خبر نامہ نمبر9078/2026
کوئٹہ: 19اکتوبر2026 صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے قلات اور گوادر میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز کو سراہتے ہوئے چار بین الاقوامی اسپانسرڈ خوارج کی ہلاکت پر فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی شدید تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے دشمنوں اور غیر ملکی آقاوں کی شہ پر انارکی پھیلانے والوں کا گھیراو تنگ ہوچکا ہے اور ہماری افواج دشمن کو ہر محاذ پر دندان شکن جواب دے رہی ہیں۔صوبائی مشیر محترمہ مینا مجید بلوچ نے شادی کور پسنی میں آئی ای ڈی دھماکے میں جام شہادت نوش کرنے والے میجر وجاہت وحید کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میجر وجاہت شہید نے پاک دھرتی کی تحفظ اور ہماری امن و سکون کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے عظیم مثال قائم کی ہے۔صوبائی مشیر محترمہ مینا مجید بلوچ نے شہید کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور ’عزمِ استحکام‘ کے تحت بلوچستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے تک سیکیورٹی فورسز اور عوام کا مشترکہ عزم اور جدوجہد بلا تاخیر جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9079/2026
کوئٹہ، 19 اکتوبر ۔چیرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد نے بی اے مال کوٹئہ کے دورہ کے دوران محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے نمائشی اسٹال کا دورہ کیا، جہاں محکمہ کے افسران نے انہیں مختلف عوامی سہولیات، آن لائن ٹیکس نظام، منشیات کی روک تھام اور گاڑیوں کے کاغذات و دستاویزات سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ایکسائز افسران نے آن لائن ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کے بارے میں آگاہ کیا۔ بریفنگ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، ملکیت کی تصدیق، ضروری دستاویزات اور متعلقہ قانونی تقاضوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئیںافسران نے منشیات کی روک تھام کے لیے محکمہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور اس سلسلے میں آگاہی و موثر نگرانی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔دورے کے دوران معزز مہمانوں کو محکمہ کی خدمات اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، آن لائن خدمات کے فروغ اور عوامی آگاہی کے حوالے سے مختلف امور بھی پیش کیے گئے۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عوام کو ٹیکس ادائیگی، گاڑیوں کی دستاویزات اور دیگر متعلقہ خدمات کے بارے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام اور آگاہی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9080/2026
گوادر 19 اکتوبر ۔ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی، تعلیمی معیار میں بہتری اور سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی و انتظامی امور کی موثر نگرانی کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین نے گزشتہ روز گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول باغبازار پسنی کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور تدریسی سرگرمیوں، طالبات کی تعلیمی کارکردگی اور تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طالبات سے تعلیمی امور کے حوالے سے گفتگو کی اور انہیں معیاری تعلیم کے حصول، محنت اور باقاعدگی سے تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر اسکول میں درپیش مسائل اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں انہوں نے اسکول کی حال ہی میں تعمیر ہونے والی نئی عمارت کا بھی معائنہ کیا اور تعمیراتی معیار، دستیاب سہولیات اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے عمارت کی افادیت کا جائزہ لیا بعدازاں اسکول کی ہیڈ مسٹریس بلقیس قادر نے ڈی ای او گوادر کو ادارے کی مجموعی تعلیمی صورتحال، تدریسی و انتظامی امور، طالبات کی ضروریات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈی ای او گوادر زاہد حسین نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، تدریسی عمل کو موثر بنانے اور طالبات کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9081/2026
گوادر19 اکتوبر۔ پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، جامعہ گوادر میں موسمِ بہار 2027 کے لیے مختلف فنی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ کورسز میں داخلوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تین سالہ ایسوسی ایٹ ڈپلومہ، ایک سالہ ڈپلومہ اور چھ ماہ کے ڈپلومہ و سرٹیفکیٹ پروگرام پیش کیے گئے ہیں تین سالہ ایسوسی ایٹ ڈپلومہ پروگرامز سافٹویئر انفارمیشن ٹیکنالوجی،میری ٹائم اینڈ پورٹ مینجمنٹ لاجسٹکس اور سپلائی چین مینجمنٹ میں تخصص ،ای کامرس، روبوٹکس انجینئرنگ، ٹورازم مینجمنٹ، ایک سالہ ڈپلومہ پروگرامز چینی زبان و ثقافت میں ایڈوانسڈ ڈپلومہ، انگریزی زبان میں ایڈوانسڈ ڈپلومہ، کنسٹرکشن انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا سائنسچھ ماہ کے ڈپلومہ / سرٹیفکیٹ کورسز، سرٹیفکیٹ اِن انفارمیشن ٹیکنالوجی (CIT)، کرین آپریٹر اور کار ڈرائیونگ، بوٹ مکینک اور انجن کی مرمت، جنرل اور سولر الیکٹریشن، موبائل فون کی مرمت، صحت کی دیکھ بھال اور خدمات، بیوٹیشن ،شیف / ککداخلے کی اہلیت چھ ماہ کے پروگراموں کے لیے میٹرک میں کم از کم 45 فیصد نمبر، جبکہ ایک سالہ ڈپلومہ پروگراموں کے لیے انٹرمیڈیٹ یا مساوی تعلیمی قابلیت ضروری ہے۔ تین سالہ پروگراموں کی اہلیت کے لیے انسٹی ٹیوٹ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے اسکالرشپس و مالی معاونت انسٹی ٹیوٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) کی جانب سے طلبہ کے لیے ٹیوشن فیس میں رعایت اور اسکالرشپس، جبکہ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے مناسب وظیفے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی اس سلسلے میں
داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 نومبر 2026 ہے، جبکہ داخلہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا امیدوار داخلہ فارم انسٹی ٹیوٹ کے داخلہ دفتر سے حاصل کر سکتے ہیں یا آن لائن ڈاون لوڈ بھی کر سکتے ہیں اس سلسلے میں مذید معلومات پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹجامعہ گوادر، سید ظہور شاہ ہاشمی ایونیو گوادر سے رابطہ کرسکتے ہیں آن لائن فارم: [داخلہ فارم ڈاون لوڈ کریں
https):
//pctvi.edu.pk/download/PCTVI_Admission_Form.pdf?utm_source=chatgpt.com)
رابطہ نمبر: 0321-8922404
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9082/2026
گوادر 19اکتوبر ۔ گوادر فری زون میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے شہزاد اینڈ شاو فارم کا بنیاد رکھا گیا۔ منصوبے کو گوادر میں سرمایہ کاری، زرعی و غذائی شعبے کی ترقی اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سنگِ بنیاد تقریب میں سیکرٹری وزارتِ بحری امور کیپٹن (ر) محمد خرم آغا، چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ بلوچستان نسیم الحق ملاخیل، رکن پنجاب اسمبلی تحسین فواد، چیرمین چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی مسٹر یو بو، چیئرمین ضلع کونسل گوادر شے مختار بلوچ، کاروباری شخصیات، وکلا، صحافیوں، طالبات، اساتذہ اور چینی شہریوں نے شرکت کی، سنگِ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری وزارتِ بحری امور کیپٹن (ر) محمد خرم آغا نے شہزاد اینڈ شاو فارم کی انتظامیہ کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کی یہ شراکت داری دونوں ممالک کی دوستی کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی افراد کی فنی مہارتوں میں اضافہ ہوگا اور نئی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ گوادر فری زون کا بنیادی مقصد بندرگاہ کے قریب صنعتی و پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور سرمایہ کاروں کو متعلقہ قوانین کے تحت ٹیکس و کسٹمز کی مراعات کے ساتھ کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ زراعت اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے بہتر پراسیسنگ، پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کے ذریعے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے اس امر پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچنے چاہئیں، اس لیے منصوبے کی انتظامیہ مقامی افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے، انہیں تربیت دینے اور مقامی سپلائرز و خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے کو ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور اور گوادر پورٹ اتھارٹی، حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ وفاقی اداروں کے تعاون سے سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل، بالخصوص پانی، بجلی، ذرائع آمدورفت اور انتظامی امور سے متعلق مشکلات کے حل کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوادر فری زون کا بنیادی تصور صنعت اور بندرگاہ کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہے، تاکہ کاروباری ادارے مصنوعات کی پراسیسنگ، پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کے بعد گوادر پورٹ کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی فری زون تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ شمالی فری زون میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ بڑے صنعتی منصوبوں کے قیام کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے زرعی، ماہیگیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کیچ اور پنجگور کھجور کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ دیگر مقامی وسائل کو بھی بہتر پراسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور برآمدی سہولیات کے ذریعے معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور بندرگاہی سہولیات مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ چیرمین گوادر بندرگاہ نے مزید کہا کہ بندرگاہی محصولات میں کمی، بنکرنگ سروسز کے آغاز اور ٹرانس شپمنٹ کی سرگرمیوں سے گوادر میں تجارتی مواقع بڑھانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے، نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور مستقبل کے رابطہ کاری منصوبے بھی بندرگاہی و صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیرمین نورالحق بلوچ نے بتایا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کا 1.2 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ جولائی 2025 سے شہر کو پانی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر شہر اور فری زون کے لیے پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو منظوریوں، کسٹمز اور دیگر انتظامی معاملات میں درپیش مشکلات کے حل کے لیے بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ الاٹ شدہ زمین کو پیداواری مقاصد کے لیے استعمال میں لائیں، مقررہ مدت میں منصوبے مکمل کریں اور مقامی نوجوانوں کو روزگار و تربیت فراہم کرنے کے ساتھ مقامی کاروباری اداروں کو بھی اپنے منصوبوں کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی ماحول اور سمندری وسائل کا تحفظ، فضلے کا موثر انتظام اور سکیورٹی کے تقاضوں پر عمل درآمد بھی پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ شہزاد اینڈ شاو فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاو یونفی نے کہا کہ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور تجارتی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے فارم کے افتتاح کو خوشی اور فخر کا موقع قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ چین کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ مقامی سطح پر بھی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ بلوچستان نسیم الحق ملاخیل، رکن پنجاب اسمبلی تحسین فواد، چیئرمین چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی مسٹر یو بو کا کہنا تھا کہ گوادر میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے مشترکہ منصوبے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی وسائل سے استفادے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہزاد اینڈ شاو فارم ایک کامیاب اور پائیدار کاروباری ادارے کے طور پر ترقی کرے گا اور گوادر فری زون میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں میں یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9083/2026
19اکتوبر ۔ ،قلات۔ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی کے ہمراہ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول قلات کا دورہ کیا، جہاں ہیڈ مسٹریس یاسمین شاہوانی نے انہیں سکول میں دستیاب تعلیمی سہولیات، درپیش مسائل اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نےاسکول کے خستہ حال کمروں کا معائنہ بھی کیاڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے سکول میں قائم محکمہ تعلیم کے بک اسٹور کا بھی جائزہ لیا اور وہاں موجود سہولیات کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے سکول کے خستہ حال کمروں کی مرمت، بک اسٹور کی توسیع اور طالبات کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے کمروں کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری لانا اور تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم باہمی تعاون سے اقدامات کر رہے ہیں، تاکہ تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9084/2026
کوئٹہ, 19اکتوبر ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت وثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے، ایسے نازک وقت میں مولانا فضل الرحمٰن کو چاہیے کہ وہ پاک فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلافات کا سامنا رہا، تاہم سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملک میں امن و استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دے رہی ہے، جن کا احترام ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اتحاد، یکجہتی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن قومی مفاد اور ملکی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کااحساس کرنا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور امن و امان کے قیام میں ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9085/2026
گوادر، 19 اکتوبر۔ صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے گوادر کے دورہ کے موقع پر گزشتہ روز گوادر فری زون میں شہزاد اینڈ شاو فارم پرائیویٹ لمیٹڈ کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں حکومت پنجاب کی رکن صوبائی اسمبلی وچیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی رکن محترمہ تحسین فواد، وفاقی سیکریٹری میری ٹائم آفئیر محمد خرم آغا۔سی پیک کی کوآرڈینیٹر اسلام آباد محترمہ زارا، سی پیک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد، وزارتِ غذائی تحفظ و تحقیق کے ڈاکٹر شہلحن، ڈی جی گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سابق سیکریٹری خلیل احمد اور سابق نائب صدر واجدہ سلیم سمیت دیگر حکام اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔تقریب کے دوران شرکاء کو منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی، مہمان خصوصی صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے افتتاحی فیتہ کاٹا اور مہمانان کے ہمراہ فارم کی مختلف سہولیات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بطور مہمان خصوصی صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاجیل نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں اور نجی شعبے کے تعاون سے صوبے کے قدرتی وسائل اور معاشی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ لائیو اسٹاک، گوشت کی پروسیسنگ، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔صوبائی مشیر نسیم الرحمن خان ملاخیل نے مزید کہا کہ گوادر پاکستان کے لیے غیر معمولی جغرافیائی اور معاشی اہمیت رکھتا ہے۔ گوادر فری زون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ تجارتی و صنعتی سرگرمیاں بلوچستان کے لیے ترقی کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے منصوبوں کے ذریعے مقامی وسائل کو کاروباری سرگرمیوں سے منسلک کرنے، سرمایہ کاروں کو مواقع فراہم کرنے اور پاکستان کی تجارت کو بین الاقوامی منڈیوں تک وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔شہزاد اینڈ شاو فارم پرائیویٹ لمیٹڈ کا قیام بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ منصوبے کے تحت جانوروں کی افزائش اور گوشت کی پروسیسنگ کے بعد اسے بیرونِ ملک برآمد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے لائیو اسٹاک کے شعبے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، مقامی پیداوار کی معاشی قدر بڑھانے اور متعلقہ شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے امکانات روشن ہوں گے۔صوبائی مشیر نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف شعبوں میں موجود امکانات سے فائدہ اٹھا کر صوبے کو معاشی ترقی کے سفر میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ گوادر جیسے تجارتی مرکز میں صنعت اور برآمدات سے متعلق منصوبے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔گوادر فری زون میں اس منصوبے کا آغاز سی پیک کے وسیع تر معاشی تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ صنعتی پیداوار، پروسیسنگ اور برآمدات کو بندرگاہی سہولیات سے منسلک کرنے سے علاقائی تجارت کے فروغ کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ بالخصوص لائیو اسٹاک اور گوشت کی پروسیسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری بلوچستان کی معیشت میں تنوع پیدا کرنے اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں شیلڈ تقسیم کی گئیں اور مہمانوں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9086/2026
کوئٹہ 19 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے پسنی میں آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہونے والے میجر وجاہت وحید کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں گورنر مندوخیل نے کہا کہ شہید میجر وجاہت وحید نے وطن عزیز کے دفاع کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ قوم ان کی قربانی پر فخر کرتی ہے۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائیگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہیگی۔ گورنر جعفرخان نے سوگوار خاندان سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو ہمت اور صبر جمیل عطا کرے۔ آمین
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9087/2026
کوئٹہ 20 اکتوبر۔بلوچستان ہائیکورٹ نے معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، مالی و تعلیمی معاونت، صحت کی سہولیات، ملازمتوں میں معذوری کوٹے اور دیگر قانونی مراعات پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے بلوچستان پرسنز ود ڈس ایبلٹیز سپورٹ فنڈ (کمک) کی پالیسی اور فنڈز کی تقسیم کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معذور افراد ایکٹ 2007ء کی دفعات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 1422/2024 کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ درخواست گزاروں کے وکلاء دو ہفتوں کے اندر اپنی جامع تجاویز ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کے ذریعے پیش کریں، جس کے بعد متعلقہ حکام ان تجاویز کی روشنی میں نظرثانی شدہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔سماعت کے دوران کمک پروگرام کے پروگرام ڈائریکٹر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمک پالیسی 2025ء کے تحت معذور افراد کو تعلیمی معاونت، کاروبار کے لیے مالی مدد، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، بحالی کی سہولیات اور معاون آلات کی فراہمی سمیت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 34 ہزار معذور افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ فنڈ کا ابتدائی سرمایہ تین ارب روپے ہے اور متوقع ماہانہ آمدن تقریباً 27 ملین روپے بتائی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کمک کونسل پروگرام کی نگرانی اور انتظامی امور کے لیے قائم کی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود ہیں اور کونسل میں زیادہ سے زیادہ آٹھ ارکان شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت 18 سال سے کم عمر معذور افراد کو ماہانہ چھ ہزار روپے جبکہ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو آٹھ ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔رپورٹ میں فنڈز کی تقسیم کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 38 فیصد رقم باقاعدہ ماہانہ مالی معاونت، 7 فیصد تعلیمی وظائف، 25 فیصد معاون آلات، 5 فیصد فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور 20 فیصد بلا سود روزگار قرضوں کے لیے مختص ہیں۔ معاون آلات میں الیکٹرک وہیل چیئرز، ٹرائی موٹر سائیکلیں، اسکوٹیز، واکرز، بیساکھیاں، سماعت کے آلات، مصنوعی اعضا اور سفید چھڑی سمیت دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں۔درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والی وکلاءانعم خیر ایڈووکیٹ اور متعلقہ آئینی درخواست نمبر 1647/2025 کے درخواست گزار کے وکیل محمد اکرم شاہ ایڈووکیٹ نے رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معاونت کے لیے صرف سات فیصد رقم مختص کرنا ناکافی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رپورٹ میں صحت کی سہولیات، نجی ہسپتالوں میں معذور افراد کے لیے 50 فیصد رعایت اور قانون کے تحت فراہم کردہ دیگر حقوق و مراعات کا مناسب احاطہ نہیں کیا گیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں معذور افراد کی حقیقی مجموعی تعداد تاحال معلوم نہیں، جبکہ کمک پروگرام کے بارے میں موثر تشہیر نہ ہونے کے باعث بہت سے مستحق افراد رجسٹریشن اور دستیاب سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکلاء کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم بھی معذور افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔اس موقع پر محکمہ سماجی بہبود، حکومت بلوچستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم اکرم نے موقف اختیار کیا کہ صحت سے متعلق مالی معاونت کے لیے بلوچستان عوامی ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ بھی موجود ہے، جو صحت کے شعبے میں مستحق افراد کی مدد کے لیے کام کرتا ہے۔عدالت نے معذور افراد کے حقوق کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور اداروں کے نمائندوں کو بھی آئندہ کارروائی میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ ان میں پرائیویٹ ہسپتال ریگولیٹری اتھارٹی، محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی، محکمہ اسکول ایجوکیشن، کالجز و ہائر ایجوکیشن، ٹرانسپورٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور لوکل گورنمنٹ کے حکام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ریلویز کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کوئٹہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو بھی طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ متعلقہ حکام معذور افراد کے لیے عمر میں رعایت، سرکاری ملازمتوں میں مقررہ معذوری کوٹے، نجی ہسپتالوں میں رعایت، تعلیم، نقل و حمل اور دیگر قانونی سہولیات سے متعلق اقدامات اور ان پر عملدرآمد کی تفصیلات پیش کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دفاتر کو حکم کی نقول متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کی حاضری یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 نومبر 2026ء تک ملتوی کردی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9088/2026
کوئٹہ، 19 اکتوبر ۔صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان چیف سردار کوہیار خان ڈومکی نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور سائلین سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر سائلین نے انہیں اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا، جس پر صوبائی وزیر نے متعلقہ امور کا جائزہ لیتے ہوئے مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے۔اس موقع پر سردار کوہیار خان ڈومکی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتِ بلوچستان عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوامی خدمت، مسائل کے موثر ازالے اور گورننس میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور لوگوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9089/2026
کوئٹہ 19اکتوبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویژن میں تعلیمی صورتحال، اسکولوں کی فعالیت، ترقیاتی اسکیموں اور تعلیمی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ تعلیم میڈم روبینہ، ای ڈی او کوئٹہ ڈاکٹر نصیر علی شاہ نے ان لائن جبکہ اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ تعلیم کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو کوئٹہ ڈویژن میں تعلیم کی مجموعی صورتحال، اسکولوں کی تعداد، اساتذہ اور طلبہ کے اعداد و شمار، جاری ترقیاتی اسکیموں، تعلیمی پروگراموں اور اسکولوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں مجموعی طور پر 667 اسکولوں میں 9 ہزار 830 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان تعلیمی اداروں میں 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ کوئٹہ میں 25 جبکہ مستونگ میں 10 ترقیاتی اسکیموں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت کوئٹہ میں پرائمری جماعتوں کے بچوں کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں میں اضافے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق کوئٹہ میں 9 اسکولوں پر تجاوزات قائم ہیں، جبکہ گاڑیوں کی عدم دستیابی، متعلقہ افسران کے لیے رہائش کے مسائل، چوکیداروں اور خاکروبوں کی کمی کے باعث اسکولوں کی صفائی اور سکیورٹی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ کوئٹہ ڈویژن میں 155 اسکولوں کے غیر فعال ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی، جن کی فعالیت یقینی بنانے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کے نظام کو مو¿ثر بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ نئے اسکولوں کی تعمیر کے بجائے ضرورت کے مطابق موجودہ پرائمری اسکولوں کو مڈل اور ہائی اسکولوں کی سطح پر اپ گریڈ کیا جائے، تاکہ طلبہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شیلٹر لیس 34 اسکولوں اور سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر ایس ایس ٹیز کی بھرتیوں، مانیٹرنگ کے موثر نظام اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ اسکول چھوڑنے والے بچوں اور ڈراپ آو¿ٹ کی شرح میں کمی لانے کے لیے جامع اور قابلِ عمل منصوبہ مرتب کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی اداروں میں برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے اسکولوں کی سطح پر ڈیٹا مرتب کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے طلبہ، اساتذہ، تعلیمی سہولیات اور اسکولوں کی فعالیت سے متعلق معلومات کو موثر انداز میں ریکارڈ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ انتظامیہ کو ہر تعلیمی ادارے کی حقیقی صورتحال سے بروقت آگاہی حاصل ہو سکے۔کمشنر ذیشان لاشاری نے متعلقہ افسران کو اسکولوں کی باقاعدہ نگرانی، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے، غیر فعال اسکولوں کو فعال کرنے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی کہ پورٹل سسٹم تک رسائی اور آر ٹی ایم ایس کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ پیش کی جائے، تاکہ تعلیمی اداروں کی نگرانی، ڈیٹا مینجمنٹ اور انتظامی امور کو مزید موثر بنایا جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلوں میں اضافے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9090/2026
کوئٹہ 19اکتوبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ان لائن اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے پر جاری کام، کیمروں کی تنصیب، متاثرہ سائٹس کی بحالی اور منصوبے کی بروقت تکمیل سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی ، ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر مستونگ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے افسران نے آن لائن شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی،ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ سید کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کو کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر کے 120 مقامات پر تین، تین کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ ہے، جبکہ صوبے کے سات اضلاع میں سیف سٹی کیمروں کی تنصیب کے لیے 990 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔بریفنگ کے مطابق کوئٹہ شہر میں 1,130 ملین روپے کی لاگت سے 130 کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ جاری ہے، جس پر تقریباً 83 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے کے تحت شہر میں چھ چپ پوسٹس قائم کی جا رہی ہیں، جن میں سے چار مکمل ہو چکی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران نقصان پہنچنے والی سائٹس کو بھی جلد از جلد دوبارہ فعال کیا جائے گا، جبکہ اس مقصد کے لیے فنڈز دستیاب ہیں اور باقی ماندہ کام کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں تین مزید جوائنٹ چیک پوسٹس (JCPs) قائم کی جائیں گی، جن سے شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویڑن ذیشان لاشاری نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ ایک اہم اور دوررس نتائج کا حامل منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ شہر میں سکیورٹی، نگرانی اور امن و امان کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کو باہمی تعاون، موثر رابطہ کاری اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب کیے جانے والے کیمروں اور دیگر سکیورٹی آلات کو فعال رکھنے، متاثرہ مقامات کی بحالی اور زیرِ تکمیل کام کو جلد مکمل کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ضلع مستونگ کو بھی سیف سٹی پروجیکٹ کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے نئی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں منصوبے کو شامل کیا گیا ہے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے سیف سٹی پروجیکٹ کو جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9091/2026
سیوی 19 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کو سپرنٹنڈنگ انجینئر ایگریکلچر انجینئرنگ منور حسین نے محکمے کی مجموعی کارکردگی، بلڈوزر مشینری کی دستیابی، استعمال اور زرعی زمینوں کی ہمواری (Land Levelling) سمیت دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور بلڈوزر سروسز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے ہدایت کی کہ کسانوں اور زمینداروں کو زرعی زمینوں کی ہمواری اور دیگر زرعی ضروریات کے لیے دستیاب مشینری اور سہولیات سے زیادہ سے زیادہ مستفید کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کسانوں کو مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق بلڈوزر سروسز اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہو، تاکہ زرعی زمینوں کی بہتری اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 9092/2026
سیوی 19 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کو ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر خالد حسین نے ڈویژن کے بوائز، گرلز اور انٹر کالجز کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی صورتحال اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران کالجز میں تدریسی عملے کی خالی آسامیوں کو ایک اہم مسئلے کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر نے بتایا کہ مختلف کالجز میں اساتذہ اور دیگر متعلقہ عملے کی متعدد آسامیاں خالی ہونے کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جس سے طلباء و طالبات کے داخلوں (Enrolment) میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عملے کی کمی کے باعث کالجز میں بی ایس (BS) ڈگری پروگرامز کے اجراء اور تسلسل میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے کالجز میں خالی آسامیوں اور دیگر تعلیمی مسائل کی نشاندہی کو اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے ضروری رابطوں اور موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ تدریسی عمل کو بہتر بنایا جا سکے، طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آئیں اور کالجز میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9093/2026
تربت 19 اکتوبر ۔جامعہ تربت کے انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے ڈیپارٹمنٹل بورڈ آف اسٹڈیز کا پانچواں اجلاس فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز کے ڈین اور انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسٹیٹیوٹ اور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالجز کے اساتذہ اور بورڈ کے ارکان نے شرکت کی، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمان اور یونیورسٹی آف گوادر کے کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر رحیم بخش مہر نے بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایچ ڈی، ایم فل اور بی ایس پروگرامز کے نصاب، کورسز اور لرننگ آوٹ کمز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا کورس شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بلوچی زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلباء کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں اور ڈیجیٹل دور کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ مارکیٹ میں موثر طور پر مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی تحقیقی اور تدریسی سرگرمیوں میں معیار کو ہر صورت برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نصاب کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز کے مطابق ترتیب دینے اور کورسز و طریقہ تدریس کو جدید تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں میں معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی علمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر جامعہ تربت کا ایک نمایاں تعلیمی و تحقیقی مرکز ہے، جو بلوچی زبان، ادب اور ثقافت کے تحفظ اور اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9094/2026
کوئٹہ، 19 اکتوبر۔ بلوچستان کے تاریخی مذہبی مقام ہنگلاج ماتا استھان میں نوراتری کے موقع پر درگا اشٹمی کی خصوصی پوجا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں ہندو یاتریوں نے شرکت کی۔ ان میں سینکڑوں پیدل یاتری بھی شامل تھے، جو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے ہنگلاج ماتا استھان پہنچے۔ حکومت بلوچستان کے خصوصی تعاون سے تقریبات کے موقع پر یاتریوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے اور انہیں سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں نے اقدامات کیے۔ ہندو برادری اور یاتریوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس سال کی تقریبات کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ پہلی مرتبہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ کمشنر کاشش چوہدری کو تقریبات کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔ انہوں نے انتظامات کی نگرانی اور یاتریوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر سینیٹر دنیش کمار نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہنگلاج ماتا استھان میں مذہبی تقریبات کے لیے کیے گئے انتظامات بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے احترام کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات پر آنے والے یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے مذہبی شعائر کے احترام کو یقینی بنانا معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ یاتریوں نے بھی حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر انتظامات اور سہولیات کی فراہمی سے انہیں اپنی مذہبی رسومات پرامن اور باوقار انداز میں ادا کرنے میں مدد ملی۔ ہنگلاج ماتا استھان میں درگا اشٹمی کی تقریبات کا انعقاد بلوچستان میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی برادریوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9095/2026
ہرنائی19 اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلع کے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) اسپتال ہرنائی کا ہنگامی اور تفصیلی دورہ کیا۔اسکول کے دورے کے دوران، ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے اساتذہ کی حاضری کے ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور طالبات سے براہِ راست بات چیت کی۔ انہوں نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو ہدایت کی کہ طالبات کی بہتر ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ ہم نصابی (extra-curricular) سرگرمیوں میں بھی ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔بعد ازاں، ڈپٹی کمشنر نے ڈی ایچ کیو اسپتال کا دورہ کیا، جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) نے انہیں اسپتال میں دستیاب طبی سہولیات اور انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔?اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے اسپتال انتظامیہ کو واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کے تمام سرکاری اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت اور بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے ایسے دورے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9096/2026
ہرنائی 19 اکتوبر ۔کو ضلع ہرنائی کے انتظامی وژن اور عوامی فلاح کے احکامات کے تحت ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک نظر آئی۔ اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے خوست بازار کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد بازار میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا، تجاوزات کا خاتمہ، ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور صفائی ستھراگی کی مجموعی صورتحال کا معائنہ کرنا تھادورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے بازار میں مختلف دکانوں، سبزی و پھل کے ٹالوں، گوشت کی دکانوں (قصابوں) اور جنرل اسٹورز کا باریک بینی سے معائنہ کیا انہوں نے روزمرہ استعمال کی اشیاء، خصوصاً تازہ سبزیوں، گوشت اور عام استعمال کی اشیاء کے داموں کو چیک کیا۔ اے سی خوست نے دکانات کے مالکان کو سخت ہدایت کی کہ وہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ اور مقرر کردہ سرکاری قیمتوں کی فہرست (Official Price List) کو اپنی دکانوں پر نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور اشیاءصرف طے شدہ نرخوں پر ہی فروخت کریں۔صارفین سے سرکاری نرخوں سے زائد وصولی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو دکان دار منافع خوری یا سرکاری احکامات کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی اور تعزیراتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے بازار میں عام شہریوں، خریداروں اور بزرگوں کی آمدورفت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اہم شاہراہوں اور پیدل چلنے کے راستوں (فٹ پاتھوں) کا جائزہ لیا گیا۔دکان داروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ دکانوں کا سامان اور تجاوزات سڑکوں پر نہ پھیلائیں تاکہ راستے بند نہ ہوں۔بازار میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے ٹریفک کے نظام کو بہتر اور رواں دواں رکھنے کے لیے موقع پر ہی ضروری احکامات جاری کیے گئے معائنے کے دوران بازار کے اندر صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیابازار میں کوڑے کرکٹ کے مناسب نکاس اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ عملے کو سخت ہدایات دی گئیں۔دکان داروں کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ اپنی دکانوں کے سامنے صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ عوام کو ایک صاف ستھرا اور صحت مند ماحول مل سکے۔اسسٹنٹ کمشنر خوست نے واضح کیا کہ بازار میں عوامی فلاح کے اصولوں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس طرح کے اچانک معائنے اور دورے مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رہیں گے تاکہ عوام کو مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور بدانتظامی سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9097/026
نصیرآباد
19 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ مینجمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی حاضری ادویات کی دستیابی طبی سہولیات کی بہتری اور مختلف انتظامی و مالی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کا مقصد عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے سرکاری اسپتالوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور فرائض میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لانا تھا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی ایچ کیو اسپتال ڈاکٹر سید زین میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو اسپتال ڈاکٹر احمد گوپانگ ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر عبدالحئی کھوسو اور محمد طاہر سب اکاؤنٹنٹ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس اُستا محمد نے شرکت کی اجلاس کے دوران صحت کے شعبے سے متعلق مختلف امور پر غور و خوض کیا گیا اور عوامی مفاد میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے
اجلاس میں کنٹریکٹ پر تعینات ان ڈاکٹرز کی مسلسل غیر حاضری کا سخت نوٹس لیا گیا جو اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ غیر حاضر ڈاکٹرز کی تنخواہیں بند کرنے اور ان کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کے لیے کمشنر نصیرآباد کو باقاعدہ رپورٹ ارسال کی جائے گی تاکہ ضابطے کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے
اسی طرح مستقل طور پر غیر حاضر رہنے والی ڈاکٹر کلثوم کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان کی تنخواہ بند کرنے کے ساتھ محکمانہ کارروائی کے لیے متعلقہ محکمے کو رپورٹ بھیجی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی باقاعدگی سے انجام دیں اور عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں
ٹی ایچ کیو اسپتال اُستا محمد میں دو غیر حاضر ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اجلاس میں طے پایا کہ مذکورہ ملازمین کو معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری کی جائے گی تاکہ غیر حاضری کی وجوہات کا تعین کرتے ہوئے ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں اس طرح کی کوتاہیوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے
ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی فراہمی اور فنڈز سے متعلق درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ مریضوں کو ضروری ادویات کی بروقت فراہمی اور اسپتال کے انتظامی و مالی مسائل کے حل کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے دفتر سے مسلسل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ متعلقہ مسائل کو اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کرکے ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو دستیاب وسائل کے اندر بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے
اُستا محمد شہر میں رات کے اوقات میں میڈیکل اسٹورز کی بندش سے متعلق معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ ادویات کی دستیابی اور عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدامات کیے جا سکیں
اجلاس میں ڈائیلاسز یونٹ کی واٹر سپلائی اسکیم کی عدم فعالیت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ایکسین محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو ہدایت کی کہ مذکورہ اسکیم کو تین روز کے اندر فعال بنایا جائے تاکہ ڈائیلاسز یونٹ کی ضروریات پوری کرنے اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹ دور کی جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مقررہ مدت کے اندر اسکیم فعال نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ایکسین اور ٹھیکیدار کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے رپورٹ ارسال کی جائے گی جبکہ ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش پاکستان انجینئرنگ کونسل PEC کو بھی بھیجی جائے گی
ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ صحت عامہ سے متعلق امور میں غفلت اور غیر ذمہ داری کسی صورت قابلِ قبول نہیں انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اسپتالوں میں عملے کی حاضری ادویات کی دستیابی طبی سہولیات اور انتظامی امور کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد کیا جائے.انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کریں تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں اور سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے
خبرنامہ نمبر9098/026
نصیرآباد
19 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ DEG کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی تدریسی سرگرمیوں اساتذہ کی حاضری تعلیمی معیار میں بہتری اور اداروں کو درپیش انتظامی و بنیادی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ڈی ای او شبیر احمد لانگووے، اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون سراج احمد آر ٹی ایس ایم کے انچارجز گرلز و بوائز کالجز کے پرنسپلز اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں غیر سرکاری تنظیموں NGOs اور پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر منظور احمد پندرانی سمیت متعلقہ حکام اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اساتذہ کی باقاعدہ حاضری کلاس رومز میں تدریسی سرگرمیوں کا تسلسل اور تعلیمی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ناگزیر ہے اس سلسلے میں آر ٹی ایس ایم کی جانب سے مرتب کردہ حاضری رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے 22 اساتذہ کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری کی جائے گی تاکہ غیر حاضری کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں ڈی ای او کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت انکوائری اور کارروائی کے نتائج سے آئندہ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کو باقاعدہ آگاہ کریں۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، اداروں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لینے اور تدریسی خامیوں کی بروقت نشاندہی کے لیے تمام ہائی اور مڈل اسکولوں میں داخلی انسپکشن کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا یہ کمیٹیاں ماہانہ بنیادوں پر اپنے اپنے اداروں میں تدریسی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری طلباء کی تعلیمی پیش رفت، نظم و ضبط اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیں گی معائنے کے بعد مرتب کردہ رپورٹس متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر DDO کے دفتر کے ذریعے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی تاکہ مسائل کا بروقت ازالہ اور تعلیمی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔اجلاس میں کلسٹر انسپکشن کمیٹیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ تعلیمی اداروں کے معائنے کے عمل میں تیزی لائی جائے اور زیرِ التواء رپورٹس جلد از جلد پیش کی جائیں حکام کو تاکید کی گئی کہ معائنے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں اساتذہ کی غیر حاضری تدریسی مسائل اور سہولیات کی کمی کی نشاندہی واضح انداز میں کی جائے تاکہ متعلقہ محکمے ذمہ داری کے ساتھ ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر سکیں
گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اُستا محمد کے ناقابلِ استعمال کمروں کا معاملہ بھی اجلاس میں زیرِ بحث آیا اس حوالے سے ہدایت کی گئی کہ طالبات اور تدریسی عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ناقابلِ استعمال کمروں کو سیل کیا جائے اور تدریسی عمل متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کے انتظامات کیے جائیں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، تاکہ طالبات کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔اجلاس میں تین نئی اسکول بسوں کے گزشتہ دس ماہ سے غیر فعال کھڑے ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا شرکاء نے اس امر پر توجہ دلائی کہ سرکاری وسائل سے حاصل کی گئی بسوں کا طویل عرصے تک استعمال میں نہ آنا نہ صرف قیمتی سرکاری اثاثوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے بلکہ طلباء و طالبات کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد کو بھی متاثر کرتا ہے اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکریٹری تعلیم بلوچستان کو صورتحال سے باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے بسوں کو فعال بنانے اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری اقدامات کی سفارش کی جائے گی تاکہ دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے اور طلباء و طالبات کو ممکنہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا متعلقہ افسران اور تعلیمی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں بہتری صرف اجلاسوں کے انعقاد سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے کیے گئے فیصلوں پر عملی طور پر عملدرآمد ذمہ دار افسران کی جوابدہی اور مسلسل نگرانی ضروری ہے
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کے معائنے کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے ذریعے تدریسی معیار، طلباء کی تعلیمی ضروریات اور اداروں کو درپیش مسائل کا حقیقی جائزہ لیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے، غیر حاضری کے معاملات میں قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے اور تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی اور پابندی کے ساتھ ادا کریں۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع اُستا محمد میں تعلیمی نظام کی بہتری، اداروں کی کارکردگی میں اضافے اور طلباء و طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے نگرانی اور جائزے کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا جبکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا آئندہ اجلاس میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا
خبرنامہ نمبر9099/026
جھل مگسی
19 اکتوبر 2026:
اسسٹنٹ کمشنر محمد رمضان کرد کی بھکاریوں کے خلاف کارروائی۔ اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد نے گنداواہ بازار میں بھکاریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لے کر مزید کارروائی کے لیے سٹی پولیس تھانہ گنداواہ کے حوالے کر دیا۔اس کارروائی کا مقصد بازار میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عوامی مسائل کے تدارک کے لیے اقدامات کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر9100/026
لاہور، 19 اکتوبر2026: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں، 21 اکتوبر کو لاہور میں ایف پی سی سی آئی کے اشتراک سے بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد بلوچستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنا، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا اور کاروباری برادری کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین اور نائب صدر ذکی اعجاز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، سیکورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کی بدولت دہشتگرد پسپا ہو رہے ہیں، گزشتہ ماہ میں جو دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، بلوچستان قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات سے مالا مال ہے۔ صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کی معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ معدنیات، زراعت، لائیوسٹاک، ماہی گیری، توانائی، سیاحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس موقع پر ذکی اعجاز نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ اور ایف پی سی سی آئی کے اشتراک کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون سے صوبے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
خبرنامہ نمبر9101/026
موسیٰ خیل 19 اکتوبر 2026:
حکومتِ بلوچستان، محکمہ داخلہ کی ہدایات اور نوٹیفکیشن کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک کی زیرِ صدارت پریکرسر ٹریکنگ اینڈ ٹریسیبلٹی سسٹم کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے کی۔ اجلاس میں متعلقہ کمیٹی ممبران و متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کیمیائی اور حساس مواد کی نگرانی، ترسیل اور غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے جدید ٹریکنگ اور ٹریسیبلٹی سسٹم کی افادیت، عمل درآمد اور ضلعی سطح پر اس کے مؤثر نفاذ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ شعبے اور محکمے آپسی تعاون کو یقینی بنائیں اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے مطابق اس جدید کنٹرول اور شفاف مانیٹرنگ سسٹم پر مکمل اور روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر9102/026
کوئٹہ 19اکتوبر2026: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بلوچستان یونیورسٹی میں زیرِ تعمیر جدید ای کامرس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) لیب کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری تعمیراتی و تکمیلی کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے لیب کی تعمیر، دستیاب سہولیات اور منصوبے کی پیش رفت کا معائنہ کیا۔ جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کی تعمیر کا کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کی تکمیل سے طلبہ کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عملی تربیت کے بہتر مواقع میسر آنے کی توقع ہے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے لیب کی تعمیر و تکمیل کے مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اس امر پر توجہ دی کہ منصوبے کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات معیاری ہوں اور تعمیراتی کام کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔منصوبے کی بروقت تکمیل اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے جاری کام کی نگرانی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔جدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کا قیام طلبہ کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تجارت اور جدید کاروباری طریقوں سے روشناس کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس لیب کے ذریعے طلبہ کو اپنی تعلیمی معلومات کو عملی مہارتوں میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سمجھنے اور ای کامرس کے شعبے میں جدید طریقہ کار سے آگاہی حاصل کرنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد لیب کو تعلیمی و عملی سرگرمیوں کے لیے استعمال میں لانے سے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع میسر آنے کی توقع ہے۔
خبرنامہ نمبر9103/026
قلات:ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا ہیکہ پولیس اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت اور صلاحیتوں میں اضافہ امن و امان کے قیام کے لیے نہایت اہم ہے۔ ریکروٹ ٹریننگ سینٹر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ آر ٹی سی انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔یہ بات انہوں نے ریکروٹ ٹریننگ سینٹر (آر ٹی سی) قلات دورے کے موقع پر کیا ٹریننگ سینٹر آمد پرایس پی آر ٹی سی ارشاد احمد گولہ نے انہیں ویلکم کیا۔ اس موقع پر آر ٹی سی کے چاق و چوبند دستے نے ڈپٹی کمشنر کو سلامی پیش کی۔دورے کے موقع پر سی ایل آئی انسپکٹر عبدالعزیز محمد حسنی، ایس آئی جمیل احمد شاہوانی، سی ڈی آئی ظفراللہ، اے ایس آئی حاجی خان، اے ایس آئی عبدالحمید اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
ایس پی آر ٹی سی ارشاد احمد گولہ نے ڈپٹی کمشنر کو سینٹر کے مختلف شعبہ جات، پریڈ گراؤنڈ، کلاس رومز، کینٹین، میس اور دفاتر کا دورہ کرایا۔ اس دوران انہیں سینٹر میں دستیاب سہولیات، تربیتی سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے تربیت حاصل کرنے والے پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی، جاری تربیتی کورس سے متعلق تبادلہ خیال کیا اور ان کے مسائل دریافت کیے۔ انہوں نے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے پولیس اہلکار ہمارے بھائی ہیں۔ وہ پوری محنت، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی تربیت مکمل کریں تاکہ مستقبل میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر9104/026
سوراب19 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سعید احمد ساسولی، ایس ڈی او بی اینڈ آر انجینئر مقصود احمد مینگل اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ BSDI فیز-II کے تحت جاری C&W کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر افسران نے سوراب ٹو ڈن لنک روڈ، مختلف اسکولوں، ڈی ایچ کیو ہسپتال سوراب سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کرتے ہوئے جاری کاموں کی پیش رفت، معیار اور تعمیراتی صورتحال کا جائزہ لیا متعلقہ افسران نے مختلف منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔*
خبرنامہ نمبر9105/026
کوئٹہ، 19 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ بلوچستان لعل جان جعفر نے صوبے کے تمام اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا فوری اور جامع معائنہ کرنے، خستہ حال اور ساختی طور پر کمزور عمارتوں کی نشاندہی کرنے اور طلبہ، اساتذہ سمیت دیگر عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تمام ضلعی افسرانِ تعلیم کو جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ حالیہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے دی گئی ہدایات اور خیبر پختونخوا میں اسکول کی عمارت گرنے کے حالیہ افسوسناک واقعے کے تناظر میں تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ طلبہ اور تعلیمی عملے کی جان و سلامتی اولین اہمیت رکھتی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔ ہدایت نامے کے مطابق تمام ضلعی افسرانِ تعلیم اپنے متعلقہ اضلاع کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا فوری معائنہ کریں اور ایسی عمارتوں، کلاس رومز یا حصوں کی نشاندہی کریں جو خستہ حالی، ساختی کمزوری یا کسی بھی دوسرے سبب سے غیر محفوظ ہوں۔ بالخصوص دیواروں میں نمایاں دراڑوں، خراب چھتوں، کمزور دیواروں اور بنیادوں، بوسیدہ ڈھانچوں اور دیگر ممکنہ حفاظتی خطرات کے حامل اسکولوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی اسکول کی عمارت، کلاس روم یا اس کا کوئی حصہ غیر محفوظ محسوس ہونے کی صورت میں وہاں تدریسی سرگرمیاں اور دیگر امور فوری طور پر روک کر طلبہ اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ متعلقہ عمارت یا حصے میں داخلے پر اس وقت تک سختی سے پابندی عائد رکھی جائے جب تک مجاز تکنیکی حکام اس کی ساختی سلامتی کا معائنہ کرکے اسے محفوظ قرار نہ دے دیں۔ کسی بھی صورت میں طلبہ یا عملے کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہدایت نامے میں ضلعی افسرانِ تعلیم کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خطرناک اور غیر محفوظ عمارتوں کے حوالے سے اسکول وار تفصیلی رپورٹ مرتب کریں، جس میں ساختی خطرے کی نوعیت اور شدت، متاثرہ طلبہ کی تعداد، کیے گئے فوری حفاظتی اقدامات اور مرمت، بحالی یا ازسرِنو تعمیر کی ضروریات واضح طور پر درج ہوں۔ تمام اضلاع کی یکجا رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کو ارسال کی جائے تاکہ مزید ضروری کارروائی اور عمارتوں کی تکنیکی جانچ کے لیے متعلقہ تفصیلات محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ساتھ شیئر کی جا سکیں۔ سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کو انتہائی ہنگامی نوعیت کا حامل سمجھا جائے۔ کسی غیر محفوظ اسکول کی عمارت کے حوالے سے بروقت حفاظتی اقدامات کرنے میں غفلت، تاخیر یا ناکامی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ضلعی افسرانِ تعلیم پر زور دیا کہ وہ ان ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے اور طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کو کسی بھی ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9106
کوئٹہ 19 اکتوبر:ـمانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے گز شتہ روز کھلی عدالت میں تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران متعدد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جن میں سیاسی رہنما اصغر خان اچکزئی بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنے بیان کے دوران حکومت اور زیارت شہداء کےلواحقین کے درمیان کیے جانے والے تحریری معاہدے کی متعدد شقوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور حکومت کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی شکایت کی۔ انہوں نے کمیشن کے روبرو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیاسی، حکومتی اور عسکری قیادت سے مکمل توثیق شدہ قومی ایکشن پلان کی کاپیاں بھی پیش کیں، جس کے مطابق دہشت گردوں، غیر قانونی مسلح جتھوں، کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسند گروہوں کے خلاف سکیورٹی کارروائیاں کرنے، ان عناصر کے مالی وسائل پیدا کرنے والے نیٹ ورکس اور سہولت کاری کے مراکز، بشمول منشیات گاہوں، کے خلاف اقدامات کا جامع منصوبہ موجود ہے۔
گواہ کے مطابق، اگر حکومت صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی موجودہ سنگین لہر پر قابو پانے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے سنجیدہ ہے تو نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق من و عن عمل درآمد کرے۔ اس موقع پر تحقیقاتی کمیشن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل برائے بلوچستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو ہدایت جاری کی کہ وہ حکومت کی جانب سےاصغر خان اچکزئی کے اٹھائے گئے نکات کے بارے میں الگ الگ جامع رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کریں۔سماعت کے دوران ڈائریکٹر ویب اینالیسس ڈویژن (WAD)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر سوشل میڈیا پر سانحے سے متعلق جھوٹے، سنسنی خیز اور نفرت آمیز مواد کے خلاف کیے گئے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے تحقیقاتی کمیشن کی ہدایت کی روشنی میں وفاقی حکومت کی جانب سے متعلقہ دائرہ کار سے وابستہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی پیش کیا، جس کے تحت اتھارٹی کے چیئرپرسن اور چھ ارکان کا تقرر کر دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں، شہید پولیس اہلکار جہانداد خان کے سول ہسپتال کوئٹہ میں موبائل فون اور دیگر سامان چوری ہونے کے معاملے میں متعلقہ تفتیشی افسر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور چوری شدہ موبائل فون اور دیگر سامان کی برآمدگی کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔ تفتیشی افسر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، جن کے اعترافی بیان کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہے۔اس پر تحقیقاتی کمیشن جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غلیظ حرکت کے مرتکب افراد سے کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی اگلی سماعت تک ملتوی کر دی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9107
کوئٹہ19اکتوبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت و سیاحت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کی خصوصی ہدایت پر، اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 150 ویں سالگرہ کے پرمسرت موقع کی مناسبت سے، محکمہ ثقافت و سیاحت حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام “ڈرامہ فیسٹیول 2026” کا اج باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ 19 اکتوبر کو شروع ہونے والے اس فیسٹول کے پہلے دن”حور پری”کے نام سے اردو سٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا۔ جسکے سکرپٹ رائٹر و ہدایتکار خالد اقبال مغل تھے۔ اس ڈرامے میں معاشرے میں پائے جانے والے مسائل اور انکے حل کی عکاسی کی گئی تھی۔ پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کی ہدایات کی روشنی میں اس فیسٹیول کا بنیادی مقصد صوبے میں اسٹیج تھیٹر کی بحالی، مثبت و صحتمند ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ، اور بلوچستان کے مقامی فنکاروں اور ہدایت کاروں کی حوصلہ افزائی اور انکو مواقع فراہم کرنا ہے۔ 21 روزہ یہ ثقافتی فیسٹول 9 نومبر تک جاری رہے گا۔ جسمیں ہر روز شام کے 6 بجے سے 8 بجے تک مختلف سٹیج ڈرامے پیش کیے جائینگے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9108
موسیٰ خیل19 اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک کی زیرِ صدارت سیپ (خزانہ) سسٹم میں تاریخ پیدائش کی تصحیح کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا. اجلاس میں مختلف محکموں کے ملازمین کی تاریخ پیدائش میں موجود تفاوت، ڈیٹا کے اندراج میں درپیش مسائل اور سروس ریکارڈ کی آن لائن درستی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے سروس ریکارڈ کی درستگی اور شفافیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سیپ (SEAP) سسٹم میں تاریخ پیدائش یا دیگر کوائف کی غلطی نہ صرف ملازمین کی ریٹائرمنٹ اور پینشن کے امور میں تاخیر کا باعث بنتی ہے بلکہ انتظامی امور میں بھی پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔تمام متعلقہ محکمے اپنے ملازمین کے سروس ریکارڈ کی تصدیق کو جلدازجلد مکمل کریں اور جن ملازمین کی تاریخ پیدائش میں تفاوت موجود ہے، اسے تمام قانونی و دفتری تقاضے پورے کرتے ہوئے مقررہ وقت کے اندر درست کروائیں۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ ملازمین کو مستقبل میں اپنے جائز حقوق کے حصول میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں تمام متعلقہ آفیسران نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے اپنے محکموں کی پیشرفت سے آگاہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ہدایات کی روشنی میں سروس ریکارڈ کی تصحیح کے عمل کو بلا تاخیر حتمی شکل دی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9109
موسیٰ خیل19اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک سے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے اہم ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ضلع بھر کے کسانوں اور زمینداروں کو درپیش مختلف مسائل، بالخصوص مارکیٹ میں غیر قانونی جعلی اور مضر صحت کھاد اور زرعی ادویات کی فروخت کا معاملہ تفصیلی طور پر زیر بحث آیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت نے ضلع کے کسانوں کو درپیش زرعی مشکلات اور بروقت معیاری کھاد و ادویات کی عدم دستیابی سے آگاہ کیا۔بازاروں میں ناقص، غیر معیاری اور مضر کھاد و ادویات بیچنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور کریک ڈاؤن پر بات چیت کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں کیمیکل و زرعی ادویات کی دکانوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال (انسپکشن) کی جائے تاکہ کسانوں کو معاشی اور زرعی نقصان سے بچایا جا سکے اور معیاری زرعی اجناس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9110
کوئٹہ19 اکتوبر:ـڈائریکٹر ہیڈکوارٹرز نارتھ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان نصیر اللہ مندوخیل نے بی اے مال میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس کے قائم کردہ نمائشی اسٹال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے محکمہ کی مختلف خدمات، گاڑیوں کی رجسٹریشن، نمبر پلیٹس، ٹیکس کے طریقۂ کار اور متعلقہ دستاویزات سے متعلق معلوماتی مواد کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسٹال پر آنے والے شہریوں نے محکمہ کی خدمات میں دلچسپی کا اظہار کیا اور گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس کی ادائیگی، ضروری کاغذات اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں مختلف سوالات کیے۔ محکمہ کے نمائندوں نے شہریوں کو ان امور سے متعلق رہنمائی فراہم کی اور طریقۂ کار کی وضاحت کی۔نصیر اللہ مندوخیل کا دورہ محکمہ کی خدمات کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے اور شہریوں کو ٹیکس و رجسٹریشن کے معاملات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی سرگرمی کا حصہ تھا۔ اسٹال پر گاڑیوں کی مختلف نمبر پلیٹس، معلوماتی چارٹس اور محکمہ کی خدمات سے متعلق مواد بھی رکھا گیا تھا، جس کے ذریعے شہریوں کو محکمہ کے فرائض اور طریقۂ کار سے آگاہ کیا گیا۔نمائشی اسٹال پر شہریوں کی آمد اور سوالات سے عوامی سطح پر سرکاری خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی دلچسپی نمایاں ہوئی۔ اس طرح کی سرگرمیاں شہریوں کو متعلقہ اداروں سے براہِ راست معلومات حاصل کرنے اور ضروری قانونی و انتظامی امور کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔






