4th-October-2026

خبرنامہ نمبر8518/2026
کوئٹہ4 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگرچہ آج چھٹی کا دن تھا لیکن ورلڈ ٹیچرز ڈے اور ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی خاطر میں نے اس پروگرام میں شرکت کو اپنی چھٹی سے زیادہ اہم سمجھا۔ اساتذہ کرام کی عظمت اور کردار کو بیان کرتے وقت الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ خواتین ٹیچرز بچوں کی فطرت اور تعلیمی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں۔ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے اگر معیاری تعلیم کے فروغ کی خاطر چند لاکھ روپے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی فراہم کیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نجی تعلیمی اداروں کیلئے مختص گرانٹ کو دوبارہ بحال کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرونگا۔ گورنر بلوچستان نے منعقدہ تقریب میں ٹیبلو پیش کرنے والی بچیوں کیلئے ایک لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BBISE) کے چیرمین محمد اسحاق، ملک رشید کاکڑ اور لیاقت علی ہزارہ سمیت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اساتذہ کرام کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم، علم اور استاد کے مقام کو آج بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ پانچ اکتوبر کو ہر سال عالمی یومِ اساتذہ کے طور پر منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کے عظیم کردار، گرانقدر خدمات اور معاشرتی وقار کو اجاگر کرنا اور دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کیلئے اُن کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں استاد کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ استاد کسی بھی قوم کا محسن ہوتا ہے۔ استاد کا احترام کسی جغرافیے، نسل، زبان یا رنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ قدر ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں تہذیبیں بدلتی رہیں، نظام تبدیل ہوتے رہے لیکن استاد کا بنیادی کردار ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا موجودہ حکومت بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور لکھا پڑھا بلوچستان کے خواب کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ تعلیم کے مواقع کو وسیع کیا جائے اور بالخصوص صوبے کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے اُن بچوں تک بھی تعلیم کی روشنی پہنچائی جائے جو غربت، فاصلے یا بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث تعلیمی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ماں کی گود بچے کیلئے اولین تعلیمی درسگاہ ہے انہوں نے خواتین اساتذہ کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ آخر میں گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آپ علم کی شمعیں روشن کر رہے ہیں جبکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان شمعوں کو ہوا سے محفوظ رکھیں۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیچرز میں میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے ۔

خبرنامہ نمبر8519/2026
کوئٹہ: 4 اکتوبر :بلوچستان ہائی کورٹ نے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی ضلعی و یونین کونسل کی بنیاد پر ہونے والی ابتدائی تقرریوں کے بعد انہیں کوئٹہ منتقل کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ایسے تمام تبادلوں کے احکامات واپس لینے اور متعلقہ ملازمین کو ان کی اصل جائے تعیناتی پر بحال کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ انفرادی مقدمات میں عدالت کی جانب سے منظور شدہ احکامات کے علاوہ دیگر تمام متعلقہ تبادلوں پر نظرثانی کرکے عدالتی حکم پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ڈائریکٹر (اسکولز)، محکمہ تعلیم کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے۔ درخواست گزار خیر محمد شاہین کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ تعلیم میں بی پی ایس 01 سے بی پی ایس 15 تک کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تقرریاں یونین کونسل کی بنیاد پر، جبکہ بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی تقرریاں ڈویژنل بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ تاہم، متعلقہ علاقوں میں ابتدائی تقرری اور تعیناتی کے بعد بعض ملازمین مختلف طریقوں سے اپنا تبادلہ کوئٹہ ضلع میں کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئٹہ شہر کے مختلف اسکولوں، اداروں اور دیگر محکموں میں تعینات یا ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔درخواست میں مزید نشاندہی کی گئی کہ اس عمل کے باعث ملازمین کی اصل جائے تعیناتی پر منظور شدہ آسامیاں خالی ہوجاتی ہیں، جنہیں بعدازاں نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کے تحت مخصوص علاقوں کے لیے مختص آسامیوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو کوئٹہ منتقل کردیا جاتا ہے، جبکہ ان علاقوں کے مقامی طلبہ کو اساتذہ کی کمی اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عدالت کے مشاہدے کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف یونین کونسل اور ڈویژن کی بنیاد پر تقرریوں کا بنیادی مقصد متاثر ہوتا ہے بلکہ متعلقہ علاقوں کے باشندوں کے حقوق اور جائز مفادات بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس معاملے کو عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے عدالت نے سرکاری ملازمین کی منصفانہ تقسیم اور ان مقامات پر تدریسی و غیر تدریسی عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جہاں ان کی آسامیاں اصل میں منظور کی گئی تھیں۔عدالت نے ابتدائی مرحلے پر 21 اکتوبر 2025 کے حکم کے ذریعے محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ صوبے میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی مجموعی تعداد، فعال اور غیر فعال اسکولوں کی تفصیلات، اساتذہ کی دستیابی، منظور شدہ آسامیوں اور خالی اسامیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے خالی آسامیوں کی وجوہات، بشمول ریٹائرمنٹ، وفات، استعفیٰ، ڈیپوٹیشن، تبادلوں، شادی کی پالیسی، غیر معمولی رخصت، مستقل ایڈجسٹمنٹ اور دیگر متعلقہ وجوہات کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔17 ستمبر 2026 کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری تعلیم لال جان جعفر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بعض اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم معاملے کی دیرینہ نوعیت کے پیش نظر مزید وقت درکار ہے تاکہ ایک جامع رپورٹ مرتب کی جاسکے۔بعدازاں 1 اکتوبر 2026 کو سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ کسی بھی ضلع سے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو کوئٹہ ضلع منتقل کرنے اور تعینات کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم غیر معمولی حالات میں اس پابندی میں نرمی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔عدالت نے معاملے کی سنگینی اور عوامی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب دہندگان کو ہدایت کی کہ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو ان کے اصل مقامات سے کسی دوسرے اسٹیشن یا ضلع، بالخصوص کوئٹہ ضلع منتقل کرنے کے تمام متعلقہ احکامات واپس لینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ ایسے تمام ملازمین کو ان کی اصل جائے تعیناتی پر بحال یا دوبارہ تعینات کیا جائے، سوائے ان معاملات کے جن میں عدالت نے انفرادی طور پر کوئی حکم صادر کیا ہو۔عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ افسران اور ملازمین اپنی اصل جائے تعیناتی پر پہنچ کر باقاعدہ جوائننگ رپورٹ جمع کرائیں گے، جبکہ محکمہ تعلیم کے حکام عدالتی حکم پر اس کی روح اور منشا کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ اس ضمن میں تمام متعلقہ ملازمین کی جوائننگ رپورٹس اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی تفصیلات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ بھی آئندہ سماعت پر یا اس سے قبل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے حکم نامے کی نقول ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے ذریعے چیف سیکرٹری بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری کالجز و اعلیٰ تعلیم اور سیکرٹری تعلیم (اسکولز) کو ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے سیکرٹریٹ کی سطح پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی فوری اقدامات کرسکے اور سیکرٹری تعلیم (اسکولز) کے ذریعے اس حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کی جاسکے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 نومبر 2026 تک ملتوی کردی۔

خبرنامہ نمبر8520/2026
کوئٹہ، 04 اکتوبر 2026 حکومت بلوچستان نے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دنیا بھر کی 100 سے زائد ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس پروگرام کے لیے رواں سال امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ پروگرام کے تحت بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو دنیا کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق ہر سال بلوچستان سے 10 باصلاحیت امیدواروں کو بیرون ملک ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے اسکالرشپس فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جدید علمی مواقع تک رسائی فراہم کرنا اور انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنا ہے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان کے 6 باصلاحیت امیدوار مختلف ممالک کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جاچکے ہیں۔ ان میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی فرزانہ انور کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں مالیکیولر اینڈ سیل بائیولوجی، بارکھان کے اکبر جان کو ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن میں فوڈ سپائیلج اینڈ فوڈ سیفٹی، قلعہ سیف اللہ کے عمران خان کو کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا میں ایگریکلچر، فاریسٹ بائیولوجی اینڈ، کوہلو کی حمیرا یونس کو آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ میں پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، خاران کی ماہ نور سید کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل میں جینڈر پیریٹی جبکہ قلات کے عبدالقاہر کو ملائیشیا کی یونیورسٹی ملاي ا میں اسٹرکچر کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپ فراہم کی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی سطح کے پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے اجرا پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام بلوچستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ نوجوانوں کو دنیا کی بہترین جامعات تک پہنچانے کا سفر شروع ہوچکا ہے اور یہ دراصل بلوچستان کے مستقبل کو بدلنے کا سفر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا نوجوان مواقع کی تلاش میں دنیا سے پیچھے نہیں رہے گا اور دنیا کی بہترین جامعات بلوچستان کے نوجوانوں کا مقدر بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اسکالرشپس نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے لیے امید، علم اور ترقی کے نئے دروازے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ علم و شعور اور نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق تھام کر پہاڑوں میں چھپنے والے نہیں بلکہ کتاب تھام کر دنیا کی ممتاز جامعات میں علم و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے نوجوان ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو دنیا کی ممتاز جامعات تک پہنچا کر علم و تحقیق کے عالمی نقشے پر انہیں نمایاں مقام دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے عالمی مواقع فراہم کرنا بلوچستان کے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ہے، جس کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔

خبرنامہ نمبر8521/2026
کوئٹہ 4 اکتوبر 2026: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ استاد صرف علم منتقل نہیں کرتا بلکہ وہ نئی نسل کی سوچ، کردار اور مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، معاشرے کی علمی و سماجی ترقی میں اساتذہ کی خدمات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے یہ بات اساتذہ کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے جاری کردہ بیان میں کہی۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے اساتذہ بالخصوص دور دراز علاقوں میں محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی محنت اور خدمات احترام اور تحسین کی مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں خواتین اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہے، ایک تعلیم یافتہ بچی آگے چل کر اپنے خاندان اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے اور اس پورے سفر میں استاد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان صوبے میں تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے اور تدریسی معیار بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ تعلیمی اداروں کو فعال اور تدریسی عمل کو مؤثر بنانا صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔صوبائی مشیر نے مزید کہا کہ اساتذہ کو جدید تدریسی تربیت، بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری سہولیات کی فراہمی تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے ضروری ہے، کیونکہ معیاری تعلیم کا براہِ راست تعلق ایک قابل اور بااختیار تدریسی نظام سے ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ اساتذہ کی محنت کے اثرات کلاس روم تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، اس لیے استاد کا احترام اور اس کی خدمات کا اعتراف ایک مہذب اور علم دوست معاشرے کی پہچان ہے۔

خبرنامہ نمبر8522/2026
کوئٹہ، 4 ستمبر 2026: انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے ژوب کا دورہ کیا جہاں آمد پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔دورے کے دوران ڈی آئی جی ژوب نے آئی جی بلوچستان کو ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، پولیس کی کارکردگی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آئی جی پولیس محمد طاہر نے افسران اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فرائض کی مؤثر انجام دہی کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔بعد ازاں آئی جی بلوچستان نے ژوب میں منعقدہ پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے براہ راست ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ محنت، لگن اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔دورہ ژوب کے موقع پر آئی جی بلوچستان نے شہداء پولیس کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل و خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کے شہداء ہمارا فخر ہیں اور ان کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ پولیس شہداء کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔آئی جی پولیس محمد طاہر نے علاقے کے معتبرین اور عمائدین سے بھی ملاقات کی، جس میں امن و امان کی صورتحال اور دیگر عوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے پولیس اور عوام کا باہمی تعاون ناگزیر ہے اور مقامی معتبرین اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں نبھاتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر8523/2026
کوئٹہ 4 اکتوبر ۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے ہزارگنجی میں تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی۔کارروائی کے دوران مختلف مقامات پر قائم تجاوزات کو ہٹا کر راستے کلئر کروا دیے گئے، جبکہ غیر قانونی طور پر قائم کیبنز کے مالکان کو تین دن کے اندر اپنی تجاوزات ازخود ختم کرنے کی سخت ہدایت کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے اندر تجاوزات ختم نہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر گرفتاری بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے گا اور سرکاری و عوامی مقامات پر غیر قانونی قبضے یا تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔کارروائی میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور مارکیٹ کمیٹی کے نمائندگان بھی شریک تھے۔

خبرنامہ نمبر 5824/2026
کوئٹہ، 04 اکتوبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اساتذہ معاشرے کی تعمیر، نئی نسل کی کردار سازی اور مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، حکومت بلوچستان اساتذہ کے پیشہ ورانہ وقار کو بلند کرنے، انہیں بہتر تدریسی ماحول فراہم کرنے اور ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سال عالمی یوم اساتذہ کا موضوع ’’اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہونا، پیشے کا تحفظ، اساتذہ کے مقام کو بلند کرنا اور ہمارے مستقبل کی تشکیل‘‘ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ معیاری تعلیم کے لیے اساتذہ کو بااختیار بنانا اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق و مقام کا تحفظ ناگزیر ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو برس کے دوران مختلف اقدامات کے ذریعے 7 لاکھ 86 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں 2 لاکھ 31 ہزار جبکہ سال 2026 میں اب تک 2 لاکھ 81 ہزار بچوں کا اسکولوں میں داخلہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کمیونٹی اسکولوں کے ذریعے ایک لاکھ 54 ہزار بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے، جبکہ غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے کے عمل کے نتیجے میں 95 ہزار سے زائد بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 86 ہزار سے زائد بچے تعلیم کے دائرے میں آئے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں تک لانے کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان نے تدریسی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے 15 ہزار سے زائد اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اور تدریسی ماحول کی بہتری کے لیے بھی متعدد منصوبے جاری ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 ہزار سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں جبکہ مزید 1,800 اسکولوں کے قیام پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت سے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے پی ٹی ایس ایم سی منصوبہ بھی جاری ہے، جس کی مجموعی تخمینی لاگت 6 ارب روپے ہے۔ منصوبے کے تحت 2 ہزار اسکولوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 3,640 کلاس رومز تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ایک کمرے والے اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کا مقصد طلبہ کو بہتر، محفوظ اور موزوں تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ حکومت بلوچستان اسکولوں کی فعالیت، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی دستیابی کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر بلوچستان کے تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ استاد صرف علم منتقل کرنے والا نہیں بلکہ بچوں کی شخصیت، کردار اور سوچ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں اساتذہ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان اساتذہ کے لیے بہتر تدریسی ماحول، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور طلبہ کے لیے معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے تعلیم اور اساتذہ پر سرمایہ کاری دراصل صوبے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا مقصد ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہو، ہر اسکول فعال ہو اور ہر استاد کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے ضروری سہولیات اور سازگار ماحول میسر ہو۔

خبرنامہ نمبر 5826/2026
کوئٹہ، 5 اکتوبر 2026: سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ بلوچستان لعل جان جعفر نے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے حقیقی معمار ہیں، جو نئی نسل کو علم کی روشنی سے منور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کا حصول باصلاحیت، تربیت یافتہ، باوقار اور پیشہ ورانہ طور پر مضبوط اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے اساتذہ کو تعلیم کے پورے نظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ اساتذہ کا موضوع ’’اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں: پیشے کے تحفظ، اس کی حیثیت کے فروغ اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے 60 سال‘‘ اس حقیقت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ اساتذہ کے پیشہ ورانہ وقار، حقوق، استعدادِ کار اور سازگار تدریسی ماحول کو یقینی بنانا تعلیمی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ لعل جان جعفر نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع و متنوع صوبے میں اساتذہ نہ صرف بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں علم کی شمع روشن کرکے معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بھی مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا تعلیم دوست وژن صوبے کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے، جس میں اساتذہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی شعبے میں اصلاحات، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول کی فراہمی اور تدریسی معیار میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو محض نصابی علم نہیں بلکہ تحقیق، تخلیقی سوچ، کردار سازی اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ صلاحیتیں بھی حاصل ہوں۔ سیکرٹری سیکنڈری اسکولز نے کہا کہ ایک مضبوط تعلیمی نظام کی کامیابی کا انحصار اساتذہ کی صلاحیت، عزم اور پیشہ ورانہ وابستگی پر ہے، اس لیے اساتذہ کے مقام و وقار کو بلند کرنا اور انہیں ضروری سہولیات و تربیت فراہم کرنا حکومت کی تعلیمی ترجیحات کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر بلوچستان بھر کے تمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت، لگن اور احساسِ ذمہ داری ہی ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور ترقی یافتہ بلوچستان کی بنیاد ہے، محکمہ سیکنڈری اسکولز اساتذہ کے پیشہ ورانہ وقار کے تحفظ، ان کی استعدادِ کار میں اضافے اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتا رہے گا۔

خبرنامہ نمبر 5827/2026
استا محمد۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے طلباء والدین، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کو مکمل آگاہی فراہم کرنے کے لیے 6 اکتوبر 2026ء بروز منگل صبح 11 بجے میونسپل کارپوریشن ہال استا محمد میں ویڈیو لنک کے ذریعے خصوصی آگاہی سیشن منعقد کیا جائے گا
ڈپٹی کمشنر استا محمد کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق مذکورہ آگاہی سیشن کا مقصد BEEF اسکالرشپ پروگرام کے تحت مستحق اور اہل طلباء کو فراہم کیے جانے والے تعلیمی وظائف اور سہولیات سے متعلق جامع معلومات فراہم کرنا ہے سیشن کے دوران طلباء اور ان کے والدین کو اسکالرشپ کے لیے اہلیت کے معیار تعلیمی قابلیت درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار، ضروری دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا
اس موقع پر متعلقہ ماہرین اور ذمہ داران کی جانب سے شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے جائیں گے تاکہ طلباء اور والدین کو اسکالرشپ کے حصول کے حوالے سے درپیش کسی بھی ابہام کو دور کیا جا سکے اور اہل طلباء بروقت درخواستیں جمع کرا سکیں
ڈپٹی کمشنر استا محمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر استا محمد، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، سرکاری کالجز کے پرنسپلز، سرکاری بوائز و گرلز ہائی اسکولز کے ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریسز، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نجی تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کے اساتذہ و ٹیوٹرز کو آگاہی سیشن میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے
اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور تمام متعلقہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں زیر تعلیم BEEF اسکالرشپ کے ممکنہ طور پر اہل طلباء اور ان کے والدین تک اس پروگرام کی معلومات زیادہ سے زیادہ پہنچائیں تاکہ کسی بھی مستحق طالب علم کو معلومات کی عدم دستیابی کے باعث اسکالرشپ کے حصول کے موقع سے محروم نہ ہونا پڑے۔ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے متعلقہ افسران اور تعلیمی اداروں کے سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ BEEF اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے آگاہی کو مؤثر بنانے، اہل طلباء کی نشاندہی کرنے اور انہیں درخواست کے طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور اہل طلباء اس تعلیمی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *