23rd-August-2026

خبرنامہ نمبر6983/2026
کوئٹہ، 23 اگست: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری، فرض شناسی اور غیر معمولی حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دکی کی ایک اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ بلدیات و دیہی ترقی نے دکی میں متعلقہ سڑک کو “ڈاکٹر ماہ نور ناصر روڈ” کے نام سے منسوب کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر نے مشکل حالات میں جس جرات، عزم اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے۔ ان کی بہادری نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر کی خواتین اور نوجوانوں کے لیے ایک قابل فخر مثال ہے انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بہادری، انسانیت اور فرض شناسی کی عملی مثال قائم کرنے والے افراد کی خدمات کو سراہنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے نام سے شاہراہ منسوب کرنا ان کی خدمات اور حوصلے کا اعتراف اور ایسے کرداروں کی حوصلہ افزائی کی ایک علامتی کوشش ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں ہر شعبے میں اپنی صلاحیت، عزم اور بہادری کا لوہا منوا رہی ہیں۔ صوبائی حکومت ایسے باہمت افراد کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی جرات اور فرض شناسی نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ، انسانیت اور ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

خبرنامہ نمبر6984/2026
کوئٹہ23 اگست : ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن، کور کمانڈر بلوچستان کی خصوصی دلچسپی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں شروع کیے گئے بی ایچ ڈی آئی (BSDI) پروگرام کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی، عوامی مسائل کے فوری حل اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، جبکہ پروگرام کے مثبت اور دور رس نتائج عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام بنیادی طور پر ایک ایسا مؤثر نظام ہے جس کے ذریعے حکومت عوام تک پہنچ کر ان کے مسائل سنتی ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی ہے انہوں نے بتایا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے فیز ون میں ضلع موسیٰ خیل میں مجموعی طور پر 14 ترقیاتی منصوبے شامل تھے، جن میں سے 13 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ ایک منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔ اس طرح فیز ون میں ضلع موسیٰ خیل کی مجموعی پیش رفت تقریباً 93 فیصد رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فیز ٹو میں ضلع موسیٰ خیل کے لیے 101 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن میں سے 27 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیز ٹو کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ اور مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔عبدالرزاق خجک نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی محض ترقیاتی منصوبوں کا پروگرام نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط نظام ہے جس کے ذریعے عوامی مسائل کو براہ راست حکام کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں تحصیل، سب ڈویژن اور ضلعی سطح پر کھلی کچہریاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں شہری اپنے مسائل براہ راست ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران کے سامنے پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے پیش کی جانے والی شکایات اور مسائل کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے، ان کی نوعیت اور ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد قابلِ عمل منصوبہ تیار کرکے متعلقہ فورم کو بھجوایا جاتا ہے۔ منصوبے کی منظوری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات (P&D) سے حاصل ہونے کے بعد عملی کام کا آغاز کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل نے کہا کہ اس پورے عمل میں ضلعی انتظامیہ، متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس اور دیگر اداروں کے درمیان مربوط رابطہ قائم رکھا جاتا ہے تاکہ منظور شدہ منصوبوں پر بروقت کام شروع ہو اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت منصوبوں کی نگرانی اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کا تعین کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا اور لوگوں کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ایسے مسائل کی نشاندہی بھی ممکن ہوئی ہے جو طویل عرصے سے عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے تھے عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل میں بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں سے عوام کو تعلیم، صحت، مواصلات، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کے شعبوں میں ریلیف مل رہا ہے، جبکہ زیر تکمیل منصوبوں کو بھی جلد مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی ایک مؤثر اور عوام دوست منصوبہ ہے جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے اور اس پروگرام کے ذریعے عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے ضلع موسیٰ خیل میں بنیادی سہولیات کے معیار میں مزید بہتری آئے گی۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی، تاکہ حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

خبرنامہ نمبر6985/2026
سوراب: ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے(BSDI) کے تحت تاریخ میں پہلی بار اہلِ سوراب اور بالخصوص خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے نئے تعمیر کیے گئے فیملی پارک کا باقاعدہ افتتاح 05 ستمبر بروز ہفتہ شام 5 بجے کیا جائیگا افتتاح کے ساتھ ہی شاندار اور تفریحی پروگرام کا انعقاد بھی کیا جائیگا جس کا مقصد شہریوں کو صحت مند تفریح، پرسکون ماحول اور معیاری سرگرمیوں کی سہولت فراہم کرنا ہے فیملی پارک میں خواتین کے لئے واکنگ ٹریک، بچوں کے لیے کھیلوں اور تفریح کی سہولیات، بیٹھنے کے لیے مناسب جگہیں اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں پروگرام کے موقع پر فوڈ اسٹالز، خواتین کے لیے مختلف اسٹالز، بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں اور دیگر دلچسپ و فیملی فرینڈلی اسٹالز بھی لگائے جائیں گے، تاکہ شہری ایک ہی مقام پر بھرپور تفریح اور خوشگوار وقت گزار سکیں ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے تمام اہلِ سوراب، خصوصاً خواتین، بچوں اور فیملیز کوشرکت عام دعوت دی گء ہے کہ وہ اس خوبصورت اور صحت مند تفریحی سرگرمی کا حصہ بنیں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ فیملی پارک تشریف لا کر اس موقع سے بھرپور لطف اٹھائیں۔

خبرنامہ نمبر6986/2026
سوراب :ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالجبار بگٹی، نے تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد اور دیگر افیسران کے ہمراہ سوراب بازار کا دورہ کرتے ہوئے مختلف دکانوں کا معائنہ کیا اس دوران دہی، بیکری، گوشت، سبزی، داش، کریانہ اور دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخ، معیار اور وزن کا جائزہ لیا گیا، جبکہ کم وزن پائے جانے پر متعدد دکانداروں کو موقع پر جرمانے کیے گئے اور سخت وارننگ بھی جاری کی گئی اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو مقررہ نرخوں کے مطابق اشیاء کی فروخت، درست وزن اور صفائی و معیار کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کم وزن، ناجائز منافع خوری اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر6987/2026
سوراب:خبرنامہ 23 اگست 2026: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالجبار بگٹی کی زیر صدارت میونسپل کمیٹی آفس سوراب میں ریڑھی بانوں کی منتقلی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحصیلدار سوراب، صدر ریڑھی بانان، میونسپل کمیٹی، محکمہ لائیو اسٹاک کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی اجلاس میں سرکاری سطح پر ریڑھی بانوں کو ریڑھیاں فراہم کرنے اور چوک میں موجود ریڑھی بانوں کو ہیلتھ آفس سے نادرا آفس تک مختص جگہ پر منتقل کرنے پر غور کیا گیا، جبکہ ریڑھی بانوں نے انتظامیہ سے مکمل تعاون کرتے ہوئے چوک فوری خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ ریڑھی بانوں کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ بازار میں ٹریفک کی روانی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

خبرنامہ نمبر6988/2026
ہرنائی :ضلع ہرنائی میں ضلعی انتظامیہ نے ایک بار پھر اپنی بروقت حکمتِ عملی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئٹہ، ہرنائی قومی شاہراہ کو تمام چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی خصوصی ہدایات پر کی جانے والی اس ہنگامی کارروائی کے نتیجے میں چپر لیفٹ کے مقام پر پھنسے ہوئے سینکڑوں مسافروں کو شدید مشکلات سے نجات مل گئی ۔چپر لیفٹ کے انتہائی دشوار گزار اور حساس مقام پر کوئلے سے لدا ہوا ایک ہیوی ٹرک اچانک الٹ گیا، جس کے باعث کوئٹہ اور ہرنائی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی۔ حادثے کے فوری بعد روڈ کے دونوں جانب چھوٹی بڑی گاڑیوں، مسافر بسوں اور مال بردار ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں خصوصاً خواتین، بچوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔?واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی سخت ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) ہرنائی محمد سلیم ترین اور ایکسین بی اینڈ آر امین اللہ مندوخیل نے بھاری مشینری اور متعلقہ عملے کے ہمراہ بلا تاخیر جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ضلعی افسران نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو و روڈ کلئرنس کا کام شروع کروایا۔ بی اینڈ آر کی تکنیکی ٹیموں اور انتظامی عملے نے رات کے اندھیرے میں مسلسل محنت کرتے ہوئے حادثے کا شکار ٹرک اور سڑک پر پھیلا ہوا ملبہ ہٹایا۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ بی اینڈ آر کی ان تھک محنت اور مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں رات 11 بجے تک قومی شاہراہ کو تمام قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر صاف اور محفوظ بنا دیا گیا۔ روڈ کھلم کھلے ہی شاہراہ پر معطل شدہ ٹریفک بحال ہو گئی اور مسافر اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو گئے۔?عوام اور مسافروں نے ضلعی انتظامیہ ہرنائی، بالخصوص ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور ایکسین بی اینڈ آر کی اس بروقت اور عوامی خدمت پر مبنی کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر6989/2026
کوئٹہ: مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے سوشل میڈیا پر گورنمنٹ انٹر ملا فاضل کالج مند سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے کالج کے مسائل کے فوری حل اور اسے مکمل طور پر فعال بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ گورنمنٹ انٹر ملا فاضل کالج مند کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کالج کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ انٹر ملا فاضل کالج مند کا سنگ بنیاد 2011ء میں رکھا گیا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تقریباً 15 سال گزرنے کے باوجود یہ تعلیمی ادارہ اب تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع کی کمی کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان نے کہا کہ ماضی میں اس علاقے سے وفاقی سطح پر وزیرِ تعلیم سمیت متعدد صوبائی وزراء گزرے لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی تعلیمی سہولت یعنی کالج کو مکمل طور پر فعال نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت میں انشائاللہ اس کالج کو فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔مینا مجید بلوچ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے اپنی کوششوں سے کالج کے لیے تدریسی عملے کی چار پوسٹیں منظور کرائی تھیں جبکہ رواں سال غیر تدریسی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تعیناتی ایک ماہ کے اندر اندر یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا۔اس سلسلے میں وہ سیکریٹری ہائر ایجوکیشن سے پہلے بھی کئی بار ملاقات کر چکی ہیں اور اب دوبارہ ملاقات کریں گی تاکہ اکیڈمک پوسٹوں پر تدریسی عملے کی تعیناتی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اسی طرح غیر تدریسی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ تعلیمی ترقی موجودہ حکومت کے وژن کا اہم حصہ ہے اور اسی وژن کے تحت گورنمنٹ انٹر ملا فاضل کالج مند کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کالج کو مزید نظرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا اور اسے فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر6990/2026
سنجاوی، 22 اگست :ملیریا اور مچھروں سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کی روک تھام، جبکہ مچھروں کی افزائشِ نسل کو کم کرنے کے لیے تحصیل سنجاوی، ضلع زیارت میں فوگ اسپرے مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔اس مہم کے دوران تحصیل سنجاوی کے مختلف علاقوں اور حساس مقامات پر باقاعدگی سے فوگ اسپرے کیا جا رہا ہے، تاکہ مچھروں کی افزائش کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے اور عوام کو ملیریا سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔یہ خصوصی مہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر زیارت ڈاکٹر رفیق احمد مستوئی و اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی محترمہ میرمن کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت جاری ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہیں۔اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی سنجاوی کے چئرمین حاجی خان محمد کی جانب سے بھی فوگ اسپرے مہم کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے،اور عوام سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے گھروں اور ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں، اور مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات کی بروقت نشاندہی کریں، تاکہ ملیریا اور دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر6991/2026
کوئٹہ، 23 اگست: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کے مالک ہیں، انہیں اپنی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے صوبے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوان بلوچستان کا مستقبل ہیں اور مستقبل کی بھاگ دوڑ انہی کے ہاتھوں میں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ماڈل یونائیٹڈ نیشن (BMUN) 2026 کی تین روزہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفر، چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ قائم لاشاری سمیت دیگر معززین، منتظمین اور طلباء و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نوجوانوں کے حوالے سے ایک واضح وژن رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت نوجوانوں کو تعلیم، مہارت اور قیادت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم اور عملی تجربات سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایم یو این جیسے پروگرام نوجوانوں کو اپنی قائدانہ، تحقیقی اور ابلاغی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تین روزہ کانفرنس کے دوران طلباء و طالبات نے مختلف سیشنز، ڈیبیٹس، مذاکرات اور مکالموں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفر نے کہا کہ موجودہ دور میں طلباء و طالبات کے درمیان مذاکرات اور مکالمے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بلوچستان میں بھی ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے، کیونکہ خیالات اور آئیڈیاز کا تبادلہ نوجوانوں کی فکری اور علمی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایم یو این کے شرکاء نے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان مستقبل کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بی ایم یو این نے تعلیم، مکالمے اور مذاکرات کو نوجوانوں کے لیے اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ بنایا، جو ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ تین روزہ کانفرنس کا مقصد نوجوانوں کو عالمی امور، پالیسی سازی، مذاکرات اور فیصلہ سازی کے عمل سے روشناس کراتے ہوئے ان میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔ تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات میں اسناد اور اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔ مقررین نے بی ایم یو این کے منتظمین کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے تعلیمی اور فکری پروگرام بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور مستقبل کی قیادت کے لیے مزید مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر6992/2026
گوادر، 23 اگست 2026ء: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے تحت عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے پیشکان کا دورہ کیا، جہاں کھلی کچہری اور بلوچی دیوان کے دوران مقامی افراد، ماہی گیروں، کاروباری حضرات اور دیگر عمائدین سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے گئے۔کھلی کچہری میں عوام کی جانب سے اراضی، پیشکان جیٹی کی صفائی، بنیادی سہولیات اور دیگر مسائل پیش کیے گئے، جن کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کے دائر اختیار میں آنے والے مسائل کو بلا تاخیر حل کیا جائے، جبکہ صوبائی سطح سے متعلق معاملات اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔بلوچی دیوان میں چھ ماہ سے جاری تنازع کا باہمی اتفاقِ رائے سے خاتمہبلوچی دیوان کے دوران ماہی گیروں اور کاروباری و فیکٹری مالکان کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے جاری تنازع بھی باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے حل کرایا گیا۔ دونوں فریقین نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ حل کرنے کا اختیار دیا، جس کے بعد باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔معاہدے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے دونوں فریقین کو بغل گیر کراکے اختلافات کے خاتمے اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دینے کی عملی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی مفاد کے لیے باہمی تعاون، برداشت اور افہام و تفہیم کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔پیشکان کے عوامی و سماجی حلقوں نے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی جانب سے عوامی مسائل براہِ راست سننے اور دیرینہ تنازع کو مشاورت کے ذریعے حل کرانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی خدمت اور مؤثر انتظامی کاوش قرار دیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالش ور، محکمہ فشریز کے افسران، ماہی گیر، کاروباری و فیکٹری مالکان اور علاقے کے دیگر عمائدین بھی موجود تھے۔ضلعی انتظامیہ گوادر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی بہتری، ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ اور علاقے میں امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر6993/2026
جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ اللہ یار دھیرج کالرا نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے مکمل کیے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اور سب انجینئر کے ہمراہ خصوصی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف مقامات پر مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور منصوبوں کے تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے میٹریل، ڈیزائن، خدوخال اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے اسسٹنٹ کمشنر کو مکمل شدہ منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور منصوبوں کی تکمیل، لاگت، تعمیراتی مراحل اور عوامی افادیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہری علاقوں میں ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار اور منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو طویل عرصے تک بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے متعلقہ محکمہ کے افسران کو ہدایت کی کہ مکمل شدہ منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور جہاں کہیں تعمیراتی کام کے معیار میں بہتری کی ضرورت ہو وہاں فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کی پائیداری کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری اور مکمل شدہ منصوبوں کے ریکارڈ کو بھی باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے اور ترقیاتی کاموں میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا مقصد عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی اور سرکاری فنڈز کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔ اس موقع پر متعلقہ محکمہ کے افسران نے اسسٹنٹ کمشنر کو منصوبوں کے معیار اور آئندہ اقدامات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *