28th-July-2026

خبرنامہ نمبر6491/2026
کوئٹہ 28جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قائد اعظم لائبریری کوئٹہ کے طلبہ کی دہائی پر فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں چیف منسٹر سیکرٹریٹ مدعو کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے تفصیلی ملاقات کی، ان کے مسائل، تجاویز اور ضروریات بغور سنیں اور موقع پر ہی متعدد اہم فیصلے کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر قائد اعظم لائبریری کوئٹہ کو پاکستان کی مثالی اور جدید لائبریری بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ تین ماہ کے اندر اس ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لائبریری میں جدید ڈیجیٹل لیب قائم کی جائے، مختلف شعبہ جات سے متعلق نئے ایڈیشن کی معیاری کتابیں فراہم کی جائیں، جبکہ کولنگ سسٹم اور سولر سسٹم کو فوری طور پر فعال بنایا جائے تاکہ طلبہ کو بہترین تعلیمی اور مطالعاتی ماحول میسر آ سکے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو اپنی ترقیاتی پالیسیوں کا محور سمجھتی ہے اور ان کی آراء ، تجاویز اور مسائل کو براہ راست سننا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان اعتماد اور روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ایک بااعتماد، باصلاحیت اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم، تحقیق، مطالعہ اور جدید علوم تک رسائی نوجوانوں کا بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی کے لیے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان بھر میں تعلیمی اداروں اور لائبریریوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور علمی ترقی کے یکساں مواقع میسر آ سکیں ملاقات کے دوران طلبہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ان کے مسائل کے فوری حل، قائد اعظم لائبریری کی بہتری کے لیے کیے گئے اعلانات اور نوجوانوں سے براہ راست مکالمے کے عمل کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو تعلیم دوست اور نوجوان دوست وژن کا عملی مظہر قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6492/2026
کوئٹہ، 28 جولائی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کو یہاں ڈاکٹرز تنظیموں کے ایک نمائندہ وفد نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ملاقات کی اور انہیں صوبے میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل، ڈاکٹرز کو درپیش پیشہ ورانہ امور اور طبی سہولیات کی بہتری سے متعلق مختلف تجاویز سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی بھی موجود تھے وفد میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کوئٹہ کے صدر ڈاکٹر نادر اچکزئی، سینئر نائب صدر ڈاکٹر کامیار خان، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب بلوچ، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ڈاکٹر حفیظ مندوخیل، ڈاکٹر علی جان، ڈاکٹر عادل، ڈاکٹر مزمل جبکہ الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے جمال شاہ شامل تھے اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پائیدار اور موثر اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں تاکہ ڈاکٹرز، طبی عملے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈاکٹرز کو بڑے پیمانے پر ترقیاں دے کر ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ حکومت ڈاکٹرز کے جائز مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈاکٹرزن معاشرے کا انتہائی قابل احترام طبقہ ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کی عظیم ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹرز پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہ بنیں جو غریب اور نادار مریضوں کے لیے مشکلات یا تکلیف کا باعث بنے کیونکہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور طبی برادری باہمی تعاون، اعتماد اور مسلسل مشاورت کے ذریعے صحت کے شعبے کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے وفد نے ڈاکٹرز کے مسائل سننے، صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھنے اور ان کے جائز مطالبات پر مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرانے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6493/2026
کوئٹہ 28 جولائی۔صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ صوبے کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز جیسے فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کمی اور آبی وسائل کے ضیاع سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں صنعتی اخراج پر قابو پانے، شجرکاری مہمات کو فروغ دینے اور شہری علاقوں میں ماحولیاتی بہتری کے لیے جدید اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے مزید کہا کہ عوامی شمولیت کے بغیر ماحولیاتی اہداف کا حصول ممکن نہیں، لہٰذا شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات کو وسعت دی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے تعاون سے ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آئندہ نسلوں کے لیے ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر وفود نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے صوبائی مشیر کو آگاہ کیا صوبائی مشیر نے تمام علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر نے کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6494/2026
کوئٹہ28جولائی ۔ گورنمنٹ کالج آف کامرس، کوئٹہ کے طلبہ نے ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (HSSC) سالانہ امتحان 2026 کے کامرس گروپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی، دوسری اور تیسری تینوں پوزیشنیں اپنے نام کرلیں۔امتحانی نتائج کے مطابق عبدالرحمن نے 1100 میں سے 1022 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن، عبداللہ جان کاکڑ نے 1007 نمبر حاصل کرکے دوسری جبکہ جمشید نے 1005 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔اس شاندار کامیابی پر گورنمنٹ کالج آف کامرس، کوئٹہ کے اساتذہ، طلبہ اور والدین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے طلبہ کی انتھک محنت، اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے حکومتِ بلوچستان کی مسلسل کاوشوں کا ثمر قرار دیا۔کالج انتظامیہ نے کہا کہ یہ نمایاں کامیابی نہ صرف ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ صوبے میں معیاری تجارتی تعلیم کے فروغ کی بھی عکاس ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی طلبہ کو بہترین تعلیمی ماحول اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6495/2026
