خبر نامہ نمبر8703/2026
بارکھان، 8 اکتوبر: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوام کو معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تسلسل میں ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان اور ڈی ایچ او آفس کے لیے ادویات اور ضروری طبی سامان کی مکمل کھیپ پہنچا دی گئی ہے۔ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر مہر دین کھیتران کی خصوصی کاوشوں اور متعلقہ حکام سے موثر رابطوں کے نتیجے میں ادویات اور طبی سامان کی کھیپ مزدا گاڑی کے ذریعے بارکھان پہنچائی گئی، جس میں ہسپتال کی ضروریات کے مطابق مختلف ادویات اور بنیادی طبی سامان شامل ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان میں بعض ضروری طبی سامان، بالخصوص کینولا سمیت دیگر بنیادی اشیاء کی کمی کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا تھا۔ ادویات اور طبی سامان کی موجودہ کھیپ کی فراہمی سے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں کو علاج معالجے کے دوران درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔ادویات کی بروقت دستیابی سے ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور پیرا میڈیکل عملے کو بھی مریضوں کی بہتر طبی نگہداشت اور علاج معالجے میں سہولت میسر آئے گی، جبکہ دور دراز علاقوں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال آنے والے غریب اور مستحق مریضوں کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی مزید بہتر ہوگی۔حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور ضروری طبی سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاکہ عوام کو صحت کی سہولیات کے حصول میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان کے لیے ادویات اور طبی سامان کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر مہر دین کھیتران کی کاوشوں کو سراہا ہے اور اس امر پر زور دیا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں ادویات اور ضروری طبی سامان کی فراہمی کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8704/2026
کوئٹہ 8 اکتوبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فون کالز، آن لائن پورٹلز اور ای میلز کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور شکایات کے اندراج، کارروائی اور بروقت ازالے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ٹیکس دہندگان کو رجسٹریشن، انرولمنٹ، ریٹرن فائلنگ اور دیگر ٹیکس امور سے متعلق فراہم کی جانے والی رہنمائی اور معاونت پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ٹیکس دہندگان کے مسائل اور شکایات کو موثر انداز میں حل کرتے ہوئے انہیں ٹیکس سے متعلق معاملات میں بروقت رہنمائی فراہم کی جائے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت اس کی ترجیحات میں شامل ہے اور BRA ٹیکس دہندگان کو رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، شکایات کے ازالے اور دیگر ٹیکس امور میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن طور پر دستیاب ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8705/2025
کوئٹہ 8 اکتوبر۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے افسران اور متعلقہ عملے کی استعدادِ کار میں اضافے اور عملی رہنمائی کے لیے اکاونٹس، ٹیکسیشن اور آئی ٹی آپریشنز کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی سیشن منعقد کیا گیا۔تربیتی سیشن میں SAP ڈیٹا، ٹیکس دہندگان کو متعلقہ قوانین و قواعد کے تحت نوٹسز کا اجرا، ڈیسک آڈٹ، شارٹ پیمنٹس، اسیسمنٹ آرڈرز، ان پٹ/آوٹ پٹ ٹیکس اور ٹیکس انفورسمنٹ کے مراحل کے حوالے سے عملی معلومات فراہم کی گئیں۔آئی ٹی سیشن میں رجسٹریشن کے عملی طریقہ کار، ریٹرن فائلنگ اور متعلقہ Annexures کے حوالے سے بھی شرکاء کو تربیت دی گئی۔ تربیتی سیشن میں AG آفس، ٹیکس ماہرین اور PRAL کے نمائندگان نے بطور ٹرینرز شرکت کی۔
BRA حکام کے مطابق تربیت کا مقصد متعلقہ افسران، انسپکٹرز، آڈیٹرز، ٹیکس فسیلیٹیشن افسران اور آئی ٹی ٹیم کی پیشہ ورانہ استعداد اور عملی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے، تاکہ ٹیکس انتظامیہ، ٹیکس دہندگان کی سہولت اور محصولات کی وصولی کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8706/2025
گوادر 08 اکتوبر۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع گوادر مقبول احمد بلوچ نے کہا ہے کہ ضلع گوادر میں محکمہ زراعت کے زیرِ اہتمام رجسٹرڈ کاشتکاروں میں بینظیر کسان کارڈ کی تقسیم اور بائیومیٹرک تصدیق کا عمل جاری ہے ان کا کہنا تھاکہ محکمہ زراعت میں پہلے سے رجسٹرڈ کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے حصول کے لیے فون کال کے ذریعے اطلاع دی جا رہی ہے، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق کے لیے پیغام موصول ہونے والے کاشتکار ضلع گوادر میں مقررہ HBL Konnect کی مجاز فرنچائزز سے اپنی بائیومیٹرک تصدیق مکمل کروائیں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت نے تمام رجسٹرڈ کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ ضروری دستاویزات کے ہمراہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی بائیومیٹرک تصدیق جلد مکمل کریں تاکہ وہ بینظیر کسان کارڈ کی سہولیات اور حکومتی زرعی معاونت سے بروقت مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
PRESS RELEASE
Exposure Visit And Awareness Session For Training Participants Of Balochistan Academy For College Teachers (BACT), Quetta Visit NAB Balochistan Complex, Quetta
Quetta: 06th October, 2026. A delegation of Trainee Participants of Balochistan Academy for College Teachers (BACT),Quetta) visited the NAB Complex, Quetta today as part of an awareness and orientation programme.
The delegation was warmly welcomed by Director Awareness & Prevention, Mr. Muhammad Saleem Ahmed and his team, on behalf of Director General NAB Balochistan.
During the visit, the participants were given a comprehensive briefing on the working of the National Accountability Bureau. The briefing covered NAB’s mandate under the National Accountability Ordinance (NAO) 1999, its three-pronged approach of Awareness, Prevention and Enforcement, the journey of a complaint from verification to reference, and recent legislative developments under the NAO.
The Deputy Director, Mr. Shoukat Sarpara, led the delegation to attend the awareness session. The delegation participated in the proceedings and highlighted the importance of promoting awareness regarding corruption prevention, transparency, integrity, and good governance among college teachers and students.
The session focused on creating awareness among college teachers regarding the causes and adverse effects of corruption, the importance of integrity and transparency in public institutions, and the role of lecturers in promoting ethical values and a culture of accountability in society. The speakers highlighted that lecturers, being influential members of society, can play an important role in educating the younger generation about honesty, integrity, responsibility, and intolerance towards corruption.
The participants actively participated in the session and expressed their interest in further promoting awareness regarding anti-corruption measures and ethical values among students.
The session concluded with a question-and-answer session, during which various questions raised by the participants were addressed.
At the conclusion of the ceremony, Director Awareness & Prevention, Mr. Muhammad Saleem Ahmed, presented a shield to Mr. Muhammad Shaukat Sarpara, Deputy Director. A group photo was also taken.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8707/2025
8 اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول استا محمد کی زیرِ تعمیر عمارت کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ مذکورہ تعلیمی منصوبہ پروجیکٹ ڈائریکٹر (پی ڈی) امان اللہ رند کی نگرانی میں تعمیر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد طلبہ کو بہتر، محفوظ اور جدید تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تعلیمی انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم بنانا ہےدورے کے موقع پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر طارق لاشاری اور پروجیکٹ ڈائریکٹر امان اللہ رند بھی موجود تھے پروجیکٹ ڈائریکٹر امان اللہ رند نے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کو منصوبے کے مختلف پہلووں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اب تک ہونے والی پیش رفت اور آئندہ کے مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیڈپٹی کمشنر نے زیرِ تعمیر عمارت کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی رفتار معیار استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کلاس رومز عمارت کے دیگر حصوں بنیادی سہولیات اور مجموعی تعمیراتی امور کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے بھی تفصیلات معلوم کیں اور تعمیراتی کام میں درپیش ممکنہ مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کیاس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے ہدایت کی کہ تعمیراتی منصوبے میں معیار اور پائیداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام منظور شدہ ڈیزائن مقررہ تکنیکی معیار اور متعلقہ محکمے کی وضع کردہ ہدایات کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ مستقبل میں طلبہ اور اساتذہ کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےانہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اس لیے استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کے معیار کام کی مضبوطی اور مقررہ اسپیسفکیشنز پر خصوصی توجہ دی جائے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کام کے ہر مرحلے میں معیار کو ملحوظ خاطر رکھا جائےڈپٹی کمشنر نے کہا کہ معیاری اور جدید تعلیمی عمارت کی تکمیل سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول، مناسب کلاس رومز اور ضروری بنیادی سہولیات میسر آئیں گی انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا بہتر انفراسٹرکچر طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور مجموعی شخصیت سازی کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول کی نئی عمارت استا محمد میں تعلیمی سہولیات کی بہتری اور تعلیمی معیار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور تعمیراتی کام کی رفتار کے ساتھ ساتھ معیار کو بھی برقرار رکھا جائے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ استا محمد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی جاری رکھے گی تاکہ عوامی مفاد کے منصوبے شفافیت معیار اور مقررہ مدت کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچائے جا سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8708/2025
سوراب8 اکتوبر۔ حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایف سی بلوچستان 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی، اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بلوچ سمیت تمام ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی افسران نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، تکمیل کی صورتحال اور نئی اسکیموں سے متعلق تفصیلات پیش کیں ڈپٹی کمشنر نے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور موثر سکیورٹی اقدامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8709/2025
قلات 8 اکتوبر ۔ ملک بھرکی طرع قلات میں بھی یوم نجات قومی جوش وجذبے کے ساتھ منایاجارہاہے ضلعی انتظامیہ کی زیرنگرانی یوم نجات کی مناسبت سے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس سے ریلی کا انعقاد کیاگیا۔ریلی کی قیادت تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی نے کی۔ریلی شاہی دربارروڈ ہربوئی روڈ عوشہر خیل اور دیگر شاہراوں سے ہوتے ہوئے واپس ڈی سی کمپلیکس پر اختتام پذیر ہوا۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں یوم نجات کے مناسبت سے بینرز اٹھائے ہوے تھے۔ریلی کے اختتام پر تحصیلدار قلات اور دیگر مقررین نے ریلی کے شرکاء سے یوم نجات کے مناسبت سے خطاب کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8710/2025
گوادر 08 اکتوبر ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال گوادر ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان کی گوادر صحتِ عامہ کی پالیسی اور مریضوں کو ان کی دہلیز پر معیاری و بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کے تحت اسپتال میں ڈائیلاسز سمیت دیگر ضروری طبی خدمات تسلسل کے ساتھ فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلاسز کی سہولت بلا تعطل جاری ہے اور مریضوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق طبی نگرانی میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق مریضوں کو علاج معالجے کے لیے کراچی یا دیگر دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے، اس مقصد کے لیے اسپتال میں ڈائیلاسز سروس کو فعال اور موثر رکھا گیا ہے۔ مریضوں کے علاج میں تسلسل، طبی نگرانی اور ضروری سہولیات کی دستیابی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ دستیاب وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات اور معیاری نگہداشت کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اور بروقت تشخیص، علاج اور مریضوں کی بہتر نگہداشت انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال گوادر میں صحت کی بنیادی اور ضروری سہولیات کی فراہمی کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8711/2025
8 اکتوبر نصیرآباد۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرِ صدارت ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں سال 2025 میں فیز ٹو کے تحت مختلف اضلاع میں تعینات کیے گئے ڈاکٹرز، اسٹاف نرسز اور دیگر طبی عملے کی کارکردگی، حاضری، جائے تعیناتی پر موجودگی اور فرائض کی انجام دہی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل، ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال، ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ سمیت محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران فیز ٹو کے تحت سال 2025 میں مختلف اضلاع کے ہسپتالوں اور مراکز صحت میں تعینات کیے گئے ڈاکٹرز اور اسٹاف نرسز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے کمشنر نصیرآباد ڈویڑن کو طبی عملے کی حاضری جائے تعیناتی پر موجودگی، فرائض کی انجام دہی اور مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس جائزے کا مقصد بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ڈاکٹرز اور اسٹاف نرسز کی مدتِ تعیناتی میں توسیع کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا تھااجلاس کے دوران ضلع نصیرآباد، جعفرآباد، استا محمد اور جھل مگسی کے ڈپٹی کمشنرز نے بعض ڈاکٹرز کی کارکردگی اور ان کی جائے تعیناتی پر موجودگی کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جس کے باعث متعلقہ ڈاکٹرز کی مدتِ تعیناتی میں توسیع فی الحال روک دی گئیکمشنر نصیرآباد نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں تعینات ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بہتر رہائشی سہولیات کی فراہمی کیلئے رہائشی عمارتوں کی نشاندہی کرکے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت ان کی مرمت تزئین و آرائش اور بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔کمشنر صلاح الدین نورزئی نے مزید کہا کہ نئے تعینات ہونے والے ڈاکٹرز کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہسپتالوں میں موجود مناسب عمارتوں یا سرکاری کوارٹرز کو بیچلر ہاسٹل کی طرز پر تیار کیا جائے، جہاں رہائش کے ساتھ بجلی، پانی، واش رومز اور دیگر ضروری سہولیات میسر ہوں اس اقدام کا مقصد ڈاکٹرز کو رہائش کے مسائل سے نجات دلانا اور انہیں اپنی جائے تعیناتی پر باقاعدگی سے موجود رہنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کر سکیںکمشنر نصیرآباد ڈویژن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صحت کے شعبے میں تعینات ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حاضری کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی یا جائے تعیناتی سے غیر حاضری کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8712/2025
تربت 8 اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کیچ اور محکمہ ایریگیشن نے میرانی ڈیم کمانڈ ایریا میں پانی کی غیر قانونی ترسیل اور پانی چوری کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی کنکشن منقطع کر دیے۔کارروائی نائب تحصیلدار دشت باہوٹ دشتی اور محکمہ ایریگیشن میرانی ڈیم کے شیر جان بلوچ کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی جس کے دوران میرانی ڈیم کمانڈ ایریا میں قائم غیر قانونی پانی کے کنکشنز اور پائپ لائنز کے خلاف کارروائی کی گئی غیر قانونی طور پر نصب پائپوں کو ہٹا کر تلف کر دیا گیا جبکہ پانی کی غیر قانونی ترسیل کے ذرائع بھی ختم کر دیے گئے۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے پانی چوری میں ملوث افراد کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی کنکشنز اور پانی کے غیر مجاز استعمال سے فوری طور پر گریز کریں بصورتِ دیگر قانون کے مطابق مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اس موقع پر واضح کیا کہ میرانی ڈیم اور اس کے کمانڈ ایریا میں پانی کے منصفانہ اور قانونی استعمال کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پانی چوری اور غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کا سلسلہ بلاامتیاز جاری رکھا جائے تاکہ دستیاب آبی وسائل سے تمام مستحق کاشتکاروں کو منصفانہ استفادہ حاصل ہو سکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری اور کاشتکاروں کو ان کے جائز حصے کا پانی فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ میرانی ڈیم کمانڈ ایریا میں پانی کی تقسیم کے نظام کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ پانی ایک قومی اور اجتماعی اثاثہ ہے اس کے غیر قانونی استعمال اور چوری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8713/2025
کوئٹہ 8اکتوبر ۔بلوچستان پولیس نے اپنے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے فلاح و بہبود کے لیے دو اہم معاہدوں پر دستخط کئے ہیں جن کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں سہولیات اور مالی رعایتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں بلوچستان پرائیویٹ ا سکولز ایسوسی ایشن اور کارپوریٹ ہیلتھ سروسز(CHS) کے ساتھ الگ الگ مفاہمتی یاداشتوں(MOU) پر دستخط کئے گئے بلوچستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن الائنس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت حاضر سروس اور وفات پا جانے والے ملازمین کے بچوں کو ٹیوشن فیس میں 30 فیصد رعایت دی جائے گی جبکہ پولیس شہداکے بچوں کے لیے ٹیوشن فیس مکمل طور پر معاف ہوگی۔اس کے علاوہ داخلہ فیس امتحانی فیس اور دیگر ادارہ جاتی اخراجات میں بھی خصوصی اضافی رعایتیں فراہم کی جائیں گی۔اس موقع پر ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر طاہر علاالدین نے کہا کہ اس شراکت داری کا مقصد پولیس اہلکاروں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنا اور پولیس خاندانوں کی تعلیمی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنا مقصود ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف پولیس اہلکاروں کے خدمات کے اعتراف کا عملی مظہر ہے بلکہ ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان پولیس اور کارپوریٹ ہیلتھ سروسز(CHS) کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی معیاری طبی سہولیات کے رعایتی نرخوں ،ریڈیالوجی اور دیگر تشخیصی ٹیسٹوں پر 40 فیصد تک رعایت دی جائے گی جبکہ (CHS) کے پینل میں شامل ہسپتالوں میں ہسپتال کے بلوں پر 10 فیصد تک رعایت حاصل ہوگی۔ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر طاہر علا الدین نے اس موقع پر کہا کہ نجی اسکولز ایسوسی ایشن اور کارپوریٹ ہیلتھ سروسز کے ساتھ ہونے والے یہ معاہدے بلوچستان پولیس کے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس اپنے اہلکاروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے معاہدے کے تحت پولیس اہلکاروں ان کے والدین اور خاندان کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈز بھی جاری کئے جائیں گے جن کے ذریعے مختلف طبی سہولیات تک آسان رسائی ممکن ہوگی اس کے علاوہ انہیں ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ کے تعاون سے مخصوص (CHS)مراکز پر ڈرگ اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کی سہولیات بھی فراہم کی جائے گی۔طبی سہولیات کے پیکج میں رعایتی او پی ڈی اور کنسلٹینٹ سروسز ، میڈیکل کیمپس ، ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکا جات ، فرسٹ ایڈ ٹریننگ ، ہنگامی طبی امداد اور فارمیسی سروسز پر خصوصی رعایتیں بھی شامل ہیں ا س اقدام کامقصد پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں پر علاج معالجے کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا اور انہیں بروقت معیاری اور قابل رسائی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے پولیس فورس کے اہلکاروں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کئے جانے والے ان اقدامات کو بلوچستان پولیس اور ان کے خاندانوں کے لئے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے جوکہ ان کی سماجی ومعاشی بہبود میں مثبت کردار اد ا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8714/2025
08اکتوبر نصیرآباد۔ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ اور چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی کے احکامات کی روشنی میں سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے ایگزیکٹو انجینئر کچھی کینال الٰہی بخش گاجانی کے ہمراہ کچھی کینال فیز ون کا تفصیلی دورہ کیا، واپڈا حکام کے مطابق کچھی کینال فیز ون کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور آر ڈی 1183 سے آر ڈی 1319 تک کینال کا حصہ محکمہ ایریگیشن بلوچستان کے حوالے کیا جانا ہے، معائنے کے دوران کینال کی مختلف مقامات پر نقائص کی نشاندہی کی گئی جس پر متعلقہ حکام کو مرمتی کام فوری اور معیاری بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، واپڈا کے سپرنٹنڈنگ انجینئر وحید حسین شیخ نے منصوبے کے تعمیراتی مراحل اور پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی، اس موقع پر مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ کچھی کینال فیز ون بلوچستان کے پسماندہ اور زرعی علاقوں کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، کینال میں پانی کی باقاعدہ فراہمی سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرنے میں مدد ملے گی، بنجر اور غیر آباد زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے مواقع پیدا ہوں گے مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کسانوں کے وسیع تر مفاد میں نہری نظام کی بہتری اور پانی کی منصفانہ فراہمی کے لیے عملی اقدامات کررہا ہے، کچھی کینال فیز ون میں پانی کی فراہمی سے کاشتکاروں کو زرعی مقاصد میں درپیش مشکلات کا ازالہ ہوگا اور علاقے میں ترقی و خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گےجبکہ کسانوں کو نہری پانی کی دستیابی سے ٹیوب ویلوں اور دیگر مہنگے ذرائع آبپاشی پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، منصوبے سے گندم، گنے، کپاس، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے جس سے نہ صرف کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، زرعی سرگرمیوں کے فروغ سے مقامی منڈیوں، کاروبار، لائیو اسٹاک اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی، کچھی کینال بلوچستان میں زرعی انقلاب کی بنیاد بننے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے،
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8715/2025
لسبیلہ08 اکتوبرکمشنر۔ لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے ڈویژنل ہیڈکوارٹر اوتھل میں قائم کمشنر لسبیلہ ڈویژن کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح اپنے دستِ مبارک سے کردیا۔ اس موقع پر سرکاری افسران، عمائدین علاقہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا کہ ڈویڑنل ہیڈکوارٹر اوتھل میں کمشنر آفس کا قیام اور اس کا باقاعدہ فعال ہونا علاقے کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے۔ انتظامی ڈویژن کا قیام اور یہاں پر انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی سے عوام کو سرکاری امور کے سلسلے میں سہولیات میسر آئیں گی اور انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن کے عوام کو بہتر انتظامی سہولیات کی فراہمی، گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ کمشنر آفس کے فعال ہونے سے ڈویژن کے مختلف اضلاع کے درمیان انتظامی رابطہ مزید موثر ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، عوامی فلاح و بہبود اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں بھی بہتری آئے گی۔کمشنر سائرہ عطاء نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے انتظامی نظام کو موثر اور عوام دوست بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے عوامی مسائل کے حل اور انتظامی امور کو نچلی سطح تک موثر انداز میں پہنچانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن کا انتظامی ہیڈکوارٹر اوتھل میں فعال ہونا علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے اور اس سے نہ صرف انتظامی امور میں تیزی آئے گی بلکہ عوام کو سرکاری اداروں تک رسائی میں بھی آسانی ہوگی۔اس موقع پر موجود علاقہ مکینوں اور عمائدین نے لسبیلہ ڈویژن کے انتظامی ڈھانچے کو فعال بنانے اور اوتھل میں کمشنر آفس کے قیام پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، وفاقی وزیر جام کمال خان اور صوبائی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ ڈویژن کا انتظامی نظام مقامی سطح پر مضبوط کیا جائے اور کمشنر آفس کو فعال بنایا جائے۔ آج اس مطالبے کی تکمیل سے علاقے کے عوام میں خوشی اور اطمینان پایا جاتا ہے۔عمائدین نے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، صنعتی سرگرمیوں اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے بلوچستان کا ایک اہم خطہ ہے، اس لیے یہاں مضبوط اور موثر انتظامی نظام کے قیام سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ لسبیلہ ڈویژن ان شاء اللہ بلوچستان میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا، جبکہ موثر انتظامی نگرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور گڈ گورننس کے ذریعے علاقے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے گا۔علاقہ مکینوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر علاقے کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور امن و استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8716/2025
گوادر 08 اکتوبر۔ محکمہ پولیس میں میرٹ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گوادر ایس ایس پی عطاالرحمان خان کی نگرانی میں پولیس کانسٹیبلوں کی پروموشن کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا عمل جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع گوادر میں پولیس کانسٹیبلوں کی پروموشن کے لیے 24 ستمبر 2026 کو امتحان منعقد کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس کے کانسٹیبلز، CHP کانسٹیبلز اور سابق لیویز کانسٹیبلز سمیت مجموعی طور پر 278 امیدواروں نے حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن کرائی۔ امتحان میں 227 امیدوار شریک ہوئے جبکہ 51 امیدوار غیر حاضر رہے۔
امتحان کے نتائج کے مطابق 198 امیدوار کامیاب جبکہ 29 امیدوار ناکام قرار پائے۔ کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز کا سلسلہ 8 اکتوبر سے 10 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جس میں امیدواروں کی پیشہ ورانہ اہلیت، کارکردگی اور دیگر مقررہ معیار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گوادر ایس ایس پی عطاالرحمان خان نے کہا کہ پروموشن کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور مقررہ قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو کے مرحلے میں کامیاب اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے اہل امیدواروں کو لوئر کورس اور ضروری تربیت کے لیے بھیجا جائے گا، تاکہ انہیں مزید پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرکے محکمہ پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔ایس ایس پی عطاالرحمان خان نے کہا کہ پولیس فورس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، باصلاحیت اور پیشہ ور بنانا ترجیحات میں شامل ہے۔ اہلکاروں کی تربیت، پیشہ ورانہ ترقی اور میرٹ پر مواقع کی فراہمی سے نہ صرف پولیس فورس کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو مزید موثر اور بہتر پولیسنگ کی سہولیات بھی میسر آئیں گی۔
ضلع پولیس گوادر کی جانب سے پروموشن کے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مکمل کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو پولیس فورس کی استعداد کار بہتر بنانے اور موثر، ذمہ دار اور عوام دوست پولیسنگ کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8717/2025
کراچی /گوادر 08 اکتو بر۔ گوادر پورٹ سے زمینی تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے اہم پیش رفت سامنے آگئی، چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کی زیرِ صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹم ہاو¿س کراچی میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاملات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں پاکستان کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ، ایرانی ٹرانزٹ، ٹی آئی آر (TIR)، گوادر پورٹ سے متعلق کاروبار کرنے والے تاجروں، کلیئرنگ ایجنٹس، کلیکٹر کسٹم گوادر کے باسط حسین، ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹرانزٹ کراچی کے جی حیدر مہیسر، جی ایم ملٹی ماڈل این ایل سی (NLC) کے اعظم ریاض ادریس، سینئر ممبر گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (GCCI) کے یاسر حسین دشتی، سیکرٹری گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (GCCI) کے خالد سیف، ڈائریکٹر گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) کے کیپٹن گل محمد، نمائندہ پنجگور چیمبر آف کامرس کے سید محمد، پی ایس او/ ڈپٹی ڈائریکٹر جی پی اے کے شبیر احمد، نمائندہ مکران چیمبر آف کامرس کے امام حسین اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ جبکہ ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ عرفان جاوید، کلکٹر کسٹم اور کلکٹر ٹریڈ ٹرانزٹ کوئٹہ و دیگر افسران، بارڈر ٹریڈ و گوادر چمبر آف کامرس کے جیند ہوت اور نوید کلمتی نے بذریعہ زوم لنک آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر پورٹ سے ایرانی ٹرانزٹ، ٹی آئی آر (TIR) اور دیگر زمینی تجارتی سرگرمیوں سے متعلق مسائل اور رکاوٹوں پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کو مزید بہتر اور سہل بنانے کے لیے مختلف امور زیرِ بحث آئے۔ اجلاس میں طے پایا کہ معاملات کے حل اور عملی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے بہت جلد دوسرا اجلاس گوادر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں متعلقہ حکام، تاجر برادری اور کلیئرنگ ایجنٹس شریک ہوں گے اور اپنے مسائل و تجاویز براہِ راست حکام کے سامنے پیش کریں گے۔ اجلاس کو گوادر پورٹ سے زمینی تجارتی سرگرمیوں کو فعال بنانے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے فروغ کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8718/2025
تربت 08 اکتوبر۔.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ مقبول انور رند نے تربت کے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور وہاں تعلیمی و انتظامی سہولیات، بنیادی ضروریات اور طلبہ و طالبات کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ مقبول انور رند نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بلوچی بازار، سید ہاشمی اسکول اور گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا دورہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے متعلقہ اداروں کے سربراہان اور تدریسی عملے سے ملاقات کی اور تعلیمی سرگرمیوں سمیت اداروں میں دستیاب بنیادی سہولیات اور درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بلوچی بازار کے دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ نے یونیسف کے تعاون سے قائم ٹیکنیکل امتحانی مرکز کا معائنہ کیا اور امتحان میں شریک طالبات سے ملاقات کرکے امتحانی امور اور انہیں درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔اس موقع پر طالبات نے اسکول بس کے لیے تیل اور ڈرائیور کی عدم دستیابی کا مسئلہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بس کے لیے تیل اور ڈرائیور کی سہولت نہ ہونے کے باعث انہیں آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ مقبول انور رند نے طالبات کے مسئلے کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ اسکول بس کے لیے تیل اور ڈرائیور کی فراہمی کے مسئلے کو جلد حل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طالبات کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آسکے۔اس موقع پر اسکول کی ہیڈمسٹریس نے مسائل کے حل کی یقین دہانی پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں بطور تحفہ کھجور پیش کی۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ نے سید ہاشمی اسکول کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا انہوں نے اسکول انتظامیہ سے ادارے کو درپیش مسائل اور ضروریات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں اور متعلقہ مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے یونیسف کے تعاون سے قائم ٹیکنیکل امتحانی مرکز کا معائنہ کیا انہوں نے امتحانی مرکز میں جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور طلبہ و اسکول انتظامیہ سے ملاقات کرکے انہیں درپیش مسائل، امتحانی سہولیات اور دیگر ضروری امور کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ مقبول انور رند نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، طلبہ و طالبات کے لیے سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں ضروری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام اور اداروں کی انتظامیہ پر زور دیا کہ طلبہ و طالبات کو درپیش مسائل کی بروقت نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بہتر انداز میں جاری رہیں اور طلبہ و طالبات کو تعلیم کے حصول میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔دورے کے موقع پر سپرنٹنڈنٹ ٹو ڈپٹی کمشنر کیچ حضور بخش بلوچ بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ کے ہمراہ موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8719/2025
گوادر 08 اکتوبر. محکمہ سوشل ویلفیئر گوادر کے زیر اہتمام افرادِ باہمی معذوری کی رجسٹریشن اور معذوری سرٹیفکیٹس کے اجراء کے لیے ماہانہ میڈیکل بورڈ کا اجلاس میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے کی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر میر جان بلوچ نے خصوصی شرکت کی اجلاس میں محکمہ صحت، محکمہ سوشل ویلفیئر اور میڈیکل سوشل سروسز سنٹر گوادر سے متعلقہ افسران، طبی ماہرین اور دیگر عملے نے شرکت کی۔ میڈیکل بورڈ کے دوران معذوری سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کا طبی اصولوں اور مقررہ معیار کے مطابق تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ درخواست گزاروں کا طبی معائنہ بھی کیا گیا اجلاس میں بتایا گیا کہ ماہانہ میڈیکل بورڈ کے لیے مجموعی طور پر 47 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 41 درخواست گزار بورڈ کے سامنے پیش ہوئے۔ طبی معائنے اور ضروری جانچ پڑتال کے بعد 37 کیسز کو معذوری سرٹیفکیٹس کے اجراء کے لیے منظور کیا گیا، 2 کیسز کو مزید طبی تحقیقات کے لیے ریفر کیا گیا، جبکہ 5 کیسز مقررہ طبی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث مسترد کیے گئے۔ اس کے علاوہ 6 درخواست گزار بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوئے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ افرادِ باہمی معذوری کی رجسٹریشن اور معذوری سرٹیفکیٹس کے اجرائ کا عمل شفاف، میرٹ پر اور مقررہ طبی اصولوں کے مطابق جاری رکھا جائے، تاکہ مستحق افراد کو بروقت سرٹیفکیٹس کے حصول کے ساتھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ متعلقہ سہولیات اور سماجی تحفظ تک رسائی حاصل ہو سکے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے کہا ہے کہ مستحق افراد کو طبی معائنے اور معذوری کی تشخیص کے حوالے سے ضروری سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ محکمہ سوشل ویلفیئر اور محکمہ صحت باہمی رابطے کے ذریعے رجسٹریشن کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے اجلاس میں ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر شئے سعید، سوشل ویلفیئر آفیسر میڈیکل سوشل سروسز سنٹر گوادر عبیداللہ اور متعلقہ اسٹاف نے بھی شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8720/2025
لورالائی8اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ریونیو کورٹ ڈے کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں کے ریونیو سے متعلق مقدمات، اراضی کے تنازعات، انتقالات، حد بندی، ریکارڈ سے متعلق امور اور دیگر عوامی شکایات کی سماعت کی گئیاس موقع پر مختلف علاقوں سے آنے والے سائلین نے ڈپٹی کمشنر کے سامنے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سائلین کے مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ ریونیو افسران و اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں کہ عوامی درخواستوں اور زیرِ سماعت مقدمات پر قانون و ضابطے کے مطابق فوری اور موثر کارروائی عمل میں لائی جائےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا ریونیو کیسز کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر نمٹایا جائے، اراضی ریکارڈ کی درستگی، انتقالات، حد بندی اور دیگر معاملات میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ سائلین کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے سے بچانے کے لیے مقررہ مدت کے اندر مسائل کا ازالہ کیا جائےانہوں نے کہا کہ ریونیو معاملات میں شفافیت، میرٹ، قانون کی بالادستی اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی یا غیر ضروری تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ریونیو امور میں تمام فیصلے میرٹ اور قانون کے مطابق کیے جائیں گے کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے مزید کہا کہ ریونیو کورٹ ڈے کا مقصد شہریوں کو ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر اور آسان فورم فراہم کرنا ہے تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے اور ان کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر درخواست پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائےانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور شہریوں کو ریونیو سمیت دیگر انتظامی معاملات میں درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے باقاعدگی سے کھلی سماعت اور ریونیو کورٹ ڈے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گاریونیو کورٹ ڈے کے دوران متعلقہ ریونیو افسران نے مختلف کیسز اور ریکارڈ سے متعلق معاملات پر ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ بھی دی، جبکہ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ التوا کیسز کی پیش رفت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8721/2025
لورالائی8اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کی سربراہی میں کوئٹہ روڈ پر پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کی گئی۔ آپریشن میں ضلعی انتظامیہ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کے متعلقہ حکام و اہلکاروں نے حصہ لیاکارروائی کے دوران کوئٹہ روڈ کے مختلف مقامات پر قائم متعدد غیر قانونی پانی کے کنکشنز منقطع کیے گئے، جبکہ غیر قانونی طور پر بچھائی گئی پائپ لائنوں اور مشکل مقامات پر موجود کنکشنز کو ہٹانے کے لیے ایکسکیویٹر مشین کا بھی استعمال کیا گیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر احمد زیب نے کہا کہ سرکاری پانی کی لائنوں سے غیر قانونی کنکشن حاصل کرنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے باعث شہریوں کو پانی کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ مزید موثر بنایا جائےانتظامیہ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حکام نے واضح کیا کہ شہر میں پانی کی منصفانہ اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی پانی کی لائنوں اور کنکشنز کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ سرکاری واٹر سپلائی لائنوں میں غیر قانونی مداخلت یا انہیں نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کے غیر قانونی کنکشنز سے گریز کریں، سرکاری پانی کی لائنوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور پانی کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انتظامیہ کے مطابق پانی ایک بنیادی عوامی ضرورت ہے اور اس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8722/2025
دکی:8اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی نے کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال کے ہمراہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) پروگرام کے تحت ضلع دکی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور تعمیراتی کام کی پیش رفت، معیار اور رفتار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال بھی ان کے ہمراہ تھےدورے کے دوران ڈپٹی کمشنر اور کمانڈر 87 ونگ نے وانگی رباط روڈ، ختمِ نبوت چوک، گورنمنٹ مڈل سکول کلی کریم خان اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی د±کی میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی کام کا معائنہ کیامتعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے نے مختلف منصوبوں پر جاری کام کی پیش رفت، تکمیل کی مدت اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نےمنصوبوں پر جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں مقررہ تعمیراتی معیار اور متعلقہ ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، جبکہ منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے کام کی رفتار مزید تیز کی جائےانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کام کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہواس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ BSDI پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے ضلع د±کی میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور مجموعی ترقی کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے شہریوں کو بہتر سفری، تعلیمی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر آئیں گی ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ سرکاری وسائل کا موثر استعمال تعمیراتی معیار اور منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, October 8: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Bilal Khan Kakar, has said that effective measures are being taken, in line with the vision of Chief Minister Mir Sarfraz Bugti, to economically empower women in the rural areas of the province.
In this regard, a special event will be organized by the Balochistan Board of Investment and Trade on october 15, for the business training and awareness of rural women, in which women from remote areas across Balochistan will be invited.
He expressed these views while chairing a meeting regarding preparations for the event. CEO Abdul Manan, representative of social innovation academy Ms. Rozina kakar, and other officials attended the meeting.
He said that there is a pressing need to identify and develop the entrepreneurial potential of rural women, acquaint them with modern business practices, and provide them with opportunities to turn their available resources into sustainable sources of income.
He said women can play an important role in the provincial economy. Particularly in rural areas, women can utilize their skills in handicrafts, agriculture, livestock, food processing, home-based industries, tourism and other sectors to improve the economic conditions of their families and make a significant contribution to the growth of the local economy.
Bilal Khan Kakar said that the Balochistan Board of Investment and Trade is taking practical measures to provide women with information about business opportunities, investment prospects, market access and business development. The proposed event aims to provide rural women with a platform where they can seek guidance from experts and also share their business ideas and challenges.
He said that bringing talented women from remote areas into economic activities is essential for the overall development and prosperity of Balochistan. The Balochistan Board of Investment and Trade will continue to play its role in enhancing women’s entrepreneurial capacity and supporting their economic empowerment.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8723/2025
کوئٹہ، 08 اکتوبر:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے دیہی علاقوں کی خواتین کو کاروباری لحاظ سے بااختیار بنانے کیلئے مو¿ثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام دیہی خواتین کی کاروباری تربیت اور آگاہی کیلئے15 اکتوبر کو ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں بلوچستان بھر کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مدعو کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تقریب کی تیاریوں سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سی ای او عبدالمنان،سوشل انوویشن اکیڈمی کی نمائندہ روزینہ کاکڑ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی دیہی خواتین میں کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، انہیں جدید کاروباری طریقوں سے روشناس کرانے اور اپنے وسائل کو آمدن کے مو¿ثر ذرائع میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، بالخصوص دیہی علاقوں میں خواتین دستکاری، زراعت، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، گھریلو صنعت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ مقامی معیشت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ خواتین کو کاروباری مواقع، سرمایہ کاری کے امکانات، مارکیٹ تک رسائی اور کاروبار کے فروغ سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ مجوزہ تقریب کا مقصد دیہی خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کاروباری آئیڈیاز اور مسائل بھی پیش کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں موجود باصلاحیت خواتین کو معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنانا صوبے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ خواتین کی کاروباری استعداد بڑھانے اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے عمل میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8724/2025
زیارت 08 اکتوبر ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز مشین کی تنصیب مکمل کرکے باقاعدہ سروس کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ڈائیلاسز مشین کا افتتاح ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کیا، جبکہ اس موقع پر ڈی ایچ او ڈاکٹر رفیق مستوئی ایم ایس شمس اللہ متعلقہ محکمہ صحت کے افسران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ڈائیلاسز کی سہولت کا مقامی سطح پر آغاز ضلع زیارت اور گردونواح کے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک اہم طبی سہولت ہے، جس سے مریضوں کو علاج کی غرض سے کوئٹہ سمیت دیگر شہروں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل گردوں کے مریضوں کو ڈائیلاسز کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث انہیں سفری اخراجات، وقت اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم اب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز کی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کو اپنے ضلع میں ہی بروقت علاج کی سہولت میسر آئے گی۔ یاد رہے کہ ڈائیلاسز مشین کی فراہمی اور اس سہولت کے آغاز کے حوالے سے گزشتہ دنوں صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے بھی اس کا افتتاح کیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈائیلاسز سروس کو موثر انداز میں جاری رکھا جائے اور مریضوں کو بروقت، معیاری اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ڈائیلاسز مشین کی فراہمی سے ضلع زیارت اور گردونواح کے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو نمایاں سہولت میسر آئے گی، جبکہ مقامی سطح پر علاج کی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ صحت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ زیارت کی جانب سے صحت کے شعبے میں اس سہولت کے آغاز کو اہم اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی ضلع زیارت کے عوام کو مزید جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8725/2025
زیارت 8اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع میں صحت عامہ کی صورتحال، بنیادی مراکزِ صحت (BHU) کی فعالیت، طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی، ڈسٹرکٹ اکاو¿نٹس آفیسر عبدالغنی کاکڑ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر مقیت خان کاکڑ، ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجر پی پی ایچ آئی ممتاز رند، ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال شمس اللہ، ایم ایس ٹی ایچ کیو سنجاوی ڈاکٹر نورالباقی، فرمان اللہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر کے بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت، طبی عملے کی حاضری، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس اسٹاف کی دستیابی، مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی، ادویات کی دستیابی و تقسیم اور صحت مراکز کے انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام بنیادی مراکزِ صحت کو فعال رکھنے اور عوام کو بروقت و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور دیگر طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنانے، ادویات کی دستیابی اور مناسب تقسیم کے ساتھ ساتھ صحت مراکز میں صفائی ستھرائی اور دیگر ضروری انتظامات کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں صحت مراکز کی مو¿ثر نگرانی، عملے کی حاضری اور ادویات کی فراہمی سے متعلق مختلف اہم فیصلے کیے گئے، جبکہ متعلقہ افسران کو ان فیصلوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8726/2025
زیارت 8اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ اجلاس: غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی، اسکولوں کی نگرانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل، اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، سرکاری اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایف سی ونگ 155کرنل ذیشان اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لطیف اللہ غرشین، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن عبدالمالک تاج، اکاو¿نٹس آفیسر عبدالغنی پانیزئی،پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ ،ڈی او فیمیل میمونہ فہیم، اے ڈی او فیمیل بی بی شاہینہ ،ڈسٹرکٹ سپروائزر بی ای ایف فیض اللہ خلجی جے ٹی اے آئینی کے صدر فیروز خان اور آر ٹی ایس ایم بدرالدین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع زیارت کے دونوں تحصیلوں میں تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال، تدریسی و انتظامی امور، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور اسکولوں میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی نظام میں مزید بہتری کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع کی دونوں تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو مختلف سرکاری اسکولوں کے باقاعدہ دورے کرکے تعلیمی و انتظامی صورتحال، اساتذہ کی حاضری اور دیگر امور کا موقع پر جائزہ لیں گی اور اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غیر حاضر اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کیا جائے گا، جبکہ غیر حاضری کی وجوہات معلوم کرنے کے بعد ضابطے کے مطابق تنخواہوں سے کٹوتی سمیت دیگر محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی بروقت حاضری اور ذمہ دارانہ کارکردگی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت، غیر حاضری اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8727/2025
8 اکتوبر نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت رینٹ اسسمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری دکانات کے کرایوں کے ازسرِنو تعین اور کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیااجلاس میں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی، چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل نصیرآباد، ایکسین بلڈنگز اور ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر نصیرآباد سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران بتایا گیا کہ میونسپل کمیٹی کے زیرِ انتظام 22 سرکاری دکانات جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل کے زیرِ انتظام 55 دکانات موجود ہیں جن کے موجودہ کرایوں کا ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے نئے سرے سے کرایہ مقرر کیا جائے گا اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت جاری کی کہ اپنے اپنے علاقوں میں میونسپل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ کونسل کی ملکیت سرکاری دکانات کی موجودہ مارکیٹ صورتحال محلِ وقوع اور اردگرد کے کاروباری علاقوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرایہ کی باقاعدہ اسسمنٹ کرائی جائے
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ اسسمنٹ کا عمل شفاف اور زمینی حقائق کے مطابق مکمل کرکے اس کی رپورٹ آئندہ رینٹ اسسمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے، تاکہ سرکاری دکانات کے مناسب اور موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایوں کا تعین کیا جاسکےانہوں نے کہا کہ سرکاری املاک سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے کے لیے موثر اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ دکانات کے کرایوں کا مناسب تعین کرکے حاصل ہونے والی اضافی آمدن کو عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی بہتری اور دیگر ضروری ترقیاتی و فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سرکاری دکانات سے متعلق ریکارڈ، کرایہ داری اور آمدن کے معاملات کو منظم رکھا جائے اور تمام متعلقہ ادارے اس عمل میں باہمی رابطے کے ساتھ کام کریںتاکہ سرکاری وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جاسکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8728/2025
8 اکتوبر نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈیرہ مراد جمالی شہر میں صفائی ستھرائی، شہر کی خوبصورتی اور ضلع بھر میں شہری سہولیات میں مزید بہتری لانے کے لیے جامع پلان مرتب کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی اور چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل نصیرآباد نے شرکت کیاجلاس کے دوران ڈیرہ مراد جمالی شہر میں صفائی ستھرائی کی موجودہ صورتحال، مختلف علاقوں میں صفائی کے انتظامات، کچرے کی بروقت تلفی، سڑکوں اور شاہراہوں کی صفائی نکاسی آب کے نظام سرکاری و عوامی مقامات کی صفائی سمیت شہر کی مجموعی خوبصورتی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور صفائی کے عملے کو اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے انجام دینے کا پابند بنایا جائے انہوں نے کہا کہ شہر کے اہم مقامات، مرکزی شاہراہوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر صفائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ شہر کی خوبصورتی کے لیے گرین بیلٹس، سڑکوں کے اطراف صفائی، شجرکاری، تجاوزات کے خاتمے اور دیگر ضروری اقدامات کو بھی پلان میں شامل کیا جائے اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ کونسل باہمی رابطے کے ساتھ عملی اقدامات اٹھائیں اور صفائی و خوبصورتی کے منصوبے کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنائیںڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی شہر سمیت ضلع بھر میں شہری سہولیات کی بہتری انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8729/2025
نصیرآباد اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول استا محمد میں قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کا دورہ، الیکٹریشن کورس کے امتحانی عمل کا جائزہ
لیا واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول استا محمد میں قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے الیکٹریشن کورس کے جاری امتحانی عمل کا جائزہ لیا اور امتحانات کے انتظامات طلبہ کی کارکردگی اور فراہم کی جانے والی فنی تربیت کے مختلف پہلووں کا معائنہ کیااس موقع پر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول استا محمد کے ہیڈ ماسٹر طارق لاشاری ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر ای ایس پی یونیسف سید رضا علی شاہ اور محکمہ محنت و افرادی قوت بلوچستان کے ممتحن شہاب الدین سمیت دیگرمتعلقہ افراد بھی موجود تھے ڈپٹی کمشنر کو ووکیشنل ٹریننگ سینٹر میں فراہم کی جانے والی فنی تربیت امتحانی طریقہ کار اور طلبہ کی عملی استعداد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ووکیشنل ٹریننگ سینٹر میں جون 2025 سے مئی 2026 تک الیکٹریشن کا تربیتی کورس جاری رہا، جس میں مجموعی طور پر 101 طلبہ نے داخلہ لیا تربیتی پروگرام کے دوران طلبہ کو بجلی کی تنصیبات، وائرنگ، برقی آلات کے استعمال مرمت اور دیگر بنیادی و جدید الیکٹریشن کے امور کے ساتھ ساتھ سولر پینلز کی تنصیب سولر سسٹم سے متعلق بنیادی تکنیکی معلومات اور عملی فنی مہارتیں بھی فراہم کی گئیں، تاکہ نوجوان موجودہ دور کی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر حاصل کر سکیںڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے امتحانی عمل کا جائزہ لیتے ہوئے طلبہ سے ان کی تربیت اور حاصل کردہ فنی مہارتوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ ہنر مند نوجوان نہ صرف اپنے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کی معاشی حالت بہتر بنانے اور ملکی معیشت میں بھی موثر کردار ادا کر سکتے ہیںانہوں نے کہا کہ الیکٹریشن اور سولر ٹیکنالوجی جیسے فنی شعبوں میں تربیت نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنی فنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں عملی تجربہ حاصل کریں اور ہنر مندی کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد بنائیںڈپٹی کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو معیاری فنی تعلیم اور عملی تربیت کی فراہمی سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ انہیں معاشرے کا کارآمد باصلاحیت اور خود انحصار فرد بنانے میں بھی مدد ملتی ہے انہوں نے کہا کہ ایسے تربیتی مراکز نوجوانوں کو جدید ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سلسلے کو مزید موثر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیےانہوں نے امتحانی عمل میں شریک طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ محنت لگن اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ ہنر مند نوجوان ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہیںہنر سیکھیں اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں آگے بڑھیں اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے ساتھ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8730/026
چمن: ضلعی انتظامیہ چمن نے ضلع بھر میں عوام کو معیاری، محفوظ اور صحت بخش اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ہوٹل مالکان، نانبائیوں، بیکری مالکان، فوڈ شاپس، ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ سینٹرز اور دیگر فوڈ بزنسز سے وابستہ کاروباری حضرات کو فوڈ سیفٹی، حفظانِ صحت اور مقررہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں تمام متعلقہ کاروباری مراکز کو ہدایت کی گئی ہے کہ صفائی ستھرائی، ذاتی حفظانِ صحت، خوراک کی تیاری، ذخیرہ، پیکنگ اور فروخت کے دوران مقررہ فوڈ سیفٹی اصولوں اور ایس او پیز کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔
ہدایت نامے میں فوڈ بزنس لائسنس/رجسٹریشن کی موجودگی اور بروقت تجدید، دکانوں، کچن، تندور، بیکری اور اسٹورز کی صفائی، فوڈ ہینڈلرز کی ذاتی صفائی، صاف لباس اور حفاظتی اقدامات، خوراک کو گردوغبار اور حشرات سے محفوظ رکھنے، کچی اور پکی خوراک کو علیحدہ رکھنے اور صاف و محفوظ پانی کے استعمال پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔اسی طرح زائدالمیعاد، خراب، غیر معیاری، ملاوٹی یا مضرِ صحت اشیائے خوردونوش کی خرید و فروخت اور استعمال سے اجتناب، تیار شدہ نان، روٹی اور دیگر خوراک کو صاف اور محفوظ طریقے سے رکھنے، کوڑا کرکٹ کی مناسب تلفی، نکاسی آب کے مؤثر انتظام اور استعمال شدہ کوکنگ آئل کے غیر محفوظ استعمال سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ چمن نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت اور محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ خوراک کے معیار، صفائی اور حفظانِ صحت کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔متعلقہ اداروں اور مجاز افسران کی جانب سے ہوٹلوں، نانبائیوں، بیکریوں، فوڈ پوائنٹس، ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری مراکز کے معائنے جاری رکھے جائیں گے، جبکہ دورانِ معائنہ سامنے آنے والی خامیوں کے بروقت ازالے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین اور جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت جرمانہ، امپروومنٹ نوٹس، غیر محفوظ یا مضرِ صحت اشیائے خوردونوش کی ضبطگی و تلفی، کاروباری سرگرمیوں پر پابندی، پریمیسس کی سیلنگ اور فوڈ بزنس لائسنس کی معطلی یا منسوخی سمیت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ضلعی انتظامیہ چمن نے تمام کاروباری حضرات پر زور دیا ہے کہ جاری کردہ ہدایات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے کاروباری مراکز میں فوڈ سیفٹی، صفائی اور حفظانِ صحت کے تمام تقاضے فوری طور پر مکمل کریں اور مقررہ ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنائیں۔انتظامیہ نے مزید واضح کیا ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت، لاعلمی یا عدم آگاہی کا عذر قابلِ قبول نہیں ہوگا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8731/026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت حالیہ پولیو مہم کے بعد جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہم کی مجموعی کارکردگی، بچوں کی کوریج، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، رہ جانے والے بچوں اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محکمہ صحت اور پولیو پروگرام کے متعلقہ افسران نے شرکت کی اور مہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رہ جانے والے بچوں کی کوریج یقینی بنانے، فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی اور آئندہ پولیو مہمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے والدین، علماء کرام، قبائلی عمائدین اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے، جبکہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
خبرنامہ نمبر8732/026
زیارت 08 اکتوبر 2026ء ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ڈائیلاسز مشین کا افتتاح* کیا
وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز مشین کی تنصیب مکمل کرکے باقاعدہ سروس کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ڈائیلاسز مشین کا افتتاح ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے کیا، جبکہ اس موقع پر ڈی ایچ او ڈاکٹر رفیق مستوئی ایم ایس شمس اللہ متعلقہ محکمہ صحت کے افسران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ڈائیلاسز کی سہولت کا مقامی سطح پر آغاز ضلع زیارت اور گردونواح کے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک اہم طبی سہولت ہے، جس سے مریضوں کو علاج کی غرض سے کوئٹہ سمیت دیگر شہروں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل گردوں کے مریضوں کو ڈائیلاسز کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث انہیں سفری اخراجات، وقت اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم اب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز کی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کو اپنے ضلع میں ہی بروقت علاج کی سہولت میسر آئے گی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈائیلاسز سروس کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے اور مریضوں کو بروقت، معیاری اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ڈائیلاسز مشین کی فراہمی سے ضلع زیارت اور گردونواح کے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو نمایاں سہولت میسر آئے گی، جبکہ مقامی سطح پر علاج کی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ صحت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ زیارت کی جانب سے صحت کے شعبے میں اس سہولت کے آغاز کو اہم اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی ضلع زیارت کے عوام کو مزید جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8733/026
نصیرآباد
8 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت اُستا محمد میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کی ماہانہ کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، ڈویژنل کوآرڈینیٹر ای پی آئی، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے نمائندے ڈاکٹر رومان اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران و اہلکاروں نے شرکت کی
اجلاس کے دوران تحصیل اُستا محمد میں بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی ویکسینیشن کوریج فیلڈ سرگرمیوں اور ویکسینیٹرز کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر متعلقہ افسران کی جانب سے حفاظتی ٹیکہ جات کے مقررہ اہداف حاصل شدہ کوریج اور فیلڈ میں درپیش مسائل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی گئی
اجلاس میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ویکسینیٹرز حافظ، اربیلا، محمد بخش، نوید، غلام یاسین، عبدالصمد، قائم دین، محمد قیصر، مزمل اور آصف کی کارکردگی کو سراہا گیا، جنہوں نے 93 سے 98 فیصد تک حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج حاصل کی ڈپٹی کمشنر نے ان ویکسینیٹرز کی محنت اور فیلڈ میں فعال کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوانا ان کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے
اجلاس میں کم کوریج حاصل کرنے والے ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لاتے ہوئے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں ویکسینیشن ٹیموں کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور جہاں کوریج کم ہے وہاں خصوصی توجہ دے کر ویکسینیشن کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے
اس موقع پر ان خاندانوں کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا جو اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے سے انکار کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ایسے خاندانوں کی مؤثر کونسلنگ کے لیے تحصیل کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، جو والدین سے رابطہ کرکے حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت فوائد اور بچوں کو مختلف متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں
ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات بچوں کو خطرناک اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہیں اس لیے کسی بھی بچے کا ویکسینیشن سے محروم رہ جانا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران اور ویکسینیٹرز پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں مزید محنت، جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور بالخصوص کم کوریج والے علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ویکسینیشن سے انکار کرنے والے والدین کے تحفظات دور کرنے کے لیے آگاہی اور کونسلنگ کے عمل کو مؤثر بنایا جائے تاکہ والدین کو حفاظتی ٹیکہ جات کے فوائد سے آگاہ کرکے بچوں کی ویکسینیشن کوریج میں مزید اضافہ کیا جا سکے
اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے مقررہ اہداف کے حصول، ویکسین کی بروقت دستیابی اور فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اُستا محمد میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید بہتر بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ویکسینیشن کی سہولت فراہم کی جا سکے
خبرنامہ نمبر 8734/026
سیوی 8 اکتوبر
کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کی کارکردگی اور پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ پی ایچ ای کے ایس ای اور ایگزیکٹو انجینئر نے شرکت کی اور کمشنر سیوی ڈویژن کو محکمانہ امور اور جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران محکمہ پی ایچ ای کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، پانی کی فراہمی سے متعلق اسکیموں اور مختلف محکمانہ امور میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ پی ایچ ای کے افسران نے کمشنر سیوی ڈویژن کو جاری منصوبوں کی پیش رفت، تکمیل کی صورتحال اور عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعمیراتی کام کے معیار کو یقینی بنانے اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نوعیت کے منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جاری اسکیموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔واضح رہے کہ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی جانب سے ڈویژن کے تمام محکموں کی کارکردگی اور پیش رفت کا مرحلہ وار جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف محکموں کی پروگریس ریویو میٹنگز ون بائی ون روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر8735/026
کوئٹہ8 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر، عوامی فلاح و بہبود اور دورافتادہ علاقوں کی ترقی کیلئے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سمیت تمام بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے گئے ہیں جن کے مثبت اثرات تعلیم، صحت، زراعت اور صاف پانی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں سامنے آرہے ہیں۔ بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ اضلاع میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی خاطر بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) بلوچستان سب آفس کے سربراہ ولید مہدی کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران مراد خان میاخیل، ناصر جمال جوگیزئی اور محمد صادق آغا بھی موجود تھے۔ ملاقات میں صوبے میں زرعی ترقی، لائیو اسٹاک، باغبانی، خوراک کے تحفظ، کسانوں کی تربیت، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور دورافتادہ اضلاع میں ترقیاتی پروگراموں کے فروغ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت میں زراعت، باغات اور لائیو اسٹاک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج، آبپاشی کے موثر نظام، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ طریقہ ہائے کاشت اور کسانوں کی جدید تربیت کے ذریعے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت، باغات اور لائیو اسٹاک کو جدید خطوط پر استوار کرکے نہ صرف صوبے کو خوراک کے شعبے میں خودکفیل بنایا جاسکتا ہے بلکہ ہزاروں افراد کیلئے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے کسانوں کو جدید ریسرچ، ڈیجٹل ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ گورنر جعفرخان نے کہا کہ صوبے کے چھوٹے کاشتکاروں، زمینداروں، مالداروں، خواتین اور نوجوانوں کو بھی ترقیاتی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے تاکہ دیہی معیشت مضبوط ہو اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کی بارشوں اور پانی کی کمی کے تناظر میں کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں، جدید آبپاشی اور ماحول دوست زرعی طریقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایف اے او بلوچستان کے سربراہ ولید مہدی نے گورنر بلوچستان کو زرعی یونیورسٹی بلوچستان کے زیر اہتمام 19 اضلاع کے زمینداروں اور کسانوں کیلئے منعقد کیے جانے والے پروگرام میں بطور چیف گیسٹ شرکت کی دعوت دی۔ پروگرام کا مقصد عوام کی صحت عامہ، کسانوں اور زمینداروں کو جدید زرعی طریقوں، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو صرف پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مکمل ویلیو چین، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور مارکیٹنگ سے منسلک کرنا ہوگا تاکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کا بہتر معاوضہ مل سکے اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔
خبرنامہ نمبر8736/026
جعفرآباد//گورنمنٹ آف بلوچستان محکمہ تعلیم اور یونیسیف ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے باہمی اشتراک سے ضلع جعفرآباد میں “ہنرمند بلوچستان، ہنرمند جعفرآباد” پروگرام کے تحت قائم اے ایل پی، وی ٹی سی اور آئی ٹی سنٹرز کے سالانہ فائنل امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفراباد خالد خان کے احکامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی اور تحصیلدار خانپور سلطان کھوسہ نے مختلف امتحانی مراکز کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورہ کیے گئے مراکز میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شیردل بہرانی، گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول ڈیرہ اللہ یار، اے ایل پی سنٹر کریم بخش مینگل اور آئی ٹی سنٹر حفیظ آباد شامل تھے۔اس موقع پر ایجوکیشن سپورٹ پروگرام جعفرآباد کے پروگرام منیجر سعید علی رضاء صاحب، فوکل پرسن ارباب کھوسہ اور جاوید کھوسہ بھی نگرانی کے لیے موجود تھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی نے سکل سنٹرز میں جاری امتحانات کا جائزہ لیا، سپرنٹنڈنٹس، طلبہ و طالبات اور انسٹرکٹرز سے ملاقات کی اور امتحانی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تاثرات لاگ بک میں قلمبند کیے اور “ہنرمند جعفرآباد، ہنرمند بلوچستان” پروگرام کو مزید جاری رکھنے کی سفارش کی۔
خبرنامہ نمبر8737/026
کوئٹہ 08اکتوبر۔ سوشل میڈیا پر غیر معیاری آٹے کی فروخت سے متعلق سامنے آنے والی خبر پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو غیر معیاری آٹے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی سخت ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی مشترکہ ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں غیر معیاری گندم سے تیار کردہ آٹا فروخت کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران 24 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا گیا جبکہ 4 دکانیں سیل کر دی گئیں۔ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔یہ کارروائیاں سریاب روڈ، کواری روڈ، قندہاری بازار، مسجد روڈ، سٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، ایئرپورٹ روڈ، عالمو چوک، نواں کلی، بھوسہ منڈی اور سرکی روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کی گئیں۔کارروائیوں کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں کے ہمراہ کی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا کہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے غیر معیاری آٹا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر8738/026
اوتھل:کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء سے گوٹھ اسماعیلانی کے سماجی کارکن ایم عیسیٰ رونجہ اور مفتی غلام رسول رونجہ کی سربراہی میں یونین کونسل اسماعیلانی کےوفدنے ملاقات کی وفد نے اجتماعی مسائل کے حوالے سے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا کو علاقے کے مختلف اہم مسائل پر مشتمل تحریری درخواست پیش کی۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ و چیئرمین BSDI حمیرا بلوچ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی بھی موجود تھے۔وفد نے یونین کونسل اسماعیلانی کے عوام کو درپیش اجتماعی مسائل کے حوالے سے کمشنر لسبیلہ اور ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کو زبانی اور تحریری طور پر آگاہ کیا۔ انتظامی افسران نے وفد کو مسائل کے حل کے لیے جلد اور فوری اقدامات اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر8739/026
ہرنائی : ضلع ہرنائی میں عوامی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور متعدی بیماریوں کے خلاف جاری مہمات کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم ‘ماہانہ ہیلتھ ریویو کانفرنس’ کا انعقاد کیا گیا ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی ہرنائی کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس کانفرنس میں محکمہ صحت کے تمام متعلقہ افسران، پروگرام مینیجرز اور ڈسٹرکٹ سٹیک ہولڈرز نے بھرپور شرکت کی کانفرنس کے دوران ضلع کے تمام علاقوں میں صحت سے متعلق خدمات، جاری مہمات اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ میٹنگ کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں بچوں کو موذی بیماریوں سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات کی معمول کی مہم (EPI) کے اہداف کا جائزہ لیا گیا اور دور دراز علاقوں تک اس کی رسائی یقینی بنانے پر زور دیا گیا خسرہ اور روبیلا کے خلاف جاری مہم کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باقی ماندہ بچوں کو کوریج میں لانے کے لیے حتمی حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔گھر گھر آگاہی اور ویکسینیشن مہمات میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی فعال شمولیت کی تعریف کی گئی اور ان کے فیلڈ کام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر اتفاق ہوا ضلع کے مختلف بنیادی مراکزِ صحت کو درپیش درپیش درپیش انتظامی مسائل، ادویات کی فراہمی اور لاجسٹکس کے چیلنجز پر کھل کر بات کی گئی اور ان کے فوری تدارک کے احکامات جاری کیے گئے اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی کی جانب سے تمام سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ آپسی تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ ہرنائی کے ہر شہری تک معیاری اور بنیادی صحت کی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر8740/026
گوادر: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور بلوچ کی زیرِ صدارت مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی درستگیِ عمر سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر سوبان بلوچ سمیت متعلقہ محکموں کے ڈسٹرکٹ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (DDOs) نے شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، پولیس، محکمہ زراعت، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ مواصلات و تعمیرات (B&R) اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کے ملازمین کے تعلیمی اسناد، سروس ریکارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کی روشنی میں عمر سے متعلق کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر ملازمین کے سرکاری ریکارڈ میں درج تاریخِ پیدائش اور تعلیمی اسناد میں موجود کوائف کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے درستگیِ عمر سے متعلق معاملات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ تمام کیسز کی مکمل دستاویزی جانچ، قواعد و ضوابط اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں کی جائے تاکہ ریکارڈ میں شفافیت، درستگی اور یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے ہدایت کی کہ درستگیِ عمر سے متعلق تمام کیسز کو مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت میرٹ اور شفافیت کے ساتھ نمٹایا جائے اور ضروری دستاویزات کی مکمل تصدیق کے بعد ہی حتمی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
خبرنامہ نمبر8741/026
کوئٹہ 08اکتوبر2026:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ (ویسٹ) منیر احمد درانی کی زیرِ صدارت کچلاک میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کچلاک میں منعقد ہوئی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ویسٹ، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک سمیت محکمہ گیس، واپڈا، صحت، تعلیم، واسا، پی ایچ ای، صفا کوئٹہ، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں کچلاک کے قبائلی، سیاسی و سماجی نمائندوں، عمائدین علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہریوں نے بجلی، گیس، پانی، صحت، تعلیم، صفائی، نادرا ،ریونیو،اراضی کے مسائل۔سڑکوں، امن و امان اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ (ویسٹ) منیر احمد درانی نے شہریوں کے مسائل اور شکایات کو تفصیل سے سنا اور مختلف امور پر موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو ضروری اقدامات اور مسائل کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ہے۔ کچلاک میں امن و امان، تعلیم، صحت، کھیل، صفائی، پانی اور دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کچلاک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بلاامتیاز کام کیا جائے گا اور عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین اور شہریوں کی مشاورت سے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مزید مؤثر بنانا اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر 8742/026
کوئٹہ، 8 اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کچلاک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکول کے مختلف شعبوں، کلاس رومز اور دیگر سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے طلبہ سے ملاقات کی اور ان سے تعلیمی سرگرمیوں، درپیش مسائل اور سکول میں دستیاب سہولیات کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے اساتذہ سے بھی ملاقات کی اور تعلیمی معیار، تدریسی امور اور طلبہ کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی۔ڈپٹی کمشنر نے سکول کے کلاس رومز، صفائی ستھرائی، تعلیمی ماحول اور دیگر بنیادی سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کی تعلیمی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور سکول میں نظم و ضبط، حاضری اور تدریسی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر8743/026
کوئٹہ، 8 اکتوبر 2026: زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔ سماعت کے دوران مانگی ڈیم دہشت گرد حملے سے متعلق متعدد گواہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے بیانات قلم بند کرائے، جن میں سابق رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ خان زیرے بھی شامل تھے۔نصر اللہ خان زیرے نے کمیشن کو واقعے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 6 جولائی 2026 کو انہوں نے شام کے وقت چیف سیکرٹری حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو مانگی کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے دونوں حکام سے استدعا کی تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے، لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری کی طرف سے انہیں جواب نہ مل سکا۔مزید برآں، ڈائریکٹر ویب اینالیسز ڈویژن، پی ٹی اے اسلام آباد، کمیشن کے حکم نامے کی تعمیل میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی، من گھڑت اور گمراہ کن خبروں کے خلاف قانونی کارروائی کے ازخود طریقۂ کار سے متعلق کمیشن کو تسلی بخش تفصیلات فراہم نہ کیں، جس پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کیا اور انہیں اگلی سماعت پر کمیشن کے سامنے روبرو پیش ہونے اور خودکار مانیٹرنگ اور قانونی کارروائی سے متعلق مکمل تفصیلات جمع کرنے کا حکم جاری کیا۔
سماعت کے دوران عدالت کے حکم کی تعمیل میں ایڈیشنل سیکرٹری ہوم بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے شہداء معاوضہ پیکیج میں اضافے کی سمری وزیراعلیٰ بلوچستان کو منظوری کے لیے ارسال کرنے سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ سے باضابطہ منظوری کے بعد اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹری خزانہ بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے معاوضہ پیکیج میں کسی بھی قسم کی ٹیکس کٹوتی نہیں کی جائے گی۔
ایک شہید کی بیوہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں، جنہوں نے ایس پی پولیس زیارت سے وصول شدہ معاوضے کی رقم اپنے دیور کی جانب سے چھیننے، باقی ماندہ رقم ہڑپ کیے جانے اور دھمکیاں دیے جانے سے متعلق بھی شکایت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان کمپلینٹ سیل کو بھی تحریری درخواست جمع کرانے سے متعلق کمیشن کو آگاہ کیا۔تحقیقاتی کمیشن نے انسپکٹر جنرل پولیس کو درخواست پر فوری طور پر قانونی کارروائی کرنے اور اس متعلق مکمل تفصیلات آئندہ سماعت پر تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔تحقیقاتی کمیشن نے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔
خبرنامہ نمبر8744/026
نصیرآباد8 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔۔ ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت آئی سی سی ایم کی چار روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر، شرکاء میں اسناد تقسیم اُستا محمد میں ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت ملیریا، ٹی بی اور ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق انٹیگریٹڈ کمیونٹی کیس مینجمنٹ (آئی سی سی ایم) کی چار روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ تربیتی ورکشاپ کا مقصد متعلقہ صحت کارکنان کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافہ، بیماریوں کی بروقت تشخیص، مؤثر کیس مینجمنٹ مریضوں کی مناسب رہنمائی اور بنیادی سطح پر صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانا تھا
ورکشاپ کے آخری روز ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال، صوبائی کوآرڈینیٹر انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر نور خجک اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اُستا محمد ڈاکٹر امیر علی جمالی نے تربیتی مرکز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جاری تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور شرکاء سے تربیتی پروگرام کے حوالے سے معلومات حاصل کیں
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ ملیریا، ٹی بی اور ایچ آئی وی/ایڈز جیسی بیماریوں کی روک تھام اور بروقت تشخیص کے لیے بنیادی سطح پر کام کرنے والے صحت کارکنان کی تربیت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) اور انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے منعقد کیے جانے والے اس اہم عوامی صحت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تربیتی پروگرام صحت کے شعبے میں خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پروگرام کے انعقاد اور صحت عامہ سے متعلق دیگر اقدامات کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور عملی مہارتوں کو فیلڈ میں مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ عوام کو بیماریوں کی بروقت تشخیص مناسب رہنمائی اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے
صوبائی کوآرڈینیٹر انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر نور خجک نے تربیتی ورکشاپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی ایم کے ذریعے کمیونٹی کی سطح پر مختلف بیماریوں کی شناخت، ابتدائی طبی اقدامات مریضوں کی مناسب رہنمائی اور صحت کے نظام سے مربوط کرنے کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اُستا محمد ڈاکٹر امیر علی جمالی نے بھی تربیتی پروگرام کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تربیت یافتہ صحت کارکنان کمیونٹی میں بیماریوں سے متعلق آگاہی، احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔تربیتی پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر امیر علی جمالی اور ڈاکٹر نور خجک نے ورکشاپ میں شریک شرکاء میں اسناد تقسیم کیں شرکاء نے تربیتی پروگرام کو مفید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ورکشاپ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور مہارتوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے عوام کو بہتر صحت کی سہولیات اور رہنمائی فراہم کریں گے۔
خبرنامہ نمبر8745/026
کوئٹہ، 8 اکتوبر 2026: ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران کی خصوصی ہدایت پر محکمہ سوشل ویلفیئر کے ویلفیئر ہوم فار بیگرز نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں پیشہ ور گداگروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 10 خواتین سمیت 13 افراد کو گرفتار کرلیا۔محکمہ سوشل ویلفیئر کے مطابق ڈائریکٹر جنرل میر سیف اللہ خان کھیتران نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کوئٹہ شہر میں پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے، عوامی مقامات پر بھیک مانگنے والے افراد کی نشاندہی اور انہیں قانونی و فلاحی طریقہ کار کے تحت ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں۔ڈی جی سوشل ویلفیئر کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ویلفیئر ہوم فار بیگرز کی ٹیم نے جمعرات کو کوئٹہ کے مختلف علاقوں جناح روڈ، قندھاری بازار، لیاقت بازار، پرنس روڈ، پٹیل روڈ، ڈبل روڈ اور سریاب روڈ (بس/کوچ گلی نمبر 1 اور 2) میں کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 13 پیشہ ور گداگر، جن میں 10 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں، کو حراست میں لیا گیا، جنہیں ضروری قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانے منتقل کردیا گیا۔محکمہ سوشل ویلفیئر کے حکام کا کہنا ہے کہ پیشہ ور گداگری کے خلاف کارروائیوں کا مقصد شہر میں منظم گداگری کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو حقیقی معنوں میں مدد اور بحالی کے مستحق ہیں۔ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ پیشہ ور گداگروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس ضمن میں قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ کوئٹہ شہر کے اہم شاہراہوں، بازاروں اور عوامی مقامات کو پیشہ ور گداگری سے پاک کرنے میں مدد مل سکے۔
خبرنامہ نمبر8746/026
کوئٹہ، 8 اکتوبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار، میرٹ اور بامعنی مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ حکومت نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے بجائے قانونی معیشت کا حصہ بننے کے لیے مواقع، وسائل اور رہنمائی فراہم کر رہی ہے حکومت کا مقصد صرف نوجوانوں کو تربیت دے کر سرٹیفکیٹ دینا نہیں بلکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، حکومت بلوچستان ہنر سیکھنے والے نوجوانوں کو سازگار ماحول، بلا سود قرضے، کاروباری معاونت اور مسلسل رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے علاقوں میں یا ملک کے کسی بھی حصے میں باعزت کاروبار شروع کرسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں محکمہ صنعت و تجارت حکومت بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان کے فنڈڈ ریزیلینس، انٹیگریشن اینڈ سوشیو اکنامک ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت ضلع کیچ، گوادر، پنجگور اور خاران سے تعلق رکھنے والے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے تربیت یافتہ گریجویٹس میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب میں تربیت مکمل کرنے والی خواتین اور طالبات میں اسناد بھی تقسیم کیں۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، مشیران، پارلیمانی سیکرٹریز، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طاہر رشید اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج کی تقریب دراصل ان نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی اور اعتراف کا موقع ہے جنہوں نے اپنے گھروں سے نکل کر ہنر حاصل کیا اور تربیت مکمل کرکے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ ان کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو ایک بڑا چیلنج حکومت اور نوجوانوں کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، کابینہ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین نے محسوس کیا کہ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان ایک خلا پیدا ہوچکا ہے، خاص طور پر ریاست کے ساتھ نوجوانوں کی وابستگی میں کمی ایک اہم چیلنج تھی ۔ تشدد کو وہ بنیادی چیلنج نہیں سمجھتے، اصل چیلنج نوجوانوں کو ریاست پاکستان کے ساتھ دوبارہ جوڑنا ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کو اس مقصد کے لیے اپنے ساتھ شامل کیا تاکہ ریاست، حکومت اور نوجوانوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا جاسکے اور پروگرام کے شفاف نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اگر حکومت براہ راست اس نوعیت کے منصوبے شروع کرتی تو سرکاری طریقہ کار کے باعث تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے تھے، اس لیے بی آر ایس پی جیسے ادارے کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام صرف تربیت اور سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر کے بعد کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔ بی آر ایس پی حکومت بلوچستان کے تعاون سے تربیت مکمل کرنے والوں کی مسلسل رہنمائی کرے گا، نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں کاروباری سرگرمیوں کے لیے تیار کیا جائے گا اور حکومت کئی سال تک ان کی معاونت جاری رکھے گی تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی کوشش ہے کہ تربیت یافتہ نوجوان خواتین اور مرد نہ صرف خود روزگار حاصل کریں بلکہ مستقبل میں اپنے خاندانوں اور دیگر نوجوانوں کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن تربیت مکمل کرنے والوں کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ نئے سفر کا آغاز ہے، حکومت بلوچستان انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے ان کا ہاتھ تھامے رکھے گی جہاں وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ انہوں نے سرحدی اضلاع کے نوجوانوں کے لیے حکومت کے روزگار پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ سوچ کر پروگرام شروع کیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں سے وابستہ معیشت کے بجائے نوجوانوں کو قانونی روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زمباد اور اسمگلنگ نوجوانوں کا مستقبل نہیں ہوسکتے، نوجوانوں کو قانونی معیشت کا حصہ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی بچیوں کو تشدد کی طرف لے جانے، انہیں خودکش جیکٹس پہنانے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں نہ معاشرے کی روایات سے مطابقت رکھتی ہیں، نہ اسلام اور نہ ہی انسانی اقدار اس کی اجازت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کی کوششوں کا مقابلہ تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور مواقع فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی دائرے کو محدود کرنے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے قانونی دائرے میں ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جن کے ذریعے وہ اپنے ہنر کو بروئے کار لاکر کاروبار اور روزگار حاصل کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے تربیت، سازگار ماحول، مالی معاونت اور بلا سود قرضوں پر مشتمل ایک جامع پیکیج متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ان کے لیے خصوصی ترجیح رکھتی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ صوبے کی بچیوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ معاشرہ اس وقت حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا جب خواتین معاشی اور سماجی میدان میں آگے بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ خواتین کی معاشی شمولیت نے وہاں کی معیشت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جب بلوچستان کی خواتین آگے بڑھیں گی تو وہ اپنے بھائیوں، شوہروں اور بچوں کو بھی ترقی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف لے جائیں گی۔ حکومت اسی وژن کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں مدعو کرنا بھی اسی عزم کا اظہار ہے تاکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے حکومتی وژن کو عملی طور پر نمایاں کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت صحت کے شعبے میں بھی جدید اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرا رہی ہے اور صوبے میں ڈیجیٹل صحت کے اقدامات کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت کو سری لنکا میں عالمی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا جبکہ اب ناروے میں بھی انہیں مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے اور نوجوانوں کو ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا مقصد نوجوانوں کو ہنرمند، کاروباری اور باعزت شہری بنانا ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کو چھوڑ کر قانونی دائرے میں آگے بڑھنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرحدی اضلاع سے اس پروگرام کا آغاز کیا کیونکہ یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ وہاں نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہیں، اس لیے وہ اسمگلنگ کی طرف جاتے ہیں۔ حکومت نے اس سوچ کا عملی جواب دیا ہے اور نوجوانوں کو متبادل مواقع فراہم کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ سرحدی اضلاع کی ان بچیوں نے اپنے گھروں سے نکل کر تربیت حاصل کی ہے، جو آسان فیصلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرے سے تعلق رکھنے کے باعث وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ بچیوں کو گھر سے نکل کر تربیت اور روزگار کے لیے آگے آنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ باعث فخر ہے کہ بلوچستان کی بچیاں ان مشکلات کے باوجود آگے بڑھ رہی ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے لیے اس پروگرام کو صرف سرحدی اضلاع تک محدود نہیں رکھے گی بلکہ اسے پورے صوبے تک وسعت دی جائے گی۔ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود فاصلے کو مکالمے، بااختیار بنانے، روزگار، ملازمتوں کے مواقع اور میرٹ کی بالادستی کے ذریعے کم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 15 ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں اور حکومت نے میرٹ کو بنیادی اصول بنایا ہے۔ انہوں نے میڈیا اور عوام سے کہا کہ اگر کسی بھرتی میں میرٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔ حکومت احتساب کے لیے تیار ہے اور میرٹ کی بالادستی کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مہم بھی بھرپور انداز میں جاری ہے، کیونکہ جب تک معاشرے کو کرپشن کی لعنت سے نجات نہیں ملتی اور میرٹ کو فروغ نہیں دیا جاتا، ترقی کا سفر مکمل نہیں ہوسکتا انہوں نے جناح پیپلز ٹرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے پچاس روپے کے کرائے میں جدید سفری سہولت فراہم کی ہے تاکہ مزدور، طلبہ، خواتین اور عام شہری باعزت انداز میں سفر کرسکیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹرین پر پتھراؤ، نشستوں کو نقصان پہنچانے اور اس کے پرزے چوری کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جناح پیپلز ٹرین عوام کے لیے ہے، نہ کہ وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری یا کابینہ کے اراکین کے لیے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سہولیات کی حفاظت خود کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو جدید سفری سہولت فراہم کی ہے اور شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری املاک کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنک بسوں اور گرین بسوں کی سروسز کو بھی بلوچستان کے دیگر علاقوں تک وسعت دی جارہی ہے۔ تربت میں گرین بس سروس کے لیے عوامی استعمال کی شرح حوصلہ افزا ہے اور چار بسوں سے شروع ہونے والی سروس کو مزید بڑھایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو صرف روزگار ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔ ان کے لیے ہارورڈ اور آکسفورڈ سمیت دنیا کی معروف جامعات میں پی ایچ ڈی پروگرامز اور وظائف کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کے لیے پروپیگنڈا استعمال کرتے ہیں، نوجوانوں کو ان کے بیانیے کے بجائے تعلیم، ہنر اور ترقی کے مواقع کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کمشنر ایک ڈویژن کی سربراہی کررہی ہیں، جو خواتین کو آگے لانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مزید پروگرامز شروع کرے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رواں سال نوجوانوں کے لیے تین ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگر بی آر ایس پی، اخوت پاکستان اور محکمہ صنعت و تجارت اس رقم کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہیں تو حکومت مزید تین ارب روپے فراہم کرے گی، اس کے بعد اس رقم کو نو ارب اور پھر گیارہ ارب روپے تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ حکومت نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو نوجوان تشدد کے راستے پر ہیں، ان کے لیے بھی ریاست اور حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو حکومت انہیں تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں اور تشدد کے بجائے عزت، تعلیم، ہنر اور ترقی کا راستہ اختیار کریں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے لیے ایک طرف تعلیم، روزگار، کاروبار اور دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں تک رسائی کے مواقع موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف تشدد کا راستہ ہے جس کا انجام تباہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں اور ترقی و خوشحالی کا راستہ اختیار کریں۔ وزیر اعلیٰ نے بی آر ایس پی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کا بنیادی کردار حکومت اور نوجوانوں کے درمیان پل کا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام کو صرف بی آر ایس پی کی کاوش کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ یہ حکومت بلوچستان کا پروگرام ہے جسے شفافیت اور مؤثر عملدرآمد کے لیے بی آر ایس پی کے ذریعے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان، صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی نوجوانوں کے لیے یہ اقدامات کررہی ہیں اور ان پروگرامز کی ملکیت حکومت بلوچستان کی ہے۔ بی آر ایس پی سمیت شراکت دار اداروں کا کردار حکومت کے پروگرامز کو شفاف اور مؤثر انداز میں مستحق افراد تک پہنچانا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے لیے اس پروگرام کو جاری رکھے گی اور سرحدی اضلاع سے شروع ہونے والے اس اقدام کو پورے بلوچستان تک پھیلایا جائے گا۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانا، خواتین کو مواقع فراہم کرنا، روزگار پیدا کرنا، میرٹ کو یقینی بنانا اور ریاست کے ساتھ نوجوانوں کی وابستگی مضبوط کرنا حکومت کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری صنعت و تجارت، بی آر ایس پی، محکمہ صنعت و تجارت کے متعلقہ حکام اور پروگرام میں کردار ادا کرنے والے تمام اداروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے آئندہ بھی ایسے مزید پروگرامز کے تصورات سامنے لائے جائیں جنہیں حکومت اپنے شراکت دار اداروں کے تعاون سے عملی جامہ پہنائے گی۔ تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تربیت مکمل کرنے والی خواتین اور طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر8747/026
08 اکتوبر2026
سوراب : آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور ڈی آئی جی خضدار رینج جناب عمران قریشی کے خصوصی اقدامات کے تحت، ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ کی ہدایات اور ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او گدر سوراب عبدالعزیز خدرانی کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ پولیس سوراب کو نئی ہونڈا موٹر سائیکلیں فراہم کر دی گئیں۔نئی موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے موقع پر سوراب شہر میں پولیس کی جانب سے موٹر سائیکل روڈ مارچ بھی کیا گیا، جس کا مقصد پٹرولنگ کو مزید مؤثر، پولیس کی فیلڈ موجودگی کو مضبوط اور شہریوں میں احساسِ تحفظ کو فروغ دینا ہےپولیس حکام کے مطابق نئی موٹر سائیکلوں کے ذریعے شہر کے اندرونی و حساس علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر مؤثر گشت جاری رکھا جائے گا، جبکہ جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کی فیلڈ سرگرمیوں کو مزید فعال بنایا جائے گا۔*
خبرنامہ نمبر8748/026
تربت.7 اکتوبر 2026: ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر مانیٹرنگ کالجز شریف شمبے زئی نے گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ناصر آباد کا دورہ کیا۔اس موقع پر پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لیے تعلیم، مطالعہ، محنت اور مستقل مزاجی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ طلبہ کلاس روم میں اساتذہ سے سوالات کریں چیزوں کا تجزیہ کریں اور روزانہ باقاعدگی سے مطالعہ کو معمول بنائیں انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف ملازمت کا حصول نہیں بلکہ ایک باصلاحیت اور ذمہ دار انسان کی تشکیل ہے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ طلبہ کے لیے مثبت اور مؤثر تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تدریس کو عملی و تخلیقی سرگرمیوں سے منسلک کیا جائے اور طلبہ کی انفرادی تعلیمی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جائے انہوں نے کالج میں بک ریویو، مطالعاتی نشستوں، مباحثوں اور دیگر علمی و تخلیقی سرگرمیوں کے انعقاد کی ہدایت بھی کی۔بعدازاں پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے کالج کی زیر تعمیر عمارت کا معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ تعمیراتی کام کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ کو جلد مستقل اور مناسب تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔
خبرنامہ نمبر8749/026
8 اکتوبر 2026:
دُکی: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ واٹر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایس پی علی حسن لاشاری سمیت ڈسٹرکٹ واٹر کمیٹی کے دیگر متعلقہ ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع دُکی میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ، بورز کی تنصیب، پانی کے استعمال کو منظم بنانے اور آبی وسائل سے متعلق دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ضلع میں زیرِ زمین پانی کی موجودہ صورتحال اور آبی وسائل کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ پانی کے ضیاع کی روک تھام اور دستیاب آبی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے واضح کیا کہ متعلقہ این او سی کے بغیر کسی بھی شخص کو بور لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع میں پہلے سے نصب بورز کا بھی ریکارڈ مرتب کرتے ہوئے انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق ریگولرائز کیا جائے اور ان کے لیے ضروری این او سی کے اجراء کا طریقہ کار مکمل کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ، بورز کی تنصیب کی مؤثر نگرانی اور آبی وسائل کے منظم و پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/8749
تربت8 اکتوبر:ـیونیورسٹی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور سماجی خدمت کے عزم کے تحت، یونیورسٹی آف تربت کے مین کیمپس میں ایک روزہ سی بی سی ہیلتھ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس فلاحی پروگرام کا اہتمام شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز اور ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز نے ایڈوانسڈ لیبارٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کراچی کے تعاون سے کیا تھا۔ کیمپ کے دوران سینکڑوں طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کو انتہائی رعایتی نرخوں پر بنیادی تشخیصی بلڈ ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی گئ۔ کیمپ کے دوران طبی ٹیموں نے بین الاقوامی بائیو سیفٹی پروٹوکولز پر سختی سے عمل پیرا ہوکر جراثیم سے پاک ایک ہی بار استعمال ہونے والے طبی آلات کا استعمال کیا اور میڈیکل ویسٹ کو سائنسی طریقہ سے تحت تلف کیا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے ہیلتھ کیمپ کے کامياب انعقاد پر شعبہ نیچرل اینڈ بیسک سائنسز، ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز اور ایڈوانسڈ لیبارٹریز کی مشترکہ کاوششوں کو سراہتے ہوئے رضاکار ٹیموں کو مبارکباد پیش کی یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ طلبہ اور ملازمین کی صحت اور جسمانی و ذہنی تندرستی کو یقینی بنانا ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8750
بارکھان/رکھنی8 اکتوبر:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن “خوشحال بلوچستان” کے تحت صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، سرکاری املاک کے تحفظ اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے تحصیلدار کریم بخش اور متعلقہ پٹواریوں کے ہمراہ زیرِ تعمیر رکھنی ماڈل بازار کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ساڑھے تین ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرا لی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر موجود اراضی کا معائنہ کیا اور متعلقہ اہلکاروں سے ریکارڈ اور اراضی کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی عوامی مفاد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص ہے، جس پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات برداشت نہیں کی جائیں گی۔انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور سرکاری املاک پر تجاوزات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/8751
کوئٹہ8اکتوبر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) صوبے میں پروفیشنز، ٹریڈز، کالنگز اور ایمپلائمنٹ سے وابستہ افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور ٹیکس بیس کو وسعت دینے کے لیے اقدامات تیز کر رہی ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ شعبوں میں رجسٹریشن، ٹیکس تعمیل اور واجب الادا پروفیشنل ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے آگاہی اور انفورسمنٹ کا عمل جاری ہے، تاکہ قابلِ ٹیکس سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں دستاویزی شکل دی جا سکے۔اس سلسلے میں کاروباری افراد اور متعلقہ پیشہ ور افراد پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ قابلِ اطلاق قوانین کے تحت بروقت رجسٹریشن، درست معلومات کی فراہمی اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔
BRA حکام کے مط بیس میں توسیع، شفاف ٹیکس نظام اور مؤثر ٹیکس وصولی کے ذریعے صوبائی محصولات میں اضافہ اور عوامی خدمات و ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے وسائل میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8752
سوراب08 اکتوبر:ـ ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سعید احمد ساسولی، اسسٹنٹ انجینئر عبدالخالق سمیت دیگر افسران کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج سوراب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے حاضری چیک کی، طلباء سے مختلف سوالات کیے اور کالج کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی جائزہ لیا پرنسپل امان اللہ زہری نے ڈپٹی کمشنر کو کالج کی تعلیمی و انتظامی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے تحت کالج میں بہت جلد مزید اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے اسٹاف کی حاضری، صفائی اور دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور مزید بہتری لانے کی ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8753
بارکھان8 اکتوبر: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسان الدین کاکڑ کی زیرِ صدارت غیر قانونی بجلی کنکشنز اور بجلی چوری کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ڈی او واپڈا اور ڈی ایس پی پولیس محمد علی نے شرکت کی۔اجلاس میں غیر قانونی کنکشنز اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے مؤثر لائحہ عمل طے کرتے ہوئے باقاعدہ کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ واپڈا اور پولیس مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں گے۔
اس موقع پر شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قانونی بجلی میٹر کے استعمال کو یقینی بنائیں اور غیر قانونی کنکشنز سے گریز کریں۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8754
بارکھان/رکھنی8 اکتوبر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن “خوشحال بلوچستان” کے تحت صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، سرکاری املاک کے تحفظ اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے تحصیلدار کریم بخش اور متعلقہ پٹواریوں کے ہمراہ زیرِ تعمیر رکھنی ماڈل بازار کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ساڑھے تین ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرا لی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر موجود اراضی کا معائنہ کیا اور متعلقہ اہلکاروں سے ریکارڈ اور اراضی کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی عوامی مفاد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص ہے، جس پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات برداشت نہیں کی جائیں گی۔انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور سرکاری املاک پر تجاوزات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائینگے ۔







