خبر نامہ نمبر8648/2026
کوئٹہ، 07 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ کے علاقوں سیاہ پشت اور کلی گشتری میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کیے جانے پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں موثر انداز میں جاری ہیں۔ مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 5 دہشت گردوں کا ہلاک ہونا دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں اہم پیش رفت ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہی ہیں۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور امن کے دشمن عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8649/2026
کوئٹہ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور صوبے میں میرٹ پر مبنی نظام کے قیام کے تحت صوبائی حکومت نے سرکاری بھرتیوں کے عمل کو شفاف، میرٹ پر مبنی اور انسانی مداخلت سے حتی الامکان پاک بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے، جہاں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) بلوچستان نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید ڈیجیٹل بھرتی و اسیسمنٹ سسٹم ProMetriX متعارف کرایا ہے۔یہ جدید نظام ملازمت کے اشتہار سے لے کر امیدوار کی حتمی تقرری تک بھرتی کے پورے عمل کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی مداخلت، صوابدیدی اختیارات، اقربا پروری، پرچوں کے افشا ہونے اور امیدواروں کے انتخاب سے متعلق شکوک و شبہات کے خاتمے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
ProMetriX کے تحت امیدوار پی پی ایچ آئی کے آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواستیں جمع کراتے ہیں، جس کے بعد نظام خودکار طور پر محفوظ کیو آر کوڈ پر مشتمل ایڈمیشن سلپ جاری کرتا ہے۔ شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں کی شناخت اور اسناد کی تصدیق نادرا کے ذریعے کی جاتی ہے، جبکہ تمام امیدواروں کے لیے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔نظام کی ایک اہم خصوصیت روایتی پینل انٹرویو کے طریقہ کار کی جگہ معیاری سوالات پر مشتمل ویڈیو جوابات کا استعمال ہے، جن کا جائزہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے امیدواروں کی جانچ میں انسانی جانبداری اور غیر ضروری مداخلت کے امکانات کو کم کیا گیا ہے۔پی پی ایچ آئی بلوچستان کی جانب سے اس جدید نظام کے تحت بڑے پیمانے پر بھرتی کا عمل بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس میں لیڈی میڈیکل آفیسرز، گائناکالوجسٹس، ماہرین اطفال، متعدی امراض، امراض قلب، امراض جلد، نفسیات اور پلمونری امراض کے ماہرین سمیت مختلف شعبوں کی 652 آسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں۔
ProMetriX کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ٹیسٹ مکمل ہوتے ہی نتائج خودکار طور پر مرتب ہوتے ہیں اور میرٹ لسٹ فوری طور پر تیار کی جاتی ہے۔ اسی طرح اجلاس کی کارروائی بھی خودکار طریقے سے مرتب ہونے کے بعد کامیاب امیدواروں کو تقرری کے خطوط جاری کیے جا سکتے ہیں، جس سے روایتی دفتری تاخیر اور غیر ضروری بیوروکریٹک مراحل میں نمایاں کمی آتی ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل گورننس اور میرٹ پر مبنی بھرتی کے نظام کو فروغ دینے کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ProMetriX جیسے جدید نظام کو مستقبل میں دیگر سرکاری محکموں اور اداروں تک وسعت دے کر بھرتی کے عمل کو مزید موثر، شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکتا ہے۔بلوچستان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال صوبے میں جدید طرز حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو تقویت دے سکتا ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8650/2026
7 اکتوبر نصیرآباد۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر سننے اور فوری طور پر حل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت تحصیل مانجھوٹی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں تمام متعلقہ ضلعی محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی، جبکہ تحصیل مانجھوٹی کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اپنے مسائل اور مشکلات سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیاکھلی کچہری کے دوران شہریوں نے اپنے مسائل زبانی اور تحریری طور پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد اور متعلقہ افسران کے سامنے پیش کیے عوام کی جانب سے بالخصوص زراعت، تعلیم، صحت، بجلی کی فراہمی سڑکوں و دیگر بنیادی سہولیات ترقیاتی منصوبوں پینے کے پانی اور دیگر عوامی نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کی گئیڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور شکایات کو توجہ سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے افسران کو تاکید کی کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے جائز مسائل کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گیاس موقع پر مختلف محکموں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں سے متعلق عوامی شکایات اور سوالات کے جوابات دیے اور متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی عملی اقدامات اور ضروری کارروائی کی یقین دہانی کرائی بعض مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں جبکہ ایسے مسائل جن کے حل کے لیے مزید کارروائی درکار تھی ان کے لیے متعلقہ محکموں کو باقاعدہ ہدایات جاری کی گئیںڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد انتظامیہ اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کو مزید مضبوط بنانا اور عوامی شکایات کو متعلقہ حکام تک فوری طور پر پہنچا کر ان کا حل یقینی بنانا ہےانہوں نے کہا کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ سے براہِ راست رابطہ کرسکتے ہیں اور انتظامیہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں اور شکایات پر پیش رفت کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیںکھلی کچہری کے دوران عوام نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان کے مسائل سننے اور موقع پر متعلقہ افسران کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا شہریوں نے کہا کہ کھلی کچہری کے ذریعے انہیں اپنے مسائل براہِ راست ڈپٹی کمشنر اور ضلعی محکموں کے افسران کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا جس سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے میں مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8651/2026
رکھنی 07اکتوبر ۔ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن کوہِ سلیمان ڈویژن ڈاکٹر سلیم زرکون نے مختلف تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کرتے ہوئے تدریسی و انتظامی امور، اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول عیشانی، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول عیشانی اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گڈائی رکھنی کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران طویل عرصے سے غیر حاضر اور فرائض میں غفلت برتنے والے ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کے خلاف موقع پر ہی معطلی کے احکامات اور توضیحی نوٹس جاری کیے گئے۔بعد ازاں ڈاکٹر سلیم زرکون نے ایڈیشنل کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار سے ملاقات کی، جس میں ضلع کوہلو کے تعلیمی شعبے سے متعلق اہم مسائل اور شکایات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں بالخصوص کنٹریکٹ اساتذہ کی مبینہ جعلی اسناد کے معاملے سمیت دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں حاضری، نظم و ضبط اور معیارِ تعلیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ غفلت اور غیر حاضری کے مرتکب ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8652/2026
7 اکتوبر ۔جھل مگسی۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ سے ضلع کے مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور ضلع میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کے فوکل پرسنز نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں عوامی سہولیات کی فراہمی متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور فلاحی سرگرمیوں سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جھل مگسی عبدالغفور جمالی ایکسیئن بی اینڈ آر بلڈنگ جھل مگسی ظفر اقبال ابڑو پرنسپل انٹر کالج جھل مگسی مظفر علی ایکسیئن روڈ ثابت علی، ڈاکٹر منصور احمد ترین ضلعی آفیسر ماحولیات خادم حسین مگسی جبکہ جھل مگسی میں کام کرنے والی مختلف آرگنائزیشنز کے فوکل پرسن سیف اللہ لاسکانی مگسی سمیت دیگر متعلقہ افسران و نمائندگان نے شرکت کیاس موقع پر متعلقہ افسران اور تنظیموں کے نمائندگان نے اپنے اپنے محکموں اور اداروں کی مجموعی کارکردگی جاری ترقیاتی و فلاحی منصوبوں عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سید رحمت اللہ شاہ کو تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے جاری منصوبوں پر پیش رفت درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیاڈپٹی کمشنر سید رحمت اللہ شاہ نے افسران کو ہدایت کی کہ ضلع میں جاری تمام ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کاموں کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کے مسائل کے فوری حل اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیںانہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں تاکہ جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے ثمرات عوام تک موثر انداز میں پہنچ سکیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اپنے اپنے محکموں کے جاری منصوبوں اور سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، کام کے معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی رکاوٹ یا مسئلے کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو بروقت آگاہ کیا جائےڈپٹی کمشنر نے ضلع میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور معاشرے کی بہتری کے لیے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان موثر رابطہ اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8653/2026
گوادر07 اکتوبر۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر محمد حسن نے کہا ہے کہ آرٹ اور تخلیقی سرگرمیاں طلبہ و طالبات میں مشاہدے، تخیل، جمالیاتی ذوق اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے ساتھ ان کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے نوجوانوں کو اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں وہ گوادر ایجوکیشنل اینڈ انوائرمنٹل ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام شگراللہ آرٹ گیلری میں منعقدہ ”بیادِ رحیمہ بانو“ آرٹ مقابلے سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ آرٹ مقابلہ مرحومہ رحیمہ بانو، سابق ہیڈ مسٹریس بخشی گرلز اسکول گوادر کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے نام سے منسوب کیا گیا تھا، جس میں گوادر کے مختلف سرکاری و نجی اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی ایجوکیشن آفیسر نے جیوزکی جانب سے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور آرٹ مقابلے و نمائش کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے، تخلیقی سوچ کو فروغ دینے اور فن کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔جیوز کے صدر کے بی فراق نے کہا کہ جبوز گوادر کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے آرٹ نمائشوں، ورکشاپس اور دیگر فنی و تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی طلبہ و طالبات کے لیے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔تقریب میں مرحومہ رحیمہ بانو کے فرزند صابر محمد حنیف، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ مقابلے میں قادر الٰہی بخش نے پہلی، شاکر مراد جان نے دوسری جبکہ آمنہ علی اکبر نے تیسری پوزیشن حاصل کی،تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے پوزیشن ہولڈرز اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8654/2026
6 اکتوبر نصیرآباد۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز پیش آنے والے روڈ ٹریفک حادثے (RTA) کے نتیجے میں مجموعی طور پر 12 متاثرین کو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی لایا گیا، جہاں ہسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے زخمیوں کو فوری اور ضروری طبی امداد فراہم کیمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی کے مطابق حادثے کے متاثرین میں سے ایک شخص ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی جاں بحق ہو چکا تھا جبکہ ایک شدید زخمی مریض کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا۔ مذکورہ مریض کی حالت گَسپنگ کنڈیشن میں تھی، جسے ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد اور ضروری طبی اقدامات فراہم کرنے کے بعد مزید بہتر اور خصوصی طبی سہولیات کے لیے اعلیٰ مرکز صحت ریفر کر دیا گیاانہوں نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں 2 مریضوں کے بازو کی ہڈیوں میں فریکچر ہوئے جنہیں ہسپتال میں فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کی حالت کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اسی طرح 8 زخمی مریضوں کو درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں جنہیں بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ٹیچنگ ہسپتال کے مردانہ وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ طبی ماہرین کی نگرانی میں ان مریضوں کی حالت کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور صحت یابی کے بعد انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گاڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی میں حادثات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ یہاں آنے والے تمام مریضوں کو بروقت موثر اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائےانہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کی بہتر نگہداشت علاج معالجے اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جبکہ ڈاکٹرز نرسنگ اسٹاف اور دیگر پیرامیڈیکل عملہ مریضوں کی خدمت اور انہیں ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہے.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8655/2026
کراچی/گوادر 07 اکتوبر ۔ چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ٹرانزٹ ٹریڈ عرفان جاوید سے ملاقات کی، جس میں گوادر پورٹ سے گبد/ریمدان 250 بارڈر کراسنگ کے ذریعے ایران کے لیے ٹرانزٹ تجارت اور کارگو کی نقل و حرکت کو مزید سہل، موثر اور منظم بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں گوادر پورٹ سے ایران کو کارگو کی ترسیل، ٹرانزٹ تجارت، کسٹمز کلیئرنس اور تجارتی طریقہ کار سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے گوادر پورٹ اور ایران کے درمیان ہموار اور موثر تجارتی راہداری کے قیام پر مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں چیئرمین پورٹ نے اس موقع پر گوادر پورٹ کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت اور سرحدی تجارتی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی عمل میں سہولت، شفافیت اور موثر رابطہ کاری سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ وزارتِ تجارت اور ایف بی آر کی جانب سے جاری واضح ہدایات کے باوجود گوادر پورٹ سے سرحدی تجارت اور متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کو بعض عملی مشکلات درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط مشاورت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ جمعرات کو ایک اہم اور وسیع اجلاس منعقد ہوگا، جس میں کسٹمز حکام، چیمبر آف کامرس، گوادر پورٹ، گبد/ریمدان بارڈر سے وابستہ تاجر اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شرکت کریں گے۔ اجلاس میں درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لے کر ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ملاقات کو گوادر پورٹ کے ذریعے کارگو ٹرانسپورٹ، ٹرانزٹ تجارت اور پاکستان و ایران کے درمیان سرحد پار تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے جبکہ گوادر پورٹ سے گبد/ریمدان بارڈر کے ذریعے ایران اور دیگر علاقائی منڈیوں تک تجارتی رسائی میں بہتری سے گوادر کی علاقائی تجارتی گیٹ وے کے طور پر اہمیت مزید مستحکم ہونے اور خطے میں تجارت و اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کی توقع ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8656/2026
لورالائی، 7 اکتوبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کی زیرِ صدارت تحصیلدار اور پٹواریوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ مال سے متعلق امور، ریونیومعاملات، عوامی مسائل کے فوری حل سرکاری ریکارڈ کی بروقت تکمیل و درستگی اور زیرِ التواء کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر احمد زیب نے تحصیلدار اور پٹواریوں کو ہدایت کی کہ عوام کو ریونیو سے متعلق معاملات میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور شہریوں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے سرکاری ریکارڈ کو مکمل، درست اور اپ ڈیٹ رکھنے، زیرِ التواء کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنانے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ محکمہ مال براہِ راست عوام سے متعلق اہم شعبہ ہے، اس لیے تمام افسران و اہلکار اپنی ذمہ داریاں فرض شناسی، ایمانداری، شفافیت اور میرٹ کے تقاضوں کے مطابق انجام دیں۔ ریونیو امور میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ عوام کو موثر اور بہتر خدمات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیےاجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر میختر اسرار احمد بھی شریک تھے، جنہوں نے محکمہ مال سے متعلق امور اور عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اجلاس کے اختتام پر افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ ریونیو سے متعلق تمام معاملات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8657/2026
بارکھان 7 اکتوبر۔ ملک بھر کی طرح ضلع بارکھان میں بھی 7 اکتوبر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی ہدایت پر اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان حسام الدین کاکڑ کی زیرِ نگرانی ایک شاندار اور پرجوش ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں ضلعی انتظامیہ کے مختلف محکموں کے افسران، اہلکاروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی کے شرکاءنے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کا بھرپور اظہار کیا۔ ریلی کے دوران شہر کی فضا ملی جوش و جذبے سے گونجتی رہی، جبکہ شرکاء نے ملک کی سلامتی، خودمختاری، امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے افسران نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے لیے پاک فوج کی قربانیاں اور خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ملکی دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔شرکاء ن اس عزم کا اظہار کیا کہ وطن عزیز کی سلامتی، امن اور ترقی کے لیے ہر فرد اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔ ریلی میں سرکاری افسران، اہلکاروں اور عوام کی بھرپور شرکت نے قومی اتحاد اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید اجاگر کیا۔ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8658/2026
قلعہ سیف اللہ: ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے ایکسین ایریگیشن اعظم کاکڑ کے ہمراہ ضلع قلعہ سیف اللہ میں جاری مختلف آبپاشی اسکیموں کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔
ملاقات کے دوران سٹی ڈیم، خاصور ڈیم اور سامخیال ڈیم سمیت دیگر جاری آبپاشی منصوبوں کے تعمیراتی کام، موجودہ صورتحال اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے متعلقہ حکام سے منصوبوں کی تکمیل، کام کی رفتار اور درپیش مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر آبپاشی اسکیموں کو بروقت مکمل کرنے، تعمیراتی کام کے معیار کو برقرار رکھنے اور علاقے کے عوام کو بہتر آبپاشی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ایکسین ایریگیشن اعظم کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر کو جاری منصوبوں کی پیش رفت اور مختلف اسکیموں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی کاموں کی موثر نگرانی کرتے ہوئے انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8659/2026
لورالائی. 07اکتوبر۔نعیم کونسلر نے علاقے میں صفائی ستھرائی کے مسائل بروقت حل کرنے اور موثر صفائی انتظامات پر میونسپل کمیٹی لورالائی کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر ناصر، چیف آفیسر محیب اللہ خان بلوچ اور صفائی عملے کی خدمات و کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں میں صفائی کے بہتر انتظامات قابلِ تحسین اقدام ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8661/2026
کوئٹہ 7 اکتوبر۔گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ کے وفد نے عصمت اللہ کی قیادت میں ملاقات کی۔ ملاقات میں نوجوانوں کو پارلیمانی امور، جمہوری عمل اور پالیسی سازی سے روشناس کرانے سمیت صوبے میں نوجوانوں کیلئے موثر پلیٹ فارم کے قیام اور اسے مزید فعال بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ کے تنظیمی ڈھانچے اور اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ وفد کے مطابق یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ کا ڈھانچہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کی طرز پر تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو پارلیمانی طریقہ کار، قانون سازی، بحث و مباحثے اور جمہوری اداروں کے کام سے عملی طور پر آگاہ کرنا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں فیصلہ سازی، جمہوری اقدار اور پارلیمانی نظام کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سیاسی و سماجی معاملات پر مثبت اور تعمیری مکالمے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں ذمہ دار شہری اور مدبرانہ قیادت کا کردار ادا کر سکیں۔ گورنر نے یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ کو ہدایت کی کہ بلوچستان بھر میں اس پلیٹ فارم کو مزید فعال اور متحرک بنایا جائے اور اس کے دائرہ کار کو صوبے کے مختلف اضلاع تک وسعت دی جائے۔ انہوں نے نوجوانوں میں قیادت، تحقیق، مکالمے، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کے فروغ کیلئے تربیتی پروگرام، مباحثے، موک سیشن اور مطالعاتی سرگرمیاں منعقد کرنے پر بھی زور دیا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ نوجوانوں کو بلوچستان کے تعلیمی، معاشی، سماجی اور ترقیاتی مسائل پر اپنی آراء پیش کرنے اور پالیسی سازی کے عمل کو سمجھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ نوجوانوں کو مختلف شعبوں سے متعلق مسائل پر بحث، تجاویز کی تیاری اور اجتماعی طور پر حل تلاش کرنے کی مشق فراہم کر سکتی ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان تخلیقی صلاحیتوں سے معمور ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب رہنمائی، تربیت اور ضروری مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ کی سرگرمیوں میں تعلیمی اداروں، نوجوانوں کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو یوتھ لیڈرز پارلیمنٹ کی مستقبل کی سرگرمیوں اور صوبے میں اس کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 8662/2026
سیوی 7 اکتوبر ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی احکامات اور صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے تحت مستحق اور باصلاحیت طلبائ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) اسکالرشپس کے حوالے سے ایک خصوصی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ آگاہی سیشن چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد خان ماندائی ,ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی، محکمہ تعلیم کے افسران، مختلف کالجز کے پرنسپلز، سرکاری تعلیمی اداروں کے ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریسز، معززین اور بڑی تعداد میں طلبائ و طالبات نے شرکت کی۔ سیشن کا بنیادی مقصد طلباء و طالبات کو BEEF اسکالرشپ پروگرام کے طریقہ کار، اہلیت کے معیار اور دستیاب تعلیمی مواقع سے آگاہ کرنا تھا، تاکہ مالی مشکلات کے باوجود باصلاحیت طلباء اپنی اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد خان ماندائی اور ان کی آن لائن کوئٹہ ٹیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے سیشن کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء کو گزشتہ دس سال کے دوران BEEF اسکالرشپس سے مستفید ہونے والے طلباء و طالبات، ضلع کے ٹاپرز اور مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں۔BEEF ٹیم نے طلباء و طالبات کو بتایا کہ اسکالرشپ کے لیے درخواست دیتے وقت اہلیت کے معیار، تعلیمی کارکردگی، مقررہ شرائط اور آن لائن درخواست کے طریقہ کار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتی طلباء اور خصوصی افراد کے لیے مختص اسکالرشپ کوٹے سمیت مختلف سہولیات اور مواقع کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کی گئی۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) صوبے کے مستحق، باصلاحیت اور مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے طلباء و طالبات کو تعلیمی معاونت فراہم کرنے کا ایک اہم پروگرام ہے، جس کا مقصد قابل طلباء کو مالی رکاوٹوں کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم ہونے سے بچانا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔BEEF کے ذریعے مختلف تعلیمی سطحوں پر اہل طلباء و طالبات کو اسکالرشپ کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ طلباء کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ اسکالرشپ کی اہلیت، آخری تاریخ، مطلوبہ دستاویزات اور درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار کو پہلے سے سمجھیں اور مقررہ وقت کے اندر درخواست جمع کرائیں۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی بنیاد اور معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہے۔ حکومت بلوچستان مستحق اور باصلاحیت طلباءو طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ BEEF اسکالرشپ ان طلباء و طالبات کے لیے ایک اہم موقع ہے جو صلاحیت اور محنت رکھتے ہیں لیکن مالی مشکلات ان کی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اسکالرشپ کے لیے مقررہ شرائط کو سمجھتے ہوئے بروقت درخواستیں جمع کرائیں۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں میں BEEF اسکالرشپس کے حوالے سے بھرپور آگاہی پیدا کریں اور طلباءو طالبات کو درخواست جمع کرانے کے عمل میں رہنمائی فراہم کریں، تاکہ کوئی بھی اہل اور مستحق طالب علم معلومات کی کمی کے باعث اس موقع سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سیوی کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، انہیں مناسب تعلیمی مواقع، رہنمائی اور معاونت فراہم کرکے مستقبل کا قیمتی اثاثہ بنایا جا سکتا ہے۔باصلاحیت طلباء و طالبات نہ صرف اپنے خاندان بلکہ صوبے اور ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8663/2026
لورالائی:7اکتوبر ۔ملیریا پروگرام کے تحت چار روزہ ICCM (Integrated Community Case Management) تربیتی پروگرام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر فہیم خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملیریا پروگرام سے وابستہ ماہرین، ٹرینرز، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز (CHWs) اور کمیونٹی ریسپانس پرسنز (CRPs) نے بھرپور شرکت کی تربیتی پروگرام میں ہارون احمد، پروگرام آفیسر IHHN (انڈس ہسپتال)، محمد اسحاق، DPC، BRSP ملیریا پروگرام اور امیر عزیز، ماسٹر ٹرینر نے بطور ٹرینرز شرکت کی اور شرکاء کو ملیریا سمیت مختلف متعدی امراض کی روک تھام، بروقت تشخیص، ابتدائی طبی معاونت، مریضوں کی رہنمائی اور کمیونٹی کی سطح پر بیماریوں کے موثر کنٹرول کے حوالے سے تفصیلی تربیت فراہم کی اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملیریا، ایچ آئی وی اور ٹی بی جیسے خطرناک متعدی امراض کو موثر احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص، علاج اور عوام میں شعور و آگاہی کے ذریعے بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے خلاف جنگ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد، بالخصوص کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی ریسپانس پرسنز کا کردار انتہائی اہم ہے انہوں نے کہا کہ معلومات اور شعور ہی بیماریوں کی روک تھام کا موثر ذریعہ ہیں، اس لیے فیلڈ میں کام کرنے والے CHWs اور CRPs عوام کو ملیریا سے بچاو کے طریقوں، مچھر کی افزائش کے خاتمے، صفائی ستھرائی، احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی معائنہ و علاج کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں تاکہ بیماری کے پھیلاو کو موثر انداز میں روکا جا سکےڈاکٹر فہیم خان نے کہا کہ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کے وڑن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ صحت عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ متعدی امراض کی روک تھام اور کمیونٹی کی سطح پر صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کو اس سلسلے کی اہم کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تربیت یافتہ کمیونٹی ورکرز بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور عوام تک صحت سے متعلق درست معلومات پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔تربیتی سیشن کے دوران شرکاءکو عملی مثالوں، سوال و جواب اور مختلف فیلڈ کیسز کے ذریعے بیماریوں کی شناخت، مریضوں کی ابتدائی نگہداشت، بروقت ریفرل اور کمیونٹی میں آگاہی کے موثر طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا اس موقع پر ٹرینرز نے کہا کہ کمیونٹی کی فعال شمولیت کے بغیر متعدی امراض پر مکمل قابو پانا مشکل ہے، اس لیے فیلڈ اسٹاف کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں میں عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے بیماریوں کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی مہم کو مزید موثر بنائیں تربیتی پروگرام کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان نے ٹرینرز اور شرکاء کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تربیت حاصل کرنے والے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی ریسپانس پرسنز فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں مزید موثر انداز میں انجام دیتے ہوئے ملیریا سمیت دیگر متعدی امراض کی روک تھام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8664/2026
گوادر7اکتوبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے چیئرمین عبداللہ خان نے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) کے ڈائریکٹر جنرل معین الرحمٰن سے گوادر میں ملاقات کی۔ملاقات میں گوادر میں قابلِ ٹیکس کاروباری اداروں کی رجسٹریشن، بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور ضلع میں ٹیکس بیس کو وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے ادارہ جاتی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے اور کاروباری افراد کو رجسٹریشن، ٹیکس قوانین کی تعمیل اور متعلقہ ٹیکس خدمات میں بہتر سہولیات فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مو¿ثر ادارہ جاتی تعاون اور کاروباری سہولیات میں بہتری کے ذریعے گوادر میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے اقدامات کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8665/2026
کوئٹہ7اکتوبر۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ممبر آڈٹ اور اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز (SDI) کے پروگرام کوآرڈینیٹر کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) کے حوالے سے ایس ڈی آئی پروگرام، بالخصوص سولرائزیشن سے متعلق ٹیکس امور اور وضاحت طلب نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران سولرائزیشن پروگرام سے متعلق BSTS کے قابلِ اطلاق تقاضوں اور ٹیکس سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ معاملات میں مزید وضاحت اور باہمی رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی۔اجلاس میں ٹیکس قوانین کے موثر نفاذ، متعلقہ اداروں کو رہنمائی فراہم کرنے اور ٹیکس سے متعلق امور کو واضح کرنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8666/2026
کوئٹہ07اکتوبر۔ ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ کی زیرِ صدارت لینڈ ریونیو کلیکشن اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کوئٹہ ڈویژن کے تحصیلداران، نائب تحصیلداران، سب رجسٹرارز اور دیگر ریونیو افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر متعلقہ ریونیو افسران نے ایڈیشنل کمشنر کو اپنی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی اور پروگریس رپورٹس پیش کیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ نے کہا کہ لینڈ ریونیو کلیکشن اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ٹیکس ریکوری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کے مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ زراعت سے سولرائزیشن اسکیم سے استفادہ کرنے والے تمام زمینداروں کی فہرستیں فوری طور پر حاصل کی جائیں اور ایسے زمینداروں کی نشاندہی کی جائے جو حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اپنے واجب الادا زرعی ٹیکس اور دیگر سرکاری واجبات جمع نہیں کرا رہے۔آغا سمیع اللہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زمینداروں کو سولرائزیشن، گرین ٹریکٹر اسکیم، کھاد، بیج اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم اس کے ساتھ زمینداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قانونی و مالی واجبات بروقت ادا کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے زمینداروں کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے متعلقہ ریکارڈ مرتب کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ اپنے اضلاع میں مختلف سرکاری زرعی اسکیموں سے استفادہ کرنے والے زمینداروں کی فہرستیں جلد از جلد مرتب کرکے پیش کی جائیں تاکہ ٹیکس واجبات کی جانچ اور ضروری قانونی کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے ریونیو افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ زمیندار ایکشن کمیٹی کے عہدیداران سے ملاقاتیں کرکے ٹیکس ادائیگی کی اہمیت اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق آگاہی فراہم کریں۔اجلاس میں کسان رجسٹریشن کارڈ اور دیگر سرکاری سہولیات سے استفادہ کرنے والے ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کے امور کا جائزہ لیا گیا جو اپنے واجب الادا ٹیکس یا سرکاری واجبات ادا نہیں کر رہے۔ ایڈیشنل کمشنر نے واضح کیا کہ حکومتی سہولیات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔اجلاس میں تحصیل دفاتر میں پرائیویٹ افراد کی مداخلت اور ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائی کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ تحصیل دفاتر کے اچانک دورے کریں اور اگر کسی غیر متعلقہ یا پرائیویٹ فرد کی مداخلت پائی جائے تو ذمہ داران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔آغا سمیع اللہ نے ریونیو اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی پر خصوصی توجہ دیں اور اپنی ماہانہ ریکوری رپورٹس باقاعدگی سے جمع کرائیں تاکہ ہر تحصیل کی کارکردگی کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تحصیلداران اور ریونیو افسران کی کارکردگی کو نمایاں کیا جائے گا، جبکہ ناقص کارکردگی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈیجیٹلائزیشن کے نظام کے تحت ریونیو ریکارڈ اور رپورٹس کو جلد از جلد مکمل کرکے پیش کیا جائے تاکہ واجبات کی وصولی کے لیے متعلقہ زمینداروں کو بروقت نوٹسز جاری کیے جا سکیں۔ایڈیشنل کمشنر نے عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ان پر مقررہ وقت کے اندر کارروائی کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو نظام میں شفافیت، میرٹ اور عوام کو بروقت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تمام متعلقہ افسران و اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔اجلاس کے اختتام پر لینڈ ریونیو کلیکشن، زرعی انکم ٹیکس، کسان رجسٹریشن، ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، تحصیل دفاتر میں ایجنٹ مافیا کے خاتمے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے حوالے سے متعلقہ افسران کو واضح اہداف اور سیکورٹی سمیت دیگر ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8667/2026
کوئٹہ 07اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کے حوالے سے پوسٹ کمپین ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ، پولیو حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں حالیہ پولیو مہم کی کارکردگی، ای ایس آئیسولیشن، ایم پی کیو اے، ایل کیو اے ایس، زیرو ڈوز بچوں کی کوریج، پولیو ٹیموں کو درپیش مسائل، شِپمنگ سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے پولیو مہم کے دوران پیش آنے والے مسائل اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ مہم میں ان کے تدارک کے لیے مو¿ثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے زیرو ڈوز بچوں تک رسائی، ٹیموں کی کارکردگی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مو¿ثر بنانے پر بھی زور دیا۔اجلاس میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور پولیو پروگرام کے درمیان مربوط رابطہ کاری اور مشترکہ کاوشوں کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8668/2026
گوادر07اکتوبر۔ کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے بلوچ وارڈ میں بی ایس ڈی آئی کے تحت مکمل ہونے والے فٹسال گراو¿نڈ کے افتتاح کے موقع پر کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کیے۔اس موقع پر کمشنر مکران نے بین الاقوامی سطح پر کھیلنے والی کھلاڑی حفصہ نثار کے لیے ماہانہ وظیفہ جاری کرنے کے احکامات دیے تاکہ انہیں تعلیم کے حصول میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ کھیل کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکیں۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے حفصہ نثار کو وظیفے کے احکامات حوالے کیے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ حکومت بلوچستان نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کر رہی ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان اور ملک کا نام مزید روشن کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8669/2026
گوادر07اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت حکومتِ بلوچستان کے رائز پروگرام کے تحت گوادر ایمبولنس سروس کے لیے گرانٹ کی فراہمی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں بلوچستان رائز پروگرام، ضلعی انتظامیہ اور گوادر ایمبولنس سروس کے نمائندگان سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔بلوچستان رائز پروگرام حکومتِ بلوچستان کا ایک اہم پروگرام ہے جو بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے تعاون سے جاری ہے، جس کا مقصد مقامی اداروں کو بااختیار بنانا، عوامی شمولیت کو فروغ دینا، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنا اور معاشرے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔تقریب کے دوران چیئرمین گوادر ایمبولنس سروس نسیم موسیٰ نے سروس کی کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر ایمبولنس سروس کے قیام سے اب تک تقریباً 4 ہزار 10 مریضوں، میتوں اور مختلف ہنگامی کیسز کو طبی سہولیات اور آمدورفت کی خدمات فراہم کی گئی ہیں، جن میں ٹریفک حادثات، بیماری، ایمرجنسی اور میتوں کی منتقلی سمیت دیگر کیسز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں جیونی میں بھی ایمبولنس سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے گوادر ایمبولنس سروس کی عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے چیئرمین اور پوری ٹیم کی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گوادر ایمبولنس سروس کے لیے ماہانہ فیول کوٹہ مقرر کرنے کا اعلان کیا تاکہ سروس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع گوادر میں طویل عرصے سے خراب سات ایمبولنسز کو بی ایس ڈی آئی کے تحت جلد بحال کرکے دوبارہ سڑکوں پر لایا جائے گا، جبکہ ضرورت کے مطابق اچھی حالت میں موجود بعض ایمبولنسز بھی گوادر ایمبولنس سروس کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر ایمبولنس سروس کو عوامی خدمت کے اس اہم شعبے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے جیونی میں ایمبولنس سروس کے قیام کے لیے بھی انتظامی معاونت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی، تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بروقت طبی امداد اور ہنگامی حالات میں فوری رسپانس کی سہولت میسر آسکے۔تقریب سے ایم ایس میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، بلوچستان رائز پروگرام ضلع گوادر کے کوآرڈینیٹر زبیر ہوت، صدر پیرامیڈکس قادر جان اور کونسلر ثناءاللہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے گوادر ایمبولنس سروس کی جانب سے عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے ضلع میں ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم عوامی خدمت قرار دیا۔تقریب کے دوران گوادر ایمبولنس سروس کی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کو اعزازی ایوارڈز بھی پیش کیے گئے۔تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے چیئرمین گوادر ایمبولنس سروس نسیم موسیٰ کو 20 لاکھ روپے کی گرانٹ کا چیک پیش کیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوام کو بروقت، موثر اور قابلِ اعتماد ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سرکاری اداروں اور مقامی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8670/2026
ہرنائی07اکتوبر۔ ضلع ہرنائی میں افواجِ پاکستان کی ملکی سلامتی، بے لوث دفاع اور امن و امان کے قیام کے لیے پیش کی جانے والی گراں قدر خدمات اور عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک پروقار یکجہتی کانفرنس اور شاندار فلیگ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں منعقدہ اس پ±رعزمت تقریب کی صدارت ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کی، جبکہ تقریب میں ضلعی انتظامیہ، پولیس کے اعلٰی حکام، سرکاری افسران، معزز قبائلی عمائدین، اور سماجی و عوامی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے قومی جذبے کا مظاہرہ کیا۔کانفرنس کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے پاک فوج کے بہادر جوانوں اور افسران کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت سے لے کر آفت زدہ حالات تک، پاک فوج نے ہر محاذ پر ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔عوام اور افواج کا اتّحاد: شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم ہر مشکل اور چیلنج کی گھڑی میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔قبائلی عمائدین اور انتظامی افسران نے واضح کیا کہ ارضِ وطن کے امن و استحکام کے لیے پاک فوج کی شاندار قربانیاں تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں، جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کانفرنس کے اختتام کے بعد افواجِ پاکستان سے محبت اور یکجہتی کے عملی اظہار کے طور پر ایک عظیم الشان فلیگ مارچ نکالا گیا۔فلیگ مارچ کا آغاز ڈپٹی کمشنر کمپلیکس سے ہوا، جو شہر کی اہم شاہراہوں بشمول ہرنائی بازار اور ایس پی آفس سے ہوتا ہوا واپس اپنے ابتدائی مقام (ڈی سی کمپلیکس) پر اختتام پذیر ہوا۔مارچ کے شرکاء نے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اٹھا رکھے تھے، جس سے پورا راستہ قومی رنگوں میں رنگ گیا۔فلیگ مارچ کے دوران شرکاء “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج پائندہ باد” کے پرجوش نعرے لگاتے رہے، جس سے علاقے کی فضا وطن پرستی کے جذبے سے گونج اٹھی۔یہ کانفرنس اور فلیگ مارچ نہ صرف ضلعی انتظامیہ اور عوام کا اپنی افواج سے گہرے تعلق کا ثبوت ہے، بلکہ اس بات کی بھی روشن دلیل ہے کہ ملکی سلامتی کے دفاع کے لیے پورا ملک ایک پیج پر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 8672/2026
زیارت 7اکتوبر ۔گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج زیارت میں اساتذہ کی علمی، اخلاقی اور تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ٹیچرز ڈے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی الہجرہ کالج کے پرنسپل پروفیسر شبیر احمد بڑیچ تھے، جبکہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج زیارت کی پرنسپل سمیت کالج کی معزز اساتذہ اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کے دوران طالبات نے اپنی اساتذہ سے محبت، عقیدت اور احترام کے اظہار کے لیے مختلف پروگرامز پیش کیے۔ اس موقع پر اردو اور انگریزی تقاریر کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں طالبات نے بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہوئے اپنی اساتذہ کی محنت، رہنمائی، کردار سازی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ٹیچرز ڈے کی مناسبت سے طالبات نے اپنی اساتذہ کو تحائف بھی پیش کیے، جس پر اساتذہ نے طالبات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے محبت بھرے جذبات کو سراہا۔ اس موقع پر ٹیچرز ڈے کے خصوصی کیک کی بھی رونمائی کی گئی، جس پر “Happy Teachers Day” درج تھا۔ اساتذہ اور طالبات نے مل کر کیک کاٹا۔۔تقریب سے پروفیسر عبدالحمید ، پروفیسر عجب خان ، مہمانِ خصوصی پروفیسر شبیر احمد بڑیچ ، پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب کاکڑ اور دیگر معزز اساتذہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے اساتذہ کے عظیم مقام، طالبات کی تربیت و کردار سازی میں ان کے کردار اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں استاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے تمام طالبات کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی اساتذہ کے لیے محبت، احترام اور خلوص کا اظہار کیا۔پروگرام کے آخری مرحلے میں اردو تقریری مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر طالبات کی محنت، قابلیت اور بہترین کارکردگی کو سراہا گیا اور انہیں حوصلہ افزائی کے طور پر انعامات پیش کیے گئے۔اس کے علاوہ معزز اساتذہ کی خدمات اور بھرپور شرکت کے اعتراف میں سووینئرز اور شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔پرنسپل کی جانب سے طالبات کے لیے چائے پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس پر طالبات نے کالج انتظامیہ اور تمام اساتذہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یہ خوبصورت نشست استاد اور شاگرد کے درمیان محبت، احترام اور باہمی تعلق کی ایک بہترین مثال بن گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8673/2026
زیارت 7اکتوبر ۔گورنمنٹ بواز ڈگری کالج زیارت میں اساتذہ کی علمی، اخلاقی اور تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ٹیچرز ڈے کے حوالے سے ایک پروقار اور شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر بلوچ خان تھے، جبکہ کالج کے پرنسپل پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ صاحب سمیت کالج کے معزز اساتذہ اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کے دوران طلباء نے اپنے اساتذہ سے محبت، عقیدت اور احترام کے اظہار کے لیے مختلف پروگرامز پیش کیے۔ اس موقع پر اردو اور انگریزی تقاریر کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں طلبہ و طالبات نے بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہوئے اپنے اساتذہ کی محنت، رہنمائی، کردار سازی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ طلباءکی پ±راعتماد تقاریر اور خوبصورت الفاظ نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔ٹیچرز ڈے کی مناسبت سے طلباء نے اپنے اساتذہ کو تحائف بھی پیش کیے، جس پر اساتذہ نے طلباءکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے محبت بھرے جذبات کو سراہا۔ اس موقع پر ٹیچرز ڈے کے خصوصی کیک کی بھی رونمائی کی گئی، جس پر “Happy Teachers Day” درج تھا۔ کالج کے اساتذہ اور طلباءنے مل کر کیک کاٹا اور اس خوبصورت دن کی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں۔تقریب سے پروفیسر عبدالحمید ، پروفیسر عجب خان، پروفیسر بلوچ خان صاحب اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے اساتذہ کے عظیم مقام، طلباءکی تربیت میں ان کے کردار اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں استاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے تمام طلباءکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے اساتذہ کے لیے محبت، احترام اور خلوص کا اظہار کیا۔پروگرام کے آخری مرحلے میں اردو تقریری مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباءمیں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر طلباءکی محنت، قابلیت اور بہترین کارکردگی کو سراہا گیا اور انہیں حوصلہ افزائی کے طور پر انعامات پیش کیے گئے۔اس کے علاوہ معزز پروفیسر صاحبان کی خدمات اور بھرپور شرکت کے اعتراف میں سووینئرز اور شیلڈز پیش کی گئیں۔ یہ اعزازات پروفیسر صاحبان کو تقریب میں ان کی علمی، تدریسی اور انتظامی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیے گئے۔ اس موقع پر اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔پرنسپل کی جانب سے طلباءکے لیے چائے پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس پر طلباءنے پرنسپل، کالج انتظامیہ اور تمام اساتذہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یہ خوبصورت نشست استاد اور شاگرد کے درمیان محبت، احترام اور باہمی تعلق کی ایک بہترین مثال بن گئی۔تقریب کے اختتام پر ثقافتی اتن (Attan) / ثقافتی رقص کا شاندار مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس میں طلباءنے روایتی جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا۔ ثقافتی پروگرام نے تقریب کی رونق کو چار چاند لگا دیے اور طلباءو اساتذہ نے اس خوبصورت ثقافتی لمحے سے بھرپور لطف اٹھایا۔مجموعی طور پر گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت کا ٹیچرز ڈے پروگرام استاد اور شاگرد کے خوبصورت رشتے، احترامِ استاد، تعلیمی اقدار اور مقامی ثقافت کا حسین امتزاج ثابت ہوا۔ یہ دن اس عہد کی تجدید بھی تھا کہ استاد کی عزت، علم کی قدر اور تعلیم کے فروغ کے ذریعے ایک بہتر اور روشن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8674/2026
کراچی /گوادر 07 اکتوبر۔ چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے چیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد، ایس آئی (ایم)، ایس بی ٹی (ریٹائرڈ)، سے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ہیڈ آفس میں ملاقات کی۔چیرمین کے پی ٹی نے چیئرمین گوادر پورٹ کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و معاشی حالات، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی موجودہ ٹریفک صورتحال اور پاکستان کے بحری شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مستقبل کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران بندرگاہی آپریشنز کی بحالی و بہتری، رابطہ کاری کے فروغ، بندرگاہوں کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور پاکستان کی بحری معیشت میں موجود وسیع امکانات سے استفادہ کرنے کے لیے عملی اور مستقبل پر مبنی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے درمیان بہتر رابطہ اور باہمی تعاون پاکستان کے بحری شعبے کی ترقی اور تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اس خبرنامہ سے کپشن بنا کر دیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 8675/2026
لورالائی7اکتوبر۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی (BFA) کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں کٹھوائی موڑ، کوئٹہ روڈ پر مختلف فوڈ بزنسز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 18 فوڈ یونٹس کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 7 یونٹس کو جرمانے کیے گئے جبکہ 6 یونٹس کو بہتری کے نوٹسز جاری کر دیے گئےفوڈ سیفٹی ٹیم نے جنرل اسٹورز، بیکریوں، گوشت، سبزی و فروٹ اور دودھ کی دکانوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دوران مختلف جنرل اسٹورز سے زائدالمیعاد مصالحہ جات ممنوعہ چائنیز نمک اور گٹکا کی موجودگی کے علاوہ ناقص اسٹوریج پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی اسی طرح بعض بیکریوں اور دیگر فوڈ پوائنٹس پر صفائی کی ناقص صورتحال، ذاتی حفظانِ صحت کے اصولوں کی عدم پابندی، گندے برتن، کھانے پینے کی اشیاءپر مکھیوں کی موجودگی، اشیائے خوردونوش کو ڈھانپ کر نہ رکھنے اور BFA لائسنس کی عدم موجودگی سمیت متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن پر متعلقہ کاروباری افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی گئی فوڈ سیفٹی ٹیم نے کاروباری حضرات کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مقررہ SOPs پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، صفائی اور حفظانِ صحت کے معیار کو بہتر کریں اور اشیائے خوردونوش کے معیار اور محفوظ اسٹوریج پر خصوصی توجہ دیں فوڈ سیفٹی ٹیم نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری، صاف ستھری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8676/2026
گوادر7اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، بلوچستان رائز پروگرام کے کوآرڈینیٹر زبیر ہوت اور دیگر مقررین بلوچستان رائز پروگرام کے تحت گوادر ایمبولنس سروس کے لیے گرانٹ کی فراہمی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8677/026
گوادر: کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ضلع گوادر میں زمینوں کے ریکارڈ کی درستگی، تکمیل اور ریکارڈ سازی کے عمل کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔
اسی سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور بلوچ کی زیرِ صدارت ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحصیلدار سیٹلمنٹ اکبر بلوچ، نائب تحصیلداران، پٹواریوں سمیت محکمہ ریونیو اور سیٹلمنٹ کے دیگر متعلقہ افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع گوادر میں زمینوں کے ریکارڈ کی درستگی، تکمیل اور ریکارڈ سازی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کیا گیا۔ ٹاسک فورس کو ہدایت کی گئی کہ پہلے مرحلے میں منتخب مواضعات کا ریکارڈ مکمل اور درست کیا جائے، جس کے بعد مکمل شدہ ریکارڈ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی کہ زمینوں کے ریکارڈ کی تیاری اور درستگی کے عمل میں شفافیت، قانونی تقاضوں اور ریکارڈ کی صحت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو زمینوں سے متعلق معاملات میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ کو مستند اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر8678/026
کراچی /گوادر 07 اکتوبر2026: چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے چیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد، ایس آئی (ایم)، ایس بی ٹی (ریٹائرڈ)، سے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ہیڈ آفس میں ملاقات کی۔
چیرمین کے پی ٹی نے چیئرمین گوادر پورٹ کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و معاشی حالات، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی موجودہ ٹریفک صورتحال اور پاکستان کے بحری شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مستقبل کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران بندرگاہی آپریشنز کی بحالی و بہتری، رابطہ کاری کے فروغ، بندرگاہوں کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور پاکستان کی بحری معیشت میں موجود وسیع امکانات سے استفادہ کرنے کے لیے عملی اور مستقبل پر مبنی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے درمیان بہتر رابطہ اور باہمی تعاون پاکستان کے بحری شعبے کی ترقی اور تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر8679/026
اُستامحمد۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اُستا محمد میں قائم اے ایل پی (ALP) امتحانی مرکز کا تفصیلی دورہ کیا جہاں کمپیوٹر اور سلائی کڑھائی کے ہنر سے متعلق امتحانات کا سلسلہ جاری تھا
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے امتحانی مرکز میں جاری امتحانی عمل کا جائزہ لیا اور امیدواروں کی حاضری امتحانی انتظامات، نظم و ضبط، نگرانی کے طریقہ کار، امیدواروں کے لیے دستیاب سہولیات اور امتحانی مرکز کے مجموعی ماحول کا تفصیلی معائنہ کیا
انہوں نے امتحانی عملے سے امتحانات کے انعقاد کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور اس امر کا جائزہ لیا کہ امیدواروں کو امتحان کے دوران تمام ضروری سہولیات اور پرسکون ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اس موقع پر انہوں نے امتحانی عملے کو ہدایت کی کہ امتحانات شفاف منظم اور میرٹ کے تقاضوں کے مطابق منعقد کیے جائیں اور امیدواروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے امتحانی مرکز میں صفائی ستھرائی نظم و ضبط اور دیگر انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنر پر مبنی تعلیم نوجوانوں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے
دورے کے دوران امتحانی مرکز میں مجموعی انتظامات امیدواروں کی حاضری اور امتحانی ماحول کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے امتحانی عملے کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امتحانات کے بقیہ مراحل کو بھی اسی نظم و ضبط اور شفافیت کے ساتھ مکمل کرنے کی ہدایت کی
خبرنامہ نمبر 8680/026
لورالائی7اکتوبر2026: یونیورسٹی آف لورالائی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کے درمیان تدریسی تربیت کا اہم معاہدہ شعبہ ایجوکیشن کے طلباء و طالبات کو سرکاری اسکولوں میں عملی تدریسی تربیت فراہم کی جائے گی یونیورسٹی آف لورالائی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس ضلع لورالائی کے درمیان شعبہ ایجوکیشن کے طلباء و طالبات کو سرکاری اسکولوں میں عملی تدریسی تربیت (Teaching Practice) فراہم کرنے کے حوالے سے اہم مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر باقاعدہ دستخط کر دیے گئے
معاہدے پر یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لورالائی بختیار احمد خان کاکڑ نے دستخط کیے۔ اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ ایجوکیشن ڈاکٹر شاہجی احمد اورہھ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان بطور گواہ موجود تھے۔مفاہمت کی یادداشت کے تحت شعبہ ایجوکیشن کے طلباء و طالبات کو ضلع لورالائی کے مختلف سرکاری اسکولوں میں عملی تدریسی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جس کا مقصد طلباء کو اپنے نظریاتی علم کو عملی تدریسی ماحول میں بروئے کار لانے، کلاس روم مینجمنٹ، تدریسی طریقۂ کار اور طلباء کی تعلیمی ضروریات کو سمجھنے میں عملی تجربہ فراہم کرنا ہےمعاہدے کے مطابق یونیورسٹی آف لورالائی طلباء و طالبات کی فہرست ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کو فراہم کرے گی، جبکہ طلباء کی رہنمائی اور نگرانی کے لیے فیکلٹی سپروائزرز نامزد کیے جائیں گے۔ یونیورسٹی طلباء کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور مجموعی کارکردگی کی بھی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کرے گی۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس اور متعلقہ سرکاری اسکول طلباء کو مناسب تعلیمی اداروں میں عملی تربیت کے لیے تعینات کرنے، حاضری کا ریکارڈ برقرار رکھنے اورو یونیورسٹی کے فیکلٹی سپروائزرز کے ساتھ ضروری تعاون کو یقینی بنائیں گے
معاہدے میں بالخصوص طالبات کے لیے اسکولوں میں محفوظ، باوقار اور سازگار تعلیمی و تربیتی ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی عملی تدریسی تربیت مکمل کر سکیں مذکورہ معاہدہ دستخط کی تاریخ سے تین سال تک نافذ العمل رہے گا، جس میں فریقین کی باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکے گی اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بختیار احمد خان کاکڑ نے کہا کہ یہ معاہدہ مستقبل کے اساتذہ کو معیاری عملی تربیت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر تدریس کے لیے صرف نظریاتی علم کافی نہیں بلکہ عملی تربیت اور حقیقی کلاس روم کے تجربے کی بھی اشد ضرورت ہےانہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی اور محکمہ تعلیم کے درمیان یہ تعاون طلباء و طالبات کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، تدریسی معیار کی بہتری اور ضلع لورالائی میں تعلیم کے مجموعی معیار کو مزید بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خبرنامہ نمبر8681/026
نصیرآباد
7 اکتوبر 2026:
اُستامحمد۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر آج اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون کی زیرِ صدارت تحصیل اُستا محمد میں غیر رجسٹرڈ مدارس کے علماء کرام منتظمین اور متعلقہ نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں مختلف غیر رجسٹرڈ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل، اس کے طریقہ کار، ضروری دستاویزات اور متعلقہ امور کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے مدارس کے منتظمین کو رجسٹریشن کے لیے درکار دستاویزات متعلقہ ریکارڈ کی تکمیل اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق درخواست جمع کرانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے تاکہ مدارس کو درپیش انتظامی امور کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت حل کیا جا سکے۔اس موقع پر غیر رجسٹرڈ مدارس کے علماء کرام اور منتظمین نے رجسٹریشن کے عمل کے حوالے سے درپیش مختلف مسائل مشکلات اور تحفظات سے اسسٹنٹ کمشنر کو آگاہ کیا جنہیں غور سے سنا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ امور پر ضروری رہنمائی فراہم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ رجسٹریشن کے عمل کو سہل بنانے اور مدارس کی انتظامیہ کو درکار معاونت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مدارس کی انتظامیہ رجسٹریشن کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرے اور مطلوبہ دستاویزات و ریکارڈ مکمل رکھے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد غیر رجسٹرڈ مدارس کے علماء کرام اور منتظمین کو رجسٹریشن کے مکمل طریقہ کار سے آگاہ کرنا، ان کے مسائل کا جائزہ لینا اور رجسٹریشن کے عمل کو آسان، شفاف اور مؤثر بنانا تھا
خبرنامہ نمبر8682/026
سیوی 7 اکتوبر2026؛
کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت محکمہ ایریگیشن اور محکمہ صحت کی پروگریس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں دونوں محکموں کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ ایریگیشن اور محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں، محکمانہ سرگرمیوں اور مختلف امور میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے کمشنر سیوی ڈویژن کو اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، جاری اقدامات اور پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ محکمہ ایریگیشن کے حوالے سے جاری ترقیاتی منصوبوں، آبپاشی سے متعلق امور اور مختلف اسکیموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ محکمہ صحت کے حوالے سے ہسپتالوں اور صحت مراکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات، جاری اقدامات اور عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں اور محکمانہ سرگرمیوں میں مزید بہتری لائی جائے، کام کے معیار کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا مقصد محکمانہ امور میں بہتری، مسائل کا بروقت ازالہ اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی جانب سے ڈویژن کے تمام محکموں کی کارکردگی اور پیش رفت کا مرحلہ وار پروگریس ریویو لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمام محکموں کی پروگریس ریویو میٹنگز ون بائی ون روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر8683/026
کوئٹہ: حکومت بلوچستان سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور HBL konnect کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، خصوصی افراد کے لیے KUMAK پروگرام پر عملدرآمد مزید مؤثر بنانے کا عزم
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کاوشوں اور پارلیمانی سیکرٹری برائے سوشل ویلفیئر ولی محمد نورزئی کی مسلسل محنت کے نتیجے میں کوئٹہ میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان عصمت اللہ قریش اور HBL konnect کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے گئے۔ مفاہمتی یادداشت کا مقصد KUMAK پروگرام کے تحت خصوصی افراد کو مالی معاونت، تعلیمی سہولیات اور دیگر فلاحی اقدامات کی شفاف اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ KUMAK پروگرام کے تحت حکومت بلوچستان خصوصی افراد کے لیے وظائف اور تعلیمی سہولیات فراہم کرے گی، جن میں پی ایچ ڈی تک تعلیم کے اخراجات بھی حکومت بلوچستان کے خرچ پر یقینی بنائے جائیں گے، جبکہ خصوصی افراد کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے بلاسود قرضوں سمیت دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ HBL konnect کے ذریعے ان سہولیات اور مالی معاونت کی مستحق افراد تک رسائی کو مزید آسان، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا، جس سے خصوصی افراد کی تعلیم، مالی خودمختاری اور معاشرتی شمولیت کے لیے حکومت بلوچستان کے اقدامات کو عملی طور پر مزید تقویت ملے گی۔
خبرنامہ نمبر8684/026
دُکی، 7 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ضلع دُکی میں قائم تمام بینکوں کے منیجرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر دُکی محمد اکرم حریفال سمیت مختلف بینکوں کے منیجرز نے شرکت کی
اجلاس کے دوران مختلف بینکوں کے منیجرز نے اپنے اپنے بینک کی مجموعی کارکردگی، سیکیورٹی انتظامات، اے ٹی ایم سروسز، صارفین کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر بینکوں کو درپیش مسائل اور عوام کو بینکاری سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیاڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ہدایت کی کہ ضلع بھر کے تمام بینکوں میں سیکیورٹی کے مؤثر اور فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بینک ایک حساس نوعیت کے ادارے ہیں، اس لیے سیکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی قابلِ قبول نہیں ہوگی
انہوں نے تمام بینک منیجرز کو ہدایت کی کہ بینکوں کے داخلی و خارجی راستوں، سیکیورٹی گارڈز، سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھا جائےڈپٹی کمشنر نے عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع بھر کے تمام بینکوں کے اے ٹی ایمز کو ہر وقت فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی تاکہ شہریوں کو رقم کے حصول اور دیگر ضروری بینکاری خدمات کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایمز کی خرابی کی صورت میں فوری طور پر تکنیکی مسئلہ دور کیا جائے اور صارفین کو بلاوجہ انتظار نہ کرنا پڑےانہوں نے مزید کہا کہ بینکوں میں آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا، انہیں بروقت اور بہتر سہولیات فراہم کرنا اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ بینک انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ بینکنگ سروسز میں شفافیت، سہولت اور عوام دوست رویے کو یقینی بنایا جائے
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے میں ہے، جبکہ بینکنگ سیکٹر میں سیکیورٹی اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گااجلاس کے اختتام پر بینک منیجرز نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے بینکوں میں سیکیورٹی کے معیار کو مزید بہتر، اے ٹی ایم سروسز کو فعال اور صارفین کو معیاری بینکاری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 8685/026
دُکی، 7 اکتوبر 2026: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی نے ایس پی دُکی یونس رضا اور اسسٹنٹ کمشنر دُکی محمد اکرم حریفال کے ہمراہ اُس متاثرہ کول مائن کا تفصیلی دورہ کیا جہاں گزشتہ شب زہریلی گیس کے اخراج کے باعث دو بھائی جاں بحق ہوئے تھےڈپٹی کمشنر نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور المناک حادثے کے مختلف پہلوؤں، کول مائن کی موجودہ صورتحال اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو حادثے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واقعے کی صورتحال، مائن کی حالت اور وہاں موجود ممکنہ خطرات سے آگاہ کیاڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے حادثے میں دو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور حفاظتی امور میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بند، غیر فعال اور خطرناک کول مائنز کی فوری نشاندہی کی جائے اور ایسے مقامات پر مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ غیر ضروری طور پر کسی شخص کے داخل ہونے کا امکان نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطرناک مائنز کے اطراف مناسب نشانات اور انتباہی بورڈز نصب کیے جائیں اور مقامی آبادی کو زہریلی گیس اور دیگر ممکنہ خطرات سے متعلق آگاہی فراہم کی جائےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کول مائنز میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات اور باہمی رابطہ مؤثر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ، محکمہ معدنیات، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنائے گی۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ حادثے کے بعد حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے خطرناک اور غیر فعال کول مائنز کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر8686/016
سنجاوی 7 اکتوبر 2026
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایات پر سنجاوی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور قومی اتحاد کے عزم کے اظہار کے لیے ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی، ڈی ایس پی محبوب علی اور ایس ایچ او تھانہ سنجاوی امجد علی نے کی۔ریلی کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر آفس سنجاوی سے ہوا، جو سنجاوی بائی پاس سے ہوتی ہوئی پرانے سنجاوی پہنچی، جہاں سے مرکزی بازار سے گزرتے ہوئے دوبارہ اسسٹنٹ کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں شہریوں، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے قومی پرچم اٹھائے ہوئے “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج زندہ باد” کے نعرے بلند کیے اور ملکی سلامتی، قومی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔اس موقع پر سنجاوی کے قبائلی عمائدین، سرداروں اور ملک صاحبان کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں قبائلی عمائدین نے پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کے قیام، قومی اتحاد، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنے بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔۔اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی نے ریلی میں عوام، طلبہ، سول سوسائٹی اور قبائلی عمائدین کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ سنجاوی کے عوام نے ہمیشہ امن، قومی اتحاد اور ملکی استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد ہی ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ سنجاوی کے عوام امن و استحکام کے فروغ کے لیے ان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
خبرنامہ نمبر8687/026
زیارت7 اکتوبر 2026
پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی، قومی اتحاد اور ملکی سلامتی کے عزم کے اظہار کے لیے ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت پیدل، موٹر کار اور موٹر سائیکل ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ریلی کا آغاز ڈپٹی کمشنر آفس زیارت سے ہوا، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی واپس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں ضلعی انتظامیہ، ایف سی، پولیس، مختلف سرکاری محکموں کے افسران و اہلکاروں، اسکول کے طلباء اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے “پاک فوج زندہ باد”، “پاکستان زندہ باد”، “پاک فوج ہمارا فخر ہے” اور “پاکستان اور پاک فوج یک جان” کے پرجوش نعرے بلند کیے۔ شرکاء نے قومی پرچم لہراتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے اسکول کے بچوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد میں مٹھائی تقسیم کی۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بے مثال خدمات انجام دے رہی ہے۔ قوم کو اپنی بہادر افواج کی قربانیوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حب الوطنی پر فخر ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاک فوج اور عوام کے درمیان محبت، اعتماد اور یکجہتی کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں ملک و قوم کے تحفظ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اپنے دفتر میں اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں قومی یکجہتی، ملکی سلامتی اور پاک فوج کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اس موقع پر ایف سی 155 ونگ کے کرنل ذیشان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبدالمالک درانی، اسسٹنٹ کمشنر زیارت حبیب الرحمن کاکڑمیونسپل کمیٹی سنجاوی کے چئیرمن حاجی خان محمد دمڑسمیت ضلعی افسران اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔
خبرنامہ نمبر8688/026
زیارت 7اکتوبر 2026:
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی، اسسٹنٹ کمشنر زیارت حبیب الرحمن کاکڑ اور چیئرمین میونسپل کمیٹی سنجاوی حاجی خان محمد دمڑ نے عبدالستار کاکڑ کی رہائش گاہ پر حاضری دی اور ان کے بھائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی اور دیگر نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ڈپٹی کمشنرعبدالقدوس اچکزئی نے سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں ضلعی انتظامیہ ان کے ساتھ ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
خبرنامہ نمبر8689/026
07 اکتوبر 2026:
اسسٹنٹ کمشنر گنداواہ محمد رمضان کرد نے گنداواہ شہر کی مرکزی بازار کا سرپرائز دورہ کیا، دورے کے موقع پر انہوں نے سبزی و فروٹ ، گوشت اور دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں ، کوالٹی اور صفائی و ستھرائی کا جائزہ لیا انھوں نے مختلف دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور پرائس لسٹ آویزاں کرنے کی دکانداروں کو ہدایات جاری کیں بالخصوص سبزی فروشوں اور قصابوں کو سختی سے تنبیہ کی کہ سرکار کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں کے مطابق گوشت و سبزی ودیگر اشیاء خوردونوش فروخت کریں زائد المعیاد اشیاء فروخت کرنے اور زائد نرخ وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے صفائی و ستھرائی اور اشیاء کے معیار پر بھی زور دیا، اور دکانوں کے آگے ناجائز تجاوزات عارضی تھڑے ہٹانے کی سختی سے تنبیہ کیں انھوں نے دکانوں پر رکھے 09 پیکٹ نان کسٹم پیڈ سگریٹ ضبط کرکے قانونی کارروائی عمل میں لاکر دکانداروں کو غیر قانونی اشیاء اپنی دکانوں پر رکھنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کرکے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں*
خبرنامہ نمبر8690/026
گڈانی۔
آئ ایل اوکے ڈی جی Gilbert F.Hiungbo اوروفاقی وزیرچوہدری سالک حسین نےگڈانی کاایک روزہ دورہ کیادورے میں وفاقی سیکرٹری چوہدری ندیم اسلم انکے ہمراہ تھےگڈانی آمد پراسکول کی بچیوں نے ہھولوں کے گلدستے پیش کئے صوبائ وزیرظہوربلیدی ودیگر نے مہمانوں کاوالہانہ استقبال کیا آئ ایل اوڈائریکٹر جنرل کے دورہ گڈانی کے موقع ہر بی ڈی اے کمپلیکس گڈانی میں شپ ری سائیکلنگ پروجیکٹ سے متعلق تقریب منعقد ہوئ
تقریب سے وفاقی وزیر اوورسیزپاکستانیزاینڈہیومین ڈیولپمنٹ چوہدری سالک حسین نے خطاب کرتے یوئے کہاکہ وفاقی حکومت کےتعاون سے 12بلین کی لاگت سے شپ بریکنگ انڈسٹری کی ماڈرنائزیشن پراجیکٹ پرکام جاری ہےہانگ کانگ کنونشن کے تحت شپ بریکنگ انڈسٹری کی ماڈرنائزیشن کا عمل تیزی سے آگے بڑھ ریا ہے
آج کی یہ تقریب ہمارے لیے ایک تاریخی اور فخر کا لمحہ ہے پاکستان اورآئ ایل او کے مابین گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری کی ماڈرنائزیشن کے لئے معاہدے پر دستخط کے بعدشپ ری سائیکلرز کی جانب سے HKC کمپلائنس سرٹیفیکیشن کے لیے پاکستان کی پانچ کمپنیزکوسرٹیفکیشن کااجراءایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہےیہ صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرزکےعزم کی عکاسی کرتاہے یک ایسے عزم کی جو محفوظ، ماحول دوست اور بین الاقوامی معیار کی شپ ری سائیکلنگ کے راستے کی طرف پہلا قدم ہے بلوچستان حکومت پاکستان شپ بریکرزایسوسی ایشن اوربلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت تمام۔ متعلقہ حکام نے اس کامیابی کی منزل کوحاصل کرنے کیلٙے کوششیں کی ہیں مزید سترہ شپ بریکنگ انڈسٹریزکی کمپنیاں سرٹیفکیشن حصول کیلئے کوشاں ہیں انہوں نے وفاقی حکومت کے عزم کودہرایا کہ اس سیکٹرکی ترقی کیلئے حکومت ہرسطح پر تعاون اورکوششیں جاری رکھے گی تقریب سے صوبائ وزیر منصوبہ بندی وترقیات ظہوربلیدی وایڈیشنل سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم نے اہنے خطاب میں کہا کہ
ہانگ کانگ کنونشن کے تحت شپ ری سائیکلنگ اورگرین یارڈ کیجانب ہم بڑھ رہے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ گڈانی پاکستان کا صنعتی اثاثہ ہےیہاں دہائیوں سے شپ ری سائیکلنگ کا عمل جاری ہے جو ملکی اسٹیل انڈسٹری کو فیڈ کرتا ہے اور ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بدل رہی ہےصوبائ وزیرظہوربلیدی نے کہا کہ وزیراعلی سرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان نےشپ بریکنگ کے حوالے سے ایکٹ کی منظوری دی ہےاورگڈانی کے پانچ نمایاں کمپنیز نے شپ ری سائیکلنگ کے تقاضے کوسمجھتے ہوئے اپنی صنعت کو پائیدار، محفوظ اور بین الاقوامی سطح پرقابلِ قبول بنانےکاجواعزازحاصل کیا ہے یہ نہ صرف پاکستان کی کامیابی یے بلکہ یہی وژن ہے جس کے تحت PSBA اور Bureau Veritas نے ہاتھ ملایا ہے، Hong Kong International Convention for the Safe and Environmentally Sound Recycling of Ships کے اصولوں کے مطابق اپنی شپ یارڈز کو سرٹیفائیڈ کروایا ہے۔ میرظہور بلیدی نے کہا کہ آج کا دن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان کی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری نہ صرف بیدار ہو چکی ہے بلکہ تیار ہے بین الاقوامی معیار اپنانے، اپنی ساکھ بہتر بنانے، اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے انیوں نے کہا کہ
حکومتِ پاکستان، وزارتِ میری ٹائم افیئرز، اور تمام ریگولیٹری ادارے بلیواکنامی سیکٹر کےلئے ہمیشہ ایک پیج پر رہیں گے انیوں نے اس توقع کااظہارکیا ڈی جی آئ ایل او کا یہ دورہ آئی ایل او کو میری ٹائم سیکٹر اور بلیو اکانومی پر تبادلہ خیال کرنے کا بہترموقع فراہم کرے گاتقریب میں فوکل پرسن ہاکستان شپ بریکرزایسوسی ایشن سلیم الزمان نےبریفنگ میں بتایا کہ گرین یارڈ منصوبے کے سلسلےمیں 5کمپنیز کمپلائنس حاصل کرچکی ہیں 17کمپنیز کی سرٹیفکیشن زیرتکمیل یےسلیم الزمان نے کہا کہ
گرین یارڈ کی منصوبہ بندی کیلئے جرمن فرم GSR کی گائیڈ لائن حاصل کی گئ ہے
شپ بریکنگ انڈسٹری کو گرین یارڈ بنانے کیلئے پاکستان شپ بریکرز ایسوسی ایشن متحرک اور عملی اقدامات کررہی ہے ۔شپ بریکنگ انڈسٹری کی ترقی کیلئے وفاقی اورصوبائ حکومت کے عزم کو شپ بریکرز نے معاش ترقی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر آئ ایل اوکے ڈائریکٹر جنرل اوروفاقی وزیراوورسیزپاکستانیزاینڈہیومین ڈیولپمنٹ اورسیکرٹری اوورسیز کو صوبائ وزیر پی اینڈڈی ظہوربلیدی نے وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی جانب سے قالین کا تحفہ پیش کیاتقریب میں سیکرٹری لیبرصالح محمدناصر پراجیکٹ ڈائریکٹر گڈانی پراجیکٹ سعیدعمرانی کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء ایڈوائزربی ڈی اے کیپٹن ریٹاٙرڈجاویدخان ڈپٹی کمشنرحب جمعدادمندوخیل ڈی آئ جی لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم پتافی ڈپٹی پراجیکٹ ڈاٙئریکٹر منیراحمد بزنجو انجینئر صلاح الدین قمبرانی انجینئرشاہدبلوچ ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینڈفنانس بی ڈی اے اعظم وردگ اے حی ایم شپ بریکنگ محبت خان بابراسسٹنٹ کمشنر حب مہیم خان گچکی چیئرمین گڈانی میونسپل کمیٹی پاکستان شپ بریکرزایسوسی ایشن کے نمائندگان رفیق سلام عبدالغنی فرخ پنجوانی الطاف گھانچی شریف پراچہ تحسین میمن ودیگر شریک ہوئے
۔
خبرنامہ نمبر8691/026
قلات:ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت سرکاری ملازمین کی عمر کی درستگی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں محکمہ پولیس، محکمہ تعلیم، محکمہ بی اینڈ آر اور محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف محکموں کے مجموعی طور پر 16 کیسز کی جانچ پڑتال کی گئی۔سرکاری ملازمین کے قومی شناختی کارڈ، سروس بک، تنخواہ سلپس اور تعلیمی اسناد میں درج عمر کے فرق کو درست کرنے کے سلسلے میں ملازمین کی اصل دستاویزات کا بغور جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے تمام متاثرہ ملازمین کی اصل دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے عمر کی درستگی کے حوالے سے ضروری فیصلے کیے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ سرکاری ملازمین ہمارے بھائی ہیں، ان کے مسائل کا بروقت اور شفاف طریقے سے حل ہماری اولین ترجیح ہے۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے متعلقہ افسران و اہلکار ملازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر8692/026
نصیرآباد
7 اکتوبر 2026:
اُستا محمد۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر شہر میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون کی نگرانی میں جِنّاح روڈ اُستا محمد پر ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا
اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون نے کارروائی کی خود نگرانی کی آپریشن کے دوران جِنّاح روڈ کے اطراف قائم مختلف نرم و سخت تجاوزات کو ہٹایا گیا، جبکہ سڑک اور فٹ پاتھ پر قائم غیر قانونی رکاوٹوں اور عارضی تعمیرات کو بھی ختم کرکے عوام کے لیے گزرگاہ کو کشادہ کیا گیا
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ شہر کی اہم شاہراہوں اور عوامی گزرگاہوں پر ناجائز تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی تجاوزات کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ شہریوں، بالخصوص پیدل چلنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا، سڑکوں پر آمدورفت کو یقینی بنانا، پیدل چلنے والوں کے لیے راستے بحال کرنا اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہے انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہونے کو بھی یقینی بنایا جائے
ضلعی انتظامیہ اُستا محمد کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور عوامی شاہراہوں، فٹ پاتھوں اور گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8693/026
تربت۔7 اکتوبر 2026: بی آر ایس پی کیچ کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان کے رائز (RISE) پروگرام کے تحت ضلع کیچ کے 250 مستحق نوجوانوں اور افراد میں انکم جنریٹنگ گرانٹس (IGG) کی تقسیم کے حوالے سے تقریب عطاشاد ڈگری کالج تربت میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے۔ تقریب میں رائز پروگرام کے لیڈ ڈائریکٹر سید قاہر خان آغا، سوشل نیٹ ورک کے چیئرمین یوسف بلوچ، جویریہ اختر، تربت یونیورسٹی کے ذمہ داران، عطاشاد ڈگری کالج کے طلبہ، گرلز ڈگری کالج کی طالبات اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رائز پروگرام حکومت بلوچستان کے ان اہم اقدامات میں شامل ہے جس کا مقصد مالی مشکلات سے دوچار افراد اور نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری ایک اہم چیلنج ہے، تاہم ایسے پروگراموں کے ذریعے مستحق افراد کو اپنے علاقوں میں چھوٹے کاروبار شروع کرکے مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پروگرام کے حوالے سے عوامی آگاہی کے فروغ اور مستحق افراد تک اس کے ثمرات پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع کیچ میں آج 250 مستحق افراد میں انکم جنریٹنگ گرانٹس تقسیم کی جارہی ہیں، جبکہ مستحقین کے انتخاب کے لیے میرٹ اور شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے رائز پروگرام کی ٹیم کو تفصیلی سروے اور مستحق افراد کے انتخاب پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو میرٹ کی خلاف ورزی سے متعلق کوئی شکایت یا تحفظات ہوں تو وہ متعلقہ حکام سے رجوع کرسکتا ہے تاکہ معاملے کی شفاف انداز میں جانچ کی جاسکے۔
رائز پروگرام کے لیڈ ڈائریکٹر سید قاہر خان آغا نے کہا کہ انکم جنریٹنگ گرانٹس کا بنیادی مقصد خاندانوں اور بالخصوص نوجوانوں کو معاشی طور پر مستحکم اور خودمختار بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رائز پروگرام کے تحت کیچ، گوادر، پنجگور، آواران، خاران اور واشک سمیت بلوچستان کے چھ اضلاع میں نوجوان مرد و خواتین کو مختلف شعبوں میں مالی اور پیشہ ورانہ معاونت فراہم کی جارہی ہے۔ مستحقین کو ان کے رجحان، مقامی مارکیٹ کی طلب اور دستیاب معاشی مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے معاونت فراہم کی جارہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رائز پروگرام کے تحت فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف پروگرام بھی جاری ہیں، جن میں نوجوانوں کو آئی ٹی، ای کامرس، مارکیٹنگ اور دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے، جبکہ تقریباً 6 ہزار مرد و خواتین ان تربیتی پروگراموں سے مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو ان کی مہارت اور متعلقہ شعبے کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز پروگرام کے تحت پہلے سے چھوٹا کاروبار کرنے والے افراد کو کاروبار میں توسیع کے لیے 5 لاکھ روپے سے 2 کروڑ روپے تک مالی معاونت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔سید قاہر خان آغا نے کہا کہ رائز پروگرام کے سوشل پروجیکٹ کے تحت لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز (LSOs) کے ذریعے مختلف یونین کونسلوں کی سطح پر تقریباً 20،20 لاکھ روپے تک کی گرانٹس بھی فراہم کی جارہی ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کے لیے کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ تقریب سے سوشل نیٹ ورک کے چیئرمین یوسف بلوچ، جویریہ اختر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت یلان زامرانی نے حاصل کی، جبکہ تقریب کی انتظام کاری کے فرائض ماہ نور شاہ اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صائمہ بلوچ نے انجام دیے۔تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی اور رائز پروگرام کے لیڈ ڈائریکٹر سید قاہر خان آغا نے مستحقین میں انکم جنریٹنگ گرانٹس جبکہ مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔ مقررین نے امید ظاہر کی کہ رائز پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی مالی اور پیشہ ورانہ معاونت سے مستحق خاندانوں کے لیے آمدنی کے مستقل ذرائع پیدا ہوں گے، نوجوانوں کے لیے خود روزگاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
خبرنامہ نمبر8694/026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت نیو ٹاؤن میں غیر قانونی قبضوں، ناجائز تجاوزات اور اصل الاٹیز سے متعلق تیسرے مرحلے کی سماعت ہوئی۔ سماعت میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نیو ٹاؤن ڈاکٹر عبدالشکور، نائب تحصیلداران اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
سماعت کے دوران تین کیسز کا جائزہ لیا گیا اور فریقین کا مؤقف تفصیلاً سنا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے فریقین کو باہمی افہام و تفہیم اور قانونی تقاضوں کے مطابق معاملات حل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے متعلقہ افسران سے تعاون کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اصل الاٹیز کے حقوق کا تحفظ، غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کا خاتمہ اور اراضی سے متعلق معاملات کا قانونی و شفاف حل ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مقررہ مدت میں باہمی رضامندی سے معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8695
گڈانی07 اکتوبر:ـ عالمی ادارہ محنت (ILO) کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے بدھ کے روز گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کا دورہ کیا، جہاں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی میر ظہور احمد بلیدی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم نے آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل کو گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ، صنعتی سرگرمیوں، محنت کشوں کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی، محفوظ ماحولِ کار اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔زاہد سلیم نے حکومت بلوچستان کی جانب سے گڈانی میں صنعتی ترقی، شپ ری سائیکلنگ کے شعبے کی بہتری، محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور محفوظ و ماحول دوست ماحولِ کار کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان گڈانی شپ ری سائیکلنگ سیکٹر کو محفوظ، ماحول دوست اور پائیدار صنعتی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات نے کہا کہ شپ ری سائیکلنگ کے شعبے سے وابستہ محنت کشوں کی صحت، سلامتی اور فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ گڈانی میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، محفوظ ورکنگ کنڈیشنز اور ماحول دوست صنعتی طریقہ کار کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ زاہد سلیم نے کہا کہ عالمی ادارہ محنت کے ساتھ تعاون، تکنیکی معاونت اور تجربات کا تبادلہ گڈانی شپ ری سائیکلنگ سیکٹر میں پیشہ ورانہ صحت و سلامتی، محنت کشوں کے حقوق اور پائیدار صنعتی طریقہ کار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی معیارات کے مطابق محنت کشوں کے لیے محفوظ اور باوقار ماحولِ کار کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ میں جاری صنعتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور وہاں کام کرنے والے محنت کشوں کے ماحول، صحت و سلامتی اور دیگر متعلقہ امور سے آگاہی حاصل کی۔دورے کے دوران محفوظ اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ طریقہ کار، محنت کشوں کے حقوق، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی اور صنعتی سرگرمیوں کو پائیدار بنیادوں پر فروغ دینے کے حوالے سے امور کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی میر ظہور احمد بلیدی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم نے آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کا دورہ بھی کیا۔ زاہد سلیم نے آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل کے دورہ گڈانی کو محفوظ، ذمہ دار اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینے کا اہم موقع قرار دیا۔
Handout Number 2026/8696
GADANIOct 7:International Labour Organisation (ILO) Director General Gilbert F. Houngbo visited the Gadani Ship Recycling Yard on Wednesday, where Balochistan Planning and Development Minister Mir Zahoor Ahmed Buledi and Additional Chief Secretary (Development) Zahid Saleem received him.
Zahid Saleem gave the ILO director general a detailed briefing on the Gadani Ship Recycling Yard, its industrial activities and matters relating to workers’ welfare, workplace safety and environmental protection.During the briefing, Zahid Saleem outlined the measures being taken by the Balochistan government to promote industrial development in Gadani, improve facilities for workers and create safer and more environmentally responsible working conditions.He said the provincial government was working with relevant institutions and stakeholders to support the development of the ship recycling sector and promote sustainable industrial activity in Gadani.Zahid Saleem said the health, safety and welfare of workers engaged in ship recycling were important considerations, adding that the government was focusing on workplace safety, basic facilities, improved infrastructure and environmentally sound practices.He said cooperation with the ILO and exchange of technical expertise could contribute to strengthening occupational health and safety, workers’ rights and sustainable practices in the ship recycling sector.Zahid Saleem said the provincial government was committed to working with relevant stakeholders to promote working conditions in accordance with international standards and ensure a safe and dignified environment for workers.During the visit, Mr Houngbo reviewed activities at the ship recycling yard and was briefed on the working environment and issues concerning workers.The visit also provided an opportunity to discuss measures for promoting safer and environmentally sound ship recycling practices, strengthening occupational health and safety standards and improving workers’ welfare.Minister Mir Zahoor Ahmed Buledi and Zahid Saleem also accompanied the ILO director general during his visit to the ship recycling yard.Zahid Saleem described the visit as an important opportunity to strengthen cooperation with the ILO and support safe, responsible and sustainable industrial development in Balochistan.
خبر نامہ نمبر 2026/8697
کوہلو07 اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے آج آئی ٹی ہب کوہلو کا دورہ کیا۔یہ دورہ آئی ٹی ہب انچارج کی دعوت پر کیا گیا۔دورے کے دوران آئی ٹی ہب انچارج نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کی کارکردگی، جاری سرگرمیوں اور نوجوانوں کو دی جانے والی سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پروفائل، ضلع کوہلو کی تاریخی و ثقافتی اہمیت اور ضلع کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے ضلع کی تاریخ، ثقافت اور روایات سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی شناخت اور تاریخی پس منظر سے واقف ہو سکیں۔دورے کے دوران آئی ٹی ہب کی جانب سے معزز مہمان کے اعزاز میں چائے کا اہتمام کیا گیا۔ آخر میں ڈپٹی کمشنر نے آئی ٹی ہب کے انچارج اور سٹاف کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوائی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8698
گڈانی7اکتوبر:ـڈی جی انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن اور وفاقی وزیر اورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ کے دورہ گڈانی کے موقع پر کمشنر لسبیلہ ڈویژن کے احکامات پر سخت ترین سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے داخلی وخارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکار اور پولیس فورس کے جوان الرٹ پوزیشن پر تعینات کئے گئے ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریشن حب ،اسپیشل برانچ ،اور ایف سی 147ونگ کی جانب سے سیکورٹی پلان کے تحت تمام راستوں کی جدید ترین ڈرون کیمروں کے ذریعے سرویلنس کی گئی پروگرام کے مقام بی ڈی اے کمپلیس میں واک تھرو گیٹ اور اسپیشل برانچ کے عملے کی کڑی نگرانی میں موثر انتظامات کو یقینی بنایا گیا ڈی آئی جی پولیس لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم پتافی ،ڈی ایس پی اسپیشل برانچ ذوالفقار بلو ،اسسٹنٹ کمشنر مہیم خان گچکی ،اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے وی آئی پی موومنٹ کے موقع پر ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائر عطاء نے سیکورٹی کے بہترین انتظامات پر تمام سیکورٹی اداروں کو شاباشی پیش کی اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ وہ آئندہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں فرض شناسی سے نبھائیں گے ۔
خبر نامہ نمبر 2026/8699
اُستا محمد7اکتوبر:ـڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون نے کارپٹ سینٹر اُستا محمد کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے کارپٹ سینٹر کے مجموعی انتظامی و عملی امور کام کرنے کے ماحول دستیاب مشینری سہولیات عملے کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیااسسٹنٹ کمشنر نے سینٹر کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں جاری سرگرمیوں اور کارپٹ سازی کے عمل کا مشاہدہ کیا انہوں نے سینٹر میں دستیاب مشینری اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ ذمہ داران سے ادارے کی موجودہ صورتحال درپیش مسائل ضروریات اور کام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون نے کہا کہ کارپٹ سینٹر جیسے ادارے ہنرمند افراد کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے، روایتی دستکاری کو فروغ دینے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سینٹر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کا مقصد اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا، دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا اور جہاں ضروری ہو وہاں سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرنا ہے
انہوں نے متعلقہ عملے پر زور دیا کہ سینٹر میں صفائی ستھرائی، مشینری کی مناسب دیکھ بھال، دستیاب سہولیات کے مؤثر استعمال اور کام کے بہتر ماحول کو یقینی بنایا جائے تاکہ کارپٹ سینٹر کی سرگرمیوں کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنایا جا سکےاسسٹنٹ کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح، ہنرمندی کے فروغ اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے اداروں کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ کارپٹ سینٹر کی ترقی اور بہتری سے نہ صرف مقامی ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ علاقے کی روایتی دستکاری کو بھی فروغ ملے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8700
کوئٹہ7 اکتوبر :صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ گڈانی کی شپ بریکنگ انڈسٹری کو محفوظ، ماحول دوست اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانا بلوچستان حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اپنے X پر جاری بیان میں میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈز آمد پر خوش آمدید کہا گیا۔ اس موقع پر شپ ری سائیکلنگ میں ہونے والی پیش رفت، کارکنوں کی صحت و سلامتی، ماحولیاتی تحفظ اور گڈانی شپ یارڈز کو ہانگ کانگ کنونشن کے تحت گرین اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے گڈانی کی شپ بریکنگ انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مزدوروں کے لیے محفوظ کام کےماحول،ماحولیاتی معیارات کی بہتری اور شپ ری سائیکلنگ کے شعبے میں عالمی تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری پاکستان کے بلیو اکانومی اور میری ٹائم سیکٹر کا اہم حصہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جسے مؤثر اقدامات اور جدید ماحولیاتی و حفاظتی معیارات کے ذریعے مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
خبرنامہ نمبر 8701/2026
کوئٹہ، 7 اکتوبر:صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید کی کاوش رنگ لے ائیں جس کے نتیجہ میں صوبائی کابینہ کے گزشتہ روز کے اجلاس میں تمپ کے لیے الگ ڈسٹرکٹ کونسل کے قیام کی منظوری دے دی گئی ، تمپ اب ضلع کیچ کی ڈسٹرےکٹ کونسل سے الگ ایک علیحدہ ڈسٹرکٹ کونسل ہوگا۔صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی کاوشوں سے سامنے آنے والے اس اقدام کو تمپ کے بلدیاتی اور انتظامی نظام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد تمپ کے لیے الگ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کا نظام بھی قائم ہوگا۔الگ ڈسٹرکٹ کونسل کے قیام سے مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور بلدیاتی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔تمپ کے لیے علیحدہ ڈسٹرکٹ کونسل کا قیام علاقے کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مقامی حکومت کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8702
تربت7 اکتوبر:_ہیلپنگ ہینڈز فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ نے جامعہ تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے تعاون سے عالمی یوم اساتذہ کی مناسبت سے یونیورسٹی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں جامعہ تربت کے فیکلٹی ممبران، ہیلپنگ ہینڈز کے نمائندوں اور علاقائی اسکولوں و کالجوں کے سربراہان اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ مینجمنٹ سائنسز ڈاکٹر غلام جان، چیئرپرسن شعبہ تعلیم محترمہ رقیہ میروانی، اور ہیلپنگ ہینڈز کے نمائندے غلام اعظم دشتی و دیگر مقررین نے اساتذہ کی گراں قدر خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ اساتذہ طلبہ میں تخلیقی و علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی کی کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی محنت اور لگن محض کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ پورے معاشرے کی اخلاقی و فکری اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی میں اساتذہ کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت استاد میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اساتذہ کو کیریئر میں پیش رفت اور ترقی کے بروقت مواقع فراہم کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ جامعہ تربت کے فیکلٹی اور انتظامی عملے کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا اور خالی آسامیوں کو پُر کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ترجمان یونیورسٹی کے مطابق وائس چانسلر نے مزید کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سینئر فیکلٹی اور آئینی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، جو جامعہ تربت کی پائیدار ترقی اور پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان (2026-2030) کے اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں۔ تقریب کے اختتام پر اساتذہ کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ان میں یادگاری شیلڈز، تحائف اور شجرکاری کی ترغیب کے لیے پودے تقسیم کیے گئے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8701
کوئٹہ7 اکتوبر:ـصوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید کی کاوش رنگ لے ائیں جس کے نتیجہ میں صوبائی کابینہ کے گزشتہ روز کے اجلاس میں تمپ کے لیے الگ ڈسٹرکٹ کونسل کے قیام کی منظوری دے دی گئی ، تمپ اب ضلع کیچ کی ڈسٹرکٹ کونسل سے الگ ایک علیحدہ ڈسٹرکٹ کونسل ہوگاصوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی کاوشوں سے سامنے آنے والے اس اقدام کو تمپ کے بلدیاتی اور انتظامی نظام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد تمپ کے لیے الگ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کا نظام بھی قائم ہوگا۔الگ ڈسٹرکٹ کونسل کے قیام سے مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور بلدیاتی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔تمپ کے لیے علیحدہ ڈسٹرکٹ کونسل کا قیام علاقے کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مقامی حکومت کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔




