15th-October-2026

خبر نامہ نمبر8970/2026
کوئٹہ 15 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں معصوم طلبہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں گورنر بلوچستان نے کہا کہ معصوم طلبہ کی قیمتی جانوں کا ضیاع ایک انتہائی المناک سانحہ ہے جس پر ہم سب غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ تمام سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی اور غمرازی کا اظہار کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ پرودیگار جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ و ہمت دے۔ آمین
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8971/2026
کوئٹہ، 15 اکتوبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں معصوم طلبہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے جاں بحق بچوں کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش سانحہ ہے، جس پر ہر دل رنجیدہ ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کٹھن گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8972/2026
کوئٹہ، 15 اکتوبر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دیہی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی خواتین بلوچستان کی معیشت، زراعت اور معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی محنت صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا اور انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت بلوچستان کے عزم کا حصہ ہے۔ حکومت خواتین کی ہنرمندی، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور معاشی خودمختاری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رائز پروگرام، وومن بازارز اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے فنڈ کے ذریعے خواتین کے لیے روزگار، کاروبار اور آمدن کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ خواتین کاروباری شخصیات کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس لیب اور کاروباری تربیت کے پروگرام بھی اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں، جن کا مقصد خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں اور کاروباری مواقع تک رسائی فراہم کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔ زراعت، لائیو اسٹاک، آبی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ذرائع معاش کے فروغ کے ذریعے دیہی خواتین کی معاشی استعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری سے خاندان مستحکم ہوتے ہیں اور معاشرے میں خوشحالی کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ دیہی خواتین کو ترقی کے عمل میں مساوی مواقع فراہم کرنا ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے جہاں ہر خاتون اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکے اور اپنے خاندان و معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈال سکے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے اور ان کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بااختیار دیہی خواتین ہی خوشحال بلوچستان کی بنیاد ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8973/2026
کوئٹہ، 15 اکتوبر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع واشک میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت اور موثر کارروائی کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کی تباہی اور اسلحے و دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور موثر حکمت عملی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنے والے عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔ پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ فتنہ ا لہندوستان کے خلاف موثر کارروائیاں ملک دشمن عناصر کے عزائم ناکام بنانے کے قومی عزم کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ خدمات قابل قدر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ پاکستان کے محفوظ اور پرامن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور امن و استحکام کے لیے قومی سطح پر اتحاد اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8974/2026
کوئٹہ، 15 اکتوبر ۔ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیو وائرس کی موجودگی جانچنے کے لیے لیے گئے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کے نتائج منفی آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انسداد پولیو کے لیے جاری اقدامات کو مزید موثر بنانے اور ان کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی پیش رفت مسلسل کوششوں، موثر حکمت عملی اور مربوط اقدامات کا نتیجہ ہے۔ پولیو کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی اور بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے انسداد پولیو مہم کے دوران فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر اہلکاروں اور پولیو ورکرز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قومی خدمت کی روشن مثال ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلسل محنت اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے بلوچستان کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا گزشتہ تین سال کی مسلسل جدوجہد، شب و روز محنت اور انسداد پولیو کے لیے کیے گئے موثر اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، پالیسیوں کے تسلسل اور انسداد پولیو پروگرام کی مسلسل نگرانی نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی مسلسل نگرانی اور سرپرستی بھی ان کوششوں کو موثر بنانے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے بخت محمد کاکڑ نے محکمہ صحت کے حکام، پولیو ورکرز اور والدین کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں شامل کارکنان نے دہشت گردی کے خطرات، دشوار گزار علاقوں، شدید گرمی، سردی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باوجود بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پولیو ورکرز کو زخمی کرنے، اغوا کرنے اور دھمکیاں دینے جیسے واقعات کے باوجود ان کا عزم اور ثابت قدمی قابل تحسین ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے انسداد پولیو مہم کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حکومت بلوچستان پولیو ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی خدمات، محنت اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں کے منفی نتائج حوصلہ افزا پیش رفت ہیں، تاہم پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی، موثر ویکسینیشن، پولیو ورکرز کی معاونت اور والدین کے تعاون کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ بلوچستان کو پولیو سے پاک بنانے تک انسداد پولیو کی کوششیں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8975/2026
15 اکتوبر جھل مگسی۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کا گنداواہ واٹر سپلائی اسکیم BSDI فیز ون کا دورہ جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ نے ایکسین محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ PHE شکیل احمد انصاری اور انجینئر پی ایچ ای عبد الخالق آرائیں کے ہمراہ گنداواہ واٹر سپلائی اسکیم WSS کے تحت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI فیز ون کے جاری ترقیاتی کاموں کا دورہ کیا اور منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیادورے کے دوران متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کے مختلف حصوں پر ہونے والے تعمیراتی کاموں اور موجودہ پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔بریفنگ کے مطابق منصوبے کے اہم حصے اوورہیڈ واٹر ٹینک OHWT کی تعمیر آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے واٹر ٹینک کی مطلوبہ اونچائی اور اطراف کی دیواروں میں سریے کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ دیواروں کی بھرائی کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے ٹینک کی چھت کی تعمیر کا کام جاری ہے جسے آئندہ ایک سے دو روز میں مکمل کرنے کی توقع ہے مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پاور ہاوس حفاظتی چار دیواری اور پانی کی ترسیل کے لیے پائپ لائنوں کے نیٹ ورک کی تنصیب سمیت دیگر اہم کام مکمل کیے جا چکے ہیںڈپٹی کمشنر جھل مگسی نے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران سے تعمیراتی مراحل اور تکمیل کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ گنداواہ واٹر سپلائی اسکیم کی تکمیل علاقے کے شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہمیت کی حامل ہے
واضح رہے کہ BSDI فیز ون کے تحت جاری یہ منصوبہ گنداواہ میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے اہم ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8976/2026
15 اکتوبر جھل مگسی۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ کا نیشنل بینک آف پاکستان گنداواہ کی نئی برانچ کا دورہ بینکنگ سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیاڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ نے نیشنل بینک آف پاکستان گنداواہ کی تحصیل آفس کی نئی عمارت میں منتقل ہونے والی برانچ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بینک میں دستیاب سہولیات عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات اور بینکنگ امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔بینک میں موجود سہولیات کا معائنہ کیا اور بینکنگ امور کی انجام دہی کا جائزہ لیا انہوں نے بینک میں آنے والے شہریوں سے بھی ملاقات کی اور ان سے بینک کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات، خدمات کے معیار اور بینکنگ سروسز تک رسائی کے حوالے سے ان کی آراء اور تاثرات معلوم کیے۔انھوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ عوام کو بینکنگ سہولیات کی فراہمی میں آسانی، شفافیت اور بہتر خدمات کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو اپنے مالی معاملات کی انجام دہی میں کسی قسم کی غیر ضروری دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے بینکنگ خدمات کی بہتری اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولیات کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ نیشنل بینک آف پاکستان کی مقامی برانچ شہریوں تاجروں سرکاری ملازمین اور دیگر صارفین کے لیے مالیاتی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے بینکنگ سہولیات کی دستیابی اور ان کے معیار کا جائزہ لینا عوامی مفاد کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہےڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ کے اس دورے کا مقصد بینک میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینا، عوامی آراء سے آگاہی حاصل کرنا اور شہریوں کو بہتر بینکنگ خدمات کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8977/2026
گوادر15اکتوبر ۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ سے گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے ملاقات کی، جس میں گوادر پورٹ کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ، گبد۔ ریمدان بارڈر کوریڈور کے استعمال اور ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت دیگر تجارتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل گوادر پورٹ داود کلمتی بھی موجود تھے، جبکہ وفد میں ایکسپورٹر تفتان امان اللہ جمالدینی، گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدور جہیند ہوت اور شمس الحق کلمتی، جبکہ سابق جنرل سیکریٹری خالد سیف شامل تھے۔ اجلاس میں گوادر پورٹ سے گبد/ ریمدان 250 بارڈر کے ذریعے تجارت کے فروغ، ٹرانسپورٹیشن، کسٹمز، سیکیورٹی، کنٹینرز کی نقل و حرکت اور ٹی آئی آر (TIR) نظام سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ گوادر سے ایران کے سرحدی علاقے تک مختصر ترین زمینی راستے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دی جائے اور گبد/ریمدان کوریڈور کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ اجلاس میں گبد/ریمدان بارڈر پر پارکنگ، وزن کرنے کے کانٹے اور دیگر سرحدی سہولیات کی عدم دستیابی یا ان سے متعلق مسائل بھی زیرِ غور آئے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ان مسائل اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کسٹمز سمیت دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں امور کو اجاگر کیا جائے گا، تاکہ سرحدی تجارت کو سہل بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ واضح رہے کہ آنے والا اجلاس 8 اکتوبر 2026ء کو کراچی میں ڈی جی ٹرانزٹ اینڈ ٹریڈ کسٹم کی زیرِ صدارت منعقدہ ٹرانزٹ ٹریڈ اجلاس کا تسلسل ہوگا۔ کراچی اجلاس میں گوادر پورٹ کے ذریعے ایران کے ساتھ زمینی تجارت، ٹی آئی آر (TIR) نظام اور تجارتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا تھا کہ عملی پیش رفت کو یقینی بنانے اور مسائل کے حل کے لیے دوسرا اجلاس گوادر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں متعلقہ حکام، تاجر برادری اور کلیئرنگ ایجنٹس کی شرکت سے تجارتی مسائل کے حل اور سرحدی تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے گا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8978/2026
گوادر 15 اکتوبر 2026: میونسپل کارپوریشن گوادر کے چیئرمین ماجد جوہر نے شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر اور جدید بنانے کے لیے روڈ سوئپر مشین کا افتتاح کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد شہر کی سڑکوں کی صفائی کو بہتر بنانا، شہری ماحول کو صاف ستھرا رکھنا اور عوام کو صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانا ہے اس موقع پر وائس چیئرمین حاجی سیف اللہ ہوت، حاجی جاوید، فیصل اللہ بخش، صدام بلوچ، خلیل رسول بخش، دیگر کونسلرز اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ بھی موجود تھے روڈ سوئپر مشین کی فراہمی سے شہر کی اہم شاہراہوں اور سڑکوں کی صفائی کے عمل میں بہتری آئے گی، جبکہ جدید مشینری کے استعمال سے صفائی کے کام کو زیادہ موثر اور منظم انداز میں انجام دینے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن گوادر کی جانب سے جدید مشینری کا استعمال شہر کی صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور شہریوں کو بہتر بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کے تعاون اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو بھی اہم قرار دیا گیا، تاکہ شہر کی سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ گوادر کی خوبصورتی اور مثبت تشخص کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8979/2026
گوادر 15 اکتوبر ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر ڈاکٹر حفیظ بلوچ سے میر عبدالغفور کلمتی ویلفیئر فاونڈیشن کے چیئرمین میر ارشد کلمتی نے ملاقات کی، جس میں ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی کمی اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر میر ارشد کلمتی نے صوبائی حکومت کی جانب سے صحت عامہ کی بہتری، عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں حکومتی اقدامات عوامی فلاح و بہبود کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ثمرات گوادر سمیت صوبے کے تمام اضلاع کے عوام تک موثر انداز میں پہنچائے جائیں گے انہوں نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر کے لیے ادویات کی مد میں مختص فنڈز فوری جاری کیے جائیں اور ادویات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں کہا کہ ہسپتال میں طبی عملے کی کمی دور کرنے کے لیے خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور گزشتہ سال اکتوبر میں 129 آسامیوں کے لیے منعقدہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کے نتائج کا اعلان کرکے کامیاب امیدواروں کی تعیناتیوں کے مراحل مکمل کیے جائیں۔ اس اقدام سے ایک جانب مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، جبکہ دوسری جانب ہسپتال میں طبی عملے کی کمی دور کرنے میں بھی مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ گوادر ایک اہم ساحلی ضلع ہے، جہاں مقامی آبادی کے علاوہ ملحقہ علاقوں سے بھی مریض علاج معالجے کے لیے آتے ہیں، اس لیے ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی ضروریات پوری کرنے اور علاج کی سہولیات میں بہتری کو یقینی بنانا ناگزیر ہے انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ محکمہ صحت ہسپتال کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں گے، تاکہ گوادر کے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8980/2026
گوادر 15 اکتوبر۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر میر جان کی سربراہی میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور گوادر پولیس نے شہر میں پیشہ ورانہ گداگری کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لے لیا یہ کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر میر جان اور ایس ایچ او سٹی تھانہ گوادر محمد ظریف کی مشترکہ نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کا مقصد شہر میں پیشہ ورانہ گداگری کی روک تھام، شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور شہر کے ماحول کو بہتر بنانا ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کا کہنا تھا کہ شہر میں پیشہ ورانہ گداگری کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کے تعاون سے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے درمیان باہمی رابطے اور مشترکہ کارروائیوں کا سلسلہ برقرار رہے گا تاکہ شہر میں گداگری کی سرگرمیوں کی روک تھام اور شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8981/2026
گوادر15 اکتوبر۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین شئے مختار نے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے ضلعی دفتر میں پی پی ایچ آئی ڈسٹرکٹ منیجر ڈاکٹر منیر احمد سے ملاقات کی، جس میں ضلع کے دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی، بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت اور نئے منظور شدہ صحت مراکز کو فعال بنانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ملاقات میں مختلف علاقوں میں قائم بنیادی مراکزِ صحت کی موجودہ صورتحال اور نئے منظور شدہ بی ایچ یوز کو فعال بنانے کے لیے جاری پیش رفت پر بھی تبادل خیال کیا گیا اس موقع انہوں نے کہا کہ بنیادی صحت کے مراکز کو فعال بنانے اور طبی سہولیات کی موثر فراہمی کے ذریعے دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجر ڈاکٹر منیر احمد نے ڈسٹرکٹ چیئرمین شئے مختار کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ امور پر پیش رفت اور نئے منظور شدہ بنیادی مراکزِ صحت کو فعال بنانے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صحت کی سہولیات کی بہتری، مراکزِ صحت کی فعالیت اور عوامی ضروریات کے مطابق طبی خدمات کی فراہمی پر بھی گفتگو ھوئی ضلعی نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی مراکزِ صحت کو فعال بنانا، دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا اور عوام کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنا عوامی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پی پی ایچ آئی اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ضلع میں بنیادی صحت کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8982/2026
کوئٹہ: 15 اکتوبر ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے پشاور میں نجی سکول کے چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ اس دلخراش واقع میں 28 افراد جاں بحق ہو جانا ایک سانحہ سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ حادثے میں 27 معصوم بچے جانبحق اور جبکہ دیگر 19 بچے زخمی ہوئے ہیں یہ سانحہ پوری قوم کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللّٰہ پاک مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاءکرے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔ صوبائی وزیر نے اس حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا سے واقعے کی فوری اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8983/2026
کوئٹہ، 15 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اصلاحات پر مبنی تجاویز مرتب کرنے کے لیے جائزہ اجلاس دوسرے روز بھی جاری رہا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے مزید محکموں کی کارکردگی، انتظامی امور اور استعدادِ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ محکموں کی فعالیت بہتر بنانے اور تنظیم نو کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے، انتظامی ڈھانچے کو موثر بنانے، سرکاری وسائل کے بہتر استعمال اور عوام کو خدمات کی فراہمی کے معیار میں بہتری لانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحات کو عملی نتائج سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ حکومتی اداروں کی افادیت کا تعین ان کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہر محکمہ اپنی ذمہ داریوں کو موثر انداز میں ادا کرے اور کارکردگی کو قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری وسائل کا موثر استعمال اور اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ بہتر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔ محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کے عمل میں عملی ضروریات، انتظامی کارکردگی اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دی جائے، تاکہ سرکاری مشینری کو زیادہ فعال اور جواب دہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور فرائض کی انجام دہی میں غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔ محکموں کی ذمہ داریوں اور دائرہ کار کا واضح تعین انتظامی امور میں بہتری لانے اور کارکردگی بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کو زیادہ موثر بنانا اور عوام کو بروقت اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے لیے ایسی تجاویز کو اہمیت دی جانی چاہیے جو حکومتی امور میں شفافیت، جواب دہی اور کارکردگی کو فروغ دینے میں معاون ہوں۔ اجلاس میں مختلف صوبائی محکموں کی موجودہ کارکردگی، انتظامی ڈھانچے اور فعالیت سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے امور پر غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کویٹہ 15 اکتوبر ۔معروف سیاسی و قبائلی شخصیت میر درک خان ڈومکی کی جانب سے صوبائی مشیر برائے لوکل گورنمنٹ نوابزادہ امیر حمزہ زہری کے اعزاز میں پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔
عشائیے میں صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان سردار کوہیار خان ڈومکی، سردارزادہ میر دینار خان ڈومکی، میر شاہزین خان ڈومکی، کے ڈی مری، ڈسٹرکٹ چیئرمین میر صلاح الدین زہری، چیئرمین میونسپل کمیٹی حاجی فیصل زہری اور میر ظفر علی ساسولی نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف سیاسی امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز / خبر
موسیٰ خیل: عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری امور میں مزید بہتری لانے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کمشنر لورالائی ڈویڑن ولی محمد بڑیچ کی سربراہی میں ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری میں ایک عظیم الشان کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک، اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ خان کاکڑ سمیت تمام محکموں کے ضلعی افسران، علاقے کے معززین، زمینداروں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور روڈز، پینے کے پانی اور دیگر ترقیاتی امور سے متعلق اپنے تجاویز اور مطالبات پیش کیے۔کھلی کچہری کے دوران اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فوری احکامات جاری کیے گئے ترقیاتی اسکیمات اور بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام اجلاس میں بی ایس ڈی آئی پروگرام اور ضلع میں جاری ترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے عوامی تجاویز اور آراء کا خیرمقدم کیا گیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ فلاحی اسکیمات کی شفافیت اور ان کے دائرہ کار کو مزید بہتر اور وسیع بنایا جائے۔ زراعت اور ایم ایم ڈی (MMD) ریکارڈزمینداران ایکشن کمیٹی موسیٰ خیل کے صدر حاجی عصمت اور دیگر زمینداروں نے زراعت اور ایم ایم ڈی ریکارڈ سے متعلق اپنے نقطہ نظر اور تجاویز پیش کیں، جن پر کمشنر لورالائی نے متعلقہ محکمے کو فوری طور پر تمام امور اور ریکارڈ منظم کرنے کے احکامات دئیے۔ بنیادی ڈھانچہ اور پی ایچ ای محکمہ بی اینڈ آر اور پی ایچ ای کے کاموں اور سڑکوں کی زبوں حالی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات و تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر لورالائی نے کنگری بازار کے بند واٹر فلٹر پلانٹ کو فوری طور پر فعال اور بحال کرنے کے لیے ایکسین پی ایچ ای (XEN PHE) کو سخت ہدایات جاری کیں۔ مال مویشیوں کا علاج و معالجہ: تحصیل کنگری اور گردونواح میں مال مویشیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اور ادویات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمشنر لورالائی نے تحصیل کنگری سمیت تمام تحصیلوں میں فوری طور پر مفت ویٹرنری کیمپ لگانے کے احکامات جاری کیے تاکہ مالداروں کو ریلیف مل سکے۔طبی امداد کے مستحق افراد: کھلی کچہری میں موذی امراض میں مبتلا نادار افراد کی درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے علاج و معالجے کے لیے سرکاری سطح پر ممکنہ امداد کی یقینی دہانی کرائی گئی۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ضلعی انتظامیہ اور تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں متحرک رہیں، عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائیں اور حکومتِ بلوچستان کے ترقیاتی ویژن کو عوام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بکار لائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8984/2026
لورالائی، 15 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ نے کوئٹہ روڈ پر پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کی اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے پیشِ نظر پانی کے غیر قانونی استعمال اور غیر منصفانہ تقسیم کا جائزہ لیا گیا۔ کارروائی کے دوران غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی کرتے ہوئے پانی کے نظام کو منظم بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئےاسسٹنٹ کمشنر احمد زیب کاکڑ نے کہا کہ پانی ایک قیمتی قومی و عوامی وسیلہ ہے، اس کے غیر قانونی استعمال اور چوری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ دستیاب پانی کے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جائےانہوں نے کہا کہ غیر قانونی کنکشنز کے باعث پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے تدارک کے لیے انتظامیہ موثر اقدامات کر رہی ہےضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی مفاد، شہری سہولیات کے تحفظ اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8985/2026
موسیٰ خیل:15اکتوبر2026 ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز ایجوکیشن لورالائی ڈویژن عبدالواسع خان کاکڑ نے ملک نجیب خان کاکڑ کے ہمراہ موسیٰ خیل کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری، تعلیمی ماحول، طلبہ کی کارکردگی اور مجموعی تعلیمی معیار کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران ڈویژنل ڈائریکٹر نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول ڈکی موسیٰ خیل، گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول موسیٰ خیل اور گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول موسیٰ خیل کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مختلف کلاس رومز کا دورہ کرکے طلبہ سے تعلیمی سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا
اس موقع پر عبدالواسع خان کاکڑ نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں محنت، دیانت داری اور خلوصِ نیت کے ساتھ ادا کریں اور طلبہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کی بروقت تکمیل، طلبہ کی باقاعدہ حاضری اور تدریسی معیار میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز نے کہا کہ بچوں کا مستقبل ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی سے براہِ راست وابستہ ہے، اس لیے معیاری تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اساتذہ قومی مستقبل کے معمار ہیں اور ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ کو نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کریں بلکہ ان کی کردار سازی اور تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی بنیاد ہے۔ اگر بچوں کو معیاری اور جدید تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں تو ایک روشن، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ آج کے طلبہ ہی کل ملک و قوم کی باگ ڈورسنبھالیں گے، لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی عبدالواسع خان کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موسیٰ خیل سمیت لورالائی ڈویژن کے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی نظام کی بہتری، اساتذہ کی کارکردگی میں اضافہ اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے نگرانی اور عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر8986/2026
کوئٹہ 15اکتوبر ۔صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کا پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 30 بچوں کی ہلاکت پر گہرے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے خاتون ٹیچر سمیت کم از کم 30 افراد جاں بحق اور متحد زخمی ہوئے۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش سانحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اور زخمی بچوں کی بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8987/2026
خضدار 15 اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر زہری روزین جمالی کی زیر صدارت تمام صوبائی محکمہ جات کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سب ڈویڑن زہری میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عمومی کارکردگی اور درپیش مسائل کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔اجلاس کے دوران خاص طور پر محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر زہری نے واضح ہدایات جاری کیں کہ دونوں شعبہ جات میں غیر حاضر اور غفلت کے مرتکب ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جائے اور ان کی تنخواہوں سے کٹوتی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں زیر تعمیر اور مجوزہ ترقیاتی اسکیموں کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے تمام کاموں کو مقررہ وقت پر شفافیت اور معیار کے ساتھ مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں کو درپیش انتظامی و آپریشنل مسائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔اجلاس کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے تمام سرکاری محکمہ جات کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی کو مزید فعال اور بہتر بنائیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر مسائل کا بروقت حل میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8988/2026
کوئٹہ15 اکتوبر۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات میں لواحقین کوٹہ کے تحت بھرتیوں کا عمل مکمل طور پر میرٹ شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے گا اس ضمن میں کسی قسم کی سفارش دباو یا غیر ضروری مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے لواحقین کوٹہ کے تحت بھرتیوں اور اے ون روڈ کے بجٹ کے حوالے سے منعقدہ جاہزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان اور چیف انجینئر آفیسران کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے اجلاس کو لواحقین کوٹہ کے تحت بھرتیوں اور اے ون روڈز بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ بھرتیوں کے پورے عمل کو موثر منظم اور غیر جانب دار بنایا گیا ہے تاکہ کسی امیدوار کو شکایت کا موقع نہ ملے انہوں نے کہا کہ محکمہ میں لواحقین کوٹہ کے تحت بھرتیوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور متعلقہ احکامات کے مطابق من و عن عمل درآمد کیا جا رہا ہے جبکہ امیدواروں کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری ہےسیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور تمام امیدواروں کے ساتھ یکساں اور منصفانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے گا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اے ون روڈز بجٹ کے حوالے سے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اے ون روڈز بجٹ کو احسن طریقے سے استعمال کیا جائے گا تاکہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے چھوٹے چھوٹے کام تیزی سے مکمل ہوں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ صوبے کی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کلیدی کردار ہے اور عوام کا پیسہ صحیح طریقے سے استعمال کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے ہر زون کے چیف انجینئر اپنی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے اور جہاں جہاں مناسب ہو وہاں پر اس فنڈ کو استعمال کیا جائے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے لواحقین کوٹہ کے تحت بھرتیوں کے حوالے سے کہا کہ اس عمل میں کسی قسم کا ابہام بےضابطگی یا شکایت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تمام مراحل کو واضح طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جائے تاکہ بھرتی کا عمل نہ صرف میرٹ پر مبنی ہو بلکہ اس کی شفافیت بھی ہر سطح پر نمایاں ہو صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے افسران پر زور دیا کہ وہ بھرتیوں کے عمل کی مسلسل نگرانی کریں اور اس حوالے سے پیش آنے والے کسی بھی مسئلے یا شکایت کو فوری طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے لواحقین کوٹہ کے تحت بھرتیوں کا عمل قانونی تقاضوں اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں مکمل کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8989/2026
کوہلو، 15 اکتوبر ۔ حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی اصلاحات اور سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے تحت ڈویڑنل ڈائریکٹر ایجوکیشن کوہِ سلیمان ڈویڑن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون اور ڈی او ای حفیظ اللہ مری نے ضلع کوہلو کے مختلف سرکاری اسکولوں کا اچانک دورہ کیا اور تعلیمی سرگرمیوں، عملے کی حاضری اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلی ملک جانان کوہلو کا معائنہ کیا گیا، جہاں اسکول غیر فعال پایا گیا اور مرکزی دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ اسکول کی بندش اور عملے کی مسلسل غیر حاضری کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام نے ہیڈ مسٹریس اور تمام تدریسی عملے کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی ای او فیمیل بارکھان کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔بعد ازاں افسران نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کلی جلات خان اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول نیاز محمد کا بھی معائنہ کیا، جہاں کلسٹر کے تحت فراہم کیے جانے والے سامان کی عدم دستیابی کا انکشاف ہوا۔ اس موقع پر متعلقہ کلسٹر ہیڈ کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ دونوں اسکولوں کو درکار سامان اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔افسران نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول میاں خان چرمی کا بھی دورہ کیا اور تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے واضح کیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں غیر حاضری، غفلت اور فرائض میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے نگرانی کا عمل جاری رہے گا، جبکہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8990/2026
اسلام آباد15 اکتوبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان کی خواتین ہنرمندوں کی قومی و بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے مواقع بڑھانے، صوبے کی روایتی دستکاریوں کو فروغ دینے اور ملک بھر کے قومی عجائب گھروں میں بلوچستان کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے لیے مستقل نمائشی گوشے مختص کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین صدیوں پر محیط ثقافتی روایات اور منفرد ہنرمندی کی امین ہیں۔ بلوچی کشیدہ کاری، روایتی ملبوسات، قالین بافی اور دیگر دستکاریوں میں ان کی مہارت صوبے کی تہذیبی شناخت کا اہم حصہ ہے، جسے قومی اور عالمی سطح پر موثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ہنرمندوں کو ملکی و بین الاقوامی ثقافتی نمائشوں میں شرکت کے منظم مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو پذیرائی ملے گی بلکہ ان کے لیے معاشی خودمختاری اور روزگار کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے قومی عجائب گھروں میں بلوچستان کے ثقافتی ورثے کے مستقل نمائشی گوشوں کے قیام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تاریخی شناخت، روایتی فنون اور ثقافتی تنوع کو قومی سطح پر مستقل نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ نئی نسل اور ملکی و غیر ملکی سیاح صوبے کے تہذیبی سرمائے سے بہتر طور پر آگاہ ہوسکیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کی معاشی ترقی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ بلوچستان کی ہنرمند خواتین کو قومی ثقافتی سرگرمیوں کا مستقل حصہ بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ادارہ جاتی تعاون اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ملاقات میں بلوچستان کی خواتین ہنرمندوں کے لیے نمائشی مواقع میں اضافے اور صوبے کے ثقافتی ورثے کو قومی عجائب گھروں میں مستقل جگہ دینے سے متعلق تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8991/2026
کوئٹہ، 15 اکتوبر ۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے خوراک بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ خالص، محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی وقت کی اہمضرورت ہے۔ حکومت خوراک کے معیار اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر بلوچستان ایگریکلچر کالج، بلیلی روڈ کوئٹہ میں منعقدہ پہلی بلوچستان فوڈ ایگزیبیشن 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے فیتہ کاٹ کر دو روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف زرعی مصنوعات کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کا بیشتر حصہ خشک اور کم بارشوں والے خطے پر مشتمل ہے، تاہم صوبے کے متعدد علاقے اپنی زرعی پیداوار کے باعث فوڈ باسکٹ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔زراعت کے شعبے میں مزید پیش رفت کے لیے پانی کے وسائل کا موثر استعمال، آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں زرعی ترقی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور زمینداروں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ صوبے میں بھیڑ بکریوں سمیت مویشیوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے، جبکہ طویل ساحلی پٹی اور وسیع سمندری حدود ماہی گیری کے شعبے کی ترقی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہےانہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ زمینداروں اور کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور طریقوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم، زیرِ زمین پانی کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر کو محفوظ اور زرعی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں زرعی اور آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے۔ اس موقع پر ایف او اے کے نمائندے ولید مہدی نے کہا کہ بلوچستان میں یہ پہلی فوڈ ایگزیبیشن 2026 کا اہتمام اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت FAOنے بلوچستان ریور بیسنز واٹرریسورسزپروگرامRBWRPکے تحت کیا ہے۔ اور یہ تقریب 15 اور 16 اکتوبر تک جاری رہے گءانہوں نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد زرعی شعبے سے وابستہ چھوٹے کاروباری اداروں، کسانوں اور کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور کاروباری روابط کے فروغ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔تقریب میں متعلقہ محکموں اور شعبہ زراعت سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کی نمائشیں بلوچستان کی زرعی معیشت کو مستحکم کرنے، چھوٹے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی اور مقامی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔تقریب محترمہ اسدی بتول چیف آرگنائزر قادق اغا و دگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
ISLAMABAD (October 15, 2026): Advisor to the Chief Minister of Balochistan on Women Development, Dr. Rubaba Khan Buledi, held a meeting with Federal Minister for National Heritage and Culture, Aurangzeb Kitchi, in Islamabad. The meeting focused on expanding opportunities for women artisans from Balochistan to participate in national and international exhibitions, promoting the province’s traditional handicrafts, and establishing permanent exhibition galleries dedicated to Balochistan’s historical and cultural heritage in national museums across Pakistan.
Speaking on the occasion, Dr. Rubaba Khan Buledi said that the women of Balochistan are custodians of centuries-old cultural traditions and exceptional craftsmanship. She highlighted that their expertise in Balochi embroidery, traditional attire, carpet weaving, and other indigenous handicrafts represents an integral part of the province’s cultural identity, which deserves greater recognition and representation at national and international levels.
She emphasized that providing structured opportunities for women artisans from Balochistan to participate in domestic and international cultural exhibitions would not only bring recognition to their creative talents but also open new avenues for economic empowerment, sustainable livelihoods, and employment.
Highlighting the importance of establishing permanent exhibition galleries for Balochistan’s cultural heritage in national museums, Dr. Rubaba Khan Buledi stated that the province’s historical identity, traditional arts, and cultural diversity deserve permanent representation at the national level. Such initiatives, she noted, would enable younger generations, domestic visitors, and international tourists to develop a deeper understanding and appreciation of Balochistan’s rich cultural legacy.
She further stressed that women’s economic empowerment and the preservation of cultural heritage are closely interconnected. She underscored the need for institutional collaboration and a coordinated strategy between federal and provincial authorities to ensure the sustained participation of Balochistan’s skilled women in national cultural activities.
During the meeting, both sides also exchanged proposals aimed at increasing exhibition opportunities for women artisans from Balochistan and securing permanent spaces for the province’s cultural heritage in national museums.
Dr. Rubaba Khan Buledi reaffirmed her commitment to promoting the talents of Balochistan’s women, preserving the province’s cultural identity, and creating meaningful opportunities for women to contribute to the cultural and economic development of Pakistan.

﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8992/2026
جعفرآباداکتوبر15۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرہ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے اساتذہ کا حاضری رجسٹر چیک کیا اور اس بات کا جائزہ لیا کہ تدریسی عملہ اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے اسکول کے مختلف کلاس رومز کا دورہ کرکے طلبہ کو دی جانے والی تعلیم اور تدریسی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے بچوں سے مختلف سوالات بھی پوچھے اور ان کے جوابات سن کر تعلیمی استعداد اور سبق کی تیاری کا جائزہ لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرہ نے اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان کے کندھوں پر بچوں کا مستقبل سنوارنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانت داری، محنت اور لگن کے ساتھ ادا کریں اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ آج کے طالب علم ہی کل کے ذمہ دار شہری اور ملک و قوم کا مستقبل ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں اور بچوں میں حصول علم کا شوق پیدا کریں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسکول میں نظم و ضبط، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری اور تدریسی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آسکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری، تعلیمی معیار میں اضافے اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے دوروں کا مقصد تعلیمی نظام میں بہتری لانا اور اساتذہ کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8993/2026
موسی’ خیل15اکتوبر۔عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری امور میں مزید بہتری لانے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی سربراہی میں ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک، اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ خان کاکڑ سمیت تمام محکموں کے ضلعی افسران، علاقے کے معززین، زمینداروں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی روڈز، پینے کے پانی اور دیگر ترقیاتی امور سے متعلق اپنے تجاویز اور مطالبات پیش کیے۔کھلی کچہری کے دوران اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فوری احکامات جاری کیے گئے: ترقیاتی اسکیمات اور بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام: اجلاس میں بی ایس ڈی آئی پروگرام اور ضلع میں جاری ترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے عوامی تجاویز اور آراء کا خیرمقدم کیا گیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ فلاحی اسکیمات کی شفافیت اور ان کے دائرہ کار کو مزید بہتر اور وسیع بنایا جائے۔ زراعت اور ایم ایم ڈی (MMD) ریکارڈ: زمینداران ایکشن کمیٹی موسیٰ خیل کے صدر حاجی عصمت اور دیگر زمینداروں نے زراعت اور ایم ایم ڈی ریکارڈ سے متعلق اپنے نقطہ نظر اور تجاویز پیش کیں، جن پر کمشنر لورالائی نے متعلقہ محکمے کو فوری طور پر تمام امور اور ریکارڈ منظم کرنے کے احکامات دئیے۔محکمہ بی اینڈ آر اور پی ایچ ای کے کاموں اور سڑکوں کی زبوں حالی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات و تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر لورالائی نے کنگری بازار کے بند واٹر فلٹر پلانٹ کو فوری طور پر فعال اور بحال کرنے کے لیے ایکسین پی ایچ ای (XEN PHE) کو سخت ہدایات جاری کیں۔ تحصیل کنگری اور گردونواح میں مال مویشیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اور ادویات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمشنر لورالائی نے تحصیل کنگری سمیت تمام تحصیلوں میں فوری طور پر مفت ویٹرنری کیمپ لگانے کے احکامات جاری کیے تاکہ مالداروں کو ریلیف مل سکے۔کھلی کچہری میں موذی امراض میں مبتلا نادار افراد کی درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے علاج و معالجے کے لیے سرکاری سطح پر ممکنہ امداد کی یقینی دہانی کرائی گئی۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے ضلعی انتظامیہ اور تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں متحرک رہیں، عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائیں اور حکومتِ بلوچستان کے ترقیاتی وژن کو عوام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بکار لائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8994/2026
نصیرآباد15اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کا ڈسٹرکٹ جیل نصیرآباد کا دورہ قیدیوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات طبی انتظامات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا سولر سسٹم کی تنصیب اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج ڈسٹرکٹ جیل نصیرآباد کا تفصیلی دورہ کیا جہاں ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل محمد علی نے ان کا استقبال کیا اور جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کرایا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے جیل میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات، انتظامی امور صحت و صفائی کے انتظامات اور طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مرد و خواتین قیدیوں کے وارڈز جیل کی ڈسپنسری اور دیگر متعلقہ حصوں کا معائنہ کیا انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کرکے ان سے دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی شکایات و ضروریات معلوم کیں ڈپٹی کمشنر نے قیدیوں کے لیے تیار کیے جانے والے کھانے کا بھی معائنہ کیا تاکہ خوراک کے معیار اور انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل محمد علی نے ڈپٹی کمشنر کو جیل میں دستیاب سہولیات انتظامی امور درپیش مشکلات اور ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ موسم گرما کے دوران بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث قیدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے جیل کے روزمرہ معمولات اور رہائشی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے ان مشکلات پر قابو پانے اور بجلی کی بندش کے دوران ضروری امور کی بلاتعطل انجام دہی کو ممکن بنانے کے لیے جیل میں سولر سسٹم کی تنصیب انتہائی ضروری ہے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے مزید بتایا کہ جیل میں ڈسپنسری موجود ہے تاہم قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے او پی ڈی روم کی تعمیر اور ضروری طبی ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے لیبارٹری کا قیام بھی ناگزیر ہے ان سہولیات کی دستیابی سے قیدیوں کے طبی معائنے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج معالجے میں بہتری لائی جا سکے گی اس کے علاوہ جیل کو درپیش دیگر انتظامی اور بنیادی نوعیت کے مسائل سے بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی صحت و صفائی کے مناسب انتظامات اور جیل کے ماحول کو بہتر بنانا ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ قیدی بھی بنیادی انسانی ضروریات اور مناسب طبی سہولیات کے حق دار ہیں اس لیے ان کی مشکلات کا ازالہ اور جیل میں دستیاب سہولیات کو بہتر بنانا ضروری ہے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے مرحلے میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت ڈسٹرکٹ جیل میں سولر سسٹم کی تنصیب کے لیے کوششیں کی جائیں گی تاکہ بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے اور جیل کے روزمرہ انتظامی امور کو زیادہ موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ جیل میں طبی سہولیات کی بہتری او پی ڈی روم کی تعمیر لیبارٹری کے قیام اور دیگر ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے گا ان مسائل کے حل کے لیے دستیاب وسائل اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے ضروری اقدامات اٹھانے اور متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل محمد علی کو ہدایت کی کہ جیل کو درپیش تمام مسائل بنیادی ضروریات اور مجوزہ ترقیاتی اقدامات پر مشتمل ایک جامع تحریری رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرائی جائے تاکہ ان مسائل کو متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کرکے ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیںڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ دستیاب وسائل اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے ڈسٹرکٹ جیل نصیرآباد میں بنیادی سہولیات کی بہتری، طبی انتظامات کو مزید موثر بنانے اور قیدیوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8995/2026
کوئیٹہ 15اکتوبر ۔ صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کا پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 30 بچوں کی ہلاکت پر گہرے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے خاتون ٹیچر سمیت کم از کم 30 افراد جاں بحق اور متحد زخمی ہوئے۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش سانحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں اور اساتذہ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اور زخمی بچوں کی بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8996/026
کوئٹہ 15اکتوبر2026۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف عمر نے سریاب روڈ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ریڑھی بانوں کی جانب سے ریڑھیاں کھڑی کرنے کے طریقۂ کار اور ٹریفک کی روانی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ریڑھی بانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اپنا روزگار جاری رکھیں، تاہم ریڑھیاں سڑک کے ایک کنارے پر مناسب انداز میں کھڑی کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد ریڑھی بانوں کے روزگار کو متاثر کیے بغیر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا، سڑکوں کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا تدارک کرنا ہے۔ ریڑھی بانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں اس انداز میں جاری رکھیں کہ پیدل چلنے والوں، گاڑیوں اور دیگر شہریوں کے لیے راستے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔اسسٹنٹ کمشنر بروری نے ریڑھی بانوں پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور شہر میں ٹریفک کی بہتر روانی، نظم و ضبط اور عوامی سہولت کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

خبرنامہ نمبر8997/026
سیوی 15 اکتوبر 2026:
کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کیسکو کے ایگزیکٹو انجینئر نے بجلی کی فراہمی و لوڈشیڈنگ کے شیڈول اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر بجلی کی فراہمی سے متعلق صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعدازاں اجلاس میں سیوی تا تلی شاہراہ کے اہم ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر نے منصوبے پر پیش رفت، تعمیراتی امور اور دیگر متعلقہ معاملات سے کمشنر سیوی ڈویژن کو آگاہ کیا۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شاہراہ کی تعمیر میں کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل اور عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔ کمشنر سیوی ڈویژن نے کہا کہ منصوبے کے لیے درکار فنڈز کی ریلیز کے سلسلے میں متعلقہ اعلیٰ حکام کو مراسلہ ارسال کیا جائے گا، تاکہ فنڈز کی دستیابی یقینی بنا کر ترقیاتی کاموں کو مزید تیز کیا جا سکے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے عوامی سہولیات کی بہتری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔

خبرنامہ نمبر 8998/026
کوئٹہ: 15 اکتوبر 2026:
صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے عالمی یومِ خوراک 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ خوراک کا تحفظ انسانی صحت اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے جبکہ ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ خوراک کا موضوع “آج جدت، کل بہتر غذائیت” (Innovate Today – Nourish Tomorrow) جدید ٹیکنالوجی، مؤثر حکمتِ عملی اور سائنسی طریقوں کو اپنانے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک کے شعبے میں جدید طریقۂ کار کو فروغ دے کر نہ صرف خوراک کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عوامی صحت کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خوراک میں ملاوٹ، غیر معیاری اشیاء خورونوش کی فروخت اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی خوراک کے معیار کو برقرار رکھنے، ملاوٹ کی روک تھام اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے حکومتی اداروں، فوڈ بزنس آپریٹرز، بین الاقوامی شراکت داروں اور عوام کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک صحت مند اور خوشحال بلوچستان کی تعمیر کے لیے معیاری خوراک کی فراہمی اور عوامی آگاہی کے فروغ کو اہمیت دی جاتی رہے گی۔

خبرنامہنمبر9000/026
سیوی 15 اکتوبر 2026
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر قادر ہارون، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ذیشان سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ڈویژنل ہیڈکوارٹر (DHQ) ٹیچنگ ہسپتال، (RHCs)، بنیادی مراکز صحت (BHUs) اور سول ڈسپنسریوں (CDs) کی مجموعی کارکردگی، طبی سہولیات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں طبی عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔انہوں نے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کے احکامات جاری کیے اور واضح کیا کہ سرکاری فرائض میں غفلت اور غیر حاضری کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ تمام متعلقہ افسران اپنے زیرِ انتظام صحت کے مراکز کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور عملے کی حاضری سمیت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر 9001/026
سیوی 15 اکتوبر 2026:
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر طارق الماس، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم مرزا عطہر بیگ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل اور فی میل سمیت محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی، اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری، طلبہ کے داخلوں، تعلیمی معیار، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، تدریسی سرگرمیوں میں بہتری اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے، تعلیمی سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اسکولوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور تمام متعلقہ افسران تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ ضلع سیوی میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کے احکامات جاری کیے اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری اور تدریسی سرگرمیوں میں باقاعدگی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اسکولوں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور فرائض میں غفلت برتنے والے اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

خبرنامہ نمبر9002/026
کوئٹہ 15اکتوبر2026۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ہنہ اوڑک کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق، ہنہ اوڑک کمیٹی کے نمائندوں اور حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے افراد اور زخمیوں کے لواحقین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ہنہ اوڑک کے مقامی مسائل، حالیہ واقعات میں شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے معاوضوں، متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات اور علاقے میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر شرکاء نے علاقے کے مسائل اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظات سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔ اجلاس میں متعلقہ امور کا جائزہ لیتے ہوئے مسائل کے حل، معاوضوں کے معاملات اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

خبرنامہ نمبر9004/026
کوئٹہ، 15 اکتوبر2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر دیہی خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام کاروباری خواتین کے لیے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر (BFC) سے متعلق آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبے کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین انٹرپرینیورز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں صوبے کی عظیم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا وژن ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو کاروبار اور ہنرمندی کی ترقی کی جانب راغب کیا جائے اور انہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں اور صوبے کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بی ایف سی کے ذریعے خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ضروری رہنمائی، سہولیات اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ انہیں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز میں درپیش مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون بی ٹیوٹا کی خدمات پر روشنی ڈالی جبکہ سی ای او بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ عبدالمنان نے بھی ادارے اور بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے آپریشنز، خدمات اور کاروباری سہولیات کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر ایک پینل ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں سیکریٹری محکمہ ترقیِ نسواں حکومتِ بلوچستان شیر شاہ غلزئی، منیجر سمیڈا محمد اقبال، سبی ویمن یونیورسٹی کے شعبہ مینجمنٹ سائنسز کی سربراہ محترمہ نازنین درانی، ایس آئی اے کے شریک بانی نثار آغا اور ڈوچ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ دیدار مینگل نے شرکت کی۔ پینل کے شرکاء نے خواتین کو کاروباری مواقع، ادارہ جاتی معاونت، ہنرمندی، کاروبار کے فروغ اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کیں۔ تقریب کے دوران خواتین انٹرپرینیورز کی جانب سے مختلف مصنوعات اور کاروباری سرگرمیوں پر مشتمل اسٹالز بھی لگائے گئے، جن کے ذریعے خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں، کاروباری مہارتوں اور مقامی مصنوعات کو اجاگر کیا گیا۔ یہ آگاہی سیشن صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ان میں کاروباری شعور اجاگر کرنے اور انہیں دستیاب سرکاری سہولیات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

خبرنامہ نمبر9003/026
زیارت 15اکتوبر 2026:
صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ کا پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے معصوم طلبہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں معصوم طلبہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہےحاجی نور محمد خان دمڑ نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔صوبائی وزیر نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ غم کی اس گھڑی میں ہم سوگوار خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

خبرنامہ نمبر9004/026
کوئٹہ، 15 اکتوبر2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر دیہی خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام کاروباری خواتین کے لیے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر (BFC) سے متعلق آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبے کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین انٹرپرینیورز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں صوبے کی عظیم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا وژن ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو کاروبار اور ہنرمندی کی ترقی کی جانب راغب کیا جائے اور انہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں اور صوبے کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بی ایف سی کے ذریعے خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ضروری رہنمائی، سہولیات اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ انہیں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز میں درپیش مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون بی ٹیوٹا کی خدمات پر روشنی ڈالی جبکہ سی ای او بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ عبدالمنان نے بھی ادارے اور بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے آپریشنز، خدمات اور کاروباری سہولیات کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر ایک پینل ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں سیکریٹری محکمہ ترقیِ نسواں حکومتِ بلوچستان شیر شاہ غلزئی، منیجر سمیڈا محمد اقبال، سبی ویمن یونیورسٹی کے شعبہ مینجمنٹ سائنسز کی سربراہ محترمہ نازنین درانی، ایس آئی اے کے شریک بانی نثار آغا اور ڈوچ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ دیدار مینگل نے شرکت کی۔ پینل کے شرکاء نے خواتین کو کاروباری مواقع، ادارہ جاتی معاونت، ہنرمندی، کاروبار کے فروغ اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کیں۔ تقریب کے دوران خواتین انٹرپرینیورز کی جانب سے مختلف مصنوعات اور کاروباری سرگرمیوں پر مشتمل اسٹالز بھی لگائے گئے، جن کے ذریعے خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں، کاروباری مہارتوں اور مقامی مصنوعات کو اجاگر کیا گیا۔ یہ آگاہی سیشن صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ان میں کاروباری شعور اجاگر کرنے اور انہیں دستیاب سرکاری سہولیات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

خبرنامہ نمبر9005/026
نیب (بلوچستان)کے زیرِ اہتمام نیب کمپلیکس، کوئٹہ کینٹ میں بین الجامعاتی تقریری، مضمون نویسی، پوسٹر سازی اور خطاطی کے مقابلوں کا انعقاد
کوئٹہ، 15 اکتوبر 2026ء: قومی احتساب بیورو نیب( بلوچستان)نے آگاہی مہم کے تحت نیب کمپلیکس، کوئٹہ کینٹ میں انسدادِ بدعنوانی کے موضوع پر بین الجامعاتی تقریری مقابلوں (اردو و انگریزی)، مضمون نویسی کے مقابلوں (اردو و انگریزی)، پوسٹر سازی اور خطاطی کے مقابلوں کا انعقاد کیا۔اس تقریب میں مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی، جن میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML)، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (SBK)، الحمد اسلامک یونیورسٹی، یونیورسٹی لا کالج، بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، جامعہ بلوچستان اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) شامل تھیں۔
اس تقریب کا بنیادی مقصد نوجوان نسل میں بدعنوانی کے منفی اثرات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا، کردار سازی، دیانت داری اور شفاف طرزِ عمل کو فروغ دینا اور معاشرے میں بدعنوانی کے خلاف شعور و آگاہی کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ مقابلوں کے دوران شرکاء نے اپنی تخلیقی اور فکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور بدعنوانی کی روک تھام، شفافیت، دیانت داری، میرٹ، قانون کی پابندی، قومی ذمہ داری اور خود احتسابی جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا۔تقریب میں اس امر پر زور دیا گیا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ان میں ایمانداری، دیانت داری، قانون کے احترام اور قومی ذمہ داری جیسی اقدار کو فروغ دے کر ایک شفاف اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
مقابلوں کے نتائجٍ
جیوری کے اراکین نے ہر زمرے میں درج ذیل شرکاء کو پہلی پوزیشن کا حقدار قرار دیا:
نمبر شمار شرکاء کے نام مقابلے کی قسم جامعات
1 آشر حسین تقریری مقابلہ) انگریزی ( NUST
2 سیمرن طارق بلوچ تقریری مقابلہ (اُردو ( NUST
3 انعام اللہ مضمون نویسی (انگریزی( بلوچستان یونیورسٹی
4 رضیہ نذیر ضمون نویسی (اردو) بلوچستان یونیورسٹی
5 زلا احسان پوسٹر سازی یونیورسٹی لاء کالج
6 سرفراز خطاطی بلوچستان یونیورسٹی
اختتامی کلمات میں ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان، جناب نیاز حسن نے مقابلوں میں حصہ لینے والے طلبہ و طالبات کے پُراعتماد خیالات، تخلیقی صلاحیتوں اور جوش و جذبے کو سراہا۔ انہوں نے جیوری کے اراکین اور متعلقہ جامعات کے فوکل پرسنز کا بھی شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر9006/026
نصیرآباد
15 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، عوام کو درپیش مسائل، شہری سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کا مقصد ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ لینا انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کرنا تھا۔اجلاس میں بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدامات پروگرام کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے جلد مستفید ہو سکیں انہوں نے پروگرام کے تیسرے مرحلے میں شامل منصوبوں پر بھی جلد از جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی سرگرمیوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور تمام متعلقہ محکمے منصوبوں کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھیں۔اجلاس کے دوران گنداخہ میں واٹر ٹینک کی تعمیر میں تاخیر کا سخت نوٹس لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ٹھیکیدار حمدان کو آخری نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ منصوبے کی تعمیر ہر صورت 30 اکتوبر 2026ء تک مکمل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور پانی کی فراہمی سے متعلق منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنا ضروری ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ تاریخ تک تعمیراتی کام مکمل نہ کیا گیا تو متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف ضابطے کے مطابق بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی کہ منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ کام کو مقررہ مدت میں مکمل کرایا جا سکے
اجلاس میں خواتین کی کھلی کچہری کے دوران سامنے آنے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کی جانب سے ان شکایات پر کی جانے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی شکایات کے حل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں
اجلاس میں زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس کی وصولی اور ادائیگی کی صورتِ حال پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ ٹیکس سے متعلق امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور وصولی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ سرکاری محصولات کی وصولی میں بہتری لائی جا سکے
شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور ٹھوس کچرے کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگانے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے اُستا محمد اور گنداخہ میں ٹھوس کچرے کو جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ چیف افسران کو تاکید کی کہ آبادیوں سے مناسب فاصلے پر موزوں جگہوں کا تعین کیا جائے اور صفائی کے نظام کو منظم بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں ان اقدامات کا مقصد شہری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنا، کچرے کے غیر مناسب ڈھیر ختم کرنا اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، عوامی شکایات کے فوری ازالے اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں میں معیار اور مقررہ مدت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے اور سرکاری امور کی انجام دہی میں غفلت یا غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد سے متعلق معاملات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عملی اقدامات کے ذریعے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔اجلاس میں چیف افسران اُستا محمد اور گنداخہ تحصیلداران اُستا محمد اور گنداخہ، ایگزیکٹو انجینئر محکمۂ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اُستا محمد، سب ڈویژنل افسر محکمۂ مواصلات اُستا محمد، سب انجینئر محکمۂ نکاسی آب اور سب اکاؤنٹنٹ دفتر ضلعی اکاؤنٹس افسر اُستا محمد نے شرکت کی
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے گی عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو متحرک رکھا جائے گا اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے

خبر نامہ نمبر 2026/9007
قلات15اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے BSDI کے تحت منظور شدہ ترقیاتی اسکیمات کا معائنہ کرنے کے لیے مینگل آباد، کوئنگ، شادیزئی اور سبزی منڈی کا دورہ کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سعید احمد ساسولی اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی خالق آباد عبدالوہاب نیچاری نے ڈپٹی کمشنر کو مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی اسکیمات، جن میں سیوریج سسٹم، اسٹریٹ لائٹس اور ٹف ٹائلز کی تنصیب کے کام شامل ہیں، کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار، تعمیراتی میٹریل کے معیار اور منصوبوں پر عمل درآمد کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی اسکیمات کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور تعمیراتی کاموں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے اس موقع پر کہا کہ عوام کو بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی اسکیمات میں ناقص میٹریل کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام کام مقررہ معیار اور منظور شدہ منصوبے کے مطابق مکمل کیے جائیں۔انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ متعلقہ ٹھیکیداروں کو کام کی رفتار مزید تیز کرنے اور تعمیراتی معیار برقرار رکھنے کا پابند بنایا جائے، جبکہ جاری منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام ان ترقیاتی اسکیمات سے جلد اور بھرپور استفادہ کر سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/9008
کوہلو15 اکتوبر :ـحکومتِ بلوچستان کی تعلیمی اصلاحات اور سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے تحت ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون اور ڈی او ای حفیظ اللہ مری نے ضلع کوہلو کے مختلف سرکاری اسکولوں کا اچانک دورہ کیا اور تعلیمی سرگرمیوں، عملے کی حاضری اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلی ملک جانان کوہلو کا معائنہ کیا گیا، جہاں اسکول غیر فعال پایا گیا اور مرکزی دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ اسکول کی بندش اور عملے کی مسلسل غیر حاضری کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام نے ہیڈ مسٹریس اور تمام تدریسی عملے کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی ای او فیمیل بارکھان کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔بعد ازاں افسران نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کلی جلات خان اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول نیاز محمد کا بھی معائنہ کیا، جہاں کلسٹر کے تحت فراہم کیے جانے والے سامان کی عدم دستیابی کا انکشاف ہوا۔ اس موقع پر متعلقہ کلسٹر ہیڈ کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ دونوں اسکولوں کو درکار سامان اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔
افسران نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول میاں خان چرمی کا بھی دورہ کیا اور تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈاکٹر محمد سلیم زرکون نے واضح کیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں غیر حاضری، غفلت اور فرائض میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے نگرانی کا عمل جاری رہے گا، جبکہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9009
جھل مگسی15اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد کی زیرِ صدارت ٹرانسپورٹرز اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا اہم اجلاس طلب کیا گیا مسافروں سے وصول کیے جانے والے کرایوں، سفری سہولیات، نوتال تا گنداواہ شاہراہ کی خستہ حالی اور سیکیورٹی کے معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ کی ہدایات کی روشنی میں آج اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد کی زیرِ صدارت گنداواہ سے جیکب آباد کے درمیان چلنے والی ویگنوں کے ٹرانسپورٹرز اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کو درپیش سفری مسائل، مسافروں سے وصول کیے جانے والے کرایوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر محمد رمضان کرد نے ٹرانسپورٹرز اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں سے کرایوں کی وصولی میں مقررہ نرخوں اور متعلقہ حکومتی ہدایات کو مدنظر رکھا جائے اور عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ عوام کی روزمرہ ضروریات کا اہم حصہ ہے، اس لیے ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، مسافروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور ان کی سہولت و تحفظ کو ترجیح دیں اسسٹنٹ کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق عوامی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ گنداواہ سے جیکب آباد تک سفر کرنے والے شہریوں کو بہتر، محفوظ اور مناسب سفری سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے معاملات میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی اجلاس میں ٹرانسپورٹرز اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے نوٹال تا گنداواہ شاہراہ کی خستہ حالی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کی خراب صورتحال کے باعث گاڑیوں کی آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں، جس سے نہ صرف مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹرز کو بھی سفری امور کی انجام دہی میں دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شاہراہ کی مرمت اور بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے اور مسافروں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکےاس موقع پر ٹرانسپورٹرز اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے مسافروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے تحفظ کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ نوٹال تا گنداواہ اور گنداواہ سے جیکب آباد کے درمیان آمدورفت کے دوران سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ سفری ماحول کی فراہمی سے مسافروں کا اعتماد بحال ہوگا اور ٹرانسپورٹرز بھی بلا خوف و خطر اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے
اجلاس میں اس امر کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی، کرایوں کے معاملات میں مناسب نظم و ضبط، شاہراہوں کی بہتری اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ متعلقہ اداروں اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے۔ اس سلسلے میں عوامی مشکلات کے ازالے اور سفری نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا.

خبر نامہ نمبر 9010/2026
کوئٹہ15اکتوبر:_ صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے آج ڈی جی اسپورٹس کے ہمراہ صادق شہید فٹبال اسٹیڈیم کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے اسٹیڈیم کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور ضروری سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر گراؤنڈ انچارج نے اسٹیڈیم کی حالت، درپیش مشکلات اور درکار ضروریات کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی مشیر کھیل محترمہ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد اسٹیڈیم کی بحالی اور کھیلوں کے لیے درکار سہولیات کی بہتری کا درست جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صادق شہید اسٹیڈیم کی مکمل بحالی، ضروری سہولیات کی فراہمی اور اسپورٹس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ایک عملی اور جامع پلان پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کھیلوں کے لیے بہتر، فعال اور مناسب ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے ٹیلنٹ کو نکھار سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/9011
جھل مگسی15اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈی ایچ کیو ہسپتال گنداواہ ڈاکٹر منصور احمد کھوسہ کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گنداواہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کے استعمال، صفائی ستھرائی، ایمبولینس سروس اور بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری و مکمل ہونے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا
دورے کا مقصد ہسپتال میں صحت عامہ کی سہولیات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا مریضوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اور دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے انتظامی امور کا معائنہ کرنا تھا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور متعلقہ حکام سے طبی سہولیات کی فراہمی ادویات کے ذخیرے اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے معلومات حاصل کیں ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے میڈیکل اسٹور میں موجود ادویات کے اسٹاک کا معائنہ کیا اور میڈیکل اسٹور ڈپو MSD سے موصول ہونے والی ادویات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی دستیابی محفوظ ذخیرہ کرنے اور ضرورت کے مطابق مختلف طبی مراکز تک ان کی تقسیم کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ سرکاری وسائل کے درست استعمال اور ادویات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکےانہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت ادویات کے اسٹور روم کی سولرائزیشن کے منصوبے کا بھی معائنہ کیا اور اس حوالے سے موجودہ انتظامات کا جائزہ لیا سولر سسٹم کی تنصیب اور مؤثر فعالیت کو طبی اداروں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور ادویات کو محفوظ رکھنے کے انتظامات کے تناظر میں اہم قرار دیا گیادورے کے دوران بلڈ بینک کی موجودہ صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر انکشاف ہوا کہ BSDI کے تحت قائم کردہ بلڈ بینک تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا جس کے باعث اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے بلڈ بینک کی فعالیت مریضوں خصوصاً ہنگامی طبی صورتحال اور خون کی فوری ضرورت کے حامل افراد کے لیے اہمیت رکھتی ہےمعائنے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے ہسپتال کو فراہم کیے گئے بعض طبی آلات ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث تاحال استعمال میں نہیں لائے جا رہے اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبی آلات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبوں میں تربیت یافتہ اور ماہر طبی عملے کی دستیابی بھی ضروری ہے تاکہ سرکاری وسائل سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکےڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں موجود ایمبولینسز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جہاں متعدد ایمبولینسز غیر فعال پائی گئیں ایمبولینس سروس کی فعالیت مریضوں کو بروقت ہسپتال منتقل کرنے، حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے اس لیے غیر فعال گاڑیوں کی صورتحال متعلقہ حکام کی توجہ اور ضروری اقدامات کی متقاضی ہےاس موقع پر ہسپتال میں صفائی ستھرائی، مختلف شعبوں کی مجموعی انتظامی صورتحال اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی معائنہ کیا گیا۔ سرکاری ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور طبی سہولیات کی دستیابی مریضوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے اور صحت عامہ کے معیار کو بہتر بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہےڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ نے ہسپتال کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر توجہ مرکوز کی کہ دستیاب طبی وسائل، آلات اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں استعمال میں لانا ضروری ہے، تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں ضلعی انتظامیہ جھل مگسی کی جانب سے سرکاری صحت کے اداروں کی کارکردگی، طبی سہولیات کی دستیابی اور ترقیاتی منصوبوں کی فعالیت کا جائزہ لینے کے اقدامات کا مقصد عوام کو بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/9012
کوئٹہ 15اکتوبر:۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر، یونیسف کوآرڈینیٹر، تمام متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل/فیمیل) اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ تعلیم سے متعلق ریشنلائزیشن ڈیٹا، غیر حاضر ملازمین کے ریکارڈ اور نئے کنٹریکٹ ملازمین کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر RTMM کی جانب سے ضلع کے تمام اسکولوں میں حاضر اور غیر حاضر اساتذہ کا ڈیٹا پیش کیا گیا، جبکہ غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی سے متعلق تفصیلات بھی اجلاس میں پیش کی گئیں۔یونیسف کے نمائندے کی جانب سے کوئٹہ کے 6 اسکولوں میں جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ مختلف اسکولوں میں فراہم کی جانے والی تربیت اور اسکول ٹریننگ پروگرامز کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے، ریکارڈ کی درستگی، غیر حاضر ملازمین سے متعلق امور اور اسکولوں میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تعلیمی نظام کی بہتری، اساتذہ کی حاضری اور سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مؤثر نگرانی کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *