خبر نامہ نمبر7715/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت اور موثر کارروائی ریاستی اداروں کے پختہ عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی عکاس ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی کے دوران کمانڈر نقیب سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کرکے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی گاڑی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، جرائت اور موثر کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ ریاست امن دشمن قوتوں کو بلوچستان میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور حکومت ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں ہے، دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ریاست کا عزم برقرار رہے گا اور امن دشمن عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7716/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائی کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔شاہد رند نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کمانڈر نقیب سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کی گاڑی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تینوں دہشت گرد ہلاک جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں جاری رہیں گی شاہد رند نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ریاستی ادارے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری عزم کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7717/2026
گوادر14 ستمبر۔ جامعہ گوادر کے شعبہ کامرس کے زیرِ اہتمام نئے داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد نئے طلبہ کو جامعہ کے تعلیمی و سماجی ماحول سے روشناس کرانا اور ان میں باہمی ہم آہنگی کا فروغ تھا تقریب میں رجسٹرار جامعہ گوادر ڈاکٹر دولت خان، کنٹرولر امتحانات رحیم مہر، چیئرپرسن شعبہ کامرس زین العابدین، لیکچرر مجاہد حسین، دیگر فیکلٹی ممبران، سینئر طلبہ اور نئے داخل ہونے والے طلبہ نے شرکت کی۔تقریب میں طلبہ نے مختلف ثقافتی اور ادبی پروگرام پیش کیے، جن میں شاعری، ڈرامہ، ٹیبلو اور موسیقی شامل تھے۔ طلبہ کی شاندار پیشکشوں نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں، اعتماد اور متنوع صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جسے شرکائنے بھرپور سراہا اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ کامرس زین العابدین نے نئے طلبہ کو جامعہ گوادر میں تعلیمی سفر کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لیے تعلیمی محنت، نظم و ضبط، کردار سازی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جامعہ کے تعلیمی مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی فکری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھاریں لیکچرار مجاہد حسین نے اپنے خطاب میں طلبہ کی شخصیت سازی میں معاون اور باہمی تعاون پر مبنی تعلیمی ماحول کی اہمیت کو اجاگر کیا اور انہیں تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ادبی، ثقافتی اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کی تلقین کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7718/2026
گوادر14 ستمبر۔ جامعہ گوادر کے شعبہ کامرس کے زیرِ اہتمام نئے داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد نئے طلبہ کو جامعہ کے تعلیمی و سماجی ماحول سے روشناس کرانا اور ان میں باہمی ہم آہنگی کا فروغ تھا تقریب میں رجسٹرار جامعہ گوادر ڈاکٹر دولت خان، کنٹرولر امتحانات رحیم مہر، چیئرپرسن شعبہ کامرس زین العابدین، لیکچرر مجاہد حسین، دیگر فیکلٹی ممبران، سینئر طلبہ اور نئے داخل ہونے والے طلبہ نے شرکت کی۔تقریب میں طلبہ نے مختلف ثقافتی اور ادبی پروگرام پیش کیے، جن میں شاعری، ڈرامہ، ٹیبلو اور موسیقی شامل تھے۔ طلبہ کی شاندار پیشکشوں نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں، اعتماد اور متنوع صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جسے شرکاءنے بھرپور سراہا اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ کامرس زین العابدین نے نئے طلبہ کو جامعہ گوادر میں تعلیمی سفر کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لیے تعلیمی محنت، نظم و ضبط، کردار سازی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جامعہ کے تعلیمی مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی فکری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھاریں لیکچرار مجاہد حسین نے اپنے خطاب میں طلبہ کی شخصیت سازی میں معاون اور باہمی تعاون پر مبنی تعلیمی ماحول کی اہمیت کو اجاگر کیا اور انہیں تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ادبی، ثقافتی اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کی تلقین کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7719/2026
گوادر14ستمبر ۔ حکومتِ بلوچستان کی خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کے تحت میڈیکل سوشل سروسز سنٹر، میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں افرادِ باہم معذوری کی رجسٹریشن اور معذوری سرٹیفکیٹس کے اجراءکے لیے میڈیکل بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا میڈیکل بورڈ کا اجلاس میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گوادر ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر واجہ محمد حسن، میڈیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر ثنائ عابد سہرابی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق، سوشل ویلفیئر آفیسر میڈیکل سوشل سروسز سنٹر عبیداللہ سمیت محکمہ سوشل ویلفیئر کے متعلقہ افسران و اہلکاروں نے شرکت کی میڈیکل بورڈ کے دوران خصوصی افراد کی رجسٹریشن کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں اور متعلقہ طبی کیسز کا تفصیلی طبی و قانونی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 46 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 40 درخواست گزاروں کو طبی معائنے اور مقررہ معیار پر پورا اترنے کی بنیاد پر معذوری سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ 2 درخواستیں مقررہ طبی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث مسترد کی گئیں۔ مزید 4 درخواست گزار بورڈ کے سامنے پیش نہ ہو سکے جن کے کیسز پر آئندہ پیشی کے بعد فیصلہ کیا جائے گا اس موقع پر میڈیکل بورڈ کے اراکین کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد کی رجسٹریشن اور معذوری سرٹیفکیٹس کے اجراء کا عمل شفاف، منصفانہ، میرٹ اور مقررہ طبی معیار کے مطابق جاری رکھا جائے گا، تاکہ حقیقی مستحق افراد کو ان کے حقوق اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فلاحی، سماجی تحفظ اور دیگر معاون سہولیات تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7720/2026
کوئٹہ، 14ستمبر 2026: وزیرِ برائے منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ سینیٹر نصیب اللہ بازئی ایک باصلاحیت اور زیرک سیاسی شخصیت تھے، جن کی سیاسی بصیرت، عوامی خدمات اور اپنے علاقے کے لیے کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک اور باعثِ صدمہ ہے۔ اس مشکل اور غم کی گھڑی میں وہ مرحوم کے اہلِ خانہ اور تمام سوگواران کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔میر ظہور احمد بلیدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت، حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7721/2026
کوئٹہ 14 ستمبر۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ میں موجود 74 مختلف کٹیگریز کی تقریباً پانچ ہزار ایسی آسامیاں ختم کردی گئی ہیں جن کا عملی کردار دورِ حاضر کی جدید ٹیکنالوجی اور جدید مشینری کے باعث مکمل طور پر ختم ہوچکا تھا اور مستقبل میں بھی ان آسامیوں کی ضرورت باقی نہیں رہی محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کا مقصد محکمہ کے انتظامی و مالی ڈھانچے کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ایسی آسامیوں کو ختم کرنا ہے جن کا کردار جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال کے باعث ختم ہوچکا ہےذرائع کے مطابق 74 مختلف کٹیگریز سے تعلق رکھنے والی تقریباً پانچ ہزار پوسٹوں کو ختم کردیا گیا ہے، جبکہ مزید 1500 پوسٹوں کو ختم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ یوں محکمہ مواصلات و تعمیرات میں غیر ضروری اور وقت کے ساتھ اپنی افادیت کھونے والی آسامیوں کی تعداد میں مزید کمی متوقع ہےواضح رہے کہ ختم کی جانے والی آسامیوں کا تعلق ان مختلف کٹیگریز سے ہے جن میں جدید ٹیکنالوجی اور جدید مشینری کے استعمال کے باعث انسانی کردار اور روایتی طریقہ کار کی ضرورت تقریباً یا مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی ماضی میں جن کاموں کے لیے بڑی تعداد میں افرادی قوت اور مخصوص روایتی نوعیت کی پوسٹوں کی ضرورت ہوتی تھی جدید دور میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث ان کاموں کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایسی آسامیوں کو برقرار رکھنا حکومت کے لیے مستقبل میں اضافی مالی بوجھ کا سبب بن سکتا تھامحکمہ کی جانب سے ختم کی جانے والی آسامیوں کے حوالے سے یہ امر بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو ملازمین ان آسامیوں پر اپنے سروس کے تیس سال مکمل کررہے ہیں، انہیں پوری ریٹائرمنٹ مل رہی ہےاس اقدام کا مقصد ایک جانب غیر ضروری اور مستقبل میں غیر موثر ہونے والی آسامیوں کو ختم کرنا ہے تو دوسری جانب ان آسامیوں پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کے جائز ریٹائرمنٹ حقوق کو بھی برقرار رکھنا ہے تقریباً پانچ ہزار غیر ضروری آسامیوں کے خاتمے سے حکومت بلوچستان کو مستقبل میں اربوں روپے کی بچت ہونے کا امکان ہے محکمہ کی جانب سے اس اقدام کو حکومتی خزانے پر طویل مدتی مالی بوجھ کم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے اگر ان ختم کی جانے والی آسامیوں کو مستقبل میں دوبارہ پر کیا جاتا تو ان پوسٹوں سے وابستہ تنخواہوں مراعات پنشن اور دیگر مالی ذمہ داریوں کے اثرات حکومت بلوچستان کے خزانے پر طویل عرصے تک برقرار رہتے اور ان کے مالی اثرات مزید تیس سال تک حکومت کے خزانے پر پڑتے اس تناظر میں ان آسامیوں کا خاتمہ صرف موجودہ مالی اخراجات میں کمی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی مالی منصوبہ بندی بھی قرار دیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو مستقبل میں بڑے مالی بوجھ سے نجات مل سکتی ہے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے باعث غیر ضروری ہوجانے والی مزید 1500 پوسٹوں کو ختم کرنے پر کام جاری ہےاگر ان آسامیوں کے خاتمے کا عمل بھی مکمل ہوجاتا ہے تو محکمہ میں ایسی پوسٹوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی جنہیں جدید دور کے تقاضوں اور محکمہ کی موجودہ ضروریات کے مطابق غیر ضروری قرار دیا گیا ہےمحکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت بلوچستان کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ سرکاری آسامی صرف موجودہ تنخواہ کا مالی معاملہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے مستقبل میں پنشن، مراعات اور دیگر مالی ذمہ داریاں بھی منسلک ہوتی ہیں اگر ایسی پوسٹیں جن کا عملی کردار ختم ہوچکا ہے برقرار رہیں یا مستقبل میں دوبارہ پر کی جائیں تو حکومت کو طویل مدت تک ان کے مالی اثرات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر ضروری آسامیوں کو ختم کرنے سے مستقبل میں نئے مالی بوجھ کے اضافے کو روکا جاسکتا ہے محکمہ کے اس اقدام سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں کمی آنے کی توقع ہے بلکہ دستیاب انسانی وسائل اور مالی وسائل کو ان شعبوں کی طرف منتقل کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہوسکتی ہے جہاں موجودہ دور میں ان کی حقیقی ضرورت موجود ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7722/2026
سیوی14 ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی خصوصی ہدایت پر ضلع سیوی میں خواتین کے مسائل کے فوری اور بروقت حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا۔خصوصی کھلی کچہری 16 ستمبر کو صبح 11 بجے سرکٹ ہاوس سیوی میں منعقد ہوگی، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کریں گے۔ کھلی کچہری میں تمام متعلقہ ضلعی محکموں کے افسران بھی شرکت کریں گے۔اس موقع پر خواتین اپنے مسائل اور شکایات براہِ راست ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے افسران کے سامنے پیش کر سکیں گی، جبکہ مسائل کے فوری اور بروقت حل کے لیے موقع پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر سیوی نے ضلع بھر کی خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کریں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اس موقع سے استفادہ کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7723/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر 2026: وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور بلیدی نے مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہےاپنے بیان میں میر ظہور بلیدی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کے ذریعے اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جس پر سیکیورٹی ادارے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست کے پختہ عزم کی عکاس ہے۔ ملک دشمن عناصر کو بلوچستان کے امن کو سبوتاڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔میر ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی جدوجہد اور قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ بلوچستان کے عوام کے تحفظ اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی اور دہشت گردی کے مکمل سدباب تک کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے سفر میں رکاوٹ بننے والی قوتوں کو ناکام بنایا جائے گا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی یکجہتی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7724/2026
لاہور۔14 ستمبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے گزشتہ روز لاہور کے دورے کے دوران روزنامہ جنگ کوئٹہ کے چیئرمین ایڈیٹوریل کمیٹی، سینئر صحافی سید خلیل الرحمان مرحوم کے بھائی سید احمد علی کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے، مرحوم صاحبزادے لیفٹیننٹ کرنل سید طیب اور دیگر اہل خانہ سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم یم کے درجات کی بلندی، مغفرت اورپسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ مشیر وزیراعلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا کہ سید خلیل الرحمان مرحوم نے ہمیشہ حق اور سچ کی صحافت کو اپنا شعار بنائے رکھا، بلوچستان کے مظلوم طبقات، مساکین اور غریب عوام کی ترجمانی کی اور ان کے حقوق کے لیے اپنے قلم کے ذریعے ہمیشہ موثر آواز بلند کرتے رہے۔ ان کا شمار بلوچستان کے سینئر، سنجیدہ اور باوقار صحافیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی طویل صحافتی زندگی کے دوران نہ صرف صحافت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی صحافتی خدمات، اصول پسندی اور عوامی مسائل کے لیے آواز اٹھانے کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بعد ازاں نسیم الرحمان ملاخیل نے سید خلیل الرحمان مرحوم کے بھائی سید احمد علی اور صاحبزادے لیفٹیننٹ کرنل سید طیب کے ہمراہ مرحوم کی قبر پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7725/2026
کوئٹہ۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حادثات کے فوری رسپانس اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی ایمبولینس سروسز کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ ہائی ویز سمیت مختلف مقامات پر حادثات کی صورت میں حکومت بلوچستان کے قائم کردہ مرک 1122 مراکز پر متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ضرورت کے مطابق ٹراما سینٹرز اور دیگر صحت کی سہولیات میں منتقل کیا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ای آر سی 1122 ہیڈ آفس میں 9 نئی ایمبولینسز کی فراہمی کی تقریب رونمائی اور ایمرجنسی رسپانس سوفٹویئر کے افتتاح کے دوران کیا۔ تقریب سے اپنے خطاب میں ڈی جی ایم ای آر سی 1122 ذوالفقار جتوئی نے کہا کہ جدید ایمبولینسز اور ڈیجیٹل رسپانس سوفٹویئر کے ذریعے ہنگامی صورتحال میں رسپانس ٹائم مزید بہتر ہوگا اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔اس موقع پر ڈی جی ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر محمد امین مندوخیل نے کہا کہ محکمہ صحت ایمرجنسی سروسز کو مزید موثر بنانے اور صوبے کے دور دراز علاقوں تک بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ایمبولینس سروس کے بیڑے میں 9 نئی ایمبولینسز شامل کی گئی ہیں جو ایڈوانس لائف سپورٹ کی سہولت سے لیس ہیں۔ ان ایمبولینسز کے اضافے سے سروس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا اور حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو بروقت طبی امداد اور محفوظ منتقلی کی سہولت میسر آئے گی۔ جہاں مرک 1122 کے تمام ریسکیورز 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن انتہائی مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حادثات کی صورت میں فوری رسپانس کے باعث متعدد قیمتی انسانی جانیں بچائی گئی ہیں۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ہم بہت جلد بلوچستان کے تمام ایمبولینس کو 1122 کے کنٹرول اینڈ کمانڈ میں لارے ہیں تاکہ باقی صوبوں کی طرح بلوچستان کے عام عوام ایمبولینس سروس سے مستفید ہو سکیں۔ انھوں نے کہا کے کہ ہم سی ایم بلوچستان کے وژن کے مطابق شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات کر رے ہیں تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔مرک 1122 کے ایمرجنسی رسپانس سوفٹویئر کے ذریعے بلوچستان بھر میں موجود ایمبولینسز کی موثر ٹریکنگ ممکن ہوگی۔ اس نظام کے تحت کسی بھی ضلع میں موجود ایمبولینس کی موجودہ پوزیشن، دستیابی اور نقل و حرکت کا بروقت معلومات حاصل کیا جا سکے گا، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریب ترین ایمبولینس کو منظم اور موثر انداز میں جائے حادثہ پر روانہ کیا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی وسیع و عریض جغرافیائی حدود میں عوام کو بروقت صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹلائزیشن واحد موثر راستہ ہے۔ جدید سوفٹویئر کے ذریعے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ایمبولینسز کی موثر مانیٹرنگ، بہتر انتظام اور ہنگامی حالات میں فوری رسپانس کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔صوبائی وزیر صحت نے ریسکیو ٹیم، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، متعلقہ افسران اور فیلڈ میں دن رات خدمات انجام دینے والے تمام مرک 1122 اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچستان میں ایک ماڈل ایمرجنسی سروس بن چکی ہے۔ حکومت بلوچستان کے تعاون سے ان سروسز کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ صوبے کے کسی بھی علاقے میں خدانخواستہ حادثے کی صورت میں متاثرین کو بروقت طبی امداد، ابتدائی طبی سہولت اور صحت کے مناسب مرکز تک منتقلی کی سہولت میسر ہو اور قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7726/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر ۔صوبائی وزیر برائے محکمہ کموڈیٹی مینجمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نورمحمد خان دمڑ کی خصوصی سفارش پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے ضلع ہرنائی سے تعلق رکھنے والی کینسر کی مریضہ محترمہ پاپو بی بی زوجہ شین گل خان کے علاج کے لیے سرکاری خرچ پر فنڈز کی فوری منظوری دے دی وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت نے ڈاکٹر ضیاء الدین ہسپتال کراچی کو باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے مریضہ کا علاج سرکاری اخراجات پر کرنے کی ہدایت کی ہے اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان غریب اور مستحق مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان کسی بھی مستحق مریض کو علاج کی بنیادی سہولت سے محروم نہیں رہنے دے گی انہوں نے کہا کہ پاپو بی بی کے علاج کے لیے سرکاری اخراجات کی منظوری وزیراعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست اور انسان دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ حکومت مشکل کی گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور مستحق افراد کی ہر ممکن مدد جاری رکھی جائے گی محکمہ صحت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مریضہ کے علاج کی اجازت ایک ماہ کے لیے موثر ہوگی، جبکہ کینسر کے علاج کے سلسلے میں او پی ڈی (OPD) کی سہولت بھی اس منظوری میں شامل ہے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ کے اس انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سرکاری تعاون سے مریضہ کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7727/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر۔ صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے سینیٹر نصیب اللہ بازئی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ سینیٹر نصیب اللہ بازئی ایک مدبر، زیرک اور باصلاحیت سیاسی رہنما تھے، جن کی عوامی و سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا انتقال بلوچستان کے لیے ایک بڑا نقصان ہے حاجی نور محمد دمڑ نے مرحوم کے اہلِ خانہ اور سوگواران سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت، درجات بلند اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، جبکہ لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7728/2026
کو ئٹہ14 ستمبر۔ صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری ترقی اور خوشحالی کا سفر نام نہاد قوم پرست سرداروں اور نوابوں کو ہضم نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ بطور نگران وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ نے بلوچستان کو ایک تاریخی تحفہ دیا۔ چمن سے کراچی تک خونی شاہراہ کو ڈبل کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، جو مکمل ہونے کے بعد بلوچستان میں سفری سہولیات اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے دورِ حکومت میں بھی بلوچستان میں جدید ٹراما سینٹرز، پیپلز ٹرین سروس، گرین بس، پنک بس اور مختلف شعبوں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر عملی پیش رفت جاری ہے۔ یہ منصوبے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بلوچستان کے نام پر سیاست کرنے والے قوم پرست سرداروں اور نوابوں نے صوبے کو لاشوں، نفرت اور محرومی کی سیاست کے سوا کیا دیا اس کے برعکس میر سرفراز بگٹی اور سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ جیسے رہنماوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم دیا اور انہیں آکسفورڈ، ہارورڈ، ایچی سن کالج سمیت پاکستان اور دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کیے۔انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں ترقی، تعلیم، صحت، سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے منصوبوں پر عملی کام ہو رہا ہے۔ عوام اب نعروں اور منفی سیاست کے بجائے عملی اقدامات دیکھ رہے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا سفر کسی کے منفی پروپیگنڈے سے نہیں رکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7729/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر ۔صوبائی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پیر کے روز ویمن اینڈ جووینائل فسیلیٹیشن سینٹر کا دورہ کیا اور مرکز کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر اے آئی جی جنیڈر اسرار احمد عمرانی اور سینٹر انچارج شازیہ عمران نے صوبائی مشیر کو مرکز کے مختلف شعبوں، خواتین اور کم عمر متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات، شکایات کے اندراج، قانونی معاونت اور دیگر متعلقہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی مشیر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مرکز کے مختلف شعبوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے مختلف امور پر معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو محفوظ، باوقار اور معاون ماحول کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اہم ذمہ داری ہے۔ خواتین اور کم عمر متاثرین کو بروقت قانونی، سماجی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کے لیے موثر نظام ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ویمن اینڈ جووینائل فسیلیٹیشن سینٹر جیسے ادارے خواتین اور بچوں کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں انصاف تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے مراکز میں سہولیات کی بہتری، ادارہ جاتی تعاون اور متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں خواتین کے تحفظ، بااختیار بنانے اور انہیں درپیش مسائل کے مو¿ثر حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA, September 14: Provincial Adviser for Women Development Dr Rubaba Khan Buledi on Monday visited the Women and Juvenile Facilitation Centre and inspected its various sections and facilities.AIG Gender Israr Ahmed Umrani and Centre In-charge Shazia Imran briefed Dr Rubaba Khan Buledi on the centre’s functioning, facilities available to women and juvenile victims, complaint registration mechanism, legal assistance and other measures being taken for their support.During her visit, Dr Rubaba Khan Buledi inspected different sections of the centre and reviewed the facilities being provided to women and children. She also sought details from the officials concerned regarding various aspects of the centre’s operations.Speaking on the occasion, Dr Rubaba Khan Buledi said an effective system was essential to ensure timely legal, social and institutional support to women and juvenile victims.“Providing women and children with a safe, dignified and supportive environment is an important responsibility of the government,” she said.The provincial adviser said institutions such as the Women and Juvenile Facilitation Centre played an important role in addressing issues faced by women and children and facilitating their access to justice.She stressed the need to further improve facilities at such centres, strengthen institutional cooperation and enhance coordination among the departments concerned to ensure effective support to victims.Dr Rubaba Khan Buledi said the Women Development Department would continue working with relevant institutions to protect women, promote their empowerment and ensure effective measures to address the challenges they face
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7730/2026
گوادر، 14 ستمبر ۔حکومتِ بلوچستان کی زراعت دوست پالیسی کے تحت زمینداروں کو درپیش مسائل کے حل، زرعی شعبے کے فروغ اور پائیدار زراعت کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں تحصیل جیوانی اور گردونواح کے زمینداروں کے ایک وفد نے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع مقبول احمد بلوچ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور زمینداری سے متعلق مختلف مسائل و معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وفد نے جیوانی اور گردونواح میں زرعی سرگرمیوں کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے کی بیشتر زرعی زمینیں بارانی ہیں، جہاں بارشوں کی صورت میں محدود پیمانے پر کاشت کاری ممکن ہوتی ہے، جبکہ سال کے بیشتر عرصے میں زمینیں غیر آباد رہتی ہیں۔ زمینداروں نے غیر آباد اور بارانی زمینوں پر عائد ٹیکس کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان سے اس معاملے پر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کی درخواست کی ملاقات میں بینظیر کسان گرین کارڈ، زرعی سہولیات، زمینداروں کو درپیش دیگر مسائل اور علاقے میں زرعی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ وفد نے زمینداروں کو درپیش مشکلات کے حل اور انہیں حکومتی زرعی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیاڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع مقبول احمد بلوچ نے زمینداروں کے مسائل اور تجاویز غور سے سنیں اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے جائز مسائل و تحفظات متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے، جبکہ محکمہ زراعت کی جانب سے دستیاب وسائل اور دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان زراعت کے فروغ، زمینداروں کی سہولت اور جدید و پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے ثمرات مقامی زمینداروں تک پہنچانا محکمہ زراعت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7731/2026
کوئٹہ14 ستمبر۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میری سب سے گہری ترجیح اور دلچسپی تعلیم ہے۔ میں بہت جلد اسلامیہ یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کیلئے یہاں دوبارہ آوںگا۔ اسی عزم سے پیوستہ ہوکر اسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے بطور سیڈ منی دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ محض وقتی مالی معاونت نہیں ہے بلکہ ہماری نئی نسل کے روشن مستقبل کی خاطر تعلیم کے ذریعے معاشرے کو تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔ اسکے علاوہ میں بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے FSc کے امتحانات میں اسلامیہ کالج کی پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کیلئے ایک ایک لاکھ روپے نقد انعام کا بھی اعلان کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامیہ گرلز کالج میں کی انجمن اسلامیہ بلوچستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سردار یحیٰی خان ناصر، پرنسپل اسلامیہ گرلز کالج پروفیسر شائستہ کاکڑ، محمد نعیم احمد خان کے علاوہ اساتذہ اور طلباءکی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ شرکاءسے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ انجمن اسلامیہ کے زیرنگرانی یہ ایک موقر تعلیمی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاندار طویل تاریخ رکھتا ہے۔ اسلامیہ بوائز اینڈ گرلز اسکولز اینڈ کالجز سے ہزاروں لوگ فارغ التحصیل ہوئے ہیں جو زندگی کی مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ ہائی اسکول کو چھوٹا علی گڑھ قرار دیا۔ معیاری تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اسلامیہ تعلیمی ادارے کا اپنا ایک منفرد کردار ہے۔ وقت آپہنچا ہے کہ ہم اسلامیہ کالج کو اسلامیہ یونیورسٹی کا درجہ دیے سکیں۔ ہم اسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کا نہ صرف منظوری دینگے بلکہ مذکورہ یونیورسٹی کو مستحکم بنانے میں بھرپور کردار بھی ادا کریں گے اور امریکہ سے ڈونرز اور مخیر حضرات بھی لاوں گا اسطرح درس و تدریس کا یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہیگا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ محکمہ صحت اور تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ توقع پے کہ اسلامیہ یونیورسٹی ملک کی ٹاپ یونیورسٹیز کی فہرست میں شامل ہوگی۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنی تقدیر نہیں بدلتی بلکہ وہ ایک خاندان کی سوچ و اپروچ بدلتی ہے، ایک نسل کی تربیت کرتی ہے اور بالآخر پورے معاشرے کی درست سمت متعین کرتی ہے لہٰذا اب ہمیں آپ کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ آپ اپنے ہر خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجٹل اکانومی، روبوٹکس اور سائنٹفک ریسرچ مستقبل کا نقشہ بنا رہی ہیں لہٰذا آپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، روبوٹکس، کوالٹی ایجوکیشن، جدید مہارت اور سائنسی ریسرچ پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ خوشی کا لمحہ ہے کہ میں بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے حالیہ اہف ایس سی کے نتائج میں اسلامیہ گرلز کالج کی نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی دس طالبات میں اسناد تقسیم کر رہے ہیں۔ اگر ہماری بیٹیوں کو مناسب ماحول، کوالٹی ایجوکیشن اور مساوی مواقع ملیں تو وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیت منوا سکتی ہیں۔ تقریب کے آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے منتظمین اور پوزیشن ہولڈرز میں انعامات اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7732/2026
نصیرآبادڈویژن14ستمبرجعفرآباد۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع جعفرآباد میں تعلیمی عمل کو مزید موثر بنانے، اساتذہ کی حاضری، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی، تدریسی سرگرمیوں کی بہتری اور محکمہ تعلیم کو درپیش دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنانے سمیت طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے مختلف امور پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے موقع پر احکامات دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی بنیاد ہے، اس لیے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کی بروقت حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور فرائض میں غفلت یا مسلسل غیر حاضری کے مرتکب ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کریں، جبکہ ضلعی انتظامیہ محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر درپیش مسائل کے حل اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7733/2026
کوئٹہ 14ستمبر ۔ مستونگ میں دہشت گردوں کا انجام اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ بلوچستان میں ملک دشمنوں اور بیرونی ایجنٹوں کے لیے صرف تباہی ہے۔مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے مستونگ میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب ترین آپریشن کے دوران اہم کمانڈر سمیت تین دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی اہلکاروں کی دلاوری اور اعلیٰ حکمت عملی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ آپریشن اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ بلوچستان کی پاک سرزمین پر تخریب کاری، غیر ملکی ایجنڈے اور دہشت گردی کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ امن کے دشمن اور بیرونی ایجنٹ چاہے کسی بھی نام یا پناہ گاہ کے پیچھے چھپ جائیں، ریاستی قوت ان کے تمام عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ہر دم تیار ہے۔مینا مجید بلوچ نے واضح کیا کہ بلوچستان کے غیور عوام صرف اور صرف ترقی، امن اور خوشحالی کے خواہا ں ہیں اور کسی بھی شرپسند گروہ کو عوام کے ان حقوق کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قوم اپنی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور شہداء و غازیوں کی قربانیوں کے تسلسل میں امن دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7734/2026
کوئٹہ، 14 ستمبر ۔عالمی یومِ جمہوریت کی مناسبت سے پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، ثقافت و سیاحت بلوچستان نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت صرف ووٹ ڈالنے کے عمل میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ شہریوں کی آواز حکومتی فیصلوں، قانون سازی اور پالیسی سازی میں کتنی موثر طریقے سے شامل ہوتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوری نظام وہ ہے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو، بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور ریاستی ادارے عوام کے سامنے جوابدہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوریت کا اہم حصہ ہیں، لیکن جمہوری طرزِ حکمرانی کو صرف انتخابی عمل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ شفافیت، قانون کی بالادستی، موثر پارلیمان، آزادانہ رائے، اختلاف کو برداشت کرنے کی سیاسی صلاحیت اور شہریوں کی فیصلہ سازی میں شرکت جمہوریت کو عملی معنی دیتے ہیں۔ نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا کہ قانون سازی کا مقصد محض قوانین کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ ایسے قانونی اور انتظامی نظام کی تشکیل ہونا چاہیے جو عام شہری کے لیے انصاف اور ریاستی خدمات تک رسائی آسان بنائے۔ جب قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہو اور عوام یہ محسوس کریں کہ ان کی شکایات، ضروریات اور رائے حکومتی نظام میں اہمیت رکھتی ہیں تو ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں جمہوری استحکام کے لیے مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی نقطہ ہائے نظر کو جگہ دینا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے کو تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھنا ایک پختہ جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان میں جمہوری عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے نوجوانوں، خواتین اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کی آواز کو فیصلہ سازی تک پہنچانا ضروری ہے۔ عوامی نمائندگی اسی وقت بامقصد بنتی ہے جب منتخب ادارے شہریوں کے روزمرہ مسائل، انصاف تک رسائی، بنیادی سہولیات اور بہتر طرزِ حکمرانی سے براہِ راست جڑے ہوں۔ نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا کہ مضبوط جمہوریت کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ انتخابات کتنی باقاعدگی سے ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ عام شہری خود کو نظام کا کتنا بااختیار حصہ سمجھتا ہے۔ عوامی اعتماد، مضبوط ادارے، شفاف حکمرانی اور قانون کی یکساں عملداری ہی ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, September 14, 2026:
On the occasion of the International Day of Democracy, Parliamentary Secretary for Law, Culture and Tourism Balochistan, Nawabzada Zarain Khan Magsi, said that the true strength of democracy lies not merely in casting votes, but in how effectively citizens’ voices are reflected in government decisions, legislation and policymaking. A strong democratic system is one where the law applies equally to everyone, fundamental rights are protected, and state institutions remain accountable to the people. He said that elections are an important part of democracy, but democratic governance cannot be confined to the electoral process alone. Transparency, the rule of law, an effective parliament, freedom of expression, political tolerance for differing views, and citizens’ participation in decision-making are what give democracy its practical meaning. Nawabzada Zarain Khan Magsi said that the purpose of legislation should not merely be to increase the number of laws, but to develop a legal and administrative system that makes access to justice and public services easier for ordinary citizens. When laws are applied without discrimination and people feel that their concerns, needs and opinions matter within the system of governance, trust between citizens and the state grows stronger. He said that in a diverse society such as Pakistan, democratic stability requires space for different political, social and cultural perspectives. Rather than allowing differences of opinion to turn into confrontation, addressing them through dialogue and constitutional processes is a hallmark of a mature democratic society. The Parliamentary Secretary said that making the democratic process more effective in Balochistan requires ensuring that the voices of young people, women and citizens living in remote areas reach the decision-making process. Public representation becomes meaningful when elected institutions remain directly connected to citizens’ everyday concerns, access to justice, basic services and better governance. Nawabzada Zarain Khan Magsi said that the strength of a democracy should not be measured solely by how regularly elections are held, but also by how empowered ordinary citizens feel within the system. Public trust, strong institutions, transparent governance and equal application of the law provide the foundation for a peaceful, stable and prosperous society
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7735/2026
تربت 14ستمبر۔ کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ اور ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے تربت میں زیرِ تعمیر نئے کمشنر مکران آفس کمپلیکس کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔
اس موقع پر کمشنر مکران نے کمپلیکس کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا اور تعمیراتی کام کے معیار، پیش رفت اور دیگر امور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔واضح رہے کہ نیا کمشنر مکران آفس کمپلیکس ڈسٹرکٹ کونسل آفس کے احاطے میں تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ منصوبے کے تعمیراتی کام کی نگرانی اربن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کر رہا ہے۔ نئے کمپلیکس میں کمشنر مکران آفس کے افسران و ملازمین کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس سے دفتری امور کی انجام دہی میں مزید بہتری اور سہولت پیدا ہوگی۔دورے کے موقع پر کمشنر مکران کے پی ایس ناصر حسن بھی موجود تھے۔.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7736/2026
*تربت 14 ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ایلمنٹری کالج تربت کی نئی عمارت میں منتقلی، تعمیراتی کاموں کی تکمیل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کالج کی نئی عمارت میں منتقلی کے عمل کو جلد مکمل کرنے، درپیش مسائل کے حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈی ای او اصغر علی، ایلمنٹری کالج کی ٹیچر میڈم سمیہ، ٹھیکیدار زبیر احمد، انجینئر گہرام گچکی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر انجینئر گہرام گچکی نے ایلمنٹری کالج تربت کی نئی عمارت میں جاری تعمیر و مرمت کے کام، باقی ماندہ تعمیراتی امور اور چار دیواری، پانی، بجلی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں کالج کی عمارت کو مکمل طور پر فعال بنانے اور نئی عمارت میں منتقلی کے لیے درکار اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کالج کی نئی عمارت میں منتقلی سے متعلق تمام زیرِ التوا امور اور تعمیراتی کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کا بروقت آغاز اور تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری اور طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کالج کی چار دیواری، پانی، بجلی اور دیگر ضروری سہولیات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات کریں اور کام مقررہ معیار کے مطابق جلد مکمل کریں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد اور تعلیمی اہمیت کے حامل منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر یا غفلت سے گریز کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7737/2026
کوئٹہ: 14 ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ نے ایسٹرن بائی پاس، جتک اور بنگلزئی اسٹاپ میں پرائس کنٹرول کے تحت آپریشن کیا۔کارروائی کے دوران انہوں نے 20 دکانوں کا معائنہ کیا۔ جبکہ سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی پر 10 دکانداروں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک دکان کو سیل بھی کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7738/2026
کوئٹہ 14ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئٹہ محمد یوسف ہاشمی نے سروے 144 اور عالمو چوک کے علاقوں میں تندور مالکان، آٹا اور گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف پرائس کنٹرول کے تحت کارروائی کی۔کارروائی کے دوران مختلف دکانوں اور کاروباری مراکز کا معائنہ کیا گیا اور سرکاری نرخ نامے، مقررہ وزن اور صفائی کے اصولوں کی پابندی کا جائزہ لیا گیا۔ خلاف ورزی پر 7 افراد کو گرفتار جبکہ 3 دکانداروں کو وارننگ جاری کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر صدر نے تاجروں کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں طور پر آویزاں کریں اور اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فروخت کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ گرانفروشی، کم وزن اور نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آئندہ بھی سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2026/7739
کوئٹہ 14ستمبر:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبے کے مختلف محکموں کی دو سالہ کارکردگی جائزہ رپورٹس کے حوالے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپورٹس، لاء، کلچر اور کموڈیٹی منیجمنٹ کے محکموں کی تفصیلی رپورٹیں پیش کی گئیں اور مستقبل کے اقدامات پر تبادلہ? خیال کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے محکموں میں اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سرکاری خدمات کو عوام تک بروقت اور مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وسائل کی شفاف اور منظم مینجمنٹ کے لیے کموڈیٹی منیجمنٹ میں جدید پالیسیوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ساز اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں گے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرنے کے لیے کھیلوں اور یوتھ پروگرامز کو فروغ دیا جائے۔ چیف سیکرٹری نے صوبے میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر اور کلچرل ایونٹس کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور سماجی بگاڑ سے بچانے پر خاص توجہ دینے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں محکموں کے سربراہان نے اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن اور عوامی فلاح کے لیے آئندہ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔ چیف سیکرٹری نے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی۔
خبرنامہ نمبر 2026/7740
کوئٹہ 14ستمبر:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارتOwn sources revenue کا اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کی ذاتی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکموں کی جانب سے پیش کی گئی مالی کارکردگی، آمدنی کے مختلف شعبہ جات اور موجودہ ہندسوں کا تجزیہ کیا گیا۔ شرکاء نے محکموں میں ڈیجیٹائزیشن، آن لائن فیس کلیکشن اور شفافیت کے ذریعے آمدنی میں بہتری کے امکانات پر زور دیا۔ اجلاس میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، ریکارڈ مینجمنٹ کے معیار کو بہتر بنانے اور ریونیو کلیکشن کے طریقہ کار کو مربوط کرنے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔چیف سیکرٹری نے صوبے کے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ آمدنی کے اہداف کو مقررہ مدت میں پورا کرنے کے لیے واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملیاں مرتب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات سے نہ صرف ریونیو میں اضافے کا ذریعہ ہیں بلکہ عوام کے لیے شفاف اور مؤثر خدمات فراہم کرنے کا بھی ذریعہ ہیں۔ چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے کہا کہ محکمہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور عوامی خدمات کی سہولت کے لیے ڈیجیٹائزیشن ناگزیر ہے۔ ہر محکمہ اپنا ٹائم لائن تیار کرے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات فوری طور پر شروع کرے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر 2026/7741
کوئٹہ14 ستمبر:۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے پشین اور قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں بلوچستان پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر مؤثر کارروائیاں امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ پشین کے مختلف علاقوں کلی سلطان، اژرم، دینار اور گیلو سمیت دیگر مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشتگردوں کا خاتمہ اور 5 دہشتگردوں کی گرفتاری قابل تحسین کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کے دوران گرفتار دہشتگردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور دیگر متعلقہ مواد کی برآمدگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں شاہد رند نے کہا کہ گرفتار دہشتگردوں سے تفتیش کے ذریعے ان کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور مستقبل میں کی جانے والی دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق اہم معلومات کے حصول میں مدد ملے گی۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کا تسلسل ضروری ہے معاون وزیر اعلیٰ نے مشترکہ آپریشن میں حصہ لینے والے بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور باہمی رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں بھرپور عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ عوام کے جان و مال، امن اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ شاہد رند نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور امن دشمن عناصر کو عوام کے امن و سکون کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 2026/7742
کوئٹہ 14 ستمبر:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پشین اور قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں بلوچستان پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں امن دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے ناگزیر ہیں ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پشین کے کلی سلطان، اژرم، دینار اور گیلو سمیت مختلف علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشتگردوں کا خاتمہ اور 5 دہشتگردوں کی گرفتاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردوں سے اسلحہ اور دیگر متعلقہ مواد کی برآمدگی اہم پیش رفت ہے، جبکہ گرفتار عناصر سے تفتیش کے ذریعے دہشتگرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق مزید اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے وزیراعلیٰ نے کارروائی میں حصہ لینے والے بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے ہمارے جوان جانفشانی اور عزم کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی سے ہی دہشتگرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ بلوچستان حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں درکار معاونت کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال اور امن و سکون کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
خبرنامہ نمبر 2026/7743
دُکی 14ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایت پر شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے میونسپل کمیٹی دُکی کی جانب سے صفائی آپریشن تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی دُکی سمندر خان ناصر کی نگرانی میں میونسپل عملہ شہر کے مختلف علاقوں، اہم شاہراہوں، بازاروں اور عوامی مقامات سے جمع شدہ کچرے کی صفائی اور تلفی میں مصروفِ عمل ہے اسی سلسلے میں ایکسچینج دفتر کے سامنے موجود جمع شدہ کچرے کے ڈھیر کو اسکیڈ لوڈر کے ذریعے اٹھا کر علاقے کی صفائی کی گئی، جبکہ صفائی عملے نے دیگر مقامات پر بھی کچرے کو ہٹانے اور صفائی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سمندر خان ناصر نے صفائی عملے کو ہدایت کی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جائے اور کچرے کے ڈھیروں کی بروقت صفائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صفائی صرف ایک روزہ سرگرمی نہیں بلکہ مسلسل اور باقاعدہ عمل ہے، جس کے لیے میونسپل کمیٹی کے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ شہری آبادی، بازاروں اور مصروف مقامات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کچرے کی بروقت منتقلی اور مناسب تلفی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ شہر میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور عوام کو صاف و صحت مند ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کہیں بھی کچرا جمع ہو یا صفائی کی ضرورت ہو، وہاں فوری کارروائی کی جائے اور صفائی کے نظام میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ صفائی کے عمل میں ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں، کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں اور گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں صفائی کے نظام کی بہتری کے لیے مختلف علاقوں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ عوامی شکایات کی بنیاد پر فوری طور پر صفائی کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دُکی شہر کو صاف، خوبصورت اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 2026/7744
لورالائی14ستمبر: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز ٹو کے تحت زیرِ تعمیر ڈیجیٹل لائبریری اور خواتین کے جمنازیم کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام، معیار، رفتار اور منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیادورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔ انہیں تعمیراتی کام کی موجودہ صورتحال، استعمال ہونے والے میٹریل اور تکمیل کے مراحل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ معائنہ کے دوران بتایا گیا کہ عمارت کے اندرونی پلستر کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ چار دیواری کی تعمیر بھی مکمل کرلی گئی ہے اور دروازوں کے فریم نصب کیے جا چکے ہیں۔ منصوبوں کے دیگر تعمیراتی مراحل پر بھی کام جاری ہے ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام میں مزید تیزی لانے کے لیے اضافی مزدور تعینات کیے جائیں اور تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے ہدایت کی کہ تعمیراتی کام میں رفتار کے ساتھ ساتھ معیار پر بھی کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے میں منظور شدہ نقشے، ڈیزائن، تکنیکی specifications اور مقررہ معیار کے مطابق تعمیراتی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کام کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کیڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل لائبریری نوجوانوں، طلبہ و طالبات کے لیے جدید تعلیمی سہولیات، مطالعہ اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ خواتین کے لیے جدید جمنازیم صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کے فروغ کے ساتھ خواتین کو بہتر تفریحی و جسمانی صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگاانہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ضلع لورالائی میں عوامی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار اور شفافیت کے ساتھ مکمل کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسے منصوبے نہ صرف شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کریں گے بلکہ تعلیم، صحت، کھیل اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ عوامی مفاد کے منصوبے بروقت پای? تکمیل تک پہنچیں اور ان کے ثمرات شہریوں کو جلد از جلد حاصل ہوں۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کے لیے مزید شاندار اور اخباری فرنٹ پیج طرز کی 5 سرخیاں اور نمایاں ذیلی سرخیاں بھی تیار کر سکتا ہوں۔
خبرنامہ نمبر 2026/7745
تربت14ستمبر:۔کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ سے معروف سیاسی شخصیت اور چیئرمین نیاز کیازئی اور وارث دشتی نے پیر کے روز کمشنر آفس تربت میں ملاقات کی اور انہیں کمشنر مکران ڈویژن کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی اور انجینئر بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی احمد بلوچ بھی موجود تھے اس دوران باہمی دلچسپی کے امور، ضلع کیچ سمیت مکران ڈویژن کی مجموعی صورتحال اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں علاقے کی ترقی، عوامی مسائل اور باہمی تعاون سے متعلق مختلف امور بھی زیرِ غور آئے۔
خبرنامہ نمبر 2026/7746
جیوانی 14 ستمبر: جیوانی کو سب ڈویژن کا درجہ ملنے کے بعد انتظامی نظام کی فعالیت کی جانب اہم پیش رفت، تحصیل جیوانی میں پہلے اسسٹنٹ کمشنر آفس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام اور تحصیل چیئرمین اکرم شہزادہ نے فیتہ کاٹ کر آفس کا افتتاح کیا۔ تقریب میں سیاسی، سماجی و انتظامی شخصیات، بلدیاتی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی عوامی حلقوں نے اے سی آفس کے قیام اور پہلے اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جیوانی کے عوام کو سرکاری و انتظامی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آئیں گی، عوامی شکایات کے ازالے اور روزمرہ انتظامی امور کی مؤثر نگرانی میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جیوانی میں بہتر طرز حکمرانی اور عوامی خدمت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
خبرنامہ نمبر 2026/7747
حب 14ستمبر:۔کمشنرلسبیلہ ڈویژن سائرہ عطائنے کہا ہیکہ محکمہ ایکسائزساؤتھ زون کی انسدادمنشیات وریونیوکلیکشن کے حوالے سے مؤثر اقدامات قابل تحسین ہیں تاہم انسداد منشیات کے حوالے سے لسنیلہ اورحب ڈسٹرکٹ میں منشیات بحالی مراکزکاقیام وقت اورحالات کااہم تقاضا ہے بڑھتی ہوء منشیات کی لت کی روک تھام کیلئے اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے یہ بات انہوں نے لیڈاکانفرنس ہال میں ڈی جی ایکسائز ساؤتھ زون محمد زمان ترین کی جانب سے محکمانہ بریفنگ کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے کہی۔ڈی جی ایکسائز محمد زمان ترین نے کمشنرلسبیلہ کوبریفنگ میں بتایا کہ وزیراعلی ڈرگ فری انیشیٹیو تجت بلوچستان کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے محکمہ ایکسئائز کی ٹیمیں کسٹم پاکستان نیوی نارکوٹکس فورس اوردیگر وفاقی اداروں کے تعاون سے جوائنٹ آپریشن میں اہم کامیابیاں حاصل کررہی ہے حال ہی میں 74ارب روپے مالیت کی منشیات کی کھیپ گڈانی ساحل سے پکڑی گء ہے وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی جانب سے ادارے کی انٹی نارکوٹکس کاروائیوں کے اعتراف میں تعریفی سند بھی دی گء ہے ڈی جی ایکسائز نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومت کی جانب ٹیکس ریونیو کلیکشن کے حوالے سے ہمیں جو ٹارگٹ دیا گیا الحمدوللہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے اس اہداف سے بڑھ کر ایک ارب 80کروڑکی ریکوری کرلی یے جن میں 75 کروڑ روپے موڑروہیکل رجسٹریشن 28کروڑ روپے وائن اسٹورلائسنگ کی مدمیں اور5کروڑ روہے پراپرٹی ٹیکس وصولی کی ہے جبکہ فیڈرل موٹروہیکل رجسٹریشن کی مد میں ایک ارب تیرہ کروڑروپے کی ریکوری حاصل کی ہے موٹروہیکل رجسٹریشن میں 90فیصدکمرشل ٹرک ہیوی ڈمپر لوڈراوردیگر گاڑیاں شامل ہیں کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع آواران میں ابھی تک ایکسائزڈیپارٹمنٹ کوفعال نہیں کیاگیا ہے زمان ترین نے کمشنرکو بریفنگ میں بتایا ک انکی تعیناتی سے قبل ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ریونیوکلیکشن ریکوری سالانہ 8کروڑ روپے تھی انہوں نے تعیناتی کے بعد ون ونڈوآپریشن کے ذریعے موٹرویکل رجسٹریشن پراپرٹی ٹیکس اور مائننگ رائلٹی کے حوالے سے سہولیات فراہم کیں اب ریونیو ریکوری بڑھ کردوارب روپے تک ہہنچ گء یے رواں سال انسدادمنشیات کاروائیوں میں 1438،کلو گرام کرسٹل /آئس
600کلوگرام حشیش 9543غیر ملکی وائن قبضے میں لے لی گئیں جنکی مالیت 76 ارب ہے ڈی جی ایکسائز نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز نے انسدادمنشیات cnsایکٹ کے تحت منشیات اسمگلروں کیخلاف چھ مقدمات درج کئے ہیں مقدمات نارکوٹکس کورٹ میں انڈرٹرائل ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو دوران بریفنگ بتایا گیا کہ منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ ہمسایہ ممالک کے سرحدی ایریاز سے ہوتی یے اوراسمگلر منشیات اسمگلنگ کیلئے بلوچستان کی ساحلی پٹی استعمال کرتے ہیں وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کے ڈرگ فری وژن کے تحت حکومت بلوچستان محکمہ ایکسائز کی کوششوں سے رواں سال بلوچستان کے سرحدی علاقے چاغی واشک قلعہ عبداللہ لورالاء میں لاکھوں ایکڑرقبے پر کاشت کی گء پوست افیون کی فصل سیکیورٹی اداروں اورضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تلف کرچکی ہے
خبرنامہ نمبر 2026/7748
حب 14ستمبر:۔ضلع حب میں پا نی بحر ان کے سنگین مسئلے کا کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائر ہ عطا ء نے نوٹس لیتے ہوئے ایریگیشن حکام کو احکامات جاری کی ہیں کہ حب شہر کو حب ڈیم سے اس کے حصہ کا واٹر شیئر دلا نے کے لیئے سیکرٹری ایریگیشن کولیٹر لکھاجا ئے کمشنر نے ایم ڈی لیڈا کے آفس میں ہنگامی میٹنگ کر تے ہو ئے ایر یگیشن حب کے ذمہ دار افسران، اسسٹنٹ کمشنر حب اور ایم ڈی لیڈا سے میٹنگ کی اور احکاما ت جا ری کیں کہ حب ڈیم سے کینال تک انڈسٹریل زون، حب شہر اور زرعی ایر یا ز کو 24گھنٹے پا نی کی فراہمی کے لیئے جوائنٹ کمیٹی کی میٹنگ طلب کی جا ئے اور اس میٹنگ کے توسط سے بلو چستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر حب کی صنعتی، زرعی او ر شہر ی ضروریا ت کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے سفارشات مرتب کیئے جا ئیں کمشنر لسبیلہ کو ایر یگیشن حکام نے بر یفنگ میں بتا یا کہ حب ڈیم سے بلو چستان کو پا نی کی شیئر نگ 140کیوسک پا نی فراہمی کا معاہد ہ کیا گیا ہے لیکن پر وجیکٹ ڈا ئر یکٹر حب ڈیم واپڈاہمیں صرف105کیوسک پا نی دے رہا ہے جس کی وجہ سے پا نی کا یہ بحران پید ا ہو ا ہے اس موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ایریگیشن حکام کو ہد ایت کی کہ بلو چستان کے واٹر شیئر کے حوالے سے جو لیٹر واپڈا حکام پر وجیکٹ ڈائر یکٹر حب ڈیم کو لکھا ہے اس کی تفصیلا ت اور اس پر عملدرآمد نہ ہو نے کی وجوات سے ہمیں آگا ہ کر یں کمشنر نے کہا کہ دفعہ 144کے نافذ کے با وجود ٹینکر مافیا کے خلاف فو ری طو ر پر کریک ڈاؤن کیا جا ئے انہوں نے موقع پر موجود اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت جا ری کی کہ وہ ایریگیشن حکام کی مدعیت میں کینال سے پا نی چوری اور غیر قانونی پا نی کی کر اچی تر سیل کے خلاف مقدما ت کی مانیٹرنگ کر یں اور روزانہ کی بنیاد پر ہمیں کا روائی سے آگا ہ کیا جا ئے
خبر نامہ نمبر 7749/2026
کوئٹہ 14ستمبر:۔مستونگ میں دہشت گردوں کا انجام اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ بلوچستان میں ملک دشمنوں اور بیرونی ایجنٹوں کے لیے صرف تباہی ہے۔ صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے مستونگ میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب ترین آپریشن کے دوران اہم کمانڈر سمیت تین دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی اہلکاروں کی دلاوری اور اعلیٰ حکمت عملی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ آپریشن اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ بلوچستان کی پاک سرزمین پر تخریب کاری، غیر ملکی ایجنڈے اور دہشت گردی کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ امن کے دشمن اور بیرونی ایجنٹ چاہے کسی بھی نام یا پناہ گاہ کے پیچھے چھپ جائیں، ریاستی قوت ان کے تمام عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ہر دم تیار ہے۔مینا مجید بلوچ نے واضح کیا کہ بلوچستان کے غیور عوام صرف اور صرف ترقی، امن اور خوشحالی کے خواہا ں ہیں اور کسی بھی شرپسند گروہ کو عوام کے ان حقوق کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قوم اپنی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور شہداء و غازیوں کی قربانیوں کے تسلسل میں امن دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7750
نصیرآبادڈویژن14ستمبر:ـجہالت کی تاریکی کے خاتمے اور تدریسی عمل میں مزید سدھار لانے کے لیے بلوچستان حکومت کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جعفرآباد میں اقدامات کا سلسلہ جاری اس حوالے سے ضلع جعفرآباد میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر خالد خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جاری تدریسی عمل، اساتذہ کی حاضری، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی سمیت محکمہ تعلیم کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے وژن کے مطابق ضلع جعفرآباد کے تعلیمی اداروں کی نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے اور فرائض میں غفلت یا غیر حاضری کے مرتکب ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7751
سوراب14ستمبر:ـ ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد نے ویٹرنری افسر ڈاکٹر محمد ایوب زہری، پی ایس اے سی محمد فضل لہڑی اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کے ہمراہ مختلف ڈیری فارمرز، ہوٹلز اور سوراب بازار میں دودھ فروشوں کے خلاف خصوصی کارروائی کی کارروائی کے دوران دودھ کے معیار، پانی کی مقدار اور ملاوٹ کی جانچ کی گئی، جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب متعدد ڈیری فارمرز، ہوٹلز اور دکانداروں پر جرمانے عائد کیے گئے انتظامیہ نے واضح کیا کہ شہریوں کو ناقص اور ملاوٹی دودھ فروخت کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ اور غیر معیاری دودھ کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی، آئندہ خلاف ورزی پر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7752
قلات14ستمبر:ـ21 ستمبر 2026 سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے سلسلے میں قلات میں ایم سی ٹیموں کے لیے تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی اجلاس قائم مقام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی کی نگرانی میں منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پولیو مہم کو مؤثر، منظم اور کامیاب بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی تربیت دی گئی۔تربیتی نشست کے دوران بچوں کی مکمل کوریج، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی، پولیو کے قطرے پلانے، درست ریکارڈنگ و رپورٹنگ، ٹیموں کی کارکردگی اور فیلڈ میں پیش آنے والے مسائل کے حل سے متعلق اہم ہدایات دی گئیں۔اس موقع پر پولیو فوکل پرسن کامریڈ وحید بلوچ، بابو عبد الفتاح دہوار، ڈبلیو ایچ او کے قلات نمائندہ عمیر بلوچ سمیت دیگر متعلقہ اہلکار بھی موجود تھے۔ شرکاء نے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ٹیموں کی بھرپور تیاری، مؤثر نگرانی اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنانے پر زور دیا۔قائم مقام ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی نے ہدایت کی کہ تمام ٹیمیں مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7753
قلات14ستمبر:ـڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر آفس اور تحصیل آفس کا تفصیلی دورہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی اور تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی نے ڈپٹی کمشنر کو دفاتر کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا۔ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر آفس اور تحصیل آفس کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور دفاتر میں دستیاب سہولیات، ریکارڈ کی صورتحال اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پٹوار خانے میں ریونیو ریکارڈ کا بھی بغور معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے ریونیو افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں، ریکارڈ کو درست اور مکمل رکھیں اور عوامی درخواستوں پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے سائلین کے مسائل فوری حل کریں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں آنے والے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7754
قلات14ستمبر:ـڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی اور زمینداروں کو درپیش مسائل سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر اسد سمالانی، تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی، زمیندار کسان اتحاد کے سربراہ آغا لعل جان احمدزئی، زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنما میر منیر شاہوانی، حاجی عزیز مغل، ملک محمد یوسف، حاجی عبدالوہاب، حاجی اکرم شاہوانی سمیت دیگر زمینداروں نے شرکت کی۔اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی، زمینداروں کو درپیش مسائل اور ٹیکس کی ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کی بروقت ادائیگی سے نہ صرف قومی معیشت کو استحکام ملتا ہے بلکہ ضلع قلات میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وسائل کی فراہمی بھی ممکن ہوتی ہے۔ زمیندار برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے حکومت اور زمینداروں کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ قلات زمینداروں کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ تمام زمیندار اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زرعی انکم ٹیکس مقررہ وقت پر ادا کریں تاکہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور قومی ترقی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7755
قلات14 ستمبر:ـمحکمہ صحت اور یونیسف کے تعاون سے ضلع قلات میں ماں اور بچے کی صحت ہفتہ کے سلسلے میں مختلف سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو 14 تا 19 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا۔اس سلسلے میں محکمہ صحت کے زیرِ اہتمام ڈی ایچ کیو ہسپتال قلات میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں قائم مقام ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، قائم مقام ایم ایس ڈاکٹر محمد یعقوب زہری، ڈی ایس او ماہ نور، بابو عبد الفتاح، کامریڈ وحید مینگل،ساجدہ بشیر، نازیہ بلوچ حلیمہ بلوچ سمیت لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپروائزرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر ماں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈی ورمنگ گولیاں، ضروری ادویات، ویکسین، آگاہی بینرز اور دیگر ضروری لاجسٹک سامان متعلقہ ٹیموں میں تقسیم کیا گیا۔محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت ہفتہ منانے کا مقصد خواتین اور بچوں کو صحت کی بنیادی سہولیات، ویکسینیشن اور مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ فیلڈ ٹیمیں مختلف علاقوں میں عوام تک صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گی۔اس موقع پر قائم مقام ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، ڈی ایس او ماہ نور اور ساجدہ بشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا محکمہ صحت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ہفتے کے دوران عوام میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ فیلڈ میں آنے والی محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، بچوں کو بروقت ویکسین لگوائیں اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق آگاہی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں
خبر نامہ نمبر 2026/7756
سوراب14 ستمبر:ـحکومت بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی و غیر مجاز پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شہر میں قائم 10 پٹرول پمپس بند کر دیے کارروائی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوراب سلمان علی بلیدی اور اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ کی قیادت میں کی گئی اس دوران پٹرول پمپس کے اجازت ناموں اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ غیر قانونی پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور عوامی تحفظ و قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7757
سوراب14 ستمبر:ـڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوراب سلمان علی بلیدی کی زیر صدارت ریونیو وصولیوں اور زرعی آمدن ٹیکس کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، سپرنٹنڈنٹس فضل محمد قمبرانی و عبدالصمد ساسولی، تحصیلدار محمود احمد کرد، نائب تحصیلدار ایوب حسنی، قانونگو، پٹواری، ریونیو کلرکس اور دیگر متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی اجلاس میں ریونیو وصولیوں اور زرعی آمدن ٹیکس کے اہداف کے حصول، ریکارڈ کی تکمیل اور وصولیوں میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے امور کا جائزہ لیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7758
سوراب14 ستمبر:ـڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سورب سلمان علی بلیدی کی زیر صدارت گیس اور بجلی کی حالیہ قلت و لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، سپرنٹنڈنٹس فضل محمد قمبرانی و عبدالصمد ساسولی، تحصیلدار محمود احمد کرد، نائب تحصیلدار ایوب حسنی، ایس ڈی واپڈا شکر اللہ، گیس نمائندہ انجینئر شیر احمد قمبرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں گیس و بجلی کی جاری قلت اور لوڈشیڈنگ سے شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے مسائل کے فوری حل اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 2026/7738RECAST
کوئٹہ 14ستمبر:۔تحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج مورخہ 14 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں تحقیقاتی کمیشن کی کاروائی کو اگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران علاقہ کے لوگوں کی بڑی تعداد پیش ہوئی جن کی معاونت وکلا کی ٹیم نے کی جن میں شمس الرحمن کاکڑ، عابد پانیزئی، عبدالمصور، مسعود احمد دوتانی، شیر دل مینگل اور حبیب اللہ خان ناصر ایڈوکیٹس شامل تھے۔ علاوہ ازیں تحقیقاتی کمیشن کے پچھلے حکم نامے مورخہ09.09.2026 کی تعمیل میں انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور(نارتھ)کی جانب سے ایک مفصل رپورٹ جمع کروادیگئی جس میں ایف سی کا موقف بیان کیا گیا ہے۔مزید براں تحقیقاتی کمیشن نے گواہوں کی شہادتیں قلم بند کرنے کے لیے کاروائی اگلی سماعت تک ملتوی کر دی گئی.
خبر نامہ نمبر 2026/7759
ضلع چمن14ستمبر:ـچمن شہر کو صاف، خوبصورت اور سرسبز بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ چمن کی جانب سے 10 روزہ خصوصی صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔مہم کے دوران شہر کے مختلف علاقوں، سڑکوں، گلیوں اور میدانوں سے کچرے کے ڈھیروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شجرکاری اور تزئین و آرائش کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔اس مہم میں ضلعی انتظامیہ چمن، میونسپل کارپوریشن چمن اور ڈسٹرکٹ کونسل باہمی تعاون سے شہر کو صاف اور خوبصورت بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔مہم کا مقصد صاف چمن، سرسبز چمن اور خوبصورت چمن کے خواب کو عملی شکل دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے شہریوں کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔آئیں! مل کر چمن کو صاف، سرسبز اور خوبصورت بنائیں۔






