خبرنامہ نمبر7228/2026
سنجاوی2ستمبر- صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ کے بھائی و میونسپل کمیٹی سنجاوی کے چیئرمین حاجی خان محمد دمڑ نے سول ہسپتال سنجاوی میں نئے ڈینٹل روم اور جدید ڈینٹل مشین کا افتتاح کیا اس موقع پر ایم ایس سول ہسپتال نورالباقی زخپیل، بلدیاتی نمائندگان، ڈاکٹرز، علماء، معززین اور علاقہ عمائدین موجود تھے اس موقع پر میونسپل کمیٹی سنجاوی کے چئیرمن حاجی خان محمد دمڑ نے کہا کہ ڈینٹل روم اور جدید مشین کی فراہمی سے سنجاوی کے عوام کو دانتوں کے علاج کی بہتر سہولت مقامی سطح پر میسر آئے گی انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے عوامی حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سراہا صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ حاجی نور محمد خان دمڑ نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ سنجاوی سول ہسپتال میں ڈینٹل روم اور جدید ڈینٹل مشین کی فراہمی عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ سنجاوی سمیت پورے حلقے کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری صحت کی سہولیات میسر آئیں اور اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 7229/2026
گوادر2 ستمبر۔ محکمہ تعلیمی ومیر فٹبال اکیڈمی گوادر کے تعاون سے گوادر انٹر اسکول اسپورٹس چیمپئن شپ 2026 کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد طلبہ و طالبات کو صحت مند، مثبت اور تعمیری غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا اور نوجوان نسل کو کھیلوں کی جانب راغب کرنا ہے چیمپئن شپ میں گوادر کے مختلف سرکاری و نجی ہائی اسکولز کے طلبہ و طالبات کو بھرپور شرکت کریںگے، جہاں وہ مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ طلبہ کے لیے فٹبال سمیت مختلف کھیلوں جبکہ طالبات کے لیے کرکٹ، میراتھن ریس اور رسہ کشی جیسے دلچسپ مقابلوں کا اہتمام کیا گیا ہے میر فٹبال اکیڈمی کے سربراہ میر ارشد کلمتی کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر اور پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن گوادر سے رابطہ کیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ اسکولوں کو چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے باضابطہ مراسلات بھی ارسال کیے گئے ہیں۔
منتظمین کے مطابق چیمپئن شپ کا مقصد صرف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہیں بلکہ نوجوانوں میں خود اعتمادی، نظم و ضبط، ٹیم ورک، قیادت، باہمی تعاون اور سپورٹس مین اسپرٹ کو فروغ دینا بھی ہے۔ کھیلوں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے، مثبت سوچ اپنانے اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا میر فٹبال اکیڈمی گوادر اور محکمہ تعلیم گوادر نے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مثبت اور صحت مند سرگرمی کا بھرپور حصہ بنیں اور اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
خبرنامہ نمبر 7230/2026
گوادر/پسنی2ستمبر.
سیکریٹری فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ بلوچستان طارق قمر اور ڈائریکٹر جنرل فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ بلوچستان عتیق اللہ خان کی خصوصی ہدایات پر ریسرچ آفیسر میڈم نگہت دین نے فشریز آفس پسنی کا دورہ کیا اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہزیب صادق، میر خالد کلمتی، نورالدین حسنی اور میر اصف رند ، میرین بایولوجسٹ اسد اللہ بھی موجود تھے ریسرچ آفیسر نے ملازمین کی حاضری، دفتری نظم و ضبط اور مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لیا، جبکہ مائیکرو لیب، ماڈل فش مارکیٹ اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی معائنہ کیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز میرین شاہزیب صادق نے پسنی میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور محکمہ کی مختلف سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ریسرچ آفیسر نے ہدایت کی کہ پائیدار ماہی گیری، سمندری وسائل کے تحفظ، سائنسی تحقیق، فشریز انفراسٹرکچر کی بہتری اور ماہی گیر برادری کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے، تاکہ صوبائی حکومت کے ماہی گیری اور ساحلی ترقی کے وژن کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 7231/20206
گوادر2 ستمبر . گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول گوادر میں محکمہ تعلیم اور میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول 2026 کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے ضلع گوادر کے سرکاری و نجی اسکولوں کے اسپورٹس انچارجز کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس کی صدارت وائس پرنسپل گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول خالد کریم نے کی، جبکہ ٹورنامنٹ کے سرپرستِ اعلیٰ میر ارشد کلمتی، ناصر سہرابی اور مختلف تعلیمی اداروں کے اسپورٹس انچارجز نے شرکت کی اجلاس میں ٹیموں کی شرکت، میچز کے شیڈول، انتظامی امور، نظم و ضبط، کھیلوں کے قواعد و ضوابط اور نگرانی سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے فیسٹیول کو شفاف، منظم اور بہترین انداز میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔فیسٹیول کا افتتاحی صبح کے وقت جبکہ دیگر تمام میچز شام کے اوقات میں سورگدل فٹبال گراؤنڈ گوادر میں کھیلے جائیں گے۔ ٹورنامنٹ میں 17 سال یا اس سے کم عمر طلبہ حصہ لے سکیں گے، جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 7232/2026
کوئٹہ: 2 ستمبر .پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے منصوبے میں پیش رفت جاری ہے، پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PPMU) نے کوئٹہ اور پشین کے 10 پی ٹی ایس ایم سیز (PTSMCs) کو دوسری، تیسری اور چوتھی قسط کی مد میں مجموعی طور پر 12.58 ملین روپے کے چیکس جاری کر دیے۔
چیکس کی تقسیم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کی صدارت سیکریٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر نے کی۔ تقریب کے دوران کوئٹہ اور پشین کے مختلف اسکولوں میں جاری اضافی کمروں کی تعمیر کے کام کا اسکول واز جائزہ لیا گیا، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر نجیب اللہ ترین نے پروجیکٹ سے متعلق پیش رفت، تعمیراتی معیار اور قسط وار فنڈز کے اجراء کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ 10 اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 35.28 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ تعمیراتی کام کی پیش رفت کے مطابق اب تک دوسری، تیسری اور چوتھی قسط کی مد میں 12.58 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔نجیب اللہ ترین نے تقریب کے شرکاء کوبتایا کہ منصوبے کے تحت فنڈز مرحلہ وار جاری کیے جاتے ہیں۔ ہر قسط تعمیراتی کام کی مقررہ تکمیل، سماجی اور تکنیکی معیار کے مطابق جانچ اور کوالٹی کنٹرول کے بعد جاری کی جاتی ہے۔ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے تکنیکی عملے اور عملدرآمدی شراکت داروں SMIP اور IEQA کی جانب سے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے اور مقررہ معیار پر پورا اترنے کی تصدیق کے بعد ہی اگلی قسط جاری کی جاتی ہے۔سیکریٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر نے منصوبے کو سراہتے ہوئے پی ٹی ایس ایم سیز کے ذریعے اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی کارکردگی اور منصوبے میں شفافیت کو بھی سراہا اور خصوصاً پراجیکٹ ڈائریکٹر نجیب اللہ ترین اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔اس موقع پر پی ٹی ایس ایم سیز کے چیئرپرسنز اور ہیڈ ٹیچرز نے بھی منصوبے کے حوالے سے اپنے تجربات اور آراء کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے متعلقہ اسکولوں سے متعلق مسائل اور ضروریات سیکریٹری محکمہ تعلیم کے سامنے پیش کیں، جنہیں سنا گیا اور ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب کے بعد سیکریٹری محکمہ تعلیم نے پراجیکٹ ڈائریکٹر نجیب اللہ ترین کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس بھی کیا، جس میں منصوبے کی مجموعی پیش رفت، تعمیراتی کام کے معیار، شفافیت اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔
دورے کے اختتام پر پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے سیکریٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جبکہ ریجنل کوآرڈینیٹرز اور انجینئرز کے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنائی گئی۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبے کے تحت اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کا عمل شفافیت، معیار اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری رکھا جائے گا تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
7233/2026
کوئٹہ 2ستمبر سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی بلوعبدالرؤف بلوچ کی زیرِ صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) موڈ کے تحت مربوط ٹھوس کچرے کے انتظام (Integrated Solid Waste Management) منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز کے اجراء اور SAFA کوئٹہ کی پیش رفت کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نظر زہری سمیت متعلقہ افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کوئٹہ شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید مؤثر، منظم اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جاری منصوبے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بالخصوص منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز کے اجراء، مالیاتی امور، Escrow Account میں فنڈز کی منتقلی، منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت اور SAFA کوئٹہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات سمیت دیگر متعلقہ معاملات پر غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے منصوبے کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور درپیش مسائل سے متعلق سیکرٹری بلدیات کو تفصیلی بریفنگ بھی دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی عبدالرؤف بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں صفائی ستھرائی اور ٹھوس کچرے کے مؤثر انتظام کو بہتر بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ Integrated Solid Waste Management Project کے ذریعے شہر میں کچرے کی صفائی، جمع آوری، منتقلی اور مناسب طریقے سے تلف کرنے کے نظام کو جدید اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے سے متعلق مالیاتی اور انتظامی امور کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے، تاکہ مطلوبہ فنڈز متعلقہ Escrow Account میں منتقل کیے جا سکیں اور منصوبے پر عملی پیش رفت میں مزید تیزی لائی جا سکے۔سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کی نگرانی، کارکردگی کے جائزے اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ میکنزم کو مزید فعال بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ SAFA کوئٹہ کی کارکردگی اور منصوبے کے تحت فراہم کی جانے والی صفائی کی سہولیات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا، جبکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کوئٹہ شہر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی، بروقت کچرے کی منتقلی اور صفائی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ افسران نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے طے شدہ اقدامات کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 7234/2026
کوئٹہ 2 ستمبر
سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار نہایت اہم ہےصوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور پائیدار ترقی کا انحصار محکمہ کی مؤثر کارکردگی پر ہے اگر اس کارکردگی میں سستی یا کوتاہی ہو تو صوبے کے ترقی کا پہیہ جام ہو جائے گا جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ان خیالات کا اظہار سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے صوبے میں جاری اسٹریٹجک منصوبوں فورٹیفیکیشن آف تھانہ پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز اے آئی جی ڈیولپمنٹ احمد سلطان سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ضلعی ایگزیکٹو انجینئرز نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران فورٹیفیکیشن آف تھانہ کی 83 منصوبوں پر مختلف اضلاع کے انجینئرز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور منصوبوں کو درپیش مالی اور تکنیکی مسائل سے آگاہ کیا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایت کی کہ اہم نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ وقت کم اور چیلنجز زیادہ ہیں لہٰذا تمام انجینئرز اس بات کو یقینی بنائیں کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل محکمہ کی اولین ترجیح رہے انہوں نے مزید ہدایت دی کہ منصوبوں کو درپیش تمام تکنیکی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے سست روی کا شکار ایگزیکٹو انجینئرز کو شوکازنوٹس بھی دیے انہوں نے ایگزیکٹو انجینئرز بلڈنگز کو ٹاہم لاہن دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت تک ان منصوبوں کی تکمیل کو ہر صورت میں یقینی بنائی جائے بصورت دیگر متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مذید کہا کہ ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چیف انجینئرز اور ایس ایز کو ہدایت کی کہ وہ خود منصوبوں کا باقاعدگی سے دورہ کریں اور ہر دو ہفتے بعد پیش رفت رپورٹ ارسال کریں ان رپورٹس میں تکنیکی مسائل کی نشاندہی بھی شامل کی جائے تاکہ منصوبوں کی رفتار متاثر نہ ہو اور کام بلا تعطل جاری رہے۔
خبرنامہ نمبر 7235/2026
گوادر2 ستمبر . ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے میرین ڈرائیو کا دورہ کیا اور بیچ سائیڈ کی خوبصورتی، شجرکاری، صفائی ستھرائی، سولر لائٹنگ اور دیگر شہری سہولیات کا جائزہ لیا انہوں نے حالیہ شجرکاری کا معائنہ کرتے ہوئے پودوں کی مناسب نگہداشت اور بروقت آبیاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ڈی جی نے میرین ڈرائیو پر قائم ٹک شاپس اور کنٹینرز کا بھی معائنہ کیا اور ایک بند کنٹینر کیفے کو مناسب متبادل مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت دی انہوں نے کہا کہ میرین ڈرائیو گوادر کی خوبصورتی کے ساتھ ایک اہم تفریحی و سیاحتی مقام بھی ہے، اس لیے صفائی، شجرکاری، لائٹنگ اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔
خبرنامہ نمبر 7236/2026
دکی:2ستمبر . ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دکی کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں اور دیگر حصوں کا معائنہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی و انتظامی سہولیات کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے ملازمین کی حاضری، صفائی ستھرائی، ہسپتال کے انتظامی امور اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے زیرِ علاج مریضوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات اور دیگر ضروری امور کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے، عملے کی بروقت حاضری یقینی بنانے اور مریضوں کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو بہتر ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہسپتال کے انتظامی امور اور سہولیات کی بہتری کے لیے نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 7237/2026
لورالائی 2ستمبر .ضلع لورالائی پولیس کے کانسٹیبلز کی ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر کریم مندوخیل، ایس ڈی پی او صدر غلام اکبر سمیت پولیس کے دیگر افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی تقریب کے دوران ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے ترقی پانے والے تمام اہلکاروں کو فرداً فرداً مبارکباد پیش کی اور انہیں نئے عہدے کی ذمہ داریوں پر خلوص، دیانت داری اور مزید لگن کے ساتھ فرائض انجام دینے کی تلقین کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے کہا کہ ترقی ہر سرکاری ملازم کی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ہوتی ہے، جو نہ صرف اس کی محنت، قابلیت اور بہترین کارکردگی کا اعتراف ہے بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پانے والے اہلکار محکمہ پولیس کی نیک نامی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مزید مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں انہوں نے کہا کہ لورالائی پولیس جرائم کے خاتمے، امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور پولیس اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گاڈی ایس پی ہیڈکوارٹر کریم مندوخیل اور ایس ڈی پی او صدر غلام اکبر نے بھی ترقی پانے والے اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کو بھرپور احساس ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں گےتقریب کے اختتام پر ترقی پانے والے اہلکاروں نے پولیس کے اعلیٰ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے اور عوام کی خدمت، قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔تقریب خوشگوار اور پرجوش ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں پولیس افسران اور اہلکاروں نے ترقی پانے والے اہلکاروں کو فرداً فرداً مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر7238/2026
دُکی، 2ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی نے سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کے سلسلے میں مختلف سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملازمین کی حاضری، صفائی ستھرائی، دفتری نظم و ضبط اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے سب سے پہلے میونسپل کمیٹی دُکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ملازمین کی حاضری چیک کرنے کے علاوہ مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور دفتری امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی بعد ازاں ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے گورنمنٹ ڈگری کالج دُکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حاضری کا جائزہ لیا اور کالج کی عمومی صورتحال سمیت صفائی ستھرائی کے انتظامات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں صاف ستھرا اور بہتر ماحول برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دُکی کے دفتر کا بھی دورہ کیا، جہاں ملازمین کی حاضری، دفتری نظم و ضبط اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ سرکاری امور کی انجام دہی میں ذمہ داری، وقت کی پابندی اور عوامی خدمت کے جذبے کو مقدم رکھا جائےاسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول دُکی کا بھی اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے مختلف کلاس رومز میں جا کر تعلیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا، طلبہ سے ملاقات کی اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حاضری چیک کی۔ انہوں نے سکول میں صفائی ستھرائی اور مجموعی انتظامی صورتحال کا بھی جائزہ لیاڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے اس موقع پر متعلقہ افسران اور عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنے فرائض پوری ذمہ داری، دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی بہتری اور مؤثر کارکردگی براہِ راست عوامی مفاد سے وابستہ ہے، لہٰذا کسی بھی ادارے میں غفلت، غیر حاضری اور فرائض میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کے اچانک دوروں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ اداروں میں نظم و ضبط، جوابدہی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کے لیے مختصر اور پراثر ہیڈلائنز، سوشل میڈیا کیپشن اور تصویری پوسٹر کا متن بھی تیار کر سکتا ہوں۔
خبر نامہ نمبر7239/2026
لورالائی، 2 ستمبر . پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) نے لورالائی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سالانہ نشستوں کی تعداد 50 سے بڑھا کر 100 کرنے کی منظوری دے دی ہے۔نشستوں میں اضافہ بلوچستان میں طبی تعلیم کے فروغ اور مقامی طلبہ کے لیے میڈیکل کی تعلیم کے مواقع میں اضافے کی جانب اہم پیش رفت ہےمحکمہ صحت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق PM&DC کے معائنہ کاروں نے 17 اور 18 اگست کو لورالائی میڈیکل کالج کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دوران تدریسی سہولیات، فیکلٹی، منسلک تدریسی ہسپتال، انفراسٹرکچر اور دیگر ضروری انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ مطلوبہ تقاضے پورے ہونے کے بعد کالج کو 100 ایم بی بی ایس نشستوں کے لیے منظوری دی گئی ترجمان نے بتایا کہ نشستوں میں اضافے کا اقدام وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی قیادت اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی کی نگرانی میں جاری کاوشوں کا نتیجہ ہےانہوں نے کہا کہ اس سے قبل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے اعلیٰ سطحی وفد نے لورالائی اور تربت کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد متعلقہ تدریسی ہسپتالوں کو CPSP کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ سائٹس قرار دیا گیا۔ اس اقدام سے بلوچستان کے ڈاکٹروں کے لیے تخصصی اور پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں ترجمان کے مطابق صوبے کے دیگر میڈیکل کالجز کو بھی PM&DC اور CPSP کے مقررہ معیار کے مطابق بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار اور مکران میڈیکل کالج تربت کے معائنے بھی رواں ماہ متوقع ہیں، جبکہ مطلوبہ تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ان اداروں کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا کہ حکومت بلوچستان میڈیکل کالجز میں نشستوں میں اضافے، پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع بڑھانے اور تدریسی ہسپتالوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد مل سکے۔
خبرنامہ نمبر 7240/2026
دکی:2ستمبر .دکی پولیس نے ماہِ اگست کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس پر بہترین خدمات انجام دینے والے پولیس افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں حسنِ کارکردگی کے سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا سرٹیفکیٹس کی تقسیم کی تقریب میں ایس پی ضلع دکی منصور احمد بزدار اور ڈی ایس پی دکی علی حسن لاشاری نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے پولیس افسران و اہلکاروں میں حسنِ کارکردگی کے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فرض شناسی اور جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کو سراہا ماہِ اگست کے دوران دکی پولیس نے جرائم کے خلاف مختلف کامیاب کارروائیوں کے دوران 2 ٹویوٹا کرولا گاڑیاں اور 5 موٹر سائیکلیں قبضے میں لیں، جبکہ 8 مفرور ملزمان اور 3 اشتہاری و مطلوب (P.O) ملزمان کو گرفتار کیا گیامنشیات فروشوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جن کے دوران 5 مقدمات درج کرکے تقریباً 6 کلوگرام چرس برآمد کی گئی اس موقع پر ایس پی ضلع دکی منصور احمد بزدار نے پولیس افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دکی پولیس کے جوان اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں اور ان کی محنت، فرض شناسی اور عوامی تعاون سے ضلع دکی کو مزید پرامن بنانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گےایس پی دکی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ محنتی، بہادر اور فرض شناس پولیس اہلکار محکمہ پولیس کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی نمایاں اور بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ فورس کے دیگر جوان بھی مزید جذبے اور لگن کے ساتھ فرائض سرانجام دیں۔دکی پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، مفرور اور اشتہاری ملزمان کے خلاف مسلسل اور مؤثر کارروائیاں اس عزم کا واضح اظہار ہیں کہ ضلع پولیس امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
خبرنامہ نمبر 7241/2026
کوئٹہ 2ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی خصوصی نگرانی میں شہر میں تجاوزات کے خاتمے، عوامی گزرگاہوں کی بحالی اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں مجسٹریٹ عمران زیب کاسی کی زیرِ نگرانی پرنس روڈ، آرچر روڈ، فاطمہ جناح روڈ، میں ہوٹلوں کے اطراف قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے دوران تجاوزاتی سامان ضبط کر لیا گیا۔کارروائی کے موقع پر متعلقہ ہوٹل مالکان کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی گزرگاہوں پر کسی قسم کی تجاوزات قائم نہ کریں۔ اس موقع پر ہوٹل مالکان کی جانب سے تحریری و ویڈیو بیانات کے ذریعے آئندہ تجاوزات نہ کرنے اور غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بننے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ہوٹل مالکان نے اپنے بیانات میں اس امر کا اعتراف کیا کہ سڑکوں اور عوامی گزرگاہوں پر تجاوزات شہریوں کے لیے مشکلات اور عوامی تکلیف کا باعث بنتی ہیں، جبکہ اس سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون اور آئندہ تجاوزات سے گریز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے شہر میں ٹریفک کی روانی، شہریوں کی سہولت اور عوامی گزرگاہوں کی بحالی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر 7242/2026
گوادر 2 ستمبر . نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے خواتین کو شناختی دستاویزات کی سہولیات ان کے قریب فراہم کرنے کے لیے بلدیہ آفس گوادر میں موبائل رجسٹریشن وین سروس کا آغاز کر دیا ہے موبائل رجسٹریشن وین کے ذریعے خواتین کو شناختی کارڈ کے اجراء، تجدید اور دیگر ضروری شناختی خدمات ایک ہی مقام پر فراہم کی جا رہی ہیں، یہ اقدام حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت شہریوں کو بنیادی سرکاری خدمات ان کی دہلیز کے قریب فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے
جس کا مقصد شہریوں بالخصوص خواتین کو سرکاری خدمات تک آسان، بروقت اور مؤثر رسائی فراہم کرنا اور انہیں غیر ضروری سفر اور مشکلات سے نجات دلانا ہے۔
خبرنامہ نمبر 7243/2026
کوئٹہ، 2 ستمبر ۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (UNDP) کے نمائندوں نے ملاقات کی۔ اجلاس میں متعلقہ پروجیکٹ کے افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران UNDP کے نمائندوں نے جاری منصوبے اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔یو این ڈی پی کے نمائندوں نے منصوبے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ تعاون قابلِ تحسین ہے اور آئندہ بھی منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کام جاری رکھا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ و تعاون جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 7244/2026
کوئٹہ 2ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے نمائندوں نے ملاقات کی، جس میں کوئٹہ میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیمات اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندوں کی جانب سے کوئٹہ میں جاری مختلف اسکیمات پر بریفنگ دی گئی، جبکہ شہر میں شروع کیے جانے والے نئے ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ پیش کی گئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھب مکمل تعاون اور رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔اجلاس میں نئے منصوبے کے مختلف پہلوؤں، ممکنہ اقدامات اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 7245/2026
گوادر 2 ستمبر , صوبائی حکومت کی علم دوست پالیسی اور تعلیم کے فروغ کے عزم کے تحت گورنمنٹ گرلز انٹر کالج سربندن میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں طالبات میں درسی کتب تقسیم کی گئیں۔ اس اقدام کا مقصد طالبات کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی، معیاری تعلیم کے حصول میں معاونت اور انہیں یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے کالج انتظامیہ کے مطابق ضلعی محکمۂ تعلیم کی جانب سے 8 سیٹ درسی کتب فراہم کیے گئے، جبکہ مزید 10 سیٹ کتابیں کالج انتظامیہ کی خصوصی کاوشوں سے حاصل ہوئیں، جس سے مجموعی طور پر 18 سیٹ دستیاب ہوئے کالج طالبات کی تعداد دستیاب کتابوں سے زیادہ ہونے کے باعث کتابوں کی تقسیم میرٹ، تعلیمی کارکردگی اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق مزید کتابیں دستیاب ہونے پر باقی طالبات کو بھی مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی اس موقع پر پرنسپل عبداللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی علم دوست پالیسی کا مقصد تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول اور طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ انٹرمیڈیٹ کے دو سال ان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے وہ کتابوں اور اساتذہ کی رہنمائی سے بھرپور استفادہ کریں اور محنت، مستقل مزاجی، نظم و ضبط اور لگن کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں، جبکہ آج کی تعلیمی محنت ہی روشن مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔
خبرنامہ نمبر 7246/2026
کوئٹہ 2ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ڈرگ کنٹرول ایڈمنسٹریشن بلوچستان کی کارروائیاں جاری ہیں۔اس سلسلے میں کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں 70 فارمیسیز کی چیکنگ کے دوران 2 مقامات سے غیر لیبل شدہ اور مشکوک دودھ پاؤڈر برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف Drugs Act, 1976 کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اس موقع پر عوام سے اپیل ہے کہ غیر لیبل شدہ یا مشکوک دودھ پاؤڈر، خصوصاً بچوں اور شیر خوار بچوں کے لیے، استعمال نہ کریں اور ایسی مصنوعات کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
خبرنامہ نمبر 7247/2026
کوئٹہ 2ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم نے سرخ پل اور خیزی چوک کے علاقوں میں شہری آبادی کے قریب قائم غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران مختلف مقامات پر قائم منی پٹرول پمپس کا معائنہ کیا گیا۔ شہری آبادی اور گنجان علاقوں کے قریب قائم متعدد غیر قانونی منی پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا، جبکہ خلاف ورزی میں ملوث 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم نے کہا کہ شہری آبادی کے قریب غیر قانونی طور پر قائم منی پٹرول پمپس کسی بھی ممکنہ حادثے کی صورت میں انسانی جانوں اور املاک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی عمل میں لائی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رہےب گا، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر7248/2026
کوئٹہ 2ستمبر۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی سے ملاقات کی اور ان کے جواں سال صاحبزادے ثنائ اللہ خان اچکزئی کے انتقال پر دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعائے مغفرت کی۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی اور ان کے خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل, وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی، ممبر قومی اسمبلی اور ممبران صوبائی اسمبلی بھی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ہمراہ موجود تھے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7249/2026
موسیٰ خیل 2ستمبرڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیو ایمرجنسی کمیٹی (ڈی پیک) اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عزت، متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے سر ے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کا خاتمہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران سو فیصد ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع کے کسی بھی بچے کو اس موذی مرض سے بچانے کے لیے کوئی کسر نہ چھوٹی جائےانہوں نے تمام محکموں کو باہمی تعاون اور بہترین کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ مہم کے دوران پولیو ورکرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7250/2026
حب2ستمبر۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی زیرصدارت لیڈاکانفرنس ہال میں ضلع آواران کی ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر آواران عقیل کریم نے ضلع میں امن وامان بی ایس ڈی آءمنصوبوں ہیلتھ ایجوکیشن لوکل گورنمنٹ اورروڈانفراسٹرکچرکی ترقیاتی امور سے متعلق مجموعی صورتحال پرکمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ میں کمشنرکوبتایاگیا کہ ضلع آواران میں بجلی کی ترسیل جنریٹر پر چل رہی ہےمشکے سے آواران نیشنل گریڈلنک کاکام زیرالتوایے آواران سےگشکور پول کی تنصیب کا کام شروع کی گءہےانہوں نے بتایاکہ آواران کے 51،فیصد اسکولز بجلی سہولت سے محروم ہیں روڈسیکٹر کے بارے میں بریفنگ میں بتایاگیا کہ این ایچ اے کےزیرنگرانی ہوشاب سے آواران سیکشن پر کام جاری ہے جبکہ 86کلومیٹر آواران بیلہ روڈپر کام کرنیوالی کنٹریکٹر فرم نےتاحال مشینری سائٹ پر منتقل نہیں کی یےکمشنرنے اجلاس میں ڈی سی کوہدایت کی کہ این ایچ اے حکام سے فوریرابطہ کیاجائے اور کنٹریکٹرکوہابندکیاجائے کہ بیلہ آواران لنک روڈ کیاہم شاہراہ پر مشینری سائٹ پر فوری پہنچایاجائے ڈی سی نے بریفنگ میں بتایا کہ ضلع آواران میں شرح خواندگی 36۔3فیصد ہے بی ایس ڈی آءکے تحت ہہلے مرحلےمیں اسکولز کی بلڈنگزتعمیر کی گءہیں بچیوں کی اسکول داخلے کی شرح بڑھانے اسکول ڈراپ آﺅٹ پر بی ایس ڈی آءکے حوالے سےخصوصی آ گاہی مہم پلان کی گءیےبریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈویڑنل سطح ہر محکمہ صحت کی خالی آسامیوں پر بھرتی کنٹریکٹ پر کی جارہی ہیں کمشنر نے دوران بریفنگ ڈویڑنل ڈائریکٹر کی فوری تعیناتی ہیومین ریسورس کی کمی کی نشاندہی اورسیکرٹری ہیلتھ کولیٹر لکھنے کے احکامات جاری کیں انہوں نے انتظامی حکام کو کہا کہ آواران میں 93اسکولز کی بندش کی وجویات سے آگاہ کیا جائے اورٹیچرزکی کنٹریکٹ ہر فوری تعیناتی غیرحاضرٹیچنگ اسٹاف کی مانیٹرنگ یقینی بناءجائےوہ جلد آواران کا دورہ کرینگی ڈی سی آواران نے بتایا کہ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اسامیاں مشتہر ہونے کے باوحودامیدواروں کی عدم شرکت کے باعث ایس ایس ٹی سائنس کی 90 ایس ایس ٹی جنرل کی 106اسامیاں خالی ہیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7251/2026
کوئٹہ، 2 ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پریذیڈنٹ انڈس ہاسپیٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان اور ممبر پلاننگ کمیشن محترمہ شبانہ حیدر کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں انڈس ہاسپیٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے بیکٹر، ڈیرہ بگٹی میں طبی سہولیات کی فراہمی، صحت کے شعبے میں مختلف اشتراکی منصوبوں اور بلوچستان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی بھی موجود تھے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔ صوبے کے غریب اور مستحق عوام کو بہتر اور معیاری علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے صرف طبی مراکز اور جدید آلات کافی نہیں، بلکہ تربیت یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت بلوچستان میرٹوکریسی کے فروغ اور اداروں میں اہل افراد کی تعیناتی کے اصول پر کاربند ہے تاکہ سرکاری نظام میں پیشہ ورانہ صلاحیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے کبھی کسی تقرری یا تعیناتی کے لیے سفارش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے چاہئیں، حکومت کسی بھی قسم کے سیاسی دباو کو میرٹ کی راہ میں حائل نہیں ہونے دے گی انہوں نے کہا کہ “ہم میرٹ پر کام کریں گے، سیاسی دباو¿ میں لینے کو تیار ہوں لیکن میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔” وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں نجی اور غیر سرکاری اداروں کے تجربات اور مہارت سے بھی استفادہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انڈس ہاسپیٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک جیسے اداروں کے ساتھ اشتراک سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے ملاقات میں بیکٹر، ڈیرہ بگٹی میں انڈس ہاسپیٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے منصوبے، طبی سہولیات، انسانی وسائل کی تربیت، صحت کے نظام میں بہتری اور مستقبل کے مختلف اشتراکی منصوبوں کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عوام کو باوقار، بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7252/2026
کوئٹہ، 2 ستمبر ۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بدھ کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی کابینہ کے اراکین اور حکومتی و اپوزیشن اراکین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور، بلوچستان کی ترقی، عوامی مسائل اور صوبے میں جمہوری و پارلیمانی روایات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی کوئٹہ آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بلوچستان آمد ہمارے لیے باعث مسرت اور باعث عزت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سب کا گھر ہے اور صوبے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمہوری روایات، باہمی احترام اور سیاسی برداشت کی روایت قائم ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر تنقید ضرور کرتے ہیں تاہم اخلاقی اقدار، شائستگی اور عزت و احترام کی مضبوط روایات موجود ہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا بنیادی حسن ہے اور اپوزیشن کا حکومت پر تنقید کرنا اس کا جمہوری حق ہے، تاہم سیاسی اختلافات کو باہمی احترام کے دائرے میں رکھنا بلوچستان کی مثبت سیاسی روایت کا حصہ ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن اراکین کا ایک ساتھ بیٹھنا بلوچستان کے مثبت سیاسی کلچر اور جمہوری پختگی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کا باہمی احترام اور مل بیٹھ کر بات چیت کرنا بلوچستان کے بارے میں بیرونِ صوبہ اور بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں کو ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان میں برداشت، رواداری اور باہمی احترام کی یہ روایت مستقبل میں بھی مضبوط ہوتی رہے گی اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بلوچستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے ان کا تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ جذباتی اور خاندانی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے ان کے خاندان کی تین نسلوں کا تعلق ہے اور اس صوبے کے ساتھ محبت نسل در نسل چلی آ رہی ہے سردار ایاز صادق نے کہا کہ بلوچستان ان کے لیے اجنبی نہیں، یہاں کے لوگوں سے ان کا دیرینہ اور گہرا تعلق ہے۔ بلوچستان آکر ہمیشہ اپنائیت اور محبت کا احساس ہوتا ہے اور یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ عزت، محبت اور خلوص سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مٹی، یہاں کے لوگ اور روایات ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ بلوچستان کے عوام کی محبت اور خلوص کے ہمیشہ معترف رہے ہیں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اراکین اور صوبے کے ہر فرد کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کے لیے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم سے ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے اور بلوچستان کی ترقی درحقیقت پورے پاکستان کی ترقی ہے۔ وفاق بلوچستان کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا سردار ایاز صادق نے بلوچستان کے عوام کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی محبت اور مہمان نوازی اپنی مثال آپ ہے۔ بلوچستان کے دورے پر آکر انہیں ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے لوگوں اور اپنے گھر میں آئے ہیں ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس امر پر اتفاق کیا کہ بلوچستان کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے سیاسی قیادت کے درمیان باہمی احترام، مشاورت اور تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7253/2026
لورالائی، 2 ستمبر ۔: وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق معذور افراد کے لیے کمک پروگرام کا انعقاد پر پروگرام ڈائریکٹر کمک (KUMAK) منیر قمبرانی کی قیادت میں کمک پروگرام کے تحت معذور افراد (Persons with Disabilities – PWDs) کی فلاح و بہبود اور انہیں معاشرے میں بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں مزید مستحق معذور افراد کو تھری ویل موٹر سائیکلیں اور سہ پہیا الیکٹرک اسکوٹرز(Tri-Electric Scooters) فراہم کیے جا رہے ہیں اس اقدام کا بنیادی مقصد خصوصی افراد کو محفوظ، آسان اور مناسب سفری سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت میں آسانی، خود مختاری، معاشرتی رسائی اور اقتصادی خود کفالت کو فروغ دیا جا سکے۔پروگرام ڈائریکٹر کمک منیر قمبرانی نے کہا کہ معذور افراد معاشرے کا اہم اور باصلاحیت حصہ ہیں اور انہیں زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب سفری سہولت کی عدم دستیابی خصوصی افراد کے لیے تعلیم، روزگار، کاروبار اور روزمرہ ضروریات تک رسائی میں بڑی رکاوٹ بنتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ کمک پروگرام کا مقصد صرف امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ خصوصی افراد کو عملی طور پر خودمختار اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ تھری ویل موٹر سائیکلوں اور الیکٹرک اسکوٹرز کی فراہمی سے مستحق افراد اپنی روزمرہ سرگرمیوں، ملازمت، کاروبار اور دیگر سماجی امور میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکیں گےکمک پروگرام کے تحت خصوصی افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فلاحی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔یہ اقدام خصوصی افراد کے لیے محض سفری سہولت نہیں بلکہ خودمختاری، عزتِ نفس اور معاشی بااختیاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7254/2026
نصیرآباد2ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیر صدارت اہم اجلاس شہر سے ناجائز تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے تین روز میں عملی اقدامات کی ہدایت واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ڈیرہ مراد جمالی پولیس حکام سمیت دیگر متعلقہ ضلعی افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران ڈیرہ مراد جمالی شہر میں شہریوں کو درپیش مسائل، ٹریفک کی روانی سڑکوں کے دونوں اطراف قائم ناجائز تجاوزات غیر قانونی دکانوں و تھڑوں اور عوامی آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ شہر کی مرکزی شاہراہوں اور اہم تجارتی علاقوں میں ناجائز تجاوزات کے باعث نہ صرف ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ پیدل چلنے والے شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہےڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولیات اور ٹریفک کی روانی کو مدنظر رکھتے ہوئے مین روڈ کے دونوں اطراف قائم تمام ناجائز تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور مو¿ثر کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص یا دکاندار کو سرکاری اراضی فٹ پاتھ اور سڑک کے اطراف غیر قانونی قبضہ یا سامان رکھ کر عوامی راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے باقاعدہ ٹیمیں تشکیل دے کر عملی کارروائی شروع کی جائے اور اس عمل کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے تاکہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد دوبارہ قائم ہونے کا سلسلہ روکا جا سکےڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تین دن کے اندر شہر کی مرکزی شاہراہوں اور اہم مقامات سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے انہوں نے مزید کہا کہ شہر کو صاف ستھرا خوبصورت اور منظم بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جبکہ ٹریفک کی روانی اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اجلاس میں پولیس اور میونسپل کارپوریشن کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران باہمی رابطہ اور موثر کوآرڈینیشن کو یقینی بنایا جائے جبکہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم شاہراہوں پر غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے اور پارکنگ کے مناسب انتظامات پر بھی توجہ دی جائےڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بہتر شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی اور شہر کی خوبصورتی صفائی ٹریفک کی روانی اور تجاوزات کے خاتمے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7255/2026
کوئٹہ 2ستمبر۔سپریم کورٹ کے ججز کی اسپیکر بلوچستان سے ملاقات، صاحبزادے کے انتقال پر تعزیت سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس روزی خان بڑیچ نے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی سے ملاقات کی اور ان کے جواں سال صاحبزادے ثناء اللہ خان اچکزئی کے انتقال پر دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔اس موقع پر معزز ججز نے مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7256/2026
موسیٰ خیل0 ستمبر ۔ضلع موسیٰ خیل میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور مانیٹرنگ کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمٰن صاحب اور ASV شیر زمان نے ضلع کے EPI سائٹ، میڈیسن اسٹور اور MCH سینٹر کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران EPI سائٹ کا خصوصی معائنہ کیا گیا۔ ویکسینز کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ILR کی مینٹیننس، ٹمپریچر مانیٹرنگ چارٹس، ویکسین اسٹاک رجسٹر اور کولڈ چین سسٹم کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ افسران نے تمام ریکارڈ چیک کیے اور ہدایت کی کہ ویکسینز کو مقررہ معیار کے مطابق ہی اسٹور کیا جائے۔اس کے بعد میڈیسن اسٹور اور MCH سینٹر کا بھی وزٹ کیا گیا۔ اسٹاف کی حاضری، ادویات کے اسٹاک کی دستیابی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات، صفائی ستھرائی اور ریکارڈ کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔ دورے کے موقع پر موجود اسٹاف کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کو عزت کے ساتھ بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ صحت کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا یہ اچانک دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے مراکز کی مسلسل نگرانی کے ذریعے عوام کو بہتر اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7257/2026
صحبت پور: 2دستمبر۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول آدم پور اور داود کھیازئی کا دورہ کیا تعلیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا اور شجرکاری مہم کا افتتاح بھی کیاتفصیلات کے مطابق آج ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول آدم پور و گورنمنٹ گرلز ہائی سکول داود کھیازئی کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے سکول کے تعلیمی ماحول تدریسی سرگرمیوں اساتذہ کرام کی حاضری، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی صفائی ستھرائی سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیا اس موقع پر سکول انتظامیہ اور اساتذہ کرام نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے میں جاری تعلیمی سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے سکول کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے اساتذہ کرام کی حاضری اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی داود کھیازئی میں ایک ٹیچر غیر حاضر پائی گئی انکوائری کے سسپینڈ کر دیا گیا جبکہ سختی سے تنبیہ کی گئی کہ آئندہ غیر حاضر رہنے سے اجتناب کیا جائے جبکہ آدم پور کی خستہ حال عمارت کی مرمت کرنے کی بھی ہدایت کی اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایک سازگار اور مثبت تعلیمی ماحول یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس لیے وہ اپنی ذمہ داریاں محنت خلوص اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہوئے طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیںدورے کے دوران ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول آدم پور کے احاطے میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا اس موقع پر انہوں نے درختوں اور پودوں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شجرکاری محض ایک مہم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے درخت ماحول کو صاف رکھنے، آلودگی میں کمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے جس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور ان کی مناسب آبیاری و حفاظت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے صرف پودے لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی باقاعدہ دیکھ بھال اور نشوونما کو یقینی بنانا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہےڈپٹی کمشنر نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو شجرکاری کی اہمیت درختوں کی حفاظت اور ماحول دوست سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں تاکہ بچے نہ صرف خود پودے لگانے اور ان کی دیکھ بھال کی جانب راغب ہوں بلکہ اپنے گھروں محلوں اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی درختوں کی افادیت اور موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ اگر ہر طالب علم ایک پودا لگانے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری لے تو اجتماعی طور پر ایک سرسبز صاف اور صحت مند معاشرے کے قیام میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے اساتذہ اور طلبہ شجرکاری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کو فروغ دیں آخر میں ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تعلیمی معیار میں بہتری طلبہ کی حاضری اور نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ سکول کے ماحول کو مزید خوبصورت صاف ستھرا اور سرسبز بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر7258/2026
کوئٹہ: 2ستمبر۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان ہمارے عوام کا مستقبل ہیں، آج کا دور تعلیم، علم، ٹیکنالوجی اور ہنر کا دور ہے، اس لیے نوجوان اپنی پوری توجہ تعلیم پر دیں۔ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو پسماندگی سے ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔اپنے جاری کردہ پیغام میں وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ کسی قوم کا مستقبل صرف نعروں سے نہیں بدلتا، تعلیم، کتاب، قلم، محنت، اچھے کردار اور مسلسل کوشش سے قوموں کا مستقبل بدلتا ہے۔ آج ہمیں دیگر اقوام کا مقابلہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قلم سے کرنا چاہیے، ہمارے نوجوانوں کو ڈاکٹر،انجینئر، اساتذہ، سائنسدان ، وکیل، افسران، محقق، اور ٹیکنا لوجی کے ماہرین بننا چاہیے نوجوان محنت کریں اور زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ مقام حاصل کریں میر ضیائ اللہ لانگو نے کہا کہ جب نوجوان کامیابی حاصل کریں اور اچھے عہدوں پر پہنچیں تو اپنی کامیابی کو صرف اپنے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ اپنے علم اور مقام کو اپنے عوام اور بلوچستان کی خدمت کے لیے استعمال کریں نوجوان نسل کی رہنمائی کریں اور ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، دنیا مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر، سائنس، جدید صنعتوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی جدید ہنر سیکھنے، ان شعبوں میں داخل ہونے، نئے آئیڈیاز پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کا استعمال بلوچستان کی ترقی کے لیے کرنا چاہیے ہم ایک ایسا بلوچستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں تعلیم عام ہو، نوجوان ہنرمند ہوں، علم اور تحقیق کا احترام ہو اور ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ بنے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7259/2026
کوئٹہ2 ستمبر۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آج ایک روزہ دورہ کوئٹہ کے دوران صوبے کی تازہ ترین سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور باہمی تعاون سے متعلق اہم ملاقاتیں کیں۔ دورے کا مقصد بلوچستان کی سیاسی قیادت اور پارلیمنٹیرینز سے رابطوں کو مزید مضبوط بنانا اور صوبے کے مسائل و ترجیحات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ کوئٹہ آمد پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ، صوبائی وزرائ اور ارکان صوبائی اسمبلی نے اسپیکر قومی اسمبلی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل سے ون آن ون ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، پارلیمانی معاملات اور صوبے کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ گورنر بلوچستان نے انہیں صوبے کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل سے آگاہ کیا۔ دورہ کوئٹہ کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے گورنر ہاوس میں پارلیمنٹیرینز، سیاسی رہنماوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر عہدیداران اور کارکنوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر پارٹی عہدیداران اور کارکنوں نے مختلف امور سے متعلق سوالات کیے جن کے سردار ایاز صادق نے تفصیلی جوابات دیے اور پارلیمانی و سیاسی معاملات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ قبل ازیں سردار ایاز صادق نے اپنے دورے کے دوران بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے جواں سال صاحبزادے ثناء اللہ اچکزئی کے انتقال پر بلوچستان صوبائی اسمبلی اسپیکر چیمبر میں تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجاتِ بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کی رہائشگاہ بھی گئے جہاں انہوں نے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت اور غمرازی کیا۔ انہوں نے مرحومہ کے ایصالِ ثواب اور اہلِ خانہ کیلئے صبر و استقامت کی دعا کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا دورہ کوئٹہ سیاسی و پارلیمانی قیادت کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم کرنے اور بلوچستان کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7260/2026
کوئٹہ: 2ستمبر۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت سیکریٹریز کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں تمام انتظامی سیکریٹریز سمیت ڈویژنل کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی سطح پر انتظامی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، دفاتر میں آفیسران و عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، خالی آسامیوں اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کی کنڈیم نیشن کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اس موقع پر سرکاری گاڑیوں کی موجودہ حالت، ناقابلِ استعمال گاڑیوں کی نشاندہی اور انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق کنڈیم یا نیلام کرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا تاکہ سرکاری وسائل کا موثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں مختلف محکموں میں خالی آسامیوں کی تفصیلات، ترقی کے منتظر ملازمین اور ابتدائی بھرتیوں سے متعلق امور پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خالی آسامیوں، ترقیوں اور بھرتیوں کے معاملات قواعد و ضوابط، میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق نمٹائے جائیں تاکہ محکموں کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اجلاس کے فیصلوں پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سیکرٹریز اپنے اٹیچڈ محکموں میں ملازمین کی بر وقت اور مستقل حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ عوامی سہولیات بروقت اور موثر انداز میں فراہم ہوں۔ حاضری کا ٹھوس نظام، ذمہ دارانہ نگرانی اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف قانونی کاروائی سے سرکاری خدمات کی شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سیکرٹریز اپنے متعلقہ محکموں میں فوری طور پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر مقرر کرے۔ کیونکہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت عوام کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ اس تعیناتی سے نہ صرف درخواستوں کے بروقت ازالے میں مدد ملے گی بلکہ سرکاری امور میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیکرٹریز اپنے متعلقہ محکموں کے ویب سائٹس فعال کریں تاکہ عوام تک بروقت معلومات پہنچ سکیں۔ ویب سائٹ پر تازہ ترین خبریں، اعلانات اور خدمات کی تفصیلات باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنے سے شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کو ضروری معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔چیف سیکریٹری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی محکموں کی کارکردگی میں بہتری، انتظامی شفافیت، میرٹ پر بھرتیوں اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عملدرآمد کی صورتحال بھی پیش کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7261/2026
لورالائی، 2 ستمبر۔ : آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی موثر اور کامیاب تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ضلعی پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران اور پولیو پروگرام سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں مائیکرو پلاننگ، پولیو ٹیموں کی تعیناتی، فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت، ویکسین اور دیگر ضروری سامان کی بروقت دستیابی، سیکیورٹی انتظامات اور گزشتہ مہمات میں رہ جانے والے بچوں کی مکمل کوریج سمیت مختلف اہم امور پر غور کیا گیا ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے محکمہ صحت، پولیو پروگرام، عالمی ادارہ صحت، یونیسف، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطہ کاری اور مربوط حکمت عملی کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ مہم کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئےانہوں نے خصوصی طور پر ان بچوں تک رسائی یقینی بنانے پر زور دیا جو گزشتہ پولیو مہمات کے دوران کسی وجہ سے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ غیر حاضر، انکاری اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں کی نشاندہی کرکے خصوصی حکمت عملی کے تحت ان کی ویکسینیشن یقینی بنائی جائےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیلڈ ٹیموں کی موثر نگرانی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مہم کے دوران سامنے آنے والے انتظامی یا فنی مسائل کے فوری حل کے لیے مربوط نظام وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر یونین کونسل اور دور دراز علاقوں میں ٹیموں کی کارکردگی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہےکیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے واضح کیا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ اور بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، لہٰذا اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت، لاپروائی یا ناقص کارکردگی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی مشترکہ کوششوں سے مہم کی روزانہ بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے اور ضلع لورالائی کو پولیو فری بنانے کے قومی مشن میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون اور موثر حکمت عملی کے ذریعے آئندہ انسدادِ پولیو مہم کو ضلع لورالائی میں کامیاب اور موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7262/2026
کوئٹہ2ستمبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ٹیکس شیڈول کے مطابق مریضوں کے پیتھالوجیکل، ریڈیولوجیکل اور تشخیصی ٹیسٹ سے متعلق لیبارٹریز کی جانب سے فراہم کردہ خدمات پر بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کی شرح 2 فیصد مقرر ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے متعلقہ لیبارٹریز اور سروس فراہم کنندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین کے تحت بی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن، درست ٹیکس رپورٹنگ، بروقت ریٹرن فائلنگ اور واجب الادا ٹیکس کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین کی پاسداری سروس فراہم کنندگان کی قانونی ذمہ داری ہے، جبکہ بروقت ٹیکس تعمیل سے شفاف ٹیکس نظام، ٹیکس بیس میں توسیع اور صوبائی محصولات میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7263/2026
حب 2ستمبرکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی زیرصدارت آواران میں زلزلہ متاثرین کے گھروں کی تعمیراورآواران ڈیولپمنٹ پیکیج پر عملدرآمد سےمتعلق اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر آواران عقیل کریم نے کمشنر کو بریفنگ میں بتایا کہ زلزلہ متاثرین کے لئے سعودی عرب کے تعاون سے 2013 میں سات ہزار سات سو زلزلہ متاثرہ خاندانوں کیلئے رہائشی سنگل کمروں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا آرمی سول ایڈمنسٹریشن نےجوائنٹ سروے کے مطابق متاثرین کی فہرستیں بنائیں ابتک 6366مکانات تعمیر کئے گئے ہیں ڈی سی نے بتایا کہ حکومت بلوچستان اوروفاقی حکومت نے ملکر 16ہزارمتاثرہ خاندانوں کیلئے گھروں کی تعمیر کااعلان کیاڈپٹی کمشنر آواران نے اجلاس میں آواران کیلئے منظورشدہ چھ ارب روپے لاگت کے ترقیاتی پیکیج سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس ترقیاتی پیکیج میں بس ٹرمینل لائبریری مارکیٹ سڑکوں کی تعمیر اورماڈرنائزیشن کے تحت کام جاری ہیں اب تک اس منصوبے کیلئے ایک ارب روپےکے فنڈزکااجرائ ہوچکاہےاوراس ترقیاتی پروگرام میں باءہاس سڑکوں کی تعمیر بھی شامل یے بریفنگ میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ بی ایس ڈی آءفیز تھری میں آواران کے مبظورشدہ ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ مکمل اپ لوڈاورورک آرڈر جاری کئے گئے ہیں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دس ہزار سے زائد بی آءایس پی پروگرام کے مستحقین کو بینظیر کفالت اورتعلیمی وظائف کے حصول میں مشکلات درپیش ہوتی ییں اس سلسلے میں میکانزم بنانے کی ضرورت ہے کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے تحت گڈگورننس کے رہنمااصولوں پر کوءکمپرونائز نہیں کیا جائیگا تمام افسران کوٹیم ورک کی صورت میں ملکر کام کرناہوگاعوام الناس کو سروسز ڈیلیوری دینی یوگی اگر کوءافسر اپنی ڈیوٹی سے کوتاہی کریگا تواس کیخلاف ڈسپلنری ایکشن ہوگا سائرہ عطاء نے ک میں ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرونگی اورمنصوبوں کی فزیکل فنانشل پروگریس چیک کرونگی انہوں نے کہا کہ ریویوڈیپارٹمنٹ کی خالی اسامیوں کو پرکروانےکیلئے ایس ایم بی آرحکام سے رابطہ کیاجائیگا ہم سب نے ملکر اس ملک صوبے اورڈویژن کی ترقی کیلئے کام کرناہوگاکمشنر نے افسران پر واضح کیا کہ کسی بھی افسر کی جائے تعیناتی سے غیر حاضری یرگزقبول نہیں کیجائیگی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7264/2026
حب: 2ستمبر۔ وائس چیئرمین میونسپل کارپوریشن حب محمد عظیم سیاں کی قیادت میں ضلع حب کے عمائدین اور نمائندہ وفد نے لیڈا کانفرنس ہال میں کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء سے ملاقات کی ملاقات کے دوران ضلع حب کے عوام کو درپیش مختلف اہم مسائل، بالخصوص بجلی کے بحران، ٹریفک مینجمنٹ، صنعتی اداروں میں مقامی افراد کو روزگار میں ترجیح اور تھیلیسیمیا سینٹر کے قیام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے کمشنر لسبیلہ ڈویڑن کو آگاہ کیا کہ ضلع حب بالخصوص جام کالونی کے صارفین بجلی کے بحران اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفد نے حب سٹی میں ٹریفک مینجمنٹ کے ناقص انتظامات کے باعث آئے روز پیش آنے والے حادثات اور ان کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی جانب بھی توجہ دلائی۔وفد نے کہا کہ ضلع حب ایک اہم صنعتی شہر ہے، جہاں مختلف صنعتیں قائم ہیں، تاہم مقامی نوجوانوں اور محنت کشوں کو روزگار کے مواقع میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ صنعتی اداروں میں مقامی افراد کے حقوق، ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور روزگار کے تحفظ کے لیے موثر طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔وفد نے کمشنر کو بتایا کہ ضلع بھر میں جام فاونڈیشن کے تحت لوکل کمیٹی اور رضاکاروں کے تعاون سے تھیلیسیمیا کے مریضوں کو رضاکارانہ طور پر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم مریضوں کو مستقل اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے حب میں تھیلیسیمیا سینٹر کا قیام ضروری ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔اس موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے تھیلیسیمیا سینٹر کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم معاملے پر جام غلام قادر ہسپتال کی انتظامیہ سے بھی بات کریںنگی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان بچانا ایک عظیم عمل ہے، اور نبی کریم کی تعلیمات کے مطابق ایک جان بچانا گویا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ رضائے الٰہی کے اصولوں پر عمل ہی میں انسانیت کی بقائہے۔کمشنر سائرہ عطاءنے وفد کی نشاندہی پر ابراہیم گجر گوٹھ مڈل اسکول کی سولرائزیشن کے لیے متعلقہ حکام کو احکامات بھی جاری کیے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مقامی محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور حب شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے موثر میکانزم تشکیل دیا جائے گا، تاکہ ٹریفک حادثات کی صورت میں متاثرین کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسز کو ٹریفک کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ملاقات میں وفد کے ارکان سیف اللہ شیخ، وڈیرہ زبیر گجر، ارشاد پارس مگسی ایڈوکیٹ اشرف سیاں، مصطفیٰ شیخ سمیت دیگر عمائدین بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7265/2026
قلات2ستمبر۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زیر صدارت 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی سمیت تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات کی تیاریوں، انتظامات اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر انجینر عائشہ زہری نے کہا کہ یومِ دفاعِ پاکستان ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، جسے قومی
جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس موقع پر ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں پرچم کشائی، ریلی اور دیگر قومی و ملی پروگرام شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بھی یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے پروقار تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں حمد و نعت، ملی نغمے، ٹیبلوز اور اردو و انگریزی تقاریر کے ذریعے وطنِ عزیز سے محبت، قومی یکجہتی اور دفاعِ وطن کے جذبے کو اجاگر کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ یومِ دفاعِ پاکستان کی تقریبات کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور تقریبات کو شایانِ شان انداز میں منعقد کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7266/2026
لورالائی:2ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل میختر اسرار احمد مندوخیل نے ضلعی انتظامیہ لورالائی کی ہدایات پر رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) میختر کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی و دیگر عملے کی حاضری، ادویات کے اسٹاک اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے طبی عملے کی موجودگی اور فرائض کی انجام دہی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ادویات کے اسٹاک، ضروری ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو بروقت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے انتظامات بھی چیک کیے اس موقع پر اسرار احمد مندوخیل نے متعلقہ حکام اور طبی عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری صحت مراکز میں آنے والے مریضوں کو دستیاب وسائل کے مطابق بہترین طبی سہولیات اور ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائےانہوں نے عملے کی حاضری کو یقینی بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر عملہ اپنی ڈیوٹی کے اوقات کی پابندی کرے اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دےاسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ صحت عامہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور دور دراز علاقوں میں قائم صحت مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی لاپروائی کی نشاندہی ہونے پر متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آر ایچ سی میختر سمیت تحصیل بھر کے سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ کے معائنے اور نگرانی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔ضلعی انتظامیہ لورالائی عوام کو بہتر، بروقت اور معیاری بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7267/2026
دکی: 2ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت پرائس کنٹرول، مقررہ نرخ ناموں اور فیلڈ وزٹ رپورٹس سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی اور نائب تحصیلداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی، سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد، گرانفروشی کی روک تھام اور فیلڈ میں جاری چیکنگ و معائنہ جات کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیاد پر بازاروں کی نگرانی، پرائس لسٹ پر عملدرآمد اور فیلڈ وزٹ رپورٹس کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ گرانفروشی اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7268/2026
دکی 2 ستمبر۔اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم خان حریفال کی زیرِ صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع دکی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، مارکیٹ ریٹس کے تعین، ناجائز منافع خوری اور عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی ڈاکٹر عبدالسلام شاہوانی، نائب تحصیلدار اکرام اللہ خان ترین، نائب تحصیلدار بلال احمد، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سمندر خان ناصر، بلوچستان فوڈ اتھارٹی آفیسر بخت محمد ناصر، ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر کمال خان، انجمن تاجران کے جنرل سیکرٹری مولوی نصراللہ لونی اور دیگر متعلقہ افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کے نرخوں کے تعین، سبزی منڈی سے حاصل ہونے والے نرخوں کی تصدیق، ٹرانسپورٹیشن اخراجات اور مناسب منافع کو مدِنظر رکھتے ہوئے دکی بازار کے لیے نرخ مقرر کرنے، جبکہ پٹرول و ڈیزل کے نرخوں کے تعین اور عوام کو زائد قیمتوں پر اشیاءکی فروخت کی روک تھام کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم خان حریفال نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مقررہ اور مناسب نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 7269/2026
سنجاوی 2 ستمبر:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور محکمہ لائیو اسٹاک کی ہدایات کے مطابق ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی میں جانوروں کو لمپی سکن ڈیزیز (Lumpy Skin Disease) سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے ویکسینیشن مہم جاری ہے۔ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر نوید کی سربراہی میں محکمہ لائیو اسٹاک کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں مویشی پال حضرات کے جانوروں کو حفاظتی ویکسین لگا رہی ہیں۔ اب تک 300 گائے اور دیگر مویشیوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے، جبکہ مہم کو مزید علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔لمپی سکن ڈیزیز مویشیوں میں پائی جانے والی ایک متعدی بیماری ہے جو عموماً مچھروں، مکھیوں اور دیگر خون چوسنے والے کیڑوں کے ذریعے ایک جانور سے دوسرے جانور تک منتقل ہو سکتی ہے۔
خبر نامہ نمبر 7270/2026
خضدار2ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیرِ صدارت 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کی تقریبات کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر میٹنگ ہال خضدار میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ لوکل گورنمنٹ کے چیف افیسر عبید اللہ بلوچ ایجوکیشن افیسر خضدار نیاز اللہ سمالانی ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک افیسر ڈاکٹر محمد انور زہری ڈسٹرکٹ سپورٹ افیسر میڈم رقیہ عبید ڈپٹی کمشنر خضدار کے ایڈمن افیسر محمد مراد گزوزء اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں یوم دفاع پاکستان کی تقریبات کو شایانِ شان، منظم اور قومی جذبے کے ساتھ منانے کے لیے مختلف انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں قومی ترانے، ملی نغموں، تقاریر، طلبہ کے پروگرامز ریلی اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے حوالے سے امور زیرِ غور آئے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کی تقریبات کے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور اس قومی دن کو بھرپور جوش و جذبے، نظم و ضبط اور وقار کے ساتھ منانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یومِ دفاع پاکستان کی قدر، قومی یکجہتی، اتحاد اور ملکی دفاع کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تمام ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو یقینی بناتے ہوئے تقریبات کو کامیاب بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔اجلاس میں امن و امان، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، و دیگر ضروری سہولیات سمیت یوم دفاع پاکستان کے دن کی مناسبت کہ حوالے سے تقریبات کو کامیاب بنانے کے لیے دیگر انتظامی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 7271/2026
خضدار2ستمبر: کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت (BSDI) اور (PSDP)کمیٹی 2026 اور 2025 کے فیز 1 فیز 2 کے ترقیاتی منصوبوں صحت ایجوکیشن اور دیگر محکموں کی ماہانہ کارکردگی کے حوالے سے کمشنر کانفرنس روم میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ ڈائریکٹر ڈیولپمنٹ خضدار ڈویژن ڈاکٹر لطف الرحمن اے ڈی ایل جی سوراب سعید احمد ساسولی میونسپل کمیٹی سوراب کے چیف افیسر عبدالخالق شاہوانی ڈسٹرکٹ کونسل سوراب کے چیف افیسر سعید احمد ریکی ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک سٹاک افیسر ڈاکٹر محمد یاسین ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو بلڈنگ مقصود احمد اور سوراب ڈسٹرکٹ کے متعلقہ محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں بالخصوص (BSDI) فیز 1 اور فیز2 کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے تفصیلی بریفنگ دی۔ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی،صحت ایجوکیشن سی این ڈبلیو لوکل گورنمنٹ لائیو اسٹاک ایگریکلچر اور دیگر محکموں کی منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے اور منصوبوں کو شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیا جائے۔ کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایسے منصوبوں کی بھی نشاندہی کی جائے جن کی تکمیل سے عوام کو فوری اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 7272/2026
تربت2 ستمبر:۔جامعہ تربت کی فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس کے طلبہ نے گرمیوں کی تعطیلات 2026 کے دوران پاکستان کے ممتاز سرکاری و نجی اداروں میں چھ ہفتوں پر مشتمل انٹرنشپ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیا۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے طلبہ کو عملی تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جامعہ تربت اور صنعتی و کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ طلبہ کو عملی تجربے اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کر کے ایک کامیاب کیریئر کے لیے تیار کیا جا سکے۔انٹرنشپ پروگرام کی کامیاب تکمیل پر طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر شعبہ منیجمنٹ سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر غلام جان، شعبہ کامرس کے چیئرمین ڈاکٹر مشتاق محمد، شعبہ اکنامکس کے چیئرمین ڈاکٹر محمد یعقوب، لیکچرار امیر بخش، فوکل پرسن عطیہ اسلم اور دیگر اساتذہ نے خطاب کیا۔مقررین نے بتایا کہ طلبہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ڈارسن سیکیورٹیز، گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی، چمن ڈرائی فروٹس، امانا رئیلٹی گروپ، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور سمیڈا سمیت ملک کے مختلف تجارتی بینکوں اور معروف اداروں میں عملی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس انٹرنشپ پروگرام کے ذریعے طلبہ کو پیشہ ورانہ ماحول میں اپنی مہارتوں کو نکھارنے کا بھرپور موقع ملا۔تقریب کے اختتام پر فیکلٹی ممبران نے ملک بھر کے سرکاری اور نجی اداروں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ بھی جامعہ تربت کے طلبہ کو عملی تربیت اور انٹرنشپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے آگے آئیں۔
خبر نامہ نمبر 7273/2026
جعفرآباد2ستمبر:۔ڈیرہ اللہ یار کے سپوت اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے جوان غلام رسول کٹبار نے وطن عزیز کی حفاظت کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرلیا۔شہید غلام رسول کٹبار کی نمازِ جنازہ جعفرآباد میں پورے اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی، جہاں ایف سی کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی۔ نمازِ جنازہ میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی، کمانڈنٹ عثمان اسلم ایف سی کے کرنل رضوان طیب، ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان سمیت ضلعی انتظامیہ کے افسران، سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، معتبرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہید غلام رسول کٹبار کی بہادری، فرض شناسی اور وطن سے والہانہ محبت کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کمانڈنٹ عثمان اسلم ایف سی کے کرنل رضوان طیب ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان نے کہا کہ ملک کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں، ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ غلام رسول کٹبار نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جس جرا?ت اور بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ فخر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نمازِ جنازہ کے بعد شہید کو فوجی اعزاز کے ساتھ سلامی پیش کی گئی جبکہ ماحول سوگوار اور جذباتی رہا۔ اس موقع پر شہید کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔ سیاسی و سماجی شخصیات اور قبائلی عمائدین نے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم غم کی اس گھڑی میں شہید خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ شہید غلام رسول کٹبار کی قربانی ملک و قوم کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہے اور ان کی بہادری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 7274/2026
کوئٹہ2 ستمبر۔انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز کا جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، تمام متعلقہ ڈی ڈی اوز، علماء کرام، مدارس اور پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں جاری پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ اسکولوں اور مدارس میں بچوں کی پولیو ویکسینیشن کوریج کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ جن اسکولوں اور مدارس میں پولیو ٹیمیں تاحال کوریج نہیں کر سکیں، وہاں فوری طور پر خصوصی ٹیمیں اور کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جن کی نگرانی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہر اسکول اور مدرسے میں 100 فیصد کوریج لازمی ہے۔ کسی بھی اسکول یا مدرسے کی جانب سے پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون نہ کرنے یا بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کی صورت میں متعلقہ ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فیلڈ میں مؤثر نگرانی اور باہمی رابطے کو یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر RECAST 7232/2026
کوئٹہ2ستمبر:۔پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے تحت اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے منصوبے میں پیش رفت جاری ہے، پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PPMU) نے کوئٹہ اور پشین کے 10 پی ٹی ایس ایم سیز (PTSMCs) کو دوسری، تیسری اور چوتھی قسط کی مد میں مجموعی طور پر 12.58 ملین روپے کے چیکس جاری کر دیے۔چیکس کی تقسیم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کی صدارت سیکریٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر نے کی۔ تقریب کے دوران کوئٹہ اور پشین کے مختلف اسکولوں میں جاری اضافی کمروں کی تعمیر کے کام کا اسکول واز جائزہ لیا گیا، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر نجیب اللہ ترین نے پروجیکٹ سے متعلق پیش رفت، تعمیراتی معیار اور قسط وار فنڈز کے اجراء کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ 10 اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 35.28 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ تعمیراتی کام کی پیش رفت کے مطابق اب تک دوسری، تیسری اور چوتھی قسط کی مد میں 12.58 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔نجیب اللہ ترین نے تقریب کے شرکاء کوبتایا کہ منصوبے کے تحت فنڈز مرحلہ وار جاری کیے جاتے ہیں۔ ہر قسط تعمیراتی کام کی مقررہ تکمیل، سماجی اور تکنیکی معیار کے مطابق جانچ اور کوالٹی کنٹرول کے بعد جاری کی جاتی ہے۔ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے تکنیکی عملے اور عملدرآمدی شراکت داروں SMIP اور IEQA کی جانب سے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے اور مقررہ معیار پر پورا اترنے کی تصدیق کے بعد ہی اگلی قسط جاری کی جاتی ہے۔سیکریٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر نے منصوبے کو سراہتے ہوئے پی ٹی ایس ایم سیز کے ذریعے اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی کارکردگی اور منصوبے میں شفافیت کو بھی سراہا اور خصوصاً پراجیکٹ ڈائریکٹر نجیب اللہ ترین اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔اس موقع پر پی ٹی ایس ایم سیز کے چیئرپرسنز اور ہیڈ ٹیچرز نے بھی منصوبے کے حوالے سے اپنے تجربات اور آراء کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے متعلقہ اسکولوں سے متعلق مسائل اور ضروریات سیکریٹری محکمہ تعلیم کے سامنے پیش کیں، جنہیں سنا گیا اور ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب کے بعد سیکریٹری محکمہ تعلیم نے پراجیکٹ ڈائریکٹر نجیب اللہ ترین کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس بھی کیا، جس میں منصوبے کی مجموعی پیش رفت، تعمیراتی کام کے معیار، شفافیت اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔دورے کے اختتام پر پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے سیکریٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جبکہ ریجنل کوآرڈینیٹرز اور انجینئرز کے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنائی گئی۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبے کے تحت اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کا عمل شفافیت، معیار اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری رکھا جائے گا تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔







