیرآباد میں منعقد ہوئے، جہاں امیدواروں کی اہلیت تعلیمی قابلیت، تجربے اور دیگر مقررہ معیار کے مطابق جانچ پڑتال کی گئی انٹرویو پینل میں چیئرمین ڈپٹی کمشنر نصیرآباد جبکہ محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور دیگر پینل ممبران شامل تھے اس موقع پر مختلف آسامیوں کے لیے بڑی تعداد میں امیدواروں نے شرکت کی، جن میں ویکسینیٹرز، ملیریا سپروائزرز، لیڈی ہیلتھ وزٹرز، اور نرسنگ اردلی سمیت دیگر متعلقہ آسامیوں کے امیدوار شامل تھے مذکورہ آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز مقررہ قواعد و ضوابط اور شفاف طریقہ کار کے تحت انٹرویو پینل کی موجودگی میں لیے گئے پینل ممبران کی جانب سے امیدواروں سے ان کی تعلیمی قابلیت متعلقہ شعبے میں تجربے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملازمت سے متعلق ضروری معلومات کے بارے میں سوالات کیے گئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے انٹرویوز کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بھرتی کا تمام عمل میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کا انتخاب یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ سرکاری آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا جبکہ امیدواروں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ بھرتی کے مقررہ طریقہ کار اور ضروری دستاویزات کی تکمیل کو یقینی بنائیں
خبر نامہ نمبر7647/2026
نصیرآباد11ستمبر:۔ محکمہ صحت ضلع نصیرآباد میں گریڈ BPS-01 سے BPS-15 تک مختلف آسامیوں پر بھرتی کے لیے انٹرویوز کا آج دوسرا روز تھا انٹرویوز ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر DHO آفس نصیرآباد میں منعقد ہوئے، جہاں امیدواروں کی اہلیت تعلیمی قابلیت، تجربے اور دیگر مقررہ معیار کے مطابق جانچ پڑتال کی گئی انٹرویو پینل میں چیئرمین ڈپٹی کمشنر نصیرآباد جبکہ محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور دیگر پینل ممبران شامل تھے اس موقع پر مختلف آسامیوں کے لیے بڑی تعداد میں امیدواروں نے شرکت کی، جن میں ویکسینیٹرز، ملیریا سپروائزرز، لیڈی ہیلتھ وزٹرز، اور نرسنگ اردلی سمیت دیگر متعلقہ آسامیوں کے امیدوار شامل تھے مذکورہ آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز مقررہ قواعد و ضوابط اور شفاف طریقہ کار کے تحت انٹرویو پینل کی موجودگی میں لیے گئے پینل ممبران کی جانب سے امیدواروں سے ان کی تعلیمی قابلیت متعلقہ شعبے میں تجربے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملازمت سے متعلق ضروری معلومات کے بارے میں سوالات کیے گئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے انٹرویوز کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بھرتی کا تمام عمل میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کا انتخاب یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ سرکاری آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا جبکہ امیدواروں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ بھرتی کے مقررہ طریقہ کار اور ضروری دستاویزات کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر7648/2026
نصیرآباد11ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت عشر آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس سمیت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں متعلقہ ریونیو افسران اور دیگر ذمہ دار افسران نے شرکت کی اس موقع پر افسران نے ضلع بھر میں عشر آبیانہ زرعی انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری واجبات کی وصولی کی موجودہ صورتحال مقررہ اہداف اب تک کی پیش رفت اور درپیش مسائل کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی اجلاس کے دوران مختلف علاقوں میں سرکاری واجبات کی وصولی میں حائل رکاوٹوں بقایاجات کی تفصیلات اور وصولی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ عشر، آبیانہ، زرعی انکم ٹیکس اور دیگر تمام سرکاری واجبات کی بروقت اور مقررہ اہداف کے مطابق وصولی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور بقایاجات کی وصولی کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری محصولات کی وصولی ضلعی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنے فرائض ذمہ داری اور سنجیدگی سے انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وصولی کے عمل کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا سستی کا مظاہرہ نہ کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی سے نہ صرف حکومتی محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے دستیاب وسائل کو بھی مؤثر انداز میں بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں وصولی کے عمل کو مزید منظم بناتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لیں اور درپیش مسائل سے ضلعی انتظامیہ کو بروقت آگاہ کریں تاکہ انہیں فوری طور پر حل کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر7649/2026
نصیرآباد11ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے آج اوچ پاور پلانٹ کے پبلک ریلیشنز آفیسر محمد طارق خان جمالی نے ملاقات کی اس موقع پر قادر خان کھوسہ،منظور شیرازی و دیگر موجود تھے طارق خان جمالی نے اوچ پاور پلانٹ کی موجودہ صورتحال سکیورٹی انتظامات اور مجموعی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو تفصیلی بریفنگ دیبریفنگ کے دوران اوچ پاور پلانٹ کی اہمیت، تنصیب کے اطراف موجودہ سکیورٹی صورتحال، سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاپبلک ریلیشنز آفیسر محمد طارق جمالی نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو پاور پلانٹ میں سکیورٹی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات، سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی اور دیگر حفاظتی انتظامات سے بھی آگاہ کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ اوچ پاور پلانٹ ایک اہم قومی تنصیب ہے، جس کی حفاظت اور سکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام حفاظتی اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے انہوں نے کہا کہ اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوامی و قومی اہمیت کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر7650/2026
تربت11ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے تربت میں واقع چلڈرن اینڈ فیملی پارک کا دورہ کیا اور بی ایس ڈی آئی کے تحت پارک کی تزئین و آرائش، بحالی اور خوبصورتی کے لیے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے پارک کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام و کام کرنے والی ٹیم کو ہدایت کی کہ کام میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق بروقت مکمل کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ چلڈرن اینڈ فیملی پارک شہریوں، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کے لیے تفریح کا ایک اہم مرکز ہے لہٰذا پارک کی تزئین و آرائش، بحالی اور خوبصورتی کے کام میں معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ پارک میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی، خوبصورتی اور بہتر ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو ایک صاف ستھرا، خوبصورت اور معیاری تفریحی مقام میسر آ سکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ چلڈرن اینڈ فیملی پارک کو بہت جلد عوام کے لیے کھول دیا جائے گاانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ باقی ماندہ کام جلد از جلد مکمل کیے جائیں اور پارک کو مزید خوبصورت اور عوام کے لیے پرکشش بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ عوام کو بہتر شہری اور تفریحی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر7651/2026
زیارت11ستمبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ترقیاتی پالیسیوں کے مطابق ضلع زیارت میں زیارت ماسٹر پلان کے تحت مختلف لنک روڈز پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ماسٹر پلان کے تحت لنک روڈز کی تعمیر و بحالی کا مقصد شہری علاقوں کو باہم منسلک کرنا، آمدورفت کی سہولیات میں بہتری لانا اور عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔متعلقہ حکام کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ تعمیراتی کام مقررہ معیار اور ضوابط کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے ضلع زیارت میں سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ مزید بہتر ہوگا اور عوام کو آمدورفت میں سہولت میسر آئے گی۔
خبر نامہ نمبر7652/2026
اوتھل11 ستمبر:کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے متعلقہ محکموں کے افسران کے ہمراہ منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے کمپلیکس (Treatment & Rehabilitation Complex for Drug Addicts), ضلع لسبیلہ کی زیرِ تعمیر نئی عمارت کا دورہ کیا۔اس موقع پر منصوبے کے متعلقہ حکام کی جانب سے کمشنر لسبیلہ ڈویژن اور شریک افسران کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں، تعمیراتی کام، مجوزہ سہولیات، علاج معالجے اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے زیرِ تعمیر عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے بتایا کہ عمارت پر تعمیراتی کام جاری ہے اور منصوبے کی تکمیل کے بعد منشیات کے عادی افراد کو علاج، طبی نگہداشت، کونسلنگ اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کے وژن کے تحت ڈرگ فری بلوچستان انیشیٹیٹیو پروگرام کا مقصد منشیات کے استعمال کی روک تھام اور متاثرہ افراد کی مؤثر علاج و بحالی معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کو یقینی بنانے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر7653/2026
سوراب11 ستمبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایم ایس/ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف ثانی، سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس فضل محمد قمبرانی، محکمہ خزانہ کے نمائندے، پی پی ایچ آئی کے نمائندے سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حاضری، سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مختلف مراکز صحت کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی تعیناتی، تنخواہوں کی ادائیگی، ڈائیلاسز یونٹ (OT) اور طبی مشینری کی دستیابی و فعالیت سمیت دیگر اہم امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر7654/2026
گوادر11ستمبر:۔چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں گوادر شہر کو پانی کی فراہمی کے ذرائع، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے واٹر مینجمنٹ پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ملاقات کے دوران گوادر کے مرکزی آبی ذریعہ سوڈ ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچنے کے پیش نظر آنے والے مہینوں میں پانی کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ گوادر میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے کوآرڈینیٹر برائے واٹر اینڈ پاور کرائسز کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پراجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ اگر آئندہ چند ماہ کے دوران بارشیں نہ ہوئیں تو گوادر میں ممکنہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر کو پانی فراہم کرنے والے مرکزی ذریعہ سوڈ ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی کم ہوچکی ہے اور اس وقت پمپنگ کے ذریعے پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔متبادل ذریعے کے طور پر شادی کور ڈیم سے پانی کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ چائنیز واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو مکمل استعدادِ کار کے ساتھ چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی کے سلسلے میں صوبائی حکومت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت سوڈ ڈیم اور شادی کور ڈیم سے مجموعی طور پر تقریباً 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی روزانہ حاصل کرکے گوادر شہر کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ الحمدللہ اس وقت شہر میں پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے اور پانی کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔تاہم اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گزشتہ تقریباً پونے تین سال کے دوران گوادر میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہونے کے باعث آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ رواں سال مارچ میں ہونے والی بارشوں سے سوڈ ڈیم میں کچھ پانی جمع ہوا تھا، جو اب تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مستقبل میں پانی کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے مؤثر اور پیشگی واٹر مینجمنٹ حکمت عملی پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
خبر نامہ نمبر7655/2026
تربت 11 ستمبر:۔جامعہ تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف گریجویٹ اسٹڈیز کے زیراہتمام ویڈیو کانفرنس روم میں ”گریجویٹ قواعد و ضوابط اور موثر ریسرچ پروپوزلزکی تیاری” کے عنوان سے ایک کامیاب ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کا مقصد اسکالرز کو تحقیقی و تعلیمی میدان میں درکار بنیادی مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔ ورکشاپ میں جامعہ تربت کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز نے شرکت کی، جنہیں ریسرچ پروپوزل کی تیاری، گریجویٹ رولز اور تھیسس جمع کرانے کے طریقہ کار سے متعلق جامع رہنمائی فراہم کی گئی۔ورکشاپ کے دوران دو نمایاں سیشنز کا انعقاد ہوا، جن کی میزبانی شعبہ منیجمنٹ سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر غلام جان اور گریجویٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وسیم برکت نے کی۔ ڈاکٹر غلام جان نے اپنے سیشن میں موثر تحقیقی پروپوزل لکھنے کے طریقہ کار، ساخت اور بنیادی ضروریات کے بارے میں شرکاء کو رہنمائی فراہم کی، جبکہ ڈاکٹر وسیم برکت نے اپنے سیشن کے دوران جامعہ تربت کے گریجویٹ رولز اینڈ ریگولیشنز پر ایک جامع اور معلوماتی بریفنگ دی۔جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق، وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے ورکشاپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اسے ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی تحقیقی صلاحیت کو مزید نکھارنے کے لیے ایک بروقت اور اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ تربت گریجویٹ اسکالرز کو تحقیقی رہنمائی فراہم کرنے اور ان کی تحقیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، تاکہ وہ بین الاقوامی معیار کی تحقیق کرنے کے قابل ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2030 کا حصہ ہیں، جس کا بنیادی مقصد جامعہ تربت میں قومی ترجیحات پر مبنی معیاری تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور یونیورسٹی کو صفِ اول کی جامعات میں شامل کرنا ہے۔ انہوں نے اس کامیاب ورکشاپ کو جامعہ تربت کے اسکالرز میں تحقیقی شعور بیدار کرنے اور معیاری تحقیق کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق، اس وقت جامعہ میں تقریباً 64 گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ پروگراموں میں داخلے جاری ہیں۔ نوجوانوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ان معیاری اور جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی پروگراموں میں داخلہ لے کر اپنے روشن اور کامیاب مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7656
کوئٹہ11ستمبر:-صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت تعلیم کے شعبے کو صوبے کی پائیدار ترقی کی بنیاد سمجھتے ہوئے معیاری تعلیم، جدید تعلیمی سہولیات، تحقیق اور نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے متعدد اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز کے 9ویں سینیٹ اجلاس میں شرکت کے بعد اپنے جاری بیان کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ صوبے اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں اعلیٰ معیارِ تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرامز کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ جامعات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور نوجوانوں کو روزگار کے حصول کے ساتھ ساتھ روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کی جامعات میں ہونے والی تحقیق کو صوبے کے حقیقی مسائل سے جوڑنے کی ضرورت ہے، خصوصاً پانی، زراعت، فشریز، ماحولیات، معدنیات اور دیگر شعبوں میں تحقیق کے ذریعے عملی حل تلاش کیے جاسکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید علوم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بلو اکانومی، میرین سائنسز اور آبی وسائل کے شعبوں میں صوبے کے لیے اہم علمی کردار ادا کرسکتی ہےصوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت تعلیمی اداروں کی بہتری، ادارہ جاتی اصلاحات، تحقیق کے فروغ اور نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7657
لسبیلہ11ستمبر:ـوفاقی وزیر تجارت جام کمال خان عالیانی نے اپنے فنڈز سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لسبیلہ کو فرنیچر اور دیگر ضروری سامان فراہم کردیاہے جس میں صوفہ سیٹ کرسیاں میزیں اور دیگر سامان شامل ہےسامان کی فراہمی پرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لسبیلہ کے عہدیداران اور وکلاء برادری نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان عالیانی کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہےڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لسبیلہ کے صدر ارشاد محمود ایڈووکیٹ، نائب صدر قادر بخش ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری عبدالوحید ایڈووکیٹ، جوائنٹ سیکریٹری حکمت اللہ خلیجی ایڈووکیٹ، فنانس سیکریٹری منور علی ایڈووکیٹ، لائبریری سیکریٹری محترمہ ساجدہ ایڈووکیٹ اور پریس سیکریٹری ضیاء الرحمٰن ایڈووکیٹ سمیت دیگر ممھران نے جام کمال خان عالیانی کی جانب سے بار ایسوسی ایشن کے لیے فرنیچر اور ضروری سامان کی فراہمی کو قابل تحسین اقدام قراردیاہےانہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے ان کے پیشہ ورانہ امور میں مزید بہتری آئے گی انہوں نے وفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لسبیلہ کے لیے ان کی خدمات اور خصوصی توجہ قابل قدر ہے۔
خبر نامہ نمبر 7658/2026
کوئٹہ11ستمبر:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ نے مرحوم کی سیاسی، سماجی اور عوامی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے انتقال سے بلوچستان ایک مخلص اور فعال عوامی رہنماء سے محروم ہوگیا ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ مرحوم کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7659
کوئٹہ 11 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے سابق سینیٹر نصیب اللہ خان بازئی کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں گورنر بلوچستان نے کہا کہ مرحوم نصیب اللہ خان بازئی ایک شریف النفس اور باوقار انسان تھے۔ انہوں نے عوامی خدمت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دیں جنہیں تادیر یاد رکھا جائیگا۔گورنر بلوچستان نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
خبر نامہ نمبر 2026/7660
حب11ستمبر:ـوفاقی وزیر تجارت و کامرس جام کمال خان عالیانی کی خصوصی ہدایت اور جام گروپ کے سینئر ضلعی رہنما وڈیرہ عبدالمالک موندرہ کی درخواست و تجویز پر گوٹھ چاکر خان، یونین کونسل ساکران، ضلع حب میں نئی بجلی اسکیم کے لیے اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے
کے الیکٹرک حب کے انجینٙرزکی ٹیم نے ڈپٹی کمشنر حب، سیکریٹری انرجی ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ اور چیف ایگزیکٹو کے الیکٹرک کے خطوط کی روشنی میں گوٹھ چاکر خان کا باقاعدہ سروے مکمل کیا۔سروے ٹیم نے مقامی آبادی کی بجلی کی ضروریات سے متعلق کے الیکٹرک ٹیم کو آگاہ کیس اوربتایا کہ گوٹھ چاکر خان کی نئی بجلی اسکیم محض مطالبہ نہیں بلکہ اب عملی پیش رفت کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہےسروے کے بعد اسکیم کی منظوری اور بجلی کی فراہمی کے عملی کام کو جلد شروع کروانے کے لیے متعلقہ حکام سے بھرپور رابطہ جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7661
حب11ستمبر:ـسابق وزیر اعلیٰ بلوچستان وسینیٹر میر عبدالقدوس بزنجو اور قبائلی شخصیت میر جمیل احمد بزنجو کے چچا ،چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل آواران میر نصیر جان بزنجو اور جی ایم BDAمیر منیر جان بزنجو کے کزن کے انتقال پر بزنجو ہائوس حب میں تعزیت کا سلسلہ جاری ہے جمعہ کے روز تعزیت کرنے والوں میں سابق چیئرمین سینیٹ آف پاکستان و رکن صوبائی اسمبلی محمد صادق سنجرانی،صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی رکن قومی اسمبلی محمد عثمان بادینی ،میر اعجاز سنجرانی ،سابق سینیٹر کہدہ بابرسمیت ودیگر سیاسی وقبائلی شخصیات شامل تھے بزنجوہائوس آنیوالے اراکین اسمبلی سینیٹرزایم این ایز نے میرعبدالقدوس بزنجو سے تعزیت و فاتحہ خوانی کی اور مرحوم عبداللہ جان بزنجوکیلئے دعائے مغفرت کی ۔







