4th-November-2026

خبر نامہ نمبر9629/026
کوئٹہ، 04 نومبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بلوچستان میں سیف سٹی منصوبوں کو موثر، فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مراسلے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کو مستحکم بنانے اور اسے ضروری ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان اور پنجاب کی سیف سٹی اتھارٹیز کے مابین جوائنٹ وینچر کے تحت سیکیورٹی مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے، تکنیکی معاونت اور تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے جاری منصوبوں اور پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ڈی جی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی احسن یونس نے بتایا کہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی بلوچستان کے عملے کی تربیت، استعداد کار میں اضافے اور جدید تکنیکی معاونت فراہم کرے گی تاکہ صوبے میں سیف سٹی منصوبوں کو موثر انداز میں فعال بنایا جا سکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے محض نگرانی کا نظام نہیں بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جدید سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی بنیاد ہیں۔ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور موثر سیکیورٹی مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔ جدید نگرانی کے نظام سے جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کے فوری ردعمل کو موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے 9 شہروں میں جاری سیف سٹی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور ذمہ داری کے ساتھ منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی مانیٹرنگ کو موثر بنا کر جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور وہ سیف سٹی منصوبوں پر پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے بلوچستان سیف سٹی منصوبوں میں تعاون اور معاونت پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون اور تجربات کا تبادلہ عوامی تحفظ کے مشترکہ اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے اجلاس کو بتایا کہ سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل سے 9 شہروں میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی مانیٹرنگ کا نظام قائم ہوگا، جس سے جرائم کی روک تھام، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ممکن ہوگا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی محمد اشفاق، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عمران زرکون، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، سیکرٹری آئی ٹی ایاز خان مندوخیل سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9630/026
بارکھان: خبر نامہ 4نومبر ۔اسسٹنٹ ڈویژنل ڈائریکٹر کوہِ سلیمان ڈویژن، گل باران خان حسنی نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول لہمہ زیرین ضلع بارکھان کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے اساتذہ کی حاضری چیک کی اور مختلف کلاسز میں جا کر طلباء سے تعلیمی سوالات پوچھے اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا۔انہوں نے ہیڈ ماسٹر رشید صاحب کی کارکردگی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طلباء کی زیادہ تعداد کے پیش نظر اسکول میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ طلباءکو معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔مختصر ویڈیو کیپشن:اسسٹنٹ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن کوہِ سلیمان ڈویژن گل باران خان حسنی کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول لہمہ زیرین بارکھان کا اچانک دورہ، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9631/026
بارکھان، 4نومبر ۔: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی نگرانی میں ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز بھی پولیو ٹیمیں بھرپور انداز میں سرگرم رہیں۔مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں نے گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جبکہ رہ جانے والے بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے متعلقہ محکموں اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے مقررہ اہداف کے حصول، سو فیصد کوریج اور ہر بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ٹیموں کی کارکردگی کی موثر نگرانی اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا۔ڈپٹی کمشنر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9632/026
قلات 4نومبر (ہینڈآﺅٹ)۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے قلات کے علاقے نیواڈہ میں قائم کردہ “ارباب ٹرمینل” کا ایک تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نےٹرمینل میں مسافروں کی آسانی کے لیے فراہم کی گئی بنیادی اور جدید سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی ۔ڈپٹی کمشنر قلات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور مسافروں کو باعزت، محفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ارباب ٹرمینل کا قیام اور اس میں مرد و خواتین کے لیے علیحدہ ویٹنگ رومز کی دستیابی ایک قابلِ تحسین اور عوام دوست اقدام ہےایسے فلاحی منصوبے علاقے کی ترقی اور مسافروں کو درپیش مشکلات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے ایسے تمام مثبت اقدامات کی بھرپور سرپرستی کرے گی۔”علاقے کے عوامی اور سماجی حلقوں نے ارباب ٹرمینل کی فعالی کے لیے ڈپٹی کمشنر قلات کی دلچسپی اور ارباب میر احمد دہوار کی کاوشوں کو بے حد سراہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9632/026
برشور : 04 نومبر۔ ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی خصوصی ہدایات پر توبہ کاکڑی کے علاقے ژڑ کس میں منشیات کے خلاف ایک بڑا اور منظم کریک ڈاون کیا گیا ہے،ضلعی پولیس آفیسر عبدالستار دشتی کی قیادت میں ہونے والے اس گرینڈ آپریشن میں اسسٹنٹ کمشنر توبہ کاکڑی معید جاموٹ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے فورسز کے دستوں نے بھرپور حصہ لیا،تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ نے توبہ کاکڑی کے دور افتادہ سرحدی علاقے ‘ژڑ کس’ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چرس کی تیار فصل کو موقع پر ہی نذر آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) عبدالستار دشتی کا کہنا تھا کہ قانون شکن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور معاشرے سے منشیات جیسے ناسور کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا،انہوں نے واضح کیا کہ ممنوعہ اور منشیات کی فصلوں کی کاشت میں ملوث زمینداروں اور کاشتکاروں کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے،اس دوران بات چیت کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر توبہ کاکڑی معید جاموٹ نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کا علاقے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے تک یہ مہم بلاامتیاز اور سختی کے ساتھ جاری رہے گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9633/026
گوادر 04 نومبر۔ ضلع کونسل گوادر کے چیئرمین شئے مختار بلوچ نے کہا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل اور طلبہ کو بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن گوادر وہاب مجید نے تعلیمی اداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ موثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے ان خیالات کا انہوں نے وائس چیئرمین یونین کونسل ون گوادر در محمد نگوری کے ہمراہ یونین کونسل نگور کے مختلف سرکاری اسکولوں کے دورے کے موقع پر کیا۔ وفد نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گھٹی ڈھور، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول ڈگارو، گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول ڈگارو، گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول چھب ریکانی، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول چھب ریکانی اور گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول زیارت مچھلی کا دورہ کیا اس موقع پر اسکولوں کے سربراہان نے وفد کو کلاس رومز، اساتذہ، لائبریری، بجلی، پانی، واش رومز اور سولر سسٹم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی کمی سے آگاہ کیا۔ بعض اسکولوں کو ہائی اسکول کا درجہ دینے اور اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے مطالبات بھی سامنے آئے۔ اسکول سربراہان نے بالخصوص بچیوں کی مڈل کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہائی اسکول کی عدم دستیابی کو اہم مسئلہ قرار دیا۔چیئرمین ضلع کونسل شئے مختار بلوچ نے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو تعلیمی اداروں کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، جبکہ والدین سے اپیل کی کہ وہ بالخصوص بچیوں کی تعلیم اور اسکولوں میں ان کی باقاعدہ حاضری پر خصوصی توجہ دیں ان کا کہنا تھا کہ دورہ کا مقصد دیہی علاقوں کے تعلیمی اداروں کی صورتحال کا جائزہ لینا، مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9634/026
4نومبر استامحمد۔ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی علاقے کی مجموعی تعمیر و ترقی عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں ان کی خصوصی دلچسپی اور ہدایات کی روشنی میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے لیے سردارزادہ ضرار خان جمالی کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو مختلف ترقیاتی منصوبوں کا وقتاً فوقتاً دورہ کرکے کام کی رفتار معیار اور پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو پائیدار معیاری اور دیرپا بنیادوں پر مکمل کیا جا سکےاسی سلسلے میں آج سردارزادہ ضرار خان جمالی نے اسسٹنٹ کمشنر استامحمد ماریہ شمون کے ہمراہ زیرِ تعمیر ڈیجیٹل لائبریری کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے لائبریری کی زیرِ تعمیر عمارت کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا انہوں نے لائبریری میں طلباء و طالبات کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات اور مختلف شعبہ جات کے قیام کے حوالے سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کیںواضح رہے کہ ڈیجیٹل لائبریری کا قیام علاقے کے طلباء و طالبات کو جدید تعلیمی سہولیات معلوماتی وسائل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اس منصوبے کے تحت طلباء اور طالبات کے لیے الگ الگ پورشن مختص کیے جا رہے ہیں تاکہ دونوں کو ایک سازگار باوقار اور پرسکون تعلیمی ماحول میسر آسکے اور وہ بغیر کسی دشواری کے مطالعے تحقیق اور جدید معلومات کے حصول سے استفادہ کر سکیںڈیجیٹل لائبریری کی تکمیل سے نہ صرف طلباءو طالبات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ نوجوان نسل میں مطالعے تحقیق اور علم کے حصول کے رجحان کو بھی فروغ ملے گا یہ منصوبہ علاقے کے تعلیمی مستقبل کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کو جدید تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اسسٹنٹ کمشنر استامحمد ماریہ شمعون نے کہا کہ یہ منصوبہ استامحمد کی عوام کے لیے ایک اہم ھے جس سے ان کے بچے جدید علوم سے مستفید ہو سکیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9635/026
04نومبرجعفرآباد۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا نے ڈیرہ اللہ یار شہر میں قائم مختلف پیٹرول پمپس کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے پیٹرول کی کوالٹی، مقدار، پیمائشی آلات، ڈیجیٹل گیجز اور سرکاری مقرر کردہ نرخوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر بعض پیٹرول پمپس پر بے ضابطگیاں اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزیاں سامنے آنے پر متعلقہ انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرا نے پیٹرول پمپ مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ عوام کو مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق معیاری پیٹرول اور درست مقدار کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جبکہ کم پیمائش، زائد قیمت وصول کرنے اور دیگر غیر قانونی اقدامات سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے، ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے اور شہر بھر میں پیٹرول پمپس سمیت دیگر کاروباری مراکز کی چیکنگ اور خلاف ورزیوں پر کارروائیوں کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9636/026
کوئٹہ 04نومبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں مختلف محکموں کی جانب سے جاری سرگرمیوں اور اقدامات سے متعلق کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بلوچستان چیریٹی کمیشن (BCRA) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور اسکولوں، مدارس سمیت دیگر اداروں کی رجسٹریشن کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ جاری امور میں باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنایا جائے، جبکہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت اور بہتر انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے سرکاری امور میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9637/026
خضدار 4 نومبر 2026 یونین کونسل فیروز آباد میں پولیو آگاہی سیشن کا انعقاد، اساتذہ، مذہبی رہنماوں بلدیاتی نمائندوں اساتذہ کرام اور عمائدین کا مہم کی بھرپور حمایت کا اعلان تفصیلات کے مطابق کامنیٹ کی جانب سے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گنگو، یونین کونسل فیروز آباد میں نومبر 2026 کی قومی انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں ایک اہم آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔سیشن میں اسکول اساتذہ، ڈاکٹرز، مقامی حکومتی نمائندوں، مذہبی رہنماوں اور علاقے کے معتبر عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر CCO رحیم جتک اور CBO ذکریا جتک نے شرکاءکو پولیو وائرس کی منتقلی، اس کے بچوں پر مہلک اثرات اور پولیو سے بچاو کے قطرے کی اہمیت کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کمیونٹی کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔سیشن کے اختتام پر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گنگو مفتی ہدایت اللہ زہری، میونسپل کارپوریشن کے کونسلر میر احمد خان گنگو۔طبی ماہرین، مذہبی رہنماوں اور مقامی عمائدین نے آئندہ انسداد پولیو مہم میں محکمہ صحت اور کامنیٹ ٹیم کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ گھر گھر جا کر والدین کو پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک کو پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9638/026
تربت: 4 نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی سربراہی میں ٹیچنگ ہسپتال تربت کے قریب واقع میڈیکل اسٹورز کے مالکان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر دشت ندیم اقبال بنگلزئی اور اسسٹنٹ کمشنر بل نگور نجم الدین زہری سمیت ہسپتال کے نزدیک قائم میڈیکل اسٹورز کے مالکان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے میڈیکل اسٹورز مالکان کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کی اہمیت اور معاشرے کی بہتری کے لیے اس کے مثبت کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری ادارے اپنی سماجی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت کے قریب قائم میڈیکل اسٹورز کے مالکان معاشرے کے ایک اہم طبقے کی حیثیت سے مستحق اور غریب مریضوں کی مدد، طبی سہولیات تک رسائی اور عوامی فلاح کے دیگر اقدامات میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کیچ کے ساتھ تعاون کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
اس موقع پر میڈیکل اسٹورز مالکان نے بتایا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت کے قریب مجموعی طور پر سات میڈیکل اسٹورز کام کررہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاشرے کی بہتری اور غریب و مستحق مریضوں کی امداد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنی سماجی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔میڈیکل اسٹورز مالکان نے مزید کہا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کیچ کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات میں بھرپور حصہ لیں گے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ انتظامیہ اور میڈیکل اسٹورز مالکان کے باہمی تعاون سے مستحق مریضوں کی امداد اور معاشرتی بہتری کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9639/2026
گوادر، 4 نومبر،۔ ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اجلاس ہوا جس میں پشکان لنک روڈ، سربندر لنک روڈ پر پل کی تعمیر اور میرین ڈرائیو پر آنکاڑہ کور سے تا شابی کے درمیان سڑک کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈ نادر بلوچ، اسسٹنٹ انجینئر ذاکر نور اور پرسنل اسسٹنٹ ٹو ایم پی اے وسیم صمد بھی موجود تھے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشکان لنک روڈ کی تعمیر کے لیے آئندہ ہفتے ٹینڈر جاری کیا جائے گا، جبکہ میرین ڈرائیو پر آنکاڑہ کور سے تا شابی کے درمیان سڑک کی مرمت و بحالی کے کام کا فوری طور پر آغاز کیا جائے گا۔اس دوران ان ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون، تخمینہ لاگت اور دستیاب وسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے پشکان لنک روڈ کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔ منصوبے میں مرکزی چوک کی تزئین و آرائش اور ڈرینج لائن کی تعمیر بھی شامل ہے۔سربندر لنک روڈ پر پل کی تعمیر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کے پی سی ون کو ریشنلائز کرکے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد فنڈز کی دستیابی کی صورت میں تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے پشکان، سربندر اور دیگر ملحقہ علاقوں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی اور گوادر شہر سمیت نواحی علاقوں میں آمدورفت مزید آسان اور محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9640/2026
گوادر4 نومبر ۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے ڈپٹی کمشنر آفس میں تحصیل پسنی کے 27 موضعات کی لینڈ سیٹلمنٹ، ریکارڈ کی تکمیل اور منتقلی سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے انہوں نے کہا کہ تحصیل پسنی کے عوام گزشتہ کئی برسوں، بالخصوص 2015 سے، زمینوں کی سیٹلمنٹ اور درست ریکارڈ کے حصول کے لیے مشکلات سے دوچار تھے، تاہم اب اس دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب اہم پیش رفت ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمدبلوچ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ اور متعلقہ سیٹلمنٹ عملے کی شبانہ روز محنت اور سنجیدہ کاوشوں کے نتیجے میں تحصیل پسنی کے 27 موضعات کا ریکارڈ مرتب کرنے کا عمل تکمیل کے قریب ہے، جسے جلد تحصیل پسنی منتقل کر دیا جائے گا رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ اس اہم پیش رفت سے پسنی کے عوام کو زمینوں کے ریکارڈ کے حصول اور متعلقہ امور میں درپیش دیرینہ مشکلات سے نجات ملے گی۔ انہوں نے اس عوامی مسئلے کے حل کے لیے محنت کرنے والے تمام افسران اور متعلقہ عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9641/2026
کوئٹہ، 4 نومبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ 18 اور 19 نومبر کو منعقد ہونے والی بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو ( 2026 BITE) صوبے میں تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی نشاندہی اور معاشی ترقی کی نئی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبے کو ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ اس وڑن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو 2026 کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسرعبدالمنان اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے، اجلاس میں ایکسپو کے مختلف انتظامی و تشہیری امور، شرکاءکی شرکت، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ 2026 BITEمحض ایک نمائش نہیں بلکہ بلوچستان کے کاروباری و صنعتی امکانات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے سرمایہ کاروں، صنعتکاروں، تاجروں، کاروباری شخصیات، متعلقہ سرکاری اداروں اور مختلف تجارتی تنظیموں کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع ملے گا، جہاں وہ باہمی روابط کو فروغ دینے، کاروباری شراکت داری کے نئے امکانات تلاش کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کر سکیں گے۔وائس چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مقامی کاروباری طبقے کو قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ایکسپو کے ذریعے صوبے میں تیار ہونے والی مصنوعات، مقامی کاروباری صلاحیتوں اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کو نمایاں کیا جائے گا، جس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, November 04: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Bilal Khan Kakar, has said that the Balochistan Investment and Trade Expo (BITE 2026), scheduled to be held on November 18 and 19, will play an important role in promoting trade and business activities, identifying new investment opportunities, and setting a new direction for economic development in the province.He said that Chief Minister Balochistan Mir Sarfraz Bugti is committed to transforming the province into a hub of domestic and international investment, while BBoIT is taking comprehensive measures to translate this vision into reality.He expressed these views while chairing a meeting to review preparations and arrangements for the Balochista Investment and Trade Expo 2026.Chief Executive Officer BBoIT Abdul Manan and other relevant officials were also present. The meeting discussed in detail various administrative and promotional matters related to the expo, participation of stakeholders, measures to attract business organizations and investors, and other related arrangements.Bilal Khan Kakar said that BITE 2026 is not merely an exhibition but an important platform to showcase Balochistan’s business and industrial potential at the national and international levels. The event will bring together investors, industrialists, traders, business representatives, relevant government departments, and various trade organizations, providing them with an opportunity to strengthen business networking, explore new avenues for partnerships, and benefit from emerging investment opportunities.
The Vice Chairman said that encouraging the private sector and providing local business communities with access to national and international markets are essential for the economic development of Balochistan. Through the expo, products manufactured in the province, local entrepreneurial capabilities, and investment-ready projects will be highlighted, which will not only boost business activities but also help create new employment opportunities.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9642/2026
کوئٹہ، 04 نومبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی استعداد کار میں اضافے، محصولات کے سالانہ اہداف کے حصول اور ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات اور قابل عمل حکمت عملی کا جائزہ لینے سے متعلق اہم اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادارے کی مجموعی کارکردگی، محصولات کے حصول کی صورتحال اور انتظامی و ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان اور چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، سالانہ مالی اہداف کے حصول، محصولات میں اضافے کے امکانات اور مجوزہ اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی خدمات ان کے متعلقہ محکموں کو واپس کی جائیں گی، جبکہ ادارے کی پیشہ ورانہ استعداد اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مارکیٹ اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ محصولات کے حصول کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق موثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کو ایک مضبوط، فعال اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار ادارہ بنایا جائے اور محصولات کے حصول کے لیے روایتی طریقہ کار کے بجائے جدید انتظامی و تکنیکی مہارتوں سے استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مالی وسائل میں اضافے اور محصولات کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ادارے کی استعداد کار میں بہتری ناگزیر ہے، اس مقصد کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9643/2026
گوادر4نومبر ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے صحت عامہ وژن کے تحت عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی سلسلے میں میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں اکتوبر 2026 کے دوران ہزاروں مریضوں کو علاج، تشخیص، طبی معائنے اور مختلف شعبوں میں صحت کی سہولیات فراہم کی گئیں میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق ماہ اکتوبر کے دوران او پی ڈی میں 11 ہزار 645 مریضوں کا معائنہ کیا گیا، جبکہ ایمرجنسی میں 1 ہزار 590 اور شام کی او پی ڈی میں 870 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ گائنی او پی ڈی میں 1 ہزار 615 خواتین کا معائنہ کیا گیا، جبکہ زچہ و بچہ کی نگہداشت کے تحت 520 قبل از پیدائش چیک اپ، بعد از پیدائش 7 معائنے اور 50 زچگیاں انجام دی گئیں۔جبکہ تشخیصی سہولیات کے تحت 300 الٹراساو¿نڈ، 18 ای سی جی اور 731 ایکسرے کیے گئے۔ ملیریا کی 2 ہزار 159 اسکریننگ، ہیپاٹائٹس بی کے 796 ٹیسٹ، ہیپاٹائٹس سی کے 410 اور ایچ آئی وی کے 410 ٹیسٹ کیے گئے۔ ان اسکریننگ ٹیسٹوں میں بالترتیب 6 ملیریا پی ایف، 63 پی وی، ہیپاٹائٹس بی کے 11، ہیپاٹائٹس سی کے 6 اور ایچ آئی وی کا ایک مثبت کیس سامنے آیا اسی طرح ہسپتال کے ڈائیلاسز یونٹ میں 86 مریضوں کو سہولت فراہم کی گئی، بلڈ بینک کے ذریعے 386 اور لیبارٹری میں 12 ہزار 663 ٹیسٹ کیے گئے۔ ٹی بی اسکریننگ کے دوران 52 افراد کی جانچ کی گئی، جن میں ایک کیس مثبت رپورٹ ہوا، جبکہ ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ میں 135 مریضوں کا معائنہ، 111 دانت نکالنے اور 36 فلنگ و روٹ کینال کے علاج کیے گئے میرچ عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں مختلف طبی شعبوں کی فعالیت اور تشخیصی سہولیات کے ذریعے شہریوں کو علاج معالجے کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، جو عوام کو صحت کی بنیادی اور ضروری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے صوبائی حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9644/2026
کوئٹہ 4 نومبر ۔ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران کی خصوصی ہدایات پر ویلفیئر ہوم فار بیگرز، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی مرکزی شاہراہوں اور اہم مقامات پر پیشہ ور گداگروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 خواتین اور ایک مرد سمیت مجموعی طور پر 12 افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ 7 بچوں کو تنبیہ اور وارننگ دے کر والدین کے حوالے کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے کوئٹہ کے مختلف اہم مقامات، جن میں ایئرپورٹ روڈ، سیکرٹریٹ چوک، جی پی او چوک اور سرینا چوک شامل ہیں، پر چھاپے مارے اور پیشہ ورانہ طور پر بھیک مانگنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی۔ اس دوران 11 خواتین اور ایک مرد کو پکڑا گیا، جبکہ 7 بچوں کو بھی تحویل میں لے کر ان کی مناسب رہنمائی اور وارننگ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ گرفتار افراد کو ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد متعلقہ تھانے منتقل کر دیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے مشن کے تحت کوئٹہ شہر کو پیشہ ور گداگری سے پاک کرنے کے لیے موثر اور مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ور گداگری ایک سماجی مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے انتظامیہ، متعلقہ اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر بچوں اور خواتین کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف قابل تشویش امر ہے بلکہ بچوں کے مستقبل اور ان کی تعلیم و تربیت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے گا، جبکہ بچوں کو گداگری سے بچانے، ان کی تعلیم و تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے خصوصی توجہ دی جائے گی۔میر سیف اللہ خان کھیتران نے مزید کہا کہ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ پیشہ ور گداگروں کی حوصلہ افزائی نہ کریں اور اگر کسی مقام پر بچوں یا خواتین کو منظم انداز میں بھیک مانگنے پر مجبور کیا جا رہا ہو تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کی ٹیمیں آئندہ بھی شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھیں گی تاکہ پیشہ ور گداگری کی حوصلہ شکنی اور معاشرتی مسائل کا موثر تدارک کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9645/2026
کوہلو 4 نومبر۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عبد الحمید زہری کی زیر صدارت ضلع میں جاری چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز ایوننگ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر زمان مری، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر عالمگیر خان زرکون، اسسٹنٹ کمشنر کوہلو یحییٰ خان، اسسٹنٹ کمشنر میوند سمیع الحق، تحصیلدار پنھل خان سیلاچی، نائب تحصیلدار جلال مری سمیت انتظامی افسران اور پولیو انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت، بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلانے کی صورتحال، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی اور مانیٹرنگ کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں ٹیموں کی رسائی، مقررہ اہداف کے حصول اور مہم کو مو¿ثر بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبد الحمید زہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس قومی فریضے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے اور کوئی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کی مسلسل نگرانی کی جائے، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ قطرے پلائے جائیں اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور موثر حکمت عملی کے تحت اپنے فرائض انجام دیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9646/2026
رکھنی، 4 نومبر۔ کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن کی زیرِ صدارت بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر اور صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ اجلاس رکھنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر (BISA) اور صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوہِ سلیمان رینج ایاز احمد بلوچ، ونگ کمانڈر 129 کرنل محمد یونس، ایڈیشنل کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار اور اضلاع بارکھان، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں ڈی ایس پی رکھنی خالد بزدار، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر عبدالعزیز اور پولیس، سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر کے تحت ضلعی سطح پر منعقدہ اجلاسوں، ان میں کیے گئے فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد، سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین رابطہ کاری اور درپیش مسائل پر بھی غور کیا گیا۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلعی اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تمام محکمے باہمی رابطہ بہتر رکھیں اور سیکیورٹی اقدامات پر پیش رفت کی باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں۔انہوں نے زور دیا کہ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں، تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنائی جائے –
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9647/2026
سیوی4 نومبر ۔وزیراعظم پاکستان کے خصوصی تعلیمی اقدام کے تحت دانش اسکولز میں باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے داخلوں کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈویڑن سبی کے تمام اضلاع میں داخلہ مہم کی وسیع پیمانے پر تشہیر اور اہل طلبہ و طالبات تک معلومات پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں. کمشنر سیوی ڈویژن اور ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے والدین، طلبہ و طالبات اور تعلیمی اداروں کے سربراہان سے اپیل کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے خصوصی تعلیمی اقدام کے تحت دانش اسکولز میں تعلیمی سال 2027 کے لیے شروع ہونے والے داخلوں سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنے باصلاحیت، ذہین اور مستحق بچوں کی درخواستیں مقررہ تاریخ تک جمع کرائیں، تاکہ ڈویژن سبی کے زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے حصول کے مواقع میسر آ سکیں۔اس حوالے سے کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان اور ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی کی جانب سے ڈویژن کے تمام اضلاع میں داخلہ مہم کی وسیع پیمانے پر تشہیر اور عوامی آگاہی کے لیے متعلقہ انتظامی و تعلیمی اداروں کو متحرک کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ بالخصوص دیہی، دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ذہین اور مستحق بچے اس اہم تعلیمی موقع سے محروم نہ رہیں۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے اس خصوصی اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو ان کے معاشی اور سماجی پس منظر سے قطع نظر معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ دانش اسکولز میں ایسے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جو ذہانت اور تعلیمی صلاحیتوں کے باوجود مالی مشکلات کے باعث بہتر تعلیمی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔دانش اسکولز میں طلبہ کو مفت تعلیمی اور رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں معیاری تعلیم، رہائش، کھانا، یونیفارم، کتابیں، کمپیوٹر لیب، لائبریری، کھیلوں کی سہولیات، طبی سہولیات اور دیگر ضروری تعلیمی و رہائشی سہولیات شامل ہیں۔ اس طرح مستحق بچوں کو ایک سازگار تعلیمی ماحول میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کا موقع ملے گا۔داخلہ اشتہار کے مطابق تعلیمی سال 2027 کے لیے چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت میں داخلے دیے جائیں گے۔ عمر کی حد 31 مارچ 2027 تک درج ذیل مقرر کی گئی ہے:چھٹی جماعت: لڑکے 10 سے 12 سال، لڑکیاں 10 سے 13 سال۔ساتویں جماعت: لڑکے 11 سے 13 سال، لڑکیاں 11 سے 14 سال۔آٹھویں جماعت: لڑکے 12 سے 14 سال، لڑکیاں 12 سے 15 سال۔داخلے کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا عمل 19 اکتوبر 2026 سے شروع ہو چکا ہے، جبکہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ امیدواروں کو داخلے کے لیے مقررہ شرائط و ضوابط پر پورا اترنا ہوگا اور داخلہ تحریری امتحان اور دیگر مقررہ مراحل کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔والدین اور طلبہ و طالبات اپنی درخواستیں دانش اسکولز کی سرکاری ویب سائٹ www.daanish.edu.pk کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مکمل داخلہ فارم ڈاک کے ذریعے دانش ایڈمیشن سیل، دانش اسکول کرل، سیکٹر C-3، بحریہ انکلیو، اسلام آباد بھی ارسال کیا جا سکتا ہے۔کمشنر سیوی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنرز نے تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، مقامی نمائندوں، کمیونٹی رہنماوں اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں اس تعلیمی موقع کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں اور ایسے ذہین و مستحق بچوں کی نشاندہی کریں جو مالی مشکلات کے باعث معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے محروم ہیں۔ بالخصوص دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے والدین کو داخلے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے اور درخواستیں جمع کرانے میں ان کی رہنمائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ دانش اسکولز کا یہ اقدام مستحق خاندانوں کے بچوں کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا ڈویژن سبی کے والدین اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مقررہ تاریخ سے قبل داخلہ درخواستیں جمع کرائیں۔مزید معلومات اور آن لائن داخلے کے لیے:www.daanish.edu.pkداخلہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ: 12 نومبر2026
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9648/2026
سیوی4 نومبر ۔دانش اسکولز میں تعلیمی سال 2027 کے داخلوں کے لیے اہل طلبہ و طالبات اور والدین سے اپیل ہے کہ وہ اس بہترین تعلیمی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت میں داخلوں کے لیے درخواستیں 12 نومبر 2026 تک جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ درخواست گزار دانش اسکولز کی سرکاری ویب سائٹ www.daanish.edu.pk پر جا کر آن لائن داخلہ فارم پر کریں اور مطلوبہ معلومات و دستاویزات فراہم کرکے درخواست جمع کرائیں۔ اس کے علاوہ داخلہ فارم ڈاک کے ذریعے دانش ایڈمیشن سیل، دانش اسکول کرل، سیکٹر C-3، بحریہ انکلیو، اسلام آباد بھی ارسال کیا جا سکتا ہے۔ داخلے تحریری امتحان اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ یاد رہے کہ دانش اسکولز میں مستحق طلبہ و طالبات کو مفت تعلیم، رہائش، کھانا، یونیفارم، کتابیں اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مزید معلومات اور داخلے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 نومبر 2026 ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9649/2026
اوتھل4 نومبر ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن کی زیرِ صدارت محکمہ آبپاشی کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ کمشنر لسبیلہ ڈویژن کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹو انجینئر (XEN) محکمہ آبپاشی ضلع لسبیلہ نے ضلع میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران محکمہ آبپاشی کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں، ان پر ہونے والی پیش رفت، فنڈز کے استعمال، درپیش مسائل اور منصوبوں کی تکمیل سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور تمام اسکیموں کی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9650/2026
کوئٹہ 4نومبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ٹریفک ویک کے سلسلے میں کوئٹہ میں ٹریفک قوانین سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی ریلی اور کیک کاٹنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔آگاہی ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی، ایس پی صدر کوئٹہ اور ٹریفک پولیس کے ایس پیز نے کی۔ اس موقع پر شرکاءنے ٹریفک قوانین کی پابندی، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال، مقررہ رفتار برقرار رکھنے اور دورانِ ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اس موقع پر افسران نے کہا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے عوام میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔تقریب کے اختتام پر ٹریفک ویک کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی کا پابند بنانے، حادثات کی روک تھام اور محفوظ سفری ماحول کی فراہمی کے لیے آگاہی مہم اور عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9651/2026
کوئٹہ 04نومبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ٹریفک ویک کے سلسلے میں کوئٹہ میں ٹریفک قوانین سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی ریلی اور کیک کاٹنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔آگاہی ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی، ایس پی صدر کوئٹہ اور ٹریفک پولیس کے ایس پیز نے کی۔ اس موقع پر شرکائ نے ٹریفک قوانین کی پابندی، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال، مقررہ رفتار برقرار رکھنے اور دورانِ ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اس موقع پر افسران نے کہا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے عوام میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔تقریب کے اختتام پر ٹریفک ویک کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی کا پابند بنانے، حادثات کی روک تھام اور محفوظ سفری ماحول کی فراہمی کے لیے آگاہی مہم اور عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9652/2026
قلات 4نومبر۔وزیراعلی بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ضلع قلات میں انسدادِ پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے اور اس موذی مرض سے پاک کرنے کے لیے انتظامیہ متحرک ہے۔ اس سلسلے میں پولیو مہم کے تیسرے روز کے اختتام پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر عبدالمالک، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، ایم ایس ڈاکٹر سومار خان، اور ڈی ایم پی پی ایچ آئی قلات جہانگیر زہری سمیت تمام مانیٹرنگ آفیسران اور یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز (UCMOs) نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مہم کے تیسرے روز پولیو ٹیموں کی مجموعی کارکردگی، مقررہ ہدف کے حصول، فیلڈ میں درپیش مسائل، رفیوزل (انکار کرنے والے) کیسز اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر یو سی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسران نے فیلڈ ٹیموں کی روزانہ کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد پولیو ٹیموں اور مانیٹرنگ افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا:”کل مہم کا آخری یعنی ‘کیچ اپ’ کا دن ہے، جس میں پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر رہ جانے والے بچوں، مہمان بچوں اور رفیوزلز (انکاری والدین کے بچوں) کو ہر صورت پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ ضلع کا کوئی بھی بچہ اس حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم سے محروم نہ رہے اور پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔”انہوں نے تمام مانیٹرنگ افسران کو آخری روز فیلڈ میں نگرانی سخت کرنے اور ٹیموں کی بھرپور معاونت کی بھی تاکید کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9653/026
برشور : 04 نومبر 2026 ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم (SNID) کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس ہال میں ایک اہم ‘ایوننگ ریویو میٹنگ’ منعقد ہوئی،جس میں پولیو کے یو،سی لیول اور دیگر متعلقہ اعلیٰ آفسران نے شرکت کی،اجلاس کے دوران فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت،بچوں کو قطرے پلانے کے اہداف،مانیٹرنگ رپورٹس اور مائیکرو پلان پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے متعلقہ آفسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے مقررہ اہداف کا حصول ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع کا کوئی بھی پانچ سال سے کم عمر بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے،انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی،حساس اور ہائی رسک علاقوں پر خصوصی توجہ دینے سمیت کسی بھی وجہ سے رہ جانے والے (Refusal/Missed) بچوں کی فوری نشاندہی کر کے انہیں قطرے پلانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا حکم دیا،ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ایک اہم قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے تمام محکموں اور سیکیورٹی اداروں کو باہمی روابط اور اعلیٰ درجے کی ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا،اجلاس میں تیسرے روز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چوتھے روز مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے فول پروف حکمتِ عملی طے کی گئی۔

خبرنامہ نمبر9654/026
کوئٹہ، 4 نومبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے چیئرمین انجینئر قمر الاسلام راجہ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر نادیہ کریم نے ملاقات کی، جس میں جنوبی بلوچستان کے فوکسڈ اضلاع سمیت صوبے بھر کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے جاری یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت صوبے کے 25 ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، وفاقی حکومت کے مختلف محکموں میں 6 ہزار آسامیاں مشتہر کی جاچکی ہیں جبکہ مزید آسامیاں بھی مرحلہ وار مشتہر کی جارہی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ NAVTTC اور بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے اشتراک سے بلوچستان کے 10 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی و تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد انہیں ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر سے آراستہ کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ رواں سال دسمبر تک 2 ہزار تربیت یافتہ نوجوانوں کا پہلا بیچ اپنی تربیت مکمل کرلے گا، جنہیں دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ تک رسائی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری انداز میں بروئے کار لانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کو محض ڈگریاں دینے کے بجائے ایسے فنی اور تکنیکی ہنر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو انہیں عملی زندگی میں باعزت روزگار کے حصول کے قابل بنا سکیں۔ تربیتی پروگراموں کو مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور بالخصوص جنوبی بلوچستان کے فوکسڈ اضلاع کے نوجوانوں کو اس پروگرام سے بھرپور استفادے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے کے لیے بھی مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ فنی تربیت اور روزگار کے منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں مستحق نوجوانوں تک پہنچنے چاہئیں اور ان پروگراموں کی پیش رفت، شفافیت اور نتائج کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے۔ ملاقات میں سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور بلوچستان صالح محمد ناصر، سربراہ بی ٹیوٹا میجر (ریٹائرڈ) عبدالکبیر زرکون اور ڈی جی NAVTTC بلوچستان حسین بخش مگسی بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر9655/026
کوئٹہ: 4 نومبر 2026: بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی سے سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی آبپاشی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل، بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، منیجنگ ڈائریکٹر واسا اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کو آئندہ سماعت تک جامع رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ماہر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، مدعا علیہ نمبر 5 کے وکیل، منیجنگ ڈائریکٹر واسا کے وکیل اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مدعا علیہ نمبر 6 کی جانب سے پیرا وائز کمنٹس جمع کرا دیے گئے ہیں، جنہیں ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا، جبکہ درخواست گزار کے وکیل کو ان کی نقل فراہم کردی گئی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ مدعا علیہان نمبر 1 تا 3 کی جانب سے پیرا وائز کمنٹس جمع کرائیں، جبکہ مدعا علیہ نمبر 5 کے وکیل کو بھی دفتر میں پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے اور ان کی پیشگی نقل درخواست گزار کے وکیل کو فراہم کرنے کا حکم دیا، تاکہ آئندہ کارروائی کے لیے معاملے کو تیار کیا جاسکے۔عدالت نے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، منیجنگ ڈائریکٹر واسا اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں، جن میں درخواست میں اٹھائے گئے نکات، غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی کے استعمال کی روک تھام کے لیے کیے گئے اور مجوزہ اقدامات کی وضاحت شامل ہو۔
دورانِ سماعت عدالت نے قرار دیا کہ اس معاملے کے مؤثر اور جامع فیصلے کے لیے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو بھی فریق بنانا ضروری ہے۔ چنانچہ درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی گئی کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بطور مدعا علیہ نمبر 7 درخواست میں شامل کیا جائے۔ اس ضمن میں ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت کا دفتر نئے فریق کو نوٹس جاری کرے گا اور آئندہ سماعت سے قبل پیرا وائز کمنٹس طلب کرے گا۔
عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ درخواست میں عوامی اہمیت کا نہایت اہم مسئلہ اٹھایا گیا ہے، جس کا تعلق سیوریج کے غیر صاف شدہ پانی سے سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی آبپاشی اور اس کے نتیجے میں انسانی و حیوانی صحت کو لاحق خطرات سے ہے۔ عدالت کے مطابق صحت عامہ، خوراک کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق درخواست گزار کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ اسی نوعیت کا معاملہ اس سے قبل بھی آئینی درخواست نمبر 813/2019 کے تحت زیرِ سماعت آچکا ہے، جس میں متعلقہ حکام کو تفصیلی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ تاہم موجودہ درخواست میں غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی سے زرعی زمینوں کی آبپاشی جاری رہنے کے الزامات اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ سابقہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے اقدامات کی مؤثریت کا جائزہ لیا جائے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی میں سنکھیا، بھاری دھاتیں اور دیگر مضر آلودہ مادے موجود ہوسکتے ہیں، جو فصلوں میں جذب ہوکر انسانی اور حیوانی خوراک کے ذریعے صحت کے لیے سنگین اور طویل المدتی خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے محض رسمی کارروائی کی بجائے مربوط، مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ حکام کی رپورٹس میں سیوریج کے پانی سے آبپاشی کی موجودہ صورتحال، خارج کیے جانے والے پانی کے معیار، غیر صاف شدہ پانی کے استعمال کی روک تھام کے اقدامات، سیوریج کے مناسب ٹریٹمنٹ اور محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے انتظامات اور آئینی درخواست نمبر 813/2019 میں جاری کردہ عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کی تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں کے عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے آئندہ کیے جانے والے اقدامات کی بھی نشاندہی کی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے حکم کی نقل معلومات کے لیے دفتر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور تعمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔

خبرنامہ نمبر 9656/026
ژوب؛4نومبر2026: محکمہ زراعت کے زیر اہتمام ایگریکلچر اِن سروس ٹریننگ اکیڈمی کے تحت گندم کی پیداواری ٹیکنالوجی کے موضوع پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ زراعت کے آفیسران اور زمینداروں نے شرکت کی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر بلوچستان کوئیٹہ محمد انور دوتانی زراعت آفیسر ڈاکٹر محمد ثاقب ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اقبال ترین و زراعت آفیسر احمد خان ان سروس ٹریننگ بلوچستان کوئیٹہ ڈپٹی ڈائریکٹرز ژوب کامران اسحاق اینڈ جمال خان مندوخيل اور ریسرچ آفیسران عبدالغفار ڈاکٹر عبد العلیم اور دیگر نے زمینداروں اور کاشتکاروں کو گندم کی اہمیت، ضرورت اور جدید طریقہ کاشت کے حوالے سے تربیت فراہم کی اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ گندم پاکستان کی بنیادی غذائی ضرورت ہے، جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانات کی خوراک کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ گندم محض ایک فصل نہیں بلکہ ملکی غذائی تحفظ، معیشت اور روزگار سے بھی وابستہ ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہر سال گندم درآمد کرنے پر مجبور ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مقامی سطح پر پیداوار اور ضروریات کے درمیان فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار گندم کی کاشت ترک کرکے لہسن سمیت دیگر نقد آور فصلوں کی جانب راغب ہو رہے ہیں، جس سے گندم کی مجموعی پیداوار متاثر ہونے اور ملکی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہے۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی کاشت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تربیت کے دوران انہوں نے زمینداروں اور کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ گندم کی کاشت کے لیے صرف تصدیق شدہ اور معیاری بیج استعمال کریں اور محکمہ زراعت کی جانب سے تجویز کردہ وقت پر کاشت کو یقینی بنائیں، کیونکہ مقررہ وقت سے جتنی تاخیر سے گندم کاشت کی جائے گی، اسی تناسب سے پیداوار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زرعی طریقوں اور سفارشات پر عمل درآمد سے پانی، کھاد اور بیج کی بچت کے ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ زمیندار روایتی طریقوں کے بجائے جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائیں تاکہ محدود وسائل میں زیادہ پیداوار حاصل کرکے ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ زمینوں کو سیراب کرنے کھاد دینے اور جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کے لیے محکمہ زراعت کی رہنمائی پر عمل کیا جائے جو زمیندار اور گندم کی فصل میں ہمیشہ معاون ثابت ہو گی اس موقع پر ماہرین نے زمینداروں کے سوالات کے جوابات دئیے

خبرنامہ نمبر9657/026
شیرانی4نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے خان عالم کپیپ میں قائم بنیادی مرکزِ صحت (BHU) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز میں دستیاب طبی سہولیات، عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے طبی عملے کی حاضری چیک کی اور مریضوں کے انٹری رجسٹر سمیت دیگر متعلقہ ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مرکزِ صحت میں آنے والے مریضوں کی تعداد، علاج معالجے کی سہولیات اور فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اس موقع پر پی پی ایچ آئی (PPHI) شیرانی کے ایم ایس ڈاکٹر قدیر بھی موجود تھے، جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کو بنیادی مرکزِ صحت کی مجموعی کارکردگی، دستیاب طبی سہولیات، عملے کی ذمہ داریوں اور درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے متعلقہ حکام اور طبی عملے کو ہدایت کی کہ بنیادی مرکزِ صحت میں آنے والے تمام مریضوں کو بروقت، معیاری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی عملے کی ڈیوٹی پر بروقت حاضری یقینی بنائی جائے اور مریضوں کے علاج معالجے سے متعلق تمام ریکارڈ باقاعدگی سے مرتب اور محفوظ رکھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی مراکزِ صحت دیہی علاقوں کے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان مراکز کو فعال رکھا جائے اور عوام کو علاج معالجے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر نے صحت کے شعبے میں عوامی مسائل کے فوری حل، طبی سہولیات کی بہتری اور سرکاری مراکزِ صحت کی کارکردگی مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے پی پی ایچ آئی اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔

خبرنامہ نمبر9658/026
دکی:4نومبر2026:
ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال اور ایس پی دکی محمد یونس رضا کے ہمراہ نانا صاحب زیارت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام کے تحت زیرِ تعمیر فٹبال اسٹیڈیم کے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منصوبے پر جاری کام کی رفتار، تعمیراتی معیار اور مختلف مراحل پر ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی موجودہ صورتحال اور تکمیل کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر میں معیاری میٹریل کے استعمال اورتعمیراتی ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ کام کی رفتار کو مزید تیز کرتے ہوئے منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے
ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی و تفریحی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ نانا صاحب زیارت میں فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر سے علاقے کے نوجوانوں کو کھیلوں کے لیے ایک بہتر اور معیاری میدان میسر آئے گا، جس سے مقامی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کی مثبت صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوان نسل کو صحت مند، مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ضلعی انتظامیہ بی ایس ڈی آئی سمیت تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ عوامی مفاد کے منصوبے شفافیت، معیار اور مقررہ وقت کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچ سکیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تعمیراتی کام کی باقاعدہ نگرانی کے ذریعے عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد فراہم کیے جائیں۔

خبرنامہ نمبر 9659/026
شیرانی: 4 نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صحت اور انسدادِ پولیو مہم سے وابستہ متعلقہ حکام اور ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی ویکسینیشن کوریج، فیلڈ سرگرمیوں اور دورانِ مہم درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کے دوران پولیو ٹیموں کی جانب سے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے، مقررہ اہداف کے حصول، مائیکرو پلان پر عمل درآمد اور رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم کے تمام مراحل کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے ٹرانزٹ پوائنٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے انسدادِ پولیو ٹیموں کی موجودگی، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل اور ویکسینیشن ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود عملے سے مہم کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ سفر کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ایک قومی ذمہ داری ہے اور اس موذی مرض سے بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے والدین، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کو تاکید کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں محنت، لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں اور مہم کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی سے گریز کریں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران فیلڈ میں درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے، ٹیموں کی حاضری اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام تر اقدامات یقینی بنائے جائیں، تاکہ ضلع شیرانی کے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 9660/026
شیرانی:4نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ سے نادرا آفیسر شیرانی ولی خان شیرانی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بینظیر نشوونما پروگرام کے افسران نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ضلع شیرانی کے عوام کو درپیش مسائل، بالخصوص خواتین کو ب فارم (B-Form) کے حصول کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے عوامی مشکلات کے فوری ازالے اور خواتین کو سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کے تمام یونین سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی ہیڈکوارٹر مانی خواہ میں اپنی حاضری یقینی بنائیں، تاکہ خواتین کو ب فارم کے حصول کے لیے درپیش مسائل کے حل میں مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے اور انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے
ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی خدمت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے اور مؤثر تعاون کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنائیں اور بالخصوص خواتین اور مستحق خاندانوں کو سرکاری سہولیات کے حصول میں ہر ممکن آسانی فراہم کریں انہوں نے مزید واضح کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر9661/026
تربت 4 نومبر 2026: کمبائن فاؤنڈیشن اور جامعہ تربت کے اشتراک سے یوتھ لیڈرشپ پروگرام (وائی ایل پی) کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت کی فکری صلاحیتوں اور انسانی جذبات کے عنوان سے ایک خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ سیشن کی میزبانی شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے یوتھ لیڈر فراز احمد نے کی۔ سیشن کے آغاز میں کمبائن فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے تنظیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے جامعات، یوتھ لیڈرز اور رضاکاروں کے نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں نوجوانوں کے لیے جاری مختلف پراگرامز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ بعد ازاں شرکاء کو مصنوعی ذہانت کی تیکنیکی صلاحیتوں اور انسانی جذبات و احساسات کے درمیان بنیادی فرق سے روشناس کرایا گیا۔ سیشن کو مزید جامع اور دلچسپ بنانے کے لیے کوئز مقابلوں اور ویڈیو پریزنٹیشن کا اہتمام بھی کیا گیا، جس میں طلبہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر اس نوعیت کے مفید اور جدید سیشن کے انعقاد پر کمبائن فاؤنڈیشن، جامعہ تربت کی اسٹوڈنٹ کلبز اینڈ سوسائٹیز، اور یوتھ لیڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔ اپنے پیغام میں وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ جامعہ تربت مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھے گی جو طلبہ میں تنقیدی سوچ، قائدانہ صلاحیتوں اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کا باعث بنیں۔ سیشن میں جامعہ تربت کی فیکلٹی ممبران ڈاکٹر جہانگیر خان اور ڈاکٹر نعیم اللہ کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خبرنامہ نمبر9662/026
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لسبیلہ آفتاب احمد موندرہ کی زیر صدارت زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ضلعی ریونیو آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ ریونیو کے کلیدی افسران نے شرکت کی۔جن میں تحصیلدار کنراج، تحصیلدار لاکھڑا، تحصیلدار بیلہ، نائب تحصیلدار اوتھل اور سپرنٹنڈنٹ نصراللہ بندیچہ شامل تھے۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں زرعی انکم ٹیکس کی اب تک کی وصولیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 9663/026
سیوی 4 نومبر 2026:
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیر صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز کی مجموعی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی اور ویکسینیشن کوریج کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی، اے کے یو کے نمائندوں، مانیٹرز، یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس میں یونین کونسل کی سطح پر مہم کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یو سی ایم اوز نے اپنے متعلقہ علاقوں میں حاصل کردہ اہداف، ہاؤس ہولڈ کوریج، زیرو ڈوز، مسڈ چلڈرن، ریفیوزل اور (NA) کیسز کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ مہم کے آخری مراحل میں کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ڈوز اور مسڈ بچوں کی ویکسینیشن اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ ریفیوزل کیسز کو مؤثر آگاہی، والدین سے رابطے اور مقامی عمائدین کے تعاون سے حل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ افسران فیلڈ میں ٹیموں کی موجودگی اور کارکردگی کو یقینی بنائیں، مانیٹرنگ کے عمل کو مزید فعال بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والے ڈیٹا کی تصدیق کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں۔ مہم کی کامیابی صرف مقررہ اہداف کے حصول تک محدود نہیں بلکہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانا اصل مقصد ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ مہم کے اخری کیچ اپ ڈے پر بھی اسی جذبے، باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھا جائے تاکہ کوئی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہے اور سیوی کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے سو فیصد کوریج کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9664/026
لورالائی، 4 نومبر 2026: رکن صوبائی اسمبلی لورالائی حاجی محمد خان طور اُتمانخیل نے کہا ہے کہ اپنے حلقے کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، شہر کی خوبصورتی اور بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج بروز بدھ میونسپل کمیٹی لورالائی کے لیے فراہم کی جانے والی جدید ہیوی ڈیوٹی مشینری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیاافتتاحی تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اُتمانخیل نے جدید مشینری کی چابیاں چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی محمد طاہر خان ناصر کے حوالے کیں، جنہوں نے مشینری کی چابیاں وصول کیں۔ اس موقع پر میونسپل کمیٹی کے متعلقہ افسران اور عملہ بھی موجود تھاچیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ کے مطابق میونسپل کمیٹی کو فراہم کی جانے والی جدید مشینری میں ہیوی ڈیوٹی ایکسکیویٹر، ڈمپر ٹرک اور ہیوی ڈیوٹی سکشن مشین ٹرک شامل ہیں، جن کی فراہمی سے شہر میں صفائی ستھرائی، نکاسیٔ آب، نالیوں کی صفائی، گندگی اور ملبے کو ٹھکانے لگانے سمیت دیگر بلدیاتی امور کی انجام دہی میں نمایاں بہتری آئے گی اس موقع پر حاجی محمد خان طور اُتمانخیل نے کہا کہ لورالائی شہر کی ترقی، عوامی مسائل کا حل اور شہریوں کو بہتر بلدیاتی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ میونسپل کمیٹی کو جدید مشینری کی فراہمی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو صاف ستھرا، خوبصورت اور شہریوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا اور بلدیاتی اداروں کو مزید فعال و مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندگی کا اصل مقصد عوام کے مسائل حل کرنا اور ان کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ ہم نے اپنے حلقے کے عوام سے جو وعدے کیے ہیں، انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی جدید مشینری کی فراہمی سے میونسپل کمیٹی لورالائی کی کارکردگی میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے، بارشوں کے دوران نکاسیٔ آب کے مسائل سے نمٹنے اور شہریوں کو درپیش بلدیاتی مشکلات کے فوری ازالے میں بھی مدد ملے گی اس اقدام کو شہری سہولیات کی بہتری اور لورالائی کی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی خدمت، عملی اقدامات اور ترقی کا یہ سفر ان شاء اللہ جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر8665/026
دکی4 نومبر 2026:
دکی: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم SNID نومبر 2026 کے تیسرے روز کی پیشرفت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ایم ایس ڈاکٹر جوہر خان شادوزئی، CRTO مانیٹر EOC ڈاکٹر صفدر پانیزئی، ڈی ڈی ایچ او ، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عزیز خان، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، اے ڈی ایم راز محمد، ای پی آئی آفیسر پیر محمد، سی سی او سعید احمد، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین، یو سی ایم اوز، لائن ڈیپارٹمنٹس کے مانیٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مہم کے تیسرے روز کی فیلڈ سرگرمیوں، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی پیشرفت اور مانیٹرنگ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور رہ جانے والے بچوں کو کیچ اَپ ڈے کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ویکسین سے محروم نہ رہے۔

خبرنامہ نمبر9666/026
​ہرنائی :ضلع ہرنائی میں جاری قومی انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں تیسرے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اہم ایوننگ ریویو میٹنگ (ERM) ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔​اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ہرنائی، اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ۔اسراراحمد شاھوانی، تمام یونین کونسل میڈیکل افسران (UCMOs)، پولیو مہم کے مانیٹرز اور صحت سے متعلقہ دیگر اداروں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔​اجلاس کے دوران تمام UCMOs نے اپنے اپنے علاقوں (یونین کونسلز) میں پولیو ٹیموں کی پیشرفت، حاصل کردہ اہداف اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلانے کے اعداد و شمار پر مشتمل تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیلڈ مانیٹرز نے دن بھر کی نگرانی، فیلڈ فائنڈنگز اور ٹیموں کو درپیش آپریشنل مسائل سے انتظامیہ کو آگاہ کیا۔​ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی کارکردگی اور جذبے کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ضلع کے تمام حصوں، بالخصوص دور دراز اور حساس علاقوں میں کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے انکاری والدین کو قائل کرنے اور فیلڈ فائنڈنگز کے دوران سامنے آنے والی کمیوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے سخت اقدامات کی تاکید کی۔​اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پولیو کے مکمل خاتمے اور سو فیصد کوریج کے ہدف کے حصول تک انتظامیہ اور محکمہ صحت مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

خبرنامہ نمبر9667/026
چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی اجلاس میں صوبائی محکموں کے انتظامی امور اور کارکردگی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے ڈیٹا بیس کے باہمی انضمام، محکمہ داخلہ کی ڈیجیٹلائزیشن، خالی آسامیوں، سرکاری گاڑیوں سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوامی خدمت تمام سرکاری محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور انتظامی کارکردگی کا اصل معیار عوام کو ملنے والی سہولت اور ان کے مسائل کا بروقت حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوردراز علاقوں کے عوام کی خدمات میں درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایسے انتظامی اقدامات کیے جائیں جن سے ان کا وقت اور وسائل بچ سکیں۔ عوامی شکایات کو محض دفتری کارروائی سمجھنے کے بجائے ان کے عملی ازالے کو ترجیح دی جائے اور ہر سطح پر ذمہ داری، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں میں ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دیا جائے تاکہ فائلوں کی نقل و حرکت اور دفتری امور کی انجام دہی میں تیزی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے نہ صرف سرکاری امور میں غیرضروری تاخیر کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کو خدمات کی بروقت اور آسان فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی اور انتظامی اقدامات کے ثمرات شہریوں تک پہنچ سکیں۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ محکمے اپنے دفتری نظام کو بتدریج ڈیجیٹل خطوط پر استوار کریں اور اس عمل میں عوامی سہولت کو اولین ترجیح دیں۔ اجلاس کو محکمہ داخلہ میں ای فائلنگ، ای ڈاک اور ای سمریز سمیت ڈیجیٹل نظام، ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں، مختلف محکموں کی ناکارہ سرکاری گاڑیوں کو ضابطے کے تحت کنڈیم قرار دینے اور محکموں، منسلک محکموں و خودمختار اداروں کے اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کا استعمال قواعد و ضوابط اور عوامی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ مالی و انتظامی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے دستیاب وسائل سے خدمات کی فراہمی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی پی ایچ آئی کی طرز پر خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے اہل اور حق دار امیدواروں کو ان کا جائز حق دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی جانچ اور انتخاب کا عمل واضح، یکساں اور قابلِ تصدیق معیار کے تحت مکمل کیا جائے، جس میں کسی قسم کی سفارش، جانبداری یا غیرضروری انسانی مداخلت کی گنجائش نہ ہو۔ انہوں نے تاکید کی کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ متعلقہ قواعد و ضوابط کی پاسداری اور مؤثر نگرانی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ بھرتیوں کے عمل پر امیدواروں کا اعتماد مضبوط ہو۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (بی پیپرا) کے تحت ٹینڈرز میں سنگل بڈر، یعنی صرف ایک بولی دہندہ کی شرکت، کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان نے ہدایت کی کہ سنگل بڈر والے ٹینڈرز کی شرح مزید کم کرنے اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شفافیت، صحت مند مسابقت اور سرکاری وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب شہریوں کو سرکاری اداروں کی کارکردگی میں واضح بہتری محسوس ہو۔

خبرنامہ نمبر9668/026
کوئٹہ4 نومبر2026: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جمہوری اقدار کے فروغ، عوام کو ان کے حقوق و فرائض کا سیاسی شعور دینے اور بنیادی اولسی مسائل کے حل کیلئے صوبے کی سیاسی جماعتوں نے عوام دوست جدوجہد، قربانیاں اور گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ جن میں نیشنل پارٹی کا مختلف قومی ایشوز اور صوبے کو درپیش چیلنجز پر جمہوری اور متوازن سیاسی کردار رہا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہماری سب سے بڑی افرادی قوت اور مستقبل کا قیمتی سرمایہ ہیں تاہم ان کے ذہنوں کو معیاری تعلیم کی روشنی سے روشن کرنا، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی مہارتیں فراہم کرنا اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانا ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور حکومت کی اولین ذمہ داری بھی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کے یوتھ پروگرام کے تحت پورے بلوچستان بالخصوص جنوبی اضلاع کے نوجوانوں کیلئے 10 ہزار افراد کو جدید تکنیکی و فنی تربیت فراہم کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک وفاقی ادارہ نوجوانوں کو اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹیکنیکل ٹریننگ فراہم کریگا۔ گورنر مندوخیل نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور صوبے میں بیروزگاری کی شرح میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی جسکا ہدف 50 فیصد تک کمی لانا ہے۔ گورنر بلوچستان نے مزید کہا کہ نوجوانوں اور تاجر برادری کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔ وہ ہر متعلقہ اور ذمہ دار فورم پر انکے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور متعلقہ حکام کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرکے انکے حل کیلئے مسلسل شعوری کوششیں جاری رکھتے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ترقی کا راستہ تعلیم، فنی مہارت، جمہوری استحکام اور معاشی خودمختاری سے ہو کر گزرتا ہے۔ نوجوانوں کو محض ملازمت کے متلاشی افراد بنانے کے بجائے ہنرمند، خوداعتماد اور روزگار پیدا کرنے کے قابل شہری بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، تعلیمی اداروں اور حکومتی اداروں کے درمیان موثر تعاون ہی صوبے کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو قومی تعمیر و ترقی کی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر9669/026
لسبیلہ کینال میں ایکسیئن عدیل فیض کی سربراہی میں محکمہ آبپاشی کی ٹیم نے نان کمانڈ ایریا میں پانی کے غیر قانونی استعمال اور غیر مجاز کنکشنز کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی پائپس نکال دیے ہیں کارروائی کا مقصد پانی کی چوری کی روک تھام، آبی وسائل کے تحفظ اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ ایکسیئن عدیل فیض کی سربراہی میں اس اقدام کو پانی کے ضیاع اور غیر قانونی استعمال کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

خبرنامہ نمبر9670/026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں مختلف فیلڈ ٹیموں اور ٹرانزٹ پوائنٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیو ٹیموں کی حاضری، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل، ویکسینیشن کوریج اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے سے مہم کی پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے ہدایت کی کہ گھر گھر اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ سفر کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو بھی خصوصی توجہ دی جائے۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر چمن کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت اور انسدادِ پولیو مہم سے وابستہ متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ویکسینیشن کوریج، فیلڈ سرگرمیوں، مائیکرو پلان پر عمل درآمد، مقررہ اہداف کے حصول اور دورانِ مہم درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم کی مؤثر نگرانی، ٹیموں کی حاضری اور کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے، رہ جانے والے بچوں کی فوری نشاندہی کرکے ان کی ویکسینیشن یقینی بنائی جائے اور فیلڈ میں درپیش مسائل کو بلا تاخیر حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، پولیو ٹیموں اور والدین کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری محنت، لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ضلع چمن کے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے محفوظ بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9671/026
سوراب04 نومبر 2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت شہید ہدایت اللہ بلیدی پبلک لائبریری سوراب میں خواتین کی کھلی کچہری منعقد ہوئی جس میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ، ایف سی بلوچستان 61 ونگ میجر علی عباس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، ضلعی افسران، کالج کی طالبات، اساتذہ اور خواتین نے شرکت کی اس موقع پر خواتین اور طالبات نے بجلی، گیس، تعلیم، صحت، صاف پانی، نادرا، بی آئی ایس پی، فیملی پارک اور دیگر بنیادی مسائل سے متعلق اپنی شکایات اور تجاویز پیش کیں ڈپٹی کمشنر نے شرکاء کے مسائل غور سے سنے اور متعلقہ افسران کو ان کے فوری حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔*

خبرنامہ نمبر9672/026
کوئٹہ: بلوچستان سول سروسز اکیڈمی (BCSA) کوئٹہ میں حکومتِ بلوچستان کے افسران کے لیے ’’عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل گورننس‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ اس تربیتی پروگرام کا انعقاد اکاؤنٹیبلٹی لیب اسلام آباد (Accountability Lab Islamabad) کے تعاون سے کیا گیا۔ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، حاجی عبدالمجید بادینی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور تقریب سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں حاجی عبدالمجید بادینی نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل گورننس کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتظامی امور میں بہتری، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے ساتھ عوام کو مؤثر اور بروقت سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نہایت اہم ہے انہوں نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی اور اکاؤنٹیبلٹی لیب اسلام آباد کی جانب سے اس اہم تربیتی پروگرام کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام سرکاری افسران کی صلاحیتوں میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شرکاء ورکشاپ کے دوران حاصل ہونے والے علم اور تجربات کو اپنے متعلقہ محکموں میں بروئے کار لائیں گے۔تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی اور سول سروسزچیف انسٹرکٹرٹریننگ اینڈ پروگرام اکیڈمی شبانہ سلطان بھی موجود تھے۔
تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران ای گورننس سسٹمز، ڈیجیٹل سروس ڈلیوری، شفافیت و احتساب، سرکاری امور کی اصلاح و بہتری اور شہریوں کے لیے بہتر خدمات کی فراہمی جیسے اہم موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد حکومتِ بلوچستان کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا اور سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل نظام کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا تھا۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی اصلاحات اور سرکاری افسران کی استعداد کار میں اضافے کے ذریعے عوامی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر9673/026
قلعہ عبداللہ: ڈپٹی کمشنر آفس جنگل پیرعلیزئی، ضلع قلعہ عبداللہ میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کی زیرِ صدارت ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور میزئی اڈہ کے مقام پر جاری دھرنے کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہے۔اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی اسفندیار کاکڑ، کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری، ڈی آئی جی پولیس، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خلیل احمد بگٹی سمیت دیگر اعلیٰ سول و پولیس حکام شریک ہیں۔
اجلاس میں ضلع قلعہ عبداللہ کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، عوام کو درپیش مسائل اور میزئی اڈہ کے مقام پر جاری دھرنے کے مطالبات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ امور پر غور و خوض اور مسائل کے حل کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال جاری ہے۔

خبرنامہ نمبر9674/026
کوئٹہ 04 نومبر۔2026: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او، ڈپٹی ڈی ایچ او، نیشنل ای او سی کے ممبر، ڈسٹرکٹ ای او سی کے ممبران، مانیٹرز اور دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کی یونین کونسلز میں جاری پولیو مہم کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر زیرو ڈوز، رفیوزل، سٹل رفیوزل، نان اویلیبل (NA)، سٹل نان اویلیبل اور سٹل زیرو ڈوز بچوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس پیش کی گئیں، جبکہ مہم کے دوران درپیش مسائل، رہ جانے والے بچوں اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی پر بھی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ناقص کارکردگی، مانیٹرنگ میں غفلت اور سکیورٹی انتظامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ سکیورٹی ادارے فیلڈ ٹیموں کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ زیرو ڈوز اور رفیوزل بچوں کے کیسز کو خصوصی ترجیح دی جائے، سٹل رفیوزل اور نان اویلیبل بچوں تک دوبارہ رسائی کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے اور ہر رہ جانے والے بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے مانیٹرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں، ہر یونین کونسل کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی فوری نشاندہی کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فرائض میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی ذمہ داری ہے، تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے، مؤثر نگرانی اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ مہم کو کامیاب بنائیں تاکہ کوئٹہ کے کسی بھی بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *