خبرنامہ نمبر6093/2026
کوئٹہ، 12 جولائی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نہتے اور بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ہونے والے صرف پنجابی مزدور نہیں تھے بلکہ پاکستان کے شہری، محنت کش اور ہمارے اپنے بھائی تھے۔ ان پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آزادی کی نام نہاد تحریک کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ محنت کشوں کا قتل کسی سیاسی جدوجہد یا آزادی کی تحریک نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی، بربریت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد کسی حق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشت، نفرت، خونریزی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ ایسے عناصر لسانی اور علاقائی نفرت کو ہوا دے کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم پوری قوم ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا پاکستانی شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہر دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں مزید فیصلہ کن، مؤثر اور بلاامتیاز ہوں گی۔ دہشت گردوں کے لیے بلوچستان کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکی ہے، نہ جھکے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری قوت، قومی عزم اور عوامی حمایت کے ساتھ جاری رہے گی۔
خبرنامہ نمبر6094/2026
کوئٹہ، 12 جولائی: حکومت بلوچستان نے ماشکیل میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں پانچ مصصوم اور بے گناہ مزدوروں کے قتل کے افسوسناک واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کا قتل ایک گھناؤنا جرم ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری، جامع تحقیقات اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے میں ملوث کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی ہر کوشش کو ریاست پوری قوت سے ناکام بنائے گی۔ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کی تحقیقات میرٹ پر مکمل کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی
.
خبرنامہ نمبر6095/2026
نصیرآباد۔۔۔۔صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری ابپاشی سہیل الرحمان بلوچ کے احکامات پر پٹ فیڈر کینال سے پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر آفیسران عملدرآمد کو یقینی بنا رہے ہیں صوبائی وزیر اور صوبائی سیکرٹری کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی خود فیلڈ میں موجود ہیں جن کی نگرانی میں ذرعی پانی کی تقسیم کار کا عمل جاری ہے اس کے ساتھ ساتھ پٹ فیڈر کینال ایریگیشن انتظامیہ حقدار زمینداروں کو ان کا جائز پانی فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر جدوجہد کررہے ہیں خریف کے عروج سیزن کے باجود محکمہ ایریگیشن کے آفیسران عملے کے ہمراہ اپنی تمام تر صلاحیتیں برو کار لارہے ہیں تقریباً 200 کلومیٹر طویل پٹ فیڈر کینال، اس کی شاخوں اور واٹر کورسز کی مسلسل نگرانی کرنا محکمے کے آفیسران کی کاوشوں کا نتیجہ ہے مگر باوجود چند با اثر اور قانون شکن عناصر رات کی تاریکی، دور دراز علاقوں اور امن و امان کی نازک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی پائپ، پمپنگ مشینیں اور دیگر ذرائع استعمال کرکے پانی چوری کر رہے ہیں۔ ان عناصر کے خلاف متعدد ایف آئی آرز درج ہونے کے باوجود موجودہ قانونی کارروائیاں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ہیں جس کی اہم وجہ پانی چوری کے کمزور دفعات ہیں جس کے نتیجے میں یہ عناصر بلا خوف و خطر اپنے غیر قانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذرعی پانی کی چوری کی روک تھام کیلئے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی کے ہمراہ آر ڈی 409 سے آر ڈی 418 میر حسن اور آر ڈی 505 بیدار 558 منجھو شوری تک بیرون سائیڈ کا دورہ کیا دورے کا مقصد ان پانی چوروں کو واضح پیغام دینا ہے کہ محکمہ ایریگیشن کے آفیسران اور عملہ ہمہ وقت مستعد ہے ذرعی پانی چوری کی کوئی گنجائش موجود نہیں دورے کے موقع پر چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے کہاکہ پٹ فیڈر کینال سے 200 کلومیٹر طویل کمانڈ ایریاز کو سیراب کرنے کیلیے تمام تر اقدامات کیے جارہے ہیں ذرعی پانی چوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ہم پانی چوروں کے خلاف قانونی کارروائی کررہے ہیں مگر پانی چوری کے کمزور دفعات کی وجہ سے پانی چور بعض نہیں آرہے ہیں ہم نے حکام بالا کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ کینالز ایکٹ میں ترمیم کرکے ایریگیشن انتظامیہ کو آئینی مجسٹریٹ کے اختیارات دئیے جائیں تاکہ غیر قانونی طور پر پانی چوری کرنے والوں کے خلاف فورتھ شیڈول کے تحت کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص غیر قانونی طریقے سے پانی چوری کرنے سے اجتناب کریں۔
خبرنامہ نمبر6096/2026
صحبت پور۔۔۔چیف انجینیر تعمیرات نصیرآباد زون بشیر ناصر نے کہا ہے کہ پختہ تعمیراتی عمل حکومت کی خدمت کا تسلسل کا حصہ ہے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ و صوبائی سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان کی ہدایت کی روشنی میں پختہ تعمیراتی عمل کی باریک بینی کے ساتھ چھان بین کی جارہی ہے تاکہ حکومت جو عوامی مفاد میں خطیر رقم خرچ کررہی ہے اس سے عوام براہ راست استفادہ حاصل کریں انجینئر اپنی نگرانی میں ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھیں لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع صحبت میں میں جاری ترقیاتی منصوبے کے جائزے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئرز فدا حسین کھوسہ ارسلا رند سمیت دیگر افسران موجود تھے ایگزیکٹو انجینئر مواصلات و تعمیرات روڈز جہانگیر کھوسہ نے انہیں ترقیاتی منصوبوں کے متعلق آگاہی فراہم کی دورے کے موقع پر چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات بشیر ناصر نے صحبت پور بائے پاس روڈ۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس سمیت دیگر کئی منصوبوں کا جائزہ لیا انہوں نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت، اعلیٰ معیار اور مکمل شفافیت کے ساتھ پای? تکمیل تک پہنچائے جائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے حقیقی ثمرات میسر آ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں، اس لیے ہر منصوبے میں معیار، شفافیت اور حکومتی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے ترقیاتی وژن کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، جدید سڑکوں، سرکاری عمارتوں اور عوامی فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رہے گی اور جہاں بھی کوتاہی یا بے ضابطگی سامنے آئی وہاں ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر6097/2026
کوئٹہ: پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن بلوچستان کے چئرمین میر عثمان گورگیچ نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن “شعبان” میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی رٹ کو مضبوط بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز شب و روز پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ آپریشن “شعبان” میں حاصل ہونے والی کامیابیاں فورسز کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور غیرمتزلزل عزم کا واضح ثبوت ہیں۔میر عثمان گورگیچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور امن دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے تمام سیکیورٹی اہلکاروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور بلوچستان کے پائیدار امن کے لیے پوری قوم متحد ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے سیکیورٹی فورسز کی ہر جائز کوشش کو عوامی حمایت حاصل رہے گی۔
خبرنامہ نمبر6098/2026
کوئٹہ، 12 جولائی :وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پاکستان میں نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بین الاقوامی فورم پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے عالمی سطح پر خواتین کی ترقی، مساوی مواقع اور بااختیار بنانے کے حوالے سے ملک کے مؤقف کو مزید تقویت ملے گی۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے 57 رکن ممالک کے نمائندوں کی پاکستان میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ او آئی سی رکن ممالک خواتین کی فلاح و ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم پر یکجا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران خواتین کو درپیش چیلنجز، ان کی سماجی و معاشی ترقی، تعلیم، صحت اور فیصلہ سازی میں مؤثر کردار جیسے اہم موضوعات پر ہونے والی گفتگو مستقبل کے لیے مثبت نتائج کی حامل ہوگی۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ کانفرنس کی صدارت مصر سے پاکستان کو منتقل ہونا ایک اہم پیش رفت ہے اور آئندہ دو برس کے لیے پاکستان کی قیادت او آئی سی کے خواتین سے متعلق ایجنڈے کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں نہ صرف معاون ثابت ہوگی بلکہ اسلام آباد اعلامیہ رکن ممالک کے درمیان تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور خواتین کی بہتری کے لیے نئی راہیں متعین کرے گا۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ پاکستان کانفرنس کے دوران خواتین کی ترقی اور فلاح کے لیے کیے گئے اقدامات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرے گا، جس سے تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، وزارتِ خارجہ اور کانفرنس کے انعقاد میں شریک تمام ادارے اس اہم ذمہ داری کو کامیابی سے انجام دے رہے ہیں، جو قابلِ تحسین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت بھی خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری، سماجی تحفظ اور فیصلہ سازی میں ان کی مؤثر شمولیت کے لیے مختلف اقدامات پر عمل پیرا ہے، اور ایسے بین الاقوامی فورمز سے حاصل ہونے والے تجربات صوبے میں خواتین کی ترقی کے لیے مزید مؤثر پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین نہ صرف اسلامی دنیا میں خواتین کے حقوق اور ترقی کے لیے مشترکہ سوچ کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی عالمی سطح پر مزید مستحکم کرے گی۔
خبرنامہ نمبر6099/2026
چمن میں 13 جولائی 2026 سے شروع ہونے والی خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں چمن پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔پریس کانفرنس سے ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر محمد اویس، چئرمین ضلع کونسل حاجی امان اللہ اچکزئی، عالمی ادار? صحت (WHO) کے مرکزی ٹیکنیکل آفیسر اسد اللہ صافی، ڈسٹرکٹ چمن پولیو کمیونیکیشن آفیسر اشرف خان اچکزئی اور دیگر متعلقہ حکام نے خطاب کیا۔مقررین نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور مہم کے دوران ہر بچے کو پولیو کے حفاظتی قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ انسداد بیماری ہے، جس کے مکمل خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کا تعاون ناگزیر ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں، ڈاکٹروں اور پولیو حکام نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر اور جدید حفاظتی بوسٹر ڈوز کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔
خبرنامہ نمبر6100/2026
کوئٹہ: آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (اے پی سی اے) ایریگیشن یونٹ کے صدر غلام قادر زہری کی قیادت میں تنظیم کے نومنتخب کابینہ کے وفد نے سیکرٹری ایریگیشن حکومت بلوچستان سہیل الرحمن بلوچ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔وفد میں جنرل سیکرٹری بسم اللہ خان کاکڑ، کاشف مگسی، ماسٹر عبدالرزاق، ظفر بازی، محمد انور، مشتاق احمد، عبدالمالک ناصر اور عبدالغفور لانگو شامل تھے۔ملاقات کے دوران صدر غلام قادر زہری نے اے پی سی اے ایریگیشن یونٹ کی نومنتخب کابینہ کا نوٹیفکیشن سیکرٹری ایریگیشن کو پیش کیا۔ سیکرٹری سہیل الرحمن بلوچ نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تنظیم ملازمین کی فلاح و بہبود اور ادارے کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر صدر غلام قادر زہری نے سیکرٹری ایریگیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کے ملازمین کا سب سے بڑا مسئلہ سرکاری رہائشی کوارٹرز کی عدم دستیابی ہے۔ انہوں نے سیکرٹری ایریگیشن سے درخواست کی کہ ملازمین کے لیے کوارٹرز کی تعمیر کے منصوبے کو جلد عملی شکل دی جائے۔صدر غلام قادر زہری، جنرل سیکرٹری بسم اللہ خان کاکڑ اور نائب صدر کاشف مگسی نے سیکرٹری ایریگیشن کو کوارٹرز منصوبے سے متعلق تفصیلی تجویز بھی پیش کی۔سیکرٹری ایریگیشن سہیل الرحمن بلوچ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ کوارٹرز منصوبے کی تجویز کو فنانس ڈیپارٹمنٹ سے منظوری دلوانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملازمین کو جلد خوشخبری مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کے ملازمین کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔آخر میں صدر غلام قادر زہری نے سیکرٹری ایریگیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے ماضی میں بھی ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل میں تعاون کیا، انہیں یقین ہے کہ آئندہ بھی وہ اسی جذبے کے ساتھ ملازمین کی بھرپور معاونت کرتے رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر6101/2026
کوئٹہ، 12 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ببری ہنہ اڑک کے عوام نے دہشت گردوں کا جس بہادری اور جرات سے مقابلہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور ریاست اپنے عوام کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ببری ہنہ اڑک کے دورے کے موقع پر شہداء کے لواحقین سے تعزیت، فاتحہ خوانی اور اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا درد وہ خود بھی محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے خاندان نے بھی اس جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے قریبی افراد سمیت متعدد عزیزوں کو دہشت گردی کی نذر ہوتے دیکھا ہے اور ان کے اپنے چھوٹے بھائی سمیت اہلِ خانہ بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں قبائلی رہنماء میر شفیق الرحمٰن مینگل کے گھر پر حملہ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر بلوچستان کے امن، روایات اور سماجی اقدار کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میر شفیق الرحمٰن مینگل نے جس بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، اسی طرح ببری ہنہ اڑک کے عوام نے بھی دہشت گردوں کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور بھارت کے ایجنٹ بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن ریاست، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلوچستان کے عوام متحد ہو کر ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ اب اپنی حفاظت کی ذمہ داری انہیں خود اٹھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر6102/2026
کوئٹہ، 12 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز ہنہ اڑک کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری سیکیورٹی آپریشن کا جائزہ لیا اور ایف سی، بلوچستان پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و جوانوں سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ان کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پوری قوم اپنے بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑی ہے اور امن کے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔اس موقع پر فورسز کے افسران اور جوانوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنے درمیان پا کر مسرت کا اظہار کیا، جبکہ وزیر اعلیٰ اور جوانوں نے پرجوش انداز میں “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا کر دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور یکجہتی کا اظہار کیا۔







