6th-November-2026

خبرنامہ نمبر9716/2026
کوئٹہ، 6 نومبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل خدمت ہے، کسی ضرورت مند اور مشکل میں گھرے شہری کے چہرے پر مسکراہٹ لانا میرے لیے سب سے بڑا اطمینان ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو مشکلات میں تنہا نہ چھوڑے اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بینائی سے محروم کوئٹہ کے شہری محمد زاہد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وزیر اعلیٰ نے محمد زاہد کی مالی معاونت کی اور ان کی آنکھوں کے علاج اور بینائی کی بحالی کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ ان کے غریب اور بے روزگار دوست جان محمد کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے رکشہ بھی تحفے میں دیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محمد زاہد کی آنکھوں کے علاج کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور اگر ان کا علاج لندن، امریکہ، دبئی یا دنیا کے کسی بھی ملک میں ممکن ہوا تو حکومت اس ضمن میں مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی مستحق شہری کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، معذوری کسی انسان کی صلاحیتوں اور عزت نفس میں کمی کا باعث نہیں بنتی، ایسے افراد کو باعزت زندگی اور خودمختار روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کا کوئی مستحق شہری علاج، روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہے۔ انسانیت کی خدمت ہمارا نصب العین ہے اور عوام کی مشکلات کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر محمد زاہد نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ عوام کے دکھ درد کو سمجھنے اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینے والے متحرک وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس سے قبل بھی ان کے علاج کے لیے 10 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی اور روزگار کے حصول میں مدد کی۔ محمد زاہد کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہمیشہ ان کی مشکلات کو سمجھا اور انہیں کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجا۔ محمد زاہد اور ان کے دوست جان محمد نے مالی معاونت، علاج کے لیے مکمل تعاون اور روزگار کے لیے رکشہ فراہم کرنے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9717/2026
تربت 6نومبر۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں ضلع کیچ کے مجموعی ترقیاتی امور اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی اسکیموں، نئے منصوبوں اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ان پر عمل درآمد سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے صوبائی وزیر کو ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور مختلف اسکیموں پر ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے منصوبوں کے معیار، شفافیت اور تعمیراتی کاموں کی نگرانی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات بروقت حاصل ہوسکیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے صوبائی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9718/2026
گوادر 6 نومبر ۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج گوادر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کالج کے پرنسپل پروفیسر نصیر احمد بلوچ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا رکن صوبائی اسمبلی نے کالج کی مختلف کلاسز اور سائنسی لیبارٹری کا تفصیلی معائنہ کیا اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کالج کے تدریسی عملے سے بھی ملاقات کی اور کالج میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، انتظامی امور اور مجموعی تعلیمی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا اس موقع پر پرنسپل پروفیسر نصیر احمد بلوچ نے انہیں کالج کی تعلیمی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی رکن صوبائی اسمبلی نے کالج کی بہتری اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9719/2026
کوئٹہ6 نومبر ۔بلوچستان پولیس اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے درمیان جدید ڈیجیٹل شناختی و بائیومیٹرک سروسز کے حصول اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے۔ یہ معاہدہ آج جمعہ کےروز سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں طے پایا، اس موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر، ڈی جی نادرا سہیل جہانگیر ،ایڈیشنل آئی جی آپریشنز شہزاد اکبر، ایڈیشنل آئی جی ایڈمن جاوید مہر، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز و اسپیشل برانچ طاہر علاالدین، ڈی آئی جی ٹیلی وزیرخان ناصر اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس معاہدے کے تحت نادرا بلوچستان پولیس کو جدید ملٹی بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (MBVS)، نادرا فارنزک ایکوزیشن ایپلی کیشن (NFAA) اور پاک آئی ڈی انٹرپرائز یوزر (PakID Enterprise User) کی سہولیات فراہم کرے گا۔ پولیس اور نادرا کے مابین معاہدے کےتحت پولیس خدمت مرکز (PKM) کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پاک آئی ڈی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے شہریوں کی بائیومیٹرک تصدیق، شناختی کارڈز اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور مجاز پولیس اہلکاروں کے لیے جدید شناختی تصدیقی سہولیات میسر آئیں گی۔ اس اقدام سے شناختی تصدیق کے عمل کو مزید موثر، مستند اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ عوام کو فراہم کی جانے والی پولیس خدمات کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔جبکہ نادرا فارنزک ایکوزیشن ایپلی کیشن (NFAA) کے ذریعے فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت پر مبنی جدید فارنزک میچنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس کے نتائج ایک محفوظ رابطہ نظام کے ذریعے سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں قائم مخصوص پورٹل پر دستیاب ہوں گے۔ یہ سہولت جرائم کی تفتیش، مشتبہ افراد کی شناخت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ معاہدے میں شہریوں کے کوائف کے تحفظ، رازداری اور مجاز استعمال کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سکیورٹی ضوابط کی پابندی بھی شامل ہے۔یہ اسٹریٹجک شراکت داری بلوچستان میں ڈیجیٹل پولیسنگ کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ بلوچستان پولیس اور نادرا مابین یہ تعاون صوبے میں محفوظ، موثر، شفاف اور عوام دوست پولیسنگ کے قیام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9720/2026
شمالی ڈیرہ بگٹی6 نومبر ۔ڈی آئی جی پولیس کوہِ سلیمان رینج ایاز احمد بلوچ کا شمالی ڈیرہ بگٹی کا دورہ؛ جدید سیف سٹی پولیس سسٹم کا معائنہ، امن و امان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زورشمالی ڈیرہ بگٹی (بیکڑ): ڈی آئی جی پولیس کوہِ سلیمان رینج ایاز احمد بلوچ نے ضلع شمالی ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سیف سٹی پولیس سسٹم اور کنٹرول روم کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر انہیں سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب جدید کیمروں، مانیٹرنگ سسٹم اور دیگر سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ڈی آئی جی پولیس نے کہا کہ جدید سیف سٹی سسٹم جرائم کی روک تھام، مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے ضلع میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، عوامی خدمت اور پولیسنگ کے نظام کو موثر بنانے کے لیے ایس پی شمالی ڈیرہ بگٹی سردار محمد ہاشم کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور اقدامات کو بھی سراہا۔ڈی آئی جی پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر نگرانی اور پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9721/2026
بختیار آباد ڈومکی , 6 نومبر ۔ صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان چیف سردار کوہیار خان ڈومکی نے آج گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بختیار آباد ڈومکی میں جدید آئی ٹی لیب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر میر سیف اللہ خان ڈومکی، ایم ایس سبی ڈاکٹر جہانزیب گشکوری، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لیاقت علی لغاری ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر سعید احمد سیلاچی، یوسی چیئرمین بختیار آباد اکبر سولنگی ہیڈ ماسٹر حاجی خان اور نبی بخش ڈومکی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سردار کوہیار خان ڈومکی نے کہا کہ جدید آئی ٹی لیب کے قیام سے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ آج کے دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اور آئی ٹی علوم سے آگاہی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد نوجوان نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر9722/2026
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت صوبے میں دانش سکولوں کے قیام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ اضلاع میں سکولوں کی تعمیر میں ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیم صوبے کی ترقی اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سکولوں کی تعمیر کے کام میں تیزی لائی جائے اور تمام منصوبے مقررہ وقت اور معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سکولوں کے قیام کے ساتھ ہی اساتذہ اور دیگر عملے کی تعیناتی کے لیے اشتہارات جاری کیے جائیں تاکہ تعمیر مکمل ہوتے ہی بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کی جا سکے اور کسی قسم کا وقت ضائع نہ ہو۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڑوب، قلعہ سیف اللہ، راڑہ شم، صحبت پور، خضدار، بیکڑ اور سیوی میں دانش سکولوں کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی نگرانی کی جائے اور رکاوٹوں کا فوری ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیم تک بچوں کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ، باوقار اور جدید تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، سیکرٹری سکولز لعل جان جعفر اور متعلقہ سینئر آفیسران نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9723/2026
خضدار 9 نومبر ۔حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے کے 12 اضلاع کے نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے مستفید کرنے کے لیے ٹیکنیکل تربیت اور معاونت فراہم کرنے کے پروگرام میں ضلع خضدار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ بیرون ملک روزگار کے لیے کے ڈسٹرکٹ خضدار کے بے روزگار نوجوانوں نے ان لائن اپنی رجسٹریشن کروائی ہے وہ نوجوان 9 نو مبر 10 بجے ڈپٹی کمشنر حب کے افس میں انٹرویو دینے کے لیے اپنے حاضری کو یقینی بنائیں حکومت بلوچستان نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور انہیں بیرونِ ملک روزگار کے مواقع تک رسائی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام ضلعی سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے ذریعے نوجوانوں کو اس حکومتی پروگرام سے متعلق آگاہی فراہم کریں اور رجسٹریشن سمیت درخواست دینے کے طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو مستفید کرنا ہے تاکہ وہ فنی مہارت حاصل کرکے بیرونِ ملک روزگار کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع کو ایک سو نوجوانوں کو تیکنیکی تعلیم فراہم کرکے انہیں کارآمد شہری بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9724/2026
قلعہ عبداللہ 6نومبر۔: عرفان احمد خلجی نے اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ کی حیثیت سے باقاعدہ چارج سنبھال لیا ہے۔ چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی شروع کر دی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9725/2026
قلعہ عبداللہ6نومبر۔:: ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی اور اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ و گلستان عرفان احمد خلجی کے ساتھ کامیاب مذاکرات، مغوی نوجوان کی بازیابی اور مظاہرین کے جائز مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد میزئی اڈہ پر جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جس سے کئی روز سے معطل آمدورفت بحال ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے تنگ میزئی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے، جس میں والد اور بیٹے کو قتل جبکہ ایک نوجوان کو اغوائ کیا گیا تھا، کے خلاف مقامی قبائل کی جانب سے میزئی اڈہ پر احتجاجی دھرنا دیا جا رہا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کی کوششوں، کامیاب مذاکرات اور مغوی نوجوان کی بازیابی کے بعد دھرنا کمیٹی نے اجتماعی مشاورت کے ذریعے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر دھرنا کمیٹی کے سربراہ حاجی کلیم اللہ کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے واقعے کے مختلف پہلووں اور علاقے کی مجموعی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ احتجاج میں شریک کسی بھی فرد کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کی جائے، علاقے کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو عملی طور پر حل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے دھرنا کمیٹی اور قبائلی مشران کو یقین دہانی کرائی کہ احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے جائز مطالبات کے حل، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔دھرنے کے دوران مختلف قبائلی مشران اور سیاسی رہنماوں نے بھی خطاب کیا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں قبائلی مشران، سیاسی رہنماوں اور دھرنا کمیٹی کے مشترکہ فیصلے کے تحت احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر واقعے میں شہید ہونے والے والد اور بیٹے کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے روانہ کر دی گئیں۔ شہدائ کی نمازِ جنازہ آج شام 5 بجے تنگ میزئی کے آبائی قبرستان میں ادا کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی، اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ و گلستان عرفان احمد خلجی، مغوی نوجوان کی بازیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے جرگے کے سربراہ مولوی مفتی غلام حیدر سمیت قبائلی مشران اور سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔احتجاجی دھرنا ختم ہونے کے بعد کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا، جس سے مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوا اور شاہراہ پر معمول کی آمدورفت بحال ہوگئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9726/2026
چمن6نومبر۔ : انسدادِ پولیو مہم کے پانچویں روز تحصیلدار احمد خان نے فیلڈ میں مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور پولیو ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران تحصیلدار احمد خان نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے، ان کی انگلیوں پر لگائے گئے نشانات (فنگر مارکنگ) کی تصدیق کی اور گھروں پر کی گئی پولیو مارکنگ کا بھی معائنہ کیا تاکہ مہم کے دوران بچوں تک ویکسین کی رسائی اور مقررہ اہداف کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر انہوں نے موقع پر موجود والدین اور شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں پولیو ویکسین کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا اور اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔تحصیلدار احمد خان نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ پولیو ٹیموں اور متعلقہ افسران کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مہم کے اختتام تک مکمل چوکنا، مستعد اور اپنی ڈیوٹی پر موجود رہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے، ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے اور مہم کے دوران مو¿ثر نگرانی کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9727/2026
قلعہ عبداللہ6نومبر۔: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلعہ عبداللہ ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو کی زیرِ صدارت آج ای پی آئی سیل قلعہ عبداللہ میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام (EPI) کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایم پی پی ایچ آئی محمد داود خان کاکڑ، رحمت خان اچکزئی، آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے نمائندوں، ڈسٹرکٹ سرویلنس آفیسر (DSV)، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ای پی آئی، تحصیل مانیٹرنگ کوآرڈینیٹرز (TMCs)، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن پی پی ایچ آئی اور ضلع بھر کے تمام انچارج ویکسینیٹرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کی مجموعی کارکردگی، اہم کارکردگی کے اشاریوں (Key Performance Indicators)، ویکسینیشن کے اہداف کے حصول اور جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے پروگرام پر عملدرآمد، فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل اور کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے اپنی رپورٹس اور تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کھوسو نے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی موثر نگرانی، مقررہ اہداف کے حصول، ویکسینیشن کوریج میں بہتری اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط روابط کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں درپیش مسائل کے حل، کارکردگی میں مزید بہتری اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے موثر نفاذ کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ افسران اور ویکسینیٹرز کو اپنی ذمہ داریاں مزید موثر انداز میں انجام دینے اور فیلڈ سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔اجلاس کا مقصد ضلع بھر میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو مزید فعال، موثر اور نتیجہ خیز بنانا اور بچوں کو مختلف موذی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری کوششوں کو بہتر بنانا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9728/2026
چمن6نومبر۔ : ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی امان اللہ اچکزئی کی رہائش گاہ پر جا کر ان کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مرحومہ کے ایصالِ ثواب، مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی، جبکہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9729/026
بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، آڈٹ رپورٹ 2023 -24 میں شامل محکمہ مواصلات و تعمیرات کے آڈٹ پیرازپرغور۔ رپورٹ کے مطابق، سی اینڈ ڈبلیو (C&W) ڈیپارٹمنٹ نے مالی سال 2023-24 کے دوران 12 ارب 11 کروڑ سے زائد کے بے قاعدہ Irregular اخراجات کیے۔ بے قاعدہ اخراجات پر چیئرمین پی اے سی اصغر ترین و کمیٹی اراکین نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صرف ایک مالی سال میں محکمہ اتنی بڑی رقم کی بے قائدہ اخرجات کیے یہ محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کمیٹی نے ایک اور پیرا پر 13 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ بے ضابطگیوں پر 100 فیصد ریکوری کی ہدایت دی
پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے نظام پر تحفظات کا اظہار، غیر ضروری تقرریوں، گاڑیوں کی خریداری اور اضافی اخراجات سے متعلق ریکارڈ طلب بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی کی نئی کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین ولی محمد نورزئی، رحمت صالح بلوچ، زمرک خان اچکزئی، فضل قادر مندوخیل، میرمحمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان نورالحق، سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان، اسپیشل سیکریٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکریٹری قانون سعید اقبال، سی اینڈبلیو کے سپرنٹنڈنگ انجنیئرز، چیف انجینئرز، ایکزیکٹیو انجینئرز اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (Communication & Works) کے مالیاتی اور آڈٹ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مالی سال 2022-23 کے دوران محکمے کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں مختص کیے گئے 44 ارب 42 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد فنڈز اور ان میں سے 41 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمے نے مجموعی طور پر 3 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بروقت استعمال نہیں کی، جو کہ لیپس ہوئے جس پر کمیٹی اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مالی سال میں مختص فنڈز استعمال نہیں ہو سکتے تو انہیں بروقت سرنڈر کیا جانا چاہیے تاکہ یہ رقم دیگر ضروری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکے اور عوامی وسائل ضائع ہونے سے بچائے جا سکیں۔چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین نے محکمہ میں جاری منصوبوں کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹرز (PDs) کی تعیناتی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اس نظام کے حق میں نہیں ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اس حوالے سے ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے تحت جاری تمام منصوبوں کی تفصیلی رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ محکمہ پہلے سے موجود ہے تو منصوبوں کی تکمیل کے لیے علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی ضرورت اور جواز واضح ہونا چاہیے۔اس موقع پر رکن کمیٹی محمد خان لہڑی نے کہا کہ جب محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ذریعے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں تو ان کی ذمہ داری متعلقہ محکمے کو سونپی جانی چاہیے اور منصوبوں پر عمل درآمد بھی اسی محکمے کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ غیر ضروری طور پر علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض منصوبے مکمل نہ ہونے کی صورت میں بالآخر متعلقہ محکمے ہی کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، جس سے اس نظام کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پی اے سی نے نصیر آباد، نوشکی، ژوب و دیگر اضلاع کے مختلف پروجیکٹس سمیت کچھی PLAIN پلین واٹر سپلائی اسکیم ، بلوچستان ذرائع معاش اور انٹرپرینیورشپ پروجیکٹ (BLEP) کی اسپیشل آڈٹ کا حکم دیا۔
کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے بعد سرکاری گاڑیوں کی خریداری، بھاری تنخواہوں اور اضافی عملے کی تقرریوں کی صورت میں سرکاری خزانے پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ بعض منصوبوں میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو مناسب عملے کے بغیر تعینات کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اپنی سطح پر عملہ بھرتی کیا جاتا ہے، جس سے غیر ضروری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے جامع تفصیلات طلب کر لیں۔اجلاس میں مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف تعمیراتی منصوبوں میں ادائیگیوں کے دوران سنگین مالی بے ضابطگیوں اور زائد ادائیگیوں کے معاملات زیر بحث آئے۔آڈٹ پیرا 4.2.1 کے مطابق مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے دوران ٹھیکیداروں کو مقررہ اور منظور شدہ نرخوں سے زائد ادائیگیوں اور مقدار کے حساب میں غلطیوں کے باعث 9 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر متعلقہ دفاتر کو ریکوری اور ضروری ریکارڈ آڈٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم رپورٹ کی حتمی تکمیل تک پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔کمیٹی نے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ زائد ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات، ضروری ریکارڈ اور ریکوری کی صورت حل پیش کی جائے اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی 100 فیصد وصولی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں ضلع شیرانی سمیت مختلف اضلاع کے تعمیراتی منصوبوں میں آڈٹ اعتراضات اور ان پر عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
اسی طرح آڈٹ پیرا 4.2.2 کے تحت مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں منظور شدہ پی سی ون، تخمینہ جات اور معاہدوں میں درج مقدار سے زائد تعمیراتی کاموں کی ادائیگیوں کے باعث 4 کروڑ 4 لاکھ 14 ہزار روپے کی بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی۔ کمیٹی نے اس آڈٹ پیرا پر متعلقہ حکام کو دس روز کے اندر 100 فیصد ریکوری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں منظور شدہ نرخوں، مقدار اور معاہدوں کی پابندی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جبکہ سرکاری خزانے سے ہونے والی ہر ادائیگی کا مکمل ریکارڈ اور شفافیت برقرار رکھی جائے۔ کمیٹی نے آڈٹ اعتراضات پر بروقت عمل درآمد اور ذمہ داران سے رقوم کی وصولی کو ناگزیر قرار دیا۔محکمہ کی جانب سے دیگر آڈٹ پیراز کے حوالے سے مکمل تیاری اور مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کے باعث ان پر مزید کارروائی مؤخر کر دی گئی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ باقی ماندہ آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس 30 نومبر کو صبح دس بجے منعقد کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر9730/026
سال 2017 میں تعمیر ہونے والے نصیرآباد ڈویژن کے سرکٹ ہاؤس طویل عرصے سے تعمیر و مرمت کے کام سے تعطل کا شکار رہا 2022 کے تباہ کن بارشوں سے سرکٹ ہائوس نان فنگشنل ہوکر رہ گیا تھا تعمیر و مرمت کا کام بند ہونے کے باعث عمارت کے اطراف جھاڑیوں نے ڈیرے ڈال لیے، سیوریج سسٹم ناکارہ ہو گیا، جبکہ سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔تاہم جولائی 2025 میں تعینات ہونے والے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے سرکٹ ہاؤس کی بحالی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اسے جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔سرکٹ ہاؤس میں ٹف ٹائلز کی تنصیب، سوئٹ رومز اور دیگر کمروں کی تعمیر و مرمت، تزئین و آرائش اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی بحالی کے اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ ڈائننگ ایریا، کانفرنس ہال اور لان کی بہتری کے لیے بھی کام کیا گیا، تاکہ سرکٹ ہاؤس کو بہتر سہولیات کے ساتھ فعال رکھا جا سکے۔سرکٹ ہاؤس نصیرآباد کی بحالی کے لیے جاری یہ اقدامات سرکاری عمارتوں کی بہتری اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔

خبرنامہ نمبر9731/026
تربت۔ 6 نومبر 2026: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت مختلف شعبوں میں جامع اقدامات کر رہی ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں، جن کے تحت متعدد منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تربت پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام ’’گند و نند‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ساڑھے 14 ہزار اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں، جبکہ اسکولوں میں تدریسی معیار بہتر بنانے کے لیے کیمسٹری، فزکس، بائیولوجی اور انگریزی کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ تعینات کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں اصلاحات اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔میر ظہور احمد بلیدی نے نوجوانوں کے حوالے سے حکومتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 16 ارب روپے کی لاگت سے یوتھ پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے قرضوں، فنی مہارتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت 30 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی مختلف اسکیموں پر کام ہو رہا ہے۔صوبائی وزیر نے ضلع کیچ میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں کئی اہم منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ تربت میں گرین بس سروس کا آغاز بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے شہریوں بالخصوص کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو سفری سہولت فراہم ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کیچ میں کیتھ لیب کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے ماڈل ولیج کا منصوبہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
انہوں نے بعض قوم پرست جماعتوں کے سیاسی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ماضی کے کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی منفی مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ ان منصوبوں میں حب انڈسٹریل زون، سی پیک، گوادر پورٹ، گیشکور ڈیم اور ساؤتھ بلوچستان پیکیج شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پروگرام کے دوران تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی نے بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے پریس کلب کے لیے 20 لاکھ روپے کی ریگولر گرانٹ کی منظوری اور اجرا میں تعاون پر صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے صوبائی وزیر سے درخواست کی کہ پریس کلب کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ ریگولر گرانٹ میں اضافہ کرکے اسے 50 لاکھ روپے کیا جائے، جبکہ صحافیوں کے لیے جرنلسٹس ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری اور عملی پیش رفت میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر9732/026
رکھنی06نومبر 2026: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت رکھنی ڈویلپمنٹ پیکج اور 50 بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال کی تعمیر سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر عبدالباسط بزدار، پراجیکٹ ڈائریکٹر احتشام الحق اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کمشنر کو جاری ترقیاتی منصوبوں اور 50 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔رکھنی ڈویلپمنٹ پیکج میں ڈویژنل سیکریٹریٹ، سڑکوں اور بائی پاس کی بہتری، سیوریج و صفائی کا نظام، ماڈل بازار، محفوظ شہر منصوبہ، بس و ٹرک ٹرمینل، پارک، کھیلوں کا مرکز، لینڈفل سائٹ اور میونسپل سہولیات کی بہتری سمیت عوامی فلاح کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے، تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبوں کی پیش رفت کی باقاعدگی سے نگرانی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ 50 بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال کی تعمیر سے رکھنی اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی اور انہیں علاج کے لیے دور دراز شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔

خبرنامہ نمبر9733/026
قلعہ عبداللہ: ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی اور اسسٹنٹ کمشنر گلستان عرفان احمد خلجی کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے خصوصی کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ ضلع بھر میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے مختلف اہم مقامات، شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندیاں قائم اور چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔کارروائیوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور اس کی نمائش کرنے والے عناصر، کالے شیشوں والی گاڑیوں اور افغان باشندوں سے متعلق نافذ العمل قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ مختلف مقامات پر گاڑیوں، مشکوک افراد اور نقل و حرکت کی سخت نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ان کارروائیوں میں ڈی ایس پی زین اللہ خان، ایس ایچ اوز حاجی محمد رسول خان، قربان علی اور نور علی سمیت پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جو مختلف مقامات پر ناکہ بندیوں اور چیکنگ کے ذریعے سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے میں مصروف ہے۔ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی، ڈی پی او خلیل احمد بگٹی اور اسسٹنٹ کمشنر عرفان احمد خلجی کی ہدایات پر متعلقہ انتظامی اور پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع بھر میں سیکیورٹی چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے، مشکوک نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے تمام ضروری سیکیورٹی اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، چیکنگ کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا نقل و حرکت کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مشترکہ کوششوں سے ضلع میں امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9734/026
ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی اور اسسٹنٹ کمشنر گلستان عرفان احمد خلجی کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا خصوصی کریک ڈاؤن جاری ہے۔ مختلف اہم مقامات، شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندیاں قائم کرکے گاڑیوں اور مشکوک افراد کی چیکنگ کی جا رہی ہے، جبکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور اس کی نمائش کرنے والوں، کالے شیشوں والی گاڑیوں اور افغان باشندوں سے متعلق قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر9735/026
رکھنی06 نومبر 2026:
اسسٹنٹ کمشنر رکھنی کی عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف کارروائی
رکھنی: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے رکھنی شہر کے مل روڈ اور بارکھان روڈ پر عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف کارروائی کی۔
کارروائی کے دوران مختلف کلینکس کا معائنہ کیا گیا اور وہاں موجود افراد کے لائسنس، تعلیمی اسناد اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام کی صحت اور زندگیوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیر قانونی طور پر علاج کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے

خبرنامہ نمبر9736/026
کوئٹہ 6 نومبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے رواں سال 2026 کے دوران پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل لٹریسی اور نوجوانوں کی پریکٹیکل آئی ٹی تربیت کے فروغ کو اپنے فکری اور عملی ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا۔ ذرائع ابلاغ کے مختلف فورمز پر بیانات، علمی و تعلیمی تقریبات میں فکرانگیز تقاریر، قومی و بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں اور سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ روابط میں انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، روبوٹکس، ای کامرس، آن لائن کاروبار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت پر مسلسل زور دیا۔ انکی اس مسلسل توجہ و انتھک محنت کے نتیجے میں یہ جدید علوم اور ٹیکنالوجیز بلوچستان کے تعلیمی و ترقیاتی مباحث کا اہم موضوع بن کر ابھرے۔ گورنر مندوخیل اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ بلوچستان کے ہزاروں نوجوان بے روزگاری جیسے سنگین معاشی مسئلے سے دوچار ہیں۔ ان کے نزدیک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے محض روایتی سرکاری ملازمتوں یا محدود روزگار کے مواقع پر انحصار کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا تصور یہ ہے کہ اگر نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل لٹریسی، جدید میڈیکل اینڈ پروفیشنل کورسز، ای کامرس اور آن لائن بزنس کی عملی تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ اسطرح نوجوان ملازمت کے متلاشی ہونے کے ساتھ ساتھ خود دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ اسی وژن کے تحت انہوں نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ روایتی نصابی اور تعلیمی ڈھانچے سے آگے بڑھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی پروگرام متعارف کرائیں۔ انکے نزدیک اعلیٰ تعلیم کا مقصد صرف ڈگریوں اور اسناد کا حصول نہیں بلکہ علم کو عملی مہارت، تحقیق کو پیداواری صلاحیت اور تعلیم کو معاشی خودمختاری میں تبدیل کرنا ہے۔ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو چاہیے کہ وہ کتابی علم اور عملی زندگی کے درمیان موجود خلیج کو کم کریں اور ایسے کورسز متعارف کرائیں جو طلباءو طالبات کو روزگار کیلئے تیار کرنے کے ساتھ نئے معاشی امکانات سے بھی روشناس کرائیں۔
گورنر مندوخیل کی اس ہمہ جہت سوچ و اپروچ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل اکانومی جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ بلوچستان کا نوجوان اپنے ہی شہر یا گاؤں میں رہتے ہوئے آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے قومی و عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یوں جدید ٹیکنالوجی محض سہولت یا تعلیمی مضمون نہیں بلکہ بیروزگاری میں کمی، معاشی شمولیت اور نوجوانوں کیلئے نئے امکانات پیدا کرنے کا ایک معتبر وسیلہ بن سکتی ہے۔ سال 2026 میں گورنر بلوچستان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انکی صلاحیتوں، درپیش چیلنجز اور کامیاب مستقبل کے امکانات کو انٹرنیشنل سطح پر اجاگر کیا۔ یہ شرکت اس وسیع تر مسقبل قریب کے تصور کا حصہ تھی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو گلوبل ڈسکورس، جدید علوم اور بین الاقوامی مواقع سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلاشبہ بلوچستان جیسے وسیع جغرافیے اور بڑی نوجوان آبادی کے حامل صوبے میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ محض تعلیمی اصلاحات کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی ترقی، روزگار کی تخلیق اور سماجی تبدیلی سے جڑا ہوا ایک اہم تقاضا ہے۔ اس مقصد کیلئے سرکاری یونیورسٹیز، پرائیویٹ تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی کے شعبے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان موثر اشتراک بھی ناگزیر ہے۔ گورنر بلوچستان کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ نوجوانوں کو محض ڈگریاں نہیں بلکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ علم، جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتیں فراہم کی جائیں کیونکہ آنے والے دور میں کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنے نوجوانوں کو ملازمت ملی بلکہ یہ بھی ہوگا کہ کتنے نوجوان اپنی مہارت، تخلیقی صلاحیت اور ڈیجیٹل استعداد کے ذریعے خود روزگار پیدا کرنے اور معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوئے۔ یہی سوچ بلوچستان کو روایتی روزگار کی محدود دنیا سے نکال کر ڈیجیٹل معیشت کے وسیع امکانات سے جوڑنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/9737
کوئٹہ6نومبر:ـحکومتِ بلوچستان کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایڈمن ونگ) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ ولادت کے موقع پر 9 نومبر 2026ء بروز پیر کو عام تعطیل ہوگی۔محکمہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے 9 نومبر کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق نو نومبر بروز پیر صوبے بھر کے تمام سرکاری دفاتر اور متعلقہ سرکاری ادارے بند رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9738
قلات6نومبر:ـوزیراعلی بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے خصوصی احکامات پر عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیا۔کھلی کچہری ڈی سی کمپلیکس میں منعقد ہوا۔
کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنرانجینئرعائشہ زہری 329برگیڈ کے کرنل زرار چیرمین میونسپل کمیٹی نوابزادہ شعیب جان زہری ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنوازبلوچ ایس پی سید زاہد حسین شاہ ایف سی کرنل نوید اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم سمیت دیگر سرکاری محکموں کے سربراہاں سیاسی قبائلی رہنماوں کونسلران صحافی برادری اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔کھلی کچہری میں عوام نے کھل کر اپنے مسائل بیان کیٰے ۔کھلی کچہری سے سیاسی قبائلی رہنماء شہزادہ اکرم جان احمدزئی میرقادربخش مینگل احمدنواز بلوچ حاجی عزیز مغل اقبال محمدحسنی مجیب نیچاری فضل الرحمن رحمانی نصیب اللہ شادی خان مینگل نورالدین قمبرانی اور دیگر نے مسائل اجاگر کیئے۔کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری نے لوگوں کے کافی مسلے موقع پر حل کردیئے اور دیگر مسائل کے حل کے لیئے محکموں کے سربران کو سختی سے ہدایات جاری کردی۔ڈپٹی کمشنرانجینئرعائشہ زہری نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کا برائے راست رابطہ کرانا ہےتاکہ عوام برائے راست اپنے مسائل بیان کرسکیں ہمیں لوگوں کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیئے کام کرناہے بلاتفریق عوام کی خدمت کرنا میرا ایمان ہے محکموں کے سربراہان عوام کے خادم ہوتے ہیں عوامی مسائل حل کرنا انکی زمداری ہے ہرکسی کو اپنے حصے کاکام ایمانداری سے کرناہوگا محکموں کے سربراہاں اپنے دفاتر میں حاضری یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی درخواست گزار کو مشکلات پیش نہ ہو۔عوام اپنے علاقے کے نمائندے ہوتے ہیں آپ سب اپنے علاقوں میں مسائل کی نشادہی کریں تاکہ انکے فوری حل سے متعلق اقدامات کیئے جاسکیں عوامی مسائل کے حل کے لیئے علاقہ معززین سیاسی وقبائلی رہنماء صحافی برادری ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔کھلی کچہری کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہریوں کے مسلسل انعقاد کو خوش آئند اور مثبت عمل کرار دیتے ہوے کہاکہ کھلی کچہریوں میں عوام برائے راست اپنے جائز مسائل بیان کررہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ ان مسائل کے حل کے لیئے بروقت اقدامات اٹھارہی ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/9739
کوئٹہ06نومبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے پانچویں اور آخری روز کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور پولیو پروگرام کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ میں جاری پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی اور کوریج رپورٹ پیش کی گئی۔ اس دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی شرح، زیرو ڈوز، رفیوزل، مسلسل انکاری کیسز، نان اویلیبل (NA) اور دیگر اہم اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران رہ جانے والے تمام بچوں کو کیچ اَپ سرگرمیوں کے ذریعے لازمی کور کیا جائے اور کسی بھی بچے کو پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رکھا جائے۔ انکاری والدین کو مؤثر آگاہی اور مسلسل رابطے کے ذریعے قائل کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پولیو کے خاتمے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، تمام متعلقہ ادارے مہم کے بعد بھی فالو اَپ اور نگرانی کا عمل جاری رکھیں اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔ڈپٹی کمشنر نے پانچ روزہ مہم کے دوران خدمات انجام دینے والی پولیو ٹیموں، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *