خبرنامہ نمبر4199/2026
صحبت پور20مئی۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین کی زیر صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم SNID کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں محکمہ صحت کے متعلقہ افسران، یو سی ایم اوز ایریا انچارجز پولیو سپروائزرز، پولیس سیکیورٹی انچارج، اور مانیٹرنگ ٹیموں کے نمائندگان نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی بچوں کی کوریج رفیوزل کیسز اور مائیکرو پلان پر عملدرآمد کا بغور معائنہ کیا گیا۔ مختلف یونین کونسلز سے موصول ہونے والی فیلڈ رپورٹس کی روشنی میں مہم کے دوران درپیش مسائل اور ان کے مو¿ثر حل پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا ڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے تک رسائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاوکے قطرے پینے سے محروم نہ رہے انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے، ٹیموں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کے عمل کو منظم اور فعال رکھا جائے انہوں نے مزید کہا کہ رفیوزل کیسز کے خاتمے کے لیے والدین میں شعور و آگاہی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے اور اس ضمن میں کمیونٹی انگیجمنٹ کو مزید مضبوط کیا جائے تمام پولیو ٹیموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قومی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض پوری دیانتداری ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع صحبت پور کو پولیو فری بنانے کے قومی مشن کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، اور مہم کے اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4200/2026
کوہلو :20مئی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے معیاری تعلیم کے وژن کے تحت پائٹ بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن (BEF) کے کمیونٹی اساتذہ کیلئے منعقدہ 8 روزہ پیڈاگوجی اور فاونڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی (FLN) تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔کوہلو : تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ تھے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر پائٹ عبد الحمید جعفر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر خان زرکون، پائٹ ٹرینرز، ڈسٹرکٹ سپر وائزر بی ای ایف یوسف مری سمیت دیگر افسران اور مہمان بھی شریک ہوئے۔کوہلو : تقریب میں شریک اساتذہ نے آٹھ روزہ تربیت کے دوران حاصل کردہ تجربات اور مہارتوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیت سے ان کی تدریسی صلاحیتوں، کلاس روم مینجمنٹ اور جدید تدریسی طریقہ کار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر پائٹ عبد الحمید جعفر نے اساتذہ کی بھرپور شرکت، وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کو سراہا۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تربیت یافتہ، باصلاحیت اور پرعزم اساتذہ معیاری تعلیم کے فروغ اور بہتر تعلیمی ماحول کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت تعلیمی معیار میں بہتری کیلئے ناگزیر ہے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4201/2026
جھل مگسی20مئی ۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ DEG کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں محکمہ تعلیم کی مجموعی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، انرولمنٹ میں اضافہ، ڈراپ آوٹ کی روک تھام، شیلٹر لیس و زیر تعمیر اسکولوں، سولرائزیشن اسکیموں، ٹرانسفر، پوسٹنگ اور اٹیچمنٹ سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیااجلاس میں DEG کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ تمام غیر ضروری اٹیچمنٹس، ٹرانسفر اور پوسٹنگز منسوخ کی جائیں گی جبکہ نظم و ضبط سے متعلق فیصلوں پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع جھل مگسی میں کوئی اسکول غیر فعال نہیں ہےشیلٹر لیس اسکولوں کی تفصیلات طلب کر لی گئیں تاکہ اضافی کلاس رومز کی تعمیر کیلئے متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جا سکے BSDI فیز I اور II کے تحت جاری سولرائزیشن و ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیافیصلہ کیا گیا کہ مسلسل غیر حاضر اساتذہ کی رپورٹس سیکرٹری ایجوکیشن کو ارسال کی جائیں گی، جبکہ کلسٹر ہیڈز کو اساتذہ کی حاضری سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی نے ہدایت کی کہ اسکولوں کے باقاعدہ معائنے اور اساتذہ کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع میں تعلیمی معیار مزید بہتر بنایا جا سکے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4203/2026
صحبت پور20مئی ۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین نے زیرِ تعمیر روڈ مراد علی تا ڈمبری روڈ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کا موقع پر معائنہ کیا اور منصوبے کی رفتار، معیار اور شفافیت کا جائزہ لیا اس موقع پر ایکسین روڈز جہانگیر خان کھوسہ نے انہیں منصوبے کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے تعمیراتی پیش رفت استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر نے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، تاکہ یہ منصوبے دیرپا اور پائیدار ثابت ہوںانہوں نے مزید کہا کہ بلیک ٹاپ سڑک مراد علی تا دمبری، 0.9 کلومیٹر کی تکمیل علاقے کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگی اس سڑک سے نہ صرف عوام کو آمدورفت میں آسانی ہوگی بلکہ زمینداروں اور کاشتکاروں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک بروقت اور کم لاگت میں پہنچانے میں مدد ملے گی، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ اور مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تمام تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس اہم سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4204/2026
استا محمد20مئی ۔ ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد، محمد رمضان پلال نے SNID مئی 2026 کی انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی ڈبلیو ایچ او کےڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر خلیل مستوئی، ای او سی مانیٹرز، ڈسٹرکٹ مانیٹرز اور ضلع بھر کے یونین کونسل میڈیکل آفیسرز UCMOs نے شرکت کی اجلاس کے دوران دوسرے روز کی مجموعی کارکردگی فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت، ہاوس ہولڈ کوریج اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع بھر کے ہر بچے تک پولیو سے بچاوکے دو قطرے ہر صورت پہنچائے جائیں اور کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دیا جائے انہوں نے ہدایت جاری کی کہ ہر UCMO اپنی متعلقہ یونین کونسل میں کم از کم 95 فیصد ہاوس ہولڈ کوریج کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے جبکہ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے اجلاس میں کمزور کارکردگی دکھانے والے متعدد ایریا انچارجز کو ایڈوائزری جاری کی گئی اور انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی سختی سے ہدایت دی گئی مزید برآں فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی گئیں تاکہ مہم کے مطلوبہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور تمام شراکت دار ادارے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھیں گے اس سلسلے میں والدین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک بھر سے پولیو کا خاتمہ کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4205/2026
بارکھان20 مئی ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بارکھان کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے کالج میں جاری تعلیمی و انتظامی امور، تدریسی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور طلبائ کی حاضری، تدریسی معیار اور کالج کے مجموعی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا۔کالج کے پرنسپل اور انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کالج کو تدریسی و غیر تدریسی عملے کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں کو موثر انداز میں چلانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سٹاف کی رہائش، بنیادی سہولیات اور بعض دیگر انتظامی امور کے حوالے سے بھی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے کالج کے پرنسپل کے ہمراہ نئی زیرِ تعمیر تعلیمی عمارت اور پرنسپل و سٹاف کے لیے تعمیر کی جانے والی رہائش گاہوں کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں تعمیراتی کام کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سابقہ رہائشی عمارتیں خستہ حالی اور ناکافی سہولیات کے باعث قابلِ استعمال نہیں رہیں، جس کے پیش نظر نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کا عمل جاری ہے تاکہ اساتذہ اور دیگر عملے کو بہتر اور محفوظ رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے کہا کہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ کو یقین دلایا کہ سٹاف کی کمی، رہائش اور دیگر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا جبکہ موجودہ رہائشی عمارتوں کی مرمت اور بہتری کے لیے بھی ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبائ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دیں تاکہ ضلع میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4206/2026
سبی 20 مئی۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز غریب آباد اور اس سے ملحقہ دیگر مختلف علاقوں کا فیلڈ دورہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور جاری مہم کی پیش رفت، ٹیموں کی کارکردگی اور کوریج کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کے پاس موجود ویکسین چیک کیں جبکہ ٹیموں کی ٹیلی شیٹس اور ریکارڈ کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے گھروں میں جا کر پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جانے والے بچوں کی ویلیڈیشن بھی کی اور والدین سے گفتگو کرتے ہوئے بچوں کو ہر بار پولیو کے قطرے پلانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس دوران انہوں نے گلیوں میں گھومنے والے بچوں کو بھی چیک کیا اور موقع پر موجود پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ تمام بچوں کو فوری طور پر پولیو سے بچاوکے قطرے پلائے جائیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فیلڈ میں موثر نگرانی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کا پولیو ویکسین سے محروم رہ جانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے تمام ٹیمیں گھر گھر جا کر سو فیصد کوریج یقینی بنائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ٹیموں کی حاضری، کارکردگی اور ویکسین کی دستیابی پر کڑی نظر رکھی جائے جبکہ رہ جانے والے بچوں تک فوری رسائی حاصل کرکے انہیں پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ ضلع سبی کو پولیو فری بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4207/2026
برشور۔20 مئی ۔صوبائی کوارڈینیٹر برائے ایمرجنسی آپریشن سینٹر انعام الحق قریش نے گزشتہ روز نو قائم شدہ ضلع برشور میں پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس بھی موجود تھے،اجلاس میں سی،سی،او سید کلیم اللہ،اے،سی،او عزیز احمد کاکڑ،ٹیم لیڈر یونیسیف شاپور سلمان اور این سٹاف برشور ڈاکٹر مریم نے بھی شرکت کی،صوبائی کوارڈینیٹر انعام الحق قریش نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ ہمارا مشترکہ قومی فریضہ ہے اور اس کے خلاف موثر اقدامات کرنا نا گزیر ہے،کیونکہ یہ فرنٹ لائن ورکرز گلی گلی اور گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلاتے ہیں،ہم سب کو انکی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے،اپنے خطاب میں والدین سے اپیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ورکرز سے نہ چھپائیں،اور حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں،انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں علمائ کرام،قبائلی عمائدین،سیاستدانوں اور میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے،تاہم ضرورت اس امر کی ہے،کہ کوئی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے نہ رہے،اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع برشور اور پاکستان بھر سے پولیو کا خاتمہ کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4208/2026
سبی 20 مئی۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے گزشتہ دنوں بابر کچھ میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران عوامی مطالبے پر شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کے مسائل کے حل کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کے ہمراہ نادرا دفتر کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی نے اسسٹنٹ ڈائریکر نادرا پہلوان جمالی سے ملاقات کی اور بابر کچھ کے عوام کو شناختی کارڈ سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ نادرا کی موبائل رجسٹریشن وین جلد بابر کچھ بھجوائی جائے گی تاکہ مقامی لوگوں کو ان کے علاقے میں ہی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہریوں میں عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابر کچھ کے عوام کو شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا جس کے پیش نظر فوری طور پر نادرا حکام سے رابطہ کرکے موبائل وین بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ خواتین، بزرگوں اور دیگر شہریوں کو شہر آنے کی دشواری سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا پہلوان جمالی نے یقین دہانی کرائی کہ جلد نادرا ٹیم بابر کچھ روانہ کی جائے گی جہاں شہریوں کو شناختی کارڈ اور دیگر متعلقہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4209/2026
کوئٹہ :20 مئی ۔بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے شہریوں کو پر امن اور جرائم سے پاک ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے متحرک ہے اس حوالے سے صوبہ بھر میں کوئٹہ سمیت 7 رینجز کے تمام اضلاع میں اشتہاری، مفرور اور مطلوب کے خلاف مہم جاری ہے۔اشتہاری، مفرور و مطلوب اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے والے سرفہرست اضلاع کے پولیس اہلکاروں کو اعلی کارکردگی پر نقد انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا جاتا ہے۔ترجمان بلوچستان پولیس کے ایک پریس ریلیز کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر کی ہدایات کی روشنی میں خصوصی مہم کے تسلسل میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں مطلوب اور مفرور کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 43 اشتہاری، 288 مفرور جبکہ مختلف جرائم میں مطلوب 556ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اغوائ کاروں کے خلاف بروقت اور فوری کارروائی رکھنے کے نتیجے میں 13 مغوی کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ مختلف کارروائیوں میں 5مسروقہ گاڑیاں، 15موٹر سائیکلیں، 6 موبائل فونز برآمد کئے گئے۔دفعہ 144 کے خلاف ورزی پر 9 گاڑیوں اور دفعہ 550 کی کاروائی میں 28 موٹر سائیکلوں کو قبضے میں لیا گیا۔انسداد منشیات مہم کے تحت 94 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 430.200 کلوگرام چرس، 203.253 کلوگرام آئس شیشہ ، 739 کلوگرام خشک بھنگ، 23.34 کلوگرام افیون۔210۔1 کلوگرام ہیروئن ، 45 بیئرکین اور 71 شراب کی بوتلیں اور 193 لیٹر کچی شراب برآمد کی گئی ۔اس کے علاوہ 7000لیٹر ڈیزل اور 1755 گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے۔کارروائی کے دوران9 پیکٹس گٹکا ، 150پیکٹ ایرانی سیگریٹ اور 7 ارب 88 کڑور روپے کی ایرانی کرنسی قبضے میں لی گئی۔پریس ریلیز کے مطابق مہم کے دوران اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ مطلوب اور اشتہاریوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں روپوشی کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جائیں گئے۔ علاوہ ازیں گرفتار ہونے والے ملزمان کی صوبے کے تمام تھانوں میں مطلوب مقدمات کی چھان بین کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ان کے خلاف متوقع مقدمات کے حوالے سے بھی تینوں صوبوں کے پولیس حکام سے بھی رابطہ کر کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے۔جبکہ گرفتار ملزمان کے جرائم کے ریکارڈ کی جانچ کے لیے دیگر صوبوں کے ساتھ ڈیٹا کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہر ممکن اقدامات کئے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4210/2026
کوئٹہ، 20 مئی۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت بلوچستان بھر میں جاری ترقیاتی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کے انفراسٹرکچر میں نمایاں اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی جبکہ ان کے مثبت اثرات صوبے کی مجموعی ترقی اور عوامی سہولیات کی بہتری پر مرتب ہوں گےان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز متعلقہ افسران سپرنٹنڈنگ انجینئرز ٹیکنیکل ایڈوائزر سمیت تمام ضلعی انجینئرز اور افسران نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران صوبے کے ہر ضلع کے ایگزیکٹیو انجینئرز روڈز اور بلڈنگز نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری بی ایس ڈی آئی منصوبوں کی پیش رفت تعمیراتی کاموں کی رفتارمعیار اور تکمیل کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تمام منصوبے عوامی فلاح و بہبود اور صوبے کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ان منصوبوں کی تکمیل سے ہر ضلع میں روڈ اور بلڈنگ انفراسٹرکچر بہتر ہوگا جس سے نہ صرف ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو جدید اور بہتر سہولیات بھی میسر آئیں گی انہوں نے تمام ضلعی انجینئرز اور متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی موثر انداز میں یقینی بنائی جائے اور منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں صوبائی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غفلت یا ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس ضمن میں پہلے ہی چند انجینئرز کو فرائض میں غفلت برتنے پر معطل کیا جا چکا ہے انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کی تکمیل تعمیراتی معیار اور دیگر تکنیکی معاملات پر کسی قسم کی کوتاہی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی میر سلیم احمد کھوسہ نے مزید کہا کہ صوبے میں جاری بی ایس ڈی آئی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں یہ ٹیمیں اپنے اپنے زونز کے اضلاع میں جاری منصوبوں کا معائنہ کرنے کے بعد تفصیلی رپورٹس سیکریٹری آفس کو ارسال کریں گی تاکہ منصوبوں میں شفافیت معیار اور رفتار کو مزید موثر بنایا جا سکے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی مضبوط انفراسٹرکچر اور عوامی خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4211/2026
اسلام آباد، 20 مئی ۔ پارلیمانی فورم برائے پاپولیشن (پی ایف پی) کے پری بجٹ اجلاس میں وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل آبادی میں اضافے سے متعلق مالیاتی اور پالیسی ترجیحات پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں سینیٹرز، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں سمیت چالیس سے زائد پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔ اجلاس کا انعقاد پاپولیشن کونسل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے کیا اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پارلیمانی فورم برائے پاپولیشن کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ ملک کے وسائل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے مانع حمل ادویات اور اشیاء پر عائد ٹیکس فوری طور پر ختم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے مسئلے کو قومی اور خاندانی دونوں سطحوں پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے تاکہ بجٹ سازی کے عمل میں اسے ترجیح دی جا سکے وزارت خزانہ کے مشیر برائے خصوصی اقدامات عدنان پاشا صدیقی نے اپنے کلیدی خطاب میں آبادی میں اضافے کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں آبادی کی شرح نمو کو موثر انداز میں کنٹرول کیا جاتا تو آج پاکستان کی فی کس آمدن اور مجموعی قومی پیداوار کہیں بہتر ہوتی۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی، مالیاتی ترجیحات کے ازسرنو تعین اور طویل المدتی قومی پروگرام برائے استحکام آبادی کی ضرورت پر زور دیا معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر حنید مختار نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حجم کے باوجود آبادی سے متعلق ترجیحات کے لیے مختص فنڈز انتہائی محدود ہیں، جو وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان میں یو این ایف پی اے کی بین الاقوامی فیملی پلاننگ ایڈوائزر ڈاکٹر میلانیا ہدایت نے خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں مالیاتی خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیملی پلاننگ نہ صرف صحت کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری ہے بلکہ اس کے معاشی اور سماجی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے پاکستان پاپولیشن فنڈ کو فعال بنانے، مختص فنڈز کو محفوظ بنانے اور مانع حمل اشیائ پر ٹیکس کے خاتمے کو فنانس بل کا حصہ بنانے پر زور دیا قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر نگرانی ہونے والے مباحثے میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے شرکت کی اور آبادی کے مسئلے پر مشترکہ سیاسی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ شرکائ نے این ایف سی فارمولے پر نظرثانی، وسائل کی تقسیم کو انسانی ترقی کے اشاریوں سے منسلک کرنے، علاقائی تفاوت کم کرنے اور بنیادی سطح پر خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ڈاکٹر فاروق ستار نے مقامی حکومتوں کو آبادی کے استحکام کی حکمت عملی میں شامل کرنے اور پروگرامز کی موثر نگرانی یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین نوید قمر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بجٹ وعدوں پر مسلسل نظر رکھے گی تاکہ پالیسی فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے مانع حمل اشیاء پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اجلاس میں پاکستان میں آبادی کے استحکام کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں، خصوصاً فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4212/2026
کوئٹہ، 20 مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔شہر میں پرائس کنٹرول ،تجاوزات،صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر معمولات کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاءسے ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ کے مطالعاتی دورہ کے موقع پر کیا۔ (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء پر مشتمل ایک وفد نے فیکلٹی ممبران اسلم غنی، خالد لاشاری، سید عثمان اور سید امیر کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان ،اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات اور شہری مسائل کے حل کے حوالے سے جاری اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، گرانفروشی کے خاتمے، صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے شرکاءکو پرائس کنٹرول مہم، ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں، شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، “صفا کوئٹہ” مہم، گرین بس سروس، تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی بہتری اور شہری سہولیات سے متعلق اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں۔ اسی طرح صفا کوئٹہ مہم کے تحت شہر کی صفائی، کچرے کی بروقت منتقلی اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ گرین بس سروس شہریوں کو معیاری اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی، عوامی مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور مختلف شعبوں میں جاری اصلاحاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ شرکاء نے خصوصاً پرائس کنٹرول، صفائی مہم اور عوامی سہولیات کی بہتری کے اقدامات کو قابل تحسین قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر ایم سی ایم سی بیچ 46 کے شرکائ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن زاہد خان خلجی کو عوامی خدمت اور بہترین انتظامی کارکردگی کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4213/2026
جعفرآباد20مئی ۔عوامی مسائل کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے بہترین اقدام کھلی کچہری کے عمل کو ضلع جعفر آباد میں مزید فروغ دینے کا عمل جاری مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں کھلی کچہریوں کا عمل تیزی سے جاری ڈپٹی کمشنر جعفر آباد خالد خان کی سربراہی میں گوٹھ اللہ داد کھوسہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ ہیڈز کی موجودگی کو عوام کی جانب سے بے حد سراہا گیا عوام نے اپنے مسائل کھل کر ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے عوام کی جانب سے اپنے مسائل پیش کرنے کے عمل کو خوش ائند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہو رہی ہے کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلی بلوچستان کے پلیٹ فارم کھلی کچہری کو صحیح معنوں میں استعمال میں لارہے ہیں عوام کے تمام پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ضلع انتظامیہ بہتر معنوں میں اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ عوام تک حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی تمام سہولیات میسر آ سکیں ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ تعلیم صحت آب نوشی نکاسی آب انفرااسٹرکچر کی بحالی سمیت دیگر عوامی مسائل پر ضلع انتظامیہ کی گہری نظر مرکوز ہے اور کھلی کچہری میں جن مسائل کی جانب عوام نے متوجہ کروایا ہے ہماری بھرپور کوشش رہے گی کہ ان مسائل کو بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو میں منظور کیا جائے تاکہ ان منصوبوں کے شروع ہونے سے عوام کی مشکلات میں واضح طور پر کمی واقع ہوگی پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے حکام بالا کو تحریری طور پر آگاہی فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہمارے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے رہے ہیں عوام اپنے مسائل کے فوری تدارک کے لیے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تحریری اور زبانی طور پر اگاہی فراہم کریں تاکہ ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں عوام کی ترقی خوشحالی موجودہ حکومت کا وژن ہے جسے ضلع انتظامیہ عملی طور پر جامع پہنا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4214/2026
ہرنائی 20مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول ہرنائی اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس سرپرائز وزٹ کا مقصد تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کا جائزہ لینا اور وہاں موجود سہولیات کی مانیٹرنگ کرنا تھا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے دونوں اسکولوں کے تمام کلاس رومز کا معائنہ کیا اور بچوں کو دی جانے والی تعلیم کے معیار کو پرکھا۔ انہوں نے اسکول کے حاضری رجسٹروں کی خود پڑتال کی اور اساتذہ سمیت دیگر تمام اسٹاف کی موجودگی کا ریکارڈ چیک کیا۔ انہوں نے غیر حاضر یا تاخیر سے آنے والے عملے کو سختی سے تنبیہ کی کہ تعلیمی فرائض میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کرام کے ساتھ ایک خصوصی نشست بھی کی، جس میں انہوں نے اساتذہ کو درپیش مختلف انتظامی و تدریسی مسائل اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات (جیسے پینے کا صاف پانی، بجلی اور فرنیچر) کی کمی کا تفصیلی احوال سنا۔استاد معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ ہم اساتذہ اور اسکولوں کو درپیش تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ بچوں کے مستقبل کو روشن بنا سکیں۔ تاہم، اس کے بدلے میں ہمیں اسکولوں میں 100 فیصد حاضری اور بہترین تعلیمی نتائج چاہئیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو بھی ہدایات جاری کیں کہ اسکولوں کی مانیٹرنگ کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ ضلع ہرنائی میں تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4215/2026
ہرنائی 20مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے عوامی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) اہسپتال ہرنائی کا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہنگامی دورہ کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور سرکاری عملے کی حاضری کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔معائنے کے دوران اہسپتال کے متعدد شعبوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی عدم موجودگی کا انکشاف ہوا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے شدید برہمی اور برسٹ کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈیوٹی سے غیر حاضر اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے عملے کے رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیااہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو موقع پر ہی سخت ترین احکامات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے کہا۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کا علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہسپتال میں دن رات (24 گھنٹے) ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا جائے۔ شفٹوں کے مطابق عملے کی موجودگی میں کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ جو بھی سرکاری ملازم اپنی آئینی اور اخلاقی ڈیوٹی میں غفلت، کوتاہی یا لاپرواہی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام عملے کا حاضری رجسٹر اور بائیومیٹرک ریکارڈ باقاعدگی سے برقرار رکھیں اور ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ ضلعی انتظامیہ ہرنائی کے تمام سرکاری اداروں، بالخصوص صحت اور تعلیم کے مراکز کی مانیٹرنگ کا سلسلہ اسی طرح اچانک دوروں کے ذریعے جاری رکھے گی تاکہ مروجہ قوانین اور حکومتی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4216/2026
کوئٹہ 20مئی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ماسٹر پلان اور شہر کی توسیع سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ حافظ محمد طارق، کنسلٹنسی فرم، محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر ماسٹر پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خصوصاً “کوئٹہ گرین انیشیٹو” کے تحت مجوزہ واٹر چینل منصوبے، اس کی پلاننگ، فزیبلٹی اسٹڈی اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں ہر سال ہزاروں ایکڑ فٹ برساتی پانی مختلف نالوں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے، جس کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے کے لیے واٹر چینل کی تعمیر ناگزیر قرار دی گئی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر برساتی پانی کو مو¿ثر انداز میں محفوظ کیا جائے تو نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں شہر کو ماحولیاتی اور آبی بحران سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریونیو اسٹاف ،سیٹلمنٹ اور کنسلٹنسی فرم مشترکہ طور پر واٹر چینل کے لے آوٹ، فزیبلٹی اسٹڈی اور دیگر تکنیکی امور کو حتمی شکل دے کر جامع رپورٹ پیش کریں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت کوئٹہ کے دونوں اطراف پہاڑوں کے دامن میں تقریباً 30 فٹ چوڑا واٹر چینل تعمیر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ منصوبے میں کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ سرکاری اراضی استعمال کی جائے جبکہ نجی اراضی کا استعمال کم سے کم رکھا جائے تاکہ منصوبے کی لاگت میں اضافہ نہ ہو۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ واٹر چینل منصوبے کے مختلف پہلووں سے جامع پلان تیار کیا جائے تاکہ منصوبے پر بلا تعطل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ واٹر چینل، واچ ٹاورز، اسٹوریج ٹینکس اور واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کے ذریعے برساتی پانی کے ضیاع کو روک کر زیرِ زمین پانی کی سطح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو مستقبل میں کوئٹہ شہر کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4217/2026
ژوب: 20مئی ۔کمشنر ژوب ڈویژن آصف علی فرخ نے ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول ژوب کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے تدریسی، انتظامی اور تکنیکی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے براہِ راست سوالات کرکے ان کی تعلیمی استعداد اور تدریسی معیار کا مشاہدہ کیا۔کمشنر نے اساتذہ کی تدریسی حکمتِ عملی، طلبہ کی تعلیمی دلچسپی اور سکول ک مجموعی ماحول کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم ہی معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں کے حصول پر بھی توجہ دیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔اس موقع پر کمشنر نے سکول میں قائم ٹیکنیکل سنٹر کا بھی تفصیلی معائنہ کیا، جہاں زیرِ تربیت طلبہ کی عملی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ہنر مندانہ تعلیم کے فروغ کے لیے ادارے کی کاوشوں کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ فنی تعلیم نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔سکول کے پرنسپل تازہ خان ناصر نے کمشنر کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، طلبہ کی تعداد، تدریسی عملے، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔کمشنر ژوب ڈویژن نے سکول کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول ژوب تعلیمی معیار اور نظم و ضبط کے حوالے سے خطے کے لیے ایک مثالی ادارہ ہے۔ انہوں نے پرنسپل اور اساتذہ کی محنت کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سکول کو درپیش مسائل اور طلبہ کی سہولیات سے متعلق امور ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔بعدازاں پرنسپل تازہ خان ناصر نے کمشنر کے دورے کو ادارے کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی خصوصی دلچسپی اور تعاون سے سکول کی ترقی اور تعلیمی معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4218/2026
موسیٰ خیل 20 مئی ۔ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل کے حل کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک ایس پی کلیم اللہ کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر موسی’ خیل نجیب اللہ کاکڑ تمام ضلعی آفیسران قبائلی عمائدین سوشل ورکرز میڈیا نمائندوں اور عوام نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی کھلی کچہری میں عوام نے درپیش مسائل شکایات اور تجاویز پیش کیں جبکہ ضلع میں امن وامان کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیادریں اثنا بی ایس ڈی آئی فیز تھری کے حوالے سے درخواستیں ڈپٹی کمشنر کے ہاں جمع کرائی گئیں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نشست کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل کو براہِ راست سن کر ان کا فوری اور موثر حل تلاش کرنا تھا جس میں خاطر خواہ پیش رفت حاصل ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں اور ضلعی انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہیں انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے آفیسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی شکایات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی درخواست کو التواء میں نہ رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت ہماری ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے مزید کہا کہ ایسے عوامی اجتماعات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ مضبوط ہو اور مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کھلی کچہری میں شرکت کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، اور یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4219/2026
لورالائی20مئی ۔ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس زیر صدارت ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع منعقد ہوا، اجلاس میں ایکسین بی انیڈ آر بلڈنگ احمد دین،ایکسین بی انیڈ آر روڈ محمد داود،ایکسین پی ایچ آءاختر محمد مندو خیل نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر میں جاری تمام منصوبوں کی جسمانی اور مالی پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت متعلقہ اعلیٰ حکام نے کی جبکہ مختلف محکموں کے افسران، ایکسیئنز اور عملدرآمدی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اجلاس سے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع نے خطاب کرتے ہوئے کہا متعدد منصوبوں پر کام کی سست رفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مسلسل ہدایات، فیلڈ دوروں اور تنبیہات کے باوجود بعض منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔تمام ایکسیئنز اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ فیلڈ سرگرمیوں کی موثر نگرانی یقینی بنائیں، مطلوبہ مشینری، افرادی قوت اور تعمیراتی سامان کی بروقت فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ BSDI منصوبوں کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ، کمزور رابطہ کاری اور غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں منصوبوں کے معیارِ تعمیر، مالی وسائل کے شفاف استعمال، منصوبوں کی ممکنہ نقل اور زمینی سطح پر عملدرآمد کے مختلف پہلووں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ منظور شدہ PC-1، تکنیکی معیار اور حکومتی پالیسی کے مطابق منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے جبکہ بروقت رپورٹنگ اور شفافیت کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔اس موقع پر حکام نے خبردار کیا کہ ناقص کارکردگی، غفلت یا ترقیاتی کاموں میں بلاجواز تاخیر کے مرتکب محکموں اور افسران کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ BSDI کے تحت جاری تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام جاری منصوبوں کی ہفتہ وار مانیٹرنگ رپورٹ مرتب کی جائے گی جبکہ ضلعی سطح پر خصوصی انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو مختلف ترقیاتی اسکیموں کا اچانک معائنہ کرکے اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کریں گی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4220/2026
کوئٹہ 20 مئی۔ : ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ شہر میں پرائس کنٹرول، تجاوزات کے خاتمے، صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں پر روزانہ کی بنیاد پر موثر کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے یہ بات نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاءکے ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ کے مطالعاتی دورے کے موقع پر کہی۔اس موقع پر نیپا کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکائ پر مشتمل ایک وفد نے فیکلٹی ممبران محمد اسلم غنی، خالد لاشاری، سید عثمان اور سید امیر شاہ کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان خلجی، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات اور شہری مسائل کے حل کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، گرانفروشی کے خاتمے، صفائی ستھرائی کے نظام کو موثر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے۔ شرکاء کو پرائس کنٹرول مہم، ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں، شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، “صفا کوئٹہ” مہم، گرین بس سروس، تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی روانی اور شہری سہولیات کی بہتری سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں۔ اسی طرح “صفا کوئٹہ” مہم کے تحت شہر کی صفائی، کچرے کی بروقت منتقلی اور ماحولیات کی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ گرین بس سروس شہریوں کو جدید، معیاری اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔نیپا کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی، عوامی مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات اور مختلف شعبوں میں جاری اصلاحاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ وفد نے خصوصاً پرائس کنٹرول، صفائی مہم اور عوامی سہولیات کی بہتری کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر ایم سی ایم سی بیچ 46 کے شرکاءنے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے مختلف سوالات کیے، بعد ازاں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان خلجی کو عوامی خدمت اور بہترین انتظامی کارکردگی کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4221/2026
موسیٰ خیل 20مئی ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ضلع میں موبائل نیٹ ورک اور پی ٹی سی ایل (PTCL) سروسز کی بہتری اور بحالی کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی پولیس موسیٰ خیل کلیم اللہ خان کاکڑ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے نمائندے، یوفون اور ٹیلی نار کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع موسیٰ خیل میں موبائل نیٹ ورکس کی 2G، 3G اور 4G سروسز کی مکمل بحالی، سگنلز کے معیار کی بہتری، سکیورٹی کے امور اور کمپنیوں کو درپیش دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے تمام موبائل کمپنیوں اور پی ٹی اے کے نمائندوں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ عوام کو بلا تعطل اور معیاری نیٹ ورک کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے انہوں نے واضح کیا کہ جدید دور میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بنیادی ضرورت بن چکی ہیں، لہٰذا نیٹ ورک کی معطلی یا سست روی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ تکنیکی اور سکیورٹی مسائل کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے فوری حل کریں تاکہ صارفین کو بہترین سروسز میسر آسکیں ایس پی موسیٰ خیل کلیم اللہ خان کاکڑ نے اس موقع پر کمپنیوں کو سکیورٹی کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے نیٹ ورک کی کوالٹی کو جلد از جلد بہتر بنانے کی یقین دہانی کروائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4222/2026
کوئٹہ 20مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت عیدالاضحیٰ کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کااجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر میں صفائی ستھرائی، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، صحت و صفائی اور قربانی کے جانوروں سے متعلق انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پولیس، پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت، ٹریفک پولیس، صفا کوئٹہ، ایگریکلچر، لائیو اسٹاک، ایجوکیشن سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی اور اپنے اپنے اداروں کی جانب سے عیدالاضحیٰ کے انتظامات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے صفا کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں آلائشیں اور فضلہ جمع کرنے کے خصوصی پوائنٹس قائم کرے جبکہ گلی محلوں اور شاہراہوں میں صفائی کے عمل کو مزید موثر اور یقینی بنایا جائے۔انہوں نے محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت دی کہ تمام مویشی منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر حفاظتی اسپرے اور جراثیم کش اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ جانوروں میں بیماریوں کی روک تھام اور عوام کی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں سیکیورٹی، ٹریفک روانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عیدالاضحیٰ کے دوران شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ادارے متحرک رہیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta: 20th May 2026: As part of its ongoing anti-corruption awareness campaign, NAB (Balochistan) organized a Seminar on “Functions of NAB and Role of Students in Eradication of Corruption” at Tameer-e-Nau Public College, Quetta. The primary objective of the seminar was to aware the youth about detrimental effects of corruption and to promote collective efforts for building a corruption-free society.
Mr. Khuram Shehzad, Deputy Director NAB (B) engaged with students and faculty, discussing NAB’s vision, mission and the significant role, the students can play in eradicating menace of corruption. He delivered formal speech and emphasized on students to adopt such moral standards, wherein, abhorrence against corruption become integral part of their personalities. It was also deliberated that the teachings of Islam also assert on self-accountability and do not allow an iota of dishonesty and corruption. He added that nepotism, influence peddling, bribery, extortion and favouritism are forms of corruption, but unfortunately, these have been taken by our society as a norm. The collective efforts of the students, as crucial members of society, can play a pivotal role in laying foundation of a corruption-free society.
On this occasion, Director Colleges Mr. Muhammad Hussain and Principal of the College Mr. Abid Maqsood also shared their thoughts against corruption and appreciated the efforts of NAB Balochistan for its eradication and assured to extend all possible assistance in the anti-corruption awareness drive of NAB Balochistan. The seminar concluded with presentation of shield to the Principal of the College by Deputy Director NAB followed by mutual express of gratitude and a note of thanks by both sides.
At the end of the seminar, an awareness walk was also arranged, wherein, participants of seminar including NAB officers, Director Colleges, Principal, Professors and a fair gathering of students, participated.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4223/2026
اسلام آباد 20 مئی:۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پاک چین سیاسی و سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ دونوں دوست ہمسایہ ممالک اس طویل عرصے کے دوران مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور پورے خطے کے پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اور چائنا کی دوستی باہمی اعتماد، غیرمتزلزل حمایت، مشترکہ خواہشات اور سٹریٹجک تعاون پر استوار ہیں۔ اس دیرینہ دوستی کو “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کہا جاتا ہے۔ ہم چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کو ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلا شبہ گوادر سٹی میگا پراجیکٹ سی پیک کے تاج کا نگینہ ہے۔ اس شاندار منصوبے کی تکمیل سے پاکستان بالخصوص بلوچستان معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائیگا۔ چونکہ بلوچستان ایک اہم سنگم پر واقع ہے، اسلیے یہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسطرح بلوچستان کا محل وقوع اب معاشی انقلاب کی امید کی کرن بن چکا ہے۔ جیسے ہی چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پایہ تکمیل کو پہنچے گا، بلوچستان معیشت، تجارت، اختراعات اور روزگار کے مواقعوں کے ایک متحرک مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ سی پیک جو معاشی خوشحالی لائے گا وہ محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے جو ہم پاکستان اور چین ملکر کر رہے ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا مزید استحکام عوام سے عوام کے درمیان روابط بنانے کیلئے عوام کے درمیان روابط بڑھانے سے مشروط ہے۔ گورنر بلوچستان کی حیثیت سے میں چین کے دورے پر 16 رکنی وفد کی قیادت کر رہا ہوں جس میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔ ہم بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی ترقی اور صوبے کے نوجوانوں کیلئے اسکالرشپ کے حوالے سے بڑی خبری دینگے۔ میری ذاتی خواہش اور کوشش ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا روشن مستقبل محفوظ ہو، ان کے ذہن جدید سائنس و فلاسفی کی روشنی سے منور ہوں، اور بلوچستان ہائیر ایجوکیشن کے میدان میں مزید ترقی کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4224/2026
کوئٹہ 20مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ائرپورٹ روڈ پر غیر قانونی بکرہ پھیری کے خلاف مشترکہ کارروائی۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر یوسف ہاشمی، اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار اور اینٹی انکروچمنٹ زون انچارج علی رضا درانی کی نگرانی میں کارروائی کرتے ہوئے ائیرپورٹ روڈ پر غیر قانونی پیڑیاں، عارضی ڈھانچے اور تجاوزات ختم کرکے علاقے کو کلیئر کر دیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق ائرپورٹ روڈ پر غیر قانونی بکرہ پھیری کے باعث ٹریفک، صفائی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا، جس پر عوامی شکایات کے بعد فوری ایکشن لیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر بھر میں تجاوزات اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 4225/2026
لورالائی 20 مئی .۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے ڈی سی آفس لورالائی کے مختلف شعبہ جات، ریکارڈ روم اور اسٹاف دفاتر کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کا مقصد دفتری امور کی بہتری، سرکاری ریکارڈ کی حفاظت اور عوامی خدمات کے نظام کو مزید موثر بنانا تھا۔معائنے کے دوران افسران نے ریکارڈ روم میں موجود اہم سرکاری دستاویزات، فائلوں کی ترتیب، صفائی کی صورتحال اور ریکارڈ کی حفاظت کے انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ سرکاری ریکارڈ کی بروقت اندراج، محفوظ انداز میں دیکھ بھال اور منظم طریقے سے ترتیب کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی امور میں شفافیت اور دفتری کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔افسران نے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نظام اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف ریکارڈ محفوظ رہے گا بلکہ عوام کو خدمات کی فراہمی میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔دورے کے دوران اے ڈی سی رینیو محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مختلف اسٹاف رومز، حاضری رجسٹر اور دفتری امور کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے صفائی، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفاتر میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اس موقع پر افسران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، ادارہ جاتی اصلاحات اور سرکاری دفاتر کی کارکردگی میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی خدمت کے نظام کو مزید شفاف، منظم اور فعال بنایا جائے گا۔دریں اثناءضلعی انتظامیہ لورالائی کی جانب سے مختلف سرکاری دفاتر میں صفائی، حاضری اور ریکارڈ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے اور دفتری امور میں شفافیت لانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4226/2026
نصیرآباد20مئی ۔ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ای آر ایم ایس این آئی ڈی مئی مہم کے سلسلے میں تیسرے روز ایوننگ جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ایریا انچارجز، یو سی ایم اوز، پولیو ورکرز اور ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سمیت دیگر مانیٹرنگ افسران شریک تھے۔ اجلاس کے دوران انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیاجبکہ مختلف یونین کونسلز میں جاری مہم کی پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے پولیو ورکرز، ایریا انچارجز اور مانیٹرنگ افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ درپیش مسائل اور چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4227/2026
دکی 20 مئی ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دکی میں زیرِ تعمیر جدید آپریشن تھیٹر کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام، معیار اور رفتار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران، متعلقہ انجینئرز اور تعمیراتی کمپنی کے نمائندگان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے آپریشن تھیٹر میں نصب کیے جانے والے جدید طبی آلات، بجلی کی فراہمی، وینٹیلیشن سسٹم، پانی کی دستیابی، صفائی کے انتظامات اور تعمیراتی میٹریل کے معیار کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں معیاری میٹریل کے استعمال اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر محکمہ صحت بلوچستان کے حکام نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن تھیٹر کی تکمیل سے نہ صرف دکی بلکہ ملحقہ علاقوں کے مریض بھی جدید طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ پیچیدہ آپریشنز کی سہولت مقامی سطح پر دستیاب ہونے سے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور دیہی و دور دراز علاقوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹھیکیدار اور حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر کے قیام سے ایمرجنسی اور سرجیکل سروسز میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ زچہ و بچہ، ٹراما اور دیگر پیچیدہ کیسز کے علاج میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا بھی معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے عملے کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4228/2026
چمن 20مئی ۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت SNID مئی 2026 کی انسدادِ پولیو مہم کے تیسرے روز جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوید بادینی ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر، ای او سی مانیٹرز، ڈسٹرکٹ مانیٹرز اور ضلع بھر کے یونین کونسل میڈیکل آفیسرز UCMOs نے شرکت کی اجلاس کے دوران تیسرے روز کی مجموعی کارکردگی فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت، ہاوس ہولڈ کوریج اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دیا جائے انہوں نے ہدایت جاری کی کہ ہر UCMO اپنی متعلقہ یونین کونسل میں پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو ویکسین پلائیں اور فیلڈ میں ٹیموں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین پلانے کے حوالے سے کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا مزید برآں فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کی گئیں تاکہ مہم کے مطلوبہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں ڈی سی نے والدین سے اس سلسلے میں اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے انھیں پولیو کے دو ڈراپ ضرور پلائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4229/2026
قلعہ سیف اللہ20مئی ۔ : ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے BSDI اسکیم کے تحت فعال کیے گئے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول شنکئی واہ اخترزئی کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے کلاس رومز، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعداد، نصابی سرگرمیوں اور اسکول میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اسکول ریکارڈ چیک کرنے کے بعد انہوں نے طالبات سے براہِ راست بات چیت کی اور ان سے تعلیم، نصاب، اساتذہ کے رویے اور اسکول کے ماحول کے حوالے سے سوالات کیے۔طالبات نے اعتماد کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ اسکول میں دلچسپی سے پڑھ رہی ہیں اور اساتذہ ان کی رہنمائی بہتر انداز میں کر رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد ہر بچی کو معیاری تعلیم کی سہولت اس کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور محنت سے نبھائیں اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ BSDI اسکیم کے تحت فعال کیے گئے اسکولز کی مانیٹرنگ مسلسل جاری رہے گی تاکہ وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔دورے کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور والدین سے رابطہ بڑھا کر زیادہ سے زیادہ بچیوں کو اسکول لایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4230/2026
دکی، 20 مئی ۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیراللہ ناصر اور چیئرمین میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ ترین کے ہمراہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے شہر میں ریڑھی بانوں کیلئے مختص مقام پر ٹف ٹائلز کی تنصیب کے کام کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ ریڑھی بانوں کو منظم ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ شہر میں ٹریفک کی روانی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے مسجد روڈ پر جاری بلیک ٹاپنگ کے ترقیاتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے سختی سے ہدایت کی کہ تعمیراتی عمل میں معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ سڑک طویل عرصے تک پائیدار رہے اور عوام کو بہتر سفری سہولت فراہم ہو سکے۔ڈپٹی کمشنر نے بائی پاس مین نالے کی تعمیر کا بھی معائنہ کیا اور نکاسی آب کے نظام کو موثر بنانے کیلئے کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی اسکیموں کی مسلسل نگرانی کا مقصد عوامی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا اور شہریوں کو جدید اور بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ ناقص تعمیراتی کام یا غیر ضروری تاخیر کی صورت میں متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4231/2026
تمپ۔ 20 مئی ۔: ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا پہلا اہم اور تاریخ ساز اجلاس ڈی سی آفس تمپ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تمپ حق حیات، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تمپ منظور احمد سمیت مختلف متعلقہ اداروں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع تمپ کے تعلیمی نظام، اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعلیمی معیار میں بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نو تشکیل شدہ ضلع تمپ میں تعلیم کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور تمپ کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع تمپ کو تعلیمی میدان میں ایک مثالی ضلع بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں نظم و ضبط، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آسکے۔ ان کی متحرک قیادت، سنجیدہ حکمت عملی اور تعلیم دوست وژن کو شرکاء ے بے حد سراہا۔ عوامی و تعلیمی حلقوں نے ڈپٹی کمشنرتمپ برکت علی بلوچ کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں خصوصی دلچسپی کو ایک مثبت اور انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ضلع تمپ تعلیم، ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4232/2026
قلات20مئی .۔قلات میں کسان کارڈ کی تقسیم شروع زمینداروں کیلئے زرعی سہولیات سے مستفید کرانے کی حکومتی پالیسی فائدہ مندثابت ہونے لگی ہےڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن قلات عبد الناصر صاحب نے آج ضلع قلات کے زمینداروں میں کسان کارڈ تقسیم کیےڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن عبد الناصر نے اس موقع پر زمینداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے کسانوں اورزمینداروں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف زرعی سہولیات اور سبسڈی پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسان کارڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ضلع قلات کے تمام زمینداروں اور کسانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کسان کارڈ کے لیے اپنی رجسٹریشن جلدازجلدمکمل کریں تاکہ حکومتی زرعی سبسڈی، بیج، کھاد اور دیگر زرعی سہولیات سے بھرپور فائدہ حاصل کیا جا سکے۔واضح رہے کہ محکمہ زراعت کسانوں کی بہتری اور جدید زرعی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4233/2026
تمپ۔ 20 مئی۔ ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی زیرِ صدارت نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس ڈی سی آفس تمپ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تمپ حق حیات، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ نوروز یعقوب سمیت مختلف متعلقہ اداروں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع تمپ میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی، اسپتالوں کی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، طبی عملے کی حاضری اور دور دراز علاقوں میں عوام کو بہتر طبی سہولیات پہنچانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نو قائم شدہ ضلع تمپ میں صحت کے نظام کو مضبوط اور فعال بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور ضلع تمپ کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری اور مشن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں عوام دوست ماحول، ادویات کی بروقت فراہمی اور طبی عملے کی ذمہ داریوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔اجلاس میں شریک افسران نے ڈپٹی کمشنر برکت علی بلوچ کی متحرک قیادت، عوامی خدمت کے جذبے اور صحت کے شعبے میں خصوصی دلچسپی کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں ضلع تمپ صحت اور ترقی کے میدان میں ایک مثالی ضلع بن کر ابھرے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4234/2026
لورالائی20مئی ۔ : اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت ضلع میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایمرجنسی رسپانس مینجمنٹ (ERM) اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران، پولیو حکام اور فیلڈ مانیٹرنگ ٹیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیو مہم کے پہلے دن حاصل ہونے والی کوریج، رہ جانے والے بچوں کی تعداد، ٹیموں کی حاضری، فیلڈ مانیٹرنگ، سیکیورٹی انتظامات اور مہم کے دوران درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام نے مختلف یونین کونسلز اور حساس علاقوں کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ بھی پیش کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران سامنے آنے والی تمام خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور کم کارکردگی والے علاقوں میں خصوصی توجہ دے کر بہتری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی ناگزیر ہے اور کسی بھی بچے کا رہ جانا ناقابلِ قبول ہوگا۔اجلاس میں موثر نگرانی، بروقت اور درست رپورٹنگ، مختلف محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور فیلڈ ٹیموں کی سخت مانیٹرنگ پر خصوصی زور دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور ٹیموں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ مہم کے مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا سکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ والدین میں آگاہی بڑھانے، انکاری خاندانوں کو قائل کرنے اور دور دراز علاقوں میں بچوں تک رسائی کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی پولیو ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4235/2026
قلات20مئی ۔ پولیو مہم کے تیسرے روز کے اختتام پر جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں DHO ڈاکٹر انجم بلوچ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمداقبال نورزئی ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر مجتبی باجوئی ایکسٹرنل مانیٹر ڈاکٹر محمدآصف سمیت مانیٹرنگ آفیسران یوسی ایم اوزنے شرکت کی۔ اجلاس میں آج کے پولیو مہم ٹیموں کی کارکردگی درپیش مسائل مقررکردہ ہدف اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیایوسی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسران نے آج کے مہم ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق رپوٹ پیش کیئے۔ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نے کہا کہ پولیو ٹیمیں کل آخری روز کیچ اپ کے دن میں گھرگھر جاکر رہ جانے والے رفیوزلز مہمان بچوں خانہ بدوشوں کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4236/2026
تمپ20مئی ۔۔ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ کی کی سربراہی میں نو تشکیل شدہ ضلع تمپ میں عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوامی رابطوں کو مو¿ثر بنانے کیلئے سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں تمپ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے ڈی سی آفس میں ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ سے ملاقات کی اور علاقے کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، سڑکوں، پانی اور دیگر عوامی امور کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر وفود نے ضلع تمپ کو درپیش چیلنجز اور عوامی ضروریات سے متعلق اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی بلوچ نے انتہائی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ تمام مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر برکت علی بلوچ نے کہا کہ ضلع تمپ ایک نو تشکیل شدہ ضلع ہے اور یہاں کے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ تمپ کو ایک ترقی یافتہ، پرامن اور خوشحال ضلع بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ ان کی عوام دوست پالیسی، متحرک قیادت اور مثبت وزن کو عوامی حلقوں نے بے حد سراہتے ہوئے اسے ضلع تمپ کیلئے نیک شگون قرار دیا۔وفود نے ڈپٹی کمشنر برکت علی بلوچ کی عوامی مسائل میں گہری دلچسپی، کھلے دروازے کی پالیسی اور خدمت کے جذبے کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ضلع تمپ ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر4237/2026
گوادر/پسنی20مئی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حکومتی عزم کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) پسنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ہسپتال میں جاری طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا۔آر ایچ سی پسنی پہنچنے پر ڈاکٹر رؤف بلوچ اور ڈاکٹر نزیر بلوچ نے ڈی ایچ او گوادر کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران ڈاکٹر یاسر طاہر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے ڈینٹل یونٹ، او پی ڈی، وارڈز، میڈیکل اسٹور اور دیگر طبی شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈی ایچ او گوادر نے مریضوں کو دستیاب طبی سہولیات، ادویات کی فراہمی، صفائی ستھرائی، طبی آلات کی فعالیت اور عملے کی حاضری کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں، طبی عملے اور علاقہ معتبرین سے ملاقات بھی کی، جس میں ہسپتال کو درپیش مسائل، طبی سہولیات کی بہتری اور عوامی ضروریات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر کی جانب سے ہسپتال کے لیے ضروری ادویات فراہم کی گئیں، جبکہ مریضوں اور لواحقین کو صاف اور ٹھنڈے پانی کی سہولت مہیا کرنے کے لیے دو واٹر ڈسپنسرز بھی فراہم کیے گئے۔مزید برآں ڈی ایچ او گوادر کی خصوصی ہدایت پر ایکسرے مشین کے خراب پرزہ جات کی مرمت مکمل کرکے انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا، جس کے بعد ایکسرے مشین کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی مریضوں کو تشخیصی سہولت بروقت میسر آ سکے اور انہیں دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔دورے کے دوران ادویات کی مستقل دستیابی، طبی آلات کی فعالیت اور بنیادی سہولیات کی بہتری سے متعلق جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈی ایچ او گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع بھر کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر4238/2026
صحبت پور20مئی:۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین کی زیرِ صدارت ایوننگ پولیو جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران دن بھر کی کارکردگی درپیش مسائل پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت مانیٹرنگ سسٹم اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ پولیو مہم میں شامل تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں نہایت محنت، لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے انہوں نے زور دیا کہ ہر گھر تک رسائی حاصل کی جائے اور ہدف کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے انہوں نے واضح کیا کہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی سستی، غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گیمزید برآں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر، فعال اور مربوط بنایا جائے تاکہ ہر علاقے کی مکمل کوریج کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ میں جاری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور کسی بھی کمی یا مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے، تاکہ پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنایا جا سکے
خبر نامہ نمبر4239/2026
گوادر20مئی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن، محنت کش طبقے کے حقوق کے تحفظ اور بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی حکومتی پالیسی کے تحت ڈسٹرکٹ انتظامیہ گوادر کی جانب سے مزدوروں کے مسائل، لیبر رجسٹریشن اور چائلڈ لیبر کے تدارک سے متعلق ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس گوادر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گوادر ڈاکٹر عبدالشکور نے کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی کے ارکان سمیت محکمہ لیبر، محکمہ تعلیم، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ، پولیس، وکلا برادری، گوادر پریس کلب اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس موقع پر محکمہ لیبر کے جوائنٹ ڈائریکٹر سمیر نثار نے ضلع گوادر میں کام کرنے والے مزدوروں کے ڈیٹا، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور چائلڈ لیبر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں مزدوروں کی درست تعداد اور مکمل کوائف مرتب کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ ایک جامع اور مستند ڈیٹا بیس تیار کیا جا سکے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی رجسٹریشن نہایت اہم ہے کیونکہ رجسٹرڈ مزدور ہی حکومتی فلاحی اسکیموں، مالی معاونت اور دیگر سہولیات سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں ریاستی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ مزدوروں میں رجسٹریشن کے حوالے سے مؤثر آگاہی مہم چلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ محنت کش افراد اپنا اندراج یقینی بنا سکیں اور حکومت کے پاس ان کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو۔ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ رجسٹرڈ مزدوروں کو سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے انڈومنٹ فنڈ، مالی امداد، فلاحی اسکیموں، تعلیمی معاونت اور دیگر سرکاری مراعات سے مستفید ہونے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ مزدور ان سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔اجلاس میں چائلڈ لیبر کی روک تھام اور مزدور پیشہ بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ بچوں کو مزدوری سے نکال کر تعلیمی اداروں تک لانے کے لیے خصوصی مراعات، آگاہی مہمات اور سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ ضلع میں شرحِ تعلیم میں اضافہ اور چائلڈ لیبر میں کمی لائی جا سکے۔اس موقع پر گوادر پریس کلب کے نمائندے اللہ بخش دشتی نے نجی سیکیورٹی گارڈز کے استحصال کا معاملہ اجلاس میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض سیکیورٹی کمپنیوں کی جانب سے گارڈز کے نام پر مکمل تنخواہیں وصول کی جاتی ہیں، تاہم ملازمین کو کم رقم ادا کی جاتی ہے، جو مزدوروں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ لیبر سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ لیبر کے نمائندے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اس مسئلے کے حوالے سے قبل ازیں متعلقہ بینکوں اور کمپنیوں کو مراسلے ارسال کیے جا چکے ہیں، جبکہ اب دوبارہ باضابطہ خطوط جاری کیے جائیں گے تاکہ مزدوروں کے استحصال کا خاتمہ اور ان کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں مزدوروں کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے گا، جبکہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کے ساتھ عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر4240/2026
گوادر/پسنی20مئی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حکومتی عزم کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) پسنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ہسپتال میں جاری طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا۔آر ایچ سی پسنی پہنچنے پر ڈاکٹر رؤف بلوچ اور ڈاکٹر نزیر بلوچ نے ڈی ایچ او گوادر کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران ڈاکٹر یاسر طاہر نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے ڈینٹل یونٹ، او پی ڈی، وارڈز، میڈیکل اسٹور اور دیگر طبی شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈی ایچ او گوادر نے مریضوں کو دستیاب طبی سہولیات، ادویات کی فراہمی، صفائی ستھرائی، طبی آلات کی فعالیت اور عملے کی حاضری کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں، طبی عملے اور علاقہ معتبرین سے ملاقات بھی کی، جس میں ہسپتال کو درپیش مسائل، طبی سہولیات کی بہتری اور عوامی ضروریات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر کی جانب سے ہسپتال کے لیے ضروری ادویات فراہم کی گئیں، جبکہ مریضوں اور لواحقین کو صاف اور ٹھنڈے پانی کی سہولت مہیا کرنے کے لیے دو واٹر ڈسپنسرز بھی فراہم کیے گئے۔مزید برآں ڈی ایچ او گوادر کی خصوصی ہدایت پر ایکسرے مشین کے خراب پرزہ جات کی مرمت مکمل کرکے انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا، جس کے بعد ایکسرے مشین کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی مریضوں کو تشخیصی سہولت بروقت میسر آ سکے اور انہیں دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔دورے کے دوران ادویات کی مستقل دستیابی، طبی آلات کی فعالیت اور بنیادی سہولیات کی بہتری سے متعلق جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈی ایچ او گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع بھر کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر4241/2026
کوئٹہ 20مئی:۔بی ٹیوٹا کے منیجنگ ڈائریکٹر حمود الرحمن نے کہا ہے کہ صوبے بھر کے ٹیکنیکل اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے گی تاکہ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے نہ صرف ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں گی بلکہ تدریسی و انتظامی عملے کو بھی جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے باقاعدہ تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے GIZاور برٹش کونسل کے تعاون سے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کوئٹہ کے ایڈمن اسٹاف کی چھ روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں فنی تعلیم کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، اور خاص طور پر سی پیک اور ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں کے تناظر میں بلوچستان میں ہنر مند افرادی قوت کی طلب مزید بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی ٹیوٹا مختلف ڈونر اداروں کے اشتراک سے ٹیکنیکل اسٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، اور مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ دلجمعی، لگن اور محنت کے ساتھ فنی مہارتیں حاصل کریں اور اپنے متعلقہ اداروں میں جا کر سیکھے گئے علم کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں۔ ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کوئٹہ کے پرنسپل خیر محمد رند نے خطاب میں کہا کہ عملے کی استعداد کار میں اضافے کیلئے تربیتی ورکشاپس نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شرکاء اس تربیت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں عملی طور پر نافذ کریں گے، جس کے مثبت اور دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ تقریب میں GIZ ٹیوٹ سیکٹر سپورٹ پروگرام کے ایچ آر ڈی ایڈوائزر برائے لیڈرشپ و مینجمنٹ اسکلز محمد بائیس، نیشنل ٹرینر و سابق چیئرمین بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن خیبر پختونخوا پروفیسر ہدایت اللہ، انٹرنیشنل ٹرینر سوزین والسٹین (ورچوئل)، امیر حمزہ اور دیگر متعلقہ حکام و شرکاء نے بھی شرکت کی۔
خبر نامہ نمبر4242/2026
صحبت پور20مئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلع صحبت پور میں پیٹرول کی سرکاری قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر صحبت پور اور اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور کی خصوصی ہدایات پر آج مورخہ 20 مئی 2026ء کو تحصیلدار فرید آباد سلطان احمد کھوسہ نے پولیس نفری اور متعلقہ عملے کے ہمراہ تحصیل فرید آباد کے مختلف علاقوں میں قائم پیٹرول پمپس کا تفصیلی دورہ کیادورے کے دوران پیٹرول پمپس کا معائنہ کیا گیا، سرکاری نرخ ناموں کی دستیابی اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، جبکہ پمپ مالکان کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ ہر صورت حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق پیٹرول فروخت کریں اور عوام سے کسی بھی قسم کی اضافی وصولی سے گریز کریں انتظامیہ کی موجودگی میں پیٹرول پمپ مالکان نے مکمل تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر قیمتوں کو سرکاری سطح پر مقررہ نرخوں کے مطابق ایڈجسٹ کر دیا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا شروع کر دیاضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر4243/2026
کوئٹہ20 مئی۔بلوچستان کی سیاسی و سماجی قیادت نے خواتین اور لڑکیوں کی صحت اور حفظان صحت سے متعلق مسائل کے حل کیلئے مشترکہ اقدامات پر عزم گلوبل ایم ایچ ایچ ڈے 2026 کی تقریب میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ بچیوں کے اسکول ڈراپ آؤٹ کی روک تھام کیلئے ایم ایچ ایچ کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ نے خواتین کے بنیادی حقوق کیلئے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر کام کرنے پر زور دیا۔ جبکہ چیرمین قاہمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے ایم ایچ ایچ مصنوعات پر ٹیکس خاتمے کی بلوچستان اسمبلی میں تمام جماعتوں کی مشترکہ قرارداد جسکو نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رحمت صالح بلوچ نے ایوان میں پیش کی اور اسکی متفقہ طور پر منظوری کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ ایم ایچ ایم ڈبلیو جی سیکرٹریٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ نے خواتین کی فلاح، غذائی تحفظ، آگاہی اور معاشی خودمختاری کیلئے جاری اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر کتاب ”حیات نو“ کی رونمائی بھی کی گئی۔ اس موقع پر پر ارکین بلوچستان اسمبلی خیر جان بلوچ، کلثوم نیاز بلوچ، سیکرٹری عبداللہ نورزئی، سکندر شاہ اور دیگر نے صوبہ میں صحت، تعلیم، ٹیکسیشن، یوتھ اور میڈیا ماہرین پر مشتمل کی پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی جس میں بلوچستان میں ایم ایچ ایچ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
خبر نامہ نمبر4244/2026
قلات 20مئی:۔ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں کے تعین سے متعلق اہم اجلاس زیرصدارت ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایس پی ماہیوال تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی زارازئی پیٹرول پمپ خالق آباد کے اونرحاجی عبداللہ لانگو الکبیر پیٹرول پمپ کے مالک علی احمد سمیت قلات اور خالق آبادکے پیٹرول پمپ مالکان نے شرکت کی۔اجلاس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پیٹرول پمپوں کو شہری آبادی سے باہر منتقلی پیٹرول پمپوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں پیٹرول پمپ مالکان نے ایرانی بارڈرکی بنش کے باعث پیٹرول کی قلت اور دیگر مسائل سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہی دی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا قلات میں ایرانی ڈیزل کی نئی قیمت 273 روپیہ مقرر کردیاگیا جبکہ پیٹرول کی نئی قیمتوں سے متعلق دو دن بعد دوبارہ اجلاس کا انعقاد کی جائیگا۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ پمپ مالکان عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں پیٹرول پمپوں پر تمام تر حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقع رونما پیش نہ آئے۔
خبر نامہ نمبر 4245/2026
گوادر20 مئی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی تعلیم دوست پالیسی اور صوبے میں معیارِ تعلیم کی بہتری کے وژن کے تحت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زرَاتون بلوچ نے گورنمنٹ گرلز ہائی سیکنڈری اسکول سربندن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تدریسی ماحول، تعلیمی سہولیات اور جاری تدریسی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈی ای او (خواتین) نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور اساتذہ و طالبات سے ملاقات کر کے تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی معیار اور درپیش مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ اسکول میں مجموعی طور پر تدریسی و تعلیمی ماحول کو اطمینان بخش قرار دیا گیا۔اس موقع پر طالبات نے نصابی کتب کی کمی اور مختلف مضامین خصوصاً ریاضی، حیاتیات، کیمسٹری، فزکس اور دیگر مضامین کے لیے اساتذہ کی عدم دستیابی سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی، جس سے تعلیمی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زرَاتون بلوچ نے طالبات کے مسائل کو توجہ سے سنا اور موقع پر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نصابی کتب کی فراہمی اور اساتذہ کی کمی کے مسئلے کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اور سفارشات متعلقہ حکام کو ارسال کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی اصلاحات، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ و طالبات بھی یکساں تعلیمی مواقع سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبے میں معیارِ تعلیم کی بہتری اور تعلیمی اداروں کو فعال اور مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/4246
گوادر 20 مئی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ گوادر نے عید الاضحیٰ کے موقع پر خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ اور مقامی کاروبار کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی مینا بازار کی تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔یہ اقدام عید الفطر کے موقع پر منعقد ہونے والے پہلے کامیاب ویمن مینا بازار کے تسلسل کا حصہ ہے، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس بار بھی خواتین کے لیے محفوظ، منظم اور باوقار کاروباری ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔مینا بازار میں 40 سے زائد اسٹالز قائم کیے جائیں گے، جن میں ملبوسات، زیورات، دستکاری، جوتے، مہندی اور مقامی و گھریلو خوراک سمیت مختلف اشیاء پیش کی جائیں گی۔ یہ پلیٹ فارم خواتین کاروباری افراد کو نہ صرف اپنی مصنوعات کی نمائش کا موقع فراہم کرے گا بلکہ انہیں معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی عملی سہولت بھی دے گا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینا، مقامی ہنر مندوں اور چھوٹے کاروباروں کو مارکیٹ تک رسائی دینا اور عوام کو عید کے موقع پر ایک محفوظ اور خوشگوار خریداری کا ماحول فراہم کرنا ہے۔انتظامیہ نے کہا ہے کہ مینا بازار میں سیکیورٹی، صفائی، نظم و ضبط اور سہولیات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ شرکاء اور خریداروں کو ایک منظم اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔یہ اقدام نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے بلکہ مقامی معیشت کو تقویت دینے اور سماجی سطح پر مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/4247
چمن20 مئی:_چمن میں مبینہ طور پر کولڈ ڈرنک پینے سے ایک بچے کی ہلاکت کے واقعہ پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے کی خصوصی ہدایت پر فوڈ سیفٹی ٹیم اور موبائل لیب نے ضلع چمن کا خصوصی دورہ کیا اور واقعہ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔تحقیقاتی کارروائی کے دوران بی ایف اے ٹیم نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا محمد سے ملاقات کرکے واقعہ سے متعلق ابتدائی معلومات حاصل کیں۔ بعدازاں سول ہسپتال چمن کے ایم ایس ڈاکٹر اویس اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ظہور سے بھی ملاقات کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق متاثرہ بچہ عبدالقدیر کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔ تاہم ڈاکٹروں نے کولڈ ڈرنک کو موت کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا جبکہ اس حوالے سے کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موجود نہیں۔بی ایف اے ٹیم نے متاثرہ خاندان سے بھی ملاقات کی جنہوں نے بتایا کہ بچے نے 30 روپے مالیت کی ایک کولڈ ڈرنک استعمال کی تھی، جس کے فوراً بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ خاندان کی نشاندہی پر فوڈ سیفٹی ٹیم نے چمن شہر کے مختلف ہول سیل پوائنٹس کا معائنہ کرتے ہوئے مختلف برانڈز کی کولڈ ڈرنکس کے نمونے حاصل کیے، جن میں “ریڈ بوسٹر”، “سپ فریش اسٹرنگ” اور “ہیپی اسٹرنگ” شامل ہیں۔ تمام نمونے لیبارٹری تجزیے کیلئے روانہ کردیئے گئے ہیں۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق لیبارٹری نتائج آنے تک کسی بھی کولڈ ڈرنک کو واقعہ کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں سائنسی شواہد، ٹاکسی کولوجیکل نتائج اور اعلیٰ حکام کی ہدایات کی روشنی میں انجام دی جائیں گی تاکہ حقائق سامنے لائے جاسکیں اور عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔







