خبرنامہ نمبر5933/2026
کوئٹہ 6 جولائی۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے گزشتہ رات ہنہ اورک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ تمام دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے مکمل خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔ اپنے بیان میں گورنر نے کہا کہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ مسلح دہشت گردوں کے حملے میں مقامی قبائلی افراد کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آپکے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5934/2026
کوئٹہ، 6 جولائی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان، بالخصوص ہنہ اڑک اور گردونواح کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو، متعلقہ وزراء، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو ہنہ اڑک کے افسوسناک واقعے اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ اور علاقے میں امن کی فوری بحالی اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہنہ اڑک اور گردونواح میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری طور پر سینیٹائزیشن آپریشن شروع کیا جائے گا تاکہ شرپسند عناصر کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح ہدایت دی کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور یہ کارروائیاں دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے تک جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اجلاس میں شورش زدہ علاقے میں امن و امان کو مزید موثر بنانے کے لیے جوائنٹ چیک پوسٹ کو فوری فعال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جہاں تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیں گے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو موثر انداز میں روکا جا سکے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہنہ اڑک کے افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہداء کے خاندانوں اور متاثرین کو مالی معاونت اور سرکاری معاوضوں کی ادائیگی کا عمل آئندہ دو روز کے اندر شروع کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی فوری داد رسی ممکن بنائی جا سکے اجلاس میں پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے تحفظات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اس مقصد کے لیے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو اور صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی فوری طور پر مظاہرین، قبائلی عمائدین، منتخب عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کر کے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا قابل قبول اور پائیدار حل تلاش کرے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہنہ اڑک کے عوام اور قبائل کی جرات، بہادری اور حب الوطنی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مقامی لوگوں نے دہشت گرد عناصر کا جس دلیری سے مقابلہ کیا، وہ بلوچستان کی روشن قبائلی روایات اور وطن سے وفاداری کی بہترین مثال ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک علاقے، قبیلے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے بلوچستان اور پاکستان کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے، دیرپا امن کے قیام، ریاست کی رٹ کے استحکام اور متاثرہ عوام کو ہر ممکن ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک اپنی کوششیں بھرپور انداز میں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 5935/2026
کوئٹہ، 6 جولائی ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے گزشتہ رات کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں دہشت گرد عناصر کی جانب سے کی جانے والی تخریبی کارروائی کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ مسلح گروہوں کی جانب سے نہتے عوام کو نشانہ بنایا جانا ناروا اور قابلِ تشویش عمل ہے۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مقامی قبائل کے تعاون سے ان غیر ریاستی عناصر کے قلع قمع کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں اور جلد ان کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5936/2026
کوئٹہ6 جولائی ۔سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ وہ مالی سال 2026۔27 کے تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ ٹاہم لائن کے مطابق مکمل شفافیت مالی نظم و ضبط اور حکومتی پالیسی کے تحت بروقت مکمل کرنا محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اولین ترجیح ہے تاکہ صوبے کے عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کیے جائیں ان خیالات کا اظہار سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے مالی سال 2025 . 26 کے سالانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے منعقدہ جائزہاجلاس اور مالی سال 2026 27.کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری مواصلات و تعمیرات عباس کھوسہ ڈپٹی سیکریٹری زاہد شاہوانی اور ٹیکنکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے اجلاس کو مالی سال 2025 26 کے مجموعی کارکردگی میں گزشتہ سال کی کارکردگی جاری ترقیاتی منصوبوں نئے مالی سال کی حکمت عملی مالی نظم و ضبط ٹینڈرنگ پی سی ون ڈی ایس سی ڈی اے سی اور بھرتیوں کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مالی سال 20226 27 کے حوالے سے اپنے ٹاسکس پر روشنی ڈالی اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے ہدایات کی روشنی میں صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرےگی اور صوبے کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایات دیں کہ 30 جون تک مکمل قرار دیے گئے تمام منصوبے عملی طور پر بھی سو فیصد مکمل ہوں اور معمولی باقی ماندہ کام بھی فوری مکمل کیے جاہیں انہوں نے منصوبوں میں مالی مطابقت رکھنے ایڈوانس ادائیگیوں سے سختی سے منع کیا اور غیر استعمال شدہ فنڈز بروقت سرنڈر کرنے پر بھی زور دیا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے نئے مالی سال کے آغاز پر تمام پی سی ون جلد از جلد تیار کرنے ڈی اے سی اور ڈی ایس سی باقاعدگی منعقد کرنے اور 15 جولائی تک تمام ڈی ایس سی منظوریوں اور 31 جولائی تک ٹینڈرنگ منٹس اور دیگر منظوریوں کی تکمیل کا بھی ہدایات دیں اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ترقیاتی فنڈز صرف قواعد و ضوابط کے مطابق جاری کیے جائیں گے جبکہ اے ون روڈز سمیت اہم منصوبوں کے لیے فنڈز اجتماعی منظوری کے بعد ہی جاری ہونگے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مذید کہا کہ جن منصوبوں کے مالی اور جسمانی پیش میں فرق ہیں تو انکی خصوصی نگرانی کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے بھرتیوں کے عمل میں شفافیت منظور شدہ آسامیوں کی مطابق تقرریوں عدالتی احکامات کی پابندی اور تمام قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات دیں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کلیدی کردار ہے اگر محکمہ مواصلات و تعمیرات محنت و لگن سے صوبے کی خدمت کرےگی تو صوبے کے ترقی اور خوشحالی کو کوئی نہیں روک سکتاہے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5937/2026
نصیرآباد:6جولائی ۔ سپرنٹینڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ پٹ فیڈر کینال کے غیر کمانڈ ایریاز میں پانی چوری کرنے والوں کے خلاف محکمہ ایریگیشن کی کارروائیاں بلاامتیاز جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں پانی چوری کرتے ہوئے عبدالطیف ابڑو کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جس کے خلاف ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر کے تعاون سے متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کے تعاون سے کاروائی کے سلسلے کو مزید تقویت دی جائے گی کسی بھی ذرعی پانی چور کے لیے نرم گوشہ ہرگز نہیں رکھیں گے انہوں نے کہا کہ کمانڈ ایریا کے چپے چپے تک مقررہ شیڈول کے مطابق پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی کی سربراہی میں تمام انجینئرز اور فیلڈ عملہ دن رات اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ مدثر ظفر کھوسہ نے واضح کیا کہ پانی چوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور نہری نظام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی تاکہ کمانڈ ایریا کے تمام کاشتکاروں کو ان کا جائز حق بروقت فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ مقدمہ سب ڈویڑنل آفیسر محمد سلیم بہرانی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جبکہ پانی چوری میں زیر استعمال مشینری بھی ضبط کرلی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5938/2026
کوئٹہ6جولائی ۔محکمہ ثانوی تعلیم حکومت بلوچستان نے صوبے کے سرمائی زون میں واقع تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔محکمہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سرمائی زون کے تمام سرکاری و نجی اسکول 18 جولائی 2026 سے 2 اگست 2026 تک بند رہیں گے۔ یہ تعطیلات متعلقہ علاقوں میں یکساں طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے سرمائی اور گرمائی دونوں زونز کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں پیر، 3 اگست 2026 سے دوبارہ شروع ہوں گی۔ محکمہ نے تمام متعلقہ حکام، ضلعی تعلیمی افسران اور اسکولوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ نوٹیفکیشن پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں مقررہ شیڈول کے مطابق بحال کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5939/2026
کوئٹہ، 6 جولائی ۔مونسپل کمیٹی حرمزئی میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد، عوامی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، عبدال خان تری چیف آفیسر مونسپل کمیٹی حرمزئی، عبدال خان ترین نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کی خصوصی ہدایات کے مطابق مونسپل کمیٹی حرمزئی کی حدود میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر ایچ سی حرمزئی، وارڈ نمبر 6، 7، 8 اور 9 سمیت مختلف علاقوں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر بیک وقت عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں میں ٹاپ ٹیل (Top Tile)، واش رومز کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، گھریلو شمسی توانائی کے منصوبے، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت، بازاروں میں سیوریج نظام کی بہتری، نکاسی آب کے موثر انتظام، نئی نالیوں کی تعمیر اور پرانی نالیوں کی مرمت شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کو بہتر اور دیرپا بنیادی سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کی مجموعی ترقی میں نمایاں بہتری آئے گی۔عبدال خان ترین نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی کے تحت مونسپل کمیٹی حرمزئی میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بھی مزید موثر بنایا گیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹن کچرا شہر اور آبادیوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ مچھروں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے اسپرے مہم بھی جاری ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مونسپل کمیٹی حرمزئی کے چیئرمین سید حیدر شاہ کی قیادت، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی حکومت بلوچستان کی سرپرستی، اور مونسپل کمیٹی کے افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت ترقیاتی منصوبوں اور صفائی ستھرائی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔چیف آفیسر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مونسپل کمیٹی حرمزئی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر، صاف ستھرا اور جدید شہری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5940/2026
بارکھان، 6 جولائی ۔ایس پی بارکھان عبدالحق بلوچ سے میر عبدالکریم کھیتران نے ملاقات کی، جس میں ضلع بارکھان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، قانون کی عملداری اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایس پی عبدالحق بلوچ نے یقین دہانی کرائی کہ ضلع میں امن و امان کے قیام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پرامن ماحول کے فروغ کے لیے پولیس بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ملاقات میں باہمی تعاون کے فروغ اور ضلع میں امن و امان کی مزید بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5941/2026
لورالائی 6جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی (DEGC) کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) علی نواز جمالی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بختیار کاکڑ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد طارق، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) فوزیہ درانی، یونیسف کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عبید ترین، آر ٹی ایس ایم (RTSM) کے محمد خان کاکڑ سمیت محکمہ تعلیم اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو گزشتہ ماہ کے ایکشن پوائنٹس پر ہونے والی پیش رفت اور پروگریس رپورٹ سے آگاہ کیا گیا، جبکہ مختلف اہداف کے حصول کے حوالے سے اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی اور ریشنلائزیشن پلان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات، بالخصوص فرنیچر، پینے کے صاف پانی، واش رومز، باونڈری والز اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔آر ٹی ایس ایم (RTSM) ٹیم نے اپنی مانیٹرنگ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں 30 اسکول بند پائے گئے جبکہ 41 اساتذہ غیر حاضر رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام بند اسکولوں کو فوری طور پر فعال بنایا جائے اور بلاجواز غیر حاضر اساتذہ کے خلاف بلوچستان سول سرونٹس رولز کے مطابق فوری اور موثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری فرائض میں غفلت اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام تعمیراتی منصوبوں کا موقع پر معائنہ کرکے معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی ناقص تعمیر یا تاخیر کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کار روائی کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ جن سرکاری اسکولوں کے بجلی کے کنکشن منقطع ہیں، انہیں متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ شدید گرمی کے موسم میں طلبہ اور اساتذہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔اجلاس میں یونیسف اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں اور ضلع میں تعلیم کے فروغ، بچوں کے اسکولوں میں داخلے، سہولیات کی بہتری اور تعلیمی معیار میں اضافے کے لیے جاری اقدامات سے شرکائکو آگاہ کیا۔غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ سرکاری اسکولوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ انتظامی افسران اور محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ تمام قبضہ شدہ اسکولوں کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر واگزار کرایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق ضلع لورالائی میں تعلیمی نظام کی بہتری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں، اسکولوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنائیں، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلوں اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ ضلع میں معیاری اور موثر تعلیمی نظام کو فروغگ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5942/2026
قلات 6جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی نے کہا ہیکہ ضلع قلات کے دینی مدارس کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گےمدارس کے طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے غیرنصابی و دیگر مثبت سرگرمیوں کا جلد انعقاد کیاجائیگا ان خیالات کااظہارانہوں نے اپنے دفتر میں جمیعت علمائے اسلام قلات کے نائب امیرحضرت مولانا حافظ حمیداللہ مولانا سیف اللہ قاری غلام حسین تائب مولانا عطائ اللہ توحیدی حافظ محمدایوب قبائلی رہنماء سردارزادہ میر منیرنیچاری میرسرفراز نیچاری اور دیگر سے دوران ملاقات گفتگو میں کیا ملاقات میں ضلع قلات کے مدارس میں زیرتعلیم طلباءکی تعداد مدارس میں دستیاب سہولیات اور مدارس کو درپیش مسائل کے مناسب حل سمیت دیگر اہم امور سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیاڈپٹی کمشنر قلات نے کہا کہ دینی مدارس میں زیرتعلیم طلباء کی ہرممکن حوصلہ افزائی کی جائیگی ڈپٹی کمشنر منیراحمد درانی نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستانسرفرازبگٹءکی واضح ہدایات ہیں کہ معاشرتی ہم آہنگی مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کی تربیت دینا شرح خواندگی بڑھانےکی کوشش ہے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ علاقائی مسائل کا فوری اور پائیدارحل ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے مسائل کی نشاندہی اور انکے حل کے لیئے سیاسی سماجی رہنماءعلمائے کرام صحافی برادری ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع قلات کوامن وآشتی کاگہوارہ بنانے کی کوششیں کامیاب ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5943/2026
دکی، 6 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے ایگزیکٹو انجینئر (بلڈنگز) ملک اسد خان ترین کے ہمراہ جامعہ مدینہ العلوم اسلامیہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2025-26 کے تحت مکمل ہونے والے جدید ہال کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہال کی تعمیر کے معیار، استعمال شدہ تعمیراتی میٹریل، انجینئرنگ کے تقاضوں اور مجموعی تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر ملک اسد خان ترین نے منصوبے کے مختلف مراحل، لاگت، تعمیراتی معیار اور بروقت تکمیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ مقررہ معیار اور تکنیکی اصولوں کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے ہال کی بروقت اور معیاری تکمیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ اور تعمیراتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق عوامی فلاح، تعلیمی اداروں کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، جن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو شفاف، معیاری اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور سرکاری وسائل کا موثر اور شفاف استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں پائیداری، معیار اور شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے تاکہ شہری طویل عرصے تک ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر جامعہ مدینہ العلوم اسلامیہ کی انتظامیہ سے بھی ملاقات کی اور تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کو دستیاب سہولیات اور ادارے کی ضروریات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔دورے کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مکمل ہونے والے منصوبے کی مناسب دیکھ بھال اور مستقل مرمت کے لیے بھی موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ تعمیر شدہ ہال طویل عرصے تک طلبہ اور ادارے کی ضروریات پوری کر سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5944/2026
کوئٹہ6جولائی ۔ تیسری ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی ایچ آئی بلوچستان کے سی ای او ڈاکٹر محمد بخش داریجو نے کہا ہے کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان صوبے کے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ بنیادی مراکز صحت، ضلعی دفاتر اور انتظامی و مانیٹرنگ نظام کو مرحلہ وار مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کر رہا ہے تاکہ عوام کو شفاف، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈاکٹر ایم بی داریجو نے بتایا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان صوبے بھر میں 157 غیر فعال بنیادی مراکز صحت کو فعال کرنے جا رہا ہے، جس سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بہتر تشخیصی سہولیات کی فراہمی کے لیے 100 نئے بنیادی مراکز صحت میں جدید لیبارٹریاں قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے، جس سے مریضوں کو مقامی سطح پر معیاری طبی ٹیسٹوں کی سہولت حاصل ہوگی اور بڑے شہروں پر انحصار کم ہوگا۔زچگی اور نومولود بچوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان نے صوبے کے مختلف بنیادی مراکز صحت میں 100 نئے لیبر رومز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے محفوظ زچگی کو فروغ ملے گا اور ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے صوبے کے دور افتادہ، پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں بنیادی صحت کی معیاری خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ادارے نے صحت کی سہولیات کو عام آدمی تک پہنچانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، شفاف انتظامی نظام، موثر مانیٹرنگ اور عوام دوست اصلاحات کے ذریعے صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔کانفرنس کے شرکاء نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام اور بنیادی صحت کے مراکز کی توسیع سے صوبے میں صحت کی سہولیات مزید بہتر ہوں گی اور عوام کو پہلے سے زیادہ معیاری، موثر اور بروقت طبی خدمات میسر آئیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta: Addressing the Third Health Conference, PPHI Balochistan CEO Dr. Muhammad Bakhsh Darijo said that PPHI Balochistan is rapidly moving towards digitalization to modernize the province’s healthcare system. He stated that the organization is gradually transforming Basic Health Units (BHUs), district offices, and administrative and monitoring systems into a fully digital platform to ensure transparent, efficient, and timely healthcare services for the people.Dr. M.B. Darijo announced that PPHI Balochistan is set to operationalize 157 previously non-functional Basic Health Units across the province. This initiative will significantly improve access to essential healthcare services for millions of people living in remote and underserved areas.He further stated that, to strengthen diagnostic services, PPHI Balochistan plans to establish 100 new laboratories at Basic Health Units. These facilities will enable patients to receive quality diagnostic services closer to their homes, reducing their dependence on major urban healthcare centers.Emphasizing maternal and newborn health, Dr. Darijo announced that PPHI Balochistan has set a target of establishing 100 new labour rooms in Basic Health Units across the province. He noted that this initiative will promote safe motherhood and contribute to improving maternal and neonatal health indicators.He added that PPHI Balochistan has been delivering quality primary healthcare services for many years in the province’s remote, underserved, and hard-to-reach areas. Through the adoption of modern technology, transparent governance, effective monitoring systems, and people-centered reforms, the organization has made significant progress in strengthening the healthcare sector.Participants at the conference appreciated the performance of PPHI Balochistan and expressed confidence that the expansion of digital systems and primary healthcare facilities would further enhance healthcare delivery across the province, ensuring better, more efficient, and timely medical services for the people.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5945/2026
کوئٹہ، 06 جولائی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کو یہاں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں مختلف اعلیٰ حکام، سیاسی رہنماوں اور سرکاری اداروں کے سربراہان نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں صوبے کی امن و امان کی مجموعی صورتحال، عوامی خدمت، گورننس، توانائی کے شعبے کی بہتری اور دیگر اہم انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے دوران صوبے میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، حساس اضلاع میں سیکیورٹی انتظامات اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے پولیس فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید موثر بنانے اور انہیں ہر ممکن وسائل کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ عاصم قائمخانی نے بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صوبے کے جیل نظام میں جاری اصلاحات، سیکیورٹی انتظامات، قیدیوں کی فلاح و بہبود، اصلاحی پروگرامز اور جیلوں کی انتظامی استعداد کار میں اضافے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ جیلوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اصلاحی مراکز کے طور پر مزید موثر بنایا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ نے بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، عوامی مسائل، جاری ترقیاتی منصوبوں، قانون سازی اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے، شفاف طرز حکمرانی کو فروغ دینے اور بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت اور تعاون پر یقین رکھتی ہے کیسکو بلوچستان کے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر شوکت جوگیزئی نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے میں بجلی کی فراہمی، لوڈ مینجمنٹ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کی بہتری، ترقیاتی منصوبوں اور صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور زیر غور آئے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوام کو بلا تعطل اور بہتر بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مقامی اسپتال جا کر محمد اکبر کی عیادت اور مزاج پرسی کی۔ وزیر اعلیٰ نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ مریض کو بہترین اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت بلوچستان امن و امان کے قیام، موثر گورننس، عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکومتی اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی خدمت، شفاف انتظامیہ اور ترقیاتی عمل کی رفتار کو مزید تیز کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5946/2026
کوئٹہ، 6 جولائی ۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں ہنہ اڑک اور بابری میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا بھرپور آپریشن شروع کردیا گیا ہے جس کا مقصد علاقے کو دہشت گرد عناصر سے مکمل طور پر پاک کرنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے سیکیورٹی فورسز انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن موثر انداز میں جاری ہے اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رکھا جائے گا شاہد رند نے بتایا کہ آپریشن کے دوران اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جرات اور قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران ہنہ اڑک اور بابری کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے اور کسی بھی ریاست دشمن عنصر کو فرار ہونے کا موقع نہ ملے معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن کے قیام تک تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی شاہد رند نے کہا کہ علاقے میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ آپریشن کے دوران عام شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر ہرگز توجہ نہ دیں اور صرف حکومت بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مصدقہ سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو بروقت حقائق سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5947/2026
کوئٹہ 6 جولائی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے موثر تعلیم دوست پالیسیوں کے ثمرات سے صوبے کے طلبہ اور طالبات بھرپور انداز سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز فلی فنڈڈ اسکالرشپ برائے تعلیمی سال 26-2025وزیراعلی بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کا عملی مظاہرہ ہے جس کے تحت ضلع زیارت کے ہونہار طلباء وطالبات ، ڈسٹرکٹ ٹاپرز کے لیے شاندار کامیابی پر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) ضلع زیارت کے “شہید بینظیر بھٹو میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرزفلی فنڈڈ اسکالرشپ ” کے لیے منتخب ہونے والے ٹاپ 10 طلباءو طالبات (5) طلباء اور 5 طالبات ) اسکالرشپس کے حصول میں کامیاب ہوئے ہیں یہ اعزاز میرٹ، معیاری تعلیم کے فروغ ، ہونہار طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی اور روشن تعلیم یافتہ و خوشحال بلوچستان کے عزم کی بہترین عملی تعبیر ہے ڈسٹرکٹ زیارت میں 5 نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں بی بی ہریرہ ،رومن نور،عرش سعد ،قرة العن اور فوزیہ بی بی شامل ہیں جبکہ 5 نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں ،حسیب الرحمن نجیب اللہ, محمد انس ، محمد عاصم اور عبدالرحمن شامل ہیں چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ خالد ماندائی کی قیادت میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) ہو نہار اور مستحق طلباء و طالبات کی تعلیمی ترقی ، میرٹ کے فروغ اور روشن مستقبل کے لیے پر عزم ہے سی ای او بیف نے کہا ہے کہ طلباء کی یہ کامیابی مزید اعلی تعلیم و پیشہ ورانہ کامیابیوں کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے انہوں نے میرٹ سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبائ اور طالبات کے بہتر مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5948/2026
گوادر6 جولائی ۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر معروف کاروباری و سماجی شخصیت چراغ کلمتی، وائس چیئرمین گبد کلاتو عبدالمجید مجید کلمتی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ملاقات کے دوران گوادر کی مجموعی ترقی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خصوصی طور پر فشرمین کالونی کی سرکاری اراضی سے متعلق صورتحال زیر بحث آئی۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے ایم پی اے گوادر کو آگاہ کیا کہ گزشتہ روز جی ڈی اے کی ٹیم جب فشرمین کالونی میں اراضی کی حد بندی (ڈیمارکیشن) کے لیے موقع پر پہنچی تو اسے قابضین کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔اس پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہیگیروں کی زمینوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی بالادستی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فشرمین کالونی کی اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کرائیں۔ملاقات میں دونوں شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فشرمین کالونی کی سرکاری زمین ہر حال میں قبضہ مافیا سے واگزار کرائی جائے گی اور اس ضمن میں قانونی کارروائی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ملاقات کے دوران گوادر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر کی ترقی، سرکاری املاک کے تحفظ اور عوامی مفادات کے لیے باہمی تعاون اور مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5949/2026
حب، 6 جولائی۔ڈپٹی کمشنر حب کی زیر صدارت ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر فراہم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے ثمرات براہِ راست عوام تک منتقل کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر حب، ڈپٹی ڈائریکٹر ویٹس اینڈ میڑرز، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک، ڈپٹی ڈائریکٹر بلوچستان فوڈ اتھارٹی، ڈی ایس پی ٹریفک، تاجر تنظیموں، سماجی تنظیموں، ہوٹل ایسوسی ایشن، کریانہ مرچنٹس، دودھ فروشوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کے نرخوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد متفقہ طور پر نئی قیمتوں کی منظوری دی گئی، جس کے بعد ضلع حب کے لیے نیا سرکاری نرخ نامہ جاری کر دیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک پہنچانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی ہر ممکن طور پر یقینی بنائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر حب اور متعلقہ تحصیلداروں کو ہدایت کی کہ وہ ضلع بھر میں جاری کردہ نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں اور بازاروں کا معائنہ کریں اور خلاف ورزی کے مرتکب دکانداروں، ہوٹل مالکان اور دیگر کاروباری افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی عمل میں لائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں قید سمیت دیگر قانونی اقدامات بھی عمل میں لائے جائیں گے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تاجر تنظیموں اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع حب میں سرکاری نرخ نامے پر مو¿ثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام کو اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5950/2026
کوئٹہ 6جولائی ۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے سیوریج کے آلودہ پانی سے کاشت کی جانے والی مضرِ صحت سبزیوں کے خلاف جاری خصوصی کریک ڈاون تیسرے روز بھی بھرپور انداز میں جاری رہا۔ کارروائیوں کے دوران نیو سبزل، سی پیک روڈ میں نالوں کے آلودہ پانی سے کاشت کی گئی 28 ایکڑ سے زائد رقبے پر موجود دھنیا، پودینہ، گوبھی، چقندر، سلاد اور دیگر سبزیوں کی فصلیں تلف کر دی گئیں تاکہ یہ غیر محفوظ سبزیاں مارکیٹ تک نہ پہنچ سکیں۔کریک ڈاون کے دوران بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی فیلڈ ٹیموں نے موقع پر فصلوں کو تلف کرنے کے ساتھ ساتھ سیوریج کے پانی کی فراہمی کے ذرائع کی نشاندہی کی اور انہیں منقطع کرنے کے اقدامات بھی کیے۔ کارروائی کے دوران بلوچستان پولیس نے سیکیورٹی اور انتظامی معاونت فراہم کی، جس کے باعث آپریشن موثر اور بلا رکاوٹ جاری رہا۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی اتھارٹی کی اولین ذمہ داری ہے اور شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی مفاد کے لیے عوامی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو متعدد بار آگاہ کیا جا چکا ہے کہ سیوریج کے پانی سے صرف غیر خوردنی فصلوں کی کاشت کی اجازت ہےجبکہ سبزیوں اور دیگر خوردنی اجناس کی ایسی کاشت قانوناً ممنوع ہے۔ اس کے باوجود خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے مزید کہا کہ مضرِ صحت سبزیوں کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کا مکمل خاتمہ اتھارٹی کے جاری کریک ڈاون کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کاشت سے لے کر منڈیوں اور مارکیٹوں تک نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ آلودہ اور غیر محفوظ خوراک کسی بھی صورت عوام تک نہ پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہے تاکہ سیوریج کے پانی کے غیر قانونی استعمال کی مستقل روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی قوانین پر موثر عملدرآمد، عوامی صحت کے تحفظ اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5951/2026
کوئٹہ6 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سیاست درحقیقت عوام کی خدمت اور انکے حقوق و اختیارات کا تحفظ ہے۔ میں نے اپنے چالیس سالہ سیاسی کیرئیر میں پورے صوبے بالخصوص ژوب ڈویژن میں تعلیم، ہیلتھ کیئر اور انفراسٹرکچر کی جو مضبوط و مستحکم بنیادیں رکھی ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ تمام ترقیاتی منصوبے و اقدامات ہماری آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ پہنچائیں گے۔ اب وہ دن بہت قریب ہے جب ڈسٹرکٹ ژوب پورے خطے کیلئے ایک اہم تعلیمی مرکز ثابت ہوگا۔ بیوٹمز یونیورسٹی ژوب کیمپس، پنجاب حکومت کے تعلیمی پروجیکٹ کے تحت دانش سکول اور دیگر تعلیمی اور فنی اداروں کے عوام کی مجموعی زندگی پر بہت تعمیری اثرات مرتب ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ژوب ڈویژن کے مختلف وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا حقیقی سیاست قیادت کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ موجودہ عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو بھی تحفظ فراہم کریں۔ یہ بات ہم سب کیلئے باعث فخر اور اطمینان ہے کہ بیوٹمزیونیورسٹی ژوب کیمپس کوالٹی ایجوکیشن کے فروغ، نوجوانوں کی علمی و پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ڈسٹرکٹ ژوب، شیرانی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور دیگر متصل علاقوں کے طلبہ و طالبات کو معیاری اور قابلِ رسائی تعلیم فراہم کرتے ہوئے اس ادارے نے بہت مختصر عرصے میں ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جو نہ صرف ادارے بلکہ پورے ژوب ڈویژن کیلئے باعثِ فخر ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ محدود وسائل اور جغرافیائی دوری کے باوجود ژوب شہر کے تمام چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) اور دیگر مقابلے کے امتحانات میں ایک درجن سے زائد امیدوار نے تحریری امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوئے جس پر ان نمایاں کامیابیوں کے پیچھے بیوٹمز یونیورسٹی ژوب کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام لودھی اور ان کی پوری ٹیم کی محنت اور لگن خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالسلام نے گورنر بلوچستان نے گورنر جعفرخان مندوخیل کی مسلسل سرپرستی اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ذاتی کوششوں اور تعلیم دوستی کے نتیجے میں بھاری تعلیمی فیسوں میں کمی اور متعدد مستحق یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی تعلیمی کفالت کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
خبر نامہ نمبر5952/2026
کوئٹہ6 جولائی:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ریاست کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، حکومت شہداء کے خاندانوں کی مکمل کفالت اور زخمیوں کے بہترین علاج کو یقینی بنائے گی، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی اور ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہنہ اڑک میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی مقامی اسپتال میں عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آنے دی جائے۔ انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں اور کسی بھی قسم کا مالی معاوضہ اس عظیم نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا، تاہم حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین میں مالی امداد کے چیک تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کی سولہ سال تک تعلیم، اسکالرشپس، مکمل کفالت، سرپرستی اور دیگر تمام ضروری اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہارا فراہم کیا جا سکے وزیراعلیٰ نے بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران ایک پولیس جوان چوتھی مرتبہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے زخمی ہوا، جو فورس کے بلند حوصلے، جرات اور فرض شناسی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بلوچستان پولیس پر فخر ہے، جس نے انسپکٹر جنرل پولیس کی قیادت میں مختصر عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف اپنی استعداد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ اس سطح کی استعداد حاصل کرنے میں مزید وقت لگے گا، مگر پولیس نے توقعات سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے وزیراعلیٰ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر ادارہ اپنے آئینی اور قانونی دائر اختیار میں رہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عموماً مختصر وقت کے لیے آ کر نرم اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، معصوم شہریوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پروپیگنڈے کے لیے ویڈیوز بنا کر فرار ہو جاتے ہیں، تاہم ریاست ایسے عناصر کے مذموم عزائم کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد صوبائی وزیر داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس، سینئر پولیس افسران اور دیگر متعلقہ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے اور تمام اداروں نے فوری اور مربوط انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زمینی حقائق سے پوری طرح آگاہ ہے اور سیکیورٹی چیلنجز سے انکار نہیں کرتی، تاہم بلوچستان کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے جان بوجھ کر ایسا تاثر پیش کیا جاتا ہے جو حقائق کے منافی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو خوفزدہ کرنے اور ریاست کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت اور تمام ریاستی ادارے مکمل یکجہتی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر5953/2026
کوئٹہ6جولائی: بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فوجداری اپیل نمبر 246/2024 اور قتل ریفرنس نمبر 08/2024 کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے ملزم منیر احمد کی جانب سے دائر اپیل مسترد کر دی ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت پشین کی جانب سے سنائی گئی دو مرتبہ سزائے موت کو برقرار رکھتے ہوئے قتل ریفرنس کا جواب بھی اثبات میں دے دیا ہے۔ دو رکنی بینچ کے جسٹس محمد عامر نواز رانا نے محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 جون 2026 کو کھلی عدالت میں سنایا۔دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ملزم کا عدالتی اعتراف، اس کی نشاندہی پر مقتول کی لاش کی برآمدگی، پوسٹ مارٹم، فرانزک، سائبر کرائم ریکارڈ اور دیگر حالاتی شواہد ایک مکمل، مربوط اور ناقابلِ تردید شہادتوں کا سلسلہ تشکیل دیتے ہیں، جس سے ملزم کا جرم معقول شک سے بالاتر ثابت ہوتا ہے۔ عدالت نے دفاع کی جانب سے عدالتی اعتراف، سائبر شواہد، لاش کی برآمدگی، حالاتی شواہد، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے اطلاق اور نابالغ ہونے سمیت تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا حقائق پر مبنی خامی موجود نہیں، جبکہ مقدمے میں سزا میں نرمی کی بھی کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا دو مرتبہ سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
خبر نامہ نمبر5954/2026
تمپ6 جولائی:۔ ڈی پی او ضلع تمپ ایس پی محمد عارف بلوچ کی زیر صدارت نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کی پولیس ڈیپارٹمنٹ کا پہلا کرائم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او محمد اسماعیل، ایس ایچ او تمپ سٹی، صدر ایس ایچ او مند سٹی اور صدر تفتیشی افسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کی مجموعی امن و امان اور جرائم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ایس پی تمپ نے افسران کو ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کی روک تھام اور مؤثر پولیسنگ کے لیے فوری اور پیشہ ورانہ اقدامات کیے جائیں۔ زیرِ تفتیش مقدمات، سنگین جرائم، اشتہاری و مفرور ملزمان کی گرفتاری، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، حساس مقامات کی سیکیورٹی، بیٹ پولیسنگ، گشت اور انٹیلی جنس نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔افسران کو محکمانہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع پولیس تمپ امن و امان کے قیام، جرائم کے انسداد اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کرتی رہے گی۔
خبر نامہ نمبر5955/2026
گوادر6 جولائی:۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر معروف کاروباری و سماجی شخصیت چراغ کلمتی، وائس چیئرمین گبد کلاتو عبدالمجید مجید کلمتی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ملاقات کے دوران گوادر کی مجموعی ترقی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خصوصی طور پر فشرمین کالونی کی سرکاری اراضی سے متعلق صورتحال زیر بحث آئی۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے ایم پی اے گوادر کو آگاہ کیا کہ گزشتہ روز جی ڈی اے کی ٹیم جب فشرمین کالونی میں اراضی کی حد بندی (ڈیمارکیشن) کے لیے موقع پر پہنچی تو اسے قابضین کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔اس پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہیگیروں کی زمینوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی بالادستی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فشرمین کالونی کی اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کرائیں۔ملاقات میں دونوں شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فشرمین کالونی کی سرکاری زمین ہر حال میں قبضہ مافیا سے واگزار کرائی جائے گی اور اس ضمن میں قانونی کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ملاقات کے دوران گوادر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر کی ترقی، سرکاری املاک کے تحفظ اور عوامی مفادات کے لیے باہمی تعاون اور مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر5956/2026
گوادر6جولائی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع گوادر میں بنیادی صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچانے کے لیے پی پی ایچ آئی گوادر کے ضلعی منیجر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو شینیکانی در، بی ایچ یو نوگڈو، بی ایچ یو چب ریکانی اور بی ایچ یو ڈگارو کا تفصیلی مانیٹرنگ و فسیلیٹیشن دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، مریضوں کو فراہم کی جانے والی ادویات اور مجموعی انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ڈاکٹر مرشد دشتی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت، معیاری اور باعزت طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور بہتر سروس ڈیلیوری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت صحت کے شعبے کی بہتری، دور دراز علاقوں تک علاج معالجے کی رسائی اور عوام دوست طرز حکمرانی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج زمینی سطح پر نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پی پی ایچ آئی گوادر کی یہ مانیٹرنگ مہم اس عزم کی عکاس ہے کہ بلوچستان کے ہر شہری کو اس کی دہلیز پر بنیادی صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور صحت مند بلوچستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر5957/2026
کوئٹہ6 جولائی:۔چیف آفیسر مونسپل کمیٹی حرمزئی، عبدال خان ترین نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کی خصوصی ہدایات کے مطابق مونسپل کمیٹی حرمزئی کی حدود میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر ایچ سی حرمزئی، وارڈ نمبر 6، 7، 8 اور 9 سمیت مختلف علاقوں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر بیک وقت عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں میں ٹاپ ٹیل (Top Tile)، واش رومز کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، گھریلو شمسی توانائی کے منصوبے، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت، بازاروں میں سیوریج نظام کی بہتری، نکاسی? آب کے مؤثر انتظام، نئی نالیوں کی تعمیر اور پرانی نالیوں کی مرمت شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کو بہتر اور دیرپا بنیادی سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کی مجموعی ترقی میں نمایاں بہتری آئے گی۔عبدال خان ترین نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی کے تحت مونسپل کمیٹی حرمزئی میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹن کچرا شہر اور آبادیوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ مچھروں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے اسپرے مہم بھی جاری ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مونسپل کمیٹی حرمزئی کے چیئرمین سید حیدر شاہ کی قیادت، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی حکومت بلوچستان کی سرپرستی، اور مونسپل کمیٹی کے افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت ترقیاتی منصوبوں اور صفائی ستھرائی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔چیف آفیسر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مونسپل کمیٹی حرمزئی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر، صاف ستھرا اور جدید شہری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر5958/2026
مچھ6جولائی:۔ انسپکٹوریٹ آف مائنز مچھ کے زیر اہتمام مغل کول کمپنی کے تعاون سے ایک روزہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد کان کنوں میں حفاظتی شعور اجاگر کرنا، پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ اور کان کنی کے دوران ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر مغل کول کمپنی کے تعاون سے قائم کیے گئے جدید ریسکیو سینٹر اور فرسٹ ایڈ روم کا بھی افتتاح کیا گیا۔ تربیتی پروگرام میں انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی اور الیکٹرک انسپکٹر آف مائنز مچھ عارف حسین نے تقریباً 200 کول ورکرز اور مائنز مزدوروں کو ہیلتھ اینڈ سیفٹی، کانوں میں محفوظ طریق کار، ہنگامی حالات سے نمٹنے، ابتدائی طبی امداد، ریسکیو اقدامات اور حفاظتی آلات کے درست استعمال سے متعلق جامع تربیت فراہم کی۔ ورکشاپ میں بولان کولریز، مچھ کولریز، بلوچستان کول کمپنی، سوراب جی اینڈ سنز، ایس اے لطیف اینڈ سنز اور مغل کول کمپنی کے ورکرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر انسپکٹر آف مائنز مچھ قربان علی عمرانی نے ریسکیو سینٹر اور فرسٹ ایڈ روم کا افتتاح روایتی انداز کے بجائے کول ورکرز کے ہاتھوں کروا کر محنت کش طبقے کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ پیغام دیا کہ کان کن ہی اس صنعت کا حقیقی سرمایہ ہیں، جن کی جانوں کا تحفظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مائنز میں حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد، کارکنوں کی استعداد کار میں اضافے اور حادثات کی مؤثر روک تھام کے لیے اس نوعیت کی تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/5959
مسلم باغ 6جولائی:اسسٹنٹ کمشنر مجید سلیم نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔ چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے دفتر کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، افسران اور عملے سے ملاقات کی اور ادارے کے امور سے متعلق ابتدائی بریفنگ حاصل کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مجید سلیم نے کہا کہ عوام کو بروقت اور معیاری سرکاری خدمات کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور میرٹ کی پاسداری ان کی اولین ترجیحات ہوں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر عوامی مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی امور کی مؤثر نگرانی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔انہوں نے متعلقہ افسران اور عملے پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔






