خبرنامہ نمبر7704/2026
کوئٹہ 13ستمبر:صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ہمیں تشدد کے بجائے قلم، تباہی کے بجائے ترقی اور نفرت کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا حکومت نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا تاہم بندوق کے زور پر مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اس بحث سے نکلنا ہوگا کہ مذاکرات کس سے ہونے چاہئیں اور کس سے نہیں، بلکہ اپنی توجہ بلوچستان اور پاکستان کی ترقی، امن، خوشحالی اور عوام کے بہتر مستقبل پر مرکوز کرنا ہوگی ہمیں مل کر دہشت گردی، تشدد اور نفرت کو مسترد کرنا ہوگا جو عناصر ہمارے امن کو تباہ، عوام کو تقسیم اور معصوم جانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ہماری اصل طاقت اتحاد، تعلیم، محنت، شعور اور اپنے وطن سے محبت ہے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ قلم کو اپنا ہتھیار بنائیں، تعلیم حاصل کریں اور پارلیمانی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ملک اور قوم کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں جہاں عوام اپنی ریاست اور آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں ریاست اور آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے سامنے ریاستی نظام کو کمزور کیا گیا ہو مذاکرات کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو پاکستان کے آئین اور ریاستی نظام کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم بندوق،دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے اپنی بات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا بلوچستان اورپاکستان تشکیل دینا ہوگا جہاں امن، تعلیم، روزگار، ترقی اور خوشحالی ہو-
خبرنامہ نمبر7705/2026
بارکھان13 ستمبر : ڈی آئی جی کوہِ سلیمان ڈویژن ایاز احمد بلوچ کے احکامات اور ایس پی بارکھان عبدالحق رئیس کی خصوصی ہدایت پر بارکھان پولیس کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ڈی ایس پی رکھنی جبار مینگل کی نگرانی میں ایس ایچ او رکھنی ایس آئی توقیر شاہ نے پولیس پارٹی کے ہمراہ نیشنل ہائی وے پر دورانِ چیکنگ ٹرک نمبر 147؍TKB کو روک کر تلاشی لی۔پولیس کے مطابق ٹرک میں بنائے گئے خفیہ خانوں سے 29 کلو 600 گرام چرس جبکہ 7 کلو 55 گرام آئس؍شیشہ برآمد کیا گیا۔پولیس نے برآمد شدہ منشیات قبضے میں لے کر مبینہ ملزمان محمد ہاشم اور ولی محمد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس حکام نے کہا ہے کہ منشیات کے مکروہ کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر7706/2026
گوادر13 ستمبر :حکومتِ بلوچستان کی کھیل دوست پالیسی، نوجوانوں کو صحت مند و مثبت سرگرمیوں کے مواقع کی فراہمی اور کھیلوں کے ذریعے طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے عزم کے تحت میر ارشد کلمتی کے زیرِ اہتمام اور میر عبدالغفور کلمتی فٹبال اکیڈمی کے تعاون سے جاری میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسکول اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے چھٹے اور ساتویں روز بھی مختلف کھیلوں کے مقابلے بھرپور جوش و خروش سے جاری رہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز سورگ دل فٹبال اسٹیڈیم گوادر میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گھٹی ڈھور گوادر اور دارالعلوم پبلک اسکول گوادر کے درمیان دلچسپ فٹبال مقابلہ کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں نے بہترین کھیل اور بھرپور جذبے کا مظاہرہ کیا، تاہم دارالعلوم پبلک اسکول نے فیصلہ کن گول اسکور کرتے ہوئے مقابلہ 1-0 سے اپنے نام کرلیا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی پرنسپل دارالعلوم پبلک سیکنڈری اسکول گوادر قاسم بلوچ سمیت اسپورٹس فیسٹیول کمیٹی کے ارکان، اساتذہ اور دیگر معززین موجود تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور فیسٹیول کے انعقاد کو سراہا۔ میچ میں شاہ زمان نے ریفری جبکہ واحد حاجی اور انیس کریم نے اسسٹنٹ ریفریز کے فرائض انجام دیے فی کے ساتویں روز گرلز ایونٹ میں کرکٹ کے دو سنسنی خیز سیمی فائنل کھیلے گئے۔ پہلے سیمی فائنل میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر نے بحریہ ماڈل کالج گوادر کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں گوادر گرائمر اسکول نے نیوٹاؤن گرائمر اسکول کو شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ دونوں فاتح ٹیمیں پیر کو فائنل میں مدمقابل ہوں گی ساتویں روز کی مہمانانِ خصوصی گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر کی سینئر ٹیچر میڈم فہمیدہ بشیر اور ڈاکٹر فیروزہ اصغر تھیں۔ اس موقع پر اسپورٹس فیسٹیول کمیٹی کی خواتین اراکین اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔ مہمانانِ خصوصی نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کو کھیلوں سمیت مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا خوش آئند اقدام ہے، جس سے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنے میں مدد ملتی ہے میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسکول اسپورٹس فیسٹیول حکومتِ بلوچستان کی کھیل دوست پالیسی کے عملی فروغ کی ایک مثبت مثال ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل میں صحت مند مسابقت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور کھیلوں کا جذبہ پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ طالبات کو بھی کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے فیسٹیول کے انعقاد میں محکمہ تعلیم گوادر، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن گوادر اور محکمہ کھیل گوادر کا تعاون حاصل ہے,
خبرنامہ نمبر7707/2026
گوادر 13 ستمبر :حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی پالیسی کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار، طلبہ و طالبات کی حاضری، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گنز کا دورہ کیا۔جہاں پر انہوں نے اسکول میں طالبات کی حاضری، تدریسی عمل، کلسٹر بجٹ کے استعمال اور جاری تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، جبکہ طلبہ سے ملاقات کرکے ان کے تعلیمی مسائل اور ضروریات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں ۔اسسٹنٹ کمشنر نے اسکول میں زیرِ تعمیر اضافی کلاس رومز کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام میں مقررہ معیار اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے منصوبہ بروقت مکمل کیا جائے، تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سہولیات کی بہتری، معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ و طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کو ترجیح دے رہی ہے۔
خبرنامہ نمبر7708/2026
کوئٹہ 13 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی خصوصی ہدایات پر پولیسنگ کے نظام میں جدت ،فعال اور مستحکم بنانے اور گشت کے نظام کو مزید موثر و فعالیت کے لئے اوستہ محمد اور نصیرآباد پولیس کو مجموعی طور پر 31 نئی CG-125 موٹر سائیکلیں فراہم کر دی گئیں۔ اوستہ محمد اور نصیرآباد کے اضلاع میں پولیس کو جرائم کی روک تھام، پولیس گشت اور بروقت رسپانس کو مؤثر بنانے کے لیے 15 نئی CG-125 موٹر سائیکلیں فراہم کی گئیں۔ ایس پی اوستہ محمد حافظ معاذ الرحمٰن نے موٹر سائیکلوں کی چابیاں متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز اور انچارج افسران کے حوالے کیں۔اس موقع پر ایس پی اوستہ محمد نے افسران کو ہدایت کی کہ موٹر سائیکلوں کی مناسب دیکھ بھال اور بروقت مرمت یقینی بنائی جائے جبکہ انہیں پولیس گشت اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے ہی ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئی موٹر سائیکلوں کی فراہمی سے شہر میں پولیس گشت کا نظام مزید بہتر ہوگا، جس سے جرائم کی روک تھام، بروقت پولیس رسپانس اور عوام کے تحفظ میں مدد ملے گی۔دوسری جانب نصیرآباد پولیس کو بھی 16 نئی 125-CG موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں۔ ایس ایس پی نصیرآباد اسد خان ناصر نے پولیس تھانہ سٹی، صدر، منگولی، منجھوشوری، میر حسن اور 15 مددگار کے اہلکاروں کو موٹر سائیکلیں فراہم کی۔اس موقع پر ایس ایس پی نصیرآباد اسد خان ناصر نے کہا کہ نئی موٹر سائیکلوں کی فراہمی سے پولیس کے گشت کا دائرہ اور دورانیہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ جرائم کی روک تھام اور فوری رسپانس کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ جدید وسائل کی فراہمی سے پولیس کی استعدادِ کار بہتر ہوگی اور عوام کو بروقت و مؤثر پولیس سروسز کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔
خبرنامہ نمبر7709/2026
لورالائی13ستمبر :ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ضلعی کمیٹی برائے انسدادِ منشیات کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں بھنگ کی کاشت کے خلاف جاری مہم، سروے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) علی نواز جمالی، ایس ڈی پی او محمد اعظم، محکمہ ایکسائز و اینٹی نارکوٹکس اور دیگر متعلقہ محکموں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں بھنگ کی ممکنہ کاشت کی نشاندہی کے لیے کیے گئے سروے، مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بھنگ کی کاشت کے خلاف اب تک کی گئی کارروائیوں اور درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا گیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے واضح کیا کہ ضلع لورالائی میں منشیات خصوصاً بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں بھنگ کی کاشت کی درست اور مکمل نشاندہی کے لیے سروے کا عمل ہر صورت مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور سروے کے اعداد و شمار کی تصدیق کو بھی یقینی بنایا جائیانہوں نے کہا کہ بھنگ کی کاشت کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں کریں، جبکہ جہاں بھنگ کی فصل موجود ہونے کی نشاندہی ہو وہاں قانون کے مطابق فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائیڈپٹی کمشنر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایت کی کہ انسدادِ بھنگ مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے اور کسی بھی علاقے میں بھنگ کی کاشت یا اس سے متعلق سرگرمیوں کی اطلاع ملنے پر فوری کارروائی یقینی بنائی جائیاجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ انسدادِ منشیات مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایکسائز و اینٹی نارکوٹکس اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لورالائی کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے انسدادِ بھنگ مہم پر بلاامتیاز اور سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا، جبکہ عوامی سطح پر بھی منشیات کے مضر اثرات کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے محفوظ بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر7710/2026
دکی13ستمبر: ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ویکسینیشن اور بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے ڈی ایچ او آفس دکی میں ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس کے بعد آگاہی ریلی بھی نکالی گئی۔ سیمینار اور ریلی میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور محکمہ صحت کے اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر ڈی ایچ او کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد عزیز نے شرکاء کو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور مہم کے اغراض و مقاصد، ویکسینیشن کے طریقہ کار اور بچوں و خواتین کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے آگاہ کیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر دکی ڈاکٹر بہادر خان لونی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 14 سے 19 ستمبر تک جاری رہنے والی مہم کے دوران بچوں اور خواتین کی صحت کے حوالے سے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو ڈی ورمنگ کی گولیاں دی جائیں گی، جبکہ پیدائش سے لے کر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 14 سے 49 سال تک کی خواتین کو بھی حفاظتی ویکسین لگائی جائے گی، جبکہ ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں (ڈیفالٹر بچوں) کو بھی تلاش کرکے ان کی ویکسینیشن مکمل کی جائے گی۔ڈاکٹر بہادر خان لونی نے کہا کہ “صحت مند بچہ، خوشحال خاندان اور مضبوط پاکستان” ہمارا مقصد ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پیدائش سے 5 سال تک تمام حفاظتی ویکسین لازمی لگوائیں تاکہ انہیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی بروقت ویکسینیشن نہ صرف ایک صحت مند نسل کی ضمانت ہے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو محفوظ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔محکمہ صحت دکی کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی کہ مہم کے دوران صحت کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں، اپنے بچوں کو حفاظتی ویکسین ضرور لگوائیں اور “صحت مند بچہ، مضبوط پاکستان” کے پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر7711/2026
زیارت 13ستمبر :صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے ہرنائی کے علاقے شاہرگ کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دھماکے میں 4 کانکنوں کے جاں بحق اور 5 کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر اور ڈسٹرکٹ فوکل پرسن نے جاں بحق کانکنوں کے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے سے وہ خود بھی غمزدہ ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمی کانکنوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور امید ظاہر کی کہ زخمی جلد روبہ صحت ہو کر اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے ضلعی انتظامیہ اور مائنز ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات کو روکنے کے لیے سیفٹی کے خصوصی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر7712/2026
کوئٹہ:13 ستمبر: بلوچستان سول سروسز اکیڈمی (BCSA)، کوئٹہ میں 8ویں ایڈہاک نصابی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی، ڈائریکٹر جنرل بی سی ایس اے نے کی۔ اجلاس میں اعلیٰ سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ مواصلات، تعمیرات، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے انجینئرز؍سب ڈویژنل آفیسرز کے لیے 12 ہفتوں کے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے سپرنٹنڈنٹس و آفس کوآرڈینیٹرز کے لیے 8 ہفتوں کے تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ کمشنرز و سیکشن آفیسرز کے لیے پہلے پری سروس تربیتی پروگرام کے نصاب پر غور کیا گیا اور منظوری دی گئی۔اجلاس میں دوستین خان جمالدینی، عبداللہ خان، ڈاکٹر جاوید انور شاہوانی، ڈاکٹر فیصل خان، سید غوث علی شاہ، رحمت اللہ چانگیزی اور مسٹر نذر محمد کاکڑ سمیت کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی، جبکہ محمد رفیق رئیسانی، محمد رفیق اور ڈاکٹر علی نواز بلوچ خصوصی مدعوین کے طور پر شریک ہوئے۔تربیتی پروگراموں کا مقصد سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ، انتظامی، تکنیکی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور مؤثر، شفاف اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کے لیے ان کی استعدادِ کار میں اضافہ کرنا ہے۔بلوچستان سول سروسز اکیڈمی سرکاری افسران کی استعدادِ کار میں اضافے، پیشہ ورانہ معیار کی بہتری اور بہترین طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
خبرنامہ نمبر7713/2026
کوئٹہ 13ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے صاف، ستھرا کوئٹہ کے وژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ اور میونسپل مجسٹریٹ ڈاکٹر عمران زیب کاسی نے جان محمد روڈ، فقیر محمد روڈ اور اختر محمد روڈ کا دورہ کیا اور وہاں واقع ڈیری فارمز میں صفائی اور نکاسی آب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔معائنے کے دوران بعض مقامات پر مویشیوں کا فضلہ، باقیات اور دیگر کچرا نالیوں میں پھینکے جانے کا مشاہدہ ہوا، جس سے نالیوں میں رکاوٹ اور گندے پانی کے سڑکوں پر آنے کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کارروائی کے دوران 12 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ڈیری فارمز کے مالکان کو نالیوں میں کسی قسم کا فضلہ یا کچرا نہ پھینکنے کی ہدایت کی گئی اور متعلقہ مالکان کی جانب سے تحریری حلف نامے جمع کروائے گئے کہ وہ آئندہ اس عمل سے گریز کریں گے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ و ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔انتظامیہ واضح کرتا ہے کہ شہر کی صفائی اور نکاسی آب کا نظام بہتر رکھنا مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے قوانین اور انتظامی ہدایات کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری رہے گی۔
خبرنامہ نمبر7714/2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے گورنمنٹ گرلز کالج صحبت پور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کالج کے مختلف شعبہ جات، تدریسی سرگرمیوں اور تعلیمی ماحول کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے کلاس رومز کا معائنہ کرتے ہوئے طالبات کو فراہم کی جانے والی تدریسی سہولیات اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کے معیار کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خواتین اور بچیوں کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور ان کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دلجمعی محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور طالبات کی تعلیمی استعدادِ کار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر تدریسی طریقہ کار اختیار کریں انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا کردار صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ طالبات کی شخصیت سازی اخلاقی تربیت اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ طالبات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم اور ضروری رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں انہوں نے کالج انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری نظم و ضبط اور طالبات کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اس موقع پر کالج انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کو کالج کی تعلیمی سرگرمیوں، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔






