خبرنامہ نمبر8499/2026
اسلام آباد، 3 اکتوبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ساخت، سیاسی ارتقا اور موجودہ زمینی حقائق کو ایک مربوط تناظر میں دیکھنا ہوگا، محض مخصوص واقعات یا یک طرفہ بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے ماضی اور حال کو سمجھنا ممکن نہیں، بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل مؤثر گورننس، میرٹوکریسی کے فروغ، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے لیے مواقع، معاشی ترقی اور ریاستی رٹ کے مؤثر نفاذ سے جڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں ‘ خصوصی لیکچر کے دوران کیا، جہاں انہیں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا خطہ ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ رکھتا ہے اور مہرگڑھ اس کی قدیم تہذیبی اہمیت کا نمایاں ثبوت ہے۔مختلف ادوار میں یہاں مقامی معاشروں، قبائلی نظام، خانیت قلات، برطانوی دور اور بعد ازاں پاکستان کے سیاسی و انتظامی نظام سمیت مختلف حکومتی و سیاسی ڈھانچے تشکیل پاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کے مختلف ادوار کو ان کے مخصوص سیاسی، سماجی اور علاقائی حالات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے تاریخی معاملات پر رائے قائم کرتے وقت اصل ماخذ اور مستند دستاویزی ریکارڈ و مصدقہ حوالہ جات سے رجوع کیا جانا چاہیے، بالخصوص بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سمیت اہم تاریخی معاملات کو جذباتی یا یک طرفہ بیانیے کے بجائے تاریخی شواہد کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے پسماندگی کو واحد سبب قرار دینا درست نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں ترقیاتی تفاوت موجود ہے تاہم کسی بھی علاقے کی محرومی یا پسماندگی کو تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ حقائق اور تصورات میں فرق کو سمجھنا اور موجودہ صورتحال کا تجزیہ زمینی حقائق کی بنیاد پر کرنا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس مقصد کے لیے حکومت ہر سطح پر نوجوانوں کو سن رہی ہے اور ان کے مسائل کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے عوامی خدمات کے شعبوں میں اسی مقصد کے تحت متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اے آئی بیسڈ سو فیصد میرٹ پر بھرتیاں، ہزاروں غیر فعال اسکولوں کی بحالی، آؤٹ آف اسکول بچوں کی واپسی، نئے اسکولوں اور کلاس رومز کا قیام، کنٹریکٹ کے تحت میرٹ پر 17 ہزار کے لگ بھگ اساتذہ کی بھرتی، صحت کی سہولیات میں توسیع اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط کرنا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں۔ امن و امان کے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید پولیسنگ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، مؤثر پراسیکیوشن اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر ریاست کی پوری توجہ ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ بلوچستان میں ایسا ماحول بھی پیدا کررہے ہیں جہاں نوجوان تشدد کے بجائے تعلیم، روزگار اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنے مستقبل کا راستہ بنائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی عمل موجود ہے اور حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی اختلاف اور مسائل کے حل کے تمام جمہوری راستے کھلے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل پر قومی سطح کی بحث تحقیق اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ حقائق کو تصورات سے الگ کرکے پالیسی سازی کو زمینی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار راستہ آئین، جمہوری سیاست، مؤثر گورننس، تعلیم، معاشی مواقع اور امن و امان کے باہمی امتزاج میں ہے۔ ماضی کو درست طور پر سمجھتے ہوئے حال کے چیلنجز کا حقیقت پسندانہ جائزہ اور مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ہی بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی جانب آگے لے جاسکتی ہے۔ جس کے لئے ہم کوشاں ہیں۔
خبرنامہ نمبر8500/2026
کوئٹہ، 03 اکتوبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع واشک کے علاقے گورندر، ماشکیل میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز عزمِ استحکام ویژن کے تحت ملک بھر سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی اور ملک و صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر8501/2026
کوئٹہ، 3 اکتوبر : بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرام کا آغاز ہوگیا ہے، پہلے مرحلے میں صوبے کے تمام اضلاع سے 500 نوجوانوں کو تین ماہ کی تربیت فراہم کی جائے گی حکام کے مطابق چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کا مجموعی ہدف ایک ہزار نوجوانوں کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنا ہے، پہلے مرحلے کے بیچ میں 400 مرد اور 100 خواتین امیدوار شامل ہیں۔ تربیتی پروگرام کے تحت نوجوانوں کو سیلز اینڈ مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیویلپمنٹ اور سائبر سیکیورٹی سمیت جدید شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد انہیں روزگار، کاروبار اور فری لانسنگ کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے سافٹ وئر ہاؤسز، آئی ٹی اور آن لائن مارکیٹنگ کمپنیوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں آئی ٹی سیکیورٹی، ڈیٹا مینجمنٹ، میڈیا اور پبلک ریلیشنز کے شعبوں میں بھی ملازمت کے امکانات موجود ہوں گے۔ پروگرام کے ذریعے تربیت یافتہ نوجوان ذاتی آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل ایجنسیز اور فری لانسنگ کے ذریعے بھی معاشی مواقع حاصل کرسکیں گے اور جدید ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیف منسٹر ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرام کے آغاز پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی خودمختاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی، حکومت بلوچستان نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور انہیں باعزت روزگار سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کا تسلسل جاری رکھے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں، حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو معاشی ترقی میں بروئے کار لانے کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں کو مزید وسعت دے گی۔
خبرنامہ نمبر8502/2026
گوادر: کمشنرمکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے اپنے دو روزہ دورہ گوادر کے دوران ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت مکمل ہونے والے فٹسال گراؤنڈ بلوچ وارڈ کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان، ضلعی انتظامیہ کے افسران، فٹبال کے کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کے کھیلوں سے متعلق مسائل اور ضروریات دریافت کیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں کھیلوں کا اہم کردار ہے، اس لیے نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بعد ازاں کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے کھلاڑیوں کے ہمراہ فٹبال کو کک لگا کر میچ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ اور ضلعی افسران کے ہمراہ فٹبال میچ بھی دیکھا اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا۔کمشنر مکران نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے، کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مقامی ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8503/2026
گوادر: کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے گوادر کے دو روزہ دورے کے دوران ہاؤسنگ اسکیموں سے متعلق اسٹئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں گوادر کی مختلف ہاؤسنگ اسکیموں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری، رہائشیوں کو درپیش مسائل کے حل اور ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران چئرمین اسٹئرنگ کمیٹی کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کی زیرِ صدارت ہاؤسنگ اسکیموں کی اپ لفٹنگ اور رہائشیوں کو جدید طرز کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم میں مختلف بلیک ٹاپ سڑکوں کی تعمیر، سولرلائٹس سسٹم کی تنصیب، نیو ٹاؤن کی تمام مشینری کی مرمت اور دیگر ضروری اقدامات کی منظوری دی گئی، تاکہ ہاؤسنگ اسکیم میں بنیادی سہولیات اور متعلقہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔اسی طرح مانبر ہاؤسنگ اسکیم کے ڈویلپمنٹ چارجز پانچ فیصد سے کم کرکے دو فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں مانبر ہاؤسنگ اسکیم، اچار ہاؤسنگ اسکیم اورماڑہ اور بلوچستان ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کے لیے مین گیٹ، اپ لفٹنگ، سڑکوں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے متعلق منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں گوادر کی سماجی و فلاحی ترقی سے متعلق منصوبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس سلسلے میں وومن مارکیٹ گوادر، تلسمیہ سینٹر، ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر اور سید ظہور شاہ ہاشمی ڈیجیٹل لائبریری کے لیے انڈومنٹ فنڈز کی منظوری دی گئی، تاکہ ان اداروں کی پائیدار بنیادوں پر فعالیت اور شہریوں، بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران سنگار ہاؤسنگ اسکیم، نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم، مانبر ہاؤسنگ اسکیم سمیت گوادر کی دیگر ہاؤسنگ اسکیموں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف تجاویز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ٹرانسفر چارجز، ڈویلپمنٹ چارجز، سڑکوں، انفراسٹرکچر، بجلی، پانی، پارکس، چار دیواری و فینسنگ، اسٹریٹ لائٹس، سیکیورٹی اور رہائشیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔اسٹئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ہاؤسنگ اسکیموں میں موجود بنیادی سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور شہریوں کو درپیش مسائل کے بروقت حل کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اس کے علاوہ سید ظہور شاہ ہاشمی ڈیجیٹل لائبریری، تلسمیہ سینٹر گوادر، ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر اور دیگر فلاحی و سماجی ترقی کے منصوبوں سے متعلق امور بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔ ان منصوبوں کا مقصد شہریوں، بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کے لیے تعلیمی، سماجی، فلاحی اور بحالی کی سہولیات کو مزید بہتر بنانا ہے۔کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے اجلاس میں پیش کیے گئے مختلف منصوبوں اور تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں اور اسٹئرنگ کمیٹی میں پیش کیے گئے قابلِ عمل منصوبوں اور تجاویز کی منظوری دی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ اسکیموں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔کمشنر مکران نے اس امر پر زور دیا کہ گوادر میں شہریوں کو بہتر رہائشی سہولیات کی فراہمی، ہاؤسنگ اسکیموں کے انفراسٹرکچر کی اپ لفٹنگ اور سماجی ترقی کے منصوبوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ گوادر کی مجموعی ترقی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) گوادر ڈاکٹر عبدالشکور، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد بلوچ، انجینئر حمزہ بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر8504/2026
گوادر: کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کی زیرِ صدارت سیٹلمنٹ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع گوادر میں مختلف مواضعات کی زمینوں کے سیٹلمنٹ، ریکارڈ کی تکمیل اور ضلعی انتظامیہ کو ریکارڈ کی منتقلی سے متعلق احکامات جاری کیے گئے۔کمشنر مکران نے اجلاس کے دوران ضلع گوادر کے مختلف مواضعات میں جاری سیٹلمنٹ کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے احکامات جاری کیے۔ اجلاس میں سیٹلمنٹ ریکارڈ اور زیرِ تکمیل امور پر کمشنر مکران کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف مواضعات کی زمینوں کے ریکارڈ کی تکمیل کا عمل جاری ہے، جسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے ہدایت کی کہ ضلع گوادر میں زمینوں کے سیٹلمنٹ کے عمل کی بروقت تکمیل کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جارہی ہے جو سیٹلمنٹ کے کام کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے گی اور زیرِ التوا امور کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ جن مواضعات کا سیٹلمنٹ مکمل ہو چکا ہے، ان کا ریکارڈ آئندہ ایک ہفتے کے اندر ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے، تاکہ زمینوں کے ریکارڈ کو باقاعدہ طور پر محفوظ اور متعلقہ محکمے کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔کمشنر مکران نے مزید کہا کہ سیٹلمنٹ کے عمل کی تکمیل میں جہاں اضافی اسٹاف کی ضرورت ہو، وہاں ضرورت کے مطابق اسٹاف فراہم کیا جائے گا، تاکہ ضلع گوادر میں زمینوں کا ریکارڈ جلد از جلد مکمل، درست اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیٹلمنٹ کے عمل میں درپیش انتظامی یا دیگر ضروری امور کے حل کے لیے کمشنر آفس کی جانب سے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سیٹلمنٹ کے عمل میں مقررہ اہداف کے حصول، ریکارڈ کی درستگی اور بروقت منتقلی کو یقینی بناتے ہوئے تمام امور کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس کے علاوہ کمشنر مکران نے تنبیہ کی کہ جس اسٹاف نے سیٹلمنٹ کے عمل میں تعاون نہیں کیا یا سستی دکھائی، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور انہیں سروس سے ڈسمس کیا جائے گا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، سیٹلمنٹ آفیسر مکران ڈویژن زاہد لانگو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) گوادر ظہور بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) گوادر ڈاکٹر عبدالشکور، تحصیلدار سیٹلمنٹ گوادر اکبر بلوچ سمیت محکمہ ریونیو و سیٹلمنٹ کے دیگر افسران اور متعلقہ اسٹاف نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر8505/2026
گوادر03 اکتوبر2026: کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ نے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے ہمراہ یونیورسٹی آف گوادر کے پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد سے ملاقات کی پرووائس چانسلر نے کمشنر مکران کو یونیورسٹی اور پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے تعلیمی، انتظامی، مالی اور ترقیاتی امور، جاری منصوبوں، طلبہ کو فراہم سہولیات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر یونیورسٹی کو درپیش مالی و انتظامی امور، وسائل کی دستیابی، ادارہ جاتی کارکردگی اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل بلوچ نے گوادر میں اعلیٰ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیمی مواقع کے فروغ میں یونیورسٹی آف گوادر کے کردار کو سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے یونیورسٹی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری مزید مؤثر بنانے پر زور دیا بعد ازاں کمشنر مکران نے پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے مختلف شعبوں اور حال ہی میں قائم آئی ٹی ہب لیبارٹریز کا معائنہ کیا، جہاں انہیں فنی و پیشہ ورانہ تربیتی سرگرمیوں اور جدید سہولیات سے آگاہ کیا گیا.’
خبرنامہ نمبر8506/2026
تمپ: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ، ڈاکٹر نوروز یعقوب کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تمپ کے مادر و بچہ صحت مرکز (MCH) میں عوام کا اعتماد بحال کرنے اور ماں و بچے کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں زچگی کی سہولیات کو مؤثر بنانے اور خواتین کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ، ڈاکٹر نوروز یعقوب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ زچگی اور ڈلیوری کے لیے ڈی ایچ کیو تمپ کے مادر و بچہ صحت مرکز سے رجوع کریں، جہاں 24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ محفوظ زچگی کے لیے بروقت طبی امداد کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ زچگی کے دوران کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بچاؤ اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے مستند طبی عملے کی خدمات حاصل کریں۔ بروقت طبی معائنہ اور مناسب طبی سہولیات ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے عوام کو سرکاری صحت مراکز میں دستیاب سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔محکمہ صحت تمپ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری صحت مراکز پر اعتماد کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔ مادر و بچہ صحت مرکز تمپ میں 24 گھنٹے زچگی کی سہولیات کی دستیابی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور محفوظ زچگی کے فروغ کے لیے محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کریں۔
خبرنامہ نمبر8507/2026
لورالائی:3اکتوبر: یونیورسٹی آف لورالائی میں ترکیہ کے تعاون و رابطہ ایجنسی TIKA (Turkish Cooperation and Coordination Agency) کی جانب سے فراہم کردہ جدید زیتون کا تیل نکالنے کے یونٹ (Olive Oil Extraction Unit) کی کامیابی سے تنصیب کر دی گئی ہے۔ جدید مشینری کی فراہمی اور تنصیب یونیورسٹی میں تحقیق، تدریسی سرگرمیوں، عملی تربیت، جدت، زیتون کی کاشت اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہییونیورسٹی آف لورالائی کی جانب سے TIKA کا اس قیمتی تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ TIKA کی جانب سے فراہم کردہ یہ جدید سہولت طلبہ، اساتذہ، محققین اورمتعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے تحقیق اور عملی تربیت کے نئے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ زراعت، زیتون کی کاشت اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں بھی عملی استعداد کو فروغ ملے گایونیورسٹی حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات، باہمی تعاون اور ادارہ جاتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ TIKA کی جانب سے تعلیمی، تحقیقی، زرعی اور استعدادِ کار میں اضافے کے منصوبوں میں تعاون دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزیدمستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہیاس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کی دور اندیش قیادت اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے ان کے وژن کو بھی نمایاں قرار دیا گیا۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی تحقیق پر مبنی ترقی، جدت، کمیونٹی انگیجمنٹ انٹرپرینیورشپ، پائیدار زراعت اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مفید شراکت داری کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہییونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق زیتون کا تیل نکالنے کے جدید یونٹ کا قیام اسی وژن کا عملی تسلسل ہے، جس کے ذریعے طلبہ اور محققین کو زیتون کی پیداوار، تیل نکالنے کے جدید طریقہ کار، ویلیو ایڈیشن اور متعلقہ تکنیکی شعبوں میں عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گییونیورسٹی آف لورالائی نے TIKA کے اس گراں قدر تعاون پر ایک بار پھر اپنی گہری تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی تحقیق، جدت، زراعت ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیت اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں ترکیہ اور دیگر قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
خبرنامہ نمبر8508/2026
دُکی،3اکتوبر : ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے دُکی بازار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف دکانوں، بیکریوں، نان بائی کی دکانوں، ہوٹلز اور دیگر کاروباری مراکز کا معائنہ کیادورے کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد، پرائس لسٹ کی دستیابی اور اسے نمایاں مقام پر آویزاں کرنے، اشیائے خوردونوش کے معیار، وزن و پیمائش صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں سمیت دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق فراہم کی جائیں اور کسی بھی صورت مقررہ نرخوں سے زائد وصولی، ناجائز منافع خوری یا غیر معیاری اشیاء کی فروخت سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دکاندار اپنی دکان پر سرکاری نرخ نامہ واضح اور نمایاں جگہ پر آویزاں کرے تاکہ صارفین کو اشیاء کی قیمتوں سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہو اور کسی قسم کی شکایت کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکیانہوں نے بیکریوں، نان بائی کی دکانوں اور ہوٹلز کے مالکان کو بھی صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری، ذخیرہ اور فروخت کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی لازمی ہے۔ دکانوں اور کاروباری مراکز کے اندر و اطراف میں صفائی کا مناسب انتظام رکھا جائے اور عوام کو صاف ستھری اور معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائیدورانِ معائنہ سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی اور دیگر بے ضابطگیوں کے مرتکب بعض دکانداروں پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ بعض کو آئندہ خلاف ورزی سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے وارننگ جاری کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی، ناجائز منافع خوری، گرانفروشی، غیر معیاری اشیاء کی فروخت اور صفائی کے ناقص انتظامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور معیار کو باقاعدہ مانیٹر کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دُکی بازار سمیت مختلف علاقوں میں اچانک معائنے اور چیکنگ کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گیانہوں نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، سرکاری نرخ نامے کی مکمل پابندی کریں، صفائی ستھرائی کے معیار کو برقرار رکھیں اور عوام کو معیاری اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فراہم کریں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خبرنامہ نمبر8509/2026
دُکی: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت پولیو SNID ستمبر 2026 مہم کے بعد پوسٹ کمپین ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، ڈی ایس پی علی حسن، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر جوہر خان شادوزئی، اے ڈی ایم پی پی ایچ آئی راز محمد ناصر، این-اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عبد الحمید، ڈی پی او ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر عبداللہ جان، سی سی او سعید احمد، یو سی ایم اوز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ستمبر 2026 کی پولیو مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی کوریج، رہ جانے والے بچوں، انکاری خاندانوں اور فیلڈ میں سامنے آنے والے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے مہم کی پیش رفت اور درپیش مسائل پر بریفنگ دی، جبکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رہ جانے والے بچوں کی فوری کوریج، انکاری خاندانوں کی مؤثر کاؤنسلنگ اور فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہدایت کی کہ ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے، انکاری اور رہ جانے والے بچوں کا بروقت فالو اَپ کیا جائے اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری و تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں تسلسل برقرار رکھنے پر زور دیا۔
خبرنامہ نمبر8510/2026
گوادر: کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے وومن مارکیٹ گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مارکیٹ میں قائم مختلف دکانوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور کاروبار سے وابستہ خواتین سے ملاقات کرکے انہیں درپیش مسائل اور ضروریات سے آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران کمشنر مکران نے خواتین کاروباری حضرات سے ان کے کاروبار، درپیش مشکلات، سہولیات کی دستیابی اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں دریافت کیا۔ خواتین نے مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے، بنیادی سہولیات کی بہتری اور مالی معاونت سمیت مختلف مسائل سے آگاہ کیا۔کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے خواتین کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مسائل کے حل اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے ذریعے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے، انہیں معاشی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے دستیاب معاونت و سہولیات سے استفادہ کرنے کے امور پر بھی بات چیت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کمشنر مکران کو وومن مارکیٹ کے قیام، موجودہ صورتحال، دکانوں، کاروباری سرگرمیوں اور خواتین کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔کمشنر مکران نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وومن مارکیٹ میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ خواتین اپنی معاشی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے سکیں اور خود روزگار کے مواقع سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر8511/2026
گوادر: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے دور? گوادر کے موقع پر سربندر کے ننھے گلوکار باقر اومان کے لیے جی ڈی اے اسکول میں اسکالرشپ کے تحت مفت تعلیم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔اس موقع پر میر ظہور بلیدی نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی جی ڈی اے کو خصوصی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ باقر اومان کو اسکالرشپ کی بنیاد پر جی ڈی اے اسکول میں مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے، تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھ سکیں اور اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ باصلاحیت بچوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ باقر اومان جیسے کم عمر اور باصلاحیت بچوں کو تعلیم کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مناسب تعلیمی ماحول اور سرپرستی ملنے سے باقر اومان مستقبل میں نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے بلکہ موسیقی کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں گے۔میر ظہور بلیدی کی جانب سے اس اقدام کو باقر اومان کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی فنی صلاحیتوں کو مزید پروان چڑھانے کا موقع ملے گا۔
خبرنامہ نمبر8516/2026
گواد 03 اکتوبر 2026 بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ فشریز کے زیرِ اہتمام مجوزہ بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 اور محکمہ فشریز میں اصلاحات کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس گوادر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت قائمہ کمیٹی کے چئرمین و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کی اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، رکن صوبائی اسمبلی عبدالمجید بادینی اور رکن صوبائی اسمبلی ظفر آغا صوبائی سیکرٹری فشریز طارق قمر، ایڈیشنل سیکرٹری قانون، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی،نے شرکت کی اس علاہ چئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان، ڈائریکٹر جنرل فشریز بلوچستان عتیق اللہ خان، ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم سمیت محکمہ فشریز کے حکام، ماہی گیروں سمیت سیاسی و سماجی شخصیات ماہرین، اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اجلاس میں فشریز کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ماہی گیروں کے حقوق کے تحفظ، سمندری حیات کے تحفظ، ایکوا کلچر کے فروغ اور مؤثر قانونی و انتظامی نظام کے قیام کے لیے مجوزہ قانون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ مجوزہ بل کی تیاری کے سلسلے میں گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران مختلف سطحوں پر ماہرین، ماہی گیروں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ متعدد مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے، جن کی روشنی میں بل کا مسودہ تیار کیا گیا ہے اجلاس میں ماہی گیروں نے غیر قانونی ٹرالرنگ، وائر نیٹ اور دیگر ممنوعہ جالوں کو سمندری حیات اور ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے مکمل خاتمے پر زور دیا۔ شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مچھلیوں کی افزائشِ نسل کے اوقات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر فش سیزن کلوزر پالیسی مرتب کی جائے، تاکہ سمندری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اجلاس میں محکمہ فشریز کے ریسرچ ونگ کو فعال بنانے، مستند ڈیٹا جمع کرنے، فشریز کونسل کے کردار کو مؤثر بنانے اور ماہی گیروں کے لیے مختص فنڈز و امداد شفاف تقسیم کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں چئرمین قائمہ کمیٹی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ مجوزہ قانون کو حتمی شکل دینے سے قبل مقامی ماہی گیروں اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ ایسا قانونی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے جو ماہی گیروں کے مفادات، سمندری وسائل کے تحفظ اور فشریز کے شعبے کی پائیدار ترقی کے تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ ہو۔اجلاس میں محکمہ فشریز کے انتظامی ڈھانچے میں مجوزہ اصلاحات، مختلف اداروں کے متعلقہ ملازمین کو محکمہ فشریز میں ضم کرنے اور شعبے کی مؤثر نگرانی و ترقی کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف ہاربر اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ، ڈائریکٹوریٹ آف میرین اور ڈائریکٹوریٹ آف ان لینڈ کے قیام کی تجاویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا سیکرٹری فشریز نے اجلاس کے شرکاء کو مجوزہ قانون اور اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس کے بعد تقریباً تین گھنٹے تک سوال و جواب اور سیرحاصل مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ شرکاء کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز، تحفظات اور سفارشات کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ فشریز کے شعبے میں پائیدار ترقی، ماہی گیروں کے حقوق کے تحفظ، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سمندری و آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے جامع اور قابلِ عمل قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد موصولہ تجاویز کو مجوزہ بل میں شامل کرنے اور تمام قانونی و آئینی مراحل مکمل کرنے کے بعد مسودہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فشریز کا اجلاس پہلی مرتبہ کوئٹہ سے باہر گوادر میں منعقد ہوا، جسے فشریز کے شعبے سے وابستہ مقامی اسٹیک ہولڈرز کو براہِ راست مشاورتی عمل میں شامل کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
خبرنامہ نمبر8517/2026
گوادر۔ 3 اکتوبر :صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے گوادر کے دورے کے موقع پر گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں جاری و مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں، شہر میں پانی کی فراہمی کی صورتحال، مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز، انتظامی امور اور جی ڈی اے اسکول کی کارکردگی و بہتری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن، سید ظفر علی آغا، انجینئر عبدالمجید بادینی، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے صوبائی وزیر کو ادارے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے کاموں، پانی کی فراہمی کے نظام میں بہتری، میونسپل سروسز اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ گوادر شہر کی تعمیر و ترقی، بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ایک جامع منصوبہ ہے۔ اس کے تحت شہر کی مختلف شاہراہوں، گلیوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، قبرستانوں، عیدگاہوں، چوکوں اور چوراہوں کی تعمیر و توسیع، بحالی اور تزئین و آرائش کے کام کیے گئے ہیں، جس سے شہری ماحول، آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملی ہے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے بتایا کہ ادارے نے شہر میں پانچ ہزار سے زائد درخت لگائے ہیں، جبکہ تقریباً 31 کلومیٹر سوریج نالوں، 23 کلومیٹر برساتی نالوں، تین اسٹیڈیمز، تین پبلک پارکس، ڈھائی سو کلومیٹر سے زائد شاہراہوں، جی ڈی اے اسکول، جی ڈی اے ہسپتال اور فش لینڈنگ جیٹی سمیت مختلف شہری و ترقیاتی سہولیات کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ان کی آپریشنل دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رکھی ہیں۔ جی ڈی اے کی میونسپل سروسز کے تحت شہر کی شاہراہوں، بیچز اور دیگر عوامی مقامات کی صفائی اور دیکھ بھال کا کام بھی جاری ہے۔اجلاس میں گزشتہ ایک سال کے دوران گوادر میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ جی ڈی اے نے پانی کی قلت پر قابو پانے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں شادی کور ڈیم سے پانی کی فراہمی کا دوبارہ آغاز، شہر میں تقریباً 300 کلومیٹر طویل ڈسٹری بیوشن لائن کی فعالیت، 16 ہزار نئے واٹر کنکشنز کی فراہمی اور ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کی پرانی لائنوں سے نئے نظام پر کنکشنز کی منتقلی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ واٹر بلنگ کا نظام متعارف کرانے، مرکزی ٹرانسمیشن لائن کی بہتری اور زیرِ زمین واٹر اسٹوریج ٹینکس کی تعمیر جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں، جن سے پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی ہے۔صوبائی وزیر نے شہر میں پانی سپلائی سے متعلق جی ڈی اے کے اقدامات کی تعریف کی اور شادی کور پمپنگ اسٹیشن کے فیول کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے الگ سے بجلی کا فیڈر قائم کرنے کی تجویز پر پیش رفت کی ہدایت کی۔ اس سلسلے میں متعلقہ منصوبے کی پی سی ون دوبارہ ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی میں معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔اجلاس میں جی ڈی اے کے آئندہ ترقیاتی منصوبوں اور رواں مالی سال کے لیے مختص فنڈز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں اضافے کے حوالے سے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ہدایت کی کہ گوادر میں نئے اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے پی سی ون تیار کرکے جمع کرائی جائے۔ انہوں نے اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے اگلے مرحلے میں ٹی ٹی سی کالونی، بخشی کالونی، شمبے اسماعیل وارڈ اور فقیر کالونی کی بحالی کے لیے بھی نئے ترقیاتی منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں جی ڈی اے اسکول کی تعلیمی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے اور تدریسی معیار کو مزید بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے اسکول کی ازسرِنو تنظیمِ نو، نصاب میں بہتری، قابل اور تجربہ کار اساتذہ کے انتخاب، تدریسی نظام کو مؤثر بنانے اور ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے جامع تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اسکول کے لیے مناسب تعلیمی بورڈ سے الحاق یا کسی نجی شعبے کے ماتحت چلانے کے امکانات کی تجویز کا جائزہ لینے اور ادارے کی تعلیمی شناخت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اسکول کی بہتری کے لیے درکار اضافی فنڈز کی فراہمی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت گوادر کی تعمیر و ترقی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل کی فراہمی اور فنڈز کی ترجیحی بنیادوں پر دستیابی کے لیے کوششیں کی جائیں گی، تاکہ شہر کی ترقی اور عوامی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔انہوں نے جی ڈی اے کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں، پانی کی فراہمی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے، ترقیاتی سرگرمیوں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔





