خبرنامہ نمبر6575/2026
کوئٹہ۔ 31 جولائی:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے استحکام کیلئے بہادر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ایک منظم سازش کے تحت جہاں ایک طرف ریاست کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے دہشتگردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں اس کا الزام بھی ریاست پر عائد کرکے انتشار پھیلانے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی جانب دھکیلا جاررہا ہے ،بلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی، ملک کو تقسیم کرنے کی خواہش رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف ریاست ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کو سیاست سے نہ جوڑیں کیونکہ اس وقت ریاست کو سیاست کی نہیں بلکہ ریاست کے استحکام، قومی اتحاد اور عوام کی یکجہتی کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ میں اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) ٹریننگ اسکول میں 20 ویں ٹریننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور کمانڈنٹ اے ٹی ایف اسد خان نے بھی خطاب کیا جبکہ قبل ازیں اے ٹی ایف کے جوانوں نے انسداد دہشت گردی کی پیشہ ورانہ تربیت، جنگی مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور اسپیشل آپریشنز ونگ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت ان فورسز کو مزید مضبوط، جدید اور مؤثر اسٹرائیکنگ فورس کی شکل دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان فورسز کو جدید اسلحہ، آلات، تربیت اور تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ دہشت گردی کے ناسور کا مؤثر انداز میں خاتمہ کر سکیں انہوں نے اے ٹی ایف میں شامل ہونے والی تین خواتین کانسٹیبلز کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ امن، قانون کی بالادستی اور وطن کے دفاع کے لیے آگے بڑھ رہی ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے باعث فخر اور دیگر نوجوان خواتین کے لیے مشعل راہ ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کا مقدس خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کو ترقی، تعلیم اور خوشحالی کے سفر سے روکنا چاہتے ہیں لیکن حکومت، سیکیورٹی فورسز اور عوام کے اتحاد سے ان کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے وزیراعلیٰ نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ وطن کی حفاظت کے لیے شدید گرمی، سخت سردی اور مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے پولیس اور سیکیورٹی اہلکار پوری قوم کے ہیرو ہیں، ان کی قربانیوں کو سیاست سے جوڑنا قومی مفاد کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے جس سے انہیں صرف بدامنی، پسماندگی، تعلیم اور ترقی کے مواقع سے محرومی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ریاست ان کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے اور ان کی بحالی، تعلیم، روزگار اور سماجی انضمام کے لیے جامع منصوبہ موجود ہے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر کوئی بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتا ہے تو اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی، تشدد اور بربریت کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے اور اس جنگ میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈبلیو کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ شہداء کے خاندانوں کی مزید معاونت اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی حکومت بلوچستان اٹھائے گی انہوں نے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ، ٹرینرز کی بنیادی تنخواہوں میں اضافے اور فیڈنگ چارجز پر نظرثانی کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے اور انہیں جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل مہیا کرے گی وزیراعلیٰ نے پاسنگ آؤٹ کرنے والے جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ بلا خوف و خطر عوام، صوبے اور قومی پرچم کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری سے انجام دیں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن کے قیام کو یقینی بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر6576/2026
کوئٹہ، 31 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کے میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال میں بلڈ بینک کے مکمل طور پر فعال ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ضلع کے عوام کے لیے صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ بلڈ بینک کے فعال ہونے سے مریضوں کو بروقت، محفوظ اور معیاری خون کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے قیمتی انسانی جانیں بچانے میں مدد ملے گی اور ہنگامی طبی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے گا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ “الحمدللہ! عوامِ ڈیرہ بگٹی کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال میں بلڈ بینک اب مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔” انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک نئی طبی سہولت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو ضرورت مند مریضوں کو بروقت اور محفوظ خون کی فراہمی یقینی بنائے گا اور بے شمار قیمتی جانوں کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کے لیے یہ لمحہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان کے مرحوم والد میر غلام قادر بگٹی کی یاد میں قائم اس ہسپتال میں عوامی خدمت کے لیے ایک اور بنیادی سہولت کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے عوام کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں اور بلڈ بینک کا قیام اسی وژن کی عملی تعبیر ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس منصوبے کی تکمیل میں کردار ادا کرنے والے ڈاکٹروں، طبی عملے، محکمہ صحت، متعلقہ اداروں اور تمام معاون افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے منصوبے حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اس ادارے کو ہمیشہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنائے اور حکومت کو عوام کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
خبرنامہ نمبر6577/2026
کوئٹہ، 31 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع خضدار میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ایک بڑے دہشتگرد منصوبے کو ناکام بنا کر بے شمار قیمتی انسانی جانیں محفوظ بنائیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں بارودی مواد سے بھری دو گاڑیوں کو، جو خودکش حملوں کے لیے تیار کی گئی تھیں، بروقت نشانہ بنا کر تباہ کیا اور انہیں چلانے والے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے چار دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کامیابی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، مستعدی اور قومی سلامتی کے لیے غیرمتزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم ریاست، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنائیں گے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ “عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی اور بلوچستان میں امن و امان کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک دشمن عناصر کے لیے پاکستان، بالخصوص بلوچستان، میں کوئی جگہ نہیں۔
خبرنامہ نمبر6578/2026
کوئٹہ، 31 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سورینج میں کوئلہ کان کے افسوسناک حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے وزیر اعلیٰ نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل دے۔ میر سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کو ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کرکے حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور تفصیلی رپورٹ فوری طور پر پیش کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی سطح پر غفلت، کوتاہی یا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ کان کنوں کی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے بھر کی کوئلہ کانوں میں حفاظتی معیارات اور مائننگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر6579/2026
کوئٹہ، 31 جولائی :معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ سورینج میں کوئلہ کان کے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے لواحقین کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فی کس پانچ لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے شاہد رند نے کہا کہ جاں بحق کان کنوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں تک باعزت طریقے سے پہنچانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے انہوں نے کہا کہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں جائے حادثہ پر مکمل مستعدی کے ساتھ ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ذریعے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس افسوسناک سانحے پر غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد کو یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر6580/2026
کوئٹہ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بلوچستان پرائس کنٹرول اور منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام ایکٹ 2026 کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت نے صوبے میں قیمتوں کے استحکام، ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی مسودہ “بلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پریوینشن آف منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ 2026” تیار کیا ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ مجوزہ قانون 1977 کے قدیم وفاقی فریم ورک کی جگہ لے گا اور صوبائی سطح پر موثر نفاذ کے لیے جدید اور مضبوط انتظامی ڈھانچے اور کاروائیوں کا تعین کرتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد قیمتوں کا کنٹرول صوبائی موضوع ہے؛ موجودہ 1977 کا ایکٹ وفاقی دور کا رہ جانے والا ہے۔ مجوزہ 2026 ایکٹ مکمل طور پر صوبائی اختیارات اور ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون میں پرائس کنٹرول کونسل، صوبائی کنٹرولر جنرل اور ڈپٹی کمشنرز کو ضلع کنٹرولرز کے طور پر تعین کرنے سمیت ایک مربوط کمانڈ اسٹرکچر وضع کیا گیا ہے تاکہ تیز، مربوط اور حسابی کارروائی یقینی بنائی جا سکے، اور یہ مسودہ قانون کو موجودہ صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا تاکہ رائے شماری اور درکار ترامیم کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جا سکے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول وزارتِ قانون، محکمہ کموڈٹی مینجمنٹ، ضلعی انتظامیہ، اور تجارتی نمائندوں کو مشاورت کے لیے شامل کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے، مارکیٹ میں منصفانہ رویہ یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف مؤثر کاروائی کے لیے اس قانونی اصلاحات کے نفاذ کی خواہاں ہے۔ مجوزہ ایکٹ کے ذریعے صوبے میں قیمتوں کے استحکام، کھاد، خوراک اور ضروری اشیائے خوردونوش کی دستیابی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سیکرٹری کموڈیٹی منیجمنٹ ارشد حسین بگٹی، سپیشل سیکرٹری داخلہ عبدالسلام اچکزئی و دیگر نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر6581/2026
کوئٹہ 31 جولائی :جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے میر نصیب اللہ خان کی طرف سے دائر کردہ الیکشن پٹیشن نمبر 52؍2024 پر فیصلہ سناتے ہوئے PB 09 کوہلو سے کامیاب ہونے والے امیدوار نواب جنگیز خان مری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن مورخہ 04 جولائی 2024 کو کا لعدم قرار دیتے ہوئے چار پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم جاری کر دیا اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ الیکشن قوانین اور رولز کے مطابق چار پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ صاف و شفاف الیکشن کروائے جائیں۔
خبرنامہ نمبر6582/2026
کوئٹہ: ایوب سپورٹس کمپلیکس میں محکمہ کھیل حکومتِ بلوچستان کی جانب سے تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کے بعد بلوچستان سپورٹس بورڈ کرکٹ اکیڈمی کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح صوبائی مشیرِ کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے ربن کاٹ کر کیا، اس موقع پر سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان دُرا بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری کھیل سجاد اسلم، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کوئٹہ ارسلان خان، اکیڈمی کوچ بشیر مگسی، اکیڈمی کوچ ارباب شاکر و دیگر عہدیداران سمیت اکیڈمی کے کھلاڑیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی مشیرِ کھیل مینا مجید بلوچ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نوجوانوں کو معیاری کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مسلسل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کر کے درپیش مسائل اور موجودہ سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد اکیڈمی کی بہتری اور اپ گریڈیشن کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اکیڈمی میں پہلے صرف دو کرکٹ پچز موجود تھیں جن کی تعداد بڑھا کر دس کر دی گئی ہے، جبکہ تمام پچز پر اعلیٰ معیار کے نیٹس بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈریسنگ رومز اور واش رومز کی مکمل تزئین و آرائش کے ساتھ انہیں فعال بنایا گیا ہے، فرش پر ٹف ٹائلز لگائی گئی ہیں، پینے کے صاف پانی کے لیے واٹر فلٹریشن سسٹم نصب کیا گیا ہے اور بجلی کا درپیش مسئلہ بھی حل کر دیا گیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری کھیل دُرا بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے کرکٹرز نے ہر سطح پر اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ محکمہ کھیل کا بنیادی مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو جدید تربیتی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام صوبوں کے کھلاڑیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں اور بلوچستان کے باصلاحیت کرکٹرز کو بھی قومی سطح پر بھرپور نمائندگی دی جانی چاہیے۔
خبرنامہ نمبر6583/2026
تربت یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک وزراعت کے تعاون سے بلوچستان میں آبی وسائل کی بحالی اورچراگاہوں کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کا عزم یونیورسٹی آف تربت اور بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے مابین ریواؤل آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام پر عملدرآمد کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم اویو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں جامعات اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک وزراعت کے تعاون سے بلوچستان میں آبی وسائل کی بحالی اورچراگاہوں کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مالی تعاون سے جاری اس پروگرام کا بنیادی مقصد بلوچستان میں پانی کے بحران پر قابو پانا، زراعت، لائیوسٹاک اور چراگاہوں کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ جامعہ تربت میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران تربت یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار غوث بخش بلوچ اور انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کی جانب سے پروجیکٹ مینیجر انجینئر شکیل احمد نے معاہدے پر دستخط کیے۔اس اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت دونوں جامعات موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور زمین کے بہتر استعمال کے حوالے سے مشترکہ طور پر سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کریں گے۔ اس کے علاوہ مقامی کمیونٹیزکے لیے خصوصی تعلیمی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی اور مختلف سرگرمیوں میں طلبہ کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ معاہدے کے تحت متعلقہ جامعات میں نالج کارنرز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ تحقیق و معلومات تک رسائی کو آسان بنایا جا سکے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اپنے خصوصی پیغام میں اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہاہے کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے جامعہ تربت کی سنجیدہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وائس چانسلر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تربت یونیورسٹی، انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور دیگر شریک اداروں کے ساتھ مل کر جنوبی بلوچستان میں مقامی آبادی کے ذرائع معاش میں بہتری، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔
خبرنامہ نمبر6584/2026
موسیٰ خیل:ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت 14 اگست یومِ آزادی اور یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے ایک اہم انتظامی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے شرکت کی جس میں دونوں قومی ایام کو انتہائی شایانِ شان، جوش و جذبے اور منظم طریقے سے منانے کے لیے حتمی فیصلوں پر غور کیا گیا اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اس سال جشنِ آزادی کو ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں سرکاری عمارتوں پر چراغاں، قومی پرچموں کی آویزیش اور ضلعی سطح پر پروقار تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران یومِ استحصال کے حوالے سے بھی خصوصی پروگرامز کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد کو اجاگر کیا جا سکیڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی پوری تندہی اور ذمہ داری سے انجام دیں، اور تمام تقریبات کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنائیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے واضح الفاظ میں کہا کہ “اس دفعہ یومِ آزادی کو روایتی انداز سے ہٹ کر انتہائی شایانِ شان طریقے سے منایا جائے گاانہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف پروگرامز اور تقریبات کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر6585/2026
موسیٰ خیل 31 جولائی :ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک سے زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد نے صدر ملک عصمت اللہ کی قیادت میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع موسیٰ خیل میں کسانوں اور زمینداروں کو درپیش مسائل اور زراعت کی بہتری کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث آئے۔ ملاقات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:وفد نے ضلع میں تیزی سے پھیلنے والی مضر صحت اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والی جڑی بوٹی پارتھینیم ؍ گاجر بوٹی سمیت دیگر جڑی بوٹیوں کے خطرات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر زرعی زمینوں کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر سپرے مہم چلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے باعث کسانوں کی تیار فصلوں اور باغات کو پہنچنے والے شدید نقصانات پر بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا اور اس کے علاؤہ متاثرہ زمینداروں کی بحالی اور امداد کا معاملہ بھی زیرِ غور لایا گیا۔وفد نے ضلع موسیٰ خیل میں قدرتی ماحول کو زیتون (Olive) کی کاشت کے لیے سازگار قرار دیتے ہوئے اس کے معاشی اور زرعی فوائد پر تفصیلی گفتگو کی گئی، تاکہ مقامی کسانوں کو زیتون کی کاشت کی طرف راغب کیا جا سکے۔اس موقع پر وفد نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دلایا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔تربت.31 جولائی 2026: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے تحصیل بلیدہ میں سرکاری رٹ کے مؤثر نفاذ اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے بلیدہ ماڈل ٹاؤن میں قائم غیر قانونی تعمیرات کا سخت نوٹس لیا۔ موقع پر پہنچ کر متعلقہ تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد قوانین کی خلاف ورزی پر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیر، تجاوزات یا قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا قانون کی عملداری کو یقینی بنانے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔بعدازاں اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے شہید ایوب بلیدئی ماڈل اسکول کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا، استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کے معیار کو باریک بینی سے چیک کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تعمیراتی منصوبہ مقررہ معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کے اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں اعلیٰ معیار، شفافیت اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گاجبکہ ناقص تعمیراتی کام یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال پر متعلقہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عوامی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی کی بروقت، جرأت مندانہ اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے قانون کی بالادستی، سرکاری رٹ کے استحکام اور عوامی مفاد کے تحفظ کی جانب ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔حکومتِ بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے متحرک، دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح
خبرنامہ نمبر6586/2026
گوادر؍پسنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ صحت گوادر اپنی سرگرمیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے پاک عمان ہسپتال پسنی، سول ڈسپنسری ریک پشت اور بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) ببر شور کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر یاسر طاہر نے صحت مراکز میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات کے ذخیرے، طبی آلات، عملے کی حاضری، او پی ڈی ریکارڈ، صفائی کی صورتحال اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں اور مقامی افراد سے بھی ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل معلوم کرتے ہوئے ان کے بروقت اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے طبی عملے پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں، مریضوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور سرکاری اوقات کار کے دوران عوام کو بلا تعطل معیاری طبی سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی مراکز میں ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری اور علاج معالجے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ صحت گوادر دور افتادہ علاقوں تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، بنیادی مراکز صحت کی فعالیت میں بہتری اور عوام کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ضلعی محکمہ صحت کی جانب سے جاری مانیٹرنگ اور مسلسل فیلڈ وزٹس کے باعث صحت مراکز کی کارکردگی میں بہتری آرہی ہے، جبکہ عوام کو بہتر، بروقت اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا سلسلہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر6587/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے ہر شہری تک معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پی پی ایچ آئی بلوچستان اپنی نگرانی اور خدمات کو مزید مؤثر بنا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) گھٹی دور کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹ، ایم این سی ایچ سینٹر، ادویات کے دستیاب ذخیرے، طبی آلات، مریضوں کے اندراج، صفائی کی صورتحال اور دیگر انتظامی و طبی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے صحت مرکز میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں دستیاب علاج معالجے کی سہولیات اور درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر ڈاکٹر مرشد دشتی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بنیادی صحت کے نظام کو مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی کا بنیادی مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری، بروقت اور بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ ہر شہری کو بہتر علاج کی سہولت میسر آ سکے۔انہوں نے طبی عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں، مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور علاج معالجے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور صحت مراکز کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی جاری رہے گی، جبکہ غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان حکومتِ بلوچستان کی صحت عامہ سے متعلق پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل کرتے ہوئے ضلع گوادر کے شہری اور دور افتادہ علاقوں کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی خدمات اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مضبوط بناتی رہے گی۔
خبرنامہ نمبر6588/2026
کوئٹہ 30 جولائی :بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی سے جمعرات کے روز ان کے دفتر میں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کے وفد نے چئرمین میر نواب خان مینگل کی سربراہی میں ملاقات کی۔ وفد میں بلوچستان پرچون گڈز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد فاروق اور دیگر رہنما بھی شامل تھے۔وفد نے صوبائی وزیر کو صوبے بھر میں کشیدہ حالات کے باعث ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔ وفد کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کی گاڑیاں پورے ملک میں سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران بلوچستان میں ان کی 187 گاڑیاں سامان سمیت چھین لی گئیں جبکہ پچھلے ہفتے مزید 13 گاڑیاں چھینے جانے کے واقعات رونما ہوئے۔ وفد نے خبردار کیا کہ اگر گاڑیوں کو چھیننے اور نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ مجبوراً پورے ملک میں ہڑتال کی کال دیں گے۔ اس موقع پر میر محمد صادق عمرانی نے وفد سے کہا کہ وہ ہڑتال سمیت ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جن سے عوام الناس براہِ راست تکلیف میں مبتلا ہوں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت خود کو عوام کی جان و مال کا محافظ سمجھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی کابینہ صوبے کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور قیامِ امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، جس کے ثمرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔وفد نے صوبائی وزیر سے استدعا کی کہ وہ وزیر اعلیٰ سے ان کی ملاقات کروائیں تاکہ وہ اپنے مسائل براہِ راست وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھ سکیں۔ صوبائی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات سمیت ان کے تمام جائز مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر6589/2026
کوئٹہ،31 جولائی :انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پولیس شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ قومی سلامتی اور اور امن و امان کے قیام کے لیے بلوچستان پولیس اپنا اہم کردار ادا کرتی رہی گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کوئٹہ میں 20 ویں بیسک ٹریننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بلوچستان پولیس کے 284 اہلکار جن میں 3 لیڈی کانسٹیبل شامل ہیں انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ پہلی بار ڈسٹرکٹ پولیس کی تین خواتین اہلکاروں نے دضاکارانہ طور پر انسداد دہشت گردی کورس میں مردوں کے شانہ بشانہ تربیت حاصل کی قوم کی یہ بیٹیاں ہمارے لئے قابل فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان بالخصوص بلوچستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے، آئی جی پولیس نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پیشہ ورانہ تربیت میں اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول بنیادی اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے دوران بلوچستان پولیس کے افسران اور جوانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بلوچستان پولیس کو ہر سطح پر بھرپور اور مکمل معاونت حاصل ہے ۔ وزیر اعلی بلوچستان نے پولیس کی تربیت اور ادارے کی استعداد کار میں اضافے کے لیے متعدد اہم اور گرانقدر اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2013 سے قبل بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے کوئی باقاعدہ ٹریننگ سینٹر موجود نہیں تھا تاہم آج اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول اس شعبے میں اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔آئی جی پولیس نے امید ظاہر کی کہ پاس آؤٹ ہونے والے اہلکار اپنے اضلاع میں جائے تعیناتی پر پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے صوبے میں عوام کے تحفظ اورامن و امان کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے.
خبرنامہ نمبر6590/2026
گوادر؍جیوانی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور عوامی خدمت پر مبنی پالیسیوں کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایات پر سب ڈویژن جیوانی میں عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنے کے سلسلے میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کوہ سر میں اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق علی کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں اکڑا بریگیڈ کے نمائندے، چئرمین میونسپل کمیٹی جیوانی اکرم حیات، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیوانی زاہد حسین، پولیس، صحت، کیسکو، ریونیو، میونسپل کمیٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان کے علاوہ عوامی نمائندوں، کونسلرز، چئرمین حضرات، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کے مطابق عوام کو فوری، شفاف اور مؤثر خدمات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوامی مسائل براہِ راست سن کر متعلقہ اداروں کے ذریعے ان کا بروقت اور پائیدار حل یقینی بنانا ہے۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے سیکیورٹی انتظامات اور سڑکوں کی بندش کے اوقات، پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس کے اجرا، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، رورل ہیلتھ سینٹر جیوانی کی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، غیر قانونی ٹرالنگ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور منشیات فروشی سمیت متعدد اہم عوامی مسائل اجاگر کیے۔فورم کو آگاہ کیا گیا کہ رورل ہیلتھ سینٹر جیوانی کی مرمت و بحالی کے لیے 28 ملین روپے منظور ہوچکے ہیں اور ٹینڈر کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، جس کی تکمیل سے صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔پینے کے پانی کی قلت کے مسئلے پر فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے متعلقہ افسران کے ساتھ فوری اجلاس منعقد کرکے پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ میونسپل کمیٹی جیوانی کو پیدائش و وفات کے اندراج کے کمپیوٹرائزڈ نظام (CRSM) کو فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت دی گئی۔جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، جن میں بی ایچ یو بندری، فٹبال گراؤنڈ جیوانی، گبد مڈل اسکول اور مختلف تعلیمی اداروں کی چار دیواریوں کی تعمیر شامل ہے، ان کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے اسسٹنٹ کمشنر جیوانی نے متعلقہ انجینئرز اور ٹھیکیداروں کے ہمراہ منصوبوں کا مشترکہ معائنہ کرنے اور پی سی ون کے مطابق کام کی رفتار اور معیار یقینی بنانے کا اعلان کیا۔ماہی گیر برادری کی جانب سے غیر قانونی ٹرالنگ پر شدید تحفظات کے اظہار کے بعد محکمہ فشریز کو ہدایت کی گئی کہ ممنوعہ علاقوں میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سمندری وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔بازاروں میں ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کی شکایات پر سب ڈویژن جیوانی میں پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کرنے، اشیائے ضروریہ کی سرکاری نرخ نامے کے مطابق فروخت اور باقاعدہ مارکیٹ انسپکشن کے ذریعے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔اسی طرح منشیات فروشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی گئی کہ منشیات فروش عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنایا جا سکے۔کھلی کچہری کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوامی خدمت کے وژن، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی مؤثر قیادت اور ضلعی انتظامیہ کی مربوط حکمت عملی کے تحت عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، بہتر طرز حکمرانی اور شہریوں کو معیاری سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے ایسے عوامی رابطہ پروگرام باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 6591/2026
کوئٹہ۔ 31 جولائی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈیرہ بگٹی میں ایف سی بلوچستان کے جوانوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ریاست کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے حملے میں ایف سی بلوچستان کے دو بہادر جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے وطن کے امن، سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پوری قوم ان کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھے گی اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتی رہے گی میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعا کا اظہار بھی کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز، ایف سی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت، عزم اور قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔ بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل دے، زخمی اہلکاروں کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے ہمیشہ محفوظ رکھے
خبرنامہ نمبر 6592/2026
کوئٹہ 31 جولائی :بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے سورینج میں کوئلہ کان کےافسوسناک حادثے میں مزدور کانکنوں کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ غریب کانکن ملک کے دور دراز علاقوں سے یہاں آکر اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے کانکنی کے خطرناک اور مشکل روزگار سے وابستہ ہیں۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ مائنز اونرز اور دیگر متعلقہ افراد اگر اس طرح کے خطرناک حادثات کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر اور وضع کردہ قوانین پر عملدرآمد کریں تو ممکنہ حد تک ان حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ صوبائی وزیر نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام کوئلہ کانوں میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے حادثے میں جانبحق افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
خبرنامہ نمبر 6593/2026
اسلام آباد، 31 جولائی: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی ملکی تعمیر و ترقی کی بنیاد ہے، وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں، سرمایہ کاروں کو محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اکنامک سمٹ 2026 کے دوسرے روز فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے زیرِ اہتمام منعقدہ “بلوچستان” کے موضوع پر پینل ڈسکشن میں کاروباری برادری سے خطاب کے دوران کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بلوچستان کی وسیع اور غیر استعمال شدہ معاشی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صوبے میں موجود متنوع سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، معدنیات، زراعت، توانائی، سیاحت اور ساحلی ترقی سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے غیر معمولی امکانات رکھتا ہے۔ بلال خان کاکڑ نے اس موقع پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی جانب سے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر (BFC) ایک مؤثر ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر سرمایہ کاروں کو رہنمائی، سہولت کاری اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے کی خدمات فراہم کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، شفاف اور تیز بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی پالیسیوں کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور صوبے میں پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے. انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں موجود مواقع سے استفادہ کرے اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور BBoIT سرمایہ کاروں کے ساتھ ہر مرحلے پر مکمل تعاون اور سہولت فراہم کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 6594/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہریوں کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ صحت گوادر متحرک ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) نگور شریف کا تفصیلی دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے طبی عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی کی صورتحال، ریکارڈ کی جانچ اور مجموعی انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عملے سے ملاقات کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مریضوں کو معیاری، بروقت اور خوش اخلاقی کے ساتھ طبی خدمات فراہم کی جائیں تاکہ عوام کا سرکاری صحت کے نظام پر اعتماد مزید مستحکم ہو۔ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں دور افتادہ علاقوں کے عوام تک بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع بھر کے تمام بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ نگرانی کا سلسلہ جاری ہے تاکہ طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ صحت گوادر عوام کو معیاری، شفاف اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام دیتا رہے گا، جبکہ صحت کے مراکز کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
خبرنامہ نمبر 6595/2026
کوئٹہ 31 جولائی:عدالت عالیہ بلوچستان کے معزز جج صاحبان کی کمیٹی کا ایک اجلاس معزز چیف جسٹس، جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں معزز چیف جسٹس اور معزز جج صاحبان کی جانب سے نہایت گہرے رنج والم کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا گیا کہ 23 جولائی 2026ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن بج، جناب عبدالحلیم کاکڑ (مرحوم) کو ولی خان کراسنگ کے قریب ایک مسلح حملے میں اس وقت شہید کر دیا گیا، جب وہ اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں کوئٹہ سے مستونگ جارہے تھے۔ جناب عبدالحکیم کاکر (مرحوم) ایک نہایت دیانت دار ، فرض شناس، با کردار اور محب وطن عدالتی افسر تھے، جن کی پیشہ ورانہ ساکھ ہر قسم کے داغ سے پاک اور بے مثال تھی۔ انہوں نے اپنی پوری عملی زندگی کے دوران غیر متزلزل دیانت، بے لوث وابستگی، انتھک محنت اور بے مثال جرات کے ساتھ انصاف کی فراہمی کے مقدس فریضے کی انجام دہی کی۔ دوران منصبی فرائض اپنی جان کا عظیم ترین نذرانہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرض شناسی، جرات اور ایثار کی ایک درخشاں مثال قائم کی، اور راہ خدمت میں شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔معزز چیف جسٹس اور معزز جج صاحبان کی جانب سے اس افسوسناک واقعے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق علی لاشاری کے زخمی ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔ مزید اس اندوہناک سانحے میں سیشن جج کے بہادر گن مین شہید محمد زمان کو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بہادری، وفاداری اور فرض شناسی کی لازوال مثال قائم کرنے پر عدلیہ ان کی خدمات اور ایثار کو انتہائی قدر واحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور تعالی سے دعا گو ہے کہ وہ شہید محمد زمان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین







