خبرنامہ نمبر 5926/2026
کوئٹہ، 05 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کارگل معرکے کے عظیم ہیرو، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر کے 27ویں یومِ شہادت پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کے اس عظیم سپوت کی بے مثال جرات، شجاعت اور لازوال قربانی پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ انتہائی ناموافق حالات میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے جس بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ مادرِ وطن سے وفاداری، فرض شناسی اور ایثار کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ ان کی عظیم قربانی ہمیشہ قوم اور افواجِ پاکستان کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وطن کا دفاع ہر پاکستانی کا مقدس فریضہ ہے اور ارضِ پاک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان امن، وقار اور خودمختاری کے ساتھ دنیا کے نقشے پر قائم ہے۔ قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی شہادت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ آزادی اور خودمختاری کسی بھی قوم کو مفت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے عظیم بیٹوں کا خون قربان ہوتا ہے۔ شہداء کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے جذبۂ حب الوطنی، جرات اور استقامت کا روشن استعارہ ہیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان اور صوبے کے عوام ملک کو درپیش ہر بیرونی اور اندرونی خطرے کے مقابلے میں اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور وطنِ عزیز کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 5927/2026
کوئٹہ، 5 جولائی 2026: بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فوجداری اپیل نمبر 246/2024 اور قتل ریفرنس نمبر 08/2024 کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے ملزم منیر احمد کی جانب سے دائر اپیل مسترد کر دی ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت پشین کی جانب سے سنائی گئی دو مرتبہ سزائے موت کو برقرار رکھتے ہوئے قتل ریفرنس کا جواب بھی اثبات میں دے دیا ہے۔ دو رکنی بینچ کے جسٹس محمد عامر نواز رانا نے محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 جون 2026 کو کھلی عدالت میں سنایا۔دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ملزم کا عدالتی اعتراف، اس کی نشاندہی پر مقتول کی لاش کی برآمدگی، پوسٹ مارٹم، فرانزک، سائبر کرائم ریکارڈ اور دیگر حالاتی شواہد ایک مکمل، مربوط اور ناقابلِ تردید شہادتوں کا سلسلہ تشکیل دیتے ہیں، جس سے ملزم کا جرم معقول شک سے بالاتر ثابت ہوتا ہے۔ عدالت نے دفاع کی جانب سے عدالتی اعتراف، سائبر شواہد، لاش کی برآمدگی، حالاتی شواہد، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے اطلاق اور نابالغ ہونے سمیت تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا حقائق پر مبنی خامی موجود نہیں، جبکہ مقدمے میں سزا میں نرمی کی بھی کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا دو مرتبہ سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
خبرنامہ نمبر 5928/2026
نصیرآباد:سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ ارسا اور سندھ ایریگیشن حکام سے قریبی روابط رکھنے اور صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی و صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ کی مسلسل کاوشوں کے باعث بلوچستان کی کینالز میں پانی کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے۔سندھ ایریگیشن حکام کی ہٹ دھرمی کے باعث ہمارے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ہم ایک لمحے کے لیے بھی خاموش نہیں رہے اور سندھ سے ارسا قوانین کے مطابق پٹ فیڈر کینال اور کیرتھر کینال میں بلوچستان کے جائز حصے کے حصول کے لیے مسلسل سرگرم عمل رہے۔انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی کی نگرانی میں منصفانہ زرعی پانی کی تقسیم کا عمل جاری ہے، جبکہ سندھ میں مانیٹرنگ پر تعینات سب ڈویژنل آفیسر حاجی ممتاز علی سومرو کے مطابق گزشتہ روز پٹ فیڈر کینال میں چار ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا تھا، جو اب بڑھ کر پانچ ہزار چار سو کیوسک ہو چکا ہے، اور ہمیں قوی امید ہے کہ ان شاء اللہ مزید بہتری بھی آئے گی سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان کے گرین بیلٹ کے کاشتکاروں کی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے اور انہیں ان کے جائز حق کے مطابق زرعی پانی کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی کے تمام افسران اور عملہ نہری نظام کی مسلسل نگرانی، پانی کی منصفانہ تقسیم اور ٹیل تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے شبانہ روز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ارسا قوانین کے مطابق بلوچستان کے حصے کے پانی کے حصول کے لیے ہر فورم پر بھرپور انداز میں آواز بلند کی جاتی رہے گی اور کاشتکاروں کے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، خوشحالی اور معاشی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر 5929/2026
اسلام آباد، 05 جولائی :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بعض عناصر لاپتہ افراد اور عوامی حقوق کی آڑ میں نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے اور ریاست مخالف بیانیہ پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ایسے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان کی انتہائی پیشہ ورانہ، منظم اور باصلاحیت مسلح افواج، پیرا ملٹری فورسز، پولیس اور لیویز کی موجودگی میں چند پرتشدد عناصر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر منعقدہ اوپن ایکس اسپیس کے دوران مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، نوجوانوں، سب نیشنلسٹ حلقوں، این جی اوز کے نمائندوں، ناقدین اور سول سوسائٹی کے ارکان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ اوپن اسپیس میں ایک موقع پر شرکاء کی تعداد سولہ ہزار سے تجاوز کر گئی جہاں وزیراعلیٰ نے سخت اور تنقیدی سوالات کے بھی حقائق، اعداد و شمار اور شواہد کی بنیاد پر تفصیلی جوابات دیے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح بلوچستان کے نوجوان ہیں اور اسی مقصد کے لیے یوتھ انگیجمنٹ پلان حکومت کا سب سے اہم پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس نوجوانوں کی قومی دھارے میں شمولیت، انہیں مثبت مواقع فراہم کرنے اور روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے کے لیے دس سے بارہ مختلف منصوبے زیر عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوسی، انتہاپسندی اور تشدد کے بجائے تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ضلع کی ضروریات اور معاشی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ الگ ترقیاتی منصوبے تیار کر رہی ہے جس میں گوادر کے نوجوانوں کے لیے فشریز اور سمندری معیشت سے متعلق خصوصی مواقع بھی شاملہیں، جبکہ دیگر اضلاع کے لیے بھی ان کی مقامی ضروریات کے مطابق منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کو ایپکس کمیٹی میں منظوری کے بعد مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض گروہوں نے لاپتہ افراد اور عوامی حقوق کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں تشدد کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسے عناصر مختلف علاقوں میں جا کر نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم حکومت نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم، مکالمے اور روزگار کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے پہلی مرتبہ پنشن اصلاحات نافذ کیں، گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ترقیاتی اخراجات میں چودہ ارب روپے کی کمی کی، جبکہ صوبے میں الیکٹرک وہیکلز پالیسی بھی متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ جدید، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دیا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالی نظم و ضبط قائم کرتے ہوئے زکوٰۃ کی تقسیم کے پرانے نظام میں بنیادی اصلاحات کیں۔ ماضی میں ساٹھ کروڑ روپے کی زکوٰۃ تقسیم کرنے کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے انتظامی اخراجات پر صرف کیے جاتے تھے تاہم حکومت نے زکوٰۃ محکمہ ختم کرکے یہ وسائل بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ میں منتقل کیے، جہاں سے اب مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے چار ارب روپے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت بلوچستان کے ہر ضلع، ہر گاؤں، ہر دیہات، تمام سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات اور صحت کے مراکز کو فائبر آپٹک کے ذریعے تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ نوجوان جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں تاکہ صوبے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور قانونی تجارت کو فروغ ملے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت نوجوانوں سے مسلسل رابطے، کھلے مکالمے اور اعتماد سازی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ہم یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جا کر نوجوانوں سے براہ راست گفتگو کر رہےہیں، ان کے سخت ترین سوالات بھی تحمل اور دلیل کے ساتھ سنے اور جواب دیے جاتے ہیں، صوبے میں مختلف اسکالرشپ پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے کی طالبات کے لیے دنیا کی ممتاز جامعات، بشمول ہارورڈ اور آکسفورڈ، میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع تک رسائی کے دروازے کھولے ہیں، جو صوبے میں خواتین کی تعلیم اور بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، بالخصوص نوجوان، پاکستان کے روشن مستقبل کا سرمایہ ہیں اور حکومت انہیں ہر ممکن مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے سیاسی اور سماجی امور کے ماہرین نے اوپن ایکس اسپیس کو بلوچستان سے متعلق حقائق عوام کے سامنے لانے کی ایک مؤثر کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے شواہد، اعداد و شمار اور دلیل کے ساتھ بلوچستان کے حوالے سے گمراہ کن بیانیے کا مؤثر جواب دیا۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں نوجوانوں کی اس مکالمے میں شرکت اور ریاستی مؤقف کی تائید اس امر کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کا نوجوان امن، ترقی، تعلیم اور ریاستی استحکام کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کا براہ راست عوامی مکالمہ اور سخت سوالات کے تحمل سے جواب دینا شفاف طرز حکمرانی اور مؤثر عوامی رابطے کی بہترین مثال ہے۔
خبرنامہ نمبر 5930/2026
کوئٹہ، 05 جولائی:معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ور صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور مجوزہ میڈیا پالیسی کے حوالے سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے انہوں نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان میڈیا کے نمائندہ اداروں سے تصادم نہیں بلکہ تعمیری مشاورت کی خواہاں ہے۔ اگر سی پی این ای کو مجوزہ میڈیا پالیسی کے حوالے سے کسی بھی نوعیت کے تحفظات یا تجاویز ہیں تو حکومت ان پر سنجیدہ غور کے لئے تیار ہے شاہد رند نے کہا کہ ہم سی پی این ای کی قیادت کو باقاعدہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ کوئٹہ تشریف لائے حکومت بلوچستان سے تفصیلی مشاورت کرے اور اپنی سفارشات پیش کرے تاکہ نئی میڈیا پالیسی کو انہی سفارشات کی روشنی میں مزید بہتر ، متوازن، شفاف اور قابلِ عمل بنایا جاسکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا مقصد کسی بھی میڈیا شعبے کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا نہیں بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام وضع کرنا ہے۔ اگر مشاورت کے دوران پالیسی کے کسی پہلو میں بہتری کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا واضح مؤقف ہے کہ حکومت کا مقصد کسی بھی شعبۂ صحافت یا میڈیا ادارے کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا نہیں بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع پر مبنی میڈیا فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ اگر مشاورت کے دوران پالیسی کے کسی پہلو میں بہتری کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت مثبت تجاویز کو خوش دلی سے قبول کرے گی۔
خبرنامہ نمبر 5931؍2026
زیارت 05جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ کے ہدایات کے تحت زیارت ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے اور بھرپور انداز میں کام جاری ہے۔ سڑکوں کی بہتری عوامی سہولیات کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور دیگر اہم منصوبوں پر پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ زیارت کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں یہ تمام منصوبوں کا مقصد زیارت کو جدیدخوبصورت اور ہر لحاظ سے ایک مثالی سیاحتی و ترقی یافتہ ضلع بنایا جائے، جہاں مقامی آبادی کو بہتر سہولیات میسر آئیں اور سیاحوں کو بھی ایک بہترین ماحول فراہم ہوان شاء اللہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد زیارت کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگا، ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، اور عوام کو دیرپا اور معیاری سہولیات حاصل ہوں گی۔ یہ اقدامات نہ صرف علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ روزگار، سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ کا بھی سبب بنیں گیاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ تمام منصوبے بروقت اور بہترین معیار کے ساتھ مکمل ہوں اور ان کے ثمرات زیارت کے ہر شہری تک پہنچیں زیارت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور ان شاء اللہ آنے والا وقت مزید روشن، خوبصورت اور خوشحال ہوگا۔
خبرنامہ نمبر 5932/2026
لسبیلہ 5 جولائی:ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ نے تحصیل لاکھڑا اور دور افتادہ علاقےپیر بمبول کا دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، معیار اور تعمیری میٹریل کا باریک بینی سے جائزہ لیا دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول لاکھڑاکا بھی معائنہ کیا اسکول میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت تعمیر ہونے والے امتحانی ہال اور کلاس رومز کی چھتوں کی مرمتی کام کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تحصیلدار لاکھڑا عبدالرحمٰن خاصخیلی بھی ان کے ہمراہ تھے سراج احمد بلوچ نے کہا کہ تعمیراتی کام کے معیار اور میٹریل کی کوالٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ کو جلد از جلد بہتر تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے تحصیلدار لاکھڑا کے ہمراہ لاکھڑا کے دور دراز علاقے پیر بمبول کا دورہ کیا جہاں زیر تعمیر بنیادی مرکزِ صحت (BHU) کی عمارت کا معائنہ کیا انہوں نے تعمیراتی کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کے لیے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے BHU کی عمارت کو وقت پر مکمل کیا جائے تاکہ مقامی آبادی اس سے جلد از جلد مستفید ہو سکے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادرخان کی کاوشوں سے بلوچستان کے دیگراضلاع کی طرح لسبیلہ کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کے منصوبوں کی کامیابی سے تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔





