خبرنامہ نمبر2528/2026
کوئٹہ یکم اپریل۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کا انحصار معیاری تعلیم کے فروغ پر ہے اور موجودہ صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ہماری حکومت نے صوبے میں کم وپیش تین ہزار دو سو غیر فعال سکولوں کو مکمل طور پر فعال کیا انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اگر نوجوان نسل کو بہتر اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتی ہے بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت صوبے کے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع، بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ وہاں کے طلبہ بھی معیاری تعلیم کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں جدید تدریسی طریقوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا سکے۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور اگر انہیں بہتر تعلیمی ماحول اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی اور ایسے اقدامات کرے گی جن سے بلوچستان میں تعلیم کا معیار بہتر ہو، نوجوانوں کو روشن مستقبل میسر آئے اور صوبہ ترقی کی راہ پر مزید تیزی سے گامزن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2529/2026
کوئٹہ یکم اپریل ۔صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ سے آج ان کے دفتر میں حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، معززین اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفود نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیم، صحت اور دیگر عوامی نوعیت کے امور سے متعلق آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے تمام مسائل کو بغور سنا اور موقع پر متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین اور عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبوں کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف مل سکے۔ حاجی نور محمد خان دمڑ نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی علاقے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے وفود کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2530/2026
قلات یکم اپریل ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمد درانی کے احکامات پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنرقلات شاہنواز بلوچ نے ٹیچنگ ہسپتال قلات کا اچانک دورہ کیا ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر نصراللہ لانگو ڈاکٹر محمدیعقوب زہری نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال کے شعبہحادثات اورملتلف سیکشن کا دورہ کرایا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشرشاہنواز بلوچ نےڈاکٹروں اور دیگر اسٹاف کی حاضریاں چیک کیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرنے ہسپتال کے مختلف شعبوں ایمرجنسی اوپی ڈی ادویات اسٹور لشمینیاسز سینٹر لیبارٹری ایکسرے روم میل فیمیل وارڈز ڈینٹل سیکشن لیبرروم حفاظتی ٹیکہ جات سینٹر ڈینٹل سیکشن اور دیگر شعبوں کا بھی دورہ کیا اورہسپتال میں دستیاب سہولیات اور مسائل کا بغور جائزہ لیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے طبی عملے سے گفتگو کرتے ہوئےکہاکہ ایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کے لیئے لوگوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف اپنی حاضریاں یقینی بنائیں لوگوں کو صحت سے متعلق بہتر سہولیات فراہم کریں ڈاکٹرز اپنے مقدس پیشے سے مخلص رہیں اور اپنے علاقے لوگوں کی خدمت کریں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں صحت کے شعبے میں کوئی کوتائی برداشت نہیں کی جائیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2531/2026
قلات یکم اپریل۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی نے کہا ہے کہ قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد کی مدد کرنا نہ صرف ایک انسانی فریضہ ہے بلکہ ایک عظیم نیکی بھی ہے اور اس ضمن میں این جی اوز کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے قلات کے سماجی رہنما آغا جہانگیر احمدزئی کی جانب سے ضلع میں جاری این جی اوز کی سرگرمیوں سے متعلق دی گئی بریفنگ میں کیا ڈپٹی کمشنر نے حیات فاونڈیشن اور اسلم ہیلپنگ ہینڈز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو مسلسل خوراک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرتے رہے ہیں جو ایک قابلِ تحسین اقدام ہے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ضلع قلات میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں NGOs قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں انہوں نے ان تنظیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں قلات میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ این جی اوز معاشرے کے غریب اور بے سہارا افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہیں جو ایک مثبت اور ذمہ دارانہ عمل ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ فلاحی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے ذریعے این جی اوز مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں جس سے بے روزگاری میں کمی آتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2532/2026
کوئٹہ یکم اپریل ۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے ضلعی عدلیہ کے تمام جوڈیشل افسران کو ایک اہم سرکلر جاری کرتے ہوئے واضح ہدایت دی ہے کہ تبادلوں یا پسندیدہ مقامات پر تعیناتی کے لیے معزز ججز یا چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد کامران خان ملاخیل سے براہِ راست یا بالواسطہ سفارشات حاصل کرنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے۔جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ معزز چیف جسٹس اور معزز ججز کی جانب سے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے کہ بعض جوڈیشل افسران ترجیحی پوسٹنگ یا تبادلوں کے حصول کے لیے خاندان کے افراد، دوستوں یا رشتہ داروں کے ذریعے براہِ راست یا بالواسطہ رابطے کر رہے ہیں۔ عدالت عالیہ کے مطابق ایسا طرزِ عمل سرکاری قواعد و ضوابط اور عدالتی نظم و ضبط کے اصولوں کے منافی ہے اور اسے سنگین بدانتظامی تصور کیا جائے گا۔سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ 2021 کے سیکشن 10 کے تحت سروس میں موجود ہر جوڈیشل آفیسر اس امر کا پابند ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان کے اندر یا باہر کسی بھی عدالت، ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ یا قانون کے مطابق کسی بھی منصب پر خدمات انجام دے سکتا ہے، لہٰذا تبادلے یا تعیناتی کے معاملات انتظامی اختیار کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔معزز چیف جسٹس کی ہدایت کے مطابق کسی بھی جوڈیشل آفیسر کو ذاتی روابط یا ثالثی کے ذریعے تبادلہ، پوسٹنگ یا کسی قسم کی رعایت طلب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سرکلر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ہدایت کی خلاف ورزی کو بدانتظامی سمجھا جائے گا اور متعلقہ قوانین کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔تاہم سرکلر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جوڈیشل افسران اپنے سرکاری اور جائز معاملات کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہائی کورٹ کی متعلقہ برانچ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے تمام جوڈیشل افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں دیانتداری، شفافیت اور نظم و ضبط کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2533/2026
کوئٹہ یکم اپریل۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ معاوضہ کمیٹی کا تفصیلی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی اینڈ ڈبلیو، میٹروپولیٹن کارپوریشن، پولیس سرجن اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ ماہ ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں زخمی افراد اور شہداء کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے ہر کیس کی انفرادی بنیاد پر جانچ پڑتال کرتے ہوئے مستحقین کی فہرستوں کو حتمی شکل دینے کے عمل پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔اس کے علاوہ ان دھماکوں سے متاثرہ دکانوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات کی اسسمنٹ رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کی گئی، جس پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ نقصانات کا شفاف اور میرٹ پر جائزہ لیا جائے تاکہ حقیقی متاثرین کو بروقت معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام زیر التواء کیسز کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور متاثرین کو حکومتی پالیسی کے مطابق فوری ریلیف فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2534/2026
لورالائی یکم اپریل۔ لورالائی میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے بی ایس ڈی آئی فیز I اور فیز II کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف اسکیموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے باچا خان چوک کی تزئین و آرائش، ڈبل اسٹوری ڈیجیٹل لائبریری، وومن جمنازیم، گورنمنٹ گرلز کالج لورالائی میں زیر تعمیر فٹسال گراونڈ، اور وریاگی کاکڑان کچلاک میں سڑک کے جاری منصوبے کا معائنہ کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل، ایکسین بی اینڈ آر بلڈنگ احمد دین اور ایکسین بی اینڈ آر روڈ محمد داود خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ متعلقہ حکام نے منصوبوں کی رفتار، فنڈز کے استعمال اور معیار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناقص میٹریل یا غیر معیاری کام کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد ضلع میں تعلیمی، سماجی اور تفریحی سہولیات کو فروغ دینا، نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا اور شہری انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل لائبریری منصوبہ جدید آئی ٹی سہولیات سے آراستہ ہوگا جہاں طلبہ کو ای لرننگ، آن لائن ریسرچ اور ڈیجیٹل مواد تک رسائی حاصل ہوگی۔ اسی طرح وومن جمنازیم میں خواتین کے لیے جدید فٹنس سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ خواتین کی صحت اور فلاح پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔مزید برآں شہر میں اندرونی سڑکوں کی بحالی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور پارکوں کی بحالی کے منصوبے بھی جلد شروع کیے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے موثر مانیٹرنگ نظام وضع کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلد ایک جامع اربن ڈویلپمنٹ پلان متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت لورالائی کو ایک جدید اور سہولیات سے آراستہ شہر بنانے کے لیے طویل المدتی اقدامات کیے جائیں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے اور کسی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai – April 1, 2026Deputy Commissioner Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja conducted a detailed visit to ongoing development projects under BSDI Phase I and Phase II in Loralai, reviewing progress on various schemes.During the visit, he inspected the renovation of Bacha Khan Chowk, the construction of a double-story digital library, a women’s gymnasium, a futsal ground under construction at Government Girls College Loralai, and the ongoing road project in Waryagi Kakaran Kuchlak.On the occasion, Additional Deputy Commissioner Muhammad Ismail Mengal, XEN B&R Buildings Ahmed Din, and XEN B&R Roads Muhammad Daud Khan were also present. Relevant officials provided a comprehensive briefing on the pace of work, utilization of funds, and quality standards.The Deputy Commissioner directed that all development projects be completed within the stipulated time frame and according to high-quality standards so that public facilities can be delivered promptly. He emphasized that the use of substandard materials or poor workmanship would not be tolerated, and strict action would be taken against those responsible.He stated that the primary objective of these projects is to promote educational, social, and recreational facilities in the district, create healthy activities for youth, and modernize urban infrastructure.During the briefing, it was shared that the digital library project will be equipped with modern IT facilities, enabling students to access e-learning, online research, and digital resources. Similarly, the women’s gymnasium will provide modern fitness facilities aimed at improving women’s health and well-being.Additionally, projects for the rehabilitation of internal roads, improvement of drainage systems, installation of street lights, and restoration of parks will be launched soon. The Deputy Commissioner instructed officials to establish an effective monitoring system to ensure timely completion of these projects.He also announced that the district administration will soon introduce a comprehensive urban development plan aimed at transforming Loralai into a modern and well-equipped city through long-term initiatives.In conclusion, he reaffirmed that the district administration is fully committed to completing public welfare projects and that any negligence or delay will not be tolerated, while transparency and quality will be ensured at all costs.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2535/2026
کوئٹہ یکم اپریل ۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ (BTBB) نے صوبے بھر میں مفت درسی کتب کی تقسیم سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گمراہ کن خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تعلیمی سال 2026 کے لیے درسی کتب کی ترسیل کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب تک 86 فیصد کتب تمام 36 اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹرز تک پہنچائی جا چکی ہیں۔بورڈ کے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق باقی ماندہ کتب بھی ترسیل کے مراحل میں ہیں اور آئندہ چند دنوں میں تمام اضلاع تک پہنچا دی جائیں گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ درسی کتب کی مجموعی طلب ہر سال طلبہ کے اندراج کی بنیاد پر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (اسکولز) کی جانب سے طے کی جاتی ہے، جبکہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ اسی کے مطابق کتب کی طباعت اور فراہمی یقینی بناتا ہے۔ترجمان کے مطابق رواں سال تمام درسی کتب کی طباعت مکمل ہو چکی ہے اور صرف محدود تعداد کی ترسیل باقی ہے۔ اضلاع تک کتب کی فراہمی کے بعد ان کی مزید تقسیم ضلعی ہیڈکوارٹرز سے کلسٹر سینٹرز اور اسکولوں تک کی جاتی ہے، جس میں بعض دور دراز علاقوں میں جغرافیائی دشواریوں کے باعث تاخیر ہو سکتی ہے۔بیان میں سوشل میڈیا پر زیر گردش اس دعوے کو مسترد کیا گیا کہ “صرف 20 فیصد کتب تقسیم کی گئی ہیں”، اور اسے حقائق کے منافی قرار دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایسے بیانات نامکمل معلومات یا محدود مشاہدات پر مبنی ہیں جو زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔مزید بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کی رہنمائی میں بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے ایک اہم اقدام کے تحت قومی نصاب کے مطابق 100 سے زائد نئی درسی کتب تینوں مراحلوں کو ایک ساتھ کرکہ کتب شائع کیں، جو مختلف جائزوں اور منظوری کے مراحل سے گزر کر مقررہ وقت میں مکمل کی گئیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انتظامی، جغرافیائی اور لاجسٹک چیلنجز کے باوجود بورڈ نے موثر حکمت عملی، مسلسل نگرانی اور بہتر رابطہ کاری کے ذریعے کتب کی بڑی تعداد اضلاع تک پہنچا دی ہے جبکہ باقی ترسیل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر طالب علم کو بروقت درسی کتب کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ مستند معلومات پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاو سے گریز کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2536/2026
کوئٹہ یکم اپریل ۔ سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کی زیر صدارت پری فیبریکیشن کے حوالے سے وینڈرز کے ساتھ ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ کے اعلیٰ افسران نے بھرپور شرکت کی اجلاس میں چیف انجینئرز سپرنٹنڈنٹ انجینئرز اور ضلعی انجینئر افسران بھی شریک ہوئے اجلاس کے دوران مختلف وینڈرز نے دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید تعمیراتی مٹیریل جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی وینڈرز نے پری فیبریکیشن کے فوائد لاگت میں کمی تیز رفتار تعمیرات اور معیار میں بہتری کے حوالے سے بھی جامع آگاہی فراہم کی اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں تعمیراتی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید مٹیریل اور ٹیکنالوجی کو اپنانے سے نہ صرف تعمیراتی معیار بہتر ہوگا بلکہ وقت اور وسائل کی بھی بچت ممکن ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار رکھا جائے اس سلسلے میں دستیاب تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو موثر اور پائیدار بنایا جا سکے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابرخان نےاس عزم کا اظہار کیا کہ جدید تعمیراتی طریقہ کارخصوصاً پری فیبریکیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر انفراسٹرکچر کے شعبے میں جدت اور بہتری لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2537/2026
کوئٹہ یکم اپریل۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تمام سرکاری اداروں اور محکموں کے افسران عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہیں۔ شفاف، جوابدہ اور مربوط نظام کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ تمام سرکاری افسران اور ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے اور انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ واضح رہے کہ جب تک ہم تمام سرکاری اداروں اور محکموں کے طریقہ کار کو جدید نہیں بنائیں گے اور انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر کمپیوٹرائز نہیں کرینگے اس وقت تک عوام کو مختلف مسائل میں الجھتے رہیں گے۔ طرزِ عمل کی تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ اب ہم اداروں کو رشوت ستانی، اقربا پروری اور بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے سخت عملی اقدامات کریں گے تاکہ اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاوس کوئٹہ میں اہل حدیث پاکستان کے قائمقام مرکزی امیر ڈاکٹر علی محمد ابو تراب اور دیگر وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ موثر مانیٹرنگ میکینزم اور ڈیجیٹلائزیشن اداروں اور محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ناگزیر ہے۔ پروسیس کو خودکار بناکر اور انسانی تعامل کو کم کر کے ہم غفلت، رشوت اور بدعنوانی کے مواقعوں کو بآسانی ختم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سروس سیکٹر میں شفافیت کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ بجٹ سازی، اخراجات اور فیصلہ سازی کے عمل کو آن لائن شائع کرنے اور بالخصوص سرکاری حکام کو عوام کے سامنے جوابدہ رکھنا گوڈ گورننس کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان دونوں کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سرکاری محکموں میں میرٹ کریسی اور شفافیت کی پاسداری سے نوجوانوں میں احساس محرومی اور مایوسی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ ہمارے صوبے کے نوجوان انتہائی باصلاحیت اور محب وطن ہیں اسلیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے ساتھ جڑیں اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کریں۔ ہم انکی پوشیدہ صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں اور انہیں بہتر مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2538/2026
کوئٹہ، یکم اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ایڈوائزری کونسل کا تیسرا غیر معمولی اجلاس بدھ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں ریونیو کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لئے اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں آڈٹ رولز، ڈیجیٹلائزیشن اور مختلف اصلاحاتی اقدامات کی باقاعدہ منظوری دی گئی اس موقع پر چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان نے اجلاس کو ریونیو اہداف کے حصول، جاری اقدامات اور کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ چالیس ارب روپے کے مقررہ سالانہ ہدف کا نصف حاصل کرلیا گیا ہے جبکہ مکمل اہداف کے حصول کیلئے تگ و دو جاری ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مقررہ ریونیو اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے فیلڈ آپریشنز کو موثر اور متحرک بنانے کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے غیر ترقیاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ترقیاتی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں اس تناظر میں صوبے کے اپنے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے انہوں نے زور دیا کہ ریونیو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہوگی انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف اور خودکار بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے عملے کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے جدید تربیت فراہم کرنے اور ادارے کی فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو، اجلاس میں ریونیو کے نظام کو مزید موثر بنانے اور صوبے کی مالی خودمختاری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید ظفر بخاری سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2539/2026
کوئٹہ یکم اپریل۔صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صوبے کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز جیسے فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کمی اور آبی وسائل کے ضیاع سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے صنعتی اخراج پر قابو پانے، شجرکاری مہمات کو فروغ دینے اور شہری علاقوں میں ماحولیاتی بہتری کے لیے جدید اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے مزید کہا کہ عوامی شمولیت کے بغیر ماحولیاتی اہداف کا حصول ممکن نہیں، لہٰذا شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات کو وسعت دی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے تعاون سے ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آئندہ نسلوں کے لیے ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2540/2026
کوئٹہ، یکم اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ سے بدھ کے روز یہاں فورم فار ڈیگنیٹی انیشیٹوز (ایف ڈی آئی) پاکستان کی سربراہ عظمیٰ یعقوب نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود، صحت، صنفی شمولیت اور مجموعی سماجی بہتری کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر ایف ڈی آئی پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مینا مجید بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کی نوجوان آبادی صوبے کا قیمتی سرمایہ ہے، جس کی مثبت رہنمائی، صحت مند سرگرمیوں میں شمولیت اور ہنر مندی کے فروغ کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل، ان کی ذہنی و جسمانی صحت کے فروغ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے کھیلوں، تربیتی پروگرامز اور آگاہی مہمات کے ذریعے ایک سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ سماجی بہتری کے لیے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے درمیان موثر اشتراک عمل ناگزیر ہے تاکہ پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکیں عظمیٰ یعقوب نے اس موقع پر بلوچستان میں نوجوانوں کی ترقی، صنفی مساوات اور صحت کے شعبے میں ایف ڈی آئی پاکستان کے جاری اقدامات سے آگاہ کیا اور حکومت بلوچستان کے ساتھ اشتراک کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں صحت مند و محفوظ ماحول فراہم کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ نوجوانوں کی فلاح، صحت عامہ اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ بلوچستان میں ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل ممکن ہو
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2541/2026
کوئٹہ یکم اپریل۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ماونٹین ویو ٹیکنالوجی پارک اہم اور جدید آئی ٹی منصوبہ ہے جس کا مقصد صوبے میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا، نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماونٹین ویو ٹیکنالوجی پارک کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔جس میں سی سی او پی پی پی ڈاکٹر فیصل ،ڈویژل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد کے علاوہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بھی شریک تھے کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ یہ پارک جدید سہولیات سے آراستہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں آئی ٹی کمپنیز، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس کو ایک چھت تلے کام کرنے کا موقع ملتا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے کو تقویت ملتی ہے بلکہ مقامی معیشت کی بہتری میں بھی مدد ملتی ہے۔اجلاس کے دوران کمشنر کو پارک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ماونٹین ویو پارک ویلی کا تقریباً 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جس میں پارک کی بحالی (ریسٹوریشن) شامل ہے، جبکہ باقی 25 فیصد کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ پارک کو عنقریب سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔بریفنگ کے مطابق پارک کے قیام کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے، اور اس دوران 13 مختلف کمپنیوں نے یہاں اپنے کام کا آغاز کیا ہے جبکہ 15 فری لانسرز بھی اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ پارک آئی ٹی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف معاشی بحالی میں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چونکہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے اسے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں قائم آئی ٹی پارکس کے معیار تک لانے کے لیے حکومتی تعاون ناگزیر ہے۔ اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی خواہش ہے کہ یہ پارک جلد از جلد اپنی افادیت ثابت کرے اور نوجوانوں میں اسٹارٹ اپس کے رجحان کو فروغ دے، جس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی پارک انتظامیہ نے اجلاس میں بتایا کہ منصوبے میں مزید جدت اور بہتری کے لیے انجینئرز، آڈیٹرز اور ماہرین کی خدمات درکار ہیں مزید یہ بھی بتایا گیا کہ پارک کے فعال ہونے کے بعد اب تک متعدد سیمینارز اور ایونٹس منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں خواتین کے لیے خصوصی پروگرامز بھی شامل ہیں اجلاس کے اختتام پر پارک کے نمائندوں نے آگاہ کیا کہ مستقبل قریب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی اقدامات کے تحت بچوں کو آئی ٹی کی تعلیم فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مستقبل میں خود روزگار کے قابل بن سکیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے پارک کی اہمیت اور انفرادیت کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پارک کے لیے مختص اراضی کی حدود بندی جلد مکمل کی جائے اور تمام ضروریات کو ایک جامع رپورٹ کی صورت میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں حکومتی سطح پر حل کر کے منصوبے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2542/2026
کوئٹہ یکم اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیر صدارت ڈیری فارمز کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA)، پولیس، لائیو سٹاک، محکمہ ماحولیات اور ڈیری فارم ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں شہر کے اندر قائم ڈیری فارمز سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور صفائی کے مسائل اور ٹریفک مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس امر پر زور دیا گیا کہ شہری حدود میں ڈیری فارمز کی موجودگی صحت عامہ اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سلسلے میں ڈیری فارمز کو شہر سے باہر باقاعدہ اور منظم طریقے سے منتقل کرنے کے مختلف پہلووں پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈیری فارمز کی منتقلی کے لیے جلد مناسب اور متبادل جگہ کا تعین کیا جائے گا۔ جہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اجلاس میں زمین کی دستیابی، انفراسٹرکچر کی ترقی، پانی، نکاسی آب، سڑکوں اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس کے علاوہ ڈیری فارمز کے مالکان کو درپیش ممکنہ مسائل اور ان کے حل کے لیے بھی تجاویز زیر غور آئیں تاکہ منتقلی کا عمل آسان اور قابل عمل بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور تعاون سے اس منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر2543/2026
کوئٹہ یکم اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ”لو بی ٹی یو گیس” پر مبنی فرٹیلائزر فزیبلٹی منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں منصوبے کی تزویراتی، تکنیکی اور معاشی اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری توانائی میر اصغر رند، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، وائس چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بلال خان کاکڑ، سیکرٹری توانائی اسفند یار خان کاکڑ، چیف ایگزیکٹو آفیسر بی بی او آئی ٹی قائم لاشاری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بی ای سی ایل نواز بگٹی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یہ منصوبہ ملک میں کھاد کی مقامی پیداوار میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے قومی غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی جبکہ اس منصوبہ کی بدولت صوبے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت عمل میں لایا جائے تاکہ کارکردگی، سرمایہ کاری کے حصول اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کو ترجیح دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ذیلی و معاون صنعتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ خطے کو زیادہ سے زیادہ معاشی و سماجی فوائد حاصل ہوں اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ فزیبلٹی کے عمل کو بروقت مکمل کیا جائے اور منصوبے پر تیز رفتار عملدرآمد کے لیے باہمی رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر2544/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوا جس میں آؤٹ آف سکول بچوں کا داخلہ مہم کو کامیاب، عوام کی معیار زندگی بہتر بنانے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی، محکمہ تعلیم میں عارضی بنیادوں پر تعیناتیاں اور سمیت متعدد اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے آؤٹ آف سکول بچوں کے داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھیں اور ہر حال میں مہم کو کامیاب بنائیں۔ 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کا داخلہ مکمل کرنا ہے۔ آؤٹ آف سکول بچوں کی شرح کم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر سروے اور اندراج کا عمل تیز کیا جائے۔ آفیسران کو ہدف پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ تعلیم کا حق سب کو مل سکے اور صوبائی حکومت نے غیر خواندہ بڑوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے جدید دور کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر“اڈلٹ لٹریسی پروگرام”شروع کررہی ہے جس کا بنیادی مقصد 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کو پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے جو اسکول سسٹم سے باہر رہ کر گزرے ہیں۔ اس کے ذریعے تعلیمی خلا کو کم کرنا، معاشی خود مختاری بڑھانا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس کو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بتایا گیا کہ کل 3020 سکیموں میں سے 1683 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی منصوبوں پر بھی تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے 100 فیصد ترقیاتی منصوبوں کے دورے اور نگرانی پر 13 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے محکمہ تعلیم اور صحت میں عارضی بنیادوں پر تعیناتیوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پوست کی کاشت تلف کرنے کے عمل کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ صوبے کو اس لعنت سے نجات دلائی جائیں۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک 95 فیصد سے زیادہ اراضی کو تلف کیا گیا ہے جبکہ 140 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ باقی ماندہ پوست کی کاشت کو تلف کیا جائیگا اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی۔ چیف سیکرٹری نے تاکید کی کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیاء خوردونوش ہر صورت دستیاب ہوں، اور مہنگائی روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھلی کچہریوں میں درج ہونے والی تمام شکایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ خاص طور پر پینے کی پانی کی فراہمی، تعلیمی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بی ایس ڈی آئی سکیموں میں مذکورہ مسائل کے حل پر توجہ دیں۔
خبر نامہ نمبر2545/2026
کوئٹہ یکم اپریل:۔سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کی زیر صدارت پری فیبریکیشن کے حوالے سے وینڈرز کے ساتھ ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ کے اعلیٰ افسران نے بھرپور شرکت کی اجلاس میں چیف انجینئرز سپرنٹنڈنٹ انجینئرز اور ضلعی انجینئر افسران بھی شریک ہوئے اجلاس کے دوران مختلف وینڈرز نے دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید تعمیراتی مٹیریل LGS لاہیٹس گیج سٹیل سٹرکچر ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی وینڈرز نے پری فیبریکیشن کے فوائد لاگت میں کمی تیز رفتار تعمیرات اور معیار میں بہتری کے حوالے سے بھی جامع آگاہی فراہم کی LGS لاہیٹ گیج سٹیل سٹرکچر کو کہا جاتا ہے جو کہ جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی ہے اور تیزی سے دنیا میں استعمال ہورہی ہے یہ ایک ایسا سسٹم ہے جس میں مضبوط سٹیل کو فریم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں تعمیراتی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ اس جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے سے روایتی اینٹ اور کنکریٹ کے استعمال سے چھٹکارا حاصل ہوگا اور تعمیراتی منصوبوں کے مکمل ہونے میں بھی تیزی اور بہتری آئیگی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مذید کہا کہ جدید مٹیریل اور ٹیکنالوجی کو اپنانے سے نہ صرف تعمیراتی معیار بہتر ہوگا بلکہ وقت اور وسائل کی بھی بچت ممکن ہوگی انہوں نیکہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال پہلے مرحلے میں صوبے کے ستائیس اضلاع میں شروع کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار رکھا جائے اس سلسلے میں دستیاب تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابرخان نیاس عزم کا اظہار کیا کہ جدید تعمیراتی طریقہ کارخصوصاً پری فیبریکیشن ٹیکنالوجی LGSکو فروغ دے کر انفراسٹرکچر کے شعبے میں جدت اور بہتری لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر2546/2026
نصیرآبادیکم اپریل:۔کمشنر نصیر آباد ڈویژن و چیئرمین ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت محکمہ صحت کی آسامیوں کو پُر کرنے کا عمل دوسرے روز بھی جاری رہا کمیٹی کے ممبران ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ر ذوالفقار علی کرار ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر عبد المنان لاکٹی ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی کے روبرو لیڈی میڈیکل آفیسرز اور اسٹاف نرس پیش ہوئے اور کمیٹی کے ممبران نے ان کے ڈاکومنٹس چیک کیئے نصیرآباد ڈویژن میں 31 لیڈی میڈیکل آفیسرز جن میں نصیر آباد 16 جعفرآباد 5 اوستا محمد 3 صحبت پور 2 اور جھل مگسی 5 کے لیے امیدواران نے حصہ لیا جبکہ اسٹاف نرس میل فیمیل میں ڈویژن بھر کے لیئے 18 نشستیں ہیں جن میں نصیرآباد 1 جعفرآباد 5 صحبت پور 9 جھل مگسی 1 کچھی 2 امیدواران نے بڑی تعداد میں حصہ لیا اور کمیٹی نے تمام امیدواران سے انٹرویوز کیئے اس موقع پر کمشنر نصیر آباد ڈویژن و چیئرمین ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ محکمہ صحت میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ قابل اور اہل امیدواروں کا انتخاب ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری ہماری اولین ترجیح ہے اور لیڈی میڈیکل آفیسرز اور نرسنگ اسٹاف کی تعیناتی سے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی انہوں نے مزید کہا کہ دیہی و دور دراز علاقوں میں بھی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر شہری کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میرٹ پر بھرتیوں کے ذریعے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر2547/2026
کچھی یکم اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران کی زیر صدارت فلڈ رین ایمرجنسی کے حوالے سے ضلعی آفیسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس، ایجوکیشن، ایریگیشن، ہیلتھ، مواصلات و تعمیرات، زرعی انجینئرنگ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی، اجلاس کے دوران ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پیشگی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس موقع پر مختلف محکموں کی جانب سے اپنی تیاریوں اور ہنگامی منصوبہ بندی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، ڈپٹی کمشنر ممتاز علی کھیتران نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ بارشوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے مکمل طور پر الرٹ رہیں اور باہمی رابطے کو مؤثر بنایا جائے، انہوں نے ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھا جائے، مشینری اور عملہ ہمہ وقت تیار رہے جبکہ حساس علاقوں کی نشاندہی کرکے وہاں پیشگی اقدامات یقینی بنائے جائیں، ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے کنٹرول رومز کو فعال رکھا جائے اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے، اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔
خبر نامہ نمبر2548/2026
ہرنائی یکم اپریل:۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے عوامی وژن اور پی ڈی ایم اے کی ہدایات کی روشنی میں، ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے بابو محلہ میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے متاثرہ خاندان کی داد رسی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے ہیں۔ انتظامیہ نے نہ صرف جائے وقوعہ کا معائنہ کیا بلکہ متاثرین کو راشن، ٹینٹ اور دیگر ضروری سامان فراہم کر کے حکومتی سطح پر مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ضلع ہرنائی میں حالیہ موسمی صورتحال اور شدید بارشوں کے نتیجے میں بابو محلہ میں ایک رہائشی مکان کے کمرے کی چھت گر گئی، جس سے غریب خاندان کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی خصوصی ہدایت پر آفس سپرنٹنڈنٹ اور آفس کلرک نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا۔انتظامی افسران نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور انہیں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے فراہم کردہ امدادی پیکج، جس میں اشیائے خوردونوش (راشن)، ٹینٹ، بسترے اور روزمرہ استعمال کا دیگر گھریلو سامان شامل تھا، ان کی دہلیز پر پہنچایا۔ اس موقع پر افسران کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور نقصانات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔متاثرہ خاندان نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس بروقت کارروائی اور ہمدردی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمشنر سبی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ہرنائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اس فوری امداد نے ان کی مشکل کو آسان کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ انتظامیہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
خبر نامہ نمبر2549/2026
جعفرآبادیکم اپریل:۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی جانب سے پی ٹی ایس ایم سی میں اضافی اسکول کمروں کی تعمیر کے لیے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی سمیت متعلقہ افسران اور پی ٹی ایس ایم سی کے نمائندگان بھی موجود تھے، تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر خالد خان نے تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اضافی کمروں کی تعمیر سے طلبہ کو درپیش تدریسی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی اور انہیں بہتر تعلیمی ماحول میسر ہوگا، انہوں نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام بروقت اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ اس کے ثمرات جلد از جلد طلبہ تک پہنچ سکیں، تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری سے نہ صرف داخلہ مہم کو فروغ ملے گا بلکہ بچوں کی حاضری اور کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا، تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی ترقی کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر2450/2026
کوئٹہ یکم اپریل:۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بلوچستان کے زیرِ اہتمام عید ملن پارٹی اور بار روم کی تزئین و آرائش کی افتتاحی تقریب ہائی کورٹ کے بار روم میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل، بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہا کہ صوبے میں عدالتی نظام کی بہتری، وکلاء کی فلاح و بہبود اور عدالتوں کی سیکیورٹی عدلیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں 8 اگست 2016 کے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ میں شہید ہونے والے وکلاء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور وکلاء برادری کی جدوجہد اور قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشے میں محنت، دیانت اور مہارت کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ ایک قابل اور باصلاحیت وکیل ہی مستقبل میں ایک مضبوط اور مؤثر عدالتی نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینچ اور بار کے درمیان باہمی احترام اور مضبوط تعلق انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور ان کا بار کے ساتھ ذاتی اور پیشہ ورانہ تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے۔چیف جسٹس کامران خان ملاخیل نے مزید بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں سیشن کورٹس کی مرمت، جدید سیکیورٹی نظام کی تنصیب، عدالتوں کو سولر توانائی پر منتقل کرنے، ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام اور وکلاء کے لیے تربیتی پروگرامز سمیت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔تقریب سے صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن عطاء اللہ لانگو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے معزز چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان کا بار روم آمد اور عید ملن تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور عدالتی اصلاحات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے صوبے میں انصاف کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر ہوگا۔
خبر نامہ نمبر2451/2026
نصیرآبادیکم اپریل: کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کے احکامات کی روشنی میں عوام اور مسافروں کے وسیع تر مفاد میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ کی زیر نگرانی قومی شاہراہ پٹ فیڈر پل کے قریب تجاوزات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن آپریشن کیا گیا، آپریشن کے دوران سڑک کے اطراف قائم غیر قانونی تجاوزات، دکانوں کے سامنے لگائے گئے چھپرے، اسٹالز اور دیگر رکاوٹیں ہیوی مشینری کے ذریعے مسمار کر دی گئیں جبکہ کئی غیر قانونی تعمیرات کو بھی زمین بوس کر دیا گیا، اس موقع پر انتظامیہ کے ہمراہ پولیس کی نفری بھی موجود تھی تاکہ کارروائی کو پرامن اور مؤثر بنایا جا سکے، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے موقع پر موجود دکانداروں اور افراد کو سختی سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اراضی پر کسی قسم کی تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور آئندہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی تھی جس کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس آپریشن کا مقصد شاہراہ کو کشادہ اور محفوظ بنانا ہے تاکہ عوام کو آمد و رفت میں سہولت میسر آ سکے، انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے آپریشنز کا سلسلہ بلا تفریق جاری رکھا جائے گا، اس موقع پر شہریوں نے انتظامیہ کے اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور شاہراہ پر سفر مزید محفوظ ہو جائے گا۔
خبر نامہ نمبر2452/2026
تربت یکم اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے غیر قانونی قبضوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کی سرکاری زمین اور سڑک کو قبضہ مافیا سے واگزار کروا لیا۔تفصیلات کے مطابق تربت کے علاقے سنگانی سر اور پرانا سول ہسپتال محلہ میں میونسپل کارپوریشن تربت کی اراضی اور عوامی سڑک پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرکے چاردیواری تعمیر کی گئی تھی۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تربت نے فوری کارروائی کا حکم دیا اور خود موقع پر پہنچ کر آپریشن کی نگرانی کی، جہاں چاردیواری کو مسمار کر دیا گیا۔کارروائی کے دوران زیرِ تربیت اسسٹنٹ کمشنرز نعمان منیر اور ماہ نور برکت بھی موجود تھے، جنہوں نے آپریشن میں حصہ لیا۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اراضی کو ناجائز تجاوزات سے پاک کرنا اور شہریوں کے لیے عوامی راستوں کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ضلعی انتظامیہ کیچ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سرکاری زمین پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا، اور مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر2453/2026
استامحمد01اپریل:۔جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں آج ڈسٹرکٹ پولیس استامحمد نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی شدہ ڈاٹسن اور متعدد موٹر سائیکلیں برآمد کر لیں ہیں تفصیلات کے مطابق 29 مارچ 2026 کو استامحمد کے رہائشی راشد علی ولد جمعہ خان سے موجواہ کے قریب نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر سبزی سے لوڈ ڈاٹسن اور موبائل فونز چھین لیے تھے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی اوستامحمد، حافظ معاذ الرحمٰن نے فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس میں ڈی ایس پی اُستامحمد محمد داؤد کھوسہ، ایس ایچ او سٹی ندیم احمد بہرانی، انچارج 15 مددگار آصف علی سیال اور ہیڈ کانسٹیبل شاہنواز کھوسہ شامل تھے۔ ٹیم نے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر ریڈز اور سرچ آپریشنز کا آغاز کیا کارروائیوں کے دوران ایک شرپسند کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے پابندِ سلاسل کیا گیا اسی دوران ڈاکوؤں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد عید سے قبل غلام حسین سے چھینی گئی موٹر سائیکل CD-70 برآمد کر لی گئی ان کے علاوہ غلام اللہ محمد شاہی سے چھینی گئی موٹر سائیکل اور دو موبائل فونز سمیت برآمد کر لی گئی ایک اہم ٹارگٹڈ ریڈ کے دوران ڈکیتی شدہ ڈاٹسن بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لی مزید یہ کہ کارروائی کے دوران ملزمان اپنے زیرِ استعمال دو موٹر سائیکلیں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جن کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں ایس پی اُستامحمد حافظ معاذ الرحمٰن نے اس موقع پر عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ استامحمد کو جرائم سے پاک ضلع بنانا ہماری اولین ترجیح ہے کسی بھی مجرم کو ہرگز رعایت نہیں دی جائے گی۔ جرائم پیشہ عناصر یا تو قانون کی گرفت میں آئیں گے یا ضلع چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اس کامیاب کارروائی پر عوامی حلقوں نے پولیس کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی کو سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس نے کم وقت میں ڈکیتی شدہ گاڑی اور موٹر سائیکلیں برآمد کر کے عوام کا اعتماد بحال کیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی سخت اور مسلسل کارروائیوں سے استامحمد کو جرائم سے پاک بنانے کا خواب ضرور شرمند تعبیر ہوگا
خبر نامہ نمبر2454/2026
گوادریکم اپریل:۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، مکران تا کراچی روٹ پر چلنے والی بس کمپنیوں کے مالکان اور ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے خاتمے کے بعد گزشتہ 21 دنوں سے ٹرائل بنیادوں پر ٹرانسپورٹ نظام کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف امور میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ہنگول اور نلینٹ کے علاقوں میں درپیش مسائل کو سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے کامیابی سے حل کرنے کا ذکر کیا۔ٹرانسپورٹرز اور یونین نمائندگان نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ مکران تا کراچی روٹ پر اس وقت 477 بسیں فعال ہیں، جن کے ذریعے مقامی مسافروں کے ساتھ ساتھ زائرین بھی سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بعض چیک پوسٹس پر چیکنگ کے دوران تاخیر اور مسافروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کیے، تاہم گزشتہ تین ہفتوں کے دوران صورتحال میں واضح بہتری کا اعتراف بھی کیا۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام بسوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد حتمی لائحہ عمل طے کرے گی تاکہ شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے چیک پوسٹس پر غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ مسافروں کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹرز نے رات کے اوقات میں سفری سہولت کی بحالی کی درخواست بھی پیش کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ صرف مقامی مسافروں کو سفر کی اجازت دیں گے، جبکہ کسی بھی غیر مقامی مسافر کی موجودگی کی صورت میں مکمل ذمہ داری متعلقہ بس مالک پر عائد ہوگی اور سیکیورٹی اداروں کے فیصلوں کا مکمل احترام کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر ٹرانسپورٹرز نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور مثبت حکمت عملی کے ذریعے باقی ماندہ مسائل بھی جلد حل کر لیے جائیں گے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بھی معیاری اور سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
خبر نامہ نمبر2455/2026
گوادر01اپر یل:۔برطانیہ میں مقیم معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نعیم الرحمٰن خان، جو پاکستانی نژاد اور بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں، نے آج جی ڈی اے پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال زیر انتظام انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک میں ایک روزہ مفت نفسیاتی میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔ یہ فری میڈیکل کیمپ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے، معین الرحمٰن کی خصوصی ہدایت اور دلچسپی کے باعث منعقد کیا گیا، جسے عوامی حلقوں نے بے حد سراہا۔یہ کیمپ شہریوں کو دماغی صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے، ڈپریشن، بے چینی، نیند کی کمی، نشے کے عادی افراد اور دیگر نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کی بروقت تشخیص اور علاج یقینی بنانے کے لیے منعقد کیا گیا۔ کیمپ میں شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں مردوں، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ کیمپ کے دوران تقریباً 50 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا گیا، جہاں انہیں مفت طبی معائنہ، ماہرانہ مشاورت، علاج معالجہ اور ادویات سمیت دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔اس موقع پر ہیڈ آف کیمپس ڈاکٹر عفان فائق زادہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دماغی امراض کو معاشرے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے مزید اس طرح کے میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا جائے گا۔لوگوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے کیمپ علاقے میں صحت عامہ کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے انتہائی مفید ہیں، اور خواہش ظاہر کی کہ ایسے میڈیکل کیمپ مستقبل میں بھی منعقد کیے جائیں۔
خبر نامہ نمبر2456/2026
کوئٹہ یکم اپریل:۔ عدالت عالیہ بلوچستان کی جانب سے صوبہ بھر کی ضلعی عدلیہ میں وسیع پیمانے پر تبادلے اور تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ یہ احکامات معزز چیف جسٹس کی منظوری سے جاری کیے گئے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف اضلاع میں خدمات انجام دینے والے متعدد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز (AD&SJ) کو صوبے کے مختلف اضلاع میں تبدیل یا نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ظفر جان، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشکی سے تبادلہ کر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج موسی خیل، زیب الرحمٰن، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج موسی خیل سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قلعہ سیف اللہ محمد انور سمالانی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پنجگور سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واشک بمقام بسیمہ بشیر احمد بادینی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واشک بمقام بسیمہ سے پنجگور
اللہ داد روشن،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چمن
رحیم داد خان خلجی
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشین سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئیٹہ
نذیر احمد خجک،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج استہ محمد سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لورالائی
جعفر خان مینگل،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چمن سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج استا محمد شجاع الدین، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ژوب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیرا مراد جمالی نجیب اللہ خان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیرا مراد جمالی سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ژوب طاہر ہمایوں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قلعہ سیف اللہ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی محمد امجد دشتی،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چاغی بمقام دالبندین سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشکی
عبدالقیوم دہوار،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چاغی بمقام دالبندین
عبدالصبور مینگل،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہرنائی سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حب
ریاض احمد کاسی،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشین
عمران صدیق،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لورلائی سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہرنائی
پزیر احمد بلوچ، اسپیشل جج اینٹی کرپشن بلوچستان سے
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خضدار
نجیب اللہ کاکڑ،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خضدار سے سپیشل جج اینٹی کرپشن بلوچستان
شکیل احمد پلال ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سنجاوی سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لورلائی
عبدالباسط رئیس، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاریزات سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حب
جہانزیب، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مسلم باغ
محمد اقبال خلجی،
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دکی سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئیٹہ
دوست محمد مندوخیل،
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دکی
عاطف فیضان،
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مستونگ سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ
ظہور احمد،
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوتھل
محمد یوسف کو نصیرآباد میں تعینات کرتے ہوئے ڈیرہ مراد جمالی میں ذمہ داریاں دی گئی ہیں جبکہ ضیاء الرحمن کو کوئٹہ سے تبادلہ کر کے زوب میں تعینات کیا گیا ہے۔ اسی طرح شازیہ شبیر کو ڈسٹرکٹ کورٹ سریاب سے تبادلہ کر کے کوئٹہ تعینات کیا گیا جبکہ اسمہ مشتاق کو پشین سے تبادلہ کر کے ڈسٹرکٹ کورٹ سریاب میں تعینات کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق محمد اشرف بلوچ کو تربت سے نصیرآباد تعینات کیا گیا ہے جبکہ عبدالقادر کو کوئٹہ سے تربت بھیج دیا گیا ہے۔ اسی طرح تصور نوید کو مسلم باغ سے تبادلہ کر کے کوئٹہ میں تعینات کیا گیا ہے جبکہ عبدالمقیت کو ژوب سے تبادلہ کر کے کوئٹہ تعینات کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نثار حسین کو دالبندین سے کر کے کوئٹہ میں تعینات کیا گیا۔جبکہ طارق علی لاشاری کا کوئٹہ سے تبادلہ کر کے مستونگ تعینات کیا گیا ہے۔ رمضان اببکی کو بلوچستان ہائی کورٹ میں اے ایم آئی ٹی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ محمد اشرف بازئی کو ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمنسٹریشن کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت AD&SJ کاریزات (خانو زئی) کا اضافی چارج AD&SJ مسلم باغ کے پاس ہوگا جبکہ عدالت AD&SJ سنجاوی کا اضافی چارج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیارت کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایڈیشنل رجسٹرار
ایڈ منسٹریشن کا اضافی چارج بھی محمد اشرف بازئی کو سونپا گیا ہے۔
رجسٹرار ہائی کورٹ کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ تمام تبادلہ ہونے والے افسران سات دن کے اندر اپنی حالیہ جائے تعیناتی سے اپنی خدمات چھوڑ کر نئی جائے تعیناتی کے جگہ پر رپورٹکریں تاکہ نوٹیفکیشن پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر2457/2026
گوادریکم اپریل: ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مراکز صحت (BHU) گھٹی ڈور اور شادوبند کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور فراہم کی جانے والی خدمات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مرشد دشتی نے دونوں مراکز میں اسٹاف کی حاضری کو چیک کیا اور او پی ڈی ریکارڈ کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ماں اور بچے کی صحت (MCH) مراکز اور حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) سائٹس کا بھی معائنہ کیا تاکہ عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی صحت سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ڈسٹرکٹ منیجر نے مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ادویات بھی فراہم کیں اور عملے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی خدمات میں مزید بہتری لاتے ہوئے مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی پی ایچ آئی کے تحت تمام بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کی بہتری، ادویات کی بروقت فراہمی اور عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر2458/2026
گوادریکم اپریل:اسپیشل سیکریٹری محکمہ صحت شیہک شہداد اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کی روشنی میں میڈیکل سپرنٹینڈنٹ میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے ڈینگی کے مریضوں کی بروقت اور مؤثر تشخیص کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ڈینگی ٹیسٹنگ کٹس خرید کر لیبارٹری کے حوالے کر دیں۔اس موقع پر ڈاکٹر حفیظ بلوچ کا کہنا تھا کہ عوام کو معیاری اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینگی جیسے مہلک مرض کی بروقت تشخیص نہایت ضروری ہے، جس کے لیے جدید تشخیصی کٹس کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال انتظامیہ ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ لیبارٹری کو درکار سہولیات کی فراہمی کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اس اقدام کو عوامی حلقوں نے سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ڈینگی کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے مثبت اثرات عوامی صحت پر مرتب ہوں گے۔
خبر نامہ نمبر2459/2026
کوہلو01 اپریل۔محکمہ تعلیم کوہلو کے زیر اہتمام جاری داخلہ مہم کے سلسلے میں اوریانی کے علاقے میں ایک بھرپور آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیمی افسران، اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کا مقصد بچوں کے اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنانا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا تھا۔ ریلی کی قیادت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جعفر خان زرکون، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل) حفیظ اللہ مری، ڈسٹرکٹ سپروائزر بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن محمد یوسف، اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم بہرام خان کالکانی نے کی۔ ریلی کے دوران علاقے کے لوگوں کو اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کی ترغیب دی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوہلو جعفر خان زرکون، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل کوہلو حفیظ اللہ مری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور معاشرے کی ترقی کے لیے تعلیم کا فروغ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو باقاعدگی سے اسکول بھیجیں تاکہ وہ ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کے تحت ضلع بھر میں 2700 اسکولوں سے باہر بچوں کو داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے خصوصی اقدامات اور آگاہی مہمات جاری ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔ تعلیمی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور دور دراز علاقوں تک بھی تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ریلی میں مختلف اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز، اساتذہ، والدین اور طلبہ نے جوش و خروش سے شرکت کی اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیم کی افادیت اور بچوں کو اسکول بھیجنے سے متعلق پیغامات درج تھے۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء نے تعلیم کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کا عہد کیا۔۔
خبر نامہ نمبر2460/2026
گوادر:یکم اپریل:منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی لفٹنٹ جنرل(ریٹائرڈ) حسن اظہر حیات نے گوادر میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت جاری قدیم ثقافتی ورثہ جات کی بحالی کے منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری کام کا جائزہ لیا۔اس موقع پر جنرل آفیسر کمانڈنگ اسپشل سیکورٹی ڈویژن میجر جنرل حبیب نواز، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان، بریگیڈیئر فیصل شبیر، چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر جی ڈی اے کاشف قاضی نے منیجنگ ڈائریکٹر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جی ڈی اے گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت نہ صرف شہر کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی پر کام کر رہی ہے بلکہ قدیم ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لیے بھی ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تقریباً 312 ملین روپے کی لاگت سے متعدد تاریخی مقامات کی بحالی کا منصوبہ جاری ہے، جن میں انڈو-یورپین ٹیلی گراف آفس، چارپادگو ریسٹ ہاؤس، پرتگالی واچ ٹاور، عمانی واچ ٹاور اور دیگر اہم تاریخی مقامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں سے بعض تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے بتایا کہ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد گوادر کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانا، آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا اور شہر میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، تاکہ گوادر نہ صرف ایک جدید اقتصادی مرکز بلکہ ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر بھی ابھر سکے۔منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی نے اس موقع پر جی ڈی اے کی جانب سے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے قومی شناخت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔
خبر نامہ نمبر2461/2026
تربت یکم اپریل یونیورسٹی آف تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی خصوصی ہدایت پر یونیورسٹی آف تربت میں مختصر پیشہ ورانہ آئی ٹی سرٹیفکیٹ کورسز کا آغاز آئی ٹی کے ماہر انسٹرکٹرز کی زیر نگرانی 13 اپریل 2026 سے کیا جا رہا ہے۔ترجمان تربت یونیورسٹی کے مطابق یہ کورسز یونیورسٹی کے سٹی کیمپس، شعبہ لاء میں منعقد ہوں گے۔ان کورسز میں درخواست جمع کرنے والے امیدواروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنا فیس چالان یونیورسٹی آف تربت کے مین کیمپس میں ایڈمیشن سیل کے فنانس سیکشن یا یونیورسٹی کے سٹی کیمپس شعبہ لاء سے حاصل کریں اور اسے حبیب بینک لمیٹڈ کی یونیورسٹی برانچ یا مین برانچ تربت میں جمع کروا کر اپنے منتخب کورس میں داخلہ یقینی بنائیں۔ فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
0852-400561 / 03248250870
خبر نامہ نمبر2463/2026
لاہور یکم اپریل۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی لاہور میں ”بینظیر ایمبولینٹری سروس فار ایمرجنسیز“ کے باوقار آغاز کی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ تھے۔ تقریب میں صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق، ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز اکیڈمی لاہور ڈاکٹر رضوان نصیر، سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب پانزئی، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 بلوچستان ذوالفقار جتوئی، ریسکیورز اور متعلقہ اداروں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر صحت بلوچستان نے اس اہم اقدام کو بین الصوبائی تعاون، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوام کو بروقت طبی امداد کی فراہمی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق اور ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز اکیڈمی ڈاکٹر رضوان نصیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خصوصی توجہ اور کاوشوں کے باعث بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ریسکیورز اور طبی شعبے سے وابستہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق معیاری اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیت بلوچستان میں ایمرجنسی طبی خدمات کے نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور عوام کو حادثات اور ہنگامی حالات میں فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صحت کے نظام میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پاک فوج، پولیس اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ ادارے مشکل ترین حالات میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم اور قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی دشمن کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔تقریب کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والی طالبات کی نمایاں کارکردگی کو خصوصی طور پر سراہا گیا جنہوں نے پہلی مرتبہ اس نوعیت کی پیشہ ورانہ تربیت میں حصہ لیا۔ تربیتی کورس کے دوران ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی جس پر وزیر صحت نے اسے مبارکباد پیش کی اور تربیت مکمل کرنے والی تمام طالبات کے لیے فی کس ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی بلوچستان کی بچیوں کی صلاحیتوں، عزم اور قابلیت کا مظہر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں خواتین اور بچیوں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ وہ خودمختار بن کر اپنے خاندانوں اور صوبے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے یہ تعمیری مواقع نوجوان نسل کے لیے ایک روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں اور معاشرے میں امید، شعور اور استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 51 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں حاضری کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پچاس فیصد سے زائد حاضری یقینی بنائی جا چکی ہے جبکہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی فراہمی اور نگرانی کے لیے جدید ٹریکنگ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ مریضوں کو بروقت ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ بلوچستان میں بین الاقوامی معیار کا جدید ٹراما سینٹر مکمل کر لیا گیا ہے جس کا باقاعدہ افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کا افتتاح بھی عنقریب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے تاکہ صوبے کے عوام کو دل کے امراض کے علاج کے لیے دیگر صوبوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تمام ریسکیورز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس جدید تربیت کے حصول کے بعد ان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جا کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تربیت یافتہ ریسکیورز صوبے میں ایمرجنسی طبی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خبر نامہ نمبر2464/2026
لورالائی ایکم اپریل: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت ضلعی انتظامیہ لورالائی متحرک ہوگئی۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے حالیہ بارشوں کے پیش نظر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف ڈیموں اور ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔انتظامی ٹیم نے وریاگی ڈیم، تورخیزی ڈیم، شیخان ڈیم اور پٹھانکوٹ ڈیم سمیت دیگر اہم آبی ذخائر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بی اینڈ آر روڈ محمد داؤد خان اور ایس ڈی او ایریگیشن اکرام اللہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حکام نے کلی باور میں PSDP صوبائی فنڈز سے تعمیر ہونے والی سڑک کا بھی جائزہ لیا اور کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ایس ڈی او ایریگیشن اکرام اللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے باوجود تمام ڈیم محفوظ ہیں اور ان کے سپل ویز مکمل طور پر فعال ہیں، جن کے ذریعے اضافی پانی کا اخراج جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ عملہ الرٹ ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ڈیموں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے اور ہنگامی پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، نشیبی علاقوں کے لیے الرٹ جاری دریں اثناء ضلعی انتظامیہ نے لورالائی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے، جو چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ بھاری مشینری بھی حساس مقامات پر منتقل کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ضلعی حکام کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
خبر نامہ نمبر2465/2026
ضلع چمن یکم اپریل:۔حالیہ طوفانی بارشوں سے چمن روغانی کے علاقے کلی حاجی فضل باری کے رہائشی حاجی محمد کریم کے گھر کی چار دیواری گرنے اور املاک کو نقصان پہنچنے کے بعد ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے فوری طور پر متاثرہ خاندان کیلئے کی مدد کیلئے عملی اقدامات اٹھائے خیمے کمبل گیس سلنڈر کھانے پینے کے اجناس پہنچا دئیے گئے ڈی سی چمن کی احکامات پر نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے PDMA کے تعاون سے متاثرہ شخص کو ہنگامی بنیادوں پر خیمہ، راشن، گیس سلنڈر اور دیگر ضروری گھریلو برتن فراہم کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر چمن نے کہا کہ مشکل وقت میں عوام اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور مشکل کی گھڑی میں ضلعی انتظامیہ ہر ممکن مدد کی فراہمی کو یقینی بنائے گی






