خبرنامہ نمبر4421/2026
کوئٹہ، 23 مئی:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبے بھر میں 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 5 فیصد کمی جبکہ طلبہ کے اسکولوں میں برقرار رہنے کی شرح میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو تعلیم کے شعبے میں حکومتی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے میں غیر فعال تعلیمی اداروں کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جس کے تحت 3 ہزار 778 غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال بنایا گیا ان اسکولوں کی بحالی سے ہزاروں بچے دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل ہوئے اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے، نوجوان نسل کے روشن مستقبل اور صوبے کی پائیدار ترقی کا انحصار معیاری تعلیم پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں بہتری کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہر بچے کو تعلیم کی مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت، کرپشن یا کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کی فعالیت اور تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے موثر نگرانی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کے شعبے میں مزید اصلاحات متعارف کراتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی تشکیل کیلئے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کے نوجوان قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر4422/2026
لورالائی، 23 مئی:چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محیب اللہ بلوچ کی ہدایت پر شہر میں رات گئے روڈ سیفٹی اور خوبصورتی کے حوالے سے خصوصی مہم جاری رہی۔ اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی لورالائی کی ٹیم نے رات ایک بجے شہر کی مختلف اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر پیلی لائنیں لگا کر روڈ کی حدود واضح کرنے کا عمل شروع کیا۔انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا، شہریوں کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنا اور سڑکوں کی واضح نشاندہی کو یقینی بنانا ہے۔ پیلی لائنوں کی تنصیب سے نہ صرف ٹریفک نظم و ضبط میں بہتری آئے گی بلکہ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔شہریوں نے میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے کیے جانے والے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے عوامی سہولت اور بہتر شہری انتظامات کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
خبرنامہ نمبر4423/2026
نصیرآباد23 مئی:صحبت پور۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر ضلع بھر میں امن و امان صفائی ستھرائی عوامی سہولیات اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس، اسسٹنٹ کمشنرز اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک محکمہ صحت کے نمائندگان اور سب ڈویژنل افسران کیسکو سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں عیدالاضحیٰ کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال سیکیورٹی انتظامات مویشی منڈیوں میں سہولیات، صفائی ستھرائی کانگو وائرس سے بچاؤ، اور بجلی و پانی کی بلا تعطل فراہمی سمیت عوام کو درپیش مسائل کے حل پر تفصیلی غور کیا گیا ڈپٹی کمشنر میڈم فریدہ ترین نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر بالخصوص مویشی منڈیوں بازاروں عیدگاہوں اور مساجد میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو پرامن اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عید کے ایام میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کیے جائیں انہوں نے محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت دی کہ کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے مویشی منڈیوں اور دیگر حساس مقامات پر باقاعدگی سے اسپرے کیا جائے اور عوام میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی کہ عید کے دوران تمام طبی مراکز میں عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور ہنگامی طبی سہولیات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر عوام کو ہر ممکن سہولیات بالخصوص بجلی اور پانی کی بلا تعطل فراہمی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جائے
خبرنامہ نمبر4424/2026
قلات 23 مئی: ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات نے عید الاضحی تک اینٹی کانگو وائرس سے متعلق شہریوں کیلئے آگاہی مہم شروع کردی ہیڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کی ہدایت پرڈی ایچ اوقلات نے شہریوں کی آگاہی کیلئے ویڈیو ہیغام جاری کردیا ییجاری کئے گئے ویڈیو پیغام میں کہاگیاہیکہ کانگو وائرس کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص صفائی،موثر نگرانی اور عوامی سطح پر آگاہی کے ذریعہ اس مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام ممکن ہوسکتا ہیویڈیو پیغام میں کہا گیا ہیکہ کانگوبخار نہایت خطرناک اور ممکنہ طور پر ایک جان لیوا وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر مویشیوں پر موجود چچڑیوں کے ذریعہ انسانوں میں منتقل ہوتی ہیبعض صورتوں میں متاثرہ جانور کے خون یا جسمانی رطوبت کے ساتھ براہ راست رابطہ سے بھی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہیعوام الناس کی آگاہی کیلئے جاری کئے گئے ویڈیو ہیغام میں کہا گیا ہیکہ کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، شدید جسمانی درد، متلی اور قے، گلے کی سوزش، جلد پر سرخ دھبے، مسوڑھوں یا اندرونی اعضا سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں ایسی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں شہری فوری طور پر ضلعی محکمہ صحت کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے رجوع کریں
خبرنامہ نمبر4425/2026
ڈپٹی کمشنر پنجگور جہانزیب بلوچ نے جی او آر کالونی ایئرپورٹ روڈ پنجگور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اے ڈی سی جنرل عطاء اسد، ایکسین بلڈنگ علی نواز اور ایس ڈی او زوہیب بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران متعلقہ افسران نے ڈپٹی کمشنر کو جی او آر کالونی میں جاری تعمیراتی و مرمتی کاموں، موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس دوران جہانزیب بلوچ نے مختلف عمارتوں اور رہائشی سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام عمارتوں اور بنیادی سہولیات کو جلد از جلد فعال اور قابلِ استعمال بنایا جائے تاکہ سرکاری افسران و ملازمین کو بہتر رہائشی ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی و بحالی کے کاموں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری رہائشی کالونیوں کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ افسران اور عملے کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
خبرنامہ نمبر4426/2026
کوئٹہ 23مئیبلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں Anti-Terrorist Force کی جانب سے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر شیخ محمد ایوب کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق مذکورہ افسر پر الزام تھا کہ کراچی سے چوری ہونے والی گاڑی کو ژوب سے ٹریس کیے جانے کے بعد اس نے کراچی پولیس ٹیم سے رابطہ کر کے گاڑی واپس کرنے کے بدلے 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں AVLC کراچی کی جانب سے ایسے تصویری شواہد بھی فراہم کیے گئے جن میں اس کے مبینہ کار لفٹرز گل لالئی اور علی زمان کے ساتھ روابط ظاہر کیے گئے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی اس افسر سے منسوب رہے ہیں جس سے منظم گاڑی چوری گروہوں میں ملوث ہونے کے شواہد مضبوط ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ عمل سنگین بدعنوانی، مجرمانہ ملی بھگت اور محکمانہ نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے جس سے نہ صرف پولیس فورس کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اسی بنیاد پر مجاز اتھارٹی نے Efficiency & Discipline Rules 1975 کے تحت فوری طور پر انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
خبرنامہ نمبر4427/2026
برشور۔23 مئی 2026.ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (بی،ایس،ڈی،آئی) فیز 3 کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں نو قائم شدہ ضلع برشور کی ضروریات اور ترقیاتی صورتحال سمیت آئندہ کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اربن پلاننگ و چیئرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسفند یار خان کاکڑ،ایس،ایس،پی پولیس عبدالستار دشتی،ایجوکیشن آفسر فیض اللہ خان کاکڑ،ہیلتھ آفسر محمد نسیم خان،پی پی ایچ آئی کے آفسران سمیت دیگر ذیلی محکموں کے آفسران نے شرکت کی،اجلاس کے دوران مختلف محکموں کے آفسران نے ضلع میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی،اس موقع پر بی،ایس،ڈی،آئی فیز 3 کے تحت ترقیاتی اسکیمات کی تجاویز بھی پیش کی گئیں،جن پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا،ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے کہا کہ ضلع برشور کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مکمل کیے جائیں اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار خان کاکڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ مل کر ضلع کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں،انہوں نے یقین دلایا کہ ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جائے گا تاکہ یہاں کے عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے،اجلاس میں تعلیم،صحت،پانی کی فراہمی،سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تجاویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا،ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے متعلقہ محکمہ جات کے آفسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے کر فوری طور پر پیش کریں تاکہ ان پر عملدرآمد کا آغاز کیا جا سکے،اجلاس کے اختتام پر انکا کہنا تھا کہ ضلع میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور سہولیات کی فراہمی ان کی دہلیز پر میسر ہو سکیں،اور انکو درپیش مسائل و مشکلات کا بروقت تدارک اور حل یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر4428/2026
قلات 23 مئی:ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات نے عید الاضحی تک اینٹی کانگو وائرس سے متعلق شہریوں کیلئے آگاہی مہم شروع کردی ہیڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کی ہدایت پرڈی ایچ اوقلات نے شہریوں کی آگاہی کیلئے ویڈیو ہیغام جاری کردیا ییجاری کئے گئے ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہیکہ کانگو وائرس کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص صفائی، موثر نگرانی اور عوامی سطح پر آگاہی کے ذریعہ اس مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام ممکن ہوسکتی ہے ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہیکہ کانگو کے ذریعے ہونے والا بخار نہایت خطرناک اور ممکنہ طور پر ایک جان لیوا وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر مویشیوں پر موجود چچڑیوں کے ذریعہ انسانوں میں منتقل ہوتی ہے بعض صورتوں میں متاثرہ جانور کے خون یا جسمانی رطوبت کے ساتھ براہ راست رابطہ سے بھی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے عوام الناس کی آگاہی کیلئے جاری کئے گئے ویڈیو ہیغام میں کہا گیا ہیکہ کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، شدید جسمانی درد، متلی اور قے، گلے کی سوزش، جلد پر سرخ دھبے، مسوڑھوں یا اندرونی اعضا سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں ایسی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں شہری فوری طور پر ضلعی محکمہ صحت کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے رجوع کریں۔
خبرنامہ نمبر4429/2026
نصیرآباد۔۔۔۔۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی ہدایت کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی سربراہی میں آر ایچ سی گوٹھ شہزادہ خان عمرانی میں کھلی کچہری منعقد کی گئی کھلی کچہری میں اسلامک ریلیف کی جانب سے متاثرین کی صحیح معنوں میں داد رسی نہ ہونے، آٹھ دیہی علاقوں میں بجلی کی عدم فراہمی، گوٹھ دلدار عمرانی میں غیر مقامی شخص کو فیز ٹو میں بھرتی کیے جانے، پولیو ورکرز بھی غیر علاقوں سے لیے جانے، موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی، آبنوشی، ایریگیشن، تعلیم، صحت، امن و امان کی مخدوش صورتحال، اسپورٹس کی سہولیاتسمیت دیگر مسائل کے متعلق آگاہی فراہم کی گئی کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، ظہیر عمرانی، سردار زادہ عاطف خان عمرانی، ڈاکٹر ایاز جمالی، معظم علی جتوئی، ملک عرفان علی کاکڑ، ڈاکٹر سکندر کھوسہ، مقبول احمد عمرانی، خاوند بخش منجھو منظور شیرازی سمیت دیگر افسران موجود تھے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ آج ان دیہی علاقوں میں کھلی کچہری منعقد کروانے کا مقصد یہی ہے کہ عوام سے ان کی دہلیز پر مسائل سنے جائیں اور ان کو درپیش مشکلات کا قلع قمع کیا جاسکے۔ عوام کی جانب سے جن مسائل کے متعلق آگاہی فراہم کی گئی ہے، ان کے حل کے لیے بہت جلد ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے اور سی ایس ڈی آئی کے پلیٹ فارم سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم آن گراؤنڈ مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کو کسی صورت مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، جبکہ اس حوالے سے ہمیں حکامِ بالا کی جانب سے بھی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ حکومتی ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔
خبرنامہ نمبر4430/2026
نصیرآباد: سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ پٹ فیڈر کینال کی سالانہ بندش کے بعد گڈو بیراج سے کینال میں پانی کی ترسیل کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہیانہوں نے کہا کہ پانی کی ترسیل کا عمل ایگزیکٹو انجینیئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی کی نگرانی میں جاری ہے اور محکمہ ایریگیشن کی جانب سے صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کے احکامات پر عوام خصوصاً شہری و دیہی علاقوں میں آبنوشی کی ضروریات کو پورا کرنے اور کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں پانی کی ترسیل شروع کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی مقدار میں مزید اضافے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں تاکہ زرعی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے اور کسانوں کو بروقت پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پٹ فیڈر کینال کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتیہوئے کیا۔سپرنٹنڈنگ انجینیئر مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا گرین بیلٹ تصور کیا جاتا ہے جہاں زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے محکمہ ایریگیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کے تمام انجینیئرز اور عملہ عوام اور کاشتکاروں کے مفاد میں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دے رہے ہیں اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں پانی کی بحالی سے نہ صرف زرعی زمینیں سیراب ہوں گی بلکہ پینے کے پانی کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جس سے علاقے کے عوام کو ریلیف ملے گا اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
خبرنامہ نمبر4431/2026
استا محمد۔۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور مؤثر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈی ایچ او اُستا محمد ڈاکٹر امیر علی جمالی ایم ایس ٹی ایچ کیو ڈاکٹر عبدالجبار سومرو، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر احمد گوپانگ، میونسپل کمیٹی کے نمائندگان ایس ڈی او واپڈا علی حیدر مگسی لائن سپرنٹنڈنٹ واپڈا اُستا محمد ہزار خان بوہڑ، اور ایس ڈی او پی ایچ ای ڈی غلام محمد کھوکھر نے شرکت کی اجلاس کے دوران عیدالاضحیٰ کے ایام میں شہریوں کو درپیش ممکنہ مسائل اور ان کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ خاص طور پر شہر میں صفائی ستھرائی کے مؤثر انتظامات، قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی بروقت اور محفوظ تلفی، سکیورٹی کے فول پروف اقدامات پینے کے صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی، اور سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ڈیوٹی روسٹرز کی تشکیل جیسے اہم امور زیر بحث آئے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ عید کے دوران بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صفائی، سکیورٹی اور طبی سہولیات کے حوالے سے مربوط اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں، تاکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر عوام کو ایک محفوظ، صاف اور سہولت بخش ماحول میسر آ سکے
خبرنامہ نمبر4432/2026
سیکرٹری محکمہ صحت بلوچستان، مجیب الرحمٰن پانیزئی نے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال (BMCH) کوئٹہ میں طبی سہولیات کی بہتری، ری ویمپنگ پلان اور ہسپتال فیکلٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ بلوچستان عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ بی ایم سی ہسپتال کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جاری ری ویمپنگ پلان پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اجلاس میں ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی سروس ڈلیوری کو مزید مؤثر اور منظم بنانے، جدید طبی آلات کی دستیابی، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر ہسپتال کے مختلف شعبوں کے ہیڈز آف ڈیپارٹمنٹس (HODs) اور ہیڈز آف یونٹس (HOUs) کے فرائض، ذمہ داریوں اور کارکردگی کے معیار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ مریضوں کو بروقت، بہتر اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی ہسپتال صوبے کا ایک بڑا تدریسی اور علاج معالجے کا ادارہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی غرض سے رجوع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں جاری اصلاحاتی اقدامات کا مقصد نہ صرف طبی سہولیات کو بہتر بنانا ہے بلکہ ادارے میں نظم و ضبط، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو بھی مزید مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور فیکلٹی ممبران کو ہدایت کی کہ مریضوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام شعبے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط انداز میں کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں صفائی، ادویات کی فراہمی، ایمرجنسی سروسز، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، اور مریضوں کے ساتھ بہتر رویے کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں پرنسپل ڈاکٹر راز محمد، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نسیم کٹکیزئی، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، سینئر ڈاکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے ہسپتال میں جاری اصلاحاتی عمل اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ سیکرٹری صحت نے اس عزم کااعادہ کیا کہ محکمہ صحت بلوچستان عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے اور بی ایم سی ہسپتال کو ایک مثالی طبی ادارہ بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر4433/2026
کوئٹہ،23مئی: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑاور سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان مجیب الرحمن پانیزئی کی مشترکہ صدارت میں صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ای او بی بی او آئی ٹی قائم لاشاری، متعلقہ حکام اور مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، جدید اسپتالوں، تشخیصی مراکز، میڈیکل کالجز اور دیگر طبی منصوبوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو صوبے میں صحت کے شعبے میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع، حکومتی سہولیات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان حکومت صحت کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی شمولیت سے نہ صرف عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔سیکرٹری ہیلتھ مجیب الرحمن پانیزئی نے کہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں جدید طبی مراکز کے قیام اور موجودہ صحت کے نظام کی بہتری کیلئے جامع حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ محکمہ صحت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔سی ای او بی بی او آئی ٹی قائم لاشاری نے کہا کہ بلوچستان میں صحت، تعلیم، معدنیات اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے بلوچستان میں صحت کے شعبے کو مزید فعال، جدید اور عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر 4434/2026
کوئٹہ، 23 مئی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے نواحی علاقوں کچلاک اور نوحصار میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پرسی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خفیہ اطلاع پر کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 9 دہشتگردوں کا ہلاک ہونا سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور عوام کے تحفظ کے عزم کا واضح ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے میر سرفراز بگٹی نے فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے 4 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ وطن کے امن کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوت پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔
خبرنامہ نمبر 4435/2026
کوئٹہ، 23 مئی: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کوئٹہ کے نواحی علاقوں کچلاک اور نوحصار میں دہشتگردوں کے خلاف سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی کو سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت حکمت عملی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران 9 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی ہے اپنے ایک بیان میں شاہد رند نے کہا کہ خفیہ اطلاع پر کیے گئے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی ادارے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دہشتگرد عناصر کے مذموم عزائم ناکام بنائے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی اور امن کے قیام کیلئے شہداء کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں شاہد رند نے فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے 4 بہادر اہلکاروں کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے وطن کے امن اور عوام کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کررہی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگرد عناصر بلوچستان کے امن کو سبوتاژ نہیں کرسکتے اور ریاست پوری قوت کے ساتھ دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔ شاہد رند نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشتگردی کے خاتمے تک بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر 4437/2026
ژوب: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیرتعلیم راحیلہ حمید درانی کے صوبے میں تعلیمی انقلاب کے وژن کے تحت طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں طالبات کیلئے اسکالرشپس سے متعلق آگاہی (اورنٹیشن) سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پرنسپل گرلز کالج حمیدہ، کالج اسٹاف محمد عارف، محمد ایوب اور طالبات نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ڈویژنل ڈائریکٹر کالجز میرجہاں مندوخیل، فوکل پرسن اسکالرشپس میڈم حاجرہ اور میڈم حریرہ نے طالبات کو اسکالرشپس کے حوالے سے ملٹی میڈیا کے ذریعے بریفنگ دی اور اسکالرشپ پروگرام، درخواست دینے کے طریقہ کار، اہلیت اور منتخب تعلیمی اداروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔پریزنٹیشن دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے ورلڈ بینک کے تعاون سے بلوچستان کی طالبات کیلئے چار سو مکمل مفت اسکالرشپس متعارف کرائی ہیں۔ یہ اسکالرشپس انٹرمیڈیٹ پاس طالبات کیلئے مختص کی گئی ہیں جبکہ اس پروگرام کے تحت طالبات کو چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بلوچستان کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر اور معیاری مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ صوبے کی باصلاحیت طالبات قومی سطح کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والی وہ طالبات، جن کی عمر بائیس سال تک ہو، اس پروگرام کیلئے درخواست دے سکتی ہیں۔ پروگرام کے تحت ہر ضلع سے سات، سات طالبات جبکہ اوپن میرٹ کی بنیاد پر ایک سو بیس طالبات کا انتخاب کیا جائے گا۔ منتخب طالبات کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی معروف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا جبکہ طالبات کے تمام تعلیمی اخراجات حکومتِ بلوچستان برداشت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام بلوچستان میں طالبات کے روشن مستقبل اور تعلیمی ترقی کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے طالبات کو تمام ضروری تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ معاشی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ مقررین نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور بروقت درخواستیں جمع کرائیں۔ تقریب کے اختتام پر طالبات نے اسکالرشپ پروگرام کو بلوچستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کیلئے ایک مثبت اور امید افزا قدم قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم کی کاوشوں کو سراہا۔
خبرنامہ نمبر 4438/2026
ہرنائی : ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کے متحرک اقدامات اور عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ہرنائی ڈاکٹر شعیب مینگل نے تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) اسپتال شاہرگ کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈی ایچ او نے اسپتال کے مختلف شعبہ جات، بشمول ایمرجنسی وارڈ، او پی ڈی، لیبر روم، اور فارمیسی کا معائنہ کیا اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری کا ریکارڈ چیک کیا اور غیر حاضر عملے کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے وقت کی پابندی کو لازمی قرار دیا۔ ڈاکٹر شعیب مینگل نے فارمیسی میں اسٹاک کا معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ غریب اور مستحق مریضوں کو اسپتال کے اندر سے ہی مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈی ایچ او نے زیرِ علاج مریضوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور اسپتال میں ملنے والی طبی سہولیات کے حوالے سے ان سے فیڈبیک بھی لیا۔صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شاہرگ اور گردونواح کے عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی معیاری سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسپتال کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایسے سرپرائز دورے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر 4439/2026
لورالائی ۔ 23 مئی ۔ طلبا و طالبات کے تعلیمی اخراجات میں معاونت کے لئے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے اقدامات کا عملی تسلسل جاری ہے اسی سلسلے میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے تحت اسکالرشپ چیک تقسیم کرنے کی ایک پروقار تقریب کیپٹن وقار کاکڑ شہید بلوچستان ریزیڈینشل کالج لورالائی کے اکیڈمک بلاک میں منعقد ہوئی، جہاں مستحق طلبہ میں 64 اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے گئے، ہر ایک کی مالیت 54,000 روپے تھی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب عبدالمالک اچکزئی، ایڈیشنل سیکریٹری کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان تھے، جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں ڈاکٹر محمود الحسن، جناب آصف کاکڑ، حسیب شجاع (ڈپٹی کمشنر لورالائی)، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان کاکڑ (وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی)، افضل خان اتمانخیل، پروفیسر عبدالمجید ناصر، پروفیسر سردار خان اور فاروق کاکڑ (فوکل پرسن PEEF) سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔اس موقع پر پرنسپل بی آر سی لورالائی ڈاکٹر عبدالصمد اچکزئی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ مقررین نے اپنے خطاب میں مالی معاونت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیف باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور مریم نواز کے تعلیمی وژن کو سراہا۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور مستحق طلبہ میں اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے گئے۔
خبرنامہ نمبر 4440/2026
ژوب :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیرتعلیم راحیلہ حمید درانی کے صوبے میں تعلیمی انقلاب کے وژن کے تحت طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں طالبات کیلئے اسکالرشپس سے متعلق آگاہی (اورنٹیشن) سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پرنسپل گرلز کالج حمیدہ، کالج اسٹاف محمد عارف، محمد ایوب اور طالبات نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ڈویژنل ڈائریکٹر کالجز میرجہاں مندوخیل، فوکل پرسن اسکالرشپس میڈم حاجرہ اور میڈم حریرہ نے طالبات کو اسکالرشپس کے حوالے سے ملٹی میڈیا کے ذریعے بریفنگ دی اور اسکالرشپ پروگرام، درخواست دینے کے طریقہ کار، اہلیت اور منتخب تعلیمی اداروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔پریزنٹیشن دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے ورلڈ بینک کے تعاون سے بلوچستان کی طالبات کیلئے چار سو مکمل مفت اسکالرشپس متعارف کرائی ہیں۔ یہ اسکالرشپس انٹرمیڈیٹ پاس طالبات کیلئے مختص کی گئی ہیں جبکہ اس پروگرام کے تحت طالبات کو چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بلوچستان کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر اور معیاری مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ صوبے کی باصلاحیت طالبات قومی سطح کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والی وہ طالبات، جن کی عمر بائیس سال تک ہو، اس پروگرام کیلئے درخواست دے سکتی ہیں۔ پروگرام کے تحت ہر ضلع سے سات، سات طالبات جبکہ اوپن میرٹ کی بنیاد پر ایک سو بیس طالبات کا انتخاب کیا جائے گا۔ منتخب طالبات کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی معروف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا جبکہ طالبات کے تمام تعلیمی اخراجات حکومتِ بلوچستان برداشت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام بلوچستان میں طالبات کے روشن مستقبل اور تعلیمی ترقی کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے طالبات کو تمام ضروری تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ معاشی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ مقررین نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور بروقت درخواستیں جمع کرائیں۔ تقریب کے اختتام پر طالبات نے اسکالرشپ پروگرام کو بلوچستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کیلئے ایک مثبت اور امید افزا قدم قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم کی کاوشوں کو سراہا۔
خبرنامہ نمبر 4441/2026
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ، ڈاکٹر ایمل خان مندوخیل، اور ڈرگ کنٹرولر سرور کاکڑ نے مشرقی بائی پاس روڈ پر قائم قربانی کے جانوروں کی منڈیوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑی تعداد میں لائے جانے والے جانوروں کی صحت، صفائی کے انتظامات اور انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران جانوروں کے مالکان، بیوپاریوں اور شہریوں کو آگاہی بھی فراہم کی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ جانوروں کی صفائی، بروقت ویکسینیشن اور بیمار جانوروں سے احتیاط نہ صرف جانوروں بلکہ انسانی صحت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر لوگوں کو کانگو وائرس، جلدی امراض اور دیگر زونوٹک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی گئی، جن میں دستانوں کا استعمال، جانوروں کو صاف ماحول میں رکھنا، اور کسی بھی بیماری کی صورت میں فوری طور پر ویٹرنری ماہرین سے رجوع کرنا شامل ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے جانوروں کے لیے مطلوبہ ویکسینیشن اور اسپرے کے منظم نظام کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ محکمے سے اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی درخواست کی۔بعد ازاں ٹیم (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈرگ کنٹرولر سرور کاکڑ، ڈرگ انسپکٹر داود میروانی اور دیگر اہلکاروں) نے منڈی کے اطراف قائم ویٹرنری میڈیکل اسٹورز کا بھی معائنہ کیا۔ اس دوران ادویات کے معیار، رجسٹریشن، اسٹوریج اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لیا گیا۔ چیکنگ کے دوران دو ویٹرینری اسٹورز (بسم اللہ ویٹرینری اور سندھ ویٹرنری سٹور) سے لاکھوں روپے کی سرکاری ادویات برآمد ہوئیں، جنہیں فوری طور پر قبضے میں لے لیا گیا اور سٹورز سیل کر دیے گئے۔
حکام نے واضح کیا کہ انسانی اور حیوانی صحت کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا، اور غیر قانونی ویٹرنری ادویات کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں متعلقہ افراد کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔
خبرنامہ نمبر 4442/2026
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت کانگو وائرس سے بچاؤ، شہر میں صفائی ستھرائی اور عید الاضحیٰ کے دوران خصوصی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر بھر خصوصاً مویشی منڈیوں میں کانگو وائرس جیسی خطرناک اور جان لیوا بیماری کی روک تھام کے لیے جامع حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر (کچلاک) کیپٹن (ر) کبیر ہزارہ، اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) مصور احمد اچکزئی اور اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مویشی منڈیوں، بیوپاری علاقوں اور دیگر حساس مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر حفاظتی اسپرے یقینی بنایا جائے تاکہ کانگو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اسپرے، صفائی ستھرائی اور آگاہی مہم میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ عید الاضحیٰ کے دوران شہر بھر میں صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے جبکہ کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔ ان ٹیموں کو مختلف سب ڈویژنز میں تعینات کیا جائے گا تاکہ عوام کو محفوظ اور صاف ماحول فراہم کیا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ شہریوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ ادارے فیلڈ میں موجود رہیں گے اور صفائی، اسپرے اور دیگر انتظامات کی مسلسل نگرانی کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ شہر کو بیماریوں سے محفوظ اور صاف ستھرا رکھا جاسکے۔