موسٰی خیل 27 جولائی ۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ نے BHU کنگری BHU راڑہشم اور BHU کھجوری کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر IHHN کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰن صاحب بھی موجود تھے۔دورے کا مقصد بنیادی مراکز صحت میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات EPI پروگرام اور مجموعی انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔ معائنے کے دوران عملے کی حاضری ڈیوٹی کی پابندی اور مراکز میں فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ای پی آئی سائٹس پر ILR کی مینٹیننس کولڈ چین سسٹم ویکسین اسٹاک ویکسین کا ریکارڈ مانیٹرنگ چارٹس پرمننٹ رجسٹر اور دیگر متعلقہ دستاویزات کو چیک کیا گیا تاکہ ریکارڈ کی درستگی اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔دورے کے اختتام پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ تمام ریکارڈ بروقت مکمل رکھا جائے ILR اور کولڈ چین کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جائے ویکسین اسٹاک کو مقررہ اصولوں کے مطابق محفوظ رکھا جائے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی سرگرمیوں میں مزید بہتری لا کر عوام کو معیاری اور بروقت خدمات فراہم کی جائیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6496/2026
لورالائی:28جولائی ۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کے احکامات اور کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے غیر قانونی اسلحہ کے کاروبار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شہر میں بغیر لائسنس قائم اسلحہ کی ایک دکان کو سیل کر دیا۔کارروائی کے دوران ایس ڈی پی او غلام اکبر بھی اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے دکان کا معائنہ کیا۔ ابتدائی جانچ کے دوران دکان کے مالک کی جانب سے اسلحہ کی خرید و فروخت کے لیے مطلوبہ قانونی لائسنس پیش نہ کیا جا سکا، جس پر بلوچستان آرمز ایکٹ 2022 کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے دکان کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے دکان کے مالک کو ہدایت کی کہ وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان سے باقاعدہ لائسنس حاصل کرکے تمام قانونی تقاضے پورے کرے، بصورت دیگر دکان سیل رہے گی اور قانون کے مطابق مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی اور بغیر لائسنس کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت یا مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ انتظامیہ یا پولیس کو دیں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی اور عوامی تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ضلع بھر میں اسلحہ کی دکانوں، لائسنسوں اور دیگر حساس مقامات کی جانچ کا سلسلہ بھی مزید تیز کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6497/2026
خضدار 28جولائی ۔: شہریوں کو صحت مند سرگرمیاں فراہم کرنے کیلئے ڈویژنل پبلک کالج خضدار کے احاطے میں واک ٹریک کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ تختی کی نقاب کشائی ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کی۔ اس موقع پر میجر اسرار، چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ، انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چیئرمین بشیر احمد جتک، ایگزیکٹو آفیسرز انجینئر سلیم رزاق عمرانی ، انجینئر عبدالروف قمبرانی، چیئرمین خضدار پریس کلب کے چیئرمین ایوب بلوچ، ایس ایچ او خضدار سٹی منیر احمد جتک، گورنمنٹ کنٹریکٹر عرفان گنگو انجینئر یونس رمضان موسیانی، بلدیاتی نمائندہ تنزیل بارانزئی کریم بلوچ و دیگر معززین بھی موجود تھے۔افتتاح کے بعد ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واک ٹریک طلبہ، نوجوانوں اور شہریوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کا موقع فراہم کرے گا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ خضدار میں کھیلوں اور تفریح کی بنیادی سہولیات کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔ ڈویڑنل پبلک کالج کے احاطے میں واک ٹریک کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ واک ٹریک کے اضافے سے شہر میں صحت مند سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ چیف آفیسر خضدار خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ نے کہا کہ واک کرنے والے شہریوں کو نیشنل ہائی وے سے منسلک ایریا میں پرسکون ماحول میسر آئے گا۔ واک ٹریک کے ایک جانب پہاڑی اور دوسری جانب شاہراہ اور شہر کی رونق رننگ کرنے والے افراد کے لیے مزید دلچسپی کا باعث بنے گی۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے یہاں ریسائیکل بن بھی نصب کیے گئے ہیں۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور میونسپل کارپوریشن خضدار کے اس اقدام کو سراہا اور اسے خضدار کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ واک ٹریک پر روزانہ سینکڑوں شہری واک میں حصہ لے رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6498/2026
نصیرآباد28جولائی ۔ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر ضلع نصیر آباد میں بلوچستان کے ماہر کنسلٹنٹ لیور ٹرانسپلانٹ پیتھالوجسٹ ڈاکٹر بہاول لہڑی کی سربراہی میں ہیپاٹائٹس سے آگاہی کے لیے ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جو ڈی ایچ او آفس سے شروع ہو کر سول ہسپتال روڈ اور کمشنر آفس سے ہوتی ہوئی واپس ڈی ایچ او آفس پہنچی۔ ریلی میں ڈسٹرکٹ چیئرمین فرید الحق لہڑی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی، ماہر امراض قلب ڈاکٹر محمد اسماعیل جتک، ڈاکٹر عبدالغفار ہاشمی،ڈاکٹر عارف لہڑی ڈاکٹر محمد رفیق لہڑی ڈاکٹر نصیر عمرانی، ڈاکٹر حماد اللہ زہری، ڈاکٹر ظاہر حسین عمرانی، سب ڈویڑنل آفیسر بی اینڈ آر ذوالفقار علی لہڑی، میر مزا مینگل ڈاکٹر عبد الفتح لہڑی خان جان بنگلزئی، قبائلی رہنما عبدالروف لہڑی، اقلیتی رہنما داسو مل، ہرپال داس میڈیکل ایسوسی ایشن کے مختیار جتک ارباب پندرانی سمیت مرد و خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بہاول لہڑی نے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی سے محفوظ اور موثر ویکسین کے ذریعے بچاو ممکن ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا جدید ادویات سے تقریباً مکمل علاج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادار صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہیں اور ہر سال لاکھوں نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ تقریباً 13 لاکھ افراد جگر کے امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نصیر آباد میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے وڑن کے مطابق ضلع بھر میں 52 ٹیمیں گھر گھر جا کر ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ کر رہی ہیں، مریضوں کی بروقت تشخیص اور مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ عوام سے اپیل ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بروقت ٹیسٹ کرائیں اور محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کر کے ایک صحت مند معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6499/2026
لورالائی:28جولائی لورالائی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے کمشنر کو ضلع میں صحت، پینے کے صاف پانی، بجلی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ شہر لورالائی میں BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور بروقت تکمیل کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ وفد نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کے حل، امن و امان کے قیام اور ترقیاتی سرگرمیوں میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد مزید تیز کیا جائے گا۔اس موقع پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے وفد کو یقین دلایا کہ ضلعی انتظا میہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، پائیدار امن کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ترقیاتی اسکیموں میں شفافیت، معیار اور عوامی ضروریات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ بھی وہی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شامل کیے جائیں گے جن سے عوام کی بڑی تعداد براہ راست مستفید ہو اور علاقے کی مجموعی ترقی میں مثبت کردار ادا ہو۔ملاقات کے اختتام پر وفد نے انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ کمشنر نے کہا کہ عوامی نمائندوں، سیاسی جماعتوں اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے ہی عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6500/2026
نصیرآباد28 جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل نے ایس ڈی او بلڈنگ عابد حسین پہنور کے ہمراہ ضلع بھر میں مالی سال 2024-25 اور 2026 کے دوران مکمل ہونے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ زیرِ جائزہ منصوبوں میں گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول گوٹھ اللہ ڈنہ خان عمرانی میں اضافی کمروں کی تعمیر، گورنمنٹ شلٹر لیس بوائز پرائمری سکول فرید خان عمرانی، گورنمنٹ شلٹر لیس بوائز پرائمری سکول یار محمد پندرانی، گورنمنٹ شلٹر لیس سکول مہراب خان عمرانی، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول سلطان احمد ہجوانی میں اضافی کمروں کی تعمیر، اور بلیک ٹاپ روڈ سنجر خان جتک شامل ہیں دورے کے دوران مقامی افراد نے نئے تعمیر شدہ سکولوں میں اساتذہ کی فوری تعیناتی کا مطالبہ کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ اگست کے مہینے میں اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ممکن ہو سکے ڈپٹی کمشنر نے تمام جاری و مکمل شدہ منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے کام کے معیار، رفتار اور شفافیت کا تفصیلی معائنہ کیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ترقیاتی منصوبوں میں اعلیٰ معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گیاس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وریندر لعل نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر تعلیمی سہولیات، معیاری سڑکیں اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے انہوں نے مزید کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیاری تعمیر متعلقہ افسران کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ یہ منصوبے دیرپا ثابت ہوں اور عوام کو بھرپور فائدہ پہنچا سکیں انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اضافی کمروں کی تعمیر سے طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جبکہ سڑکوں کی بہتری سے نہ صرف آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ حاصل ہوگاڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت، شفاف اور مکمل طور پر فراہم کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6501/2026
کوئٹہ 28جولائی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹریفک پولیس، سیکریٹری آر ٹی اے اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کم عمر بچوں اور بغیر قومی شناختی کارڈ کے کسی بھی شخص کو واٹر ٹینکر چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی، گرفتاری اور واٹر سپلائی بند کی جائے گی۔اجلاس میں تمام ٹینکر مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل کریں، تمام ٹینکروں کی اگلی اور پچھلی لائٹس فعال رکھیں اور ڈرائیوروں کے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے اور ان کی تجدید کا عمل جلد مکمل کریں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 6502/2026
کوئٹہ27 جولائی ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما، صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے اپنی رہائش گاہ جتک ہاوس، آصف آباد میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔کھلی کچہری میں بڑی تعداد میں شہریوں، معززینِ علاقہ، پارٹی کارکنان اور مختلف وفود نے شرکت کی ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور پارٹی کی سیاست کا محور عام آدمی کے مسائل کا حل اور عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہماری سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمت کے مشن پر عمل پیرا ہے، جبکہ سریاب سمیت دیگر علاقوں میں بھی عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حلقے کے ہر علاقے کی یکساں ترقی، بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔حاجی علی مدد جتک نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنا اور لوگوں کو ان کی دہلیز پر فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔کھلی کچہری میں شرکت کرنے والے شہریوں نے حاجی علی مدد جتک کی جانب سے عوام سے براہِ راست ملاقات، مسائل سننے اور ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو عوام دوست روایت قرار دیا۔ شرکاءنے امید ظاہر کی کہ اس سلسلے کے تسلسل سے عوامی مسائل کے حل میں مزید بہتری آئے گی اور عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6503/2026
کوئٹہ 28جولائی ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کے زیر صدارت اپ لفٹنگ آف رکھنی ٹاون و ری ماڈلنگ آف رکھنی بازار منصوبے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈی سی بارکھان نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی اس کے علاوہ چیف انجینئر لورالائی ژوب زون قاضی نور الحق ایس ای بارکھان و موسیٰ خیل عبدالرازق مندوخیل ایگزیکٹیو انجینئر بارکھان انجنیر فضل کریم متعلقہ کنسلٹنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھےاجلاس کے دوران منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تعمیراتی سرگرمیوں درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیابریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام جاری ہے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے رکھنی ٹاون کی اپ لفٹنگ اور بازار کی ری ماڈلنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کے بعد رکھنی کو بطور ڈویژنل ہیڈکوارٹر خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہےاس تناظر میں شہر کی بنیادی سہولیات سڑکوں نکاسی آب بازاروں اور شہری ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رکھنی شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار کو یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو یہ واضح ہدایات دیں کہ جہاں جہاں انھیں کام کے لیے مواقع حاصل ہیں وہاں پوری رفتار کے ساتھ کام کو تیز کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ٹیم ورک کے ساتھ کام کرنا ہے تاکہ یہ اہم نوعیت کا منصوبہ اپنے وقت مقررہ پر مکمل ہو سیکریٹری مواصلات و تعمیرات تعمیرات بابر خان نے ڈپٹی کمشنر بارکھان کے جوائنٹ کمیٹی بھی بنانے کی ہدایت کی تاکہ ہم کمیٹی اس منصوبے کی ہر زاویہ سے جانچ پڑتال کرے اور جو بھی خامیاں ہیں انہیں ختم کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی یہ اولین ترجیع ہے رکھنی شہر کو دور حاضر کے جدید سہولیات سے ہم آہنگ کریں جس کے کشادہ سڑکیں موثرسٹریٹ لائیٹس معیاری بائی پاس کے علاوہ مرکزی بازار میں دکانوں اور ریڑھی بانوں کے لیے الگ اور منظم جگہ فراہم کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رکھنی شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6504/2026
لورالائی:28جولائی ۔رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی کاوشوں سے سرکاری اسکولوں میں سولر سسٹم نصب کرنے کی منظوری، ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی خصوصی کاوشوں سے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت ضلع لورالائی کے مختلف سرکاری اسکولوں میں سولر انرجی سسٹم نصب کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ منصوبے کا مقصد بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث تعلیمی سرگرمیوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع لورالائی کے متعدد سرکاری تعلیمی ادارے طویل عرصے سے بجلی کی غیر یقینی فراہمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گرمی کے موسم میں بجلی کی بندش سے کلاس رومز میں پنکھے اور دیگر برقی سہولیات بند رہنے کے باعث طلبہ اور اساتذہ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے منفی اثرات تدریسی عمل پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی سفارش پر متعلقہ اسکولوں میں جدید سولر سسٹم نصب کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے کہا کہ تعلیم کا فروغ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ضلع کے طلبہ کو جدید اور بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولر سسٹم کی تنصیب سے نہ صرف بجلی کی مسلسل فراہمی ممکن ہوگی بلکہ تعلیمی اداروں کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی اور ماحول دوست توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ضلع لورالائی کو ترقی کے لحاظ سے بلوچستان کا ایک مثالی اور ماڈل ضلع بنایا جائے۔ عوام سے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ان کی اولین ذمہ داری ہے اور ہر ترقیاتی منصوبے کو بروقت مکمل کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہےرکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ ضلع بھر میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، صحت کے شعبے کی بہتری، بجلی کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کےمنصوبوں، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے متعدد منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق کو کم کرنے کے لیے نئی اسکیمیں بھی صوبائی ترقیاتی پروگرام میں شامل کی جا رہی ہیں تاکہ تمام علاقوں کے عوام یکساں طور پر ترقیاتی ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید فلاحی اور ترقیاتی منصوبے بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیارِ زندگی میں بہتری اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہی حقیقی ترقی کا معیار ہے۔علاقے کے عوام اور تعلیمی حلقوں نے سرکاری اسکولوں میں سولر سسٹم کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا بلکہ ضلع میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبے بھی بروقت مکمل ہو کر عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6505/2026
دکی:28جولائی۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین دکی حاجی خیراللہ ناصر سے مختلف قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی، جس میں ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، حالیہ چوری کی وارداتوں، عوام کو درپیش مسائل اور علاقائی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں قبائلی عمائدین نے ضلع میں امن و استحکام کے قیام، جرائم کی روک تھام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قبائلی روایات کے مطابق بھائی چارے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام مکاتب فکر کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے گشت کے نظام کو مزید مو¿ثر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیراللہ ناصر نے کہا کہ ضلع دکی میں امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا عوام کا سکون خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عمائدین ہمیشہ سے معاشرتی ہم آہنگی، تنازعات کے پرامن حل اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، اور موجودہ حالات میں بھی ان کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے دوران ضلع میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سڑکوں کی بہتری سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین نے کہا کہ ترقی اور امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے حکومت کی کوشش ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں۔قبائلی عمائدین نے ڈسٹرکٹ چیئرمین کی جانب سے امن و امان کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ شرکائ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع دکی میں امن، بھائی چارے، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ امن و امان کی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لینے، جرائم کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قبائلی عمائدین، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین مشاورت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6506/2026
کوئٹہ/گوادر۔ 27 جولائی ۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے زیرِ انتظام بلوچستان بھر میں قائم مختلف ہسپتالوں کی کارکردگی اور طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی طور پر جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال گوادرکی موجودہ صورتحال، دستیاب سہولیات، آئندہ توسیعی منصوبوں اور درپیش ضروریات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) زاہد سلیم، سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان، انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری، چیف آپریٹنگ افیسر مظہر احمد، صدیقی، ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر شامل، ڈائریکٹر آپریشن ساوتھ ڈاکٹر عفان فائق زادہ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، چیف انجینیئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ہیڈ آف کیمپس جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال ڈاکٹر ناصر شیخ سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ہسپتال کے لیے مختص فنڈز مکمل طور پر جاری نہ ہونے کے باعث بعض اہم شعبہ جات پر منصوبہ بندی کے مطابق کام مکمل نہیں کیا جا سکا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ فنڈز کی دوبارہ اجرا کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تمام منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔اجلاس میں ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد نئے شعبہ جات کے قیام اور موجودہ خدمات کو مزید موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں ایم آر آئی مشین کی خریداری اور تنصیب، جدید ڈائیلائسز یونٹ، نوزائیدہ بچوں کے لیے جدید انکیوبیٹرز، نئے آئی سی یو یونٹس، جدید ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، نئے آپریشن تھیٹرز، جدید لیبارٹری کی مکمل فعالیت، جبکہ آنکھوں کے شعبہ، ایک این ٹی اور کارڈیالوجی کی خصوصی سہولیات کے قیام پر جلد عملی پیش رفت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال گوادر مکران کے لاکھوں شہریوں کو معیاری اور جدید طبی سہولیات مفت فراہم کرنے والا ایک انتہائی اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال کے قیام سے قبل گوادر اور مکران کے عوام کو علاج کی غرض سے کراچی، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، تاہم اب انہیں اپنے علاقے میں ہی بین الاقوامی معیار کی طبی خدمات دستیاب ہیں، جو موجودہ حکومت کا ایک اہم عوامی فلاحی اقدام ہے۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال کی تمام ضروریات، جدید طبی آلات، افرادی قوت اور مالی وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مزید بہتر، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال کو جنوبی بلوچستان کا ایک جدید اور مثالی طبی مرکز بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6507/2026
سیوی 28 جولائی .ضلع سیوی میں حفاظتی ٹیکہ جات کے توسیعی پروگرام (EPI) کے تحت ویکسینیٹرز کی استعداد کار میں اضافے کے لیے دو روزہ ریفریشر ٹریننگ کا انعقاد ہوا۔ ٹریننگ کا انعقاد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سبی کے زیر اہتمام کیا گیا، جس کی نگرانی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) سبی ڈاکٹر عبدالقادر اور صوبائی مانیٹر غلام سرور نے کی۔ ٹریننگ سیشن میں ماسٹر ٹرینر محمد شعیب خجک، ڈاکٹر صلاح الدین مری (آئی او، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) بطور ٹریننگ فیسلیٹیٹر، جبکہ اللہ بخش (DSV سبی) نے بطور سہولت کار شرکاءکو تربیت فراہم کی۔ تربیتی پروگرام کا مقصد ویکسینیٹرز کو حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کی جدید رہنما ہدایات، موثر حفاظتی ٹیکہ کاری، ویکسین کے درست انتظام، ریکارڈنگ و رپورٹنگ کے طریقہ کار اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی سے متعلق پیشہ ورانہ مہارتوں سے مزید مستحکم کرنا تھا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا موثر ذریعہ ہیں، لہٰذا ویکسینیٹرز کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت نہایت ضروری ہے تاکہ قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے اہداف موثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6508/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق دور دراز علاقوں میں معیاری اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بنیادی مراکزِ صحت کی موثر نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ضلع منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکزِ صحت (بی ایچ یو) نوگوڈو کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عملے کی حاضری، او پی ڈی ریکارڈ، ادویات کے دستیاب ذخیرے، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے طبی عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور خوش اخلاقی کے ساتھ طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی پی پی ایچ آئی اور حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا تمام عملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دیانت داری، احساسِ ذمہ داری اور خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جن کے مثبت نتائج دور دراز علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6509/2026
بارکھان، 28 جولائی ۔ : ضلع بارکھان کے علاقے کوڈی زکریانی، بستی ملک گل خان ماڑا میں چکن پاکس (Chickenpox) کے مشتبہ کیسز سامنے آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس پر مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔عوامی حلقوں نے محکمہ صحت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ صورتحال کا فوری جائزہ لیتے ہوئے متاثرہ علاقے میں طبی ٹیمیں روانہ کی جائیں، مشتبہ کیسز کی تشخیص کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اور ادویات سمیت مطلوبہ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ بیماری کے ممکنہ پھیلاو¿ کو بروقت روکا جا سکے۔علاقہ مکینوں سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی بچے یا فرد میں بخار، جسم پر دانے، کھانسی یا دیگر مشتبہ علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر قریبی سرکاری ہسپتال یا بنیادی مرکز صحت سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔عوام نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ مشتبہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر ضروری احتیاطی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوامی صحت کا موثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6510/2026
خضدار: 28جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے ڈویژنل انجینئر پی ٹی سی ایل خضدار اعجاز احمد اور ایس ڈی او پی ٹی سی ایل خضدار وسیم وہاب زہری نے ان کے آفس میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع خضدار میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولیات کی توسیع، بالخصوص تعلیمی اداروں کو جدید کمیونیکیشن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے پی ٹی سی ایل حکام کو ہدایت کی کہ فلش فائبر آپٹک کی سہولت کو جھالاوان میڈیکل کالج خضدار تک فوری طور پر پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے طلبائ کو ریسرچ، آن لائن لائبریری اور بین الاقوامی میڈیکل جرنلز تک رسائی کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ کالج کے ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری اور آن لائن ریکارڈ کے نظام کو بھی اس سے فعال کیا جا سکے گا جس سے شفافیت اور تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی۔اس موقع پر جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے پرنسپل ڈاکٹر ارشاد و دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولت جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ میڈیکل کی تعلیم اب ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔ اگر ہمارے طلباء کو تیز رفتار نیٹ میسر ہو تو وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ریسرچ میں بھی اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔ڈویژنل انجینئر پی ٹی سی ایل خضدار اعجاز احمد نے اس موقع پر بتایا کہ پی ٹی سی ایل نے خضدار شہر کے متعدد اہم مقامات کو پہلے ہی فلش فائبر سے منسلک کر دیا ہے۔ اس سے شہریوں اور اداروں کو ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ کی سہولت فراہم ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی سی ایل کا اگلا فیز گزگی چوک، کھٹان اور خضدار کے دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں میں بھی فلش فائبر کا نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت جھالاوان میڈیکل کالج خضدار تک بھی انٹرنیٹ کی سہولت کو ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے گا تاکہ تعلیمی ادارے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے پی ٹی سی ایل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس منصوبے میں ہر ممکن تعاون کرے گی تاکہ خضدار کو ڈیجیٹل طور پر ترقی یافتہ بنایا جا سکے۔اس ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جلد ہی جھالاوان میڈیکل کالج کو فلش فائبر سے منسلک کر کے طلباء اور اساتذہ کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6511/2026
گوادر/ پسنی:28جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق عوام کو ان کی دہلیز پر شفاف، بروقت اور موثر حکومتی خدمات کی فراہمی، عوامی مسائل کے فوری حل اور عوام و انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری کی سربراہی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، منتخب عوامی نمائندوں، سماجی شخصیات، ماہی گیر برادری، تاجر تنظیموں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکائ نے بلا جھجھک اپنے مسائل، تجاویز اور شکایات انتظامیہ کے سامنے پیش کیں، جنہیں متعلقہ افسران نے تفصیل سے سنا اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی ضروری اقدامات اور ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر شہریوں نے شادی کور تا پسنی پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل، پسنی میں نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب، زرین ہاوسنگ اسکیم اور جڈی پارک، وارڈ نمبر 1 میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خاتمے، بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے، پسنی بازار میں ٹف ٹائل کی تنصیب، چر بندر اسکول کی خستہ حالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، تعلیمی سہولیات کی بہتری، ماہی گیری کے شعبے کو درپیش مسائل، منشیات کی روک تھام، صفائی، نکاسی آب اور شہری ترقی سے متعلق مختلف امور کی نشاندہی کی۔متعلقہ محکموں کے افسران نے شہریوں کی شکایات اور تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے متعدد مسائل پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی، جبکہ متعلقہ اداروں کو مقررہ مدت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے دیرپا حل کے لیے تمام دستیاب وسائل اور حکومتی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا وڑن عوام کو ایک ایسی موثر، جوابدہ اور خدمت گزار انتظامیہ فراہم کرنا ہے جو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سن کر فوری حل یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریاں حکومتِ بلوچستان کی عوام دوست پالیسی کا اہم حصہ ہیں، جن کے ذریعے عوام کو براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور مسائل کے حل میں شفافیت، جوابدہی اور رفتار پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر عوامی مسائل کے بروقت ازالے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ عوامی شکایات کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات جاری رہیں گے۔کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے حکومتِ بلوچستان، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، ضلعی انتظامیہ گوادر اور اسسٹنٹ کمشنر پسنی کی جانب سے عوامی مسائل براہِ راست سننے اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اٹھائے گئے مسائل پر جلد عملی پیش رفت ہوگی اور عوام کو اس کے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عوامی فورمز حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانے اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6512/2026
کوئٹہ 28جولائی ۔ وزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان زرعی شعبے کی۔ترقی کیلئے اہم اقدامات کررہی ہے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (ایکسٹینشن) قلات کی زیرنگرانی گزشتہ روز مستحق زمینداروں میں کسان کارڈز تقسیم کیے گئے کسان کارڈ پروگرام حکومت بلوچستان کاکسانوں کو زرعی سہولیات، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مختلف سرکاری مراعات تک آسان رسائی فراہم کرنے کی ایک اہم کاوش ہےمحکمہ۔زراعت کے حکام نے زمینداروں پر زور دیا یے کہ وہ کسان کارڈ سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کریں اور جدید زرعی طریقہ کار اپنائیں زمینداروں نے وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی حکومت بلوچستان اور سیکرٹری محکمہ زراعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو کسان برادری کے لیے خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2028/6513
کوئٹہ 28 جولائی:ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک (ADB) کے سینیئر پبلک سیکٹر سپیشلسٹ ثناء مسعود کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں جاری و آئندہ ترقیاتی منصوبوں، صوبائی فنانشل منیجمنٹ کے نظام میں بہتری، اور آمدنی (ریونیو) کے حصول کے طریقوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے صوبائی حکومت کو ریونیو موبلائزیشن، پبلک انویسٹمنٹ منیجمنٹ (PIM) اور صوبائی ویلتھ منیجمنٹ کے شعبوں میں اصلاحات اور استعداد کاری کے لیے ایک جامع پروپوزل پیش کیا۔ پروپوزل میں شفاف بجٹ سازی، منصوبہ بندی کے مرحلوں میں موثر نگرانی و جانچ، اور مقامی سطح پر پراجیکٹس کے مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ چیف سیکرٹری نے اس موقع پر صوبائی سرکاری اور کنٹریکٹ ملازمین کے پنشن فنڈز کی مضبوطی اور ان کے انتظامات میں شفافیت کو ترجیحی بنیاد پر بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنشنرز کی فلاح و بہبود، طویل المدتی مالی استحکام اور پینشن سسٹم کی پائیداری صوبے کی سماجی و معاشی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ چیف سیکرٹری نےایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے وفد کو تاکید کی کہ پیش کردہ پروپوزل میں پنشن فنڈز کے اصلاحی پہلوؤں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ بینک نے تعاون کے مختلف طریقوں، تکنیکی معاونت، اور ممکنہ مالی معاونت کے آپشنز پر بھی بات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ذاہد سلیم بھی موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6514
کوئٹہ/گوادر27 جولائی:ـ
