1st-September-2026

خبرنامہ نمبر7181/2026
کوئٹہ، یکم ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں بگٹی قبیلے کے عمائدین اور سرکردہ شخصیات نے ملاقات کی بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و فوکل پرسن ٹو چیف منسٹر سید اقبال شاہ کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزراء میر صادق عمرانی، بخت محمد کاکڑ اور حاجی علی مدد جتک بھی موجود تھے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، صوبے کی مجموعی صورتحال اور سیاسی و قبائلی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، جبکہ صوبے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7182/2026
کوئٹہ یکم ستمبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی حیثیت سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے موقف کی اہم قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ اس امر کی واضح توثیق ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا ”التوا“ میں نہیں رکھ سکتا، معاہدہ بدستور نافذ العمل اور بھارت کے لیے قانونی طور پر پابند ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے پیش کیے گئے مختلف جواز، جن میں خودمختاری، پاکستان کی جانب سے مبینہ خلاف ورزی، دہشت گردی، حالات میں تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات شامل تھے، کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا اس کا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ایک نئے معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانیوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے اور اس سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور عالمی قانون کی بالادستی کے اصول مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے حوالے سے بھی عدالت کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر عبوری اقدامات کی منظوری اہم پیش رفت ہے۔ بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے مخصوص حصوں پر مقررہ سطح سے زیادہ کنکریٹنگ سے روکا گیا ہے جبکہ منصوبے کے تعمیراتی شیڈول میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی، جو متوقع طور پر جولائی 2027 میں سامنے آئے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور مذاکراتی عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور آج کا فیصلہ اس اصول کی فتح ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر اپنی مرضی سے معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انصاف غالب آ گیا ہے اور عالمی ثالثی عدالت کا یہ متفقہ فیصلہ پاکستان کے قانونی موقف کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے آئندہ بھی ہر قانونی اور سفارتی فورم پر موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7183/2026
کوئٹہ: یکم ستمبر ۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دی ہیگ میں مستقل عدالتِ ثالثی کے متفقہ فیصلے کو پاکستان کے اصولی موقف اور عالمی قانون کی اہم فتح قرار دیا ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے اپنے بیان میں کہا کہ مستقل عدالتِ ثالثی کا متفقہ فیصلہ اس امر کی واضح توثیق ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر مو¿ثر نہیں کرسکتا اور معاہدہ بین الاقوامی قانون کے تحت بدستور نافذ العمل اور فریقین کے لیے پابند ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے آبی حقوق اور عالمی قوانین کی بالادستی کے اصول کو مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس کی قانونی حیثیت کو یکطرفہ اقدام سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ عدالتِ ثالثی کا فیصلہ قانون کی حکمرانی، بین الاقوامی معاہدوں کے احترام اور پاکستان کے جائز آبی حقوق کی واضح توثیق ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7184/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو پاکستان کی بہت بڑی قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت نے پاکستان کے اصولی موقف کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے میں کوئی بھی ترمیم یا تبدیلی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک پر یکساں طور پر لازم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے بھارتی ہٹ دھرمی کو عالمی سطح پر شدید قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان کا موقف مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ پاکستان اپنے دریاوں پر کسی بھی غیر قانونی تعمیر یا پانی کی چوری کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو اس تاریخی معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند بنائے۔ثالثی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے بتائی گئی کوئی بھی بنیاد معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا۔ بھارت کو مغربی دریاوں پر اپنے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔ عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کی درخواست پر بھارت پر عبوری اقدامات بھی عائد کر دیے۔ عدالت نے بھارت کو راتلے ڈیم کی دیوار اور پانی کے انٹیک ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر کرنے سے روک دیا اور حکم دیا کہ نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک بھارت راتلے ڈیم کی تعمیر پر کام بند رکھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی اور قانونی محاذ پر کامیابی اور عالمی قوانین کے مطابق سنجیدہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اقوام عالم اور خصوصاً خطے میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور اصولوں پر مبنی تعلقات رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7185/2026
کوئٹہ، یکم ستمبر۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کی جانب سے کوئٹہ کے 21 میل اور فی میل کالجز کی لائبریریوں کے لیے جدید اور معیاری کتابوں کی فراہمی کے سلسلے میں پروقار تقریب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ کینٹ میں پہلے مرحلے میں گرلز کالجز کے پرنسپلز میں کتابیں تقسیم کی گئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپس، بسوں اور لیپ ٹاپس کی فراہمی کے بعد اب کالجز کی لائبریریوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ کتابوں کی تقسیم اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔صوبائی وزیر راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ معیاری کتابیں طلبہ کے علمی، تحقیقی اور فکری معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور حکومت تعلیمی اداروں میں مطالعے کا رجحان فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔تقریب میں ڈائریکٹر کالجز پروفیسر حسین بلوچ، سبجیکٹ اسپیشلسٹ سعدیہ فاروقی، پرنسپل صباحت عظمت اور جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز سعیدہ نیاز سمیت کالجز کے پرنسپلز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر71866/2026
کوئٹہ یکم ستمبر ۔زیارت کراس پر پیش آنے والے واقعے کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر ہنگامی امدادی وسائل اور ریسکیو فورس تعینات کردی ہیں ۔وزیراعلیٰ بلوچستان جانب میر سرفراز بگٹی اور ریلیف کمشنر/ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی کی ہدایات پر ڈائریکٹر ریسکیو نوید احمد کی نگرانی میں پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس کو یکم ستمبر کی رات 2 بج کر 15 منٹ پر زیارت کراس روانہ کیا گیا۔پی ای او سی پی ڈی ایم اے کے مطابق مجاز حکام کی ہدایات پر 12 ایمبولینسز، 4 فائر ٹرکس، 2 واٹر باوزرز اور 24 ریسکیورز کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔تعینات ریسکیو وسائل کو کسی بھی ہنگامی صورتحال، آگ بجھانے، زخمیوں کی طبی امداد اور ریسکیو آپریشن کے لیے مکمل طور پر تیار رکھا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی ضرورت کی صورت میں فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔پی ای او سی پی ڈی ایم اے کی جانب سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری بھی جاری ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مزید امدادی وسائل فوری طور پر متحرک کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7187/2026
خضدار: یکم ستمبر۔سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی کی ہدایت پر جھالاوان میڈیکل کالج خضدار میں اسٹاف کی حاضری یقینی بنانے سمیت کالج میں تعلیمی اور انتظامی سہولیات کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیںپرنسپل ڈاکٹر ارشاد احمد زہری نے مختصر عرصے میں کالج کی بہتری اور بحالی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں کالج میں غیر حاضر اسٹاف کی حاضری یقینی بنانے کے ساتھ کالج کے نقشے کو تبدیل کردیا ہے ٹیچنگ اسپتال میں کالج کی جانب سے ڈاکٹرز کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ ٹیچنگ اسپتال میں گرلز ہاسٹل کے قریب لائبریری بھی قائم کی گئی ہے تاکہ طالبات کو مطالعے کے لیے بہتر ماحول میسر آسکے۔کالج میں ٹیچنگ فیکلٹی کی تعیناتی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ کے ساتھ معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ و طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت میں اضافہ کیا گیا ہے اور کالج کے مختلف حصوں میں فرنیچر اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے.کالج کے ہاسٹل کو سولر سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے جبکہ کلاس رومز میں ایئر کنڈیشنرز سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ کالج کی عمارت کی مرمت اور بحالی کے ساتھ رنگ و روغن بھی کیا گیا ہے جس سے کالج کی عمارت کی مجموعی حالت میں بہتری آئی ہے عمارت اور ہاسٹل میں بجلی اور وائی فائی کی سہولت فراہم کی گئی ہےڈاکٹر ارشاد احمد زہری خود کالج میں جاری ترقیاتی اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کرتے رہے ہیں اور کالج کے مسائل کے حل کے لیے ضلعی افسران سمیت اعلیٰ حکام سے مسلسل ملاقاتیں اور رابطے کرتے رہے ہیں.کالج کی انتظامی اور تعلیمی سہولیات میں ہونے والی ان تبدیلیوں کو علاقے میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختصر عرصے میں کالج کی عمارت، ہاسٹل اور تعلیمی ماحول میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7188/2026
گوادر یکم ستمبر۔صوبائی حکومت کی ترقی پسند، ماحول دوست اور پائیدار توانائی کی پالیسی کے تحت ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی ہدایت پر میرین ڈرائیو کو سولر اسٹریٹ لائٹس سے روشن کرنے کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے میرین ڈرائیو سولرائزیشن منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی سے شاہراہ کی رونقیں بحال ھوگی ہیں منصوبے کے تحت بوٹ بیسن سے سید ظہور شاہ ہاشمی چوک تک متاثرہ اسٹریٹ لائٹس کو بحال کرکے سولر سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے طویل لوڈشیڈنگ کے دوران بھی شاہراہ کی روشنی برقرار رہے گی اور بجلی کے اخراجات میں کمی کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا سولرائزیشن سے روایتی کیبلز پر انحصار اور کیبل چوری کی شکایات میں بھی کمی متوقع ہے۔ اسٹریٹ لائٹس کی بحالی سے میرین ڈرائیو کی خوبصورتی اور رات کے اوقات میں شہریوں کے لیے سہولت و تحفظ کا احساس دوبارہ نمایاں ہونے لگا ہے ادارہ ترقیات گوادر کے آئندہ منصوبوں میں شہر کی دیگر اہم شاہراہوں، بالخصوص سید ظہور شاہ ہاشمی روڈ، پر بھی سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب شامل ہے، جو گوادر کو جدید، روشن، ماحول دوست اور پائیدار شہر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7189/2026
گوادریکم ستمبر۔:ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی خصوصی ہدایت پر گوادر کے معروف سیاحتی اور تفریحی مقام میرین ڈرائیو کی لائٹنگ بحال کر دی گئی ہے گزشتہ کچھ عرصے سے مدھم پڑ جانے والی روشنیاں دوبارہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہی ہیں، جس سے نہ صرف میرین ڈرائیو کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ شہریوں اور سیاحوں کے لیے شام اور رات کے اوقات میں ایک دلکش اور پرکشش ماحول بھی میسر آ گیا ہے۔جب شام ڈھلے روشنیوں کی کرنیں نیلگوں سمندر کی لہروں پر بکھرتی ہیں تو یہ منظر گوادر کی قدرتی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ میرین ڈرائیو اب ایک بار پھر اپنی دلکشی، رعنائی اور پرسکون فضائکے ساتھ اہلِ گوادر اور آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہی ہےگوادر کی ترقی، خوبصورتی اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے جی ڈی اے کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7190/2026
قلات یکم ستمبر۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری سے براہوئی اکیڈمی کے وفدنے مرکزی ایگزیکٹوممبربخش انجم کی سربراہی میں ملاقات کی اورڈی سی انجینئرعائشہ زہری کو براہوئی اکیڈمی کی جانب سے شائع ہونے والے تاریخی کتابوں اور براہوئی کیلنڈر کا تحفہ پیش کیاڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے اس موقع پر کہا ہے کہ براہوئی زبان بلوچستان کی قدیم اور منفرد زبانوں میں سے ایک ہے، جس کی ترویج و ترقی ہماری ثقافتی اور ادبی ذمہ داری ہے۔ براہوئی اکیڈمی کی جانب سے زبان و ادب کے فروغ، تحقیق و ترویج اور علمی و ادبی کتابوں کی اشاعت کے لیے کی جانے والی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے کہا کہ براہوئی اکیڈمی نے براہوئی زبان و ادب کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں،بالخصوص براہوئی ادب سے متعلق کتابوں کی اشاعت، ادیبوں اور شعراء کی حوصلہ افزائی اور نئی نسل کو اپنی مادری زبان و ثقافت سے جوڑنے کی کوششیں قابلِ قدر ہیں انجینئر عائشہ زہری نے کہاکہ کتابیں کسی بھی زبان کے علمی و ادبی ورثےکومحفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔براہوئی زبان میں معیاری اور تحقیقی کتابوں کی زیادہ سے زیادہ اشاعت سے نہ صرف زبان و ادب کو فروغ ملے گا بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اپنےتاریخی،ثقافتی اور ادبی ورثے سے بہتر طور پر آگاہ ہوسکیں گی انہوں نےبراہوئی اکیڈمی کیکارکردگی کوسراہتےہوئے کہا کہ زبان و ادب کے فروغ کے لیےسرکاری اداروں، ادبی تنظیموں، دانشوروں، ادیبوں اور نوجوانوں کو مل کر اپنا کرداراداکرناہوگاضلعی انتظامیہ قلات براہوئی زبان و ادب کے فروغ اور مثبت ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کو قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہماری زبانیں ہماری شناخت اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہیں ان کا تحفظ اور فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7191/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔بلوچستان میں نوجوانوں کی پیشہ ورانہ اور عملی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بلوچستان یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومت بلوچستان کے مطابق پروگرام کے تحت صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں میں دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو دو مراحل میں تربیت فراہم کی جائے گی۔یہ پروگرام محکمہ امور نوجوانان، حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام شروع کیا گیا ہے جبکہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے نوجوانوں کے لیے کیے گئے اقدامات کے تحت پروگرام کی نگرانی مشیر وزیراعلی برائے امور نوجوانان مینا مجید بلوچ کر رہی ہیں۔حکومت کے مطابق پروگرام کے پہلے مرحلے میں پنجگور، لورالائی، کوئٹہ اور مسلم باغ کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کے لیے تربیتی سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے میں نوجوانوں کو امپلائبیلٹی اور سافٹ اسکلز سے متعلق تربیت دی جا رہی ہے جس میں کمیونیکیشن، انٹرپرسنل اسکلز، لیڈرشپ، انٹرپرینیورشپ، کیریئر کاونسلنگ، سی وی رائٹنگ اور موک انٹرویوز شامل ہیں۔تربیتی سرگرمیوں کے دوران گروپ ڈسکشنز، ٹیم ورک، کمیونیکیشن ایکسرسائزز اور عملی مشقوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔حکومتی حکام کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں میں خود اعتمادی، موثر ابلاغ، فیصلہ سازی اور قائدانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت پوسٹ گریجویٹ کالج سریاب روڈ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مسلم باغ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج خدابادان پنجگور اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڑوب سمیت مختلف تعلیمی اداروں میں تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں 238 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔تربیتی سیشنز میں شریک طلبہ و طالبات نے پروگرام کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کمیونیکیشن، لیڈرشپ اور کیریئر سے متعلق اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع ملا۔حکومت بلوچستان کے مطابق پروگرام کے دوسرے مرحلے میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز اور اسٹارٹ اپس کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ماہر اور تجربہ کار ٹرینرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کا مقصد صوبے کے نوجوانوں کو جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنا اور انہیں عملی زندگی، روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7192/2026
گوادر یکم ستمبر۔: صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی، میرٹ کے فروغ اور باصلاحیت و مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کے تحت یونیورسٹی آف گوادر میں بلوچستان ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ BEIF کے زیر اہتمام اسکالرشپ چیکس تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں میرٹ کی بنیاد پر منتخب 120 مستحق اور باصلاحیت طلبہ میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کیے گئے تقریب میں ڈاکٹر دولت خان، رجسٹرار یونیورسٹی آف گوادر، ڈاکٹر رحیم بخش مہر، کنٹرولر امتحانات، عبید علی، ڈائریکٹر فنانشل ایڈ، اور ماجد قادر، ڈپٹی رجسٹرار نے شرکت کی اور مشترکہ طور پر طلبہ میں بی ای ای ایف اسکالرشپس کے چیکس تقسیم کیے اس موقع پر یونیورسٹی حکام نے کہا کہ بی ای ای ایف کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ مالی معاونت طلبہ کے تعلیمی اخراجات میں معاون ثابت ہوگی اور انہیں مالی مشکلات کے بغیر اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے اور مکمل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ، میرٹ کی حوصلہ افزائی اور مستحق طلبہ کی مالی معاونت صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے اہم ترجیحات میں شامل ہیں تقریب میں ڈاکٹر دولت خان نے وائس چانسلر، یونیورسٹی آف گوادر کی جانب سے بی ای ای ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد حسین ماندائی اور ڈاکٹر میر وائس اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں معاونت فراہم کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے بی ای ای ایف کی جانب سے صوبے میں تعلیمی ترقی اور نوجوانوں کی معاونت کے لیے جاری کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل صوبے کے روشن، بااختیار اور خوشحال مستقبل پر سرمایہ کاری ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7193/2026
گوادر، یکم ستمبر ۔ : ممبر الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد جتوئی نے کہا ہے کہ گوادر میں قائم ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کمپلیکس بلوچستان میں الیکشن کمیشن کی جدید، خوبصورت اور دلکش عمارتوں میں سے ایک ہے، جس کے قیام سے شہریوں کو انتخابی خدمات اور متعلقہ سہولیات بہتر اور منظم ماحول میں میسر آئیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کمپلیکس گوادر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں الیکشن کمشنر بلوچستان علی اصغر سیال، ریجنل الیکشن کمشنر مکران بمقام تربت محمد بلوچ، انتظامی و پولیس افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور علاقائی عمائدین نے شرکت کی۔شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ اور بہتر عوامی سہولیات ناگزیر ہیں۔ الیکشن کمیشن بلوچستان مختلف اضلاع میں جدید کمپلیکسز کی تعمیر کے ذریعے انتخابی اداروں کی استعداد کار اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنا رہا ہے، تاکہ شہریوں کو انتخابی خدمات موثر، منظم اور عوام دوست انداز میں فراہم کی جا سکیں ان کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کمپلیکس گوادر اسی سلسلے کی کڑی ہے، جو انتخابی امور کی انجام دہی، ریکارڈ کے تحفظ اور شہریوں کو انتخابی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید اور موزوں ماحول فراہم کرے گا اس موقع پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے سب ڈویژنل آفیسر جنبد کاشانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمپلیکس ایک ایکڑ رقبے پر 235 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی 2023 کے تحت شروع ہوا اور 2026 میں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا گیاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7194/2026
تربت یکم ستمبر ۔ : کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر دفتری امور اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کا آغاز کردیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ مکران ڈاکٹر محب اللہ، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدئی، تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی، پھلان خان، مقبول ناصر، مبارک علی بلوچ، زاہد حسین، اکرم مقصود، ٹھیکیدار عصاء اور دیگر شخصیات نے کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کو کمشنر مکران کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے ملاقات کے لیے آنے والے وفود اور شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مکران ڈویژن میں عوامی مسائل کے حل، انتظامی امور میں مزید بہتری، سرکاری اداروں کی کارکردگی موثر بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت اور بہتر انتظامی نظام ان کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ موثر رابطہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7195/2026
کوئٹہ ، یکم ستمبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ نوکچہ، چاغی اور زیارت کراس، پشین میں سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائی قابل تحسین ہے، 21 دہشت گردوں کا خاتمہ امن دشمن عناصر کے خلاف ریاست کے مضبوط عزم کا ثبوت ہے دہشت گردوں نے قومی شاہراہوں پر مسافروں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے اور کسٹمز حکام کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کارروائی کے ذریعے ان کے عزائم ناکام بنا دیے اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ شہدائ قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت پانے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور کسٹمز حکام کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت بلوچستان اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7196/2026
کوئٹہ، یکم ستمبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چاغی کے علاقے نوکچہ اور پشین کے علاقے زیارت کراس میں سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کو سراہتے ہوئے 21 دہشت گردوں کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے قومی شاہراہوں پر عوام کی پرامن آمدورفت میں خلل ڈالنے اور کسٹمز حکام کو فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ عناصر بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ریاستی ادارے عوام کے جان و مال اور قومی شاہراہوں کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت پانے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور کسٹمز حکام کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورک کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں اور حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ علاقے میں جاری کلیئرنس آپریشن کو مزید موثر بنایا جائے اور قومی شاہراہوں سمیت شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7197/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر بچوں کی صحت کے تحفظ اور غیر محفوظ مصنوعات کی روک تھام کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے غیر رجسٹرڈ، غیر لیبل شدہ اور ناقابلِ سراغ انفینٹ فارمولا دودھ اورغیر قانونی ڈرائی ملک پاوڈر کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کردیا۔ کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 37 فوڈ بزنسز کی چیکنگ، 8 یونٹس سیل جبکہ 232 کلوگرام سے زائد دودھ پاوڈر اور 102 پیکٹس ضبط کیے گئے۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق سرکی روڈ، نیو اڈہ، میزان چوک اور نواں کلی میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ مشترکہ کارروائیاں کی گئیں۔ سرکی روڈ اور نیو اڈہ پر 20 یونٹس کی انسپیکشن کے دوران 2 دکانیں سیل کرکے 232 کلوگرام انفینٹ فارمولا(بچوں کا فارمولا دودھ) اور ڈرائی ملک پاوڈر قبضے میں لیا گیا جبکہ میزان چوک میں 8 یونٹس کی چیکنگ کے دوران غیر غیر رجسٹرڈ انفینٹ فارمولا کی فروخت اور قواعد کی خلاف ورزی پر 6 یونٹس سیل کیے گئے۔ اسی طرح نواں کلی میں 9 یونٹس کی چیکنگ کے دوران غیر مصدقہ اور ممنوعہ ڈرائی ملک کے 102 پیکٹس ضبط کیے گئے جبکہ 5 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری ہوئے۔ کارروائی کے دوران بغیر لیبل، مینوفیکچرنگ و ایکسپائری تاریخ اور ٹریس ایبلٹی کے دودھ پاوڈر کے ساتھ جعلی بیبی فارمولا لیبلز بھی تحویل میں لے لیے گئے۔ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی فخرالدین مری نے کہا ہے کہ بچوں کے لیے غیر قانونی اور غیر محفوظ انفینٹ فارمولا کی فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی، غیر رجسٹرڈ انفینٹ فارمولا اور ناقص ملک پاوڈر کے خلاف خصوصی مہم جاری رہے گی اور کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق خصوصی انفینٹ فارمولا مہم کے علاوہ کوئٹہ، خاران، حب، تربت، ڈیرہ مراد جمالی، دکی اور لورالائی میں بھی بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف مراکز کا معائنہ کیا۔ بیکنگ یونٹس، جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، نان شاپس، بیکریز، ہول سیلر ٹریڈرز اور جوس شاپس سمیت مختلف فوڈ بزنسز کی چیکنگ کے دوران 10 مراکز کو جرمانے اور 26 کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 10 یونٹس سیل کیے گئے۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے لیے صرف مستند، رجسٹرڈ اور مکمل لیبل شدہ انفینٹ فارمولا خریدیں اور مشکوک یا غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی اطلاع فوری طور پر بلوچستان فوڈ
اتھارٹی کو دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7198/2026
نصیرآبادیکم ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کا اہم اجلاس گزشتہ پولیو مہم کی کارکردگی اور آئندہ مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ صحت ضلعی انتظامیہ پولیس پی پی ایچ آئی عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کے دوران گزشتہ پولیو مہم کے دوران پیش آنے والے مسائل مشکلات اور مختلف علاقوں میں ٹیموں کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر پولیو ٹیموںکی کارکردگی بچوں کی کوریج رہ جانے والے بچوں انکاری والدین، مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی نقل و حرکت، سیکیورٹی انتظامات اور مہم کے دوران سامنے آنے والی دیگر رکاوٹوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئیاجلاس میں آئندہ پولیو مہم کو مزید موثر منظم اور کامیاب بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم سے قبل تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے اور مائیکرو پلانز کو زمینی حقائق کے مطابق مرتب کرتے ہوئے ہر یونین کونسل اور دور دراز علاقے میں پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں تک رسائی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے، تاہم موثر حفاظتی اقدامات اور ویکسین کے ذریعے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اوراپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ گزشتہ مہم کے دوران سامنے آنے والی خامیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، پولیو ٹیموں کی موثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور فیلڈ میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت نصیرآباد کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7199/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔ محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک اعلامیے کے مطابق محکمے کے نیٹورک ایڈمنسٹریٹر ( BPS-17) عبدالمالک کو مورخہ 07 مئی 2026 سے مستقل بنیادوں پر انفارمیشن سیکیورٹی اسپیشلسٹ ( BPS-18) کے عہدے پر ترقی دیدی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7200/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن نعمت اللہ ترین نے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے آنے والے امیدواروں کا عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے امیدواروں کی ڈرائیونگ صلاحیتوں، ٹریفک قوانین سے آگاہی اور مختلف ڈرائیونگ سکلز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈرائیونگ ٹیسٹ کے دوران امیدواروں سے گاڑی چلانے، موڑ کاٹنے، ریورس کرنے، پارکنگ، گاڑی پر کنٹرول، اشاروں کے درست استعمال، ٹریفک قوانین کی پابندی اور سڑک پر محفوظ ڈرائیونگ سمیت مختلف عملی مہارتوں کا امتحان لیا گیا۔ سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ہر امیدوار کی ڈرائیونگ صلاحیت کو مقررہ معیار کے مطابق جانچا۔اس موقع پر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نعمت اللہ ترین نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء صرف ان افراد کو کیا جانا چاہیے جو ڈرائیونگ کی مکمل مہارت رکھتے ہوں اور ٹریفک قوانین و ضوابط سے بخوبی واقف ہوں۔انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک اہم ذمہ داری ہے، اس لیے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں پر حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے امیدواروں کی صلاحیتوں کو عملی طور پر جانچا جائے۔ غیر ذمہ دارانہ اور غیر محتاط ڈرائیونگ نہ صرف خود ڈرائیور بلکہ دیگر شہریوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7201/2026
لورالائی:یکم ستمبر۔ یونیورسٹی آف لورالائی میں پروگریسو انگلش گرامر ہائی اسکول لورالائی کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے ایک معلوماتی اور تعلیمی مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔ اس دورے کا مقصد طلبہ کو کلاس روم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے علمی، تحقیقی اور جدید تدریسی ماحول سے روشناس کراناتھایونیورسٹی پہنچنے پر طلبہ اور اساتذہ کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر کے پی ایس او ڈاکٹر خالد خان نے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کروایا۔ طلبہ کو یونیورسٹی کے جدید آئی ٹی سینٹرز، لیبارٹریز اور دیگر تعلیمی و تحقیقی سہولیات سے آگاہ کیا گیاوفد کی قیادت پروگریسو انگلش گرامر ہائی اسکول کے ڈائریکٹر نواز خان کدزئی اور سینئر سائنس ٹیچر محمد اشرف نے کی دورے کے دوران طلبہ کو یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔ وائس چانسلر نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم کی اہمیت، محنت، نظم و ضبط اور اعلیٰ کردار سازی پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کو بڑے خواب دیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ہی ملک کا مستقبل ہے اور انہیں علم و ہنر سے آراستہ ہو کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگاوائس چانسلر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے ایسے مطالعاتی دورے طلبہ کی ذہنی استعداد میں اضافے اور ان کے مستقبل کے تعلیمی اہداف کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یونیورسٹی آف لورالائی کی انتظامیہ نے پروگریسو انگلش گرامر ہائی اسکول کے ڈائریکٹر نواز خان کدزئی کو طلبہ کے لیے اس مفید اور معلوماتی مطالعاتی دورے کا موقع فراہم کرنے پر سراہا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی نوجوان طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی ماحول سے روشناس کرانے اور انہیں مثبت تعلیمی تجربات فراہم کرنے کے لیے ایسے مطالعاتی و آگاہی دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7202/2026
جعفرآباد: یکم ستمبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس این آئی ڈی ستمبر 2026 کے تحت 21 سے 24 ستمبر تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، انتظامات اور حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ این اسٹاف ڈاکٹر عبدالغفار سولنگی نے پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ٹیموں، ٹارگٹ بچوں اور دیگر انتظامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے، اس لیے مہم کے دوران تمام متعلقہ محکمے اور پولیو ٹیمیں بھرپور محنت، ذمہ داری اور باہمی رابطے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں، کوئی بچہ پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے اور مہم کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے احکامات دیے کہ گزشتہ پولیو مہم میں جو کمی بیشی رہ گئی تھی اس کو اس پولیو مہم کے دوران ہرگز نہیں دہرایا جائے گا جب کہ مانیٹرنگ کے عمل کو بھی مزید تیز کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7203/2026
کوئٹہ یکم ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے زیارت کراس ڈسٹرکٹ پشین اور نوکچہ ضلع چاغی میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آپہنچا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف پوری قوم اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور کامیاب کارروائی نے بڑے جانی و مالی نقصان سے بچا لیا جس پر تمام سیکیورٹی فورسز خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔گورنر مندوخیل نے کہا کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان کو سبوتاڑ کرنے کے دہشت گردوں کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ گورنر جعفر خان مندوخیل نے عوام پر زور دیا کہ وہ دیرپا امن و امان کے قیام کیلئے حکومتی کوششوں میں بھرپور تعاون کریں اور دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7204/2026
کوئٹہ یکم ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے گورنر ہاوس کوئٹہ میں مختلف شخصیات اور وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران صوبے کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، اچھی طرز حکمرانی اور دورافتادہ علاقوں کی تعمیر و ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی کو یقینی بنانا ہی اچھی طرزِ حکمرانی کی اصل کامیابی ہے۔ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام بالخصوص غریب اور پسماندہ عوام تک پہنچانے کیلئے مزید ٹھوس و مو¿ثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات اور دیگر مسائل کے حوالے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت متوازن اور یکساں ترقی کے اصول پر یقین رکھتی ہے اور صوبے کے دورافتادہ و پسماندہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل، اداروں کی موثر کارکردگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اچھی حکمرانی کے بنیادی تقاضے ہیں۔ انہوں نے گورننس میں شفافیت، ذمہ داری اور جوابدہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی کے عمل میں عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور متعلقہ طبقات کی موثر شرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ حکومت اور عوام کے درمیان مضبوط رابطہ ہی پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کیلئے تمام متعلقہ اداروں، منتخب نمائندوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ گورنر بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح، متوازن ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کیلئے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا تاکہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر علاقے اور ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7205/2026
کوئٹہ، یکم ستمبر ۔زیارت کراس کے مقام پر دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کے بعد بلوچستان حکومت کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، میونسپل کارپوریشن کوئٹہ اور ریسکیو 1122 نے فوری اور بھرپور ریسکیو آپریشن کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر اسٹاف افسر ٹو چیف منسٹر سید امین نے ریسکیو آپریشن کے دوران مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان موثر ادارہ جاتی رابطہ کاری کو یقینی بنایا اور رات بھر موقع پر جاری امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ ریسکیو ٹیموں نے واقعے کے بعد فوری طور پر متحرک ہوتے ہوئے متاثرہ مقام پر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور زخمیوں و متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی اور محفوظ مقامات تک منتقلی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق متعلقہ اداروں نے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت ریسکیو آپریشن مکمل کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7206/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایات اور کوئٹہ شہر کو صاف، منظم، خوبصورت اور شہریوں کے لئے آسان نقل و حرکت کی فراہمی کے وڑن کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی جانب سے قائم کردہ مانیٹرنگ نظام کے تحت زرغون زون میں تجاوزات کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔زرغون زون انچارج نہال دین بگٹی کی سربراہی میں متعلقہ ٹیم نے شاہراہِ اقبال سے میزان چوک، پرنس روڈ، لیاقت بازار، فاطمہ جناح روڈ، مسجد روڈ سمیت شہر کے مختلف مرکزی بازاروں، تجارتی مراکز، ملحقہ مارکیٹوں اور گلیوں میں کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات اور آمدورفت میں رکاوٹ بننے والے سامان کو ہٹا دیا گیا،جس سے شہریوں کی پیدل آمدورفت اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔اس موقع پر متعدد ہوٹل مالکان، دکانداروں اور کاروباری افراد کو بھی واضح ہدایات اور وارننگ جاری کی گئی کہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر دوبارہ تجاوزات قائم کرنے سے گریز کیا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کی انسدادِ تجاوزات کارروائیوں کا مقصد کسی فرد یا کاروباری طبقے کو مشکلات سے دوچار کرنا نہیں بلکہ، ٹریفک کی روانی میں بہتری، شہری نظم و ضبط کو مزید بہتر اور کوئٹہ شہر کو ایک صاف، خوبصورت اور منظم شہری مرکز کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7207/2026
چمن یکم ستمبر۔ چمن میں بغیر لائسنس کھاد کی خرید و فروخت کے خلاف محکمہ زراعت کی کارروائیاں شروع حکومتِ بلوچستان کی جانب سے بغیر لائسنس کھاد کی خرید و فروخت پر عائد پابندی کے تحت محکمہ زراعت ضلع چمن نے خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔محکمہ زراعت چمن کی جانب سے کھاد کے ڈیلرز اور دکانداروں کی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ انہیں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قوانین اور ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔محکمہ زراعت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ بغیر لائسنس کھاد کی خرید و فروخت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ زراعت چمن نے تمام متعلقہ کاروباری افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے لائسنس حاصل کریں اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7208/2026
شیرانی یکم ستمبر ۔ میں منعقد ہونے والی SNIDs مہم کی تیاریوں کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس شیرانی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے کی، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سیف الدین بگٹی نے شریک صدارت کیاجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC) کی کور ٹیم، پارٹنر اداروں کے نمائندگان اور مختلف متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران آئندہ SNIDs مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو مہم کے انتظامی و عملی امور کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جبکہ یونین کونسل سطح پر تعینات عملے کی موثر تربیت، ٹیموں کی استعداد کار میں بہتری اور مہم کے دوران بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیااجلاس میں مہم کے دوران درپیش ممکنہ آپریشنل مسائل پر بھی غور کیا گیا اور ان کے بروقت حل کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور موثر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مزید برآں، ضلع کے تمام علاقوں میں بچوں تک رسائی اور زیادہ سے زیادہ کوریج یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیاڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ ذمہ داری اور بھرپور عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کی کامیابی کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی مستحق بچہ حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7209/2026
لورالائی:یکم ستمبر۔ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے ایس ایس پی کمپلیکس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ لورالائی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب اور موثر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں ملوث مختلف گروہوں کا سراغ لگا کر متعدد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ ان کے قبضے سے 27 مسروقہ موٹر سائیکلیں بھی برآمد کرلی گئی ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 37 لاکھ 79 ہزار روپے بنتی ہم ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے بتایا کہ لورالائی پولیس نے جدید اور موثر تفتیشی طریقہ کار، خفیہ اطلاعات، تکنیکی ذرائع، شہریوں کے تعاون اور مسلسل پولیس کارروائیوں کے ذریعے موٹر سائیکل چوری میں ملوث 4 سے 5 مختلف گروہوں کا سراغ لگایا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں مسروقہ موٹر سائیکلیں برآمد کرلیں انہوں نے بتایا کہ برآمد ہونے والی 27 موٹر سائیکلوں میں سے 23 موٹر سائیکلیں مختلف علاقوں سے چوری کی گئی تھیں، جبکہ 4 موٹر سائیکلیں اسلحہ کے زور پر شہریوں سے چھینی گئی تھیں۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہےایس ایس پی نے کہا کہ شہر میں بالخصوص سول ہسپتال، بینکوں، مارکیٹوں، اہم شاہراہوں، ہوٹلوں اور دیگر عوامی مقامات سے موٹر سائیکل چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا پولیس نے سختی سے نوٹس لیا۔ جرائم پیشہ عناصر بالخصوص ایسے شہریوں کو نشانہ بناتے تھے جو ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی صورت میں، بینکوں یا خریداری کے لیے بازاروں میں اپنی موٹر سائیکلیں کھڑی کرتے تھےانہوں نے کہا کہ پولیس نے ان وارداتوں کی روک تھام کے لیے خصوصی حکمت عملی مرتب کی اور مربوط انٹیلی جنس و تفتیشی اقدامات کے ذریعے موٹر سائیکل چوری اور چھیننے میں ملوث گروہوں تک رسائی حاصل کی۔ کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا گیا بلکہ شہریوں کی قیمتی املاک بھی برآمد کرکے ان کی واپسی کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہےڈاکٹر فہد احمد نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات کے مطابق مزیدتحقیقات جاری ہیں اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے یا شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایس ایس پی لورالائی نے شہریوں کو یقین دلایا کہ چوری، ڈکیتی، چھیننے اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور لورالائی پولیس جدید تفتیشی وسائل اور عوامی تعاون کے ذریعے جرائم کے مکمل سدباب کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتی رہے گی۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ جرائم کی روک تھام اور مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مشترکہ کوششوں سے لورالائی کو ایک پرامن اور جرائم سے پاک ضلع بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7210/2026
زیارت یکم ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ڈی پیک کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مستوئی، ڈسٹرکٹ پولیو افسر ڈاکٹر شہباز ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر شہباز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ڈسٹرکٹ زیارت میں انسداد پولیو مہم 21ستمبر کو شروع ہوگی اور 24ستمبر کو اختتام پذیر ہوگی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم ایک قومی مہم ہے اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں میڈیا اور سول سوسائٹی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولیو فری پاکستان ہمارا وڑن ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے رہ گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہوگی۔ والدین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پانچ سال تک کے بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور اپنے پھول جیسے بچوں کو معذوری سے بچائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7211/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔ یوتھ فورم فار کشمیر (YFK) کوئٹہ ریجنل کے زیر اہتمام سید علی شاہ گیلانی کی برسیِ شہادت کے موقع پر یوتھ انٹرایکٹو ڈائیلاگ 2026ئبعنوان ”ورثے سے قیادت تک“ کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوجوانوں، طلبہ، سماجی کارکنوں، وکلائ ، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔تقریب کا مقصد سید علی شاہ گیلانی کی جدوجہد اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو ورثے، قیادت، مقصدِ حیات، فکری شعور، خود اعتمادی اور معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالے سے بامقصد مکالمے کا موقع فراہم کرنا تھا۔تقریب سے یوتھ فورم فارکشمیرکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیر احمد،احمد وقاص کاشی، انویسٹی گیشن آفیسر وفاقی محتسب کوئٹہ، ایڈووکیٹ خدائے نور کاکڑ، بلوچستان ہائی کورٹ، شہزادی فوزیہ کاسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر الفاوز کلیکشن، ایڈووکیٹ فائزہ شکیل، سماجی کارکن، سعد خالد، نوجوان، اور عاصم سعید خان، صحافی، میزبان و سماجی کارکن نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور مستقبل ساز طبقہ ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی درست فکری رہنمائی، کردار سازی اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی میں اپنے نظریات، عزم اور جدوجہد کے ذریعے ثابت کیا کہ مضبوط ارادے اور مقصد سے وابستگی انسان کو مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رکھتے ہیں۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو ماضی کے تجربات اور قابلِ تقلید شخصیات کے ورثے سے سیکھتے ہوئے موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت، تعمیری اور معاشرتی فلاح کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت صرف کسی عہدے یا منصب کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے، دوسروں کے لیے مثال بننے، درست فیصلے کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کردار ادا کرنے کا نام ہے۔تقریب کے دوران ایک خصوصی مکالماتی نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی اور مقررین سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔ شرکاءنے نوجوانوں کے مسائل، تعلیم، فکری تربیت، خود اعتمادی، قیادت کے مواقع، سماجی ذمہ داری اور معاشرے میں نوجوانوں کے مثبت کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔شیر احمد نے نوجوانوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے علم اور ہنر کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ، تحقیق، برداشت، مکالمے اور ذمہ دارانہ رویے کو اپنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو محض تفریح کے بجائے علم، آگاہی، مثبت ابلاغ اور معاشرتی بہتری کے لیے استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان اگر اپنی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال کریں، اپنے مقصد کا تعین کریں اور مسلسل محنت و مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ معاشرے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس موقع پر شرکاء نے یوتھ فورم فار کشمیر کی جانب سے نوجوانوں کے لیے مکالماتی اور فکری سرگرمیوں کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نوجوانوں کو اپنی رائے کے اظہار، تجربات کے تبادلے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے براہِ راست سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمان مقررین اور تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس موقع پر نمایاں شرکاء اور نوجوانوں میں تعریفی اسناد اور شیلڈ بھی تقسیم کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر7212/2026
کوئٹہ یکم ستمبر:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے کے عوام کو بنیادی اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ ماؤں، بچیوں اور بچوں کی صحت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بہتری اور عوام کو ان کی دہلیز کے قریب طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے کوئٹہ میں اسینشل پیکج آف ہیلتھ سروسز بلوچستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے محکمہ صحت کی کارکردگی کو قابل اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کو دیے گئے تمام ٹاسک محنت، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اپنے تمام پارٹنرز کے ساتھ کیے گئے کمٹمنٹس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں 164 بنیادی مراکز صحت کو فعال بنایا گیا ہے، جس کا مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز کے قریب بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ صحت عامہ کی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا حکومت کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اور اس ضمن میں مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کے ایک دور دراز علاقے میں ڈاکٹر باری کی جانب سے ہسپتال کو فعال بنانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قابل تحسین مثال ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عزم اور محنت سے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ہسپتال میں پہلی مرتبہ ایک بچے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام بخت محمد رکھا گیا وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے ان کے مؤقف پر تنقید کی جاتی ہے، تاہم انہیں اس تنقید کی کوئی پرواہ نہیں۔ حکومت کا مقصد وقت ضائع کرنا نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ بلوچستان کا ہر بچہ بنیادی سہولیات کا حق رکھتا ہے اور حکومت اس حق کی فراہمی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مثبت اور پائیدار تبدیلی کے عمل میں محکمہ صحت کو ہمیشہ فرنٹ لائن پر پایا جائے گا۔ حکومت صوبے کے عوام کو بہتر، معیاری اور قابل رسائی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موجودہ اقدامات کو مزید وسعت دے گی تاکہ صحت کے شعبے میں دیرپا بہتری لائی جا سکے اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بھی خطاب کیا اور صحت کے شعبے میں حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری اقدامات اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر روشنی ڈالی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ شخصیات بھی موجود تھیں۔
خبر نامہ نمبر7213/2026
کوئٹہ یکم ستمبر:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، انتظامی امور، عوامی سہولیات، پرائس کنٹرول، میونسپل سروسز میں بہتری اور مختلف حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے دوران مکمل شدہ ترقیاتی اسکیموں کی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن سے متعلق پیش رفت رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، جبکہ (BSDI) کے تحت تیسرے مرحلے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈرنگ عمل شروع ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ آفیسران ترقیاتی منصوبوں کے معیار، رفتار اور عوامی افادیت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے نگرانی کرے اور مکمل شدہ اسکیموں کے نتائج کا مؤثر جائزہ لیا جائے۔ اجلاس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 11 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوا چکے ہیں۔ کانفرنس میں غیر قانونی ناکوں کے خاتمے کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ چیف سیکرٹری نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ غیر قانونی چیک پوسٹوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور نقل و حمل میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ ہونے دی جائیں۔ اجلاس میں کھلی کچہریوں کے ماہانہ پراگریس رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ کھلی کچہریاں عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کا مؤثر ذریعہ ہیں، اس لیے ان کا انعقاد باقاعدگی سے کیا جائے اور موصول ہونے والی شکایات کے حل کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر کوآرڈی نیشن کے بغیر عوامی فلاحی منصوبوں اور سرکاری پالیسیوں پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ کانفرنس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ، صوبے میں ضروری اشیاء کے نرخ نامے اور اضلاع میں قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت کی جائیں اور ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ بازاروں کے باقاعدہ دورے کیے جائیں، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو فعال بنایا جائے اور عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ صوبائی محصولات میں اضافے کے لیے دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور ریونیو وصولی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ ان رہائش گاہوں کی تعمیر بروقت مکمل کی جائے اور معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ دور دراز علاقوں میں تعینات سرکاری آفیسران اور اہلکاروں کو مناسب رہائشی سہولیات میسر آ سکیں۔ چیف سیکرٹری نے انتظامی خلا کو پر کرنے اور عوام کو مقامی سطح پر فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامی عہدوں پر آفیسران کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل سروسز میں بہتری اور صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے شہری اداروں کو فوری اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو بروقت اٹھانے اور ٹھکانے لگانا، سیوریج اور نکاسی? آب کی بہتری، عملے کی جوابدہی، اور عوامی آگاہی کے ذریعے شہر کو صاف ستھرا اور صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، قیمتوں کے کنٹرول، صفائی کے بہتر نظام اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا بنیادی معیار عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے مسائل کا بروقت حل ہے۔
خبر نامہ نمبر7214/2026
کوئٹہ یکم ستمبر:۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی ظہور احمد بلیدی نے چاغی کے علاقے نوکچہ اور پشین کے زیارت کراس میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی عمل، معاشی سرگرمیوں اور معمولاتِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے محفوظ ماحول بنیادی ضرورت ہے۔ امن کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف بروقت اقدامات نہ صرف عوام کے تحفظ بلکہ بلوچستان کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ظہور احمد بلیدی کا کہنا تھا کہ چند عناصر تشدد اور خوف کے ذریعے صوبے کے عوام کو یرغمال بنانے کی سوچ رکھتے ہیں، تاہم بلوچستان کے باشعور شہری ایسی کارروائیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ عوام نے ہمیشہ امن اور استحکام کو ترجیح دی ہے اور حکومت بھی اسی سمت میں اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہی ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ ریاستی ادارے عوام کے تحفظ کے معاملے میں پوری طرح متحرک ہیں۔ قانون شکنی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہیں اور مواصلاتی راستے صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ محفوظ شاہراہیں تجارت، آمدورفت اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ظہور احمد بلیدی نے سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے امن کے لیے خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کو بدامنی سے نکال کر ترقی، سرمایہ کاری اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی، جبکہ عوام اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون سے امن کے قیام کی منزل مزید قریب لائی جا سکتی ہے۔
خبر نامہ نمبر7215/2026
قلات یکم ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت آئندہ ضلعی پولیو مہم سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر (DPO) ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر مجتبیٰ باجوئی، محکمہ صحت کے ذمہ دار افسران، ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان اور دیگر تمام محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کی تیاریوں، انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، مانیٹرنگ اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر مجتبیٰ باجوئی نے آئندہ پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو مہم 21 ستمبر 2026 سے 24 ستمبر 2026 تک چار روز جاری رہے گی۔ مہم کے دوران ضلع قلات کی دو تحصیلوں کی 19 یونین کونسلز میں 40,269 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ایک موذی اور خطرناک مرض ہے، جس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے۔ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے بچوں کا صحت مند ہونا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیو سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں عوام میں شعور و آگاہی اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ علاقے کے خطباء، علمائے کرام، صحافی برادری، شعراء اور ادباء عوام میں پولیو سے بچاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دیں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت اور لاپروائی ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

خبر نامہ نمبر7216/2026
قلات یکم ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے دستکاری سینٹر سمال انڈسٹریز خیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سینٹر میں اسٹاف کی حاضری، ٹیکنیکل و نان ٹیکنیکل اسٹاف کی تعداد، تربیت حاصل کرنے والی طالبات کی تعداد، ویونگ سیکشن، اسٹاف روم اور دیگر شعبوں کا بغور جائزہ لیا۔دستکاری سینٹر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر حاجی صالح محمد اور اسسٹنٹ مینیجر عبدالفتاح نے ڈپٹی کمشنر کو سینٹر کا تفصیلی دورہ کرایا اور انہیں کشیدہ کاری، ٹیلرنگ اور کارپٹنگ کے کورسز سمیت سینٹر میں جاری فنی تربیتی پروگرامز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تربیت حاصل کرنے والی طالبات سے ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کیے۔ ٹرینیز نے ڈپٹی کمشنر کو جاری کورسز، تربیتی سہولیات اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ طالبات نے گزشتہ دو سال سے وظائف کی بندش کے مسئلے سے بھی ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا۔طالبات نے ڈپٹی کمشنر کو سینٹر میں تیار کردہ روایتی چادر بھی پہنائی۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینیئر عائشہ زہری نے دستکاری سینٹر سمال انڈسٹریز کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم اور فعال حصہ ہیں، ان کی فلاح و بہبود، تعلیم، فنی تربیت، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو فنی تربیت اور ہنر کے مواقع فراہم کرکے انہیں باعزت روزگار کے حصول اور اپنے خاندان کی معاشی بہتری میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ دستکاری سینٹر جیسے ادارے خواتین کو روایتی ہنر سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تیار کردہ مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انجینیئر عائشہ زہری نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ خواتین کے لیے دستیاب سہولیات میں بہتری، فنی تربیت کے فروغ اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے لیے باعزت مواقع پیدا کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مزید مؤثر اقدامات کیے جائینگے۔
خبر نامہ نمبر7217/2026
لورالائی یکم ستمبر: صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردار فیصل خان جمالی، سیکرٹری لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ صالح محمد بلوچ، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک ڈاکٹر فاروق ترین اور ڈویژنل ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر شیخ طاہر مندوخیل کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع لورالائی میں مویشی پال افراد کو ان کی دہلیز پر ویٹرنری سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک ویٹرنری موبائل ایڈ کیمپ کا انعقاد کیا گیاکیمپ کا انعقاد ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) علی نواز جمالی اور اسسٹنٹ کمشنر مکھتر اسرار مندوخیل کے تعاون اور باہمی رابطے سے مکھتر مرغہ کبزئی پختہ روڈ پر واقع سیہاب ندی (گھارہ) کے علاقے میں کیا گیا، جو مکھتر سے تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ضلعی لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر محمد رحیم نیازی کی نگرانی میں ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر سرفراز خان اور محکمہ لائیو اسٹاک کے عملے، جن میں دولت خان، ظفر اقبال اور عبدالجبار شامل تھے، نے کیمپ میں بھرپور شرکت کی اور علاقے کے مویشی پال افراد کے جانوروں کا معائنہ کیاویٹرنری موبائل ایڈ کیمپ کے دوران علاقے کے مویشی پال حضرات کے بھیڑ، بکریوں اور مویشیوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ اور علاج کے لیے ضروری ادویات اور حفاظتی ویکسین مفت فراہم کی گئیں۔ ویٹرنری ماہرین نے جانوروں کا طبی معائنہ بھی کیا اور مویشی پال افراد کو جانوروں کی صحت، موسمی بیماریوں سے بچاؤ، بروقت ویکسینیشن اور بہتر نگہداشت کے حوالے سے مفید آگاہی فراہم کی اس موقع پر محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں مویشی پال افراد کو بنیادی ویٹرنری سہولیات کی فراہمی محکمہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مویشیوں کی صحت کا تحفظ نہ صرف لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی بلکہ دیہی معیشت کے استحکام کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ ایسے موبائل ویٹرنری کیمپس کے انعقاد کا مقصد دور افتادہ علاقوں تک محکمہ لائیو اسٹاک کی خدمات پہنچانا، جانوروں کو مختلف وبائی اور موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور مویشی پال حضرات کو جدید طریقہ? نگہداشت سے آگاہ کرنا ہے علاقے کے مویشی پال افراد نے محکمہ لائیو اسٹاک اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقے میں ویٹرنری موبائل ایڈ کیمپ کے انعقاد سے انہیں بروقت علاج، ادویات اور ویکسینیشن کی سہولت میسر آئی، جس سے ان کے جانوروں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ضلع کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ایسے ویٹرنری موبائل ایڈ کیمپس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مویشی پال افراد مستفید ہو سکیں اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا سکے۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کا مختصر پریس ریلیز ورژن، سوشل میڈیا کیپشن یا سرکاری انداز کا پوسٹر متن بھی تیار کر سکتا ہوں۔
خبر نامہ نمبر7218/2026
کوئٹہ یکم ستمبر:۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب اور اسپیشل مجسٹریٹ (سریاب) مصور احمد اچکزی، اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے فوڈ اتھارٹی اور پولیس کے ہمراہ سرکی روڈ اڈہ پر غیر برانڈڈ بچوں کے فارمولا دودھ کی فروخت کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران 15 ہول سیل دکانوں کا معائنہ کیا گیا، جبکہ 2 افراد کو گرفتار، 4 دکانیں سیل اور غیر قانونی پاؤڈر دودھ ضبط کیا گیا۔ ضبط شدہ دودھ کا حتمی وزن محکمہ خوراک کی جانب سے تصدیق کے بعد جاری کیا جائے گا۔انتظامیہ نے دکانداروں کو فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد اور غیر برانڈڈ مصنوعات کی فروخت سے گریز کی ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر7219/2026
چمن یکم ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ضلع چمن میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم (FIPV-OPV) کے دوسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے شام کا ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اویس، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید اچکزئی، این اسٹاف آفیسر اسد صافی، محکمہ صحت کے ٹیکنیکل فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو پروگرام ڈاکٹر نجیب، ٹی وی آئی ضلع چمن کے سربراہ محمد علی اچکزئی، پولیو آفیسر ڈاکٹر نادر اچکزئی، ضلعی کمیونیکیشن آفیسر اشرف اچکزئی، ڈاکٹر امین سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیو ٹیموں کی مجموعی کارکردگی، کوریج، بچوں تک رسائی، فنگر مارکنگ، ہاؤس مارکنگ، سیکیورٹی صورتحال، فیلڈ میں درپیش چیلنجز، مس شدہ بچوں کی وجوہات اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو مہم کی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے دوران اسکولوں و مدارسِ میں داخل 5 سے 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی خصوصی FIPV ویکسین اور پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا عمل جاری ہے تاکہ بچوں کو پولیو کے موذی مرض سے مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے اور FIPV ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیموں کی مسلسل نگرانی، مؤثر مائیکرو پلاننگ، اسکولوں اور دیگر مقررہ مقامات پر بچوں کی مکمل کوریج، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مربوط رابطے اور والدین کے بھرپور تعاون کے ذریعے مہم کو کامیاب بنایا جائے۔اجلاس میں آئندہ دنوں کی حکمتِ عملی، مشکل علاقوں تک مؤثر رسائی، مس شدہ بچوں کی فوری کوریج، اسکولوں میں 5 سے 10 سال تک کے بچوں کی ویکسینیشن، ٹیموں کی نگرانی مزید مؤثر بنانے اور سیکیورٹی انتظامات کو مضبوط رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر7220/2026
کوئٹہ یکم ستمبر:مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں، جن میں نوکچہ، چاغی، زیارت کراس اور پشین شامل ہیں، میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے کامیاب آپریشنز کے دوران فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 21 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری، جرأت اور بروقت کارروائی کے ذریعے دہشتگرد عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف ریاستی ادارے پوری قوت، عزم اور قومی جذبے کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد پاکستان کے امن، استحکام، ترقی اور قومی سلامتی کے دشمن ہیں، جو معصوم شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنا کر ملک میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر کسی صورت اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان نے دہشتگرد حملے کے نتیجے میں کسٹمز کے دو افسران اور ایک اہلکار سمیت 6 بہادر جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے دفاع، امن و سلامتی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے شہداء قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں اور نہ ہی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر جوانوں کی عظیم قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔مینا مجید بلوچ نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم غم کی اس گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ پوری قوم ان خاندانوں کے دکھ اور قربانی کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ شہداء کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی قربانی دے کر ملک و قوم کے لیے جو عظیم مثال قائم کی ہے، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ پاکستان کے عوام، ریاستی ادارے اور سیکیورٹی فورسز امن و استحکام کے لیے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور ریاستی رٹ کے استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت امن و امان تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن پسند ہیں اور صوبے میں پائیدار امن، ترقی، خوشحالی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے امن و امان کا قیام ناگزیر ہے۔ دہشتگرد عناصر بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقی اور خوشحالی سے دور کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر جوانوں کی پشت پر کھڑی ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور امن کے خلاف کسی بھی سازش کا بھرپور اور متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے گا۔مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں ایک پرامن، محفوظ اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں اور قوم اپنے شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

خبر نامہ نمبر7221/2026
استا محمدیکم ستمبر۔ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں آئندہ پولیو مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ قومی انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے جاری تیاریوں انتظامات اور مختلف محکموں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی ڈاکٹر خلیل مستوئی، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈی پی او این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر ناصر کاکڑ سمیت محکمہ صحت ضلعی انتظامیہ پولیس اور دیگر متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کے دوران گزشتہ پولیو مہم کے نتائج درپیش مسائل، ٹیموں کی کارکردگی بچوں کی کوریج رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور فیلڈ میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ آئندہ مہم کے دوران مزید مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اجلاس کو آئندہ قومی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے مائیکرو پلانز، پولیو ٹیموں کی تشکیل، تربیت فیلڈ مانیٹرنگ سیکیورٹی انتظامات ٹرانسپورٹ حساس علاقوں کی نشاندہی ٹیموں کی رسائی اور بچوں کی سو فیصد کوریج کے سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا انہوں نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں فیلڈ ورکرز اور دیگر متعلقہ عملے کی حفاظت کے لیے جامع اور مؤثر سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ ٹیمیں بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں انہوں نے انتظامیہ پولیس، محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران کسی بھی ممکنہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطے کا مربوط نظام قائم رکھا جائے ڈپٹی کمشنر نے خصوصی طور پر مائیکرو پلانز کی تیاری اور ان کی درستگی پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام مائیکرو پلانز زمینی حقائق کے عین مطابق مرتب کیے جائیں انہوں نے کہا کہ ہر علاقے گاؤں محلے آبادی گھرانوں، پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد پولیو ٹیموں روٹس اور کوریج سے متعلق معلومات درست، مکمل اور تازہ ترین ہونی چاہئیں انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مائیکرو پلانز کی فیلڈ ویلیڈیشن لازمی طور پر کرائی جائے اور پلان میں درج معلومات کو موقع پر جا کر زمینی صورتحال سے مطابقت دی جائے تاکہ کسی بھی علاقے آبادی یا بچے کے رہ جانے کی صورت میں بروقت نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی صرف ٹیموں کی تشکیل تک محدود نہیں بلکہ فیلڈ میں ان کی مؤثر نگرانی بروقت رپورٹنگ اور ہر بچے تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اس سلسلے میں تمام سپروائزری افسران اور مانیٹرز اپنی ذمہ داریاں پوری ذمہ داری اور سنجیدگی سے ادا کریں ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران ایسے بچوں کی فوری نشاندہی کی جائے جو کسی وجہ سے پولیو کے قطرے پینے سے رہ گئے ہوں جبکہ مسڈ چلڈرن تک دوبارہ رسائی کے لیے خصوصی حکمت عملی مرتب کی جائے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دور دراز دشوار گزار اور کم رسائی والے علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کی بروقت تربیت حاضری، کارکردگی اور فیلڈ سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے جبکہ مہم کے دوران موصول ہونے والی شکایات اور فیلڈ مسائل کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع استا محمد میں آئندہ قومی انسدادِ پولیو مہم کو مؤثر، منظم اور کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور پولیو ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے تمام متعلقہ افسران کو واضح ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم ایک اہم قومی فریضہ ہے اس لیے تمام محکمے باہمی رابطے مکمل تعاون اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں اور مقررہ اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مقصد میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر7222/2026
کوئٹہ یکم ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئٹہ میں غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری اور غیر مجاز پیکنگ میں بچوں کے فارمولا دودھ کی فروخت کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے۔اس سلسلے میں ایئرپورٹ روڈ، اڈہ سرکی روڈ اور بازار ایریا میں کارروائیاں کی گئیں۔کارروائیوں کے دوران 14 افراد گرفتار، 11 یونٹس سیل اور مجموعی طور پر 575 کلوگرام غیر معیاری و غیر رجسٹرڈ بچوں کا فارمولا دودھ ضبط کیا گیا۔کارروائیاں اسسٹنٹ کمشنرز،اسپیشل مجسٹریٹ اور فوڈ انسپکٹرز کی زیر نگرانی ہوئیں۔ایئرپورٹ روڈ پر کارروائی کے دوران 9 افراد گرفتار، 6 یونٹس سیل اور 250 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کیا گیا، جبکہ اڈہ سرکی روڈ پر 2 افراد گرفتار، 4 یونٹس سیل اور 125 کلوگرام دودھ ضبط کیا گیا۔ بازار ایریا میں 2 افراد گرفتار، 2 یونٹس سیل اور 50 کلوگرام دودھ ضبط کیا گیا۔ علاوہ ازیں ڈرگ انسپکٹرز کی کارروائی کے دوران مزید 150 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق بچوں کی صحت سے متعلق غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری فارمولا دودھ کی خرید و فروخت کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر7223/2026
کوئٹہ یکم ستمبر: معاون برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے نوکچہ چاغی اور زیارت کراس پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔اپنے ایک بیان میں بابر یوسفزئی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اپنے عزم سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ غیر ملکی ایجنڈے پر بلوچستان کا امن تباہ کرنے والے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں، مسافروں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کار بھی قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکیں گے، جبکہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق بھرپور جواب دیا جائے گا۔معاون برائے داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ قوم اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک صفحے پر ہیں، دہشت گرد عناصر بلوچستان کے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔بابر یوسفزئی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا کر سیکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا ثبوت دیا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں رہنے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی عملداری ہر صورت برقرار رہے گی۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ امن کے دشمن عناصر کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے لیے باعثِ اطمینان ہیں اور عوام اپنے بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خبر نامہ نمبر7224/2026
کوئٹہ 1 ستمبر: محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے درمیان قدرتی وسائل کے تحفظ، ماحولیاتی آگاہی، جنگلات میں آتشزدگی کی روک تھام، شجرکاری اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کا مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا۔ مفاہمتی معاہدے پر سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان عمران گچکی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر BRSP ڈاکٹر طاہر رشید نے دستخط کیے، جبکہ متعلقہ حکام اور افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے جنگلات، چراگاہوں، آبی ذخائر، جنگلی حیات کے مسکن اور دیگر قدرتی وسائل کے تحفظ، بحالی اور پائیدار استعمال کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ اس مقصد کے لیے مقامی کمیونٹیز کو فعال طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔ معاہدے کے اہم نکات میں جنگلات میں آتشزدگی کی روک تھام، بروقت اطلاع رسانی، کمیونٹی رضاکاروں کی تربیت، آگ پر قابو پانے کے اقدامات اور متاثرہ علاقوں کی بحالی شامل ہیں۔ اسی طرح غیر قانونی درختوں کی کٹائی، غیر قانونی شکار، جنگلی حیات کے غیر مجاز استعمال اور غیر قانونی چرائی کی روک تھام کے لیے کمیونٹی کی سطح پر نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ دونوں ادارے موسم بہار اور مون سون کے دوران شجرکاری مہمات میں مشترکہ طور پر حصہ لیں گے، جن میں دیہی آبادی، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو بھی شامل کیا جائے گا۔ محکمہ جنگلات اپنی نرسریوں سے دستیاب مقامی اور ماحول دوست پودے فراہم کرے گا جبکہ BRSP اپنی کمیونٹی نیٹ ورک اور فیلڈ اسٹاف کے ذریعے عوامی شمولیت کو یقینی بنانے میں معاونت کرے گا۔ مفاہمتی معاہدے میں زرعی جنگلات (Agroforestry)، مٹی اور پانی کے تحفظ، موسمیاتی لحاظ سے مؤثر زرعی و زمینی انتظام اور دیہی آبادی کے معاشی استحکام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجیز اور متبادل و قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے فروغ پر بھی تعاون کیا جائے گا تاکہ لکڑی بطور ایندھن استعمال کرنے پر دیہی آبادی کا انحصار کم کیا جا سکے اور جنگلات پر دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔ دونوں ادارے موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی بحالی اور کاربن فنانس سمیت دیگر متعلقہ شعبوں میں مشترکہ منصوبے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے ممکنہ تعاون کے حصول کے لیے بھی مشترکہ کوششیں کریں گے۔ معاہدے کے تحت محکمہ جنگلات و جنگلی حیات تکنیکی معاونت، تربیتی مواد، انتظامی رہنمائی، شجرکاری کے لیے پودے اور ضروری قانونی و انتظامی سہولیات فراہم کرے گا، جبکہ BRSP کمیونٹی موبلائزیشن، آگاہی اور فیلڈ سطح پر سرگرمیوں کے نفاذ میں معاونت کرے گا۔ مشترکہ سرگرمیوں کی نگرانی اور مؤثر رابطہ کاری کے لیے دونوں اداروں کے نمائندوں پر مشتمل Joint Coordination Committee (JCC) قائم کی جائے گی، جو سہ ماہی بنیادوں پر اجلاس منعقد کرکے پیش رفت کا جائزہ لے گی اور آئندہ کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرے گی۔ مفاہمتی معاہدہ ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے مؤثر ہوگا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جا سکے گی، جبکہ مخصوص منصوبوں کے لیے مالی وسائل اور اخراجات کا تعین الگ سے منصوبہ جاتی معاہدوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ حکام نے اس شراکت داری کو بلوچستان کے قدرتی وسائل کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی، مقامی کمیونٹیز کی مؤثر شمولیت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔اگر چاہیں تو میں اسی خبر کو مزید مختصر، پریس ریلیز/اخباری خبر کے روایتی انداز میں بھی بنا سکتا ہوں، جس میں پہلے پیراگراف میں تمام اہم معلومات زیادہ مضبوط انداز میں آ جائیں۔

خبرنامہ نمبر 7225/2026
کوئٹہ یکم ستمبر: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں، بالخصوص چاغی اور زیارت کراس پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب اور مؤثر کارروائیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بروقت کارروائیاں قابلِ فخر ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیشہ ملک و قوم کے تحفظ کو مقدم رکھا ہے اور اس مقصد کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ، چاغی، پشین اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں حاجی نور محمد خان دمڑ نے کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے دو افسران سمیت چھ اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جبکہ ان کے خاندانوں کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عزمِ استحکام کے تحت کارروائیوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ ملک دشمن عناصر کو مکمل طور پر شکست دی جا سکے۔ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کو نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن پسند اور محبِ وطن ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور امن کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا آخر میں حاجی نور محمد خان دمڑ نے شہداء کے درجات کی بلندی، ان کے لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور زخمی اہلکاروں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی۔
خبرنامہ نمبر 7226/2026
کوئٹہ، یکم ستمبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین، ماؤں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنائے بغیر حقیقی اور پائیدار ترقی کا خواب شرمندتعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسینشل پیکج آف ہیلتھ سروسز بلوچستان بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں زچہ و بچہ کی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جغرافیائی پھیلاؤ، دشوار گزار علاقوں اور طبی سہولیات تک رسائی کے مسائل کے باعث خواتین کو حمل کے دوران بروقت طبی نگہداشت کی فراہمی ایک اہم چیلنج ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر حاملہ خاتون کو Antenatal Care (ANC) کی سہولت، باقاعدہ طبی معائنہ، بلڈ پریشر اور ہیموگلوبن کی جانچ، غذائی مشاورت، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹیشن اور خطرے کی علامات کی بروقت تشخیص فراہم کی جائے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محفوظ زچگی کے لیے Skilled Birth Attendance بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ ہر زچگی تربیت یافتہ اور مستند طبی عملے کی نگرانی میں ہو، جبکہ پیچیدہ کیسز کے لیے بنیادی مراکز صحت سے تحصیل اور ضلعی سطح کے ہسپتالوں تک مؤثر Referral System موجود ہو تاکہ کسی بھی ایمرجنسی میں ماں اور بچے کو بروقت اعلیٰ سطح کی طبی نگہداشت میسر آ سکے انہوں نے کہا کہ زچگی کے دوران Postpartum Hemorrhage، Hypertensive Disorders of Pregnancy اور Sepsis جیسی پیچیدگیاں ماں کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے بنیادی اور ثانوی سطح کے مراکز صحت پر ضروری ادویات، آلات اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی ناگزیر ہے۔ اسی طرح نومولود بچوں کے لیے فوری اور معیاری Newborn Care، Early Breastfeeding، Thermal Care اور Neonatal Resuscitation کی سہولیات کو بنیادی صحت کے نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا صوبائی مشیر نے کہا کہ بچوں کی صحت صرف بیماری کے علاج تک محدود نہیں بلکہ اس کا آغاز ماں کی صحت اور حمل کے دوران غذائی نگہداشت سے ہوتا ہے۔ کم وزن، غذائی کمی اور خون کی کمی جیسے مسائل کا براہ راست اثر نومولود کی صحت اور نشوونما پر پڑتا ہے، اس لیے Maternal Nutrition، Breastfeeding، Immunization اور Growth Monitoring کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کی صحت کے حوالے سے Reproductive, Maternal, Newborn and Child Health (RMNCH) سروسز کو بنیادی مراکز صحت کی سطح پر مضبوط بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ 164 بنیادی مراکز صحت کا فعال ہونا اس سمت میں اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ان مراکز پر ضروری طبی سہولیات، ادویات، تشخیصی خدمات اور تربیت یافتہ ہیلتھ کیئر ورکرز مستقل بنیادوں پر دستیاب ہوں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو صحت کی سہولیات تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ Community Health Workers، Lady Health Workers اور دیگر فرنٹ لائن ہیلتھ اسٹاف کی استعداد کار بڑھانا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہی اہلکار دور دراز علاقوں میں خواتین اور خاندانوں کو صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات اور حمل سے متعلق احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ سمجھتی ہیں کہ صحت کے شعبے میں بہترین پالیسی وہی ہے جس کے نتائج ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں بہتری کی صورت میں نظر آئیں۔ ہماری کامیابی کا معیار صرف نئے مراکز کا قیام نہیں بلکہ Maternal Mortality، Neonatal Mortality اور Infant Mortality میں کمی، بروقت طبی امداد تک رسائی اور خواتین کے لیے معیاری صحت کی سہولیات کی دستیابی ہونا چاہیے صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں ایسی مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس میں بنیادی صحت، ماں اور بچے کی نگہداشت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، بروقت تشخیص اور مؤثر ریفرل سسٹم کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے۔ خواتین کو محفوظ حمل، محفوظ زچگی اور بعد از زچگی معیاری نگہداشت فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ہر ماں کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے حمل کے دوران معیاری طبی نگہداشت، محفوظ زچگی اور ہنگامی صورت حال میں بروقت علاج میسر ہو، جبکہ ہر بچے کو زندگی کے پہلے دن سے ہی معیاری صحت اور غذائیت کا حق حاصل ہے۔ حکومت بلوچستان اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ صحت اور تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔
پریس ریلیز
ہرنائی یکم ستمبر:پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہرنائی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ضلعی صدر یاسین خان ترین کی قیادت میں ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ملاقات میں ضلع بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، چوری و ڈکیتی کی روک تھام، منشیات کے مکمل خاتمے اور عوام کو درپیش دیگر بنیادی درپیش مسائل پر سیرحاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر یاسین خان ترین، سنئیر نائب صدر جنت گل ترین، پیپلز یوتھ کے ضلعی جنرل سیکرٹری ملک خدائیداد خان، اور میڈیا کوآرڈینیٹر حفیظ ترین و تاج محمد نے ایس پی پولیس کو علاقے کے امن و امان اور عوامی تشویش سے متعلق امور سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ضلعی صدر یاسین خان ترین اور میڈیا کوآرڈینیٹر حفیظ ترین نے ایس پی ہرنائی کی حسنِ اخلاق اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔ یاسین خان ترین نے کہا کہ ایس پی پولیس انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے نہ صرف وفد کی بات انتہائی غور اور تحمل سے سنی بلکہ ان کو کامل احترام بھی دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس پی پولیس ہرنائی کا یہ طرزِ عمل ان کی شریف النفس، بااخلاق اور عوام دوست شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، کیونکہ وہ اپنے دفتر آنے والے ہر سائل اور شہری کو عزت و احترام دیتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایس پی پولیس انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کی متحرک قیادت میں ضلع ہرنائی میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ منشیات کے سوادگروں، چوروں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کارروائیاں مزید مؤثر اور تیز کی جائیں گی تاکہ عوام کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

HANDOUT NUMBER 2026/7227
QUETTA September 1, 2026: Provincial Adviser for Women Development Department, Dr. Rubaba Khan Buledi, has said that sustainable development in Balochistan is not possible without improving the health of women, mothers and children, stressing that maternal and child healthcare must remain at the centre of the province’s primary healthcare strategy.Addressing the inaugural ceremony of the Essential Package of Health Services (EPHS) Balochistan, Dr. Rubaba Khan Buledi said the initiative represented an important step towards strengthening the primary healthcare system and ensuring that essential medical services were available closer to communities, particularly in remote and underserved areas.Dr. Rubaba, who is herself a medical doctor, said that geographical challenges and limited access to healthcare facilities in far-flung areas often create additional risks for pregnant women. She emphasised the need to ensure regular antenatal care (ANC), including blood pressure monitoring, haemoglobin assessment, nutritional counselling, iron and folic acid supplementation, screening for high-risk pregnancies and timely identification of warning signs.She said safe motherhood required the availability of skilled birth attendants and an effective referral mechanism linking Basic Health Units with tehsil and district-level hospitals. “A pregnant woman facing a complication must not lose valuable time in reaching appropriate medical care. An efficient referral system can make the difference between life and death for both mother and child,” she said.The Provincial Adviser stressed that healthcare facilities must be adequately equipped to manage major obstetric emergencies, including postpartum haemorrhage, hypertensive disorders of pregnancy and maternal sepsis. Availability of essential medicines, emergency equipment, trained healthcare professionals and timely referral services was critical for reducing preventable maternal deaths.She also highlighted the importance of quality newborn care, saying that the first minutes and hours after birth were crucial for a child’s survival and healthy development. Early initiation of breastfeeding, thermal care, infection prevention and neonatal resuscitation should be integral components of maternal and newborn healthcare services at primary and secondary healthcare facilities, she added.Dr. Rubaba Khan Buledi said that child health could not be separated from the health and nutritional status of the mother. Maternal anaemia, malnutrition and inadequate antenatal care could have lasting consequences for newborns, including low birth weight and impaired growth. She called for stronger integration of maternal nutrition, breastfeeding support, immunisation, growth monitoring and preventive healthcare.She said the strengthening of Reproductive, Maternal, Newborn and Child Health (RMNCH) services at the primary healthcare level was essential for improving health outcomes across the province. The activation of 164 Basic Health Centres was an important development, she said, adding that the effectiveness of these facilities would ultimately depend on the availability of trained personnel, essential medicines, diagnostic services and functional referral linkages.The Provincial Adviser underlined the important role of Lady Health Workers, Community Health Workers and other frontline healthcare staff, particularly in remote areas. Their capacity should be enhanced so they could effectively provide health education, promote antenatal and postnatal care, encourage immunisation and breastfeeding, identify high-risk pregnancies and facilitate timely referrals.“As a doctor, I firmly believe that the success of a healthcare policy should ultimately be measured by its impact on people’s lives and health indicators,” Dr. Rubaba said. “Our objective should not merely be to establish or activate health facilities; we must ensure measurable reductions in maternal, neonatal and infant mortality and improve women’s access to quality healthcare.”She said the Government of Balochistan was pursuing an integrated approach in which primary healthcare, maternal and newborn care, nutrition, immunisation, early diagnosis and referral services were linked together to deliver better health outcomes.Dr. Rubaba Khan Buledi said every woman in Balochistan had the right to safe pregnancy, skilled care during childbirth and quality postnatal services, while every newborn deserved timely medical attention, adequate nutrition and protection from preventable diseases from the very first day of life.She reaffirmed that the Women Development Department would continue to work with the Health Department and other stakeholders to strengthen women-centred healthcare interventions and support efforts aimed at ensuring healthier mothers, healthier children and a healthier Balochistan.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *