خبر نامہ نمبر9111/2026
کوئٹہ20 اکتوبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے کے شہریوں کو معیاری، آسان اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پی پی ایچ آئی بلوچستان نے صحت دہلیز (Sehat Dehleez) ٹیلی ہیلتھ ایپ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا اور بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے طبی مشاورت تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔صحت دہلیز ایپ کے ذریعے شہری 24 گھنٹے مستند ڈاکٹروں سے طبی مشاورت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت صوبے کے مختلف علاقوں میں رہنے والے افراد کو گھر بیٹھے ڈاکٹر سے رابطے، عام بیماریوں کے علاج سے متعلق رہنمائی اور صحت کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ایپ کے ذریعے ماوں اور بچوں کی صحت سے متعلق مشاورت، عام بیماریوں کی رہنمائی اور صحت سے متعلق آگاہی کے لیے بھی سہولیات دستیاب ہیں۔اس اقدام کے تحت بلوچستان کے شہریوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے طبی رہنمائی فراہم کرکے علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، غیر ضروری سفری مشکلات کم کرنے اور صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صحت دہلیز ایپ بالخصوص ان علاقوں کے رہائشیوں کے لیے اہم سہولت ہے جہاں طبی مراکز تک رسائی میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔پی پی ایچ آئی بلوچستان کے اس اقدام کا مقصد صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو مزید موثر، آسان اور عوام دوست بنانا ہے تاکہ صوبے کے شہری جدید ڈیجیٹل نظام سے مستفید ہو سکیں۔ شہری صحت دہلیز کی ویب ایپ اور اینڈرائیڈ ایپ کے لیے فراہم کردہ کیو آر کوڈز اسکین کرکے اس سہولت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔صحت دہلیز ٹیلی ہیلتھ ایپ بلوچستان میں ڈیجیٹل صحت کے فروغ اور معیاری طبی مشاورت کو عوام کی دسترس میں لانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9112/2026
کوئٹہ 20 اکتوبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سوئی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، تعمیراتی کاموں کے معیار کا جائزہ لینے اور منصوبوں پر پیش رفت کا معائنہ کرنے کے لیے پانچ سیکرٹریز اور چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) نے سوئی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد وزیراعلیٰ بلوچستان کے گزشتہ ہفتے سوئی کے دورے کے بعد ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا، جاری تعمیراتی کاموں کے معیار کو جانچنا اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔دورے میں سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بشیر احمد بنگلزئی، سیکرٹری کالجز ہاشم غلزئی، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) شاہ زیب کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت شہک بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔دورے کے دوران متعلقہ ترقیاتی منصوبوں پر جاری کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار، استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل اور کام کے معیار کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر منصوبوں پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس امر پر توجہ دی گئی کہ ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں اور عوامی وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوامی فنڈز سے شروع کیے گئے منصوبوں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں، تعمیراتی کاموں میں معیار برقرار رہے اور منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا بھی اہمیت کا حامل ہے تاکہ ترقیاتی عمل میں کسی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی فنڈز کے استعمال میں غفلت، ناقص تعمیراتی کام اور معیار پر سمجھوتے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوام کے پیسے کا ایک ایک روپیہ ان کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کی پائیدار ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔ ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری وسائل شفاف انداز میں استعمال ہوں اور منصوبے اپنے مقررہ مقاصد کے مطابق عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔حکومت بلوچستان کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور شفافیت پر خصوصی توجہ اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری، عوامی ضروریات کی تکمیل اور پائیدار ترقی کے لیے جاری اقدامات کی مسلسل نگرانی کی جائے، تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے حکومتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9113/2026
گوادر 20 اکتوبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر کے لیے ادویات کی دو کھیپیں گوادر پہنچ گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ہسپتال میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانا اور مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صحتِ عامہ سے متعلق وژن اور عوام دوست پالیسی کے تحت صوبے میں طبی سہولیات کی بہتری، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی اور عوام کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر کے لیے ادویات کی فراہمی بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے ادویات کی آمد سے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی، جبکہ یہ اقدام گوادر کے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے گوادر کے عوامی حلقوں نے ادویات کی فراہمی پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور محکمہ صحت کے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ صحت کے شعبے میں ایسے اقدامات کا تسلسل برقرار رہے گا، تاکہ عوام کو بروقت علاج اور ضروری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9114/2026
20 اکتوبر ۔استا محمد۔ عوامی شکایات پر انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے جناح روڈ پر مرغی کی دکانوں کی چیکنگ زائد نرخوں پر فروخت کرنے والے متعدد دکانداروں کو جرمانے عائد کیے گئے اور مقررہ نرخوں پر عملدرآمد کی سخت ہدایت کی گئی واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر شہر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر استا محمد ماریہ شمعون نے جناح روڈ پر مرغی فروخت کرنے والی مختلف دکانوں کا معائنہ کیا اور مرغی کے نرخوں خرید و فروخت کے ریکارڈ اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمتوں کا جائزہ لیادورانِ چیکنگ انکشاف ہوا کہ بعض دکاندار 455 روپے فی کلو کے حساب سے خریدی گئی مرغی عوام کو 700 سے 720 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت کر رہے تھے جو مقررہ نرخوں اور قیمتوں کے ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے انتظامیہ نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے زائد قیمتیں وصول کرنے والے متعدد دکانداروں کے خلاف کارروائی کی اور انہیں جرمانے عائد کیےاس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ناجائز منافع خوری سے گریز کریں سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں کی پابندی یقینی بنائیں اور خریداری کے عمل میں شفافیت برقرار رکھتے ہوئے صارفین سے مقررہ قیمت سے زیادہ رقم وصول نہ کریں انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گیانتظامیہ کی جانب سے شہریوں کے حقوق کے تحفظ مصنوعی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے بازاروں اور تجارتی مراکز میں قیمتوں کی نگرانی کا عمل مزید مو¿ثر بنایا جا رہا ہے دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں کے مطابق اشیاءفروخت کریں بصورتِ دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گیضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کوئی دکاندار مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرے تو اس کی نشاندہی متعلقہ انتظامی حکام کے سامنے کریں تاکہ بروقت کارروائی کرکے عوام کو مہنگائی کے دباو سے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9115/2026
پسنی20 اکتوبر۔: ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران پروفیسر برکت اسماعیل نے گورنمنٹ گرلز انٹر کالج پسنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں، اے ڈی پی امتحانات اور ادارے کے انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران پروفیسر برکت اسماعیل نے اساتذہ اور طالبات سے ملاقات کی اور تدریسی عمل، تعلیمی معیار اور ادارے کو درپیش امور پر تبادلہ خیال کیا انہوں نے صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تناظر میں تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی، تدریسی معیار میں بہتری اور طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کو موثر بنانے اور امتحانی عمل کی نگرانی سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی ترجیحات کے مطابق تعلیمی اداروں کی باقاعدہ مانیٹرنگ، تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ اور طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی معیاری تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9116/2026
گوادر 20 اکتوبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے گوادر فری زون میں شہزاد اینڈ شاو فارم پرائیویٹ لمیٹڈ کا افتتاح کر دیا۔ منصوبے کے تحت جانوروں کی افزائش، گوشت کی جدید پروسیسنگ اور بیرونِ ملک برآمدات کو فروغ دینے کا ہدف ہے، جس سے بلوچستان میں سرمایہ کاری، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات روشن ہوں گے افتتاحی تقریب میں وفاقی سیکریٹری میری ٹائم افیئرز محمد خرم آغا، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ،رکن پنجاب اسمبلی و رکن چیف منسٹر انسپکشن ٹیم محترمہ تحسین فواد، سی پیک کوآرڈینیٹر اسلام آباد محترمہ زارا، سی پیک پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد، وزارتِ غذائی تحفظ و تحقیق کے ڈاکٹر شہلحن، ڈائریکٹر جنرل، اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سابق سیکریٹری خلیل احمد، سابق نائب صدر واجدہ سلیم اور دیگر حکام و معززین نے شرکت کی۔تقریب کے دوران مہمانِ خصوصی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے افتتاحی فیتہ کاٹا اور دیگر مہمانوں کے ہمراہ فارم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر شرکاء کو منصوبے کے مجوزہ سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل اور معاشی امکانات سے مالامال صوبہ ہے، جہاں نجی شعبے کے اشتراک سے سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر فری زون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ منصوبے بلوچستان کی معاشی ترقی، تجارت اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ لائیو اسٹاک اور گوشت کی پروسیسنگ میں سرمایہ کاری سے مقامی پیداوار کی معاشی قدر بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صوبائی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور بندرگاہی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان کو بین الاقوامی تجارتی منڈیوں سے موثر انداز میں منسلک کیا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9117/2026
بارکھان20 اکتوبر۔ حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی اصلاحات، سرکاری اسکولوں کی فعالیت اور تعلیمی معیار میں بہتری کے اقدامات کے تحت ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے ضلع بارکھان کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈویژنل ڈائریکٹر نے گرلز ہائی اسکول مدینہ مسجد بارکھان کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر اساتذہ اور طالبات کی حاضری مکمل جبکہ تدریسی سرگرمیاں جاری پائی گئیں۔ انہوں نے اسکول میں جاری تعلیمی عمل کا جائزہ لیا اور تعلیمی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔بعد ازاں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بارکھان بہادر شاہ کے دفتر میں کلسٹر ہیڈز کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے کی۔ اجلاس میں ڈی ای او بہادر شاہ اور ڈپٹی ڈی ای او طارق بھی شریک تھے۔ اجلاس کے دوران کلسٹرز کے تحت فراہم کیے جانے والے سامان، تعلیمی وسائل کی دستیابی اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی سلسلے میں ڈی ای او فیمیل کے دفتر میں گرلز اسکولوں کے کلسٹر ہیڈز کا الگ اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں کلسٹر سامان کی شفاف اور بروقت فراہمی سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے تعلیمی معیار میں بہتری، اسکولوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور کلسٹر نظام کو موثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔دورے اور اجلاسوں کا مقصد تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، تعلیمی وسائل کی موثر فراہمی یقینی بنانا اور سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کو مزید موثر بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9118/2026
کوئٹہ20 اکتوبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں آڈٹ کارروائیوں کا جائزہ لینے، آڈٹ نظام کو مزید موثر بنانے اور صوبائی محصولات میں موجود ممکنہ فرق کی نشاندہی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں آڈٹ کے عمل کو مزید مضبوط بنانے، ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے اور محصولات کی وصولی میں موجود خامیوں اور ممکنہ کمی کی نشاندہی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔اس موقع پر اس امر پر توجہ دی گئی کہ آڈٹ کارروائیوں کو موثر، شفاف اور نتائج پر مبنی بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے درست ٹیکس رپورٹنگ کو یقینی بنانے، عدم تعمیل کی نشاندہی کرنے اور واجب الادا محصولات کی وصولی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔چیئرپرسن نے آڈٹ نظام کو مزید مستحکم بنانے اور محصولات کے فرق کی نشاندہی کے لیے متعلقہ افسران کی مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دستیاب معلومات اور ریکارڈ کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس قوانین کے مطابق کارروائیوں کو آگے بڑھایا جائے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے میں ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے، محصولات کے ممکنہ نقصانات کی نشاندہی اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9119/2026
تربت 20 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ کی زیرِ صدارت ضلع کیچ کے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (ڈی ڈی اوز) کا اجلاس منعقد ہوا. جس میں ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر کیچ صدام بلوچ سمیت مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر صدام بلوچ نے شرکا ءکو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کی واضح ہدایات کے مطابق تمام ڈی ڈی اوز ہر ماہ کی 15 تاریخ تک اپنے محکموں میں حاضر سروس ملازمین کی تحریری فہرست متعلقہ خزانہ آفس میں جمع کروانے کے پابند ہیں تاکہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ نے تمام محکموں کے سربراہان اور ڈی ڈی اوز پر زور دیا کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ملازمین کی حاضری سے متعلق درست اور مکمل ریکارڈ مقررہ تاریخ تک خزانہ آفس میں جمع کروائیں انہوں نے کہا کہ سرکاری امور میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ نے مزید واضح کیا کہ مقررہ وقت کے اندر حاضر سروس ملازمین کی فہرستیں جمع نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ ڈی ڈی اوز ذمہ دار ہوں گے انہوں نے ہدایت کی کہ تمام محکمے اس عمل کو سنجیدگی سے لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی انتظامی غفلت یا تاخیر کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل متاثر نہ ہو دوسری جانب ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر نے بھی آگاہ کیا کہ مقررہ مدت میں فہرستیں جمع نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی روکنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے جس کی ذمہ داری متعلقہ محکمے کے سربراہ یا ڈی ڈی او پر عائد ہوگی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری ہدایات پر موثر عمل درآمد، ملازمین کے ریکارڈ کی درستگی اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے کام کریں گے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت سے گریز کریں اور مقررہ ضابطہ کار کی پابندی کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9120/2026
گوادر20 اکتوبر۔ میر عبدالغفور کلمتی ویلفیئر فاونڈیشن کے چیئرمین میر ارشد کلمتی نے میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر کے لیے ادویات کی فراہمی اور خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے حوالے سے اقدامات پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کیا ہے۔میر ارشد کلمتی نے کہا کہ ہسپتال میں ادویات کی فراہمی اور طبی عملے کی کمی دور کرنے کے لیے اقدامات عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے گوادر کے عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات میسر آئیں گی اور ہسپتال کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور محکمہ صحت کے حکام کی توجہ، تعاون اور عوام دوست اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گوادر میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور عوام کو بروقت علاج کی فراہمی کے لیے ایسے اقدامات قابلِ تحسین ہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9121/2026
20 اکتوبر نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ریونیو افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس عشر اور آبیانہ کی مد میں سرکاری واجبات کی بروقت وصولی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ریونیو افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کے زرعی انکم ٹیکس عشر اور آبیانہ کی مد میں زمینداروں پر واجب الادا سرکاری بقایاجات کی وصولی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ ریونیو افسران کو ہدایت کی گئی کہ سرکاری واجبات کی بروقت اور موثر وصولی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات مزید تیز کیے جائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ سرکاری محصولات کی وصولی حکومتی امور کی موثر انجام دہی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے لہٰذا تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں انہوں نے کہا کہ جن زمینداروں کے ذمے زرعی انکم ٹیکس عشر اور آبیانہ کی مد میں بقایاجات واجب الادا ہیں ان سے وصولی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری بقایاجات کی وصولی میں پہلے کی نسبت بہتری آئی ہے تاہم اس عمل کو مزید موثر بنانے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے انہوں نے ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ تمام واجبات کا ریکارڈ مرتب اور اپ ڈیٹ رکھا جائے بقایاجات کی تفصیلات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور وصولی کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ بھی مرتب کی جائے تاکہ کارکردگی کی موثر نگرانی ممکن ہو سکے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ایسے زمینداروں کی الگ فہرستیں تیار کی جائیں جو واجبات کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر یا ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، اور انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق نوٹس جاری کرکے سرکاری واجبات کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری محصولات کی وصولی کے معاملے میں سستی اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے وصولی کے مقررہ اہداف کو بروقت پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریںڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنایا جائے گا تاکہ حکومتی محصولات کی وصولی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ ریونیو امور کو بھی منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9122/2026
20 اکتوبر نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے تدریسی عمل کو موثر بنانے اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران میل و فیمیل افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل تدریسی سرگرمیوں کی بہتری اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنانے سمیت تعلیمی نظام کو مزید موثر اور فعال بنانے کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں عملے کی حاضری تدریسی عمل کے تسلسل اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور متعلقہ عملے کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اور سرکاری تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے
ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فرائض سے غفلت برتنے اور بلاجواز غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضری کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت تنخواہوں کی کٹوتی اور بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ BEDA کے تحت محکمانہ کارروائی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ سرکاری ملازمین میں ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس مزید مضبوط ہو انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے حاضری کے نظام کو موثر بنایا جائے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ افسران کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور سنجیدگی سے ادا کرنا ہوں گیاجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع نصیرآباد میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے تدریسی عمل کو باقاعدہ بنانے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9123/2026
20اکتوبرجعفرآباد۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور تدریسی عمل میں بہتری لانے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی،اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ حکومت کے وژن کے مطابق ضلع جعفرآباد میں تعلیمی نظام کو مزید بہتر اور موثر بنایا جا سکے۔بند اسکولوں کو فعال کرنے، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانے اور محکمہ تعلیم کے زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم کے افسران نے ضلع بھر میں تدریسی عمل کو درپیش مسائل، اساتذہ کی حاضری کی صورتِ حال، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور محکمہ تعلیم کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان نے ہدایت کی کہ تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے اور غیر حاضری یا فرائض میں غفلت برتنے والے اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے کے لیے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اسکولوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کریں اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ بند اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور زیرِ تعمیر تعلیمی منصوبوں میں تعمیراتی معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ منصوبے جلد مکمل ہو کر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال میں لائے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ تعلیم کے افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور سنجیدگی سے ادا کریں اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں، کیونکہ معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9124/2026
20 اکتوبر جعفرآباد۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان کی زیر صدارت ضلعی ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے سرکاری اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی حاضری، مریضوں کو ادویات کی فراہمی سمیت صحت کے شعبے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر گفتگو کی گئی کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو کس طرح مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی بروقت حاضری کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔ اجلاس میں ادویات کی دستیابی، مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے مراکز کی مجموعی کارکردگی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت کے مراکز میں طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو سرکاری اسپتالوں میں بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9125/2026
کوئٹہ 20 اکتوبر ۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں آڈٹ کارروائیوں کا جائزہ لینے، آڈٹ نظام کو مزید موثر بنانے اور صوبائی محصولات میں موجود ممکنہ فرق کی نشاندہی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں آڈٹ کے عمل کو مزید مضبوط بنانے، ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے اور محصولات کی وصولی میں موجود خامیوں اور ممکنہ کمی کی نشاندہی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔اس موقع پر اس امر پر توجہ دی گئی کہ آڈٹ کارروائیوں کو موثر، شفاف اور نتائج پر مبنی بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے درست ٹیکس رپورٹنگ کو یقینی بنانے، عدم تعمیل کی نشاندہی کرنے اور واجب الادا محصولات کی وصولی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔چیئرپرسن نے آڈٹ نظام کو مزید مستحکم بنانے اور محصولات کے فرق کی نشاندہی کے لیے متعلقہ افسران کی مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دستیاب معلومات اور ریکارڈ کو مو¿ثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس قوانین کے مطابق کارروائیوں کو آگے بڑھایا جائے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے میں ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے، محصولات کے ممکنہ نقصانات کی نشاندہی اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9126/2026
20 اکتوبر صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی زیر صدارت محکمہ ایریگیشن کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں آبپاشی نظام کی بہتری نہری پانی کی موثر ترسیل اور ڈرینیج سسٹم کو فعال بنانے پر زور دیا گیا جبکہ درپیش مسائل کے حل اور جاری اقدامات کی نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی تفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیر صدارت محکمہ ایریگیشن کے افسران کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں آبپاشی کے نظام کی بہتری نہری پانی کی منصفانہ اور موثر تقسیم زرعی اراضی تک پانی کی بروقت فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو مزید فعال بنانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کا مقصد آبپاشی اور ڈرینیج کے نظام کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے حل کے لیے موثر اقدامات اور متعلقہ محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنانا تھااجلاس کے دوران محکمہ ایریگیشن کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع میں آبپاشی کے نظام کی موجودہ صورتحال نہری پانی کی ترسیل نکاسی آب کے انتظامات ڈرینیج نظام میں موجود رکاوٹوں اور جاری مرمتی و بہتری کے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر ان امور کا بھی جائزہ لیا گیا کہ زرعی علاقوں میں پانی کی ضروریات کو کس طرح بہتر انداز میں پورا کیا جا سکتا ہے اور بارشوں یا دیگر وجوہات کے باعث جمع ہونے والے پانی کی بروقت نکاسی کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبپاشی اور نکاسی آب کا موثر نظام ضلع کی زرعی معیشت فصلوں کی بہتر پیداوار زرعی زمینوں کے تحفظ اور عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ نہری پانی کی بروقت اور مناسب ترسیل کے ساتھ ساتھ ڈرینیج نظام کی بہتری بھی ناگزیر ہے کیونکہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث زرعی اراضی فصلوں اور آبادیوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ آبپاشی اور ڈرینیج نظام میں موجود خامیوں تکنیکی رکاوٹوں اور دیگر مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں نہروں اور نکاسی آب کے راستوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور جہاں مرمت صفائی یا بہتری کے اقدامات درکار ہوں وہاں متعلقہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی اور مرمتی کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ کاموں کی بروقت تکمیل اور مطلوبہ نتائج کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمہ ایریگیشن کے افسران اپنی ذمہ داریاں مستعدی پیشہ ورانہ صلاحیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں اور آبپاشی و نکاسی آب سے متعلق عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے عوام بالخصوص زمینداروں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکتی ہےاجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع صحبت پور میں آبپاشی کے نظام کی بہتری نہری پانی کی موثر ترسیل اور ڈرینیج سسٹم کی فعالیت کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا جبکہ متعلقہ افسران مسائل کے حل اور جاری کاموں کی پیش رفت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دیں گے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9127/2026
کوئٹہ 20اکتوبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈی سی آفس کمپلیکس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔کھلی کچہری میں تمام انتظامی افسران سمیت گیس، واپڈا، صفا کوئٹہ، پولیس، ٹریفک پولیس، میٹروپولیٹن کارپوریشن، نادرا، پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت، تعلیم، واسا، پی ایچ ای، ایریگیشن، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداران اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوئے۔شہریوں نے گیس، بجلی، لوکل و ڈومیسائل، ریونیو، نادرا اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق درخواستیں پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے موقع پر حل ہونے والے مسائل کے فوری ازالے کے احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر شکایات کے حل کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دیتے ہوئے ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا، سرکاری محکموں تک شہریوں کی رسائی آسان بنانا اور ان کے مسائل کا بروقت حل یقینی بنانا ہے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے، غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور تمام درخواستوں پر میرٹ کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت اور شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9128/2026
کوئٹہ20 اکتوبر ۔بلوچستان میں منشیات کے خاتمے اور بھنگ کی کاشت کے خلاف جاری انسدادِ منشیات مہم کے تحت محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان کی جانب سے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے دوبندی میں گزشتہ تین روز سے مختلف مقامات پر کارروائیاں اور چھاپے جاری ہیں۔یہ کارروائیاں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد منشیات کی کاشت اور اس کے پھیلاو کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنا ہے۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ٹیمیں متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مختلف مقامات پر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انسدادِ منشیات مہم کے تحت مشترکہ کوششوں کا مقصد قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا اور بلوچستان کو منشیات سے پاک بنانے کی کوششوں کو موثر بنانا ہے۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان نے انسدادِ منشیات کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں اور مربوط اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9129/2026
کوئٹہ 20 اکتوبر۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ چشمہ پل کی تعمیراتی کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا جلد از جلد خاتمہ ممکن بنایا جا سکے انہوں نے واضح کیا کہ پل کی تعمیر میں معیار اور مٹیریل کے استعمال پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ حکام اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنائیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے کوئیٹہ شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں جن میں چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک فیز ٹو اور زیر تعمیر چشمہ پل کے دورے کے موقع پر کیا جہاں انہوں نے تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا اور منصوبے کی پیش رفت تکمیل کے مراحل اور درپیش مسائل کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بریفنگ حاصل کی اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ سپرنٹنڈنگ انجینئر کوئیٹہ محمد وسیم حیدر ایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک زون قاضی ثناء اللہ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے دورے کے دوران سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے صوبائی وزیر کو منصوبے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی آبادی سے متعلق امور اور بعض تکنیکی مسائل کے باعث تعمیراتی کام میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ پل کی تعمیر کا کام تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ چشمہ پل کی تعمیر علاقے کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی پل کی تکمیل سے نہ صرف مقامی آبادی کو آمدورفت میں درپیش مشکلات سے نجات ملے گی بلکہ اس راستے سے گزرنے والے مسافروں کو بھی سہولت میسر آئے گی انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور ان کی مشکلات کا ازالہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور دسمبر تک اس منصوبے کو ہر صورت مکمل کیا جائے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعمیراتی مٹیریل کے معیار فنی تقاضوں اور مقررہ معیارِ تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ پل پائیدار محفوظ اور طویل عرصے تک عوام کے لیے قابلِ استعمال رہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں محکمہ کے آفیسران کو بھی ہدایات دیں کہ وہ فیلڈ پر جاکر ان منصوبوں کا جائزہ لیں تاکہ صوبے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مذید بہتری آئے انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی بنیادی ذمہ داری عوام کو معیاری بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9130/2026
نمبر موسیٰ خیل،20 اکتوبر ۔گزشتہ روز تحصیل کنگری میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی جانب سے صادر کردہ احکامات اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے علاقے کارڈی کوچ میں ایک روزہ فری موبائل ویٹرنری کیمپ کا انعقاد کیا گیا کیمپ کی قیادت فیلڈ انچارج ڈاکٹر شیراز حسنی اور ان کی ٹیم نے کی، جبکہ انتظامی و دیگر امور کی نگرانی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک موسیٰ خیل ڈاکٹر غلام محمود نے کی فری موبائل ویٹرنری کیمپ کے دوران مال مویشی پال حضرات کو ان کی دہلیز پر مفت طبی اور حفاظتی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ماہرینِ حیوانات نے مویشیوں کو مختلف خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایچ ایس ویکسین (گل گھوٹو)، لمپی سکن ڈیزیز ویکسین اور ای ٹی وی ویکسین (انتڑیوں کے زہر) لگائی، جبکہ مختلف بیماریوں میں مبتلا جانوروں کو اینٹی بائیوٹک سمیت ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں کیمپ کے دوران مویشیوں کو چچڑوں اور بیرونی کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اسپرے کیا گیا، جبکہ جانوروں کی صحت اور قوتِ مدافعت بہتر بنانے کے لیے ڈیورمنگ اور وٹامن ٹانک بھی فراہم کیے گئے محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق کیمپ میں مجموعی طور پر 1200 چھوٹے مویشیوں، جن میں بھیڑیں اور بکریاں شامل ہیں، جبکہ 200 بڑے مویشیوں (گائے) کی ویکسینیشن اور علاج معالجہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد اونٹوں کو بھی ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں اس موقع پر علاقے کے مال مویشی مالکان اور عوام نے کھلی کچہری میں اٹھائے گئے عوامی مسائل پر فوری عمل درآمد کو سراہتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک اور محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل ویٹرنری کیمپ کے انعقاد سے دور دراز علاقوں میں مال مویشی پال افراد کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات میسر آئیں، جس سے علاقے کے مویشیوں کی صحت اور مال مویشی پال خاندانوں کے معاشی مفادات کو بھی تحفظ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9131/2026
کوئٹہ20 اکتوبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے جدید، شفاف اور موثر طرزِ حکمرانی کے وڑن، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی اور چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی قیادت میں بی آر اے نے اپنے ٹیکس انتظامی نظام کو جدید ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرلیا ہے، جبکہ اس میں مزید بہتری کے لیے اقدامات بھی جاری ہیں۔بی آر اے کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو آن لائن رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے، ٹیکس ادائیگیوں اور درخواستوں کی پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈیجیٹل نظام کی مدد سے محصولات کا تجزیہ، ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے والوں اور کم ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی، واجب الادا رقوم کی نگرانی اور قانونی نوٹسز و احکامات کا الیکٹرانک اجرا ممکن ہو رہا ہے۔ یہ اقدامات بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS)، بلوچستان ڈویلپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفراسٹرکچر سیس (BDMIC) اور دیگر متعلقہ محصولات کے انتظام کو موثر بنانے میں معاون ہیں۔آئندہ مرحلے میں اتھارٹی ڈیٹا کے تجزیے کو مزید مضبوط بنانے، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کی ڈیجیٹل نگرانی بہتر کرنے، محصولات میں ممکنہ کمی کی نشاندہی اور ٹیکس دہندگان کے لیے آن لائن سہولیات میں مزید بہتری پر توجہ دے گی۔ ان اقدامات کا مقصد دستی کارروائیوں پر انحصار کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی کو مزید موثر بنانا ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد مضبوط بنانے اور صوبائی محصولات کے تحفظ و اضافے کے لیے پرعزم ہے۔اس خبر کو مزید جامع اور موثر بنائیںآن لائن سہولیات کو نمایاں کرکے لکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9132/2026
لورالائی،20اکتوبر ۔ دکی میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 20 فوڈ یونٹس پر بھاری جرمانے، 22 کو اصلاحی نوٹسز جاریزائدالمیعاد اشیائے خوردونوش، ملاوٹی دودھ، ناقص صفائی، غیر معیاری رنگوں اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائی لورالائی/دکی: بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی زونل فوڈ سیفٹی ٹیم نے لورالائی اور دکی میں مختلف فوڈ بزنس یونٹس کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 60 مراکز کا معائنہ کیا۔ فوڈ سیفٹی قوانین اور مقررہ معیار کی خلاف ورزی پر 20 یونٹس کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 22 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کرتے ہوئے مقررہ مدت میں خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی گئیوزونل ڈپٹی ڈائریکٹر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی سربراہی میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران گوشت کی دکانوں، ہوٹلز، جنرل اسٹورز، بیکنگ یونٹس اور سموسہ پکوڑا شاپس کی خصوصی چیکنگ کی گئی۔ معائنے کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، ناقص صفائی، زائدالمیعاد اشیائے خوردونوش، ملاوٹی دودھ، غیر معیاری رنگوں اور دیگر خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیافوڈ اتھارٹی ٹیم نے گوشت کی دکانوں پر گوشت کو غیر صحت بخش طریقے سے رکھنے، مکھیوں سے بچاو کے لیے حفاظتی جال نہ ہونے، گندے برتنوں اور غیر صاف ریفریجریٹرز پر کارروائی کی۔ ہوٹلز میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ، خراب تیل، گندے برتن، کھلے کوڑا دان، ناقص پانی اور کیڑوں سے بچاو کے ناکافی انتظامات پر جرمانے عائد کیے گئےاسی طرح جنرل اسٹورز پر بغیر لائسنس کاروبار، زائدالمیعاد اشیائے خوردونوش، ممنوعہ MSG اور کیمیکلز کو غذائی اشیاء کے ساتھ رکھنے کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کی گئی۔ بیکنگ یونٹس میں نان فوڈ گریڈ رنگوں کے استعمال، چھپے ہوئے پرنٹڈ کاغذ پر اشیاء رکھنے اور صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی جرمانے عائد کیے گئے سموسہ پکوڑا شاپس کے معائنے کے دوران گندے واٹر کولرز، چھپے ہوئے کاغذ کے استعمال اور غیر صحت بخش ماحول پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی بلوچستان فوڈ اتھارٹی حکام نے فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی کہ وہ فوڈ سیفٹی کے مقررہ معیارات اور بی ایف اے کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ حکام نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری، محفوظ اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ملاوٹ، زائدالمیعاد اشیاء اور دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں آئندہ مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9133/2026
کوئٹہ20 اکتوبر ۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر کی ہدایت پر صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری خصوصی مہم کے دوران بلوچستان پولیس نے گزشتہ تین ہفتوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے 50 اشتہاریوں اور 279 مفرور ملزمان کو گرفتار کر لیا، اس دوران 12 مغویوں کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ مختلف جرائم میں ملوث 459 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
ترجمان بلوچستان پولیس کے مطابق صوبے کی 9 رینجز میں جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاون کیا جا رہا ہے۔ جبکہ 97 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق برآمد کیے گئے اسلحے میں 91 پسٹل و ریوالور، 2 کلاشنکوف اور 13 شارٹ گن رائفلیں شامل ہیں۔ اسی طرح منشیات کے خلاف کارروائیوں کے دوران 106 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے 154 کلوگرام سے زائد چرس اور 10 کلوگرام آئس برآمد کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 4 مسروقہ گاڑیاں، 12 موٹر سائیکلیں، 4 موبائل فون، ایک تولہ سونا اور 50 ہزار روپے نقدی بھی برآمد کرکے متعلقہ مالکان کے حوالے کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے میں 2733 گاڑیوں سے کالے شیشے اتار دیے گئے، جبکہ عوامی شکایات کے بروقت اور شفاف ازالے کے لیے متعلقہ افسران کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ترجمان بلوچستان پولیس نے کہا کہ عوامی تحفظ، امن و امان کا قیام اور قانون پسند شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم کے خلاف جاری کریک ڈاون کو مزید تیز کیا جائے گا اور صوبے بھر میں امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9134/2026
کوئٹہ20 اکتوبر ۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر کی ہدایت پر صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری خصوصی مہم کے دوران بلوچستان پولیس نے گزشتہ تین ہفتوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے 50 اشتہاریوں اور 279 مفرور ملزمان کو گرفتار کر لیا، اس دوران 12 مغویوں کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ مختلف جرائم میں ملوث 459 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ترجمان بلوچستان پولیس کے مطابق صوبے کی 9 رینجز میں جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاون کیا جا رہا ہے۔ جبکہ 97 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق برآمد کیے گئے اسلحے میں 91 پسٹل و ریوالور، 2 کلاشنکوف اور 13 شارٹ گن رائفلیں شامل ہیں۔ اسی طرح منشیات کے خلاف کارروائیوں کے دوران 106 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے 154 کلوگرام سے زائد چرس اور 10 کلوگرام آئس برآمد کی گئی۔ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 4 مسروقہ گاڑیاں، 12 موٹر سائیکلیں، 4 موبائل فون، ایک تولہ سونا اور 50 ہزار روپے نقدی بھی برآمد کرکے متعلقہ مالکان کے حوالے کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے میں 2733 گاڑیوں سے کالے شیشے اتار دیے گئے، جبکہ عوامی شکایات کے بروقت اور شفاف ازالے کے لیے متعلقہ افسران کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ترجمان بلوچستان پولیس نے کہا کہ عوامی تحفظ، امن و امان کا قیام اور قانون پسند شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم کے خلاف جاری کریک ڈاون کو مزید تیز کیا جائے گا اور صوبے بھر میں امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9135/2026
کوئٹہ، 20 اکتوبر ۔صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں شیر شاہ غلزئی نے محکمہ کے انتظامی، ترقیاتی اور جاری منصوبوں سمیت مختلف محکمہ جاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران محکمہ ترقی نسواں کی مجموعی کارکردگی، خواتین کی سماجی و معاشی ترقی، انہیں بااختیار بنانے کے اقدامات اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے، ان کے لیے روزگار اور ہنر مندی کے مواقع میں اضافے اور معاشرے میں ان کی موثر شمولیت کے لیے محکمہ کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیے عملی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ صوبے کی خواتین کو تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سماجی و معاشی ترقی صوبے کی مجموعی ترقی سے وابستہ ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ صوبائی مشیر نے محکمہ کے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا تسلسل کے ساتھ جائزہ لینے، دستیاب وسائل کے موثر استعمال اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر عملدرآمد میں شفافیت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے شروع کیے گئے اقدامات کے ثمرات مستحق خواتین تک پہنچانے کے لیے محکمہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ ترقی نسواں خواتین کی فلاح و بہبود، معاشی خودمختاری اور سماجی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ جاری منصوبوں کی موثر نگرانی اور بہتر انتظامی حکمت عملی کے ذریعے خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں شیر شاہ غلزئی نے صوبائی مشیر کو محکمہ کے امور اور جاری اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے متعلقہ منصوبوں پر پیش رفت اور محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق بریفنگ دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA: Balochistan Provincial Adviser for Women Development Dr. Rubaba Khan Buledi was briefed on departmental affairs, ongoing development initiatives and administrative matters by Secretary Women Development Department Sher Shah Ghilzai.
During the briefing, the overall performance of the Women Development Department, progress on ongoing projects and initiatives aimed at promoting women’s social and economic empowerment were discussed. The briefing also covered efforts to expand opportunities for women in skills development, employment and economic activities, enabling them to play a more active role in the province’s development.
Dr. Rubaba Khan Buledi emphasised the need to make departmental initiatives more effective and result-oriented to ensure that women across Balochistan benefit from improved opportunities for economic independence, skills enhancement and social advancement.
She underscored that women’s empowerment was essential to sustainable development and inclusive growth, stressing the importance of coordinated efforts, effective planning and efficient utilisation of available resources to achieve the department’s objectives.
The provincial adviser also highlighted the need for regular monitoring of ongoing projects, transparency in implementation and improved institutional performance to ensure that the benefits of development initiatives reached deserving women. She stressed that departmental efforts should focus on addressing the challenges faced by women and creating an enabling environment for their meaningful participation in social and economic activities.
Dr. Rubaba Khan Buledi reaffirmed her commitment to strengthening the Women Development Department’s role in promoting women’s welfare, economic self-reliance and social empowerment across the province. She emphasised that effective implementation and monitoring of development initiatives would remain important for achieving tangible and sustainable outcomes.
Secretary Women Development Department Sher Shah Ghilzai briefed the provincial adviser on departmental operations, ongoing initiatives and measures being undertaken to improve administrative efficiency and enhance the effectiveness of women-focused development programmes.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9136/2026
کوئٹہ20 اکتوبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے جدید، شفاف اور موثر طرزِ حکمرانی کے وژن، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی اور چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی قیادت میں بی آر اے نے اپنے ٹیکس انتظامی نظام کو جدید ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرلیا ہے، جبکہ اس میں مزید بہتری کے لیے اقدامات بھی جاری ہیں۔بی آر اے کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو آن لائن رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے، ٹیکس ادائیگیوں اور درخواستوں کی پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈیجیٹل نظام کی مدد سے محصولات کا تجزیہ، ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے والوں اور کم ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی، واجب الادا رقوم کی نگرانی اور قانونی نوٹسز و احکامات کا الیکٹرانک اجرا ممکن ہو رہا ہے۔ یہ اقدامات بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS)، بلوچستان ڈویلپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفراسٹرکچر سیس (BDMIC) اور دیگر متعلقہ محصولات کے انتظام کو موثر بنانے میں معاون ہیں۔آئندہ مرحلے میں اتھارٹی ڈیٹا کے تجزیے کو مزید مضبوط بنانے، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کی ڈیجیٹل نگرانی بہتر کرنے، محصولات میں ممکنہ کمی کی نشاندہی اور ٹیکس دہندگان کے لیے آن لائن سہولیات میں مزید بہتری پر توجہ دے گی۔ ان اقدامات کا مقصد دستی کارروائیوں پر انحصار کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی کو مزید موثر بنانا ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد مضبوط بنانے اور صوبائی محصولات کے تحفظ و اضافے کے لیے پرعزم ہے۔اس خبر کو مزید جامع اور موثر بنائیںآن لائن سہولیات کو نمایاں کرکے لکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9137/2026
گوادر20 اکتوبر ۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی کوششوں اور محکمہ صحت بلوچستان کے تعاون سے ضلع گوادر کے سرکاری ہسپتالوں اور مراکزِ صحت کے لیے مختص ادویات گوادر پہنچ گئیں۔ ادویات میں میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر، آر ایچ سی پسنی، اورماڑہ، سربندن، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جیونی اور دیگر مراکزِ صحت کے لیے ادویات شامل ہیں، جو متعلقہ طبی اداروں کے حوالے کی جائیں گی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ گوادر نے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی فراہمی ا سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9138/2026
خضدار20 اکتوبر ۔کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے ڈویڑنل پبلک سکول خضدار میں اسپورٹس فیسٹیول ویک کا باقاعدہ فیتہ کاٹ کر افتتاح کر دیا ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خضدار رحمت بلوچ بھی تھے اسپورٹس فیسٹیول میں بچے اور بچیوں نے رسہ کشی رنگ برنگے ٹیبلوز اسٹیج شوذ اور اور مختلف پروگرام پیش کیے اور اسپورٹس فیسٹیول میں مختلف سٹالز کھانے پینے کتابوں اور مختلف اشیاءکے لگائے ہوئے تھے اسپورٹس فیسٹیول میں شریک بچے بچیوں اور معززین شہر دیگر محکموں کے افسران سے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے بچے اور بچیوں نے اسکول کے اسپورٹس فیسٹیول میں بہت خوبصورت پروگرام پیش کیے میں ان کو تہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ وہ اس پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصے لیے اور بچےوں نے عملی طور پر دکھایا کہ بلوچستان خاص کر کوئٹہ کے تمام اسکولوں کی نسبت ڈویژنل پبلک اسکول کے بچے اور بچیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور انشاءاللہ ہم اس اسکول کے بچے اور بچیوں پر خصوصی توجہ دیں گے اور پورے بلوچستان میں ڈی پی سی کا نام روشن کریں گے انہوں نے کہا کہ یہ خضدار کے اسکول کو اس مقام تک لے جائیں گے کہ یہ ہمارا بیکم ہوگا اور ہمارا سٹی اسکول ہوگا اور ہم ان کے برابر لائیں گے اس اسکول کو اج اپ سب نے اس مختصر وقت میں دیکھ لیا کہ اسکول کے بچے بچیوں نے کتنے خوبصورت پروگرام پیش کیے اور بہت ہی اچھے طریقے سے پارٹیسپیٹ کیا وہ سب اپ کے سب کے سامنے ہیں اور ہم اس اسکول کو بہت اگے لے جائیں گے کیونکہ یہ ہمارا خضدار اور بلوچستان کا مستقبل ہے انہوں نے کہا کہ سرسبز بلوچستان کی سرزمین میں بچے اور بچیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں انہوں نے اخر میں سپورٹس فیسٹیول کے فٹبال کے ونر ٹیم کے کپتان کو ٹرافی بھی دیا اور شاندار اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد پر فیسٹول کمیٹی کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا اور اس موقع پر پرنسپل ڈویڑنل پبلک اسکول خضدار نائلہ رئیسانی ایکسیئن بی اینڈ ار سلیم رزاق عمرانی ال پارٹی شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عبدالحمید ایڈوکیٹ محمد عالم زہری ایکسیئن این ایچ اے فوزیہ بلوچ وومن ڈیولپمنٹ خضدار کی ڈپٹی ڈائریکٹر روبینہ کریم اور دیگر معززین شہر بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9139/2026
کوئٹہ، 20 اکتوبر ۔ناقص خوراک کے خاتمے اور اشیاء خوردونوش کے معیار کی بہتری کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں و اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ، خضدار، کچلاک اور پشین سمیت مختلف علاقوں میں انسپیکشن کے دوران ناقص خوراک، ملاوٹ، زائدالمیعاد اشیاء اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پرمجموعی طور پر 35 مراکز پر جرمانے عائد جبکہ 47 کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ ترجمان بی ایف اے کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد اشیاءخوردونوش کے معیار کو بہتر بنانا اور عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ترجمان کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاون میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیم نے ریسٹورنٹس اور بیکریوں کا معائنہ کرتے ہوئے 3 ریسٹورنٹس اور ایک بیکری کو جرمانہ کیا۔ کارروائی کے دوران صفائی کی ابتر صورتحال، ورکرز کی ذاتی صفائی میں غفلت، کھلے کوڑے دان، نکاسی آب کے ناقص انتظامات، مکھیوں کی بھرمار اور زنگ آلود ریفریجریٹرز سمیت متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ مراکز سے زائدالمیعاد بریڈ، مشروبات، کافی، دیسی گھی، جوسز، اسنیکس، بسکٹ، کیکس اور فریش کریم بھی برآمد ہوئی، جبکہ بعض اشیاء پر تیاری اور میعادِ ختم ہونے کی تاریخیں درج نہیں تھیں۔ مصالحوں میں ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال پر بھی کارروائی کی گئی۔علاوہ ازیں دودھ میں ملاوٹ کے تدارک کے لیے بی ایف اے ملک سیفٹی ٹیموں نے کوئٹہ کے علاقے مٹھا چوک، پشتون آباد اور فقیر محمد روڈ پر ملک شاپس کی انسپیکشن کی۔ دودھ اور دہی کے نمونوں کی موقع پر جانچ کے دوران سکمڈ ملک پاوڈر اور پانی کی وافر مقدار ملانے پر 3 دودھ فروشوں کو جرمانہ کیا گیا جبکہ معمولی نقائص پر 2 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔اسی طرح خضدار میں زونل انسپیکشن ٹیم نے آغا مارکیٹ، عمر فاروق چوک، میر چاکر خان روڈ اور مختلف مضافاتی علاقوں میں فوڈ پوائنٹس کی جانچ پڑتال کی۔ فوڈ بزنس لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے پر 2 مراکز کے مالکان پر جرمانے عائد کیے گئے۔کچلاک بازار، زیارت روڈ اور چمن روڈ پر کارروائیوں کے دوران بارہا تنبیہ و نوٹسز کے باوجود فوڈ بزنس لائسنس کے بغیر اشیاءخوردونوش کا کاروبار کرنے والے 20 مراکز کے خلاف کی کارروائی کی گئی۔ اس کے علاوہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کرتے ہوئے مقررہ ضوابط پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی۔مزید برآں پشین کے علاقے قلعہ بٹیزئی میں خصوصی انسپیکشن کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور زائدالمیعاد اشیاء خوردونوش کی موجودگی پر 5 فوڈ یونٹس پر جرمانے عائد کیے گئے۔دوران معائنہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے متعلقہ مراکز کے مالکان کو فوڈ سیفٹی قوانین اور اتھارٹی کے وضع کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ خوراک کے معیار، صفائی ستھرائی اور عوامی صحت سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9140/026
کوئٹہ۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کے پاکستان میں کنٹری آفس کے سیکیورٹی مینیجر پی سی او سید احمد عبداللہ نے بلوچستان کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد اور ڈپٹی کمانڈنٹ ڈی آئی جی پولیس محترم شہلا قریشی نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ایس ایس ہیڈکوارٹر کمال خان کبزئی بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران انہیں بلوچستان کانسٹیبلری کے تنظیمی ڈھانچے، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، امن و امان کے قیام، اہم تنصیبات اور سرکاری و عوامی مقامات کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور فورس کی عملی استعدادِ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے فورس کے فرائض، تربیتی سرگرمیوں، نظم و ضبط، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہیں بلوچستان کانسٹیبلری کی جانب سے امن و امان کے قیام، حساس مقامات کی حفاظت اور دیگر اہم سیکیورٹی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔دورے کے دوران سیکیورٹی سے متعلق امور، ادارہ جاتی تعاون اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات، باہمی رابطوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کے ذریعے اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔یونیسف پاکستان کنٹری آفس کے سیکیورٹی مینیجر پی سی او سید احمد عبداللہ نے بلوچستان کانسٹیبلری کے انتظامی و سیکیورٹی امور میں دلچسپی کا اظہار کیا اور فورس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور انتظامی اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
خبرنامہ نمبر9141/026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈی سی آفس کمپلیکس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔کھلی کچہری میں تمام انتظامی افسران سمیت گیس، واپڈا، صفا کوئٹہ، پولیس، ٹریفک پولیس، میٹروپولیٹن کارپوریشن، نادرا، پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت، تعلیم، واسا، پی ایچ ای، ایریگیشن، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداران اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوئے۔
شہریوں نے گیس، بجلی، لوکل و ڈومیسائل، ریونیو، نادرا اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق درخواستیں پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے موقع پر حل ہونے والے مسائل کے فوری ازالے کے احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر شکایات کے حل کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دیتے ہوئے ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا، سرکاری محکموں تک شہریوں کی رسائی آسان بنانا اور ان کے مسائل کا بروقت حل یقینی بنانا ہے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے، غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور تمام درخواستوں پر میرٹ کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت اور شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر9142/026
کوئٹہ20 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ معاشرے میں کسی کی صلاحیت کو پہچاننا، اس کی محنت یا خدمت کا اعتراف کرنا بذات خود ایک بڑی سماجی خدمت ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والے ریسرچرز اور ٹیچرز اس اعزاز کو اپنی آخری منزل کی بجائے ایک نئی ذمہ داری سمجھیں۔ اپنی تحقیق، تدریس اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں تعمیری تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں۔ آپ کی کامیابی اس وقت زیادہ بامعنی ہوگی جب آپ کے علم اور تجربے سے سماج کے دوسرے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہارِ انہوں نے بلوچستان ویمن پروموٹ ٹیلنٹ کے زیرِ اہتمام بیوٹمز یونیورسٹی کوئٹہ میں تقریبِ تقسیمِ ایوارڈز کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، امیر خان مندوخیل اور سید طیب شاہ سمیت بیوٹمز یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرز، ریسرچرز اور طلباء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کسی کی خدمت اور قربانی کا اعتراف اور ان حوصلہ افزائی زندگی میں کرنی چاہیے کیونکہ ان چھوٹے چھوٹے اچھے کاموں کی عزت افزائی، تنقیدی یا تخلیقی سوچ کی پذیرائی اور انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو تسلیم کرنے سے بھی ترقی اور اصلاح کی نئی راہیں متعین ہو سکتی ہیں۔ بلوچستان ویمن پروموٹ ٹیلنٹ نے معاشرے کے ان باصلاحیت مگر باعمل افراد کی خدمات کو عوامی سطح پر اجاگر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا ایک لائق تحسین قدم اٹھایا ہے جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی زندگی میں بھی حوصلہ افزائی کے رحجان کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر آپ کا اپنا کوئی بچہ اچھی کارکردگی دکھاتا ہے، کوئی دانشور اپنی ذمہ داری سے بڑھ کر تنقیدی شعور دیتا ہے، کوئی ریسرچر کسی اجتماعی مسئلے کا نیا حل پیش کرتا ہے یا کوئی نوجوان معاشرے کی بہتری کیلئے کوئی مثبت قدم اٹھاتا ہے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بظاہر آپ کا ایک جملہ یا ایک مختصر سا اعتراف کسی دوسرے انسان کی زندگی میں غیرمعمولی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ شاباش یا افرین دوسروں کیلئے محض چند الفاظ نہیں ہوتے بلکہ یہ اس کی محنت کا اعتراف اور مستقبل میں مزید بہتر کام کرنے کا حوصلہ ہوتے ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہمارے ایشیاٹیک سوسائٹی میں ایک عمومی روایت یہ رہی ہے کہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز اور دیگر بڑے اعزازات اکثر لوگوں کو ان کی زندگی کے بالکل آخری حصے میں دیئے جاتے ہیں۔ یقیناً زندگی بھر کی خدمات کا اعتراف ایک قابلِ قدر عمل ہے لیکن میری ذاتی رائے میں ہمیں اس سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی نوجوان نے اپنی عملی زندگی کے ابتدائی برسوں میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے، اگر کسی ریسرچر نے کوئی قابلِ قدر ریسرچ کی ہے یا کسی خاتون نے محدود وسائل کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کیلئے زندگی کے آخری حصے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اعزاز صرف ماضی کی خدمات کا اعتراف نہیں ہوتا بلکہ مستقبل کی کامیابیوں کیلئے ایک نئی تحریک بھی پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ میں بیوٹمز یونیورسٹی کی انتظامیہ، بلوچستان ویمن پروموٹ ٹیلنٹ کی منتظمین، تمام معزز مہمانوں اور بالخصوص آج ایوارڈ حاصل کرنے والے ریسرچرز اور ٹیچرز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا حوصلہ افزائی ایک لفظ سے شروع ہوتی ہے، اعتماد پیدا کرتی ہے، صلاحیتوں کو نکھارتی ہے اور بالآخر پورے معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین ریسرچرز اور ٹیچرز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے ۔
خبرنامہ نمبر 9143/026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اشوک کمار ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران اور محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ضلع چمن میں مجموعی تعلیمی صورتحال، سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی، تدریسی سرگرمیوں اور محکمہ تعلیم کو درپیش مختلف مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو مؤثر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر غور و خوض کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے، لہٰذا ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری، سرکاری تعلیمی اداروں کی مؤثر نگرانی اور تدریسی سرگرمیوں کو فعال بنانے کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں حاضری، تدریسی معیار اور انتظامی امور پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید واضح کیا کہ ضلع چمن میں تعلیمی شعبے کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ تعلیم کے افسران باہمی رابطے، مؤثر حکمتِ عملی اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9144/026
چمن 20 اکتوبر 2026ء
چمن ڈپٹی کمشنر چمن کی زیرِ صدارت اجلاس، SNID نومبر 2026ء کی پیشگی تیاریوں اور نکاسیٔ آب والے یونین کونسلز میں موبائل ویکسینیشن سرگرمیوں کا جائزہ
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت آج ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں ایک اہم رابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) ای پی آئی، این اسٹاپ (NSTOP) آفیسر، سی سی او اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آغا خان یونیورسٹی (AKU) نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نومبر 2026ء میں منعقد ہونے والی ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم (SNID) کے لیے جاری پیشگی تیاریوں اور نکاسیٔ آب والے یونین کونسلز میں موبائل ویکسینیشن سرگرمیوں پر پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر چمن کو آگاہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر چمن نے انسدادِ پولیو مہم کی مؤثر تیاریوں، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ مہم کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں اور ضلع بھر میں ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ انسدادِ پولیو کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے اور بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر9145/026
نصیرآباد
20 اکتوبر 2026:
جعفرآباد۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان سے آج ڈائریکٹر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جعفرآباد عبدالرحیم بلوچ نے ملاقات کی جس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے مستحق خاندانوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات انہیں درپیش مسائل اور پروگرام پر عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جعفرآباد بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ڈائریکٹر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے محکمے کی جانب سے مستحق خاندانوں کی معاونت مالی امداد کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا انہوں نے پروگرام سے مستفید ہونے والے خاندانوں کو درپیش مشکلات امدادی رقوم کے حصول میں پیش آنے والے مسائل اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی اس کے علاوہ پروگرام کے تحت امدادی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے اور مستحقین کو سہولیات کی فراہمی کے لیے سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کم آمدنی والے اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت اور معاشی مشکلات میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے گئے تمام اقدامات میں متعلقہ محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ مستحق افراد کو امدادی سہولیات کی فراہمی میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ مستحق خاندانوں کو امدادی رقوم کی شفاف اور منظم انداز میں فراہمی ان کے مسائل کے بروقت حل اور پروگرام سے متعلقہ امور میں بہتری کے لیے محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے انہوں نے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت اور فلاحی اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی
خبرنامہ نمبر9146/026
ہرنائی:ہرنائی میں عوامی فلاح و بہبود، تعلیمی معیار کی بہتری اور صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کے الگ الگ اور انتہائی اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوئے۔اجلاسوں میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ دونوں اجلاسوں کے دوران ضلع بھر کے تمام بنیادی و ثانوی تعلیمی اداروں اور سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی اور تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے ضلع کے تمام اسکولوں کی صورتحال، اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری، تدریسی طریقہ کار، اور اسکولوں میں پینے کے صاف پانی و دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کا جائزہ لیا۔ تعلیمی اداروں کی باقاعدگی سے سرپرائز انسپکشن (غیر معلنہ معائنے) کو یقینی بنایا جائے۔ غیر حاضر اور فرائض سے غفلت برتنے والے اساتذہ کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ طلبہ کی حاضری بڑھانے اور اسکولوں کے تعلیمی ماحول کو جاذبِ نظر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں بعد ازاں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس میں ضلع بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، دیہی مراکزِ صحت (RHCs) اور بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسنگ عملے کی حاضری کی صورتحال پر غور کیا گیا۔سرکاری ہسپتالوں میں نایاب اور ضروری ادویات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنائی جائے۔ تمام طبی مراکز میں صفائی کے اعلیٰ معیار کی پاسداری کی جائے۔ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور بروقت علاج یقینی بنایا جائے اور تمام عوامی شکایات کا فوری تدارک ہو۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے واضح کیا کہ
”ضلعی انتظامیہ تعلیم اور صحت جیسے حساس اور اہم شعبوں میں نمایاں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو باہمی ربط و ضبط کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ عام شہری کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ اجلاس میں طے شدہ تمام فیصلوں پر من و عن اور روح و متن کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر 9147/026
کویٹہ 20 اکتوبر 2026:
صوبائی وزیر حاجی میر علی مدد جتک نے کہا ہے کہ عوامی خدمت، لوگوں کے مسائل کا حل اور حلقۂ انتخاب کی ترقی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ عوامی نمائندگی کا اصل مقصد لوگوں کی مشکلات کو سمجھنا، ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار جتک ہاؤس کوئٹہ میں حلقۂ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور معززین سے ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات میں حلقۂ انتخاب کے دوستوں نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل، عوام کو درپیش مشکلات اور مختلف امور سے آگاہ کیا۔ حاجی میر علی مدد جتک نے تمام امور غور سے سنے اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ عوامی خدمت کے مشن کو پوری لگن اور خلوص کے ساتھ جاری رکھیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام اور ان کے درمیان مضبوط رابطہ ہی مؤثر عوامی خدمت کی بنیاد ہے۔ وہ اپنے حلقے کے عوام اور دوستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ عوامی مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
حاجی میر علی مدد جتک نے مزید کہا کہ جتک ہاؤس عوام کے لیے ہمیشہ کھلا ہے اور حلقۂ انتخاب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مسائل اور شکایات کے سلسلے میں بلا جھجھک ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ عوام کی خدمت ان کے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی، جسے وہ پوری دیانت داری اور خلوص کے ساتھ نبھاتے رہیں گے۔
ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور حلقۂ انتخاب کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر9148/026
20 اکتوبر 2026ء
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک کا واٹر سپلائی اسکیم تارہ کسور کی جگہ کا معائنہ
عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ضلع انتظامیہ کی اولیں ترجیح ہے، تعمیراتی کام میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،موسیٰ خیل ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے ایکسیئن (XEN) پبلک ہیلتھ ، کاشف چانڈیو کے ہمراہ ‘بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو’ (BSDI) فیز تھری کے تحت واٹر سپلائی اسکیم “تارہ کسور” کی مجوزہ جگہ کا تفصیلی دورہ کیا اور سائٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایات دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلع بھر میں عوام کو پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی صوبائی حکومت اور ضلع انتظامیہ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ واٹر سپلائی اسکیم کی تعمیر میں اعلیٰ ترین معیار، کامل شفافیت اور وقت کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ اسکیم کی جگہ کا انتخاب اور تعمیری عمل اس انداز میں مکمل کیا جائے کہ علاقے کے مکینوں کو درپیش پینے کے پانی کا درینہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو سکے۔انہوں نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو تاکید کی کہ تمام تر تکنیکی و فنی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ اس مفادِ عامہ کے منصوبے کے ثمرات بلا تاخیر مقامی آبادی تک پہنچ سکیں۔
جاری کردہ:
انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ موسیٰ خیل
خبرنامہ نمبر9149/026
رکھنی 20 اکتوبر 2026:
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی ہدایات کے تحت رکھنی ماڈل بازار کی توسیع، شہر کی خوبصورتی اور بہتر شہری منصوبہ بندی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے ایکسین روڈز فضل محمد زرکون اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ مین رکھنی بازار اور ماڈل بازار کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بازار کو کشادہ کرنے کے لیے دکانوں کی مسماری کے جاری کام کا جائزہ لیا گیا اور ترقیاتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا گیا۔رکھنی میں کارٹ ایریا کی تعمیر کے لیے موجودہ عمارت کو مسمار کرکے جگہ خالی کرنے کا کام بھی جاری ہے، جبکہ ماڈل بازار کے قریب واقع سرکاری اراضی واگزار کرا کے اسے ماڈل بازار کے ایریا میں شامل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان اقدامات کا مقصد بازار کو کشادہ کرنا، ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، تجاوزات اور بے ہنگم تعمیرات کے مسائل پر قابو پانا اور شہریوں کو بہتر تجارتی و شہری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر9150/026
نصیرآباد
20 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔ وزیراعظم پاکستان کی فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور رجسٹریشن سے متعلق مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون نے کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ریلیف کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے اسکیم کے تحت شہریوں کو ریلیف کی فراہمی رجسٹریشن کے عمل عوام کو درپیش مشکلات اور ممکنہ بے ضابطگیوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ عملے سے اسکیم کے طریقہ کار اور عملدرآمد کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ رجسٹریشن میں پیش آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے
اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے متعلقہ عملے پر زور دیا کہ وزیراعظم پاکستان کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت مقررہ طریقہ کار پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے عوام کے ساتھ تعاون پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے اور ریلیف کی فراہمی میں شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم کے حوالے سے موصول ہونے والی عوامی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے گا اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی نشاندہی ہونے پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی
ضلعی انتظامیہ اُستا محمد کی جانب سے عوامی ریلیف کے اقدامات کی مؤثر نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر فیلڈ وزٹس کا سلسلہ جاری ہے، تاکہ حکومتی اسکیموں کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچائے جا سکیں اور عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کو بروقت دور کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9151/026
اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی، پولیس حکام کو شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ خاندانوں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرصدارت اسپیکر چیمبر میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک، میر جہانزیب مینگل، میر ظفراللہ خان زہری، سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس آصف خان نے شرکت کی.
اجلاس میں اسماء جتک اور ضلع قلات سے تعلق رکھنے والی لائبہ ستار کے مقدمات، ان کے اہل خانہ کو درپیش سیکیورٹی خدشات اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔
اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی نےاجلاس میں دی گئی اپنی رولنگ کے تحت ڈی آئی جی خضدار رینج کو اسپیکر چیمبر میں طلب کیا تھا تاکہ مذکورہ واقعات میں پیش رفت، پولیس تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کے اقدامات سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔ اسپیکر نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی کے باوجود ڈی آئی جی کے بجائے اے آئی جی کی آمد کو استحقاق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا گیا۔اسپیکر نے اجلاس میں کہا کہ ایسے واقعات بار بار اسمبلی میں زیربحث آنا تشویش ناک ہے۔ پولیس عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی محافظ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے محافظ ہیں، اگر آپ ہی ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر ہم اس حوالے سے کیا کہہ سکتے ہیں۔اجلاس کے دوران اے آئی جی آصف خان نے بتایا کہ اسماء جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس پر اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ خاتون کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے تو ان کے اہلِ خانہ کو درپیش خدشات اور تحفظ کے معاملات کو کس طرح یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کی حفاظت محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔
پولیس حکام نے اجلاس کو بتایا کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور مؤثر انداز میں مکمل کی جائیں، مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عمل داری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پولیس حکام پر واضح کیا کہ ایسے حساس مقدمات میں تاخیر اور عدم پیش رفت سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے انصاف کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9152
اُستا محمد20اکتوبر:۔مارکیٹ کمیٹی اُستا محمد میں اناج منڈی کو فعال بنانے، زرعی اجناس کی خرید و فروخت کا باقاعدہ آغاز کرنے اور مقامی زمینداروں و تاجروں کو بہتر تجارتی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سابق رکن صوبائی اسمبلی حیدر خان جمالی، ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال چیئرمین مارکیٹ کمیٹی مرتضیٰ خان جمالی نائب چیئرمین اعجاز خان ہجوانی گرین مرچنٹ ایسوسی ایشن، ملز ایسوسی ایشن، انجمن تاجران اور زمیندار ایسوسی ایشن کے نمائندوں سمیت علاقے کے معتبرین نے شرکت کی اجلاس میں اناج منڈی کو فعال بنانے کے لیے مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ منڈی میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز جلد از جلد ممکن بنایا جائے تاکہ مقامی زمیندار اپنی زرعی پیداوار کو منظم طریقے سے فروخت کر سکیں اور تاجروں کو اجناس کی خرید و فروخت کے لیے ایک باقاعدہ تجارتی مرکز میسر آ سکے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ اناج منڈی کی فعالیت سے زرعی تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہےاجلاس کے دوران مارکیٹ کمیٹی کی موجودہ دکانوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق کرایے پر فراہم کرنے، متعلقہ تاجر تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کاروباری معاملات کو منظم بنانے اور منڈی میں بنیادی انتظامی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ دکانوں کی فراہمی میں مقررہ ضابطہ کار کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکےاجلاس میں اناج منڈی میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے اور زمینداروں تاجروں خریداروں اور دیگر کاروباری افراد کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ ایس پی اُستا محمد کے ذریعے پولیس سیکیورٹی کے انتظامات یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ کاروباری افراد بلاخوف و خطر اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اناج منڈی کی بحالی اور اسے فعال بنانے کے لیے مارکیٹ کمیٹی، ضلعی انتظامیہ تاجر تنظیموں، زمیندار ایسوسی ایشن اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے درپیش مسائل کو حل کرتے ہوئے منڈی میں زرعی اجناس کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اناج منڈی کی فعالیت سے مقامی زمینداروں کو اپنی پیداوار کی فروخت کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم میسر آئے گا، جبکہ تاجروں اور ملز مالکان کو بھی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے اس کے نتیجے میں علاقے میں زرعی تجارت کو وسعت دینے، مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہےاجلاس میں اناج منڈی کی بحالی کو اُستا محمد میں زرعی تجارت کے فروغ، زمینداروں اور تاجروں کو بہتر کاروباری سہولیات کی فراہمی اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ فریقین کے تعاون سے اناج منڈی کو فعال بنانے اور وہاں کاروباری سرگرمیوں کے جلد آغاز کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9153
اوتھل20اکتوبر:ـکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرِ صدارت ضلع لسبیلہ میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پرپیشرفت کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ڈپٹی کمشنر حمیرابلوچ ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی ایکسیئن روڈشریک ہوئے محکمہ مواصلات وتعمیرات کے انجینئرنے ضلع بھر میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر ترقیاتی اسکیموں سے متعلق کمشنر لسبیلہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، پیش رفت، تکمیل کی مدت اور درپیش مسائل کے بارے میں کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام مقررہ معیار اور معیاد کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے منصوبوں کی مؤثر نگرانی، تعمیراتی کاموں کے معیار کو یقینی بنانے اور ترقیاتی اسکیموں میں شفافیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور تمام اسکیموں پر پیش رفت کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی جائے، تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات اور معیاری بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9154
چمن20اکتوبر: کیسکو چمن کی جانب سے بجلی کے واجبات کی بروقت وصولی اور صارفین کو بجلی کی ادائیگیوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں آج پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم چلائی گئی، جس کے دوران بڑے نادہندگان سے تقریباً 2 لاکھ 55 ہزار روپے کے واجبات وصول کیے گئے۔اس موقع پر کیسکو حکام نے بجلی صارفین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بجلی کے بل مقررہ وقت پر جمع کروائیں اور بجلی کے غیر ضروری استعمال اور بجلی چوری سے اجتناب کرتے ہوئے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔حکام نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کے واجبات کی بروقت ادائیگی اور بجلی کے ذمہ دارانہ استعمال سے بجلی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور لوڈشیڈنگ میں کمی لانے کی کوششوں میں مدد مل سکتی ہے۔کیسکو چمن کی جانب سے واجبات کی وصولی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے آگاہی اور ریکوری مہم جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں صارفین سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ باہمی اشتراک اور ذمہ داری کے احساس کے ذریعے بجلی کی بہتر فراہمی اور عوامی سہولیات میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/9155
چمن20اکتوبر:ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی سے آج ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں چمن قبائلی جرگے کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ملیزئی قوم کے سربراہ حاجی اسلم خان اچکزئی، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رہنماء حاجی عمران خان کاکڑ اور قبائلی و سیاسی رہنماء حاجی فیض اللہ خان ادوزئی نے کی۔ملاقات میں صالحزئی قوم کے سربراہ حاجی عبدالغفار خان صالحزئی، حضرت مولانا مفتی محمد قاسم حقانی، بیانزئی قوم کے سربراہ حاجی اصغر خان اچکزئی، حاجی عبدالقدیم خان اچکزئی، حضرت مولانا مفتی محمد مسلم عاجز، حافظ عبدالخالق سنی، دولت زئی قومی اتحاد کے رکن کلیم اللہ حکمت یار، عبدالمنان خان بیانزئی سمیت دیگر قبائلی عمائدین اور نمائندوں نے شرکت کی ملاقات کے دوران ضلع چمن سمیت بلوچستان اور ملک کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی وسائل، عوام کو درپیش مشکلات اور بنیادی مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاک افغان سرحد کی بندش، تجارتی و کاروباری سرگرمیوں، روزگار کے مواقع، امن و امان، بجلی کی فراہمی، تعلیم، صحت، نادرا سے متعلق عوامی مشکلات اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے امور کو خصوصی طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔قبائلی جرگے کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ چمن کے عوام ملکی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں اور قومی مفاد میں کیے جانے والے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، تاہم سرحدی علاقے کے عوام کو درپیش معاشی، معاشرتی اور روزمرہ زندگی کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ وفد نے کہا کہ چمن کے عوام کی معیشت، کاروبار اور روزگار کا سرحدی سرگرمیوں سے گہرا تعلق ہے، لہٰذا عوامی مشکلات میں کمی لانے اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔وفد نے تجویز پیش کی کہ ڈسٹرکٹ لیزان کمیٹی کے پلیٹ فارم کو مؤثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے باہمی مشاورت، رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے، تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کی جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عوامی مشکلات کے حل، امن و امان کے قیام اور علاقے کی بہتری کے لیے قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنماؤں، تاجروں اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے چمن میں جاری ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے آئی ٹی ٹی ایم ایس کی تنصیب، کراچی–چمن شاہراہ اور بجلی کی فراہمی کے لیے نئے گرڈ اسٹیشن کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ نئے گرڈ اسٹیشن سے متعلق تقریباً پانچ ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ زیرِ عمل ہے اور اسے فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرحدی امور کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر اتفاقِ رائے کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ چمن کے عوام کو درپیش مسائل کے پائیدار حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو قومی مفاد، باہمی احترام اور عوامی فلاح کو مقدم رکھتے ہوئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔قبائلی عمائدین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان اس نوعیت کی ملاقاتیں عوامی مسائل کی نشاندہی، باہمی اعتماد کے فروغ اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ توقع ہے کہ باہمی رابطے اور مشاورت کا یہ سلسلہ چمن کے عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لانے، روزگار کے مواقع بہتر بنانے اور علاقے میں امن، ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مثبت پیش رفت کا ذریعہ بنے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/9156
ژوب20 اکتوبر:ـڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام ژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس (مصوری) اور خطاطی کی کلاسز کے لیے داخلے جاری ہیں۔ ان کلاسز کا مقصد نوجوانوں اور فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار، فنی مہارتوں کے فروغ اور خطاطی کے روایتی فن کو سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔فائن آرٹس کی کلاسز میں ڈرائنگ، پینٹنگ، اسکیچنگ، واٹر کلر، ایکریلک اور آئل پینٹنگ کی تربیت دی جائے گی، جبکہ خطاطی کی کلاسز میں نستعلیق، نسخ، ثلث، دیوانی اور آرائشی خطاطی سکھائی جائے گی۔منتظمین کے مطابق کلاسز کا آغاز 2 نومبر 2026ء سے ہوگا۔ فنونِ لطیفہ اور خطاطی میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو ان کلاسز میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔مزید معلومات اور داخلے کے لیے عالم سے
0312-2550050
پر رابطہ کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/9157
سوراب20 اکتوبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی، اسسٹنٹ کمشنر دشت گوران ڈاکٹر ثناء اللہ خان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد شکیل عالیزئی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن عبدالحق سمیت محکمہ تعلیم کے افسران، آر ٹی ایس ایم، خزانہ افسر، میل و فیمیل ڈی ڈی اوز، ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کی تعلیمی صورتحال، اساتذہ و عملے کی حاضری، تدریسی معیار، اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور کلسٹر بجٹ کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے کلسٹر بجٹ کے شفاف اور مقررہ اصولوں کے مطابق استعمال اور اس کے ثمرات طلبہ تک پہنچانے پر خصوصی زور دیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں انہوں نے اساتذہ اور عملے کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حاضری میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کرنے کی ہدایت کی اور متعلقہ افسران کو باقاعدہ نگرانی یقینی بنانے کا حکم دیا اجلاس میں تعلیمی معیار کی بہتری اور اسکولوں میں نظم و ضبط مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی ضروری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/9158
کوئٹہ20اکتوبر:صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی شہری کو خاندانی تعلق یا اس کی بہن کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی کے خاندان کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بلوچ قوم ایسی بزدلانہ کارروائیوں کو مسترد کرتی ہے، جو نہ صرف بلوچ روایات بلکہ انسانی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے بھی منافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق اور تحفظ کا احترام کیا جانا چاہیے اور سیاسی اختلافات کو ذاتی یا خاندانی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9159
تربت20 اکتوبر:ـجامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی ہدایت پر کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیو ای سی) کے ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم کے تحت المنائی نیٹ ورکنگ کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد فارغ التحصیل طلبہ (Alumni) کی پیشہ ورانہ ترقی، باہمی روابط کے فروغ اور کیریئر میں آگے بڑھنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔ جامعہ تربت کے ترجمان کے مطابق ڈگری کی تکمیل کے بعد بھی طلبہ کی مسلسل رہنمائی اور کیریئر گائیڈنس جامعہ تربت کے وژن اور اسٹریٹجک پلان کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ نیٹ ورک گریجویٹس کو قومی و عالمی سطح پر پیشہ ور افراد سے جوڑنے، روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور جامعہ تربت کی تقریبات، بزم المنائی اور فیصلہ سازی میں گریجویٹس کی شرکت کو یقینی بنانے کا موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ مزید برآں، ادارے کی ترقی کے لیے المنائی کی تجاویز کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ انٹرن شپس اور روزگار کے مواقع کی فراہمی، نیز موجودہ طلبہ کی رہنمائی کے لیے بھی ان کے تجربے سے استفادہ کیا جائے گا۔ جامعہ تربت اپنے تمام گریجویٹس کو دعوت دیتی ہے کہ وہ درج ذیل آفیشل آن لائن لنک کے ذریعے فوری رجسٹریشن کرائیں اور جامعہ کی جانب سے اعلان کردہ سہولیات سے مستفید ہوں۔





