خبرنامہ نمبر6062/2026
کوئٹہ، 10 جولائی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن ایک طرف قتل و غارت، بدامنی اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہے تو دوسری طرف انہی جرائم کا الزام ریاست اور ریاستی اداروں پر تھونپنے کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں بھی مصروف ہے۔ بلوچستان کے محب وطن عوام کو دشمن کے اس مذموم بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے قومی یکجہتی، امن اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا انہوں نے یہ بات بی اے مال کے قریب جاری دھرنے کے شرکاء اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات اور تفصیلی گفتگو کے دوران کہی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مسئلے کے پرامن، باوقار اور دیرپا حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے بزرگوں سے ان کا باہمی عزت و احترام پر مبنی دیرینہ تعلق ہے جو آئندہ بھی برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد نہتے اور بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے شہید کرتے، خاندانوں کو اجاڑتے اور معصوم بچوں کو یتیم کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرکے عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر روز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی وقت پاکستان کے بہادر جوان وطن کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔ لسبیلہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوان بھی کسی کے بیٹے، کسی کے شوہر اور کسی خاندان کی امید تھے، جنہوں نے بلوچستان اور پاکستان کے امن، عوام کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مختلف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایک سازش دہشت گردی، تشدد اور قتل و غارت کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے جبکہ دوسری سازش انہی جرائم کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کرکے عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کے جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے سے مکمل طور پر ہوشیار رہیں اور کسی بھی ایسی مہم کا حصہ نہ بنیں جس کا مقصد قومی اداروں کو کمزور کرنا ہو۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن داد رسی یقینی بنائی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف بگٹی وہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کے پابند ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے ورثاء کو مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا، اہل خانہ کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی جبکہ شہداء کے بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور ریاست دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانا حکومت، عوام اور تمام ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد دھرنا کمیٹی اور شہداء کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی یقین دہانیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
خبرنامہ نمبر6063/2026
کوئٹہ، 10 جولائی:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مرحوم حاجی محمد اکبر کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ جا کر اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ میر سرفراز بگٹی نے سوگوار خاندان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات ایک بڑا نقصان ہے اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔
خبرنامہ نمبر6064/2026
کوئٹہ، 10 جولائی:معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ گیارہ لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کے ریلیز آرڈر جاری کر دیے گئے ہیں۔شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کے مطابق تمام شہداء کے لواحقین کو ان کی دہلیز پر معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور باعزت انداز میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام انتظامی اور مالی کارروائی غیر معمولی تیز رفتاری سے مکمل کی گئی تاکہ کسی بھی مرحلے پر تاخیر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ شہداء کے اہل خانہ کی کفالت، فلاح و بہبود اور ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات حکومت اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے برداشت کرے گی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مستقبل میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مالی معاوضہ کسی بھی صورت انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، تاہم حکومت بلوچستان اس دکھ اور غم کی گھڑی میں شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح ہدایت دی ہے کہ شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن سرپرستی اور معاونت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ قوم کے امن اور تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکار ہمارے حقیقی ہیرو ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر6065/2026
کوئٹہ، 10 جولائی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا آپریشن شعبان کامیابی سے جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی اور دہشت گرد اپنے انجام سے نہیں بچ سکتے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاک فوج، فرنٹئر کور اور بلوچستان پولیس دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مشترکہ زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کا گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے دوران اب تک 39 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ 5 جولائی سے جاری مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 75 دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ کامیابیاں سیکیورٹی فورسز کے بلند حوصلے اور مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمعہ کے روز خضدار کے علاقے زیدی میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کو بھی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کے دشمنوں کا ہر محاذ پر تعاقب جاری رکھا جائے گا اور بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر6066/2026
موسیٰ خیل 10جولائی۔ ضلع موسیٰ خیل میں تعلیمی ماحول کو سازگار اور پروان چڑھانے کے عزم کے ساتھ، ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول ڈاکیان کا خصوصی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف تعلیمی نظام کی مانیٹرنگ تھا بلکہ سکول کے ننھے طلباء کی حوصلہ افزائی کرنا بھی تھا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ایک مثالی سربراہ کی طرح سکول کے ننھے منے طلبا کے ساتھ وقت گزارا۔ انہوں نے بچوں سے نہ صرف شفقت سے مصافحہ کیا بلکہ ان کی کلاسوں میں جا کر ان سے سبق سنے اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر بات چیت کی۔ ڈپٹی کمشنر کو اپنے درمیان موجود پا کر طلباء کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے، جبکہ ان کا دوستانہ اور مشفقانہ انداز سکول میں ایک ولولہ انگیز ماحول پیدا کر گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا آج ان بچوں کی آنکھوں میں قوم کا روشن مستقبل دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ننھے معمار ہماری امید ہیں، اور انہیں بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کا مشن ہے۔ میں اساتذہ پر زور دیتا ہوں کہ وہ ان پھولوں جیسی صلاحیتوں کو علم کی آبیاری سے سنواریں تاکہ یہ مستقبل میں وطن عزیز کا مان بن سکیں انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے کھیل کود اور ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی تعلیمی عمل کا حصہ بنائیں۔
خبرنامہ نمبر6067/2026
نصیرآباد 10 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا ٹریفک نظام کی بہتری، شہر کی صفائی ستھرائی کے انتظامات، اس کے علاوہ بی ایس ڈی آئی BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اجلاس میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ،پینے کے صاف پانی کی دستیابی کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوام کی مشکلات کے پائیدار حل کیلئے مزید بہتر انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے تمام امور پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے دی گئی ذمہ داریاں محض رسمی نہیں بلکہ ان پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے انہوں نے مزید کہا کہ تمام محکمے آپس میں قریبی رابطہ، مؤثر کوآرڈینیشن اور باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ سرکاری امور میں بہتری لائی جا سکے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات کا اصل مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے، لہٰذا تمام ادارے اپنی کارکردگی میں بہتری لا کر عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں سہولیات میسر آ سکیں اور حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں
خبرنامہ نمبر6068/2026
موسی خیل 10 جولائی ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت موسی خیل توسیع شمس الحق سے ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ عثمان جعفر اور زراعت اسٹاف نے ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں زراعت کے شعبے کی ترقی، جدید تحقیقی طریقوں اور زمینداروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران دونوں ڈپٹی ڈائریکٹرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ضلع میں زراعت کی ترقی اور پیداوار میں اضافے کے لیے دونوں محکموں کا باہمی تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مل کر زمینداروں اور کسانوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں جدید زرعی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے ملاقات میں حکومت کے اہم اقدام کسان کارڈ کے حوالے سے بھی خصوصی گفتگو ہوئی۔ افسران نے اس بات پر زور دیا کہ زمینداروں کو اس کارڈ کی افادیت، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور اس سے ملنے والی سبسڈیز و دیگر سہولیات کے بارے میں بھرپور معلومات فراہم کی جائیں افسران کا موقف تھا کسان کارڈ کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انہیں بیج، کھاد اور دیگر زرعی مداخل پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ زراعت کا عملہ فیلڈ میں جا کر کسانوں کو اس کارڈ کے فوائد سے آگاہ کرے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ زمیندار اس سے مستفید ہو سکیں ملاقات کے اختتام پر زراعت اسٹاف نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افسران بالا کی ہدایت پر کسانوں کی رہنمائی اور ضلع میں زرعی انقلاب کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔
خبرنامہ نمبر6069/2026
نصیرآباد 10 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل سے ضلعی لائبریری کے طلبہ پر مشتمل ایک وفد نے ملاقات کی ملاقات کے دوران طلبہ نے لائبریری کو درپیش مختلف مسائل اور مشکلات کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وفد نے خاص طور پر مطالعہ کے لیے بہتر اور سازگار ماحول کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی کمی، بیٹھنے کے مناسب انتظام، روشنی صفائی ستھرائی اور کتب کی دستیابی جیسے امور پر توجہ دلائی اور ان مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کی درخواست کی۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے طلبہ کے مسائل کو نہایت غور اور توجہ سے سنا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ضلعی لائبریری کو درپیش تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد از جلد ضلعی لائبریری کا دورہ کریں گے، جہاں وہ سہولیات انتظامی امور اور مجموعی ماحول کا خود جائزہ لیں گے، تاکہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو معیاری تعلیمی اور مطالعاتی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی علمی و تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں اور معاشرے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو بھی ہدایات جاری کی جائیں گی کہ وہ لائبریری کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں ملاقات کے اختتام پر طلبہ نے اپنے مسائل کے حل کی یقین دہانی پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ضلعی لائبریری میں جلد از جلد مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں مزید بہتری آئے گی
خبرنامہ نمبر6070/2026
استامحمد 10 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد، محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت مون سون سیزن کے دوران متوقع بارشوں کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر احمد علی گوپانگ، پولیس، ایریگیشن، بی اینڈ آر، زراعت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر تاج محمد پلال سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں گزشتہ برسوں کے دوران بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی ممکنہ سیلابی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ آئندہ مون سون سیزن میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا اس موقع پر مختلف محکموں کی جانب سے اپنی تیاریوں، دستیاب وسائل اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ اس وقت ضلع میں زرعی اراضی کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہے تاہم مون سون بارشوں کے نتیجے میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے خطرات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ کوہِ سلیمان اور بارکھان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی صورت میں ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے جس سے نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا پیشگی اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں انہوں نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام افسران و اہلکار اپنی ذمہ داریوں پر مکمل طور پر حاضر رہیں اور غیر ضروری چھٹیوں سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے اپنی مشینری کی بروقت مرمت اور فعالیت کو یقینی بنائیں جبکہ کیرتھر کینال اور دیگر کمزور پشتوں کی فوری نشاندہی کر کے ان کی مضبوطی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشینری کو حساس اور خطرے کے حامل مقامات پر پہلے سے تعینات رکھا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے اجلاس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے زیرِ انتظام تالابوں اور واٹر اسٹوریج پوائنٹس میں زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کے اقدامات کریں تاکہ ممکنہ ہنگامی صورتحال میں پانی کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے اسی طرح بی اینڈ آر کے افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ سڑکوں کے کراسنگ پوائنٹس، پلوں اور نالوں کی بروقت صفائی کو یقینی بنائیں تاکہ بارش کے پانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور سیلابی خطرات میں کمی لائی جا سکے ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ہدایت دی کہ ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ضروری ادویات کی وافر مقدار میں دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے، ایمرجنسی رسپانس کے لیے میڈیکل اسٹاف کو الرٹ رکھا جائے، جبکہ دستیاب ادویات اور سہولیات کی تفصیلات واضح اور نمایاں مقامات پر آویزاں کی جائیں تاکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو بروقت معلومات میسر ہوں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خبرنامہ نمبر60671/2026
کوئٹہ 10 جولائی سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع خضدار ضلع مستونگ ضلع نوشکی اور ضلع سبی میں محکمہ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے خصوصی ہدایات اور سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے زیر نگرانی روزانہ کی بنیاد پر ڈی ایس سی کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ صوبے ان اسکیموں کو جلد از جلد شروع کیا جائے اجلاس میں چیف انجینئر خاران مکران زون خلیل الرحمٰن اچکزئی چیف انجینئر قلات خضدار زون عزیز اللہ کاسی چیف انجینئر سبی زون زبیر احمد کھوسہ ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی اینڈ ڈی کے حکام اور متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران ان اضلاع میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف سڑکوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے منصوبوں کی فزیبلٹی تخمینہ لاگت تکنیکی پہلوؤں اور مجوزہ مدتِ تکمیل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی نے مختلف نئے روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق متعدد اسکیموں کی منظوری کی سفارش کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ منصوبوں پر جلد از جلد عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی انتظامی اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں گے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی.
خبرنامہ نمبر6072/2026
قلات 10 جولائی ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی نے عوامہ شکایت پر شیشہ ڈغار کلی بنگلزئی واٹرسپلاء کی عدم فعالی کانوٹس لیکر متعلقہ محکمے کو فوری کارواء کی ہدایت کی ہیایکسین پبلک ہیلتھ سہیل باروزئی ایس ڈی او ہدایت اللہ بلوچ نیضلعی انتظامیہ کیاحکامات پرفوری عملدرآمدکرتے ہوئے محکمہ پبلک ہیلتھ کلی بنگلزئی شیشہ ڈغار کے خراب واٹرسپلائی کی فوری مرمت اور بور کے ناکارہ پائپ کی تبدیل شروع کردی ہے مشینری اور نئے پائپ سائٹ پر پہنچاکر انجینئر کی زیرنگرانی علاقہ مکینوں کو پانی کی سپلاء کیلئے بحالی کاکام جنگی بنیادوں پر شروع کردیا ہیعلاقہ مکینوں کا کہناہیکہ ڈپٹی کمشنر منیر احمددرانی ایک مخلص اور غریب پرور آفیسر ہے عوامی مسائل کے فوری حل کے لئے ہروقت کوشاں ڈپٹی کمشنر اور ایکسین پی ایچ ای کے زیرنگرانی ایس ڈی او ہدایت بلوچ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے بروقت اقدامات اٹھارہے ہیں ۔
خبرنامہ نمبر6073/2026
نصیرآباد 10 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی طارق شہباز، ڈاکٹر اعجاز علی، منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع کے دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکز صحت بی ایچ یوز میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی افسران نے ڈپٹی کمشنر کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تاکہ عوام کو ان کے گھروں کے قریب ہی معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ صحت سے وابستہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے دیانتداری اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ فرائض سرانجام دیں تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی عملے کی حاضری اور سروس ڈیلیوری کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی.
خبرنامہ نمبر6074/2026
کوئٹہ 10 جولائی۔ انٹرنیشنل اوورسیز اکنامک کوریڈور کے ڈائریکٹر جنرل، سیاسی، قبائلی و سماجی رہنما میر عثمان گورگیج نے بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن “شعبان” کو ریاست کے امن و استحکام کے لیے ایک فیصلہ کن اور مؤثر کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج، فرنٹئر کور (ایف سی)، بلوچستان پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگرد عناصر کے خاتمے کے لیے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشتگرد حملے کے بعد شروع کیے گئے آپریشن “شعبان” کے دوران سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشوار گزار علاقوں میں زمینی اور فضائی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خضدار کے زیدی علاقے میں پولیس اسٹیشن پر حملے کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنانا بھی سیکیورٹی فورسز کی بہترین حکمت عملی کا ثبوت ہے۔میر عثمان گورگیج نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محبِ وطن ہیں اور وہ اپنی افواجِ پاکستان، ایف سی، بلوچستان پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ صرف ریاستی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ان شاء اللہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے آپریشن “شعبان” میں حصہ لینے والے تمام جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شہداء کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی لازوال قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ہرنائی 10 جولائی۔ زیارت کچ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد اغوا اور بعد ازاں جامِ شہادت نوش کرنے والے اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) کے غازی جوان، شہید ملک سیف اللہ خان کے ایصالِ ثواب کے لیے ایس پی آفس ہرنائی میں پولیس انتظامیہ کی جانب سے ایک پروقار اور رقت آمیز دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پولیس افسران، جوانوں اور سول سوسائٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے شہید کی قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ہرنائی کے علاقے کلی سرکان کے رہائشی اور اے ٹی ایف کے دلیر جوان ملک سیف اللہ خان، جو گزشتہ دنوں 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب زیارت کچ کے مقام پر نامعلوم مسلح عناصر کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اغوا اور بعد ازاں شہید کر دیے گئے تھے، کی روح کے تسکین اور درجات کی بلندی کے لیے ایس پی آفس ہرنائی میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ضلعی پولیس کے چاک و چوبند دستوں اور افسران نے کلامِ پاک کی تلاوت کی اور شہید کے درجاتِ بلند کے لیے گریہ و زاری کے ساتھ خصوصی دعائیں
مانگیں۔ قرآن خوانی کے اختتام پر شہید کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے لنگر (طعام) کا وسیع انتظام کیا گیا جو شرکاء اور مستحقین میں تقسیم کیا گیا۔اس پروقار دعائیہ تقریب کی قیادت ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھاکرانی نے کی۔ تقریب میں ہرنائی پولیس کے اعلیٰ حکام، ماتحت عملے، پولیس کے جوانوں، مقامی معززین اور بچوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہید ملک سیف اللہ خان کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید نے وطنِ عزیز اور امن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے محکمہ پولیس اور اپنے قبیلے کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔مقررین اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں کی یہ لازوال قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی، اور امن و امان کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایسے بزدلانہ ہتھکنڈے فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ تقریب کا اختتام شہید کے وطنِ عزیز کے لیے پیش کردہ خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے اور ملک و قوم کی سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ ہوا، جہاں ہر آنکھ وطن کے اس بہادر سپوت کی جدائی پر اشکبار نظر آئی۔
خبرنامہ نمبر 6076/2026
کوئٹہ، 10 جولائی:حکومت بلوچستان نے زیارت میں دہشت گردوں کے حملے کے دوران شہید ہونے والے ایس ایچ او سمیت 18 پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ گیارہ لاکھ روپے مالی معاونت کی ادائیگی کے ریلیز آرڈر جاری کر دیے ہیں جس کے بعد متعلقہ انتظامی افسران نے معاوضہ پیکج شہداء کے گھروں تک پہنچا دئیے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ معاوضے کی ادائیگی کے یہ ریلیز آرڈر ان شہداء کے لیے جاری کیے گئے ہیں جن کی تدفین مکمل ہو چکی ہے شاہد رند کے مطابق جن 18 شہداء کے لواحقین کے لیے معاوضے کے ریلیز آرڈر جاری کیے گئے ہیں ان میں ایس ایچ او صحبت خان (انسپکٹر)، شیر محمد (کانسٹیبل C/463)، عبدالباقی (کانسٹیبل C/726)، آزاد خان (کانسٹیبل C/320)، جہانگیر خان (کانسٹیبل C/289)، سجاد احمد (کانسٹیبل C/467)، محیب اللہ (کانسٹیبل C/159)، محمد زمان (کانسٹیبل C/578)، محمد شاہ (کانسٹیبل C/233)، مقبول احمد (کانسٹیبل C/361)، عطا اللہ (کانسٹیبل C/582)، کلیم اللہ (کانسٹیبل C/165)، عبدالسلام (کانسٹیبل C/449)، دین محمد (کانسٹیبل C/353)، سیف اللہ (اے ٹی ایف ہیڈ کانسٹیبل HC/152)، محمد اقبال (اے ٹی ایف کانسٹیبل C/4162)، محمد سلیم (اے ٹی ایف کانسٹیبل C/5361) اور زمین علی (اے ٹی ایف کانسٹیبل C/7484) شامل ہیں۔
خبرنامہ نمبر 6077/2026
کوئٹہ10جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی یونیورسٹی آف لورالائی کے چھ گھنٹے طویل سینیٹ اجلاس میں آخر تک موجود رہے جو اپنے صوبہ کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے ان کے غیرمتزلزل عزم کا بڑا ثبوت ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قیام کے مختصر عرصے میں لورالائی یونیورسٹی کوالٹی ایجوکیشن اور جدید مہارتیں سکھانے کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی نے نہ صرف اپنے اکیڈمک ڈسپلن میں اپنا امتیاز برقرار رکھا ہے بلکہ اب الائیڈ سائنسز میں بھی بڑی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ طلباء وطالبات جدید سائنسی شعبوں اور جدید مہارتوں دونوں میں معیاری تعلیم حاصل کریں تاکہ مذکورہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس اپنی عملی زندگی میں معاشی طور پر خودمختار اور مسابقتی بننے کے قابل رہیں۔ یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس میں وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندہ نور امنہ ملک، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرو وائس چانسلر عادل زمان کاسی اور رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان سمیت تمام سینیٹ ممبران موجود تھے۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن قومی سطح پر وسیع علم و تجربے کے ستون کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے جو ہماری یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم اور جدید ریسرچ کے فروغ کیلئے قابل قدر معاونت اور فکری رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ سردست یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے مالی استحکام کو مضبوط کریں۔ اس کیلئے دوجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے پہلا آمدنی کے نئے اور پائیدار ذرائع پیدا کریں اور دوسرا اپنے تمام غیرضروری اخراجات کو پر ممکن حد کم کریں۔ گورنر مندوخیل نے ہدایت دی کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقررہ وقت پر اپنے سینیٹ کے ہر اجلاس کیلئے مکمل ایجنڈا اور تمام متعلقہ دستاویزات سینیٹ ممبران کو کم از کم ایک ہفتہ قبل بھیج دی جائیں جس کے نتیجے میں مناسب غور و خوض اور بہتر فیصلہ سازی ممکن ہو سکے گی۔ گورنر مندوخیل نے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان کاکڑ اور ان کی پوری ٹیم کو یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے اور اس کے معیار کو بلند کرنے میں ان کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب آپ اپنی بھرپور توجہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئے تعلیمی پروگرامز کو متعارف کرانے پر مرکوز کریں تاکہ لورالائی یونیورسٹی بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے جدید تعلیم اور روزگار کے نئے مواقعوں کے موثر و معتبر وسیلہ کے طور پر کام کرتی رہے۔ یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس کے تمام شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔
خبرنامہ نمبر 6078/2026
نصیرآباد: 10 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت آج ڈسٹرکٹ الاٹمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ محکموں کے افسران اور الاٹمنٹ کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈیرہ مراد جمالی کے شہریوں کے دیرینہ مطالبہ یعنی رہائشی پلاٹس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اس موقع پر بتایا گیا کہ ماضی میں مختلف ادوار میں الاٹمنٹ کے اعلانات کیے گئے تھے تاہم بعض انتظامی و تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث ان پر مکمل عملدرآمد ممکن نہ ہو سکا تھا ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی میں فیز ون کے تحت الاٹمنٹ کے عمل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں تمام متعلقہ سرکاری محکموں کو تحریری طور پر خطوط جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ منصوبے کی باقاعدہ منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ جلد ہی ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے اور جیسے ہی نقشہ جات میپس موصول ہوں گے الاٹمنٹ کے عمل کو عملی شکل دے دی جائے گی
انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کی جائے گی اور ہر درخواست گزار کو علیحدہ اور واضح الاٹمنٹ آرڈرز جاری کیے جائیں گے عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً ضروری ہدایات بھی جاری کی جاتی رہیں گی تاکہ شہری آسان اور شفاف طریقہ کار کے تحت اپنے کاغذات جمع کروا کر الاٹمنٹ آرڈر حاصل کر سکیں ڈپٹی کمشنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مالکانہ حقوق کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور بھرپور تعاون کریں تاکہ الاٹمنٹ کا یہ اہم عمل شفاف منظم اور بروقت مکمل کیا جا سکے اجلاس کے اختتام پر الاٹمنٹ کمیٹی کے ممبران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شہریوں کو مالکانہ حقوق کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں گے اور تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے الاٹمنٹ کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا، تاکہ ڈیرہ مراد جمالی کے عوام کے دیرینہ مطالبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 6079/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار فوری طور پر سیول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی پہنچ گئے یہ اقدام نوتال کے قریب پیش آنے والے ٹریفک حادثے کے بعد کیا گیا جس میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی امداد کے لیے سیول ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ڈپٹی کمشنر کی ہدایات کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن میں ایمرجنسی علاج ادویات، ڈاکٹرز اور دیگر ضروری طبی عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر انتظامیہ نے ہسپتال میں موجود تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی اور صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھی گئی تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ ہو۔ضلعی انتظامیہ اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ عوام کو ہنگامی حالات میں بروقت اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جائیں







