خبرنامہ نمبر 6942/2026
کوئٹہ، 21 اگست:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی 10 کامیاب کارروائیوں کے دوران 37 دہشت گردوں کا خاتمہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ کارروائیوں میں بڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور ریموٹ ڈیٹونیشن آلات کی برآمدگی اور تباہی نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی صلاحیتوں کو مؤثر طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور بروقت کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کی قربانیاں قوم کے عزم اور ریاستی اداروں کی غیر متزلزل وابستگی کی عکاس ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ صوبے کے عوام امن کے خواہاں ہیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ دہشت گرد عناصر کو عوام کی زندگیوں اور صوبے کی ترقی کے عمل میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا مقصد نہ صرف دہشت گرد عناصر کا خاتمہ بلکہ ان کے نیٹ ورکس، سہولت کاری کے نظام اور تخریبی صلاحیتوں کو بھی مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور دیگر مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی ادارے قوم کے تعاون سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور صوبے کو ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 6943/2026
کوئٹہ، 21 اگست:معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور مؤثر حکمت عملی قابل تحسین ہے۔ ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں کارروائیوں کے دوران 37 دہشت گردوں کا خاتمہ ایک اہم کامیابی ہے۔ ان کارروائیوں نے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر ضرب لگائی بلکہ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کو بھی ناکام بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔ قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کے امن کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی پائیدار صورتحال صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور مؤثر رابطے کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔شاہد رند نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کو عوام کے امن، ترقی اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان تعاون اور اعتماد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا ساتھ دیا ہے اور صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ دہشت گرد عناصر کی کارروائیاں بلوچستان کے عوام کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔ معاون وزیر اعلیٰ نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کامیاب کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری مہم اسی عزم اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی اور ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل طور پر پاک کرنے میں مدد ملے گی۔
خبرنامہ نمبر 6944/2026
اسلام آباد21 اگست: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امراض قلب کے علاج کے لیے جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (BICVD) تکمیل کے مراحل میں ہے، جبکہ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ بھی امراض قلب کے علاج کا ایک مؤثر اور فعال مرکز ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء اور صوبے کے عمائدین کی وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ملاقات کے موقع پر شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا بلوچستان سے متعلق سوالات کے جواب کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خصوصی طور پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو مائیک دیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ کوئٹہ میں امراض قلب کے ایک ہسپتال کے قیام کا اعلان کئی سال قبل کیا گیا تھا تاہم اس منصوبے پر عملی پیش رفت نہ ہو سکی بعد ازاں حکومت بلوچستان نے صوبے میں اپنے دو اہم ادارے قائم کیے، جن میں شیخ زید ہسپتال کوئٹہ اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز شامل ہیں انہوں نے کہا کہ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ بہترین انداز میں خدمات انجام دے رہا ہے اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، جس کے فعال ہونے سے صوبے کے عوام کو امراض قلب کے علاج کی جدید اور معیاری سہولیات اپنے صوبے میں میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں زرعی شعبے کی سولرائزیشن کے منصوبے کو بھی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے زمینداروں کو بجلی کے بحران سے ریلیف دینے کے لیے سولرائزیشن منصوبہ انتہائی کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ثمرات براہ راست آخری صارف تک پہنچے ہیں اور زمینداروں کو ان کے گھروں تک مالی فوائد منتقل ہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری، متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام اور منصوبے کی تکمیل میں کردار ادا کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے زمیندار سولرائزیشن منصوبے کے مثبت نتائج کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ اس اقدام سے زرعی شعبے کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے درپیش مشکلات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں کیسکو کے بجلی کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی اور قومی وسائل کی بچت ممکن ہوئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون کے نتیجے میں بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کے لیے بڑے منصوبوں کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے عوام کو صحت، زراعت، توانائی اور دیگر بنیادی شعبوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر 6945/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ٹیکس شیڈول کے مطابق ٹریول ایجنٹس کی جانب سے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی فضائی ٹکٹوں کے اجراء سے متعلق فراہم کردہ خدمات پر بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کی شرح 100 روپے فی ایئر ٹکٹ مقرر ہے۔شیڈول کے مطابق مذکورہ خدمات پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ/ایڈجسٹمنٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام متعلقہ ٹریول ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین کے تحت اپنی رجسٹریشن، درست ٹیکس رپورٹنگ، بروقت ریٹرن فائلنگ اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین کی پاسداری شفاف اور مؤثر ٹیکس نظام کے قیام اور صوبے میں محصولات کے فروغ کیلئے ضروری ہے۔
خبرنامہ نمبر 6946/2026
رکھنی: 21اگست:ڈی ایس پی رکھنی جبار مینگل کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جرائم کی روک تھام، پولیس گشت اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایس ایچ او رکھنی یونس خان کھیتران، ایس ایچ او شاہ زمان کھیتران سمیت دیگر پولیس افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈی ایس پی جبار مینگل نے افسران کو امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے اور پولیس گشت کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات دیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جرائم کی روک تھام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ڈی ایس پی نے افسران پر زور دیا کہ شہریوں کے ساتھ بہتر رویہ اپناتے ہوئے ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر 6947/2026
حب : ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع حب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، چائلڈ لیبر کے خاتمے، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں سے بدسلوکی، غذائی قلت، منشیات اور دیگر سماجی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بچوں کو درپیش مسائل، چائلڈ پروٹیکشن کے موجودہ نظام اور مختلف اداروں کے مابین رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا کہ بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بچوں کو تعلیم، صحت، محفوظ ماحول اور بہتر مستقبل کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشدد، استحصال، جبری مشقت یا زیادتی ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع حب میں چائلڈ لیبر، جسمانی و ذہنی تشدد، جنسی زیادتی، منشیات، کم عمری کی شادی، غذائی قلت اور اسکول سے باہر بچوں جیسے مسائل کے تدارک کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی والدین یا سرپرست کی جانب سے بچے کے ساتھ تشدد، جنسی زیادتی، استحصال، اغوا، جبری مشقت یا کسی بھی سنگین جرم کی شکایت رپورٹ کی جائے تو متعلقہ پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرے اور بلا تاخیر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بچوں سے متعلق مقدمات میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں ضلع حب کے مختلف علاقوں میں بچوں کے محنت مزدوری کرنے کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے بتایا کہ بعض بچےورکشاپس، گیراجوں، صنعتی و تجارتی مراکز، ماہی گیری سے متعلق مقامات اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں، جبکہ بعض یتیم اور مستحق بچے معاشی مشکلات کے باعث تعلیم کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور سروے کا نظام وضع کیا جائے، محنت مزدوری میں مصروف بچوں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے والدین اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ ضلع حب میں آؤٹ آف اسکول چلڈرن کی نشاندہی کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں اور اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد، بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت اور غذائی قلت سمیت دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور دستیاب سہولیات کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ والدین، بچوں، اساتذہ اور عام شہریوں کو معلوم ہو کہ بچوں سے متعلق کسی بھی زیادتی یا استحصال کی صورت میں کہاں اور کیسے شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کی روک تھام، بچوں سے تشدد اور جنسی زیادتی کے خلاف آگاہی، کم عمری کی شادیوں کے نقصانات، منشیات سے بچاؤ اور بچوں کی تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے باقاعدگی سے آگاہی مواد جاری کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ ضلع حب میں چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے ایک جامع آگاہی واک اور ریلی کا انعقاد کیا جائے، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی، تاجر برادری، صنعتکاروں اور دیگر متعلقہ طبقات کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واک اور ریلی کا مقصد عوام میں بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کے خاتمے، بچوں سے بدسلوکی و تشدد کی روک تھام، کم عمری کی شادیوں کے نقصانات اور بچوں کے تحفظ سے متعلق دستیاب شکایتی نظام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آگاہی واک اور ریلی کے دوران بینرز، پلے کارڈز اور دیگر تشہیری مواد کے ذریعے چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے مؤثر پیغامات عوام تک پہنچائے جائیں، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی اس مہم کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو بچوں کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کارپوریشن حب کو بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم اور چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق حکام کے ساتھ مل کر شہر کے اہم مقامات پر موجود بل بورڈز اور تشہیری مقامات کو بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی مہم کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بل بورڈز پر بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کے خاتمے، بچوں سے بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانے اور شکایات کے طریقہ کار سے متعلق مؤثر پیغامات نمایاں کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم کا مقصد صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ والدین، اساتذہ، طلبہ، تاجر برادری، صنعتکاروں، ڈرائیوروں، ورکشاپ مالکان اور معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بچوں کے تحفظ کا نظام کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، سوشل ویلفیئر، تعلیم، صحت، میونسپل کارپوریشن، سول سوسائٹی، والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں بچوں سے متعلق شکایات کے فوری اندراج، متاثرہ بچوں کو قانونی و طبی معاونت، ضرورت کے مطابق نفسیاتی کونسلنگ، محفوظ ماحول کی فراہمی اور سنگین نوعیت کے کیسز میں فوری قانونی کارروائی کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلع حب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کو محفوظ و صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، جبکہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر ضلع حب میں بچوں کے تحفظ، تعلیم، صحت، فلاح و بہبود اور بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 6948/2026
لسبیلہ:21اگست:وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر لسبیلہ میں قدرتی آفات اور موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (DEOC) قائم کر دیا گیا۔ مرکز کا افتتاح آزات فاؤنڈیشن نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون اور اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (UN-WFP) کی معاونت سے کیا۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے قیام کا مقصد موسمی صورتحال کی مسلسل نگرانی، ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی، ابتدائی وارننگ کے مؤثر نظام اور ہنگامی معلومات کی فوری ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ مرکز کو آٹومیٹک ویدر اسٹیشن سے منسلک کیا گیا ہے، جس کے ذریعے موسمی تبدیلیوں اور ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات بروقت حاصل کی جا سکیں گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ، UN-WFP کے نمائندگان، آزات فاؤنڈیشن، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA)، مختلف سرکاری محکموں، غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا قیام ضلع میں قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے اور عوام کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے ممکنہ خطرات سے قبل متعلقہ اداروں اور عوام کو بروقت آگاہ کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ اور معلومات کا بروقت تبادلہ جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ DEOC کے فعال ہونے سے ہنگامی حالات میں اداروں کے باہمی رابطے اور مربوط کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کو فعال اور مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے لسبیلہ میں قدرتی آفات اور موسمی ہنگامی حالات سے نمٹنے، بروقت وارننگ جاری کرنے اور عوامی تحفظ کے اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 6949/2026
گوادر: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن “ہر بچہ اسکول میں ” کے تحت ضلع گوادر میں تعلیمی اداروں کی نگرانی، حاضری کے نظام کی بہتری اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کوہِ سر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسکول میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تدریسی عمل، انتظامی امور اور دستیاب بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے اسکول کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے اساتذہ کی ذمہ داریوں اور طلبہ کی باقاعدہ حاضری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل اور مؤثر تدریسی عمل بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔
اس موقع پر غیر حاضر ملازمین کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت یا بلاجواز غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ آج کے بچے ہی ملک و قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ اساتذہ کی بروقت حاضری، ذمہ دارانہ تدریسی کردار اور تعلیمی اداروں میں مؤثر نگرانی کے ذریعے بچوں کو معیاری تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی مسلسل مانیٹرنگ، اساتذہ و طلبہ کی حاضری کی جانچ اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی وژن کی عملی تعبیر قرار دیا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ضلع گوادر میں “ہر بچہ اسکول میں” کے مقصد کو عملی شکل دینے، شرحِ حاضری میں بہتری لانے اور ہر بچے کو تعلیم کی بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 6950/2026
اسلام آباد: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے پاسپورٹ ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ڈائریکٹر فیاض حسین سے ملاقات کی، جس میں بلوچستان کے عوام کو درپیش پاسپورٹ سے متعلق مسائل، بالخصوص پاسپورٹ بلاک ہونے اور غیر قانونی یا جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جاری ہونے والے پاسپورٹس کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے مقامی لوگوں کو پاسپورٹ کے حصول اور بلاک شدہ پاسپورٹس کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں ایسے افراد نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاسپورٹ حاصل کیے، جس کے باعث ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے حقیقی اور مقامی شہریوں کے پاسپورٹس بھی بلاک ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں انہوں نے ڈائریکٹر پاسپورٹ فیاض حسین سے مطالبہ کیا کہ بلاک شدہ پاسپورٹس کے کیسز کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور جن شہریوں کی شناخت اور دستاویزات درست ہیں، انہیں غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، تاہم اس کے نتیجے میں حقیقی اور قانون پسند شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کو درپیش پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے مستقل حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مزید مؤثر رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا اس موقع پر ڈائریکٹر پاسپورٹ فیاض حسین نے صوبائی وزیر کو پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت ممکنہ اقدامات سے آگاہ کیا اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی ملاقات میں بلوچستان کے شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول میں درپیش مشکلات، بلاک شدہ پاسپورٹس کی بحالی اور غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیے گئے پاسپورٹس کے خلاف کارروائی سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
خبرنامہ نمبر 6951/2026
خضدار :ضلعی انتظامیہ خضدار کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو براہِ راست اپنے مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا مؤثر موقع فراہم کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ کونسل ہال خضدار میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی ہدایت پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری شکیل قادر بلوچستان کے عوام دوست وژن کے تحت منعقد ہوئی، جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ نے کی، کھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،کھلی کچہری کا مقصد عوام اور سرکاری افسران کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرکے شہریوں کے مسائل براہِ راست سننا، متعلقہ محکموں کی موجودگی میں ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنا اور انتظامی امور میں عوامی شمولیت کو فروغ دینا تھا،اس موقع پر شہریوں نے پینے کے صاف پانی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، زمینداروں کے مسائل، بی ایس ڈی آئی ، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، تعلیم، صحت، معذور کوٹہ اور امن و امان سمیت مختلف بنیادی مسائل اور عوامی مشکلات سے متعلق شکایات پیش کیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے مختلف شعبوں میں بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں،اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ نے شہریوں کے مسائل اور شکایات تفصیل سے سنیں اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی شکایات کے فوری ازالے، ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت تیز کرنے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں،اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، شہریوں کے مسائل کے بروقت حل اور گورننس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنانا ہے،کھلی کچہری میں ایف سی قلات اسکاؤٹس کے میجر اسرار، اسسٹنٹ کمشنر نال عبداللہ مینگل، اسسٹنٹ کمشنر زہری روزین جمالی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نیاز اللہ سمالانی ، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر محمد انور زہری، ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی، ڈی ایس پی سٹی محمد عالم لہڑی, ،انجنیئر شیر علی ڈویژنل فارسٹ افیسر اویس اکبر زہری ،ناصر احمد پی پی ایچ آئی ،مم سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی،تمام متعلقہ افسران نے شہریوں کے سوالات کے جوابات دیے، اپنے اپنے محکموں سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی اور عوامی شکایات کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا،کھلی کچہری کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی مسائل کے حل، شفاف طرزِ حکمرانی اور سرکاری اداروں کو عوام کے مزید قریب لانے کی جانب ایک مثبت اور مؤثر قدم قرار دیا۔
خبرنامہ نمبر 6952/2026
سوراب: 21 اگست:بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت جامع مسجد الفلاح تبلیغی مرکز میں گرینڈ کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بگٹی، ضلعی افسران، علماء، سیاسی و سماجی شخصیات، صحافیوں، طلبہ اور عوام نےاجتماعی طورپر نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعدکھلی کچہری میں شرکت کی ضلع سوراب کے شہریوں نےمنعقدہ کھلی کچہری میں امن و امان، تعلیم، صحت، صاف پانی، بجلی، اسپورٹس، اسٹریٹ لائٹس اور مدارس کے لیے شمسی توانائی سمیت مختلف مسائل پیش کیے، جن پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ BSDI کے تحت ضلع سوراب میں عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور عوامی ضرورت کے مطابق مختلف علاقوں میں ترقیاتی و فلاحی منصوبے شروع کیے جائیں گے انہوں نے متعلقہ افسران کو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے عملدرآمد اور بروقت پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی کھلی کچہری کے اختتام پر ملک و قوم، بلوچستان میں امن و استحکام اور ضلع سوراب کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کرائی گئی۔
خبرنامہ نمبر 6953/2026
سوراب21 اگست: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں BSDI کے تحت جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بگٹی سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی متعلقہ افسران نے ترقیاتی منصوبوں، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ BSDI کے تحت جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں معیاری انداز میں مکمل کیا جائے اور نئے منصوبوں پر بھی فوری کام شروع کیا جائے انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ روزگار اور Livelihood کے مواقع بہتر بنانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں گے ترقیاتی منصوبوں میں غفلت یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔*
خبرنامہ نمبر 6954/2026
کوئٹہ، 21 اگست: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBOIT) کے تعاون سے بلوچستان ماڈل یونائیٹڈ نیشن (BMUN) کے تین روزہ یوتھ پروگرام کا آغاز ہوگیا۔ یہ پروگرام بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں طلبہ و طالبات کو مختلف اہم قومی و عالمی امور پر اظہارِ خیال، مکالمے، بحث و مباحثے اور مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے کہا کہ نوجوان بلوچستان کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو جدید مہارتوں، مثبت سوچ، قائدانہ صلاحیتوں اور کاروباری شعور سے آراستہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ BBOIT نوجوانوں کی صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ نوجوانوں کو کاروباری دنیا میں قدم رکھنے، اپنے آئیڈیاز کو عملی شکل دینے، سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے رہنمائی اور معاونت فراہم کرنا بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قائم لاشاری نے کہا کہ BMUN جیسے پروگرام نوجوانوں میں قیادت، تحقیق، مکالمے، فیصلہ سازی، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت نوجوانوں کو ترقی کے عمل میں مؤثر شراکت دار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ بھی نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
خبرنامہ نمبر 6955/2026
گوادر: رکنِ صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے محکمہ فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں قرعہ اندازی کے ذریعے سربندن کے 6، پشکان کے 6 اور گوادر شہر کے 20 ماہی گیروں میں گرین فائبر بوٹس کے کاغذات تقسیم کیے، جبکہ 2024ء کی قدرتی آفات سے متاثرہ 16 افراد میں مالی امداد کے چیکس بھی تقسیم کیے گئے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ماہی گیر دوست پالیسی، خصوصی وژن اور ہدایات کے تحت ماہی گیری کے شعبے کے فروغ، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور مستحق ماہی گیروں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، جس پر ہم وزیراعلیٰ بلوچستان کے شکر گزار ہیں انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو گرین فائبر بوٹس، مالی معاونت اور دیگر ضروری سہولیات کی شفاف و منصفانہ فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ضلع گوادر کے اورماڑہ، پسنی چر بندن اور دیگر ساحلی علاقوں کے ماہی گیروں میں بھی پہلے گرین فائبر بوٹس تقسیم کیے جا چکے ہیں رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ماہی گیری کالونی کے قیام اور ماہی گیروں کے لیے مختص 200 ایکڑ اراضی سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کا مقصد ماہی گیروں کو باعزت روزگار، جدید سہولیات اور معاشی استحکام فراہم کرکے ساحلی معیشت اور ماہی گیری کے شعبے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔تقریب میں ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم، اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز شاہ فہد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیونی بشیر کاکڑ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پسنی شاہ زیب اور محکمہ فشریز کے دیگر افسران نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر 6956/2026
موسی خیل:21اگست:ماہِ والدین کے سلسلے میں ایم سی ایچ ہال ضلعی دفتر محکمۂ صحت میں ڈائریکٹوریٹ آف نیوٹریشن بلوچستان اور یونیسیف کے تعاون سے ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا اس سیمینار کا مقصد والدین میں بچوں کی بہترین پرورش، متوازن غذا، ماں اور بچے کی صحت اور ابتدائی عمر میں مناسب نگہداشت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھاسیمینار میں ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن بکٹی، ڈسٹرکٹ نیو ٹریشن کوار ڈ ینیٹر شیر باز خان ، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی سید امان شاہ، ڈسٹرکٹ کوار ڈ ینیٹر نیشنل پروگرام جمیل احمد، ایل ایچ ایس آمنہ بی بی ماہرِ اطفال ڈاکٹر یاسین قیصرانی اور ضلع بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے بھرپور شرکت کی
مقررین نے اپنمے خطابات میں والدین کے اہم کردار، بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے، پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانے، حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت تکمیل، صفائی ستھرائی اور بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کیں سیمینار کے اختتام پر ماہِ والدین کی مناسبت سے ایک آگاہی واک بھی منعقد کی گئی، جس میں تمام شرکاء نے حصہ لیا۔ واک کا مقصد عوام میں بچوں کی بہتر پرورش، مناسب غذائیت اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔
اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ والدین کی بروقت رہنمائی، متوازن غذائیت اور صحت سے متعلق آگاہی کے ذریعے ایک صحت مند، مضبوط اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
خبرنامہ نمبر 6957/2026
موسیٰ خیل:21اگست:ایس پی کلیم اللہ کاکڑ کی ہدایات پر موسیٰ خیل پولیس کی جرائم پیشہ اور مفرور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں پولیس تھانہ درگ نے پولیس پارٹی کے ہمراہ مفرور ملزمان کے ٹھکانوں پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ FIR No. 02/2026 بجرم 324، 147، 148، 149 PPC میں مطلوب تین مفرور ملزمان کو گرفتار کر لیا گرفتار ملزمان میں قسمت خان ولد سرور جان عبد المجید ولد انور جان اور شعیب ولد شیر جان قوم بیغزئ ایسوٹ شامل ہیں ملزمان نے قتل کا بدلہ لینے کے لئے نعش لیکر جانیوالی ایمبولینس پر فائرنگ کی تھی
موسیٰ خیل پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر اور مفرور ملزمان کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری ہیں۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
موسیٰ خیل پولیس — عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے پُرعزم
خبرنامہ نمبر 6958/2026
پیر کوہ ، 21 اگست :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر پِیر کوہ واٹر سپلائی اسکیم کے لیے جرمنی سے درآمد کی گئی اعلیٰ معیار کی جدید مشینری پِیر کوہ پہنچ گئی، جہاں مشینری کی تنصیب کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے پِیر کوہ میں پانی کے دیرینہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے عملی اقدامات تیز کردیئے گئے ہیں۔ جدید اور معیاری مشینری کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد ان شاء اللہ پِیر کوہ کے عوام کو پانی کی فراہمی کے مسئلے سے مستقل نجات ملے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پِیر کوہ کے عوام کو بنیادی سہولت کی فراہمی کو حکومت کی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے پر کام تیز کرنے اور تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی ہےحکومت بلوچستان کے مطابق پِیر کوہ واٹر سپلائی اسکیم کی تکمیل سے علاقے کے عوام کو صاف اور وافر پانی کی فراہمی ممکن ہوگی اور پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔
خبرنامہ نمبر 6959/2026
اُستا محمد۔۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس تعلیمی امور اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ اُستا محمد میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شبیّر لانگو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُستا محمد جمن خان اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد رمضان اشتیاق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد اسماعیل، ٹیچرز یونین کے عہدیداران اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جاری تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے مختلف اسکولوں میں جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت، معیار اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے جاری منصوبوں میں تعمیراتی معیار کو یقینی بنانے اور تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی اجلاس میں RTSM کی رپورٹ کی روشنی میں طویل عرصے سے غیر حاضر اور مسلسل غیر حاضر اساتذہ کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 18 غیر حاضر اساتذہ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ ضابطے کے مطابق ضروری کارروائی کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے اجلاس میں کلسٹر بجٹ کے تحت مختلف تعلیمی اداروں کو فراہم کیے گئے فرنیچر ریڈنگ میٹریل اور رائٹنگ میٹریل کی فزیکل ویری فکیشن کے لیے مختلف ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔ یہ ٹیمیں متعلقہ اسکولوں کا گراؤنڈ ویری فکیشن کرکے فراہم کردہ سامان کی موجودگی، استعمال اور ریکارڈ کا جائزہ لیں گی اور آئندہ اجلاس میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں گی ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے صرف اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کافی نہیں بلکہ اساتذہ کی حاضری، تدریسی عمل، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں جاری ترقیاتی کاموں، بنیادی سہولیات اور فراہم کردہ تعلیمی و تدریسی سامان کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور اسکولوں میں ایسا سازگار تعلیمی ماحول یقینی بنایا جائے جہاں طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ بہتر بنیادی سہولیات بھی میسر ہوں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع اُستا محمد میں تعلیمی نظام کی بہتری اسکولوں کی کارکردگی میں اضافے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے
خبرنامہ نمبر 6960/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت الاٹمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈیرہ مراد جمالی شہر کے شہریوں کو اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ الاٹمنٹ احکامات موجودہ صورتحال اور شہریوں کی جانب سے طویل عرصے سے پیش کیے جانے والے مطالبے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے تحت اراضی کی الاٹمنٹ کا عمل جدید سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے مکمل کیا جانا تھا تاہم بعض تکنیکی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر یہ عمل تاحال پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا، جس کے باعث الاٹمنٹ کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی کے شہریوں کی دیرینہ ضرورت اور ان کے جائز مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے الاٹمنٹ کے عمل کو جلد ہی مزید مؤثر اور تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے انہوں نے کہا کہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس لیے الاٹمنٹ کے عمل میں تمام قانونی تقاضوں حکومتی احکامات اور شفافیت کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ الاٹمنٹ سے متعلق ریکارڈ دستاویزات اور دیگر ضروری امور کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی پیچیدگی پیدا نہ ہو اور اہل شہریوں کو ان کا جائز حق بروقت فراہم کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ الاٹمنٹ کا چند دنوں میں آغاز کیا جائے گا اور الاٹمنٹ کے عمل میں میرٹ شفافیت اور قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے گی جبکہ شہریوں کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے
خبرنامہ نمبر 6961/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کے بقایاجات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ریونیو افسران اور متعلقہ اہلکاروں نے شرکت کی اس موقع پر ریونیو افسران نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع نصیرآباد میں عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی بقایاجات کی موجودہ صورتحال اور وصولی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں مختلف مدات میں واجب الادا رقوم وصول شدہ محصولات اور بقایاجات کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا جبکہ بقایاجات کی وصولی میں درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ سرکاری محصولات کی بروقت اور مکمل وصولی ضلعی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے انہوں نے ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ عشر آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کے بقایاجات کی وصولی کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جائے اور تمام متعلقہ افراد کو واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے مزید انہوں نے کہا کہ محصولات کی وصولی کے عمل میں شفافیت میرٹ اور قانون و ضابطے کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے بقایاجات کی وصولی کے لیے فیلڈ میں عملی اقدامات کیے جائیں اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ رکھا جائے اور وصولی کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے سرکاری محصولات کی وصولی کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر 6962/2026
سوراب21 اگست:ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور جرائم پیشہ و مشتبہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں سنیپ چیکنگ کا عمل مزید مؤثر اور سخت کر دیا گیا ہے۔ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او بلاول بلوچ، ایس ایچ او سٹی محمد یونس محمد شہی اور آئی پی عبدالخالق کی نگرانی میں سوراب شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر پولیس کی جانب سے سنیپ چیکنگ کے لیے ناکے قائم کیے گئے ہیں، جہاں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور مشکوک افراد کی مکمل چیکنگ کی جا رہی ہےسسنیپ چیکنگ کے دوران پولیس اہلکار مشکوک گاڑیوں اور افراد کی تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ ضروری کوائف اور دستاویزات بھی چیک کر رہے ہیں، جبکہ مشتبہ نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہےسوراب پولیس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام تک چیکنگ اور نگرانی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا مشتبہ شخص کی موجودگی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
خبرنامہ نمبر 6963/2026
کوئٹہ 21اگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی خصوصی ہدایت پر شہر میں تجاوزات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں مزید تیزی آگئی۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے موتی رام روڈ، قندھاری بازار، توغی روڈ اور لیاقت بازار سمیت مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران دکانوں کے سامنے فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر رکھے گئے سامان، عارضی تجاوزات اور اضافی تعمیرات کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا جبکہ بعض غیر قانونی تعمیرات کو مسمار بھی کر دیا گیا۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے عملے نے دکانداروں کو واضح ہدایت کی کہ وہ اپنی دکانوں کی مقررہ حدود کے اندر ہی سامان رکھیں اور فٹ پاتھ یا سڑک پر کسی قسم کی تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں۔اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں کو تنبیہ کی گئی کہ شہر میں ٹریفک کی روانی، پیدل چلنے والوں کی سہولت اور شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائی بلاامتیاز جاری رہے گی، لہٰذا دکاندار ازخود اپنی تجاوزات ختم کریں ۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کے حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ حکام کا کہنا تھا کہ صاف، منظم اور تجاوزات سے پاک کوئٹہ کی تشکیل صرف انتظامیہ کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا اور عوامی گزرگاہوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر غیر قانونی قبضے یا تجاوزات کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 6964/2026
نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ایس ڈی او بلڈنگ عابد علی پہنور، ایس ڈی او روڈ نادر علی اور سب انجینئر اصغر علی چنہ کے ہمراہ نصیرآباد کے مختلف علاقوں میں جاری عوامی فلاح و بہبود کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اس موقع پر انہوں نے مختلف منصوبوں پر جاری و مکمل شدہ تعمیراتی کام و استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کام کے معیار ان کی رفتار اور منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے جن منصوبوں کا معائنہ کیا ان میں بلیک ٹاپ روڈ بیر چوک سے شفیع محمد لہڑی، بلیک ٹاپ روڈ باری شاخ سے اسداللہ خان بگٹی، بلیک ٹاپ روڈ باری شاخ سے دارا خان بگٹی اور بلیک ٹاپ روڈ باری شاخ سے مہر علی عمرانی شامل ہیں انہوں نے متعلقہ افسران سے سڑکوں کی تعمیر کے مختلف مراحل، معیار اور تکمیل کی مقررہ مدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی لی.اسی طرح ڈپٹی کمشنر نے بنیادی مرکزِ صحت (RHC) بہرام خان بلیدی کے لیے رہائشی کوارٹرز کی تعمیر بنیادی مرکزِ صحت (RHC) بہرام خان بلیدی کی تعمیر کا معائنہ کیا علاوہ ازیں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول صالح محمد پندرانی کی چار دیواری، گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول نور محمد مینگل کی چار دیواری، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول نور محمد مینگل کے لیے BSDI فیز ون کے تحت دو اضافی کمروں کی تعمیر و بلیک ٹاپ روڈ گل حاکم تا میرحسن کا بھی معائنہ کیا اس کے علاوہ انہوں نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بہادر خان مینگل کے لیے شیلٹر سے محروم اسکول کی عمارت کی تعمیر اور بنیادی مرکزِ صحت (BHU) میر بہادر خان مینگل کو رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ انجینئرز اور تعمیراتی عملے کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے براہِ راست عوام کی بنیادی ضروریات سے وابستہ ہیں اس لیے ان کی تعمیر میں معیار شفافیت اور پائیداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر سے دیہی علاقوں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ صحت اور تعلیمی اداروں سے متعلق منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو ان کے علاقوں میں بنیادی صحت اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا متعلقہ افسران منصوبوں کی تعمیر میں مقررہ معیار اور منظور شدہ ڈیزائن و تخمینے کے مطابق کام کو یقینی بنائیں اور تعمیراتی مراحل کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ سرکاری وسائل کا درست اور مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو سہولیات فراہم کرنا اور ان کے مسائل میں کمی لانا ہے لہٰذا منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ان کے ثمرات بلاامتیاز عام لوگوں تک پہنچیں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری و مکمل منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور تعمیراتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی نگرانی جاری رکھے گی اور ترقیاتی کاموں کے معیار و رفتار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے وسائل کو عوام کی بہتری کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 6965/2026
کوئٹہ، 21 اگست:صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی نے مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں 37 دہشت گردوں کا انجام تک پہنچنا سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے، کامیاب کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اور فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز کی جرات، بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم قابلِ فخر ہے۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیوں سے امن دشمن عناصر کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ریاستی ادارے پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء اور غازیوں کی قربانیاں قوم کے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کا سفر روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔میر ظہور بلیدی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم غیر متزلزل ہے، ریاستی ادارے قوم کے تعاون سے امن دشمن عناصر کا مکمل تعاقب جاری رکھیں گے۔






