خبر نامہ نمبر9013/2026
کوئٹہ، 16 اکتوبر۔حکومت بلوچستان اور ہاوس آف کاسب کنسورشیم کے مابین ڈام میں بلوچستان کے پہلے تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبے کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی کاوشوں سے طے پانے والے اس معاہدے کو صوبے میں نجی سرمایہ کاری، ساحلی معیشت کے فروغ اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی میں ہاوس آف کاسب کنسورشیم کے چیف ایگزیکٹو سعد زاہد اور سیکرٹری محکمہ ماہی گیری طارق قمر نے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، قدرتی وسائل کے موثر استعمال اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ڈام میں صوبے کے پہلے تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبے کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے ساحلی وسائل کو بروئے کار لانے اور مقامی معیشت کو مستحکم کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی وسیع ساحلی پٹی معاشی ترقی، آبی زراعت اور برآمدات کے فروغ کے لیے نمایاں امکانات رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید طریقوں، نجی سرمایہ کاری اور موثر حکمت عملی کے ذریعے پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جائے۔ جھینگا فارمنگ کا منصوبہ اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف ایک نئی تجارتی سرگرمی متعارف ہوگی بلکہ مستقبل میں اس شعبے کو وسعت دینے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کی معاشی ترقی کا عمل اسی وقت موثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچیں۔ ڈام کے منصوبے میں 100 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کرنے کا عزم اس حوالے سے اہم ہے۔ اس سے ساحلی علاقوں کے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے روزگار، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں۔ حکام کے مطابق منصوبے کے تحت نجی شعبہ ایک ارب 11 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ابتدائی مرحلے میں 50 ایکڑ اراضی پر تجارتی جھینگا فارم قائم کیا جائے گا، جبکہ مستقبل میں اسے 100 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے تک توسیع دینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ منصوبے کے ذریعے برآمدی معیار کے جھینگوں کی پیداوار کو فروغ دینے اور بلوچستان میں آبی زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔حکومت بلوچستان منصوبے کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی زمین اور 40 کروڑ روپے مالیت کی بجلی کی سہولت فراہم کرے گی، جس کے تحت حکومتی معاونت کی مجموعی مالیت 47 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتی ہے۔ منصوبے میں حکومت بلوچستان کا مجموعی ایکویٹی حصہ 20 فیصد ہوگا، جس میں مسابقتی بولی کے ذریعے حاصل کردہ 10 فیصد مفت ایکویٹی اور زمین و بجلی کی سہولت کے عوض 10 فیصد ادا شدہ ایکویٹی شامل ہے۔منصوبے کی 20 سالہ آپریشنل مدت کے دوران حکومت بلوچستان کو 86 کروڑ 60 لاکھ روپے منافع حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس کی مجموعی رعایتی مدت 21 سال 6 ماہ مقرر کی گئی ہے، جس میں مالیاتی امور کی تکمیل کے لیے چھ ماہ، تعمیرات کے لیے ایک سال اور آپریشن و دیکھ بھال کے لیے 20 سال شامل ہیں۔ رعایتی مدت مکمل ہونے پر منصوبہ اور اس کے تمام اثاثے حکومت بلوچستان کو منتقل کر دیے جائیں گے۔ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ نے کہا کہ ڈام میں جھینگا فارمنگ کا منصوبہ صوبے کی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ منصوبے سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ساحلی وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9014/2026
تربت 16 اکتوبر ۔ یونیورسٹی آف تربت کے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ (ASRB) کا پچیسواں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں تمام فیکلٹیز کے ڈینز، ڈائریکٹرز اور سینئر فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایم فل تھیسز کی ایویلیویشن، زبانی امتحانات، ڈگریوں کے اجراء کی منظوری، سپروائزرز کی تقرری، ریسرچ پروپوزل ڈیفنس اور دیگر اعلی تعلیمی و تحقیقی امور سے متعلق مختلف ایجنڈا آئٹمز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اور تحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رہنما اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعلی تعلیم اور تحقیق محض ڈگری کے حصول تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ تحقیقی نتائج کے ثمرات سے قوم و معاشرے کو عملی طور پر مستفید ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسکالرز پر زور دیا کہ وہ ایسے جدید علوم اور موضوعات پر تحقیق کو ترجیح دیں جو مقامی اور قومی سطح پر کمیونٹی کے مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوں۔ وائس چانسلر نے اساتذہ اور محققین سے کہا کہ وہ قومی و بین الاقوامی ریسرچ گرانٹس بالخصوص ایچ ای سی کے نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (NRPU) کے تحت تحقیقی منصوبے حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں تاکہ جامعہ میں ایک مضبوط، پائیدار اور معیاری تحقیقی کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر وائس چانسلر نے جامعہ تربت میں معیاری تحقیق کے فروغ کے لیے اساتذہ، اسکالرز اور ڈائریکٹوریٹ آف گریجویٹ اسٹڈیز کی انتھک کاوشوں اور لگن کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9015/2026
کوئٹہ / محکمہ ترقیِ نسواں / 16 اکتوبر مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی (ستارہ امتیاز) کا عالمی یومِ خوراک پر پیغامخوراک کا تحفظ، غذائیت سے بھرپور غذا تک ہر شہری کی رسائی اور غذائی قلت کا خاتمہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیخواتین اور بچوں کو متوازن اور معیاری غذا کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواںغذائی تحفظ صرف خوراک کی دستیابی کا نام نہیں بلکہ ہر فرد کی محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور غذا تک رسائی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیخواتین کی صحت اور غذائیت بہتر بنانا آنے والی نسلوں کی صحت مند نشوونما کے لیے ناگزیر ہے، مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواںماں اور بچے کی مناسب غذائیت ایک صحت مند اور توانا معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیخواتین میں غذائیت سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور انہیں صحت مند خوراک کے انتخاب کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواںبلوچستان میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور متعلقہ شراکت داروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیعالمی یومِ خوراک 2026ئکا عنوان ”آج جدت، کل غذائیت“ جدید، موثر اور پائیدار غذائی و زرعی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواںموسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی عدم تحفظ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار زرعی طریقوں کا فروغ ضروری ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیخوراک کا ضیاع روکنا اور دستیاب وسائل کو موثر انداز میں استعمال کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواںغذائی تحفظ کے فروغ کے لیے خواتین کو آگاہی، سہولیات اور وسائل تک بہتر رسائی فراہم کرنا ضروری ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیبچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے متوازن غذا کی فراہمی اور غذائی قلت کی بروقت روک تھام ناگزیر ہے، مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواںمخیر حضرات اور صاحبِ استطاعت افراد اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں کی خوراک کا خیال رکھیں اور بھوک کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی اپیلہم ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے پرعزم ہیں جہاں خواتین، بچوں اور ہر ضرورت مند فرد کو مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک میسر ہو، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی (ستارہ امتیاز)
مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں، حکومتِ بلوچستان
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9016/2026
کوئٹہ 16اکتوبر۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ ویسٹ اخلاق احمد کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی، ڈرگ کنٹرولر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے تمام بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) میں عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور دیگر طبی سہولیات سے متعلق رپورٹس پیش کی گئیں۔ متعلقہ افسران نے مراکزِ صحت کی صورتحال اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈرگ کنٹرولر نے رواں ماہ کے دوران کی جانے والی کارروائیوں، خصوصاً غیر رجسٹرڈ ادویات اور کھلے دودھ کے خلاف اقدامات، ضبط شدہ دودھ اور دیگر کارروائیوں سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ ویسٹ اخلاق احمد نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع کے تمام مراکزِ صحت میں عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں صحت کی سہولیات کی نگرانی بہتر بنانے اور عوام کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9017/2026
کوئٹہ 16اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، محکمہ خوراک اور محکمہ صنعت کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں آٹے کی حالیہ قیمتوں، مارکیٹ کی صورتحال اور عوام کو مناسب نرخوں پر آٹے کی فراہمی سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام تر تجزیے اور مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ خوراک ہر ہفتے آٹے کا سرکاری نرخنامہ جاری کرے گا، جس پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہفتہ وار جاری ہونے والے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو مقررہ سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9018/2026
کوئٹہ 16اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت صاحبزادہ کاریز کے قرب و جوار میں ٹیوب ویلز کے معاملے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئٹہ محمد یوسف ہاشمی، ایگزیکٹو انجینئر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، ایگزیکٹو انجینئر محکمہ آبپاشی، سینئر ہائیڈروجیولوجسٹ واسا، ہائیڈروجیولوجسٹ محکمہ آبپاشی اور تحصیلدار صدر کوئٹہ نے شرکت کی۔اجلاس میں صاحبزادہ کاریز کے اطراف چلنے والے ٹیوب ویلز کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ محکموں کے افسران نے اس حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کے تمام پہلووں کا جائزہ لیتے ہوئے حقائق اور زمینی صورتحال کی روشنی میں اپنی رپورٹس اور تجاویز پیش کریں تاکہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9019/2026
گوادر16 اکتوبر 2026: ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام گوادر یوتھ ٹورزم سمٹ 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں بلوچستان میں سیاحت کے فروغ، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ڈیجیٹل میڈیا کے موثر استعمال اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ تقریب سے ڈائریکٹر ٹورازم بلوچستان گہرام بخشی ،دولت خان رجسٹرار یونیورسٹی آف گوادر ، نور محسن صدر پریس کلب گوادر اور ار سی ڈی سی کے صدر حاجی عبدالغنی نوازش نے خطاب کیا، جبکہ پینل ڈسکشن میں سیاحت، ای کامرس اور کاروباری شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کرکے سیاحت کے فروغ کے امکانات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر اظہارِ خیال کیا مقررین نے کہا کہ گوادر اپنے دلکش ساحلوں، منفرد ثقافت، سمندری ورثے، مقامی روایات اور مہمان نوازی کے باعث سیاحت کے شعبے میں غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدرتی اور ثقافتی وسائل کو موثر انداز میں متعارف کرایا جائے اور نوجوانوں کو سیاحت کے فروغ کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور استفادے کی ترغیب دی جائے۔سمٹ کے دوران منعقدہ پینل ڈسکشن میں مرتسم اقبال، ای کامرس ایکسپرٹ اور فیکلٹی ممبر، شعب ای کامرس، پی سی ٹی وی آئی، جامعہ گوادر، زلیخا طارق، ٹورازم اسپیشلسٹ،زہرہ خلیل، انٹرپرینیور؛ اور عائشہ مراد بخش، ٹورازم اسپیشلسٹ نے شرکت کی، جبکہ گراں ناز ہوت نے پینل ڈسکشن کی میزبانی اور نظامت کے فرائض انجام دیے پینل ڈسکشن میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، فوٹوگرافی اور ویڈیو مواد کے ذریعے گوادر کے ساحلی مقامات، قدرتی مناظر، تاریخی ورثے اور ثقافتی روایات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای کامرس کے ذریعے سیاحت سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، مقامی مصنوعات کی تشہیر اور سیاحوں کو گوادر کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔مباحثے میں سیاحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، بالخصوص سیکیورٹی، سیاحوں کے تحفظ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سیاحتی مقامات کی موثر تشہیر پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ سیاحت کے پائیدار فروغ کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، نجی شعبے اور مقامی کمیونٹی کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا مقررین اور پینلسٹس نے اس امر پر زور دیا کہ سیاحت کے شعبے کے لیے مناسب وسائل مختص کرنے، موثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے، نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور مقامی کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی سے گوادر میں سیاحتی سرگرمیوں کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقے کی معاشی ترقی میں بھی نمایاں مدد ملے گی سمٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ گوادر محض ایک ساحلی شہر نہیں بلکہ اپنی سمندری تاریخ، ثقافتی شناخت اور قدرتی حسن کے باعث پاکستان کے اہم سیاحتی مراکز میں شامل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں کی فعال شمولیت، جدید ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے گوادر کو ملکی اور عالمی سطح پر ایک نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرایا جاسکتا ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9020/2026
کوئٹہ 16 اکتوبر 2026 بلوچستان پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے ڈسٹرکٹ زیارت میں بھرتی کے عمل کے سلسلے میں پہلے مرحلے میں 98 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے جن کی جانچ پڑتال کے بعد دوسرے مرحلے میں قد و چھاتی کی پیمائش کا عمل مکمل کر لیا گیا جس میں 77 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ترجمان بلوچستان کے مطابق ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز و چیئرمین ریکروٹمنٹ کمیٹی شہزاد اکبر کی نگرانی میں بھرتی کا عمل جاری ہے۔ بھرتی کے تیسرے مرحلے میں امیدواروں کی دوڑ، چوتھے مرحلے میں تحریری امتحان جبکہ آخری مرحلے میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز لیے جائیں گے۔ریکروٹمنٹ کمیٹی کے ممبران اے آئی جی ڈویلپمنٹ احمد سلطان، ایس پی زیارت عبدالمالک درانی اور لیفٹیننٹ کرنل ایف سی کی نگرانی میں بھرتی کے مختلف مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں جبکہ بھرتی کا عمل مقررہ معیار اور ضابطہ کار کے تحت جاری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9021/2026
خضدار 16 اکتوبر ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا بینظیر ایمرجنسی رسپانس سینٹر 1122 کا دورہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خضدار علم دین تاجک ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لونگ خان عبدالرشید ڈرگ انسپکٹر اور سینئر ڈرگ فارماسسٹ جمیل احمد بلوچ کے ہمراہ بینظیر ایمرجنسی رسپانس سینٹر 1122 کا تفصیلی دورہ کیا۔اس موقع پر سینٹر انچارج منظور احمد سے ملاقات کی۔ ٹیم نے مرکز کی صفائی ستھرائی، سٹاک، مریضوں کے ریکارڈ اور اب تک دی گئی سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا جو کہ تسلی بخش پایا گیا۔انچارج نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کتنے مریضوں کو فرسٹ ایڈ دی گئی، کہاں کہاں رسپانس کیا گیا اور کونسی ادویات فراہم کی گئیں۔ڈی ایچ او خضدار نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی وقت کسی بھی مریض کی کال آئے تو فوری طور پر رسپانس کر کے فرسٹ ایڈ اور ٹرانسپورٹ کی سہولت کو یقینی بنایا جائےیہ مرکز 24 گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے فعال ہے۔ شہر کے اندر اور 12 کلومیٹر کے احاطے میں اگر کسی کو سر درد، بخار، جسمانی تکلیف یا ڈیلیوری کیس جیسی ایمرجنسی ہو تو فوراً 1122 پر کال کریں۔ کال پر ایمبولینس عملے کے ہمراہ گھر پہنچتی ہے، موقع پر فرسٹ ایڈ دی جاتی ہے اور اگر مسئلہ سنگین ہو تو مریض کو قریبی مرکز صحت منتقل کیا جاتا ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9022/2026
کوئٹہ16اکتوبر۔ محکمہ قانون و پارلیمانی امور حکومت بلوچستان نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی ہے۔ محکمہ قانون و پارلیمانی امور بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ان کی مدت ملازمت میں 22 دسمبر 2026 سے 21 دسمبر 2029 تک توسیع کی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9023/2026
سیوی 16 اکتوبر۔ اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی کی زیرِ صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انجمن تاجران، دودھ و دہی فروشوں، چھوٹے بڑے گوشت اور مرغی کے گوشت کے فروخت کنندگان، دیگر تاجران اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد اور عوام کو روزمرہ استعمال کی ضروری اشیائ مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی ہدایات کی روشنی میں بازاروں میں قیمتوں کی نگرانی موثر بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر نرخ چیک کیے جائیں گے اور مختلف مارکیٹوں و دکانوں کے باقاعدہ دورے کیے جائیں گے۔انہوں نے تاجران اور دکانداروں پر زور دیا کہ وہ سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ نرخوں کے مطابق اشیائے ضروریہ فروخت کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناجائز منافع خوری، خودساختہ قیمتوں میں اضافے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ قیمتوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائیں اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد تاجران کے ساتھ تعاون کے ذریعے مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنا، صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پرائس کنٹرول کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو اشیائے ضروریہ کی خریداری میں ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9024/2026
سیوی 16 اکتوبر ۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیوی ڈویژن کی کارکردگی اور جاری اقدامات کے حوالے سے بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈویژنل آئی ٹی آفیسر عمران لاشاری نے محکمہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور ڈیجیٹل سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر سید عاصم شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ڈویژنل آئی ٹی آفیسر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کنٹرول روم کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ منصوبے کے دیگر مراحل پر کام جاری ہے۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے ہدایت کی کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے باقی ماندہ مراحل کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ منصوبے کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے موثر نظام کے ذریعے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کا دور ہے، جہاں سرکاری امور اور خدمات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید موثر اور آسان بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں میں ڈیجیٹل نظام کے فروغ سے نہ صرف دفتری امور میں شفافیت اور تیزی لائی جا سکتی ہے بلکہ عوام کو بھی بہتر اور سہل سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی سہولت کے پیش نظر سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، جدید آئی ٹی نظام کے نفاذ اور محکموں کے درمیان ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بروقت اور آسان خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9025/2026
لسبیلہ 16اکتوبر۔ لسبیلہ بلوچستان کی بیٹی اقصیٰ میروانی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا، روم میں FAO کا ”100 Women Heroes Award 2026“ وصول کر لیا بلوچستان کی بیٹی اقصیٰ میروانی عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندہ بن گئیںسرکاری خبررساں ادارے کے مطابق بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ ضلع آواران سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت خاتون اقصیٰ میروانی نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں اقوامِ متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے باوقار 100 Women Heroes Award 2026 وصول کرکے بلوچستان اور پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا ہے۔یہ اعزاز خواتین کی خدمات، دیہی ترقی اور زرعی و غذائی نظام (Agrifood Systems) میں نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔یے اقصیٰ میروانی کی اس عالمی سطح پر پذیرائی کو بلوچستان، بالخصوص آواران جیسے دورافتادہ علاقے کی خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیا جا رہا ہے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکا کہنا ییکہ اقصیٰ میروانی کا اس بین الاقوامی فورم تک پہنچنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صلاحیت، عزم اور محنت کسی جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ بلوچستان کے ایسے علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود جہاں خواتین کو تعلیم، مواقع اور ترقی کے حصول میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے، اقصیٰ میروانی نے اپنی کاوشوں کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔کمشنر لسبیلہ کا کہنا ہیکہاقصی کی کامیابی آواران کی ان نوجوان لڑکیوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتی ہیں اور اپنے علاقے اور ملک کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقصیٰ میروانی نے اس اعزاز کی تقریب میں روایتی بلوچی دوچ زیبِ تن کرکے اپنی ثقافتی شناخت، روایات اور بلوچ ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کی یہ نمائندگی اس بات کا اظہار تھی کہ بلوچستان کی ثقافت، روایات اور شناخت پاکستان کے قومی تشخص کا اہم حصہ ہیں۔درایں اثناء اقصی میروانی نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے اس کامیابی کو اپنے والدین کی دعاوں، تربیت اور رہنمائی سے منسوب کیا۔ ان کے مطابق والدین کی حوصلہ افزائی اور اعتماد ان کے سفر میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیںاقصیٰ میروانی نے اپنے اس اعزاز کو اپنے والدین کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں، قربانیاں اور تربیت ان کی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے اس اعزاز کو اپنے آبائی علاقے آواران، بلوچستان اور پورے پاکستان کے نام بھی منسوب کیا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی صرف انفرادی اعزاز نہیں بلکہ ان تمام خواتین کے عزم اور صلاحیتوں کی علامت ہے جو اپنے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہی ہیں واضح رہے کہ اقصیٰ میروانی کی یہ کامیابی اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ بلوچستان کے دورافتادہ علاقوں کی خواتین بھی دیہی ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے اور زرعی و غذائی نظام کی بہتری جیسے شعبوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر پہچان حاصل کر سکتی ہیں۔آواران جیسے علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون کا عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا نوجوان نسل، بالخصوص بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ تعلیم، مسلسل جدوجہد، عزم اور اپنی ثقافتی شناخت پر فخر کے ساتھ عالمی سطح پر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔بلوچستان کی سرزمین سے روم کے عالمی فورم تک اقصیٰ میروانی کا یہ سفر بلوچستان کی بیٹیوں کے خوابوں، حوصلے اور صلاحیتوں کی علامت ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف اقصیٰ میروانی بلکہ آواران، بلوچستان اور پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9026/2026
لورالائی 16اکتوبر۔ ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیرِ صدارت ضلع موسیٰ خیل میں عوامی مسائل کے حل اور عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف کی فراہمی کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کھلی کچہری میں شہریوں، زمینداروں، عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل اور شکایات براہِ راست کمشنر کے سامنے پیش کیں کھلی کچہری کے دوران عوام نے خستہ حال اور کچے سڑکوں، سرکاری عمارتوں کی ابتر حالت، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، آبنوشی کی اسکیمات، محکمہ پی ایچ ای، بی اینڈ آر اور دیگر محکموں کی کارکردگی سے متعلق متعدد شکایات پیش کیں عوام نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ شرکاءنے شکایت کی کہ ضلع موسیٰ خیل میں BSDI منصوبوں کو صرف دو تحصیلوں تک محدود رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عوام نےاسکیمات کی تقسیم میں مبینہ جانبداری اور سفارشی بنیادوں پرمنصوبوں کے انتخاب کے حوالے سے بھی کمشنر لورالائی ڈویژن کو آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ضرورت، آبادی، پسماندگی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف بنیادوں پر کی جائےکمشنر ولی محمد بڑیچ نے عوامی شکایات کو غور سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت اور تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات بلاامتیاز تمام علاقوں تک پہنچانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گاکھلی کچہری میں بعض ایسے مریض بھی شریک ہوئے جو مختلف موذی امراض میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کمشنر سے علاج معالجے اور مالی معاونت کی درخواست کی۔ کمشنر نے ان کی مشکلات سنیں اور متعلقہ حکام کو دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضروری معاونت اور علاج کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایات دیںاس موقع پر زمینداران ایکشن کمیٹی موسیٰ خیل کے صدر حاجی عصمت نے بھی اپنے مسائل پیش کرتے ہوئے زراعت سے متعلق ایم ایم ڈی کے ریکارڈ کے حوالے سے اہم معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں، جس سے زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کمشنر نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے ریکارڈ کی صورتحال معلوم کرنے اور مسئلے کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کیمویشی پال حضرات کے لیے اہم اقدام کھلی کچہری میں مال مویشی کے علاج معالجے اور ادویات کی عدم دستیابی کا مسئلہ بھی تفصیل سے زیرِ بحث آیا۔ عوام نے بتایا کہ ضلع موسیٰ خیل میں لاکھوں کی تعداد میں مال مویشی موجود ہیں، تاہم خصوصاً تحصیل کنگری میں مویشیوں کے علاج اور ادویات کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث مال مویشی پال افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہےکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت جاری کی کہ ضلع موسیٰ خیل کی تمام تحصیلوں میں مال مویشیوں کے علاج، ویکسینیشن اور ادویات کی فراہمی کے لیے ویٹرنری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا جائے تاکہ مویشی پال افراد کو ان کی دہلیز پر علاج کی سہولت میسر آسکےکنگری واٹر فلٹر پلانٹ کی بحالی کا حکم عوام نے محکمہ پی ایچ ای کی بعض اسکیمات کے خراب اور غیر فعال ہونے کی بھی شکایات کیں۔ خاص طور پر کنگری بازار کے واٹر فلٹر پلانٹ کی بندش کا مسئلہ کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا، جس پر کمشنر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ پی ایچ ای کے ایکسین کو ہدایت کی کہ کنگری بازار واٹر فلٹر پلانٹ کو فوری طور پر بحال کرکے عوام کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائےاسی طرح محکمہ بی اینڈ آر کے تعمیراتی منصوبوں، خستہ حال سڑکوں اور بعض علاقوں میں متعلقہ افسران کی عدم موجودگی سے متعلق بھی عوام نے شکایات درج کرائیں۔ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سڑکوں اور سرکاری تعمیرات کے کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور فیلڈ میں افسران کی موجودگی یقینی بنائی جائےکمشنر لورالائی ڈویژن نے اس موقع پر کہا کہ کھلی کچہریوں کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا، مسائل کو موقع پر سننا اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہےانہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والے مسائل کو محض کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر شکایت پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا? انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی کارکردگی کا اصل مقصد عوام کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ہےکھلی کچہری کے اختتام پر عوام نے کمشنر لورالائی ڈویژن کی جانب سے ان کے مسائل سننے اور متعدد مسائل پر فوری احکامات جاری کرنے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ متعلقہ محکمے کمشنر کی ہدایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9027/2026
دکی: 16اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے دکی جیم کلب کا دورہ کیا، جہاں جیم ٹرینر ایاز خان ترین نے انہیں کلب کی سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صدر دکی پریس کلب اللہ نور ناصر بھی ان کے ہمراہ تھےڈپٹی کمشنر نے جیم کلب کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور وہاں موجود ورزش کی مشینری، دیگر سہولیات اور عمارت کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ جیم کلب میں مزید سہولیات کی ضرورت ہے، جن میں خصوصاً ٹریڈمل مشینیں، ایکسرسائز سائیکلیں اور سی سی ٹی وی کیمرے شامل ہیں، جبکہ کلب کی عمارت کی مرمت، رنگ و روغن اور تزئین و آرائش بھی ناگزیر ہےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہدایت کی کہ جیم کلب کی عمارت کی ضروری مرمت و بحالی کو BSDI فیز فور میں شامل کرنے کے لیے پی سی ون تیار کیا جائے اور منصوبے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے عمارت کی رنگ و روغن اور تزئین و آرائش کے لیے بھی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی تاکہ نوجوانوں کو بہتر اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ جیم کلب نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، جسمانی فٹنس برقرار رکھنے اور تن سازی کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہےانہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید اور معیاری سہولیات کی فراہمی سے انہیں اپنی صلاحیتیں مثبت سرگرمیوں میں بروئے کار لانے کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جیم کلب کی ضروریات کا جائزہ لے کرمشینری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت عمارت کی بہتری کے اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائےڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دکی میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انہیں بہتر اور مثبت ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9028/2026
دکی، 16 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ مائننگ لائزن کمیٹی (DMLC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس پی دکی محمد یونس رضا، ریجنل ڈائریکٹر مائنز کفایت بلوچ، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر روح اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ سردار خوشدل خان لونی نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی اجلاس بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے سیکشن 20 کے تحت طلب کیا گیا، جس میں کان کنی سے متعلق مختلف کیسز کمیٹی کے سامنے الگ الگ پیش کیے گئے۔ کمیٹی نے ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ فریقین کے موقف سنے اور کیسز سے متعلق دستیاب ریکارڈ، قانونی تقاضوں، انتظامی امور اور ماحولیاتی پہلووں پر تفصیلی غور و خوض کیااس موقع پر متعلقہ حکام نے کان کنی کے مختلف معاملات سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی، جبکہ متعلقہ فریقین نے اپنے موقف اور دستیاب دستاویزات کمیٹی کے سامنے پیش کیں ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کان کنی سے متعلق تمام معاملات کو شفاف، غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کیس کا فیصلہ دستیاب ریکارڈ، حقائق اور متعلقہ فریقین کے موقف کی روشنی میں انفرادی طور پر کیا جائے گاانہوں نے واضح کیا کہ کان کنی کے معاملات میں قانونی تقاضوں کی تکمیل، انتظامی امور اور ماحولیاتی تحفظ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، لہٰذا کسی بھی کیس میں قانونی اور ماحولیاتی ضوابط کو نظرانداز نہیں کیا جائے گاڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کان کنی سے متعلق کیسز میں تمام قانونی و انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی مکمل کی جائے تاکہ معدنی وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور عوامی مفاد کو بھی یقینی بنایا جا سکےاجلاس میں پیش کیے گئے مختلف کیسز پر کمیٹی کی جانب سے قانونی و تکنیکی پہلووں کا جائزہ جاری رکھتے ہوئے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق آئندہ کارروائی عمل میں لانے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9027/026
کوئٹہ16 اکتوبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کیلئے زیادہ موزوں خطہ ہے۔ زراعت اور مالداری یہاں کے عوام کے اہم معاشی ذرائع ہیں۔ بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے اور مقامی کاشتکاروں، مالداروں اور ماہی گیروں کو جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کی جائے۔ پاکستان خاصکر بلوچستان کے میوہ جات اور غذائی مصنوعات معیار، ذائقے اور قدرتی خصوصیات کے اعتبار سے انٹرنیشنل سطح پر زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انہیں بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کرایا جائے تاکہ مقامی معیشت مضبوط ہو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ یہ بات انہوں نے ورلڈ فوڈ ڈے کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقدہ اور پہلی بلوچستان فوڈ نمائش کی افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ایف اے او کے سب آفیس کے ہیڈ ولید مہدی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، زرعی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شہنشاہ خان سمیت زراعت کے ماہرین اور نوجوانوں کی ایک بڑی موجود تھی۔ انٹرنیشنل فوڈ ڈے کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا آج پہلی بلوچستان فوڈ نمائش 2026 کے افتتاح اور عالمی یومِ خوراک کی تقریب، ان دو اہم مواقع پر آپ کے درمیان موجود ہونا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ بلوچستان بنیادی طور پر مالداری اور گلہ بانی کا خطہ ہے، جہاں وسیع چراگاہیں موجود ہیں اور لائیو اسٹاک کی پیداوار اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کے بے پناہ امکانات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لائیو اسٹاک کا شعبہ دیہی معیشت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ ژوب ڈویژن، اپنی وسیع مون سون چراگاہوں اور مال مویشی کے قیمتی وسائل کے ساتھ، ہمارے صوبے کی اس صلاحیت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ صرف اس ڈویژن کے مویشی سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ حجاجِ کرام کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں مالداری کے روایتی طریقوں کو ایک جدید، پیداواری اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنا ہونا ہوگا گورنر مندوخیل نے کہا کہ اسی طرح گوادر اور مکران کی طویل ساحلی پٹی پائیدار ماہی گیری، سمندری خوراک کی پراسیسنگ، آبی زراعت اور سمندر سے وابستہ صنعتوں کیلئے بےپناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ہمارے ساحلی علاقوں کے لوگوں کو اس شعبے میں قیمتی تجربہ اور مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا زراعت بھی بلوچستان کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ ہمارا صوبہ اعلیٰ معیار کے زیتون، سیب، انگور، چیری، انار اور کھجور سمیت مختلف اقسام کے پھلوں کیلئے مشہور ہے۔ لورالائی کے زیتون کا انٹرنیشنل سطح ایک اعلیٰ معیار ہے۔ ان مصنوعات میں ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ کولڈ اسٹوریج، جدید پیکیجنگ، فوڈ پراسیسنگ اور نقل و حمل کی سہولیات کو فروغ دے کر ہم فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ عالمی یومِ خوراک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اب بھی بھوک، غذائی قلت اور متوازن خوراک تک رسائی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں پہلی فوڈ نمائش محض زرعی مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ ایک ایسا موثر پلیٹ فارم ہے جو کاشتکاروں، محققین، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صارفین کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ آج کی یہ نمائش ایک مستقل پلیٹ فارم کی شکل ضرور اختیار کریگی۔ اس کے لیے ایف اے او کے منتظمین، نمائش میں حصہ لینے والے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آج کی تقریب اور نمائش ہمارے صوبے اور پاکستان کیلئے نئی سرمایہ کاری اور عملی اقدامات کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔ آخر میں گورنر بلوچستان پہلی فوڈ نمائش 2026 میں لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔
خبرنامہ نمبر9028/026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوئٹہ محمد اسحاق کی خصوصی دلچسپی اور موثر اقدامات کے نتیجے میں ڈپٹی کنٹرولر تربت برانچ کے ذریعے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی اسناد کی تصدیق کا عمل مقامی سطح پر ممکن بنایا گیا ہے۔اس سلسلے میں سینئر افسر حاجی محمد شفیع بلوچ کو ڈپٹی کنٹرولر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2015ء سے جاری میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی اسناد کی ویریفیکیشن کی ذمہ داری تربت برانچ کے سپرد کی گئی ہے۔ اس اقدام سے مکران ڈویژن کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور دیگر متعلقہ افراد کو نمایاں سہولت میسر آئے گی، اور انہیں اسناد کی تصدیق کے لیے کوئٹہ جانے کی زحمت اور اضافی سفری اخراجات سے بڑی حد تک نجات مل سکے گی عوامی و تعلیمی حلقوں کی جانب سے حکومت بلوچستان اور چیئرمین بورڈ محمد اسحاق صاحب کی خصوصی توجہ اور حاجی محمد شفیع بلوچ کی بطور ڈپٹی کنٹرولر تعیناتی کو سراہا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو مکران کے تعلیمی شعبے میں عوامی سہولت کی فراہمی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔اہلِ مکران نے امید ظاہر کی ہے کہ بورڈ حکام آئندہ بھی اسی جذبے کے تحت مزید ایسے اقدامات کریں گے جن سے طلبہ و طالبات کو اپنے تعلیمی معاملات مقامی سطح پر نمٹانے میں آسانی ہو اور تعلیمی خدمات تک رسائی مزید بہتر بنائی جا سکے۔بلاشبہ، تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مشکلات میں کمی کے لیے ایسے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
خبرنامہ نمبر9029/026
کوئٹہ،16اکتوبر2026: ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات کی روشنی میں کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں زمیندار روڈ، قمبرانی روڈ، بشیر چوک اور سریاب روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران مختلف زونز کے انچارجز سرور زہری اور قاسم خان نے ٹریفک عملے کے ہمراہ ریڑھی بانوں کو منظم انداز میں کھڑا کرنے کے اقدامات کیے۔ ریڑھی بانوں کو باقاعدہ قطاروں میں کھڑا کیا گیا اور ان کی ریڑھیوں کو نمبر الاٹ کیے گئے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی ہدایات کے مطابق شہر میں تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کی سہولت کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ ریڑھی بانوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ ترتیب کے مطابق اپنی ریڑھیاں کھڑی کریں اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کریں۔
خبرنامہ نمبر9030/026
تربت ۔ جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 پر عملدرآمد کے سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے پچھلے دنوں کراچی میں اعلیٰ تعلیمی، تحقیقی اور ریگولیٹری اداروں کے سربراہان سے اہم سائیڈ لائن ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد اس ریجن میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس(AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پیرامیڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کرنا تھا۔ اپنے دورے کے دوران وائس چانسلر نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (PNMC) کے صدر ڈاکٹر سید علی فرحان رضی سے ملاقات کی، جس میں اس ریجن میں جامعہ تربت کے زیر انتظام یونیورسٹی میڈیکل اینڈ نرسنگ کالج کے قیام کے لیے ریگولیٹری فریم ورک اور قانونی قواعد و ضوابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ خطے سمیت ملک بھر میں طبی و الائیڈ ہیلتھ کے شعبے سے وابستہ ماہرین و ٹیکنیشنز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس ریجن میں ایک معیاری اور مستند نرسنگ اینڈ الائیڈ ھیلتھ کالج کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ صدر پی این ایم سی نے جامعہ تربت کے اس وژن کو سراہتے ہوئے ایکریڈیٹیشن، نصاب کی تیاری اور کلینیکل ٹریننگ سمیت تمام متعلقہ امور میں کونسل کی جانب سے مکمل تعاون اور فنی رہنمائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ علاوہ ازیں وائس چانسلر نے ملینیئم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MiTE) اور جامعہ کراچی کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ممتاز ماہرین تعلیم اور ایچ ای سی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقات کرنے والوں میں MiTE کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی، تھل یونیورسٹی بھکر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار، ڈائریکٹر جنرل کیو اے اے (ایچ ای سی) ڈاکٹر ناصر شاہ، ڈی جی ایچ ای سی ریجنل سینٹر کراچی سلیمان احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر ثناء اللہ میمن اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شامل تھے۔ ان ملاقاتوں کے دوران تدریسی و تحقیقی تعاون کو وسعت دینے، اساتذہ و طلباء کے سمسٹر ایکسچینج پروگرامز، طلباء کے لیے انٹرن شپ کے مواقع، مشترکہ تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت، قومی و بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد اور فیکلٹی و انتظامی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ورکشاپس کے انعقاد پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر MiTE کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کو ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی، جس پر وائس چانسلر نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر 9031/026
اسلام آباد، 16 اکتوبر
صوبائی وزیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی (ستارہ امتیاز )کو سیاسی قیادت کے شعبے میں دخترانِ پاکستان جینڈر ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا گیا، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں یہ ایوارڈ پیش کیا۔ یہ اعزاز جامع اور مستحکم معاشی بااختیاری اور ترقی کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران دیا گیا، جس کا مقصد خواتین کی قیادت، بااختیاری، مؤثر حکمرانی اور عوامی خدمت کے لیے خدمات کو سراہنا تھا۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو یہ ایوارڈ خواتین کی ترقی اور انہیں معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی مؤثر شمولیت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
خبرنامہ نمبر9032/026
کوئٹہ: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا ہے کہ غریب اور مستحق مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ضلع ہرنائی، شاہرگ سے تعلق رکھنے والے کینسر کے مریض نوراللہ تارن مختلف موذی بیماریوں میں مبتلا غریب اور مستحق افراد کے علاج معالجے کے لیے اینڈومنٹ فنڈ سے منظوری دلوانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ مستحق مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرکے ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری اور مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کی مدد کرنا انسانیت کی خدمت ہے۔ غریب اور مستحق افراد کو علاج معالجے کے لیے درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث کوئی بھی مستحق مریض علاج سے محروم نہ رہے اور ضرورت مند افراد کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت محض دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، احساسِ ذمہ داری اور دکھی انسانیت کے ساتھ ہمدردی سے کی جاتی ہے۔ عوام کے دکھ درد میں شریک ہونا، مشکل وقت میں ان کا سہارا بننا اور مستحق خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عوام کی خدمت کا جو موقع فراہم کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم بلاامتیاز غریب، نادار اور مستحق افراد کی مدد کریں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ بیمار افراد کو صحت یابی کے مواقع میسر آئیں، ان کے خاندانوں کی پریشانیوں میں کمی ہو اور معاشرے میں خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ ملے۔ حاجی نور محمد خان دمڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود، صحت کی سہولیات کی فراہمی اور غریب و مستحق افراد کی مدد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، کیونکہ دکھی انسانیت کی خدمت ہی حقیقی معنوں میں عوامی خدمت ہے۔
خبرنامہ نمبر9033/026
اسلام آباد، 15 اکتوبر 2026:چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن محترمہ کرن بلوچ نے اسلام آباد میں نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 80ویں بورڈ اجلاس میں شرکت کی. اس موقع پر محترمہ کرن بلوچ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ، صنفی مساوات کا فروغ اور خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے قومی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور مشترکہ حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے. کرن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانے، ان کے حقوق کے تحفظ اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن خواتین کو درپیش مسائل کے حل، ان کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی سطح پر خواتین کے حقوق سے متعلق اداروں کے درمیان تجربات اور تجاویز کا تبادلہ پالیسی سازی کو مؤثر بنانے اور خواتین کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر9034/026
کوئٹہ 16اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت این اے 25 چمن تا کراچی شاہراہ کے تعمیراتی کام میں حائل رکاوٹوں اور ان کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل منیجر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ انڈسٹری اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کی حدود میں منصوبے کی تکمیل کے دوران درپیش مسائل اور رکاوٹوں، اراضی کے لینڈ ریکارڈ، اراضی کے ایوارڈز اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کی جانب سے دستیاب ریکارڈ اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور مؤثر تعاون کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ ضلع کوئٹہ کی حدود میں تعمیراتی کام کے حوالے سے حائل رکاوٹوں کو دور کرکے منصوبے پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر2026/9035
کوئٹہ 16 اکتوبر:صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ صوبے کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار نہایت اہم ہے۔ عوامی فنڈز قومی امانت ہیں، جن کا شفاف مؤثر اور بروقت استعمال ہرصورت یقینی بنایا جائے گا جبکہ فنڈز کے استعمال میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے ون روڈز بجٹ کے استعمال اور اس کے تحت ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئرز متعلقہ افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اے ون روڈز بجٹ کے استعمال مجوزہ ترقیاتی سرگرمیوں اور متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ بجٹ کو مؤثر منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جائے گا تاکہ انفراسٹرکچر سے متعلق چھوٹے مگر اہم نوعیت کے ترقیاتی کاموں کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے اور عوام کو ان کے ثمرات بروقت پہنچائے جا سکیں صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل محکمہ مواصلات و تعمیرات کے پاس ایک امانت ہیں اور اس امانت کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں عوامی مفاد میں خرچ کرنا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی مرحلے پر غفلت یا بے ضابطگی کی گنجائش نہ چھوڑی جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ہر زون کے چیف انجینئر اپنی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دیں، جو علاقے کی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ لے کر اے ون روڈز بجٹ کے استعمال کے لیے مناسب مقامات اور کاموں کی نشاندہی کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کمیٹیاں خود موقع پر جا کر ترقیاتی ضروریات کا جائزہ لیں اور فنڈز کے استعمال کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مزید ہدایت کی کہ متعلقہ کمیٹیاں فنڈز کے استعمال اور ترقیاتی سرگرمیوں سے متعلق اپنی رپورٹس مرتب کرکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کے دفتر میں جمع کرائیں تاکہ تمام امور کی باقاعدہ نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ فنڈز کے استعمال کی مسلسل مانیٹرنگ کریں، ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار پر خصوصی توجہ دیں اور کسی بھی مسئلے یا شکایت کی صورت میں فوری طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اے ون روڈز بجٹ کو عوامی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے گا تاکہ محدود وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے اور صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/9036
کوئٹہ16 اکتوبر:_بلوچستان میں قومی کھیل ہاکی کو نچلی سطح پر فروغ دینے اور نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام کوئٹہ کے دو مقامات پر تربیتی کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یہ سرگرمیاں پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے تعاون سے قومی کھیل کی بحالی اور اسکولوں کی سطح پر ہاکی کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہیں بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سید امین کے مطابق تربیتی کیمپ نواب غوث بخش رئیسانی ہاکی گراؤنڈ، ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ اور صفدر علی بابل ہاکی گراؤنڈ، گلستان ٹاؤن کوئٹہ میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کوئٹہ کے 25 سرکاری و نجی اسکولوں کے 200 سے زائد طلبہ حصہ لے رہے ہیں۔تربیتی کیمپوں کا مقصد طلبہ کو ہاکی کی بنیادی تکنیکوں، کھیل کے اصولوں اور جسمانی فٹنس سے روشناس کرانے کے ساتھ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ تربیتی سرگرمیوں میں اسٹک اور بال کے درست استعمال، کھیل کی بنیادی مہارتوں اور جسمانی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کے باصلاحیت کھلاڑیوں کی نشاندہی اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے اسکولوں کو ہاکی کٹس اور کھیلوں کا سامان فراہم کرنے کا اقدام بھی تعلیمی اداروں میں ہاکی کی سرگرمیوں کو فعال بنانے اور نوجوانوں کی کھیلوں تک رسائی بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن ان کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اسکولوں کے طلبہ کی تربیت اور نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرم ہے بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے مطابق اسکولوں کی سطح پر تربیتی سرگرمیوں کا تسلسل صوبے میں ہاکی کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کے لیے ایک مضبوط ٹیلنٹ پول تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستان اسپورٹس بورڈ، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے تعاون سے بلوچستان میں قومی کھیل کی ترقی اور نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی قومی کھیل کا فروغ، نوجوانوں کی تربیت اور بلوچستان میں ہاکی کے روشن مستقبل کی بنیاد مضبوط بنانا ہمارا عزم ہے۔





