خبرنامہ نمبر7514/2026
کوئٹہ8 ستمبر۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت نوابزادہ زریں مگسی نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں ملاقات کی جسمیں بلوچستان میں ثقافت، سیاحت، مادری زبانوں، ادب و فن کے فروغ سمیت صوبے کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کے مختلف پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان اپنے قدیم تہذیبی ورثے، تاریخی مقامات، طویل ساحلی پٹی اور نایاب پرندوں و جانوروں کے باعث دنیابھر کے سیاحوں کیلئے ایک پرکشش مقام رکھتا ہے۔ صوبے میں سیاحت اور ثقافت کو منظم انداز میں فروغ دیکر نہ صرف سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکتا ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری پر زور دیا کہ ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی مادری زبانوں، شعرائ ، ادبائ دانشوروں اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے باقاعدگی سے سیمینارز اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ ہم نے اپنے تمام سیاسی کیریئر میں پارلیمانی سیاست کے ساتھ ساتھ کلچر، ادب اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ روزِ اول سے خوشگوار تعلقات قائم رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان شعبوں سے وابستہ افراد کے خوشی اور مشکل دونوں وقتوں میں ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ہر ممکن ان کی معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے گزشتہ سال اسلام آباد میں بلوچستان گرینڈ ٹورازم فیسٹیول کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تعمیری کاوش تھی۔ ایسے گرینڈ فیسٹیولز کا انعقاد وقفے وقفے سے جاری رہنا چاہیے تاہم ان پروگراموں کو مزید موثر بنانے کیلئے مقامی ٹی وی آرٹسٹوں، گلوکاروں، شعراء اور ادباءکو بھرپور انداز میں شامل کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قیمتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے نوجوان نسل اور عالمی برادری کے سامنے موثر انداز میں سامنے لاہا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7515/2026
کوئٹہ8 ستمبر.۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل سے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں صحت عامہ کی مجموعی صورتحال، صحت کے مراکز کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری اور صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات خصوصاً ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ کسی بھی وزارت میں نئی اصلاحات متعارف کرانا متعلقہ وزیر اور ان کی پوری ٹیم کی بصیرت، موجودہ حالات کا ادراک اور مستقبل قریب کی ضروریات سے آگاہی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کا نفاذ پورے نظام صحت کو مضبوط، مستحکم اور جدید بنیادیں فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ گورنر نے کہا کہ نیو ٹراما سینٹر کے قیام اور ضلعی سطح پر ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت، لیبر رومز اور دیگر طبی سہولیات کی فعالیت کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ گورنر نے کہا کہ صوبہ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے صرف صوبائی وسائل پر انحصار کافی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اداروں سمیت دیگر انٹرنیشنل اداروں کی معاونت، تکنیکی رہنمائی اور استعدادِ کار بڑھانے کے پروگراموں سے بھی استفادہ کرنا ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7516/2026
کوئٹہ: 8ستمبر ۔حکومت بلوچستان کے محکمہ آبپاشی کے صوبائی وزیر میر صادق عمرانی اور رکن صوبائی اسمبلی میر ظفراللہ زہری نے سیکرٹری آبپاشی حکومت بلوچستان سہیل الرحمٰن کے دفتر کا دورہ کیا اور ان سے ملاقات کی ملاقات کے دوران چیف انجینئر کوئٹہ زون بشیر ترین اور سیکشن آفیسر محکمہ آبپاشی انجم بشیر بھی موجود تھےملاقات میں محکمہ آبپاشی سے متعلق مختلف اہم امور، جاری ترقیاتی منصوبوں، پانی کے موثر انتظام و انصرام اور صوبے میں آبپاشی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی اور محکمہ آبپاشی کی مجموعی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا اس موقع پر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت اور معیشت کی ترقی کے لیے آبپاشی کے نظام کی بہتری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ دستیاب آبی وسائل کے موثراستعمال، نہری نظام کی بہتری اور پانی کے ضیاع کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے محکمہ آبپاشی کے افسران پر زور دیا کہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں رکن صوبائی اسمبلی میر ظفراللہ زہری نے بھی محکمہ آبپاشی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں پانی کی ضروریات اور زراعت سے وابستہ مسائل کے حل کے لیے موثر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی رابطہ ضروری ہے ۔سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کی جانب سے جاری اقدامات اور منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صوبے میں آبی وسائل کے بہتر انتظام، آبپاشی کے نظام کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہا ہے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں محکمہ آبپاشی کو درپیش چیلنجز، مستقبل کی ضروریات اور مختلف امور پر باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7517/2026
لورالائی8ستمبر۔ : یوم دفاع پاکستان 6 ستمبر کے حوالے سے ڈسٹرکٹ چیئرمین اصغر خان اوتمانخیل کی جانب سے منعقدہ یادگاری فٹبال ٹورنامنٹ کا شاندار اختتام ہوگیا۔ اس موقع پر لورالائی فٹبال اسٹیڈیم اور کالج گراو¿نڈ میں کھیلوں کے شائقین، نوجوانوں اور تماشائیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ فضا قومی جذبے اور حب الوطنی کے نعروں سے گونجتی رہی ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں پرنس ایف سی اور ناصر الیون ایف سی کے درمیان دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ ہوا، جس میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل، مہارت اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ میچ کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین میں حب الوطنی اور کھیل کے جذبے کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ چیئرمین اصغر خان اوتمانخیل جبکہ چیئرمین ٹھیکیدار سمیع اللہ اوتمانخیل بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ مہمانان خصوصی نے کھلاڑیوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا، ان کی حوصلہ افزائی کی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کو نوجوان نسل کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا فائنل مقابلے کے اختتام پر بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے گئےٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 30 ہزار روپے نقد، رنر اپ ٹیم کو 20 ہزار روپے نقد جبکہ میچ کے ریفریز کو 10 ہزار روپے نقد انعام دیا گیا تقریب کے دوران ڈسٹرکٹ چیئرمین اصغر خان اوتمانخیل نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان میں قومی پرچم تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک عظیم اور یادگار دن ہے، جو ہمیں اپنی بہادر مسلح افواج کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افواج کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن عزیز کے دفاع کو یقینی بنایا اور قوم کو بہادری، قربانی اور حب الوطنی کا عظیم درس دیا انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں خصوصاً کھیلوں کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، برداشت، بھائی چارے اور باہمی تعاون کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں تقریب میں الحیات کبزئی کے سیکرٹری اطلاعات سمیت صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات، کھیلوں سے وابستہ افراد اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اس نوعیت کے کھیلوں کے مقابلے نوجوانوں میں قومی جذبے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل امن، بھائی چارے اور یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تقریب کے اختتام پر شرکائ نے پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وطن عزیز کے دفاع، امن اور ترقی کے لیے ہر سطح پر اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7518/2026
استا محمد8ستمبر۔ گنداخہ شہر میں پینے کے پانی کی قلت پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف و پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں اس سلسلے میں پی ایچ ای ڈی کے تالابوں کو پانی سے بھرنے کے لیے متبادل ذرائع سے پانی کا انتظام کیا جا رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت پر نائب تحصیلدار گنداخہ بلال جمالی کی نگرانی میں بھاری مشینری کے ذریعے پانی کی لفٹنگ اور منتقلی کا عمل مسلسل جاری ہے اس مقصد کے لیے دستیاب متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرکے اسے پی ایچ ای ڈی کے تالابوں تک منتقل کیا جا رہا ہے، تاکہ تالابوں میں پانی کا ذخیرہ بحال کرکے گنداخہ شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے ضلعی انتظامیہ کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر پانی کی قلت کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جبکہ پانی کی لفٹنگ منتقلی اور تالابوں کو بھرنے کے عمل کی نگرانی بھی باقاعدگی سے کی جا رہی ہے ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ گنداخہ شہر میں پینے کے پانی کی فراہمی میں بہتری کے لیے جاری اقدامات میں کسی قسم کی غفلت یا سستی نہ برتی جائے اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے جائیں ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ گنداخہ شہر میں پینے کے پانی کی قلت کے مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے بھی متعلقہ محکموں کے تعاون سے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7519/2026
استا محمد8ستمبر : کھیرتھر کینال کے بیرون غیر قانونی واٹر کورسز کے خلاف آپریشن، 22 واٹر کورسز بند کر دیے گئے واضح رہے کہ آج رات ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت اور نگرانی میں کھیرتھر کینال کے بیرون میں قائم غیر قانونی واٹر کورسز اور پانی کے غیر مجاز اخراج کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا آپریشن ایگزیکٹو انجینئر کھیرتھر کینال استا محمد غلام محمد کی سربراہی میں کیا گیا، جس کا مقصد کھیرتھر کینال کے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور ٹیل کے علاقوں تک پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا تھا کارروائی کے دوران کھیرتھر کینال کی بیرون سائڈ کے مختلف مقامات پر قائم 22 غیر قانونی واٹر بند کر دیے گئے بند کیے جانے والے واٹر کورسز میں ولی محمد بروہی، محمد رمضان ناوڑہ، مٹھل ناوڑہ، غلام فرید عمرانی، عمر خان جمالی، لعل بخش ناوڑہ، حاجی شاہمیر رند، ہیبت خان لہڑی، لعل بخش لہڑی، سیف اللہ چانڈیو، خان محمد جمالی، قابولا ربیع چینل، تاج محمد خان جمالی، سفر خان جتک، کیٹل فارم، غلام حسین عمرانی، حمزہ پلال، کیڈٹ کالج الطاف حسین بروہی مٹھری مائنر بیرون، صابر پندرانی بیرون اور عمر خان بیرون ہیڈ باغ شامل ہیںآپریشن میں اسسٹنٹ کمشنر استا محمد محمد رمضان اشتیاق ایس ڈی او اپر کینال زیشان جمالی ایس ڈی او لوئر کینال سلمان مینگل، ایس ایچ او صدر حضور بخش سمیت پولیس اور محکمہ آبپاشی کے اہلکاروں نے حصہ لیا کارروائی کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا اور تقریباً رات 2 بجے تک مختلف مقامات پر غیر قانونی پانی کے اخراج کو روکنے کے لیے بیرون کے واٹر کورسز کو بند کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے کہا کہ نہری پانی ایک قومی اور قیمتی اثاثہ ہے جس کی تقسیم میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا غیر قانونی پانی کے اخراج کو برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے متعلقہ محکمہ آبپاشی کے افسران کو ہدایت کی کہ کھیرتھر کینال کے پانی کی منصفانہ تقسیم پانی چوری کی روک تھام اور بالخصوص ٹیل کے علاقوں تک مقررہ شیئر کے مطابق پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ کینال کے بیرون پر غیر قانونی واٹر کورسز کے خلاف کارروائی کو بلاامتیاز جاری رکھا جائے اور جہاں کہیں بھی غیر قانونی طور پر نہری پانی کا رخ موڑنے یا پانی کے اخراج کی کوشش کی جائے وہاں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ تمام کاشتکاروں کو ان کے حق کے مطابق نہری پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی باہمی رابطے کے ذریعے نہری نظام کی نگرانی مزید موثر بنائیں گے تاکہ پانی کی تقسیم میں شفافیت برقرار رہے اور کھیرتھر کینال کے آخری سرے یعنی ٹیل کے علاقوں کے کاشتکاروں کو پانی کے حوالے سے درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7520/2026
لورالائی:8ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ضلعی انٹیلی جنس رابطہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد سمیت مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں ضلع لورالائی کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے موجودہ صورتحال کے تناظر میں امن و امان کو مزید موثر بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیااجلاس میں حساس تنصیبات کی حفاظت اور ان کے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ اہم سرکاری و عوامی تنصیبات کی سیکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائےاسی طرح فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں کی موثر نگرانی، قانون کے مطابق ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے پر بھی غور کیا گیااجلاس میں ضلع کے مختلف علاقوں میں بھنگ کی ممکنہ کاشت کے خاتمے کے حوالے سے جامع سروے کرنے اور اس ضمن میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے غیر قانونی کاشت کے خلاف موثر اور مربوط کارروائی کو یقینی بنائیں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ حکومتی پالیسی اور قانون کے مطابق اس عمل کو مربوط اور موثر انداز میں جاری رکھا جائےاجلاس میں ضلع بھر میں پولیس گشت، ناکہ بندیوں اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید فعال بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں پائیدار امن و امان کا قیام تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے مو¿ثر رابطہ کاری، بروقت معلومات کا تبادلہ اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنائیں اور امن و امان سے متعلق کسی بھی ممکنہ خطرے یا صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اور موثر اقدامات کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ضلع میں امن کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے لورالائی میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر اور مستحکم بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7521/2026
دکی:8ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے مائنز ریسکیو سینٹر 1122 کا دورہ کیا اور وہاں ریسکیو و ایمرجنسی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورانِ دورہ اسسٹنٹ کمشنر نے ریسکیو سینٹر میں موجود ریسکیو آلات، ایمرجنسی سہولیات، عملے کی دستیابی، ریسکیو گاڑیوں اور دیگر ضروری انتظامات کا معائنہ کیا۔انہوں نے متعلقہ حکام سے کان کنی کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال، حادثے یا کان میں پھنسے افراد کو فوری ریسکیو کرنے کے لیے موجودہ ریسکیو میکانزم، رسپانس ٹائم اور باہمی رابطہ کاری کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال نے ہدایت کی کہ مائنز ریسکیو سینٹر کو ہر وقت فعال رکھا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے ضروری آلات اور ریسکیو ٹیم کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ دکی میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ افراد کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں بروقت ریسکیو کارروائی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ضروری ہے۔انہوں نے ریسکیو عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ایمرجنسی رسپانس، حفاظتی اقدامات اور ریسکیو صلاحیتوں کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں کم سے کم وقت میں امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7522/2026
لورالائی 8 ستمبر ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات پر میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہےچیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان کی نگرانی میں صفائی عملہ شہر کے مختلف زونز میں متحرک ہے اور نالیوں، مین ہولز، گلی محلوں، شاہراہوں اور قبرستانوں کی صفائی کا کام جاری رکھے ہوئے ہےتفصیلات کے مطابق سبزی منڈی کمپلینٹ زون میں نالیوں کی صفائی اور مین ہولز کی تنصیب کا کام کیا جا رہا ہے، جبکہ گنجئی قبرستان میں جمع شدہ کچرے کو صاف کیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں سے ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے کچرے کی بروقت منتقلی کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکےاسی طرح دوبی گاٹ محلہ، بائی پاس ترکئی گلی اور پنجابی محلہ سمیت مختلف علاقوں میں نالیوں کی صفائی، گلیوں میں جھاڑو اور دیگر صفائی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ صفائی عملہ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بند نالیوں کی صفائی پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہےمیونسپل کمیٹی حکام نے کہا ہے کہ شہر میں صفائی ستھرائی کا عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھا جا رہا ہے اور تمام زونز میں مرحلہ وار صفائی کے انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ صفائی ستھرائی کے عملے کے ساتھ تعاون کریں، کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں اور گلیوں، نالیوں اور عوامی مقامات پر کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کریں حکام کے مطابق صاف ستھرا ماحول نہ صرف شہری خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مختلف بیماریوں سے بچاو اور صحت مند معاشرے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا میونسپل کمیٹی لورالائی شہریوں کو بہتر اور صاف ماحول کی فراہمی کے لیے اپنی تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7523/2026
لورالائی، 8 ستمبر ۔ : دنیا بھر کی طرح لورالائی میں بھی آج عالمی یومِ خواندگی منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد تعلیم اور خواندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنا، عوام میں علم و شعور کے فروغ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور معاشرے کے ہر فرد تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کے عزم کی تجدید کرنا ہےعالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ڈویڑنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر لورالائی عالم لون نے کہا ہے کہ تعلیم، شعور اور آگاہی ہی کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کے تمام افراد خصوصاً نئی نسل کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم نہ کیے جائیں انہوں نے کہا کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان میں شعور، سوچ، خود اعتمادی اور بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد ہی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں مو¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں عالم لون نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ بلوچستان، بالخصوص لورالائی کے ہر بچے تک قلم اور کتاب پہنچائیں گے اور علم کی شمع روشن کرکے جہالت، پسماندگی اور محرومی کے اندھیروں کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی حکومت کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ، سماجی تنظیموں اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہےانہوں نے کہا کہ ایک پڑھا لکھا فرد ایک بااختیار خاندان کی بنیاد بنتا ہے، جبکہ ایک خواندہ بلوچستان ایک خوشحال،مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔ آج کے جدید دور میں تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے بھی آراستہ کریں ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں، خصوصاً بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور کسی بھی بچے کو معاشی یا سماجی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہنے دیں۔ انہوں نے اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ وہ نئی نسل کی کردار سازی اور علمی تربیت میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ علم کی روشنی کو معاشرے کے ہر گھر تک پہنچانے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ناخواندگی کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگاآخر میں عالم لون نے کہا کہ آئیے، عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود ہر بچے کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے، شرح خواندگی میں اضافے اور ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7524/2026
لسبیلہ / حب ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کہا ہے کہ بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں مائنز اینڈ منرل کی صنعت ملکی معیشت کیلئےریونیو کلیکشن میں کلیدی کرداراداکررہی ہے صوبے کی اقتصادی ترقیاوراس صنعت کی معدنی وسائل کوفروغ دینے میں وزیراعلی یے وڑن کے تحت انتظامیہ بھرہور معاونت فراہم کریگی یہ بات انہوں نے ڈائریکٹر مائنزاینڈمنرل کیجانب سے دیگءمحکمانہ بریفنگ میں اظہار خیال کرتے یوئےکہی ڈائریکٹر مائنزاینڈمنرل محمد ابراہیم بازءنے بریفنگ میں بتایا کہ۔محکمہ مائنزاینڈمنرل ڈیپارٹمنٹ معدنی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کررہی ہےڈائریکٹر مائنز نے بریفنگ میں بتایا کہ معدنیات کے شعبے کی لائسنسنگ کرایہ اور رائلٹی کی وصولی، پیداوار اور ترقی کی نگرانی ڈائریکٹوریٹ آف مائننگ کرتی ہےمحکمے کولسبیلہ ڈویڑن سے میں سالانہ 29۔4823 ملین سالانہ رائلٹی کی مدمیں ریونیوکلیکشن حاصل ہوتی ہےڈائریکٹر مائنزنے بریفنگ میں بتایا کہ محکمہ مائنز کے چیف انسپکٹر کی نگرانی میں کانوں میں کام کرنےوالےمحنت کشوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے میں اہم رول اداکررہی ہےمحکمہ معدنیات کے حکام نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع آواران میں ابھی تک جیالوجیکل سروے نہیں کیا گیا ہےکمشنر نے محکمہ ماِننزمنرل کے افسران پر وااضح کیا کہ بلوچستان منرل مائننگ ایکٹ 2025 پر عملدرآمد یرصورت یقینی بنائ۔ جائیگی غیرقانونی طریقے سے کرش پلانٹ چلانے اورغیررجسٹرڈمائننگ فرمز کیخلاف فوری ایکشن لیاجائے اوربغیر رائلٹی کے منرل استعنال کرنے والے این ایچ اے کنٹریکٹرزکوبھی لیٹرجاری جائے۔کمشنر نے اجلاس میں ایکسپلوزیو ڈیپارٹمنٹ کے افسر کی جائے تعینناتی سے غیرحاضری کانوٹس لیکر ڈسپلنری ایکشن کے احکامات جاری کیں کمشنر نےمحکمہ مائنزکے افسران کو ہدایات بھی جاری کیں کہ پائیدار اور موثر کان کنی کے طریقوں کو ترجیح دی جائےقدرتی وسائل تانبا سیسہ، زنک، ڈائمینشن سٹون سمیت دیگر معدنیات سے مالا مال، لسبیلہ ڈویڑن میں معدنی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں محکمہ کلیدی کرداراداکرے .۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7525/2026
نصیرآباد8ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ضلع نصیرآباد کے تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی دفاتر میں درپیش مسائل افسران و اہلکاران کی حاضری عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران مختلف محکموں کے سربراہان نے اپنے اپنے دفاتر کو درپیش مسائل اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اس موقع پر افسران و اہلکاران کی بروقت اور باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ عوامی مسائل کے فوری ازالے اور سرکاری امور کی انجام دہی میں شفافیت و بہتری لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیںڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں تعینات تمام محکموں کے سربراہان عوامی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہوئے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری دیانت داری خلوص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیں انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل سنیں اور انہیں بروقت حل کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیںانہوں نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ نہ صرف خود اپنی حاضری کو یقینی بنائیں بلکہ اپنے ماتحت افسران و اہلکاران کی بھی باقاعدہ حاضری اور وقت کی پابندی کو یقینی بنائیں دفاتر میں غیر حاضری غفلت یا عوامی امور میں تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ سرکاری دفاتر عوام کی خدمت کے لیے قائم کیے گئے ہیں اس لیے عوام کو اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے غیر ضروری مشکلات انتظار یا دفاتر کے بار بار چکر نہ لگانے پڑیں تمام محکموں کے سربراہان اپنے دفاتر میں نظم و ضبط شفافیت اور بہترین انتظامی ماحول کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو بروقت اور معیاری سرکاری سہولیات فراہم کی جا سکیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاہم افسران اور اہلکاران کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوامی خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع نصیرآباد میں سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنایا جائے گا اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7526/2026
کوئٹہ8 ستمبر ۔عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں کی مختلف اضلاع میں کارروائیاں جاری ہیں۔ تازہ کارروائیوں کے دوران 18 فوڈ یونٹس پر جرمانے عائد، 20 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری جبکہ ایک واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ سیل کر دیا گیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران بیکریز، ریسٹورنٹس، جنرل اسٹورز، اسنیکس مینوفیکچرنگ یونٹس، ملک شاپس اور دیگر فوڈ بزنسز کا معائنہ کیا گیا، جہاں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، غیر رجسٹرڈ کاروبار، مضر صحت رنگوں اور ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال سمیت مختلف خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔سمنگلی روڈ اور سبزل روڈ پر بی ایف اے فوڈ سیفٹی ٹیم نے چیکنگ کے دوران 4 یونٹس کو جرمانہ جبکہ ایک واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ کو ورکرز کے لیے حفاظتی لباس کی عدم دستیابی، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور بی ایف اے رجسٹریشن نہ ہونے پر سیل کر دیا۔ دو ریسٹورنٹس کو ناقص صفائی، پروسیسنگ ایریا میں واش روم، ممنوعہ چائنیز نمک، ناقص ریفریجریشن اور دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانہ کیا گیا۔ ایک بیکنگ یونٹ جبکہ ایک اور یونٹ کے خلاف بھی فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔اسی طرح مشرقی بائی پاس اور سریاب روڈ پر کارروائی کے دوران دو پاپڑ/اسنیکس مینوفیکچرنگ یونٹس کے مالکان کو جرمانہ کیا گیا۔ کارروائی کی وجوہات میں ناقص صفائی، ورکرز کی ذاتی صفائی کا فقدان، کھلے کوڑے دان، اشیائ پر مینوفیکچرنگ و ایکسپائری تاریخیں درج نہ ہونا، مضر صحت رنگوں کا استعمال، حشرات کی موجودگی، نامناسب لیبلنگ اور تیار شدہ اشیاءکو کھلے ماحول میں رکھنا شامل تھا۔دریں اثنائ کوئٹہ کے کلی الماس اور سیٹلائٹ ٹاون میں ملک سیفٹی ٹیموں نے دودھ کے معیار کی جانچ کے لیے مختلف ملک شاپس کا معائنہ کیا۔ ایک دودھ فروش کو جرمانہ جبکہ 5 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ موقع پر دودھ اور دہی کے نمونے چیک کرنے پر ایک ملک شاپ میں سکمڈ ملک پاوڈر اور دودھ میں پانی کی وافر مقدار ملانے کا انکشاف ہوا، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔علاوہ ازیں تربت جوسک روڈ پر کارروائی کے دوران 4 جنرل اسٹورز اور ایک ریسٹورنٹ کے مالکان کو جرمانہ جبکہ 4 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ کارروائی میں ناقص صفائی، نامناسب نکاسی آب، مکھیوں کی بھرمار، مضر صحت رنگوں کے استعمال اور مختلف ایکسپائرڈ اشیاءبشمول مصالحے، کسٹرڈ پاوڈر، کیکس، جوسز، اسنیکس اور دہی کو ضبط کرکے موقع پر تلف کیا گیا۔ڈھاڈر رند علی بازار اور شہر کے مختلف علاقوں میں بغیر فوڈ بزنس لائسنس کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ متعدد بیکریز اور جنرل اسٹورز مالکان کو لائسنس کی عدم دستیابی اور ناقص خوراک کی فراہمی پر جرمانہ کیا گیا جبکہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔مزیدبرآں حب کے مختلف فوڈ مراکز کی چیکنگ کے دوران ایک ریسٹورنٹ اور ایک بریانی سنٹر کو صفائی کے ناقص انتظامات، خام مال کی نامناسب اسٹوریج، غیر موزوں ریفریجریشن، بریانی میں مضر صحت رنگوں اور ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال پر جرمانہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7527/2026
قلعہ عبداللہ 8ستمبر۔ قلعہ عبداللہ تیسرا آل جشنِ آزادی سیون سائیڈ فٹبال ٹورنامنٹ، میزئی اڈہ کا شاندار فائنلمیزئی اڈہ میں منعقدہ تیسرے آل جشنِ آزادی سیون سائیڈ فٹبال ٹورنامنٹ کے شاندار فائنل میچ کی تقریب میں ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسن مگسی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں علاقائی سپورٹس کمیٹی عوامی گروپ کے چیئرمین محمود احمد عرف ماما، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ محمد شفیق خان، انسپکٹر حبیب اللہ خان سمیت کھلاڑیوں، نوجوانوں، تماشائیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منور حسن مگسی نے کھلاڑیوں اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیل نوجوان نسل کی جسمانی و ذہنی نشوونما، مثبت سوچ اور صحت مند معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں سمیت مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ڈپٹی کمشنر نے ٹورنامنٹ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ اور انہیں مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر منور حسن مگسی نے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں اور کامیاب ٹیموں میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7528/2026
خضدار 9 ستمبر ۔ وڈھ میں ضلعی انتظامیہ کا بڑا ایکشن12 جعلی کلینکس اور 8 میڈیکل اسٹورز کو بند کر دیا گیا . ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور ڈاکٹر عبد الحمید لہڑی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار کی خصوصی ہدایات اور اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبرعلی مزار زئی کی نگرانی میں، ڈرگ انسپکٹر عبیداللہ شاہ نے خضدار وڈھ اور مضافاتی علاقوں میں جعلی ڈاکٹروں، بغیر لائسنس میڈیکل اسٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف موثر کارروائی انجام دی۔مذکورہ کارروائی Drugs Act, 1976 اور عوامی مطالبے کے عین مطابق ہے۔ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معافی نہیں دی جائے گی۔ غیر رجسٹرڈ کلینکس اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ڈرگ انسپیکٹر عبید اللہ شاہ نے دورانِ معائنہ مختلف میڈیکل اسٹورز سے بعض مشکوک ادویات کے نمونے مقررہ قانونی طریق کار کے مطابق حاصل کیے گئے ہیں۔ حاصل کردہ نمونوں کو مزید لیبارٹری تجزیہ (Laboratory Analysis) کے لیے متعلقہ مجاز ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں جمع/ارسال کیا جائے گا۔دورانِ معائنہ جن میڈیکل اسٹورز اور کلینکس میں قانونی، تکنیکی یا انتظامی بے ضابطگیاں مشاہدے میں آئی ہیں، ان کی مکمل تفصیلات، معائنہ رپورٹس، دستیاب دستاویزی شواہد اور تصاویر کو مرتب کر کے باقاعدہ ریکارڈ تیار کیا جائے گا۔اسی طرح جن مقامات پر بغیر متعلقہ لائسنس/اجازت کے طبی یا ادویاتی سرگرمیاں جاری ہونے کا مشاہدہ ہوا ہے، ان کی تفصیلات بھی الگ سے مرتب کی جائیں گی اور مقررہ قانونی طریق? کار کے مطابق متعلقہ محکمہ صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر مجاز قانونی اداروں کو مزید ضروری کارروائی کے لیے ارسال کی جائیں گی۔مختلف مکاتب فکر نے ضلعی انتظامیہ اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی اس اہم کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عوام کی صحت کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7529/2026
دکی، 8 ستمبر ۔: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف متاثرہ خاندانوں اور مستحق افراد کے کمپنسیشن سے متعلق کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ایس پی دکی منصور احمد بزدار، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سمندر خان ناصر، خزانہ آفیسر عبدالباقی، محکمہ لائیو اسٹاک کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمپنسیشن سے متعلق پیش کیے گئے مختلف کیسز کا انفرادی طور پر جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ کیسز کے دستاویزی ریکارڈ، قانونی تقاضوں، حکومتی پالیسی، مقررہ ضوابط اور مستحقین کی اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ضروری فیصلے کیےڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے متاثرہ اور مستحق خاندانوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت ان کا جائز حق ہے اور ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنسیشن کے تمام معاملات میں مکمل شفافیت،غیرجانبداری اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ حقیقی مستحقین تک حکومتی امداد بروقت پہنچ سکےانہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ زیر التواء کیسز کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید موثر اور تیز بنایا جائے اور تمام ضروری دستاویزات کی مکمل تصدیق کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے شفاف اور منصفانہ استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گاڈپٹی کمشنر دکی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر رابطہ کاری کے ذریعے کمپنسیشن کے معاملات کو بروقت نمٹانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں گےاجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے کمپنسیشن کیسز کے حوالے سے ضروری معلومات اور دستاویزات کی بروقت فراہمی یقینی بنائیں گے تاکہ مستحق افراد کو حکومتی پالیسی کے مطابق ان کا حق بلا تاخیر فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7498/2026
کوئٹہ، 8 ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے حوالے سے اہم اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی ترقی، خوبصورتی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت 12 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، 7 منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 5 نئے منصوبے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے نئے تجویز کردہ منصوبوں پر بھی بلا تاخیر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ صوبے کا چہرہ ہے، شہر کی ترقی اور خوبصورتی پورے بلوچستان کی شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔ حکومت کوئٹہ کو ایک بہتر، خوبصورت اور جدید صوبائی دارالحکومت بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی ماضی کی خوبصورتی اور تاریخی شناخت کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ شہر میں بنیادی شہری سہولیات کی بہتری، انفراسٹرکچر کی ترقی اور تزئین و آرائش کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے منصوبوں میں معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ترقیاتی کاموں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کوئٹہ کو ایسا خوبصورت اور منظم شہر بنانے کے لیے پرعزم ہے جہاں شہریوں کو بہتر بنیادی سہولیات میسر ہوں اور صوبائی دارالحکومت اپنی تاریخی و ثقافتی شناخت کے ساتھ ایک جدید شہر کے طور پر بھی نمایاں ہو۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایس ایم بی ار کمبر خان دشتی، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7499/2026
چمن8 ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات پر چمن میں صفائی و شجرکاری مہم جاریوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر نگرانی چمن شہر اور گردونواح میں صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں بھی خصوصی صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اسی سلسلے میں آج گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول چمن میں طلبہ اور اسکول انتظامیہ نے صفائی ستھرائی، اسکول کی خوبصورتی اور تزئین و آرائش کی خصوصی مہم میں بھرپور حصہ لیا، جبکہ سرسبز و صاف تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے مختلف مقامات پر پودے بھی لگائے گئے۔مہم کا مقصد طلبہ میں صفائی، شجرکاری، ماحولیاتی تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور اجاگر کرتے ہوئے ایک صحت مند، صاف ستھرے اور سرسبز معاشرے کی تشکیل میں عوامی و طلبہ شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7500/2026
کو ئٹہ7 ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں تو صوبے کے دوردراز سے آنے والے سائلین کے مسائل جلد حل ہوسکتے ہیں، محکمہ ماحولیات میں لواحقین کوٹے کے تحت بھرتیوں کا مرحلہ احسن انداز میں مکمل کرنے پر محکمہ ماحولیات کے سیکرٹری و ڈی جی مبارکباد کے مستحق ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے زیرِ اہتمام نو تعینات لواحقین کوٹہ کے تحت تقرری آرڈرز تقسیم کرنے کے موقع پر کیا،اس موقع پر 6 امیدواروں کو لواحقین کوٹہ کے تحت ان کے تقرری نامے حوالے کیے۔تقریب کی صدارت مشیر ماحولیات وزیراعلی بلوچستان نے کی اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات نور محمد پرانی ڈی جی ماحولیات ظہور بلوچ سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر 6 لواحقین میں تقرری آرڈرز تقسیم کیے گئے، جن کا معاملہ کافی عرصے سے زیرِ التوا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر ماحولیات وزیراعلی نسیم الرحمان خان نے کہا کہ متوفی سرکاری ملازمین کے لواحقین کو ان کا حق دینا محکمہ ماحولیات کی اولین ترجیح ہے،حکومتی ہدایات کی روشنی میں باقی ماندہ زیرِ التوا کیسز کو بھی جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے تمام بھرتیوں کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا گیا اب سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ملازمین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیاں اخلاص و ایمانداری سے سرانجام دیں اس موقع پر نو تعینات ہونے ملازمینن مشیر ماحولیات نسیم الرحمان ملاخیل اور محکمہ ماحولیات کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7501/2026
کوئٹہ 8 ستمبر۔ قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ کا اجلاس، بلوچستان کوڈ آف کریمنل پروسیجر ترمیمی بل 2026ءکا جائزہبلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی روم، بلوچستان صوبائی اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی ممبران کی اتفاق کے بعد خیر جان بلوچ نے کی۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین اصغر علی ترین اور علی مدد جتک نے شرکت کی، جبکہ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ حمزہ شفقات اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں ”دی کوڈ آف کریمنل پروسیجر، 1898 (V آف 1898) بلوچستان ترمیمی بل، 2026” پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضابطہ فوجداری 1898ءکی دفعہ 144 میں ترمیم کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور آزادی کا تحفظ، عوامی امن و امان کو درپیش ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح قانونی طریقہ کار وضع کرنا اور امن و امان میں ممکنہ خلل کو بروقت اور موثر حفاظتی اقدامات کے ذریعے روکنا ہے۔مجوزہ ترمیم کے تحت ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ)، حکومت بلوچستان کو متعین اختیارات اور احکامات کے لیے مخصوص مدت کے ساتھ واضح قانونی اختیار فراہم کیا جائے گا، تاکہ ان اختیارات کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے پرانے انتظامی اصطلاحات کو موجودہ انتظامی عہدوں اور حکام سے تبدیل کیا جائے گا، جبکہ صوبے کے حفاظتی و انتظامی قانونی نظام کو دیگر صوبوں میں رائج موثر طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔کمیٹی نے بل کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا اور اس امر پر زور دیا کہ قانون میں ایسی ترامیم ضروری ہیں جو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق عوامی تحفظ، امن و امان اور موثر انتظامی حکمرانی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7502/2026
کو ئٹہ 8ستمبر۔فٹبال کے شائقین کیلئے خوشخبری، چھٹے ال پاکستان وزیراعلی بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا سیکرٹری کھیل درا بلوچ کی زیر صدارت اجلاس، وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کا اغاز 20 ستمبر سے ہوگاٹورنامنٹ کا شیڈول، تیاریوں کا جائزہ، ٹیموں، لاجسٹکس، رہائش اور تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے اہم اجلاسکوئٹہ 8 ستمبر 2026۔ چھٹے آل پاکستان وزیراعلی بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان اجلاس میں کردیا گیا، ٹورنامنٹ کے حوالے سے اہم اجلاس سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان بلوچستان درا بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کھیل یاسر بازئی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایکٹویٹیز محمد آصف لانگو، بلوچستان فٹبال ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ چھٹے آل پاکستان وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کا باقاعدہ آغاز 20 ستمبر سے ہوگا جبکہ ٹورنامنٹ کا فائنل 5 اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان فٹبال ایسوسی ایشن پاکستان کی تمام نمایاں اور ٹاپ فٹبال ٹیموں کو ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامے جاری کرے گی۔ ٹاپ ٹیموں کی شرکت یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی بلوچستان فٹبال ایسوسی ایشن کو سونپی گئی ہے۔ اجلاس میں فٹبال گولڈ کپ سے متعلق لاجسٹکس، تمام گراونڈ کمیٹیوں کی ذمہ داریاں، کھلاڑیوں اور آفیشلز کی رہائش و دیگر سہولیات سمیت تمام انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سیکرٹری کھیل درا بلوچ نے کہا کہ آل پاکستان وزیراعلی بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کا ملک کے بڑے فٹبال ایونٹس میں شمار ہوتا ہے گولڈ کپ صوبے میں فٹبال کے فروغ کا اہم ذریعہ بن گیا ہے، جس میں ملک بھر کی ٹیمیں اور باصلاحیت و نامور کھلاڑی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کا مقصد صوبے میں فٹبال کے فروغ، باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا اور بلوچستان کو ملک کے فٹبال نقشے پر مزید نمایاں کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7503/2026
گوادر 8 ستمبر۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گوادر عطاءالرحمٰن ترین نے گوادر پولیس میں کانسٹیبلز کی بھرتی کے عمل کے دوران ریس کے مرحلے میں رہ جانے والے امیدواروں کو ایک اور موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ان کہنا تھا دوڑ ٹیسٹ میں رہ جانے والے تمام متعلقہ امیدوار 9 ستمبر کو ایس ایس پی آفس گوادر میں لازماً حاضر ہوں، جہاں ان کا دوبارہ ریس ٹیسٹ لیا جائے گا گوادر کے نوجوانوں کو میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے تحت زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا پولیس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ موجودہ حالات میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے کسی اہل امیدوار کو معمولی کمی یا ایک موقع ضائع ہونے کی وجہ سے محروم نہیں ہونا چاہیے انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں اور انہیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے محنت اور تیاری کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں بھرتی کے ذریعے مقامی نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عوامی خدمت اور امن و امان کے قیام میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا ا نہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ 9 ستمبر کو مقررہ وقت پر ایس ایس پی آفس پہنچیں اور دوبارہ ریس ٹیسٹ میں بھرپور عزم کے ساتھ حصہ لیں۔ گوادر پولیس نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں قومی و عوامی خدمت کے عمل کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7505/2026
برشور:08 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے کہا ہے کہ ضلع برشور کو ترقی دینے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو بہتر بنانے کا اصولی فیصلہ وقت کی ضرورت ہے،جبکہ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر بروقت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز توبہ کاکڑی میں زیر تعمیر ہسپتال اور انٹر کالج کا دورہ کرنے کے محال پر قبائلی عمائدین اور متعلقہ آفسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے کہا کہ نئے ضلع کی تعمیر و ترقی اور پسماندگی کا خاتمہ کرنا وقت کی ضرورت ہے،انہوں نے واضح کیا کہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا سخت نظام وضع کیا جا رہا ہے،ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ تمام سرکاری محکموں کو ایک ہی چھت تلے لانے کے لیے جلد ایک جوائنٹ ڈسٹرکٹ سیکرٹریٹ قائم کر رہی ہے،جس سے عوام کو دفاتر کے چکر کاٹنے سے نجات ملے گی،اورعوامی مسائل و مشکلات کا بروقت حل نکالا جا سکے گا،جبکہ سرکاری ملازمین اور دفاتر کے لیے عمارات کے مسائل حل کرنے کے لیے جامع پلان پر کام شروع کر دیا گیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق علاقے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے برشور ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (DHQ) ہسپتال کا درجہ دیا جا رہا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کو بھی مستقل بنیادوں پر فعال کیا جا رہا ہے،ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عوامی شکایات کے فوری آزالے کے لیے ضلع بھر میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں اور ایک ماڈل ضلع کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7506/2026
گوادر 08 ستمبر۔گوادر/پشکان: صوبائی حکومت کی ماہی گیر دوست پالیسی کے تحت ماہی گیروں کو سہولیات کی فراہمی کا عمل تیزگوادر/پشکا: پشکان میں ماہی گیروں کی کشتیوں کی رجسٹریشن، انسپکشن اور پیمائش کا عمل جاریگوادر/پشکان: پشکان اور گردونواح میں ماہی گیری کے لائسنس کے اجرا کے لیے اقدامات تیزڈی جی فشریز عتیق اللہ خان کی ہدایات پر کشتیوں کی رجسٹریشن و لائسنسنگ کا عمل جاریگوادر/پشکا اسسٹنٹڈائریکٹر فشریز نورالدین حسنی کی نگرانی میں فیلڈ ٹیمیں کشتیوں کا معائنہ کر رہی ہیںگوادر/پشکان: کشتیوں کی ساخت، سائز، انجن اور ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انسپکشن اور تصدیق کے بعد اہل کشتیوں کو رجسٹریشن نمبر جاری کیے جائیں گے گوادر/پشکان: مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اہل ماہی گیروں کو ماہی گیری کے لائسنس جاری کیے جا رہے ہیںگوادر/پشکان: ماہی گیروں سے مقررہ مدت میں کشتیوں کی رجسٹریشن اور انسپکشن مکمل کرانے کی اپیلگوادر/پشکان:ماہی گیروں کو سہولت، شفافیت اور آسانی فراہم کرنا محکمہ فشریز کی ترجیح ہے قانونی رجسٹریشن اور لائسنسنگ سے ماہی گیری کے شعبے کو مزید منظم بنانے میں مدد ملے گیماہی گیر دوست اقدامات کے ذریعے مقامی ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7508/2026
گوادر 8 ستمبر۔ میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے گرلز ایونٹس کے دوسرے روز بھی مختلف کھیلوں کے مقابلے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے۔ فیسٹیول محکمہ تعلیم، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن اور ادارہ ترقیات گوادر کے اشتراک و تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے دوسرے روز فٹبال کے مقابلوں میں دارالعلوم پبلک اسکول گوادر نے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر، جبکہ گوادر گرامر اسکول نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل گوادر کو شکست دی۔ کرکٹ میں بحریہ ماڈل کالج گوادر نے یونیورسٹی آف گوادر، جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بخشی کالونی کو شکست دے کر دوسرے راونڈ کے لیے کوالیفائی کرلیا مقابلوں کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر اسکولز بلوچستان منیر احمد نودیزئی تھے۔ اس موقع پر چیئرمین میر عبدالغفور کلمتی ویلفیئر فاونڈیشن گوادر میر ارشد کلمتی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈپٹی ڈی ای او حسن الاسلام، ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر میڈم راشدہ افضل، گرلز ایونٹس کی سربراہ میڈم بلقیس سلیمان، ڈسٹرکٹ اسپورٹس سپروائزر علی عاقب اور میر فاونڈیشن کے نمائندگان سمیت دیگر موجود تھے۔مہمانِ خصوصی نے کھلاڑیوں سے ملاقات اور مصافحہ کیا اور طلبہ و طالبات کے لیے مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے انعقاد پر میر ارشد کلمتی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ صحتمند، باصلاحیت اور متحرک معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ ایسے اقدامات نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7509/2026
جعفرآباد8 ستمبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے احکامات کی روشنی میں ضلع جعفرآباد میں داخلہ مہم کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا کی سربراہی میں آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے اور تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پیغامات درج تھے۔ ریلی میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر جعفرآباد شکیل احمد، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر رسول بخش، ڈسٹرکٹ لٹریسی آفیسر طیبہ طاہر، ساحل سکندر گولہ سمیت کثیر تعداد میں طلباءو طالبات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں داخلہ مہم اور لٹریسی کے حوالے سے سیمینار بھی منعقد کیا گیا، جس سے اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا، طیبہ طاہر، شکیل احمد اور ساحل سکندر گولہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں جہالت کی تاریکی کے خاتمے اور عوام میں تعلیم کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنے کے لیے لٹریسی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، ڈپٹی کمشنر خالد خان کی قیادت میں ضلع بھر میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کے لیے مختلف آگاہی پروگرامز اور ایونٹس منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ والدین اور عوام میں شعور بیدار کرکے ان بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا جائے جو تاحال اسکولوں سے باہر ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق تعلیم کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے بچوں کے مستقبل کو روشن اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7510/2026
رکھنی 8 ستمبر۔ DIG کوہِ سلیمان رینج ایاز احمد بلوچ اور SP بارکھان عبدالحق رئیس کی خصوصی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں DSP سرکل رکھنی عبدالجبار مینگل کی نگرانی میں SHO پولیس تھانہ چچہ سمیع اللہ کھیتران نے پولیس پارٹی کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ فرد نمبر 39/019 بجرم دفعات 392، 337-H2، 147، 148 اور 149 ت پ میں مطلوب مفرور ملزم سلیم جان ولد ہزار خان عرف کپتان، قوم گورچانی، سکنہ چتری، ضلع راجن پور پنجاب کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7511/2026
کوئٹہ 8 ستمبر- ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے شہریوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے جناح ٹاون اور شہباز ٹاون میں سڑکوں پر قائم ریڑھی بانوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سڑکوں اور عوامی راستوں پر قائم ریڑھیوں اور تجاوزات کو ہٹاتے ہوئے راستوں کو کلیئر کر دیا گیا، جو شہریوں کی آمدورفت اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کا باعث بن رہی تھیں۔اس موقع پر تجاوزات قائم کرنے والوں کو سڑکوں اور عوامی راستوں پر دوبارہ تجاوزات قائم نہ کرنے کی ہدایت اور وارننگ دی گئی۔ تاہم وارننگ کے باوجود خلاف ورزی جاری رکھنے پر 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے کہا کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ دوبارہ تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7512/2026
کوئٹہ 08ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید نے ملاقات کی، ملاقات میں RISE (Resilience, Integration and Socio-Economic Empowerment) پروگرام کے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔اس موقع پر RISE پروگرام جو حکومتِ بلوچستان کا ایک اہم اقدام ہے، کے تحت انٹرپرائز ڈویلپمنٹ، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، سماجی ہم آہنگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر پروگرام کے تحت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں جاری اور مجوزہ سرگرمیوں، نوجوانوں کی ترقی، روزگار و کاروباری مواقع کے فروغ، سماجی شمولیت اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے، معاشی مواقع پیدا کرنے، سماجی ہم آہنگی اور پائیدار ترقی کے لیے ایسے پروگرامز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مثبت اور تعمیری اقدامات میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7513/2026
کوئٹہ 08ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت فلڈ ریکوری پروگرام (FRP) کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور ہو این ڈی پی کے نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ہنہ وڑک کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں جاری بحالی، رہائشی مکانات، کمیونٹی انفراسٹرکچر اور روزگار کی بحالی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پروگرام مینیجر FRP UNDP ہشاشی ازومی، پروگرام اسپیشلسٹ آمنہ اختر، اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئٹہ یوسف ہاشمی اور فیلڈ امپلیمنٹیشن افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 500 سے زائد سیلاب سے محفوظ مکانات مکمل کرکے مستحق خاندانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی مکانات کی تکمیل اکتوبر 2026 تک متوقع ہے۔ مزید 200 مستحق خاندانوں کو ہاوسنگ سپورٹ میں شامل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیلاب سے حفاظتی اقدامات، سڑکوں، پلّوں اور عوامی سہولیات کی بحالی سمیت زرعی شعبے سے وابستہ خاندانوں کے لیے روزگار کی بحالی کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے منصوبے کے شفاف طریقہ کار کو سراہتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کے موثر نفاذ کے لیے ضلعی انتظامیہ کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7530/2026
کوئٹہ 8 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے روزنامہ جنگ کوئٹہ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور بلوچستان کے سینئر صحافی خلیل الرحمٰن کی وفات پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں گورنر بلوچستان نے کہا کہ مرحوم خلیل الرحمٰن ایک منجھے ہوئے، باوقار اور تجربہ کار صحافی تھے جنہوں نے بلوچستان میں صحافت کے فروغ اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مرحوم کی صحافتی خدمات اور عوامی کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ گورنر مندوخیل نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر و ہمت کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7531/2026
کوئٹہ ، 8 ستمبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے روزنامہ جنگ کوئٹہ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر حاجی خلیل الرحمان اور سینئر فوٹو جرنلسٹ موسیٰ فرمان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے وزیراعلیٰ نے حاجی خلیل الرحمان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک کہنہ مشق اور باوقار صحافی تھے، جنہوں نے طویل عرصے تک صحافت کے شعبے میں اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کی وفات صحافتی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے اہل خانہ اور صحافتی برادری سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے وزیراعلیٰ نے سینئر فوٹو جرنلسٹ موسیٰ فرمان کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے صحافت اور فوٹو جرنلزم کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی وفات صحافتی برادری بالخصوص فوٹو جرنلزم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7532/2026
کوئٹہ، 8 ستمبر ۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے روزنامہ جنگ کوئٹہ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر حاجی خلیل الرحمان اور سینئر فوٹو جرنلسٹ موسیٰ فرمان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے شاہد رند نے حاجی خلیل الرحمان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک تجربہ کار اور باوقار صحافی تھے۔ انہوں نے طویل عرصے تک صحافت کے شعبے میں خدمات انجام دیں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے صحافتی حلقوں میں ایک مقام بنایا۔ ان کا انتقال صحافتی برادری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حاجی خلیل الرحمان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے شاہد رند نے سینئر فوٹو جرنلسٹ موسیٰ فرمان کے انتقال پر بھی دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے فوٹو جرنلزم کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی وفات سے صحافتی برادری ایک باصلاحیت اور محنتی ساتھی سے محروم ہوگئی ہے انہوں نے موسیٰ فرمان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت بلوچستان اور وہ ذاتی طور پر مرحوم کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے لواحقین کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7533/2026
کوئٹہ 8ستمبر ۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس، سینڈمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر سخت برہمی۔ سنڈیمن پراونشل سول ہسپتال کوئٹہ میں سال 18 -2017 سے 2021-22 تک 10,443 ملین میں سے 9,576 ملین خرچ کیے گئے۔ لیکن ڈیپارٹمنٹ اور سول ہسپتال حکام حساب کتاب دینے سے گریزاں ہیں۔ چیئرمین پی اے سی و اراکین پی اے سی۔بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی کے علاوہ طاہر شاہ کاکڑ سیکرٹری بلوچستان اسمبلی، شجاع علی ڈی جی آڈٹ، شہیک بلوچ اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت، سراج لہڑی اسپیشل سیکرٹری PAC ، سعید اقبال ایڈیشنل سیکرٹری قانون، ڈاکٹر ہادی ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ، ڈاکٹر امین ڈی جی ہیلتھ بلوچستان و دیگر آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سینڈمن پراونشل ہسپتال (SPH) کوئٹہ کے اسپیشل آڈٹ سال 2022-23 کے پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے محکمہ صحت کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ بروقت فراہم نہ کرنے اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت صرف اپنا موقف کمیٹی کے سامنے بیان کر رہا ہے رولز ریگولیشنز پر کوئی عملدرآمد نہیں کر رہا جو کہ اسمبلی اور پی اے سی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا، جبکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے باوجود آڈٹ پیراز پرکوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ PAC کو آئینی و قانونی طور پر جو اختیارات حاصل ہیں، ان کا مقصد سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے، تاہم محکمے کی جانب سے کمیٹی کو سنجیدگی سے نہ لینے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ادویات کی غیر قانونی خریداری، 30.016 ملین روپے کا آڈٹ اعتراضاجلاس میں ادویات کی غیر قانونی خریداری سے متعلق 30.016 ملین روپے کے آڈٹ پیرا کا جائزہ لیا گیا۔خصوصی آڈٹ کے دوران یہ بات بھی عیاں ہوئی کہ سینڈمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کی انتظامیہ کی جانب سے 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی خریداری میں اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ کے مطابق سپلائی آرڈر ایک فرم M/s FDL, Peshawar کے نام جاری کیا گیا، جبکہ ادائیگی M/s Health Tech Quetta کو کی گئی۔آڈٹ نے سپلائی آرڈرز اور بلوں میں اس نمایاں فرق کے علاوہ اسٹاک رجسٹر میں اندراجات کے فقدان، ڈلیوری چالان اور انسپیکشن رپورٹس کی عدم دستیابی پر بھی اعتراض اٹھایا۔آڈٹ کے مطابق مذکورہ معاملہ 10 مئی 2023 کو محکمہ کو رپورٹ کیا گیا، تاہم محکمہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں 23 اکتوبر 2023 کو منعقدہ DAC اجلاس میں محکمہ نے موقف اختیار کیا کہ M/s FDL مینوفیکچرنگ ایجنسی جبکہ M/s Health Tech اس کی مجاز ڈسٹری بیوٹر ہے، جس نے M/s FDL کی جانب سے ادویات فراہم کرکے ادائیگی وصول کی۔ڈی اے سی نے محکمہ کو تمام متعلقہ ریکارڈ آڈٹ کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، تاہم ریکارڈ کی تصدیق کے دوران M/s FDL کی رضامندی سمیت اسٹاک رجسٹر، ڈلیوری چالان، انسپیکشن رپورٹس اور ادویات کی کھیپ، بیچ نمبرز اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔چیئرمین PAC نے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے وقت اور اختیارات کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ مکمل کرکے 15 روز کے اندر کمیٹی کو پیش کیا جائے۔مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے کی ادویات غائب ہونے کا معاملہاجلاس میں مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات غائب ہونے کے آڈٹ پیرا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق GFR 151 Vol-I کے تحت اسٹورز کے ذمہ دار افسر پر لازم ہے کہ وہ سرکاری اسٹورز کی محفوظ تحویل، مناسب دیکھ بھال، مکمل ریکارڈ، انوینٹری اور اسٹاک کے درست حساب کو یقینی بنائے تاکہ چوری، نقصان، فراڈ یا دیگر وجوہات سے سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔خصوصی آڈٹ کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات مرکزی اسٹور سے غائب پائی گئیں۔ فارماسسٹ انچارج کی جانب سے معاملہ انتظامیہ کے علم میں لانے کے باوجود اسے حل نہیں کیا گیا۔ مزید برآں ڈلیوری چالان اور انسپیکشن کمیٹی کی رپورٹس بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھیں۔محکمہ نے DAC اجلاس میں موقف اختیار کیا تھا کہ مرکزی اسٹور سے کوئی ادویات غائب نہیں ہوئیں اور آڈٹ تصدیق کے لیے بعض ریکارڈ فراہم کیے گئے، تاہم ریکارڈ کی جانچ کے دوران اسٹاک رجسٹر کے ابتدائی اور اختتامی بیلنس میں تضادات سامنے آئے۔ انتظامیہ ان تضادات کی تسلی بخش وضاحت بھی فراہم نہ کرسکی، جبکہ اسٹاک رجسٹر میں بعض اندراجات بعد از تاریخ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔چیئرمین PAC نے اس معاملے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ملازمین کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل ذمہ داری کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی نے میٹنگ کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ آڈٹ پیرا پر یہ کمیٹی کا چوتھا اجلاس ہے، جبکہ محکمہ کو پہلے بھی متعدد مواقع فراہم کیے جاچکے ہیں۔ ستمبر 2025 میں بھی محکمہ کو مہلت دی گئی تھی، تاہم تاحال مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی۔چیئرمین PAC نے کہا کہ اگر سرکاری ادویات کی گمشدگی اور ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے تسلی بخش وضاحت اور مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو وہ اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (NAB) کو بھجوانے یا FIR درج کرانے کی سفارش پر غور کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اربوں روپے محکمہ صحت پر خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کی کارکردگی انتہائی تشویشناک ہے اور صرف سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک پر سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، جبکہ زمینی صورتحال مختلف ہے۔چیئرمین PAC نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض معطل ملازمین کے حوالے سے بھی یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ اب بھی دفاتر میں حاضری دے رہے ہیں، جو محکمہ کی انتظامی کمزوری اور احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا اور اگر محکمے اجلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ شرکت نہیں کرتے تو کمیٹی کے کام کو موثر انداز میں آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئندہ اس طرح اجلاس نہیں چلائیں گے اور اس صورتحال سے متعلق چیف سیکرٹری بلوچستان کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ اور یہ رپورٹ/مسئلہ اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔اجلاس کے اختتام پر اراکین کمیٹی کی درخواست پر متعلقہ محکمہ کو دونوں آڈٹ پیراز سے متعلق تمام مطلوبہ ریکارڈ، وضاحتیں اور دستاویزات مکمل کرکے 15 روز کے اندر پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7534/2026
نصیرآباد8ستمبر۔نصیرآباد ڈویڑن میں محکمہ صحت کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین و کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں میڈیکل آفیسران کے انٹرویوز لیے گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں پہلے مرحلے میں نصیرآباد ڈویژن کی 28 خالی آسامیوں کے لیے 34 سے زائد ڈاکٹرز نے انٹرویوز میں حصہ لیا۔ ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی کے اراکین نے امیدواروں کے تعلیمی و دیگر ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال کی اور ان سے مختلف سوالات بھی کیے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل، ڈویڑنل ڈائریکٹر ہیلتھ داﺅد خان کانسی ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کو مزید تقویت دینے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، ڈاکٹرز کی کمی کو دور کرکے دور دراز علاقوں سمیت ڈویXن بھر کے عوام کو معیاری اور بروقت طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7535/2026
ژوب:8ستمبر ڈپٹی کمشنر ژوب محمد عارف زرکون کی زیرِ صدارت سرکٹ ہاوس ژوب میں ضلع کے اہم سماجی مسائل اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین، مذہبی شخصیات اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں ضلع ژوب میں سودی کاروبار کی حوصلہ شکنی، نوجوانوں کو موٹر سائیکلیں کرایہ پر فراہم کرنے والے غیر قانونی شو رومز کے خلاف کارروائی اور پیشہ ورانہ بھیک مانگنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام سے متعلق تفصیلی غور و خوض کیا گیاڈپٹی کمشنر محمد عارف زرکون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو ون ویلنگ اور دیگر خطرناک سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض غیر قانونی عناصر نوجوانوں کو موٹر سائیکلیں کرایہ پر فراہم کرکے نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں، جس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رہے گی ڈپٹی کمشنر کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید عالم کی قیادت میں متعلقہ اداروں نے مشترکہ کریک ڈاون کرتے ہوئے نوجوانوں کو موٹر سائیکلیں کرایہ پر دینے اور مبینہ طور پر غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں میں ملوث شو رومز کے خلاف کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران دو شو رومز کو سیل جبکہ پانچ شو روم مالکان کو حراست میں لیا گیامزید برآں کوئٹہ روڈ پر قائم مختلف شو رومز کا آگاہی دورہ بھی کیا گیا، جہاں مالکان کو غیر قانونی مالیاتی لین دین اور سودی کاروبار سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہیں متنبہ کیا گیا کہ قرض لینے والے افراد کے کسی بھی قسم کے غیر قانونی استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی دریں اثناءضلعی انتظامیہ نے پیشہ ورانہ بھیک مانگنے کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاون کیا۔ کارروائی کے دوران 12 بھکاریوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ آٹھ ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جن پر بچوں کو بھیک مانگنے کے عمل میں شامل کرنے کا الزام ہےضلعی انتظامیہ کے مطابق پیشہ ورانہ بھیک مانگنے کے منظم رجحان کی روک تھام کے لیے خانہ بدوش اور اس سرگرمی سے وابستہ افراد کا مکمل ڈیٹا مرتب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو متعلقہ افراد کی شناخت اور معلومات جمع کرکے آئندہ کی حکمت عملی مرتب کرے گی ڈپٹی کمشنر ژوب محمد عارف زرکون نے کہا کہ معاشرے میں قانون کی بالادستی، نوجوانوں کے تحفظ اور شہریوں کو سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے بلاامتیاز اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے سیاسی و سماجی رہنماوں اور مذہبی شخصیات پر بھی زور دیا کہ وہ معاشرے سے ان منفی رجحانات کے خاتمے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7536/2026
نصیرآباد: 8ستمبر۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ریٹائرڈ ایس ایس پی جلال الدین کھوسہ کی وفات پر ان کے صاحبزادے ڈپٹی کمشنر محمد اقبال کھوسہ سے فاتحہ خوانی کرتے ہوئے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر حاجی ریاض احمد کھوسہ بھی موجود تھے۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ڈپٹی کمشنر محمد اقبال کھوسہ اور دیگر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7537/2026
کوئٹہ 8ستمبر ۔ ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان سیف اللہ کھیتران نے کہا ہے کہ خواندگی کسی بھی معاشرے کی سماجی، اقتصادی اور انسانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، تعلیم اور شعور کے ذریعے ہی ایک مضبوط، بااختیار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ حکومت بلوچستان خواندگی کے فروغ، تعلیم کے مواقع میں اضافے اور معاشرے کے محروم طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر سال 8 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواندگی منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں خواندگی کی اہمیت اور تعلیم کے بنیادی حق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ معاشرے کے کسی بھی فرد کو تعلیم اور بنیادی خواندگی کے حق سے محروم نہیں رہنے دیا جائے۔میر سیف اللہ کھیتران نے کہا کہ خواندگی محض پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو شعور، آگاہی اور بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد اپنے حقوق و فرائض سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہوتے ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔۔ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور بالغ افراد میں خواندگی کا فروغ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور فرد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ خواتین کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان معاشرے کے کمزور، محروم اور خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، بحالی، تعلیم، تربیت اور خود انحصاری کے لیے مختلف اقدامات کررہا ہے، تاکہ انہیں معاشرے کا فعال اور بااختیار حصہ بنایا جاسکے۔ خصوصی افراد سمیت تمام محروم طبقات کو تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔میر سیف اللہ کھیتران نے کہا کہ جدید دور میں تعلیم اور ہنر کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں، اس لیے نوجوان نسل کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ خواندگی میں اضافہ نہ صرف انسانی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع میں اضافے اور معاشی خودمختاری کو بھی فروغ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یوم خواندگی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تعلیم اور علم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس حق کی فراہمی کے لیے مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ بلوچستان میں خواندگی کے فروغ اور عوام کو بااختیار بنانے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ کھیتران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پڑھا لکھا، باشعور اور بااختیار معاشرہ ہی بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔ انہوں نے عوام، والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بچوں کو اسکول بھیجنے، تعلیم کے فروغ اور ناخواندگی کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7539/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے روزنامہ جنگ کوئٹہ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور سینئر صحافی خلیل الرحمٰن اور سینئر فوٹو جرنلسٹ موسیٰ فرمان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہیاپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ خلیل الرحمٰن ایک تجربہ کار، باوقار اور منجھے ہوئے صحافی تھے، جنہوں نے طویل عرصے تک صحافت کے شعبے میں اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کی صحافتی خدمات، پیشہ ورانہ کردار اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے کردار کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا،،انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، بخت محمد کاکڑ نے سینئر فوٹو جرنلسٹ موسیٰ فرمان کے انتقال پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا موسی فرمان نے بھی صحافت کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں، دونوں مرحومین کی صحافتی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
خبرنامہ نمبر7540/2026
حب: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ صحت کی مانیٹرنگ سرگرمیاں جاری ہیں۔اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی حب ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو علانہ گڈور، بی ایچ یو پلاٹ 113 اور بی ایچ یو پھٹہ گھٹ کا دورہ کیا اور مراکز صحت میں جاری طبی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مرشد دشتی نے طبی عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ایم این سی ایچ سینٹر، حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کی فعالیت سمیت مختلف شعبوں اور متعلقہ ریکارڈز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ مراکز صحت میں سروس ڈیلیوری، عملے کی حاضری اور مریضوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر7541/2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر ضلع چمن میں 16 اور 17 ستمبر کو گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چمن اور گورنمنٹ شہید ایمل خان اچکزئی بوائز ڈگری کالج چمن میں منعقد ہونے والے ایجوکیشنل فیسٹیول کی تیاریوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت دونوں کالجز کے پرنسپلز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں فیسٹیول کے انتظامات، جاری تیاریوں، صفائی و ستھرائی، گراؤنڈز کی تزئین و آرائش، ضروری سہولیات اور مختلف تعلیمی، ثقافتی و ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ فیسٹیول کے تمام انتظامات مقررہ تاریخ سے قبل مکمل کیے جائیں اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر مختلف کھیلوں اور فنی سرگرمیوں کی تیاری، طلبہ و طالبات کی پریکٹس اور مقابلوں کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کے دوران رسہ کشی، ٹیبل ٹینس، مختلف کھیلوں، ٹیبلوز، آرٹ اور دیگر تخلیقی و فنی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے لیے طلبہ و طالبات کو بھرپور تیاری اور پریکٹس کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایجوکیشنل فیسٹیول وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات کی روشنی میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی تعلیمی، تخلیقی، فنی اور کھیلوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع چمن میں تعلیمی معیار کی بہتری، طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ایک مثبت و صحت مند تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں، جبکہ ایجوکیشنل فیسٹیول نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کی اسی کاوش کا اہم حصہ ہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیسٹیول کو کامیاب، منظم اور یادگار بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انتظامات، صفائی، تزئین و آرائش، سرگرمیوں کی تیاری اور طلبہ و طالبات کی پریکٹس سمیت تمام امور کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر7542/2026
چمن :ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت چمن شہر روغانی روڈ کی تعمیر و بحالی کے جاری منصوبے کی پیش رفت، معیار اور رفتار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے ایگزیکٹو انجینئر (XEN)، سب ڈویژنل آفیسر (SDO)، اسسٹنٹ انجینئر (AE)، متعلقہ انجینئرنگ اسٹاف، تعمیراتی منصوبے کے ٹھیکیداران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلقہ افسران اور ٹھیکیداران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چمن کو روغانی روڈ پر جاری تعمیراتی و بحالی کے کام، منصوبے کی موجودہ پیش رفت، تعمیراتی مراحل اور تکمیل کی مقررہ مدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے منصوبے کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور شفافیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ ایکسین، انجینئرنگ افسران اور ٹھیکیداران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام مراحل کی باقاعدگی سے فنی اور انتظامی نگرانی یقینی بنائی جائے، تعمیراتی کام مقررہ تکنیکی معیار کے عین مطابق انجام دیا جائے اور کام کی رفتار میں غیرضروری تاخیر سے ہر ممکن گریز کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ چمن شہر روغانی روڈ ایک اہم عوامی شاہراہ ہے، جس کی تعمیر و بحالی سے شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آئے گی، ٹریفک کے نظام میں بہتری آئے گی اور شہر کی مجموعی خوبصورتی و انفراسٹرکچر کو مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضلع چمن میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی معیار، رفتار اور شفافیت کے حوالے سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ عوامی اہمیت کے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
خبرنامہ نمبر7543/2026
ہرنائی :ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کی خصوصی ہدایات پر ضلع میں امن و امان کی قیام اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تھانہ سٹی ہرنائی کی حدود میں پولیس کی جانب سے خصوصی گشت (Special Patrolling) کیا گیا اور اہم حساس مقامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا موجودہ حالات کے پیشِ نظر شہر کے مختلف اہم پوائنٹس، اہم شاہراہوں اور قومی و سرکاری تنصیبات پر پولیس کی نفری تعینات کر کے گشت کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ گشت کے دوران سیکیورٹی کے تمام تر انتظامات کا جائزہ لیا گیا جو مکمل اور مطمئن پائے گئے۔ترجمان پولیس کے مطابق گشت کے دوران علاقے بھر میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر پرامن رہی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر7544/2026
سوراب08 ستمبر :حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت 10 ستمبر بروز جمعرات صبح 11:30 بجے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سوراب کے ہال میں صرف خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا کھلی کچہری میں خواتین کو اپنے مسائل براہ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا خواتین نادرہ، بی آئی ایس پی، بینظیر انکم نشوونما پروگرام، فیملی پارک، پبلک لائبریری، اسکولز، بازار و شاپنگ سینٹر سمیت دیگر شہری و انتظامی مسائل سے متعلق اپنی شکایات اور تجاویز پیش کر سکیں گی ضلعی انتظامیہ سوراب نے علاقے کی تمام خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خصوصی کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کریں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔
خبرنامہ نمبر7545/2026
سوراب 08 ستمبر :ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت سوراب میں منعقد ہونے والے تبلیغی اجتماع کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، تبلیغی امیر ڈاکٹر نثار احمد، امیر عبدالعزیز، مولانا محمد عیسیٰ سمیت تبلیغی جماعت کے دیگر ذمہ داران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران تبلیغی اجتماع کے حوالے سے سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، شرکاء کی آمد و رفت، انتظامی امور اور دیگر ضروری انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر اجتماع کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور شرکاء کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون اور مؤثر حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں بتایا گیا کہ سوراب تبلیغی اجتماع 27 ستمبر 2026 کو شروع ہوگا اور 29 ستمبر 2026 کو اختتام پذیر ہوگا اجتماع میں بڑی تعداد میں افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامات کو بروقت مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اجلاس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امن و امان اور اجتماع کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اجتماع کے دوران شرکاء اور عام شہریوں کی سہولت، ٹریفک کی روانی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں اجلاس کے شرکاء نے اجتماع کو پرامن اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر 7546/2026
کوئٹہ(اے این این)سنیئر صحافی و اینکر ظاہر خان ناصر کے بھائی عبداللہ خان ناصر کے وفات پر فاتحہ خوانی دوسرے روز کوئٹہ میں جاری رہی جس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو‘ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی‘جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء و رکن قومی اسمبلی میرعثمان بادینی‘ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم خان بازئی‘ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء سابق گورنر بلوچستان سید ظہور آغا‘سابق صوبائی وزیر فیض کاکڑ‘سابق رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ‘جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی‘جمعیت علماء اسلام کے سابق ضلعی صدر مولانا ولی محمد ترابی‘میٹروپولٹین کارپوریشن کے سابق ایڈمنسٹریٹر جبار بلوچ‘ سی ایم آئی ٹی کے ممبر نور خان کھیتران‘ ڈائریکٹر فوڈ ریاض ناصر‘ڈائریکٹر پاپولیشن نعیم کاسی‘ڈی جی کیو ڈی اے اورنگزیب کاسی‘ قبائلی رہنماء سعید آغا‘ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شہزادہ ذوالفقار‘بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظو ر احمد رند‘ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سابق صوبائی وزیر حاجی محمد نواز کاکڑ‘جمعیت علماء اسلام کے صوبائی پریس سیکرٹری سابق صوبائی وزیر حاجی عین اللہ شمس‘ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر سلمان اشرف‘سابق سیکرٹری عصمت اللہ کاکڑ‘بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری عصمت اللہ ترین‘ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نور خان ناصر‘بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی پریس سیکرٹری ڈاکٹر ناشناس لہڑی‘بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر غلام نبی مری‘پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی جنرل سیکرٹری عبداللہ خان ناصر‘ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مرکزی سیکرٹر ی عبدالستار چشتی‘سابق ڈی جی پی ڈی ایم اے نصیر احمد ناصر‘پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری جمعہ خان خلجی‘ مرکزی انجمن تاجران ہزار گنجی کے صدر سید عبدالخالق آغا‘پشتونخواملی عوامی پارٹی ژوب کے سیکرٹری عبدالخالق ناصر‘قبائلی رہنماء ملک صلاح الدین کاکڑ‘کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری محمد ایوب ترین‘بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سابق صد ر عیسیٰ ترین‘سنیئر صحافی ظفر اللہ خان‘سنیئر صحافی حمید اللہ سمسور‘سنیئر صحافی سید علی شاہ‘ عبید آغا‘زین الدین خلجی‘سید علی‘ فیاض فاؤنڈیشن کے چیئرمین ارسلان فیاض‘ پی ٹی وی کرنٹ افیئر کے انچارج نبیل‘سنیئر پرڈیوسر علی لانگو‘ اخبار فروشاں کے صدر میر احمد بلوچ‘سابق ڈی ایچ او ژوب ڈاکٹر سلام ناصر‘ثناء فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ثناء خان اچکزئی‘قبائلی رہنماء ملک ولی خان ناصر ملک رشید کاکڑ ‘ڈاکٹر ملک خان بازئی‘قبائلی رہنماء ملک عبدالعلی کاکڑ‘پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء غنی کاکڑ‘جمعیت علماء اسلام کے رہنماء صادق اچکزئی‘ قبائلی رہنماء سیف الرحمن تارن‘ ایس ایس پی (ر) سید آغا‘مسلم لیگ ن کے صوبائی رہنماء میر اسد مینگل‘بلوچستان نیوز کے چیف ایڈیٹر انور خان ناصر‘ ڈی جی پی آر یونین کے صدر شمس کاکڑ‘معروف ٹھیکیدار انور مندوخیل‘سابق وفاقی وزیر حاجی رحمت اللہ کاکڑ سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخصیات نے ظاہر خان ناصر کے گھر جا کر اظہا رتعزیت اور فاتحہ خوانی کی اور دعا کی اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر وجمیل عطاء فرمائیں۔
خبرنامہ نمبر 7547/2026
محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان نے رپورٹ میں مذکور تمام آڈٹ پیراز، جو مالی سال 2024-25 سے متعلق ہیں، پہلے ہی نمٹا دیے ہیں۔ مذکورہ پیراز آڈٹ کے وقت متعلقہ ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اٹھائے گئے تھے۔ تاہم، بعد ازاں مطلوبہ ریکارڈ اور تمام متعلقہ دستاویزی ثبوت محکمہ جاتی اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس سے قبل متعلقہ حکام اور آڈٹ ٹیم کو فراہم کر دیے گئے تھے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض عناصر دانستہ طور پر سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں، بظاہر جس کا مقصد محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کو بدنام کرنا اور اس کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنا ہے۔ ایسے عناصر ماضی میں محکمہ کھیل سے ناجائز مراعات اور غیرضروری رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب انہیں ایسی سہولیات نہ ملنے کے باعث بدنیتی پر مبنی منفی پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔محکمہ اس دانستہ گمراہ کن اور منفی پروپیگنڈے کی شدید مذمت کرتا ہے اور جھوٹی، گمراہ کن یا ہتک آمیز معلومات پھیلانے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس معاملے کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) سمیت مروجہ قوانین کی متعلقہ دفعات کے تحت سختی سے نمٹایا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر دستیاب شواہد اور متعلقہ مواد مزید قانونی کارروائی کے لیے مجاز اتھارٹی کو بھجوایا جائے۔
خبرنامہ نمبر 7548/2026
کوئٹہ 08ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی زیرِ صدارت اے ڈی سی آر، اسسٹنٹ کمشنران اور تحصیلداران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔، جس میں ضلع کوئٹہ ویسٹ کے انتظامی امور، سرکاری معاملات، عوامی سہولیات اور مختلف محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری مختلف اقدامات، عوام کو درپیش مسائل کے فوری ازالے، سرکاری امور کی مؤثر انجام دہی اور انتظامی نظام کو مزید فعال و مربوط بنانے سے متعلق امور زیرِ بحث لائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر متعلقہ افسران اپنے اپنے علاقوں میں انتظامی صورتحال، عوامی شکایات اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دے رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے اور سرکاری امور کی انجام دہی میں شفافیت، میرٹ اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ اپنے اپنے علاقوں میں انتظامی معاملات کی مؤثر نگرانی کریں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فیلڈ میں فعال کردار ادا کریں۔اجلاس میں امن و امان، تجاوزات کے خاتمے، سرکاری اراضی کے تحفظ، ریونیو امور، قیمتوں کی نگرانی، عوامی سہولیات کی فراہمی اور دیگر اہم ضلعی معاملات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں اور انتظامی اقدامات کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے جبکہ عوامی شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت، لگن اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں تاکہ انتظامی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہے۔
خبرنامہ نمبر 7549/2026
سوراب08 ستمبر: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت سوراب میں منعقد ہونے والے تبلیغی اجتماع کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی بلوچ، تبلیغی امیر ڈاکٹر نثار احمد، امیر عبدالعزیز، مولانا محمد عیسیٰ سمیت تبلیغی جماعت کے دیگر ذمہ داران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران تبلیغی اجتماع کے حوالے سے سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، شرکاء کی آمد و رفت، انتظامی امور اور دیگر ضروری انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر اجتماع کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور شرکاء کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون اور مؤثر حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں بتایا گیا کہ سوراب تبلیغی اجتماع 27 ستمبر 2026 کو شروع ہوگا اور 29 ستمبر 2026 کو اختتام پذیر ہوگا اجتماع میں بڑی تعداد میں افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامات کو بروقت مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اجلاس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امن و امان اور اجتماع کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اجتماع کے دوران شرکاء اور عام شہریوں کی سہولت، ٹریفک کی روانی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں اجلاس کے شرکاء نے اجتماع کو پرامن اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔*