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے زیرِ انتظام بلوچستان بھر میں قائم مختلف ہسپتالوں کی کارکردگی اور طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی طور پر جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال گوادرکی موجودہ صورتحال، دستیاب سہولیات، آئندہ توسیعی منصوبوں اور درپیش ضروریات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) زاہد سلیم، سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان، انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری، چیف آپریٹنگ افیسر مظہر احمد، صدیقی، ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر شامل، ڈائریکٹر آپریشن ساؤتھ ڈاکٹر عفان فائق زادہ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، چیف انجینیئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ہیڈ آف کیمپس جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال ڈاکٹر ناصر شیخ سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ہسپتال کے لیے مختص فنڈز مکمل طور پر جاری نہ ہونے کے باعث بعض اہم شعبہ جات پر منصوبہ بندی کے مطابق کام مکمل نہیں کیا جا سکا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ فنڈز کی دوبارہ اجرا کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تمام منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔اجلاس میں ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد نئے شعبہ جات کے قیام اور موجودہ خدمات کو مزید مؤثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں ایم آر آئی مشین کی خریداری اور تنصیب، جدید ڈائیلائسز یونٹ، نوزائیدہ بچوں کے لیے جدید انکیوبیٹرز، نئے آئی سی یو یونٹس، جدید ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، نئے آپریشن تھیٹرز، جدید لیبارٹری کی مکمل فعالیت، جبکہ آنکھوں کے شعبہ، ایک این ٹی اور کارڈیالوجی کی خصوصی سہولیات کے قیام پر جلد عملی پیش رفت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال گوادر مکران کے لاکھوں شہریوں کو معیاری اور جدید طبی سہولیات مفت فراہم کرنے والا ایک انتہائی اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال کے قیام سے قبل گوادر اور مکران کے عوام کو علاج کی غرض سے کراچی، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، تاہم اب انہیں اپنے علاقے میں ہی بین الاقوامی معیار کی طبی خدمات دستیاب ہیں، جو موجودہ حکومت کا ایک اہم عوامی فلاحی اقدام ہے۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال کی تمام ضروریات، جدید طبی آلات، افرادی قوت اور مالی وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مزید بہتر، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال کو جنوبی بلوچستان کا ایک جدید اور مثالی طبی مرکز بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6515
ضلع چمن 28 جولائی:ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ضلع کوآرڈینیشن کمیٹی اور ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی (DCC&DDC) کا ایک اہم اور مشترکہ مشترکہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکیورٹی فورسز، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، بلدیاتی اداروں، مواصلات و تعمیرات، آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پی پی ایچ آئی اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع چمن کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، بین الادارہ رابطہ، عوامی خدمات کی بہتری، جاری ترقیاتی منصوبوں، صحت و تعلیم کے شعبوں کی کارکردگی، صفائی ستھرائی، شہری سہولیات اور دیگر اہم انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، شفافیت اور باہمی تعاون کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوامی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے، بین المحکمہ رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کے سربراہان نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کو عوامی مفاد میں بہتر کارکردگی اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ فرائض انجام دینے کی ہدایت جاری کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6516
بارکھان/رکھنی، 28 جولائی: ایڈیشنل کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار کی زیرِ صدارت محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کے ازالے کے لیے قائم شکایات ازالہ کمیٹی (CRC) کا اجلاس کمشنر آفس رکھنی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بارکھان نور اللہ، پرنسپل گورنمنٹ گرلز انٹر کالج صغریٰ اشرف، پی ایس ٹو کمشنر حاجی حبیب خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران امیدواروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تمام امیدواروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ایڈیشنل کمشنر عبدالباسط بزدار نے متعلقہ افسروں کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کو میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹایا جائے تاکہ کنٹریکٹ بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل مکمل طور پر منصفانہ، شفاف اور قانون کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ شکایات کے بروقت اور غیرجانبدارانہ ازالے سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6517
گوادر28 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق دور دراز علاقوں میں معیاری اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بنیادی مراکزِ صحت کی مؤثر نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ضلع منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکزِ صحت (بی ایچ یو) نوگوڈو کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عملے کی حاضری، او پی ڈی ریکارڈ، ادویات کے دستیاب ذخیرے، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے طبی عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور خوش اخلاقی کے ساتھ طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی پی پی ایچ آئی اور حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا تمام عملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دیانت داری، احساسِ ذمہ داری اور خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جن کے مثبت نتائج دور دراز علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/6518
کوئٹہ 28 جولائی:_
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ رکھنی میں دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرچ آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے، دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے کی جا رہی ہیں اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہے ہیں، امن دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو فرار ہونے یا عوام کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے رکھنی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر اہلکاروں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، ان قربانیوں سے دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا اور امن دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6519
اسلام آباد 28 جولائی: اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے حیدرآباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کے وفد کی ملاقات میں شرکت کی۔ملاقات کے دوران آئینی و پارلیمانی امور، قانون کی بالادستی، جمہوری اداروں کے استحکام اور وکلاء برادری کے کردار سمیت اہم قومی معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے کہا کہ مضبوط پارلیمانی نظام، آزاد عدلیہ اور باصلاحیت وکلاء کسی بھی جمہوری معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور قومی اداروں کے درمیان موثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6520
کوئٹہ28 جولائی: معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ رکھنی میں دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرچ آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے جبکہ آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور آپریشن میں ریاست دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو کسی صورت فرار ہونے یا اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا شاہد رند نے بتایا کہ دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی مرید بگٹی جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے معاون وزیر اعلیٰ نے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا ہر قیمت پر قلع قمع کیا جائے گا اور امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

خبر نامہ نمبر 2026/6521
کوئٹہ، 28 جولائی:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے دہشت گردی کے واقعات سے متاثرہ سویلین افراد کی مالی معاونت اور بحالی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ”بلوچستان سویلین وکٹمز آف ٹیررازم (ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن) ایکٹ، 2014” (بشمول ترامیم 2025) کے تحت معاوضے کی مختلف مدات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نظرثانی شدہ معاوضہ نرخ 16 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گے، جس کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو بہتر مالی ریلیف اور فوری بحالی کی سہولیات فراہم کرنا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ شدید زخمی افراد، جن کے اعضاء متاثر ہوئے ہوں یا جو میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کے مطابق معذوری کا شکار ہوئے ہوں، کے لیے معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اسی طرح معمولی زخمی افراد، جو نقصان کے باعث دو ہفتے سے زائد عرصہ تک کام کرنے سے قاصر رہیں، کے لیے معاوضہ 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی معاوضے میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مکان کی مکمل تباہی کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان کی صورت میں 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے کاروباری مراکز، دکانوں، کیوسکس اور تجارتی اداروں کو پہنچنے والے نقصان پر بھی نظرثانی شدہ نرخ لاگو ہوں گے۔ مکمل تباہی کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ جزوی نقصان پر 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے حکومت بلوچستان نے مال مویشی کے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی معاوضے میں اضافہ کیا ہے۔ بھینس، گائے، بیل یا گھوڑے کے ضیاع پر فی جانور معاوضہ 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 70 ہزار روپے جبکہ بھیڑ، بکری یا گدھے کے نقصان پر معاوضہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا گیا ہے نقل و حمل کے دوران لدا ہوا کارگو مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے کی صورت میں بھی معاوضے کی شرح مقرر کی گئی ہے۔ خراب ہونے والی یا دیگر اشیاء کے مکمل نقصان پر کارگو بکنگ سلپ میں درج مالیت کا 50 فیصد جبکہ جزوی نقصان پر 15 فیصد معاوضہ تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا اسی طرح ہیوی مشینری، ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی گاڑیوں کے نقصانات کے لیے ماڈل، سال اور انجن کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی معاوضے مقرر کیے گئے ہیں محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں تمام متعلقہ اداروں کو معاوضے کے معاملات میں شفافیت اور بروقت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی معاوضہ کمیٹیوں (DCCs) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ محکمہ داخلہ کو کیسز بھجوانے سے قبل مکمل تصدیق اور جانچ پڑتال یقینی بنائیں محکمہ زراعت انجینئرنگ اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کو ہدایت کی گئی ہے کہ نقصانات کا تخمینہ زمینی حقائق اور اشیاء کی اصل جسمانی حالت کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ انداز میں لگایا جائے احکامات کے مطابق تمام معاوضہ کیسز واقعے کی تاریخ سے دو ہفتوں کے اندر مکمل کرکے محکمہ داخلہ کو ارسال کیے جائیں گے تاکہ متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی گاڑیاں جو درست بیمہ (Insurance) کے تحت آتی ہیں، حکومت بلوچستان سے اضافی معاوضے کی اہل نہیں ہوں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6522
تربت 28جولائی:۔یونیورسٹی آف تربت کے شعب کامرس کے لیکچرار ڈاکٹر محمد وارث رشید نے ملائشیا کی ایک معروف جامعہ سے اسکول آف مینجمنٹ میں کارپوریٹ فنانس کے شعبے میں کامیابی کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی ہے جو جامعہ، صوبہ بلوچستان اور ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لیے ایک اہم اور قابلِ فخر علمی کامیابی ہے۔ڈاکٹر محمد وارث رشید کا تحقیقی مقالہ”The Role of Green Credit, Green Reputation and Green Financial Technology in Bank Performance in South Asian Countries کے عنوان سے مکمل کیا گیا، جس میں جنوبی ایشیائی ممالک کے بینکاری شعبے میں گرین کریڈٹ، گرین ریپوٹیشن اور گرین فنانشل ٹیکنالوجی کے کردار اور ان کے بینکوں کی کارکردگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا سائنسی اور جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔تحقیقی ماہرین کے مطابق یہ تحقیق گرین فنانس، پائیدار معاشی ترقی، ماحولیاتی ذمہ داری اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے اس تحقیق کے نتائج مستقبل میں بینکاری پالیسی سازی، مالیاتی اداروں کی استعداد کار میں بہتری اور ماحول دوست مالیاتی نظام کے فروغ کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کریں گے اسے جنوبی ایشیا میں گرین فنانس کے شعبے میں ایک نمایاں علمی پیش رفت اور قابلِ قدر تحقیقی اضافہ قرار دیا جارہا ہے۔یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر، اساتذہ، علمی و تدریسی حلقوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈاکٹر محمد وارث رشید کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی اعلیٰ علمی قابلیت، تحقیقی تجربے اور بین الاقوامی وژن کے ذریعے جامعہ میں تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیں گے اور بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے معیار کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ڈاکٹر محمد وارث رشید کی یہ کامیابی نوجوان محققین اور طلبہ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے جو اس امر کی عکاس ہے کہ محنت، لگن اور معیاری تحقیق کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *