خبرنامہ نمبر7374/2026
کوئٹہ5 ستمبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کا عالمی چیریٹی ڈے کے موقع پر کہا کہ صوبے کے تمام مخیرحضرات، فلاحی اداروں، رضاکاروں اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار سماجی کارکنوں کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ بیسہارا بچوں، غریبوں اور بیواوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے میں ان کا کردار کلیدی ہے۔ اگرچہ عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے عزت و وقار کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں حکومت اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور عوامی فلاح کے شعبوں کو مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہے تاہم بلوچستان کی وسیع و منتشر آبادی اور موجودہ معاشی مشکلات کے پیشِ نظر اجتماعی کاوشیں بھی ناگزیر ہیں۔ گورنر بلوچستان نے تمام صاحبِ حیثیت حضرات، تاجر برادری اور فلاحی اداروں سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ ملکر تعلیمی اداروں، یتیم بچوں، بیوہ خواتین، علاج کے محتاج مریضوں اور روزمرہ کے ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ کسی کی مدد کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ آپ کی ایک چھوٹی سی کاوش اور نیک عمل بھی معاشی تنگدستی کا شکار لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ ہماری شاندار قومی روایات اور اقدار ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور دکھ درد میں یکجہتی کا اظہار کریں۔ اگر ہم خدمتِ خلق اور سخاوت کے جذبے کو فروغ دیں تو شدید غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے، بھاری فیسوں کا بوجھ کم کر کے تعلیمی مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں مدد دے کر ان کیلئے امید کی کرن بن سکتے ہیں۔ میری خواہش اور کوش ہے کہ کوئی بچی یا بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے، کوئی یتیم در در کی ٹھوکریں نہ کھائے اور کوئی ضرورت مند مایوس نہ ہو۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ ہماری مشترکہ سخاوت اور خدمت خلق کا جذبہ ہر شہری کیلئے امید، وقار اور ترقی کا سبب بنے۔
خبرنامہ نمبر7375/2026
کوئٹہ، 05 ستمبر : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں مختلف مقامات پر جاکر مرحومین کے اہلخانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حاجی محمد امین گشکوری کے چھوٹے بھائی حاجی محمد یاسین گشکوری کے چچا، مرحوم دین محمد گشکوری کے انتقال پر ان کے گھر جاکر اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعلیٰ نے شہید ڈی ایس پی محمد مرید بگٹی کے لواحقین سے بھی ملاقات کی، شہید کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور قوم اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے مقامی تاجر صلاح الدین نورزئی کے گھر بھی جاکر ان کے ورثاء سے تعزیت کی اور مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔اس موقع پر صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، بخت محمد کاکڑ، میر شعیب نوشیروانی، میر ضیاء لانگو، میر ظہور بلیدی، علی مدد جتک اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ تھے۔
خبرنامہ نمبر7376/2026
کوئٹہ، 6 ستمبر 2026 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا وہ دن ہے جو ہمیں اپنی مسلح افواج اور قوم کے ان عظیم سپوتوں کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1965ء کی جنگ میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے غیر معمولی بہادری اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ قوم آج بھی شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تاریخ رقم کی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی تاریخ قربانی، شجاعت اور قومی یکجہتی کی روشن مثالوں سے عبارت ہے۔ ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کے محسن ہیں اور پوری قوم ان کے خاندانوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں دفاع وطن کا تقاضا صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ قومی اتحاد، معاشی استحکام، تعلیم، ترقی اور امن کے فروغ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان ہی ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے بھی ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ صوبے کے شہداء نے ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی قربانیاں قومی تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ہماری سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور امن و استحکام کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ یوم دفاع ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم قومی یکجہتی کو مضبوط کریں گے، پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور امن کی منزل کی جانب لے جانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے درجات کی بلندی، غازیوں کی سلامتی اور پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا بھی کی۔
خبرنامہ نمبر7377/2026
کوئٹہ، 5 ستمبر 2026 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 600 خواتین کی تربیت مکمل ہونا خوش آئند اور صوبے میں خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ حکومت بلوچستان خواتین کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرکے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پروگرام کے تحت کاروبار شروع کرنے والی 100 خواتین کو مالی معاونت کی فراہمی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کی عملی تصویر ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کو محض ہنر مند بنانے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں اپنے کاروبار شروع کرنے اور باوقار معاشی زندگی گزارنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں بلوچستان کی ہر بیٹی کے ہاتھ میں ہنر، علم اور روزگار ہو، بارود نہیں۔ ایک طرف حکومت خواتین کو تعلیم، ترقی، معاشی خودمختاری اور خوشحالی کے مواقع فراہم کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب دہشت گرد عناصر بلوچ بچیوں کو خودکش بمبار بنا کر ایک لاحاصل جنگ اور تاریکی کی جانب دھکیل رہے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ہماری بچیوں کے مستقبل کو تباہی اور تشدد سے جوڑنا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت بلوچستان ان کے مستقبل کو تعلیم، ہنر، روزگار اور خوشحالی سے جوڑنے کے لیے کوشاں ہے۔ بلوچستان کی بیٹیوں کو انتہا پسندی اور تشدد کے بجائے تعلیم اور ترقی کا راستہ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کا مستقبل تعلیم، ترقی اور خوشحالی میں دیکھنا چاہتے ہیں یا دہشت گردی اور تباہی میں۔ حکومت بلوچستان کا انتخاب واضح ہے۔ ہم اپنی بیٹیوں کے لیے ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں انہیں آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اپنے خاندانوں کی معاشی بہتری میں کردار ادا کرنے کے بھرپور مواقع حاصل ہوں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری صرف خواتین کی ترقی کا معاملہ نہیں بلکہ مضبوط خاندان، مستحکم معاشرہ اور پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ حکومت بلوچستان خواتین کی تربیت، مالی معاونت اور کاروباری مواقع کے ایسے پروگرامز کو مزید وسعت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین باصلاحیت ہیں اور انہیں صرف مواقع اور وسائل کی ضرورت ہے۔ حکومت ان کی صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے اور انہیں باوقار و خودمختار زندگی فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
خبرنامہ نمبر7378/2026
قلات 5ستمبر:انجینئرعائشہ زہری کی انتظامی افسر کے اہم عہدے پر تعیناتی سے محکمہ صحت میں بہتری آناشروع ہوگء ہے ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ کی 50بیڈڈٹیچنگ ہسپتال قلات دورے کے موقع پر ادویات اسٹاک کی عدم دستیابی پر فوری ایکشن لینے اور ایم سیس ڈی سے ادویات جنگی بنیادوں پر قلات ہسپتال دستیابی یقینی کیلئے اقدامات فائدہ مندثابت ہوئیں ۔ڈپٹی کمشنرانجینئرعائشہ زہری کی ہدایت پر ایم۔ ایس ٹیچنگ ہسپتال قلات نے سیکرٹری صحت مجیب پانیزئی اور ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر امین مندوخیل، کو فوری لیٹر لکھا محکمہ صحت کے حکام نے ڈپٹی کمشنر قلات کی معاونت اور تعاون سے جان بچانے والی ضروری ادویات کی کھیپ ڈاکٹر نصراللہ لانگو، ایم ایس ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال قلات فارماسسٹ ،محمد علی کے نگرانی میں بحفاظت قلات پہنچادیگئی ہیں۔ قلات کے عوامی حلقوں نے سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے تناظرمیں ڈپٹی کمشنرانجینئر عائشہ زہری کی بروقت اقدامات کو مثالی گورننس قراردیا ۔
خبرنامہ نمبر7379/2026
کوئٹہ، 05 ستمبر :خواتین کی معاشی خودمختاری اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی جانب حکومت بلوچستان نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبے بھر کی 600 خواتین کی تربیت مکمل کرلی ہے، جبکہ تربیت حاصل کرنے والی 100 خواتین نے عملی طور پر اپنے کاروبار شروع کردئے ہیں محکمہ ترقی نسواں بلوچستان کے زیر اہتمام ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کرنے والی خواتین میں معاونتی چیکس بھی تقسیم کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے 100 خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے فی کس 2 لاکھ روپے کے چیکس دیے، جس کے تحت خواتین کو مجموعی طور پر 2 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام بلوچستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری کے نئے دور کا آغاز ہے اور یہ پروگرام وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کے پہلے جامع ویمن انٹرپینورشپ پروگرام سے 600 خواتین مستفید ہوئی ہیں، جبکہ عملی کاروباری دنیا میں قدم رکھنے والی 100 خواتین کو مالی معاونت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرکے اپنے خاندانوں کے معاشی استحکام میں کردار ادا کرسکیں۔ مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کو صرف ہنر مند بنانے تک محدود نہیں بلکہ انہیں ہنر کو کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری وسائل اور مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔ خواتین کی معاشی خودمختاری سے نہ صرف گھرانے مضبوط ہوں گے بلکہ صوبے کی مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کا مقدر غربت نہیں بلکہ معاشی استحکام، خودمختاری اور ترقی ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا دراصل خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے لیے تربیت، مالی معاونت اور کاروباری مواقع کے مربوط نظام کو مزید مستحکم کرے گی اور معاشی خودمختاری کے پروگرامز کو وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ خواتین کو کاروباری میدان میں آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام خواتین کو روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار فراہم کرنے والی بااختیار کاروباری شخصیات میں تبدیل کرنے کی عملی کوشش ہے، جس کے مثبت اثرات صوبے کے مختلف گھرانوں اور معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر7380/2026
اورماڑہ 05 ستمبر : اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں سب ڈویژن اورماڑہ سب ڈویژن اورماڑہ کے تمام تعلیمی کلسٹرز کے دوروں، تعلیمی اداروں کو فراہم کردہ فنڈز و سامان کے شفاف اور مؤثر استعمال کی تصدیق اور تعلیمی سہولیات کی نگرانی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں سب ڈویژن اورماڑہ کلسٹرز ہیڈ نے شرکت کی اجلاس میں سرکاری تعلیمی پالیسی کے تحت وسائل کے شفاف استعمال، اداروں کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی اور طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات پر غور کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل کا بروقت اور درست استعمال یقینی بنایا جائے اور کلسٹرز و تعلیمی اداروں کے دوروں کے ذریعے تعلیمی سرگرمیوں اور سہولیات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔
خبرنامہ نمبر7381/2026
اورماڑہ 05 ستمبر: اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، کیونکہ تعلیم انسان میں شعور، اعتماد اور بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے نوجوان نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں بلکہ معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اعلیٰ مقام حاصل کر سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں گورنمنٹ گرلز انٹر کالج اورماڑہ میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اس تعلیمی ادارے اور تجربہ کار اساتذہ کی علمی و تربیتی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کریں، اپنی تعلیم کو ترجیح دیں، واضح اہداف مقرر کریں اور محنت و مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کریں انہوں نے طالبات کی فعال شرکت اور پُراعتماد انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خواتین معاشرے کی ترقی اور مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے طالبات کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھنے، مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے اور اپنے روشن مستقبل کے لیے سنجیدگی سے آگے بڑھنے کی تلقین کی۔
خبرنامہ نمبر7382/2026
گوادر05 ستمبر: صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت محکمہ تعلیم اور یونیسیف کے اشتراک سے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کتب اور مطالعاتی سہولیات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے مختلف تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں کتاب گاڑی کا مطالعاتی و تعلیمی وزٹ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول سرفراز کالونی، گھٹی ڈور گوادر میں منعقد ہوا، جہاں طلبہ کے لیے مختلف تعلیمی، مطالعاتی اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا کتاب گاڑی گوادر کے فیسلیٹیٹر منیر احمد نے ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے منیجر عادل نودزئی کی ہدایت پر سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔ پروگرام کا آغاز بچوں کے لیے جسمانی ورزش سے ہوا، جس کے بعد انہیں ایک دلچسپ اور سبق آموز کہانی سنائی گئی کہانی کے بعد طلبہ سے اس کے موضوع، کرداروں اور اخلاقی پہلوؤں سے متعلق سوالات کیے گئے، جن کا بچوں نے بھرپور جوش و خروش سے جواب دیا ایسے سرگرمیوں کا مقصد بچوں میں مطالعے کی عادت، کتب بینی کا شوق، تنقیدی سوچ، فہم و ادراک اور سوال و جواب کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ کتاب گاڑی کے تحت جاری یہ سرگرمیاں بچوں کو تعلیمی مواقع کے ساتھ کتب اور مطالعاتی مواد تک رسائی فراہم کرتے ہوئے ان میں سیکھنے اور مطالعے کے شوق کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔
خبرنامہ نمبر7383/2026
رکھنی: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ نے ماڈل بازار رکھنی کے قیام کے لیے سمند خان اسٹریٹ میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو مکمل طور پر کلئر کر دیا۔تجاوزات کے خاتمے کے بعد کلئر کی گئی اراضی محکمہ C&W کے حوالے کر دی گئی، جس کے بعد ماڈل بازار کے قیام کے لیے ترقیاتی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق ماڈل بازار کی بروقت تکمیل کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں ایک منظم، بہتر اور جدید تجارتی مرکز قائم ہوگا۔
خبرنامہ نمبر7384/2026
کوئٹہ: 5 ستمبر:بلوچستان سینٹر اف ایکسیلنس, حکومتِ بلوچستان کی جانب سے یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر کوئٹہ میں Resilient and Rising Pakistan کے عنوان سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ جمیل احمد بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی مضبوطی صرف دفاعی صلاحیتوں میں نہیں بلکہ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ، متحد اور ذمہ دار معاشرے میں بھی پنہاں ہے.چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط پاکستان کے لیے اداروں، نوجوانوں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ڈپٹی کوآرڈینیشن افیسر عصمت خان نے نوجوانوں کی تعلیم، شعور اور مثبت کردار کو ملک کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں مؤثر مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ اس موقع پر عبدالمتین اخوانزادہ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قومی اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کو پاکستان کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ مشترکہ سوچ اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے. بیوٹمز یونیورسٹی کی لیکچرر خالدہ ناز اور ینگ ریسرچر عرشہ منظور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مستقبل، قومی یکجہتی، نوجوانوں کے کردار اور ایک مضبوط و پائیدار معاشرے کی تشکیل کے معاشرے کی تشکیل کے لیے انگیجمنٹ کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔یومِ دفاع کے موقع پر منعقد ہونے والی یہ نشست اس عزم کی عکاس تھی کہ چیلنجز سے نمٹنے اور پاکستان کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔
خبرنامہ نمبر7385/2026
لورالائی،خبر نامہ 5 ستمبر 2026: میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے 6 ستمبر یومِ دفاع و شہداء پاکستان کے موقع پر شہر کے مختلف مقامات پر خصوصی آگاہی بینرز آویزاں کر دیے گئے۔آگاہی بینرز کے ذریعے شہریوں کو یومِ دفاع و شہداء پاکستان کی اہمیت اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے بہادر شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر میونسپل کمیٹی لورالائی کے چیف آفیسر محیب اللہ بلوچ اور چئرمین طاہر ناصر نے کہا کہ 6 ستمبر ہمیں اپنے بہادر شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنے اور وطن سے محبت کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں اور محفوظ و مضبوط پاکستان کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر میں نمایاں مقامات پر بینرز آویزاں کرنے کا مقصد شہریوں بالخصوص نوجوان نسل میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور شہداء کی قربانیوں سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر7386/2026
لورالائی5 ستمبر : میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کا عمل جاری ہے۔ چیف آفیسر محیب اللہ بلوچ اور چئرمین طاہر ناصر کی ہدایت پر صفائی عملہ مختلف زونز میں کچرے اور نالیوں کی صفائی میں مصروف ہے۔سپر وائزر عبد الخالق کی نگرانی میں پہاڑی محلہ اور گنجی محلہ میں کچرے کی صفائی کی گئی، جبکہ ڈی سی ہاؤس، ماجر اڈہ اور دیگر علاقوں سے بھی کچرا اٹھایا گیا۔اسی طرح ٹیچنگ ہسپتال کے قریب ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے صفائی کا کام کیا گیا۔ باران زون میں سبزی منڈی کے قریب نالی کی صفائی کی گئی، جبکہ ہزارہ محلہ میں شہری کی شکایت پر نالی کی صفائی عمل میں لائی گئی۔میونسپل کمیٹی کی جانب سے 6 ستمبر یومِ دفاع و شہداء پاکستان کے حوالے سے شہر کے مختلف مقامات پر آگاہی بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کی صفائی اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے صفائی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7387/2026
اُستامحمد۔ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج اُستامحمد پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے کہا ہے کہ گورنمنٹ ڈگری کالج اُستامحمد نصیرآباد ڈویژن میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کو معیاری تعلیمی مواقع کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بی ایس پروگرامز کے تحت مختلف فعال تعلیمی سیشنز میں اس وقت مجموعی طور پر 929 طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن میں 609 طلباء اور 320 طالبات شامل ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد نیک محمد سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے بتایا کہ کالج میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات میں طلباء کا تناسب 65.55 فیصد جبکہ طالبات کا تناسب 34.45 فیصد ہے انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج اُستامحمد میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کا تعلق صرف ضلع اُستامحمد تک محدود نہیں بلکہ کچھی، جھل مگسی جعفرآباد اور صحبت پور سمیت نصیرآباد ڈویژن کے مختلف علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں طلباء و طالبات یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس سے یہ ادارہ وسیع علاقے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے والے ایک اہم تعلیمی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے انہوں نے بتایا کہ بی ایس پروگرامز کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے لیے بی ایس کوآرڈینیٹر محمد طاہر کولاچی کی زیرِ نگرانی مختلف پروگرامز کو منظم کیا جا رہا ہے جبکہ کلاسز کے باقاعدہ انعقاد تدریسی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے دستیاب وسائل کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔پرنسپل نے بتایا کہ کالج میں صبح کے اوقات میں طلباء کے لیے بی ایس کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جن کے لیے 40 تدریسی اساتذہ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ شام کے اوقات میں طالبات کے لیے بی ایس کلاسز کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں 28 تدریسی اساتذہ تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں اس طرح بی ایس پروگرامز کے مختلف شعبوں اور شفٹوں میں مجموعی طور پر 68 اساتذہ تدریسی ضروریات پوری کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے کہا کہ طالبات کے لیے شام کے اوقات میں بی ایس کلاسز کا اجرا علاقے کی بچیوں کو اپنے ہی شہر میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اس اقدام سے نہ صرف طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں سہولت حاصل ہو رہی ہے بلکہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات کے لیے بھی اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کالج میں طالبات کی ایوننگ بی ایس کلاسز کے حوالے سے بعض انتظامی و سماجی پیچیدگیاں بھی درپیش ہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ خواہش ظاہر کی گئی ہے کہ طالبات کی ایوننگ بی ایس کلاسز کو صبح کی شفٹ میں شامل کرتے ہوئے کو ایجوکیشن سسٹم کے تحت بی ایس پروگرامز جاری رکھا جائے، تاہم مقامی قبائلی و سماجی ماحول کے پیش نظر اس حوالے سے بعض عملی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ ان کے اختیار سے باہر ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہی کیا جا سکتا ہے۔پرنسپل نے بتایا کہ ان ہی صورتحال کے باعث نئے تعلیمی سیشن 2026ء میں طالبات کے بی ایس پروگرام میں داخلے کا عمل متاثر ہوا اور داخلے بند رہے، تاہم والدین کی جانب سے طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع برقرار رکھنے کے مطالبے اور خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال سے گورنمنٹ ڈگری کالج اُستامحمد کو درپیش مختلف مسائل کے حوالے سے تفصیلی ملاقات اور بریفنگ ہوئی جس میں بالخصوص طالبات کے لیے جاری ایوننگ بی ایس کلاسز میں تدریسی خدمات سرانجام دینے والے لیکچررز اور پروفیسرز کے لیے اضافی اعزازیہ ریمونریشن کی فراہمی تدریسی عملے کی کمی طالبات کے داخلوں اور دیگر اہم تعلیمی و انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کالج کو درپیش مسائل کو انتہائی سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ حکام تک مسائل پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کالج کے مسائل کو فوری طور پر اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ضلعی انتظامیہ علاقے میں تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے پرنسپل نے امید ظاہر کی کہ کالج کو درپیش مسائل، بالخصوص تدریسی عملے کی کمی طالبات کے ایوننگ بی ایس پروگرام اور تدریسی عملے کے لیے اضافی اعزازیہ سے متعلق امور کے حل کے لیے اعلیٰ سطح پر مثبت پیش رفت ہوگی جس کے نتیجے میں طلباء و طالبات کو مزید بہتر اور معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اعلیٰ تعلیم، خصوصاً بی ایس پروگرامز کا فروغ علاقے کی تعلیمی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے حکومت بلوچستان کی جانب سے شعبہ تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے کہا کہ اُستامحمد اور ملحقہ اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ ڈگری کالج اُستامحمد میں بی ایس پروگرامز کو مزید مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بی ایس پروگرامز کو مزید وسعت دینے تدریسی سہولیات میں بہتری لانے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے اور طلباء و طالبات کو جدید تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے تعاون سے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ گورنمنٹ ڈگری کالج اُستامحمد کو علاقے میں اعلیٰ تعلیم کا ایک مزید مضبوط، معیاری اور فعال مرکز بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر7388/2026
خضدار 5ستمبر : ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے غلط انجکشن لگنے کے واقعہ کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔ڈی ایچ او خضدار کے مطابق واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر اپنی مکمل رپورٹ پیش کرے۔رپورٹ میں واقعہ کی وجوہات، ذمہ دار افراد اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار عبدالحمید لہڑی نے کہا کہ محکمہ صحت مریضوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ غفلت برتنے والے کسی بھی فرد کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر7389/2026
کوئٹہ 5 ستمبر۔ وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ 6 ستمبر 1965 ہماری دفاعی تاریخ کایادگار دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 6 ستمبرکو پاکستانی فوج نے نہ صرف مادر وطن کا دفاع کیا بلکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان ہر قسم کی جارحیت کو شکست دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ بزدل دشمن نے لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے رات کی تاریکی میں حملہ کیا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ افواج پاکستان کے جری سپوتوں نے بے مثال بہادری سے دشمن کو پسپا کیا۔پاک وطن کے جوانوں نے اپنی لازوال قربانیوں سے ثابت کیا کہ قومیں جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان اور حوصلے سے جیتتی ہیں،تاریخ عالم پاک فوج کی بہادری کی لازوال داستانیں رقم کرنے کی کوئی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ صوبائی مشیر نسیم الرحمان خان ملاخیل نے 6 ستمبر یومِ دفاع و شہدا کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وطن عزیز کے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کوشاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاع وطن کے لیے جان نچھاور کرنے والے بہادر سپوتوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے- دفاع وطن کے لئے اپنی قیمتی جانیں نچھاور کرنے والے شہداء ہماری آن،بان اور شان ہیں۔آج پوری قوم شہدائے وطن اور ان کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی کااظہار کرتی ہے۔یوم دفاع پر بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نہتے لوگوں کی عظیم قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آج اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ6 ستمبر یومِ دفاع پر پوری قوم پاک فوج کو دلی خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ معرکہ حق کی کامیابی نے قوم کے حوصلوں کو بلند کیا اور ہم سب اپنی افواج کو سلام پیش کرتے ہیں۔ 6 ستمبر کا یہ یادگار دن ہمیں شہداء اور غازیوں کے جذبہ? ایثار اور دفاعِ وطن کے عزم کی یاد دلاتا ہے۔
خبرنامہ نمبر7390/2026
کوئٹہ :ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے آج کوئٹہ ٹراما سینٹر کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پشین کے علاقے خانی بابا کراس کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں شدید زخمی ہونے والے ہرنائی پولیس کے بہادر جوانوں نصراللہ اور راقب جان کی عیادت اور ان کی طبی دیکھ بھال کا جائزہ لینا تھا۔ گزشتہ روز پشین کے علاقے خانی بابا کراس کے قریب زیارت روڈ کی تعمیر میں مصروف ایک نجی کمپنی کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد نے اچانک حملہ کر دیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ اسی اثنا میں، ڈپٹی کمشنر ہرنائی کا سکواڈ کوئٹہ سے ہرنائی کی طرف گشت؍سفر پر تھا کہ اتفاقاً واقعے کی جگہ پر پہنچ گیا اور مسلح افراد کی برسرِعام فائرنگ کی زد میں آ گیا۔?اس شدید فائرنگ کے نتیجے میں ہرنائی پولیس کے دو اہلکار، نصراللہ اور راقب جان، گولیوں کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد زخمیوں کو مقامی سطح پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور حالت تشویشناک ہونے کے باعث فوری طور پر کوئٹہ ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ٹراما سینٹر میں قیام کے دوران، ڈی سی ہرنائی ارشد حسین جمالی نے زخمی جوانوں کے پاس جا کر ان کی مزاج پرسی کی اور ان کی جلد و مکمل صحتیابی کے لیے نیک خواہشات اور خصوصی دعائیں کیں۔ انہوں نے موقع پر موجود ماہر ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ سے ان کے علاج معالجے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ “ان بہادر جوانوں کے علاج و معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے پولیس جوانوں کی شجاعت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا فرض کی راہ میں اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کرنے والے اور زخمی ہونے والے یہ جوان ہماری قوم کا اصل فخر اور اثاثہ ہیں۔ ان کی قربانیاں اور شجاعت ضائع نہیں جائے گی .انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اور سیکیورٹی ادارے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے تمام دستیاب وسائل اور اقدامات بروئے کار لا رہے ہیں، اور امن و امان کی فضابگاڑنے والے ان شرپسندوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لاکر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا.
خبرنامہ نمبر7391/2026
ہرنائی:ضلع ہرنائی میں امن و امان کی صورتحال اور لاپتہ افراد کے کیسز کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں لاپتہ افراد کی بازیابی اور متعلقہ کیسز میں پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے ضلع میں زیر التواء کیسز اور لاپتہ افراد سے متعلق پولیس انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کے بارے میں بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ پولیس قانون کے مطابق تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کیسز پر کام کر رہی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ قائم ہے۔ اس موقع پر لاپتہ افراد کے لواحقین سے رابطے، قانونی کارروائی اور انکوائری کمیٹی کی ہدایت کے مطابق اقدامات کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع ہرنائی میں انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئیں کہ لاپتہ افراد سے متعلق کیسز میں شفافیت اور تیزی لائی جائے۔
خبرنامہ نمبر7392/2026
سیوی 5 ستمبر:اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی کی زیرِ صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انجمن تاجران کے نمائندگان، سبزی و گوشت فروشوں، دودھ و دہی فروشوں سمیت دیگر متعلقہ کاروباری افراد نے شرکت کی۔اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، مارکیٹ میں نرخوں کے استحکام، سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد اور عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے تاجروں اور دکانداروں پر زور دیا کہ وہ مقررہ نرخوں کی پابندی کریں اور عوام کو معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مارکیٹوں میں قیمتوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
خبرنامہ نمبر7393/2026
چمن:یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے چمن شہر میں ڈسٹرکٹ-A0ایجوکیشن افیسر عبدالقدوس اچکزئی اور پرنسپل گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری-A0اسکول حاجی غلام علی سرور کی قیادت میں ایک پُروقار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ریلی میں طلباء، اساتذہ اور دیگر شرکاء نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے قومی پرچم تھامے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں کے ذریعے وطنِ عزیز سے اپنی والہانہ محبت اور قومی یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر مقررین نے 6 ستمبر 1965ء کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یومِ دفاع ہمیں وطن کے دفاع، قومی اتحاد اور قربانی کے جذبے کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے قوم ہمیشہ متحد اور پُرعزم رہے گی۔ریلی کا مقصد نئی نسل میں حب الوطنی، قومی شعور، اتحاد اور وطن سے وفاداری کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔
خبرنامہ نمبر7394/2026
صوبائی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی ہدایت پر محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان، حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے اور بزمِ صائم ادبیات اکیڈمی کے زیرِ اہتمام یومِ دفاعِ پاکستان کی مناسبت سے گورنمنٹ گرلز کالج جناح ٹاؤن میں ایک شاندار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچستان کی مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرا اور ادیبوں نے بھرپور شرکت کی۔محفلِ مشاعرہ کی صدارت پشتو اور اردو کے معروف و سینئر شاعر جناب سرور سودائی نے کی، جبکہ رکنِ صوبائی اسمبلی جناب سنجے کمار تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔تقریب میں پشتو، براہوی، بلوچی، اردو اور سندھی زبان کے معروف شعرا نے اپنے منتخب کلام کے ذریعے وطنِ عزیز سے محبت، قومی یکجہتی اور ملکی دفاع کے جذبے کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر سرور جاوید، اعجاز امر، نورخان نواب،فرزانہ خدرزئی، محترمہ تسنیم صنم، محترم رشید حسرت، کامران قمر، زاہد دشتی، نور بلیدی اور دیگر شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ گورنمنٹ گرلز کالج کی طالبات اور نوجوان شعرا نے بھی وطنِ عزیز سے محبت کے اظہار میں خوبصورت اور پُرجوش اشعار پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی رکنِ صوبائی اسمبلی جناب سنجے کمار نے کہا کہ ملکی دفاع اور قومی شعور کی بیداری میں شاعروں اور ادیبوں نے اپنے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کیا ہے، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ مینا مجید بلوچ نے بلوچستان کی تمام زبانوں کے شعرا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے نہ صرف ادب کی حوصلہ افزائی کی بلکہ قومی یکجہتی، بھائی چارے اور بین الثقافتی اور کثیر ال لثانی و ہم آہنگی کا ایک خوبصورت پیغام بھی دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مختلف زبانیں اور ان کا ادب ہماری ثقافتی شناخت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ایسے پروگرام ان زبانوں کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر یوتھ افئرز جناب سجاد اسلم بلوچ نے کہا کہ محکمہ امورِ نوجوانان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں مثبت و تعمیری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ ان کا قلم معاشرے کی فکری اور ثقافتی سمت متعین کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے نوجوان شعرا اور ادیبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔محفل کے اختتام پر شعرا، نوجوانوں اور دیگر شرکاء میں انعامات اور اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔
خبرنامہ نمبر7395/2026
کوئٹہ۔5 ستمبر :صوبائی وزیر انڈسٹریز چیف سردار کوہیار خان ڈومکی نے 6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یومِ دفاع ہماری قومی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش دن ہے، جب پاک فوج کے بہادر جوانوں نے دشمن کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع کی عظیم مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اور غازیوں کی قربانیاں پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں، پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سردار کوہیار خان ڈومکی نے کہا کہ آج کے دن ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی، استحکام اور دفاع کے لیے متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے یومِ دفاع کے موقع پر شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر7397/2026
گنداخہ۔ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت پر گنداخہ واٹر سپلائی اسکیم کے لیے پانی کی لفٹنگ کا عمل جاری ہے جس کا مقصد شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور انہیں درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کرنا ہے اس سلسلے میں نائب تحصیلدار گنداخہ بلال جمالی موقع پر موجود رہ کر پانی کی لفٹنگ اور فراہمی کے عمل کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں نائب تحصیلدار گنداخہ نے متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ واٹر سپلائی اسکیم کے لیے پانی کی لفٹنگ ترسیل اور تقسیم کے تمام مراحل کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے کہا کہ پانی کی دستیابی اور سپلائی کے نظام کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور کسی بھی فنی یا انتظامی مسئلے کی صورت میں فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔اس موقع پر متعلقہ عملے کو اس امر کا بھی پابند کیا گیا کہ شہریوں کو پانی کی مسلسل اور بلاتعطل فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور واٹر سپلائی نظام میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے کہا ہے کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے خصوصاً پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک بنیادی ضرورت ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے انہوں نے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ عوامی مشکلات کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں مؤثر اور فعال انداز میں ادا کریں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو درپیش مسائل کے فوری حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو عوامی سہولیات کی بہتری اور پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی بھی ہدایات دی گئی ہیں.
خبرنامہ نمبر7398/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے 6 ستمبر یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر اپنے پیغام میں پاکستان کے بہادر شہداء، غازیوں اور مسلح افواج کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے، جو ہمیں وطن عزیز کے دفاع کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں اور قوم کے سپوتوں نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں اور پوری قوم اپنے ان عظیم ہیروز کو ہمیشہ عقیدت و احترام سے یاد رکھے گی۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ پاکستان کی مضبوطی اور ترقی کے لیے قومی اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں شہداء کے جذب? حب الوطنی کو اپناتے ہوئے ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان سمیت پورا پاکستان اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ وطن عزیز کی سلامتی، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں گیانہوں نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر شہداء کے اہلِ خانہ سے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو سلام، پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
خبرنامہ نمبر 7399/2026
کوئٹہ، 5 ستمبر 2026 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سول اور ملٹری بیلنس برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کو مؤثر کارروائی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، ریاست کسی صورت اپنے شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری کی جانب سے پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھائے گئے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس موقع پر وہ پہلے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کا ذکر کرنا چاہیں گے جس کا تذکرہ رکن صوبائی اسمبلی نور محمد دمڑ نے کیا۔ دہشت گردوں نے جس انداز میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور بے دردی سے ہمارے لوگوں کو شہید کیا، اس کی مذمت کے لیے الفاظ بہت کم ہیں۔ شہداء کا مقام بہت بلند ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ شہداء رسول اللہ ﷺ کی شفاعت میں ہوں گے اور اس دنیا سے بہتر مقام پر ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ پہلے دن سے بلوچستان اسمبلی جیسے نمائندہ اور معزز ایوان کے سامنے یہ بات رکھنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں کہ دہشت گردی کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ سیکیورٹی فورسز اس وقت ایک ’’گرے زون‘‘ میں آپریٹ کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی جانب سے ان کے سابقہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور سیاسی اسکورنگ بعض لوگوں کا خاص مشغلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ انہیں آئی ایس پی آر کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اور اسی معزز ایوان نے انہیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ ریاست کا بیانیہ، حکومت کا بیانیہ اور دہشت گردی و ترقی کے حوالے سے حکومت کا مؤقف اسمبلی کے سامنے رکھیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کسی صورت سول اور ملٹری کے درمیان عدم توازن کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ موجودہ حالات میں سول اور ملٹری بیلنس کی اشد ضرورت ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن امر ہے کہ تقریباً ہر اسمبلی اجلاس کا آغاز فاتحہ خوانی سے ہوتا ہے، یہ کوئی معمول کی صورتحال نہیں۔ روزانہ لوگ شہید ہو رہے ہیں، سیکیورٹی اہلکاروں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے اور شہداء کی لاشوں کو جلایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز شہید ہونے والے ایک کیپٹن کی صرف چھ ماہ کی بیٹی ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس خاندان پر کیا گزر رہی ہوگی۔ اسی طرح دالبندین میں شہید ہونے والے دوسرے کیپٹن اور ان کے خاندان کا دکھ بھی ناقابل بیان ہے۔ اس جنگ میں کئی کرنل، جرنیل، سیکیورٹی اہلکار، پولیس جوان اور سویلین شہید ہو چکے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں گزشتہ روز غالباً بسیمہ سے ایک بچے کا فون آیا جس نے بتایا کہ بی ایل اے کے لوگ اس کے بھائی کو لے گئے ہیں، حالانکہ وہ خود کہہ رہے تھے کہ وہ بے گناہ ہے اور اس نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ بلوچ کو محض اس بنیاد پر قتل کر دیا گیا کہ اس نے مبینہ طور پر ان کی بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ اسی طرح لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج، سیکیورٹی فورسز یا بلوچستان حکومت نے کبھی عوام سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ بندوق اٹھائیں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ کمانڈر 12 کور نے کسی رکن اسمبلی یا عام شہری سے بندوق اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور نہ حکومت ایسا چاہتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا مطالبہ صرف ’’اینیبلنگ انوائرمنٹ‘‘ فراہم کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے سابقہ بیان کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر کسی شخص کی نجی ملکیت، باغ، گھر، دکان یا ہوٹل دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کے لیے استعمال ہو رہا ہو تو ریاست اس صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اگر ایک ہمسایہ روزانہ دوسرے کے گھر پر پتھراؤ یا فائرنگ کرے تو اس کا ردعمل لازمی ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی باغ کو دہشت گرد حملہ آوروں کی آڑ، ہیومن شیلڈ یا مورچہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ریاست کے لیے کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست نے کبھی باغ کے مالک یا عام شہری سے یہ نہیں کہا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بندوق اٹھائے۔ ریاست کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ اگر کسی کی نجی ملکیت میں مسلح جتھہ آ کر مورچہ بند ہوتا ہے یا وہاں سے سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جاتا ہے تو متعلقہ شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون معاشروں میں صدیوں سے روایات رہی ہیں کہ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ کسی مسافر کا دشمن آگے راستے میں موجود ہے تو اسے روکا جاتا ہے، خبردار کیا جاتا ہے اور اسے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی باغ میں آ کر مورچہ بند ہو جائے تو قبائلی معاشرے میں یہ ماننا مشکل ہے کہ باغ کے مالک کو اس کا علم ہی نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی شخص کو علم ہو کہ مسلح افراد اس کی زمین یا باغ میں موجود ہیں تو اس کے پاس کئی راستے ہیں۔ وہ اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ہوم ڈیپارٹمنٹ یا دیگر متعلقہ اداروں کو اطلاع دے سکتا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عوام کو اطلاع دینے کے لیے نمبرز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص بروقت اطلاع دے دے تو اس کے بعد وہ اپنی ذمہ داری پوری کر دیتا ہے، لیکن اگر اطلاع بھی نہ دی جائے تو ریاست کے پاس اسے دہشت گردوں کا سہولت کار سمجھنے کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ حکومت فوری طور پر کوئی انتہائی قدم اٹھانے جا رہی ہے، تاہم اگر نجی املاک مسلسل ریاستی اہلکاروں، فوج، ایف سی، پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال ہوتی رہیں تو حکومت کے پاس قانون کے مطابق کارروائی کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر اس معاملے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور باغات سے حملے جاری رہے تو مستقبل میں سیکیورٹی فورسز کے لیے براہ راست کارروائی کے سوا کیا راستہ رہ سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے بے گناہ مزدور بھی کولیٹرل ڈیمیج کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پھر یہی ایوان ان بے گناہ شہریوں کے قتل پر سوال اٹھائے گا۔ اس لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسا ماحول دینا ہوگا جس میں وہ مؤثر کارروائی کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین شہریوں کو حقوق دینے کے ساتھ ریاست کے ساتھ وفاداری اور ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ ریاست کے ساتھ وفاداری آئینی ذمہ داری ہے اور اگر شہری اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو ریاست کے پاس کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں رہے گا۔نقل مکانی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ماضی میں پورے کے پورے ڈویژن، مالاکنڈ، شمالی و جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے آبادیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا گیا، آئی ڈی پیز بنیں اور خیبر سمیت مختلف علاقوں میں نقل مکانی ہوئی، لیکن بلوچستان میں آج تک ایک گاؤں بھی خالی نہیں کرایا گیا انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ منصوبے میں مستونگ شامل نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں کی آبادی کو نقل مکانی کا سامنا ہوگا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شور پارود ایک پہاڑی سلسلہ ہے جہاں 1970ء سے آج تک مختلف ادوار میں مسلح افراد کے ٹھکانے اور فراری کیمپ موجود رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بلوچستان میں امن کے ادوار میں مسئلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا، بلکہ ان ادوار میں بھی بعض عناصر جنگ کی تیاری کرتے رہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شور پارود کے علاقے میں تقریباً ایک ہزار افراد کی آبادی ہے اور حکومت کے سروے کے مطابق یہ زیادہ تر خانہ بدوش آبادی ہے۔ ان لوگوں کو نوٹسز دیے گئے ہیں اور انہیں عارضی طور پر کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ حکومت ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی، ان کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں گے اور ان کی عزت و احترام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مستقل نقل مکانی نہیں بلکہ مخصوص مدت کے لیے عارضی انتظام ہوگا تاکہ علاقے میں موجود محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان محفوظ پناہ گاہوں میں دہشت گرد آرام سے منصوبہ بندی کرتے، اپنے دیگر لوازمات مکمل کرتے اور پھر انسانی ڈھال استعمال کرتے ہوئے ریاستی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ شہداء کے بچوں، بیواؤں اور ان بوڑھے والدین کو کیا جواب دیں جن کے بچے روزانہ اس جنگ میں جانیں قربان کر رہے ہیں؟ کہیں نہ کہیں ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف ’’وار فیئر‘‘ ہے جس کی ذمہ داری ملٹری، پیراملٹری اور پولیس پر ہے، جبکہ دوسری طرف ’’لاء فیئر‘‘ ہے اور اس کی ذمہ داری اس معزز ایوان پر عائد ہوتی ہے۔ آئین پاکستان نے اس ایوان کو جو ذمہ داری دی ہے، اسے پورا کرنا ہوگا اور اپنی ذمہ داری سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان ان کے لیے انتہائی محترم ہیں اور وہ ہر رکن کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ جب لاء اینڈ آرڈر پر بحث ہوتی ہے تو محض پوائنٹ اسکورنگ یا الزام تراشی کے بجائے کوئی تعمیری حل بھی پیش کیا جانا چاہیے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ کسی کو مورد الزام ٹھہرانے یا کسی کے جذبات مجروح کرنے کے لیے نہیں کھڑے ہوئے۔ اگر ان کی کسی بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا اور مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے انہوں نے کہا کہ جب بھی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر بحث ہو تو بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ حل کیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت دو ہی راستے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلا راستہ ڈائیلاگ کا ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان اور پارلیمنٹ سے باہر جرگے کرنے والے افراد کو کئی بار دعوت دی کہ وہ قیادت کریں اور کوئی قابل عمل راستہ نکالیں۔ اگر وہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں تو حکومت اس کا خیرمقدم کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایک مثال بھی بتائی جائے جہاں کسی ایسے گروہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہوا ہو جس نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ لاء فیئر اور گورننس کو بہتر بنانے کے ساتھ وار فیئر کو بھی مؤثر بنایا جائے، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوں، ضرورت کے مطابق ملٹری آپریشنز ہوں، فرنٹیئر کور کے آپریشنز ہوں یا پولیس، سی ٹی ڈی اور اے ایس او ڈبلیو کے آپریشنز ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی آپریشنز کی بات ہوتی ہے تو اگلے ہی روز اخبارات میں بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں کے بیانات آ جاتے ہیں کہ بلوچستان آپریشنز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپریشنز نہیں کرنے تو پھر متبادل حل بھی بتایا جائے کہ دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ موجودہ نقل مکانی کے منصوبے میں مستونگ شامل نہیں ہے۔ یہ صرف فٹ ہلز میں رہنے والی ایک محدود آبادی کے حوالے سے ہے، جن میں ایسے لوگ شامل ہیں جو اپنی بھیڑ بکریاں اور مویشی چراتے ہیں اور موسمی طور پر خود بھی نقل مکانی کرتے ہیں۔ سردیوں اور گرمیوں میں ان کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہے۔ حکومت ان کے لیے مناسب انتظام کرے گی، ان کی عزت و احترام کا خیال رکھا جائے گا اور خاص طور پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ابھی صرف پلاننگ اسٹیج پر ہے، اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوا۔ باغات اور نجی املاک کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کو اپنی نجی املاک استعمال نہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عام شہریوں سے بندوق اٹھانے کا مطالبہ نہیں کر رہی کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنا فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل ایکٹ کے تحت ہوٹل میں قیام کرنے والے افراد کی اطلاع دینا لازم ہے، اسی طرح شہروں میں رینٹل ایکٹ کے تحت کسی مکان یا جائیداد کو کرائے پر دینے کی صورت میں متعلقہ پولیس کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہی اصول باغات اور دیگر نجی املاک پر کیوں لاگو نہیں ہو سکتا؟ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی قبائلی شخص کے باغ سے دہشت گرد ریاستی اداروں پر حملہ کریں تو اسے یہ سوچنا ہوگا کہ اگر یہی صورتحال اس کے اپنے گھر کے ساتھ پیش آئے تو کیا وہ اسے معمولی بات سمجھے گا؟ ریاستی اہلکاروں کے بچے بھی بچے ہیں اور ان کے خاندان بھی خاندان ہیں۔ یہ سوچ کہ ریاستی اداروں کے اہلکاروں کے خلاف حملے ہوتے رہیں اور سب خاموش رہیں، اب مزید قابل قبول نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی نجی املاک کو دہشت گردوں کے استعمال سے محفوظ رکھیں اور اگر کوئی مسلح گروہ ان کی زمین، باغ، گھر یا کسی دوسری نجی ملکیت کو استعمال کرنے کی کوشش کرے تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا پہلا مطالبہ اور درخواست بلوچستان کے تمام بھائیوں سے یہی ہے کہ اپنی نجی املاک دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اگر نجی املاک دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہیں گی تو صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور جب وہ حد عبور ہو جائے تو ریاست کے پاس کارروائی کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔
خبرنامہ نمبر 7400/2026
کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء سے بلوچستان فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کے وائس چیئرمین ارشادمگسی کی سربراہی میں وفد نےلیڈاکانفرنس ہال میں ملاقات کی نمائندہ وفد نے کمشنر کوبتایا کہ بحیرہ عرب کے ساتھ بلوچستان کی ساحلی پٹی 750 کلومیٹر تک پھیلاہواہےجو پاکستان کی پوری ساحلی پٹی کا 60 فیصد سے زیادہ ہے اپنے بڑے جغرافیائی حصے اورخطے کی سمندری ماہی گیری کی بدولت منفرد اقتصادی اہمیت کاحامل ہےکمشنر کو نمائندہ وفد نےبتایا کہ بلوچستان میں سی فوڈکی تقریباً135,000 سے 155,000 میٹرک ٹن سالانہ پیداوار حاصل ہوتی ہے جو کہ پاکستان کی کل سمندری مچھلیوں کا 34% سے 45% ہےوائس چیئرمین نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کوبتایا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی کے ماہیگیر کسمپرسی کاشکارہیں ماہیگیروں کو نہ علاج معالجے کی سہولت میسر ہوتی ہے اورنہ ہی انکے بچوں کو تعلیمی وظائف ملتے ہیں صوبے میں مقامی پروسیسنگ انفراسٹرکچر کے فقدان کی وجہ سے ماہیگیری کی صنعت سےوابستہ40,000 محنت کش مجبورا اپنی مچھلیاں کراچی کے بیوہاریوں کو نیلام کرتی ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر سمندری غذا کراچی کے راستے سندھ میں پہنچائی جاتی ہے اور بلوچستان کو سرکاری برآمدی کھاتوں سے غائب رکھا جاتا ہےکمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہا ک ماہی گیری ساحلی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہےساحلی اضلاع میں 70 فیصد تک مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش ماہیگیری سے وابستہ ہےماہیگیروں کیلئے میڈیکل کیمپ انعقادکیلئےجلداقدامات کئےجائینگےارشادمگسی نے کمشنر کو آگاہ کیا کہ ماہیگیروں کی ویلفئیر کے حوالےسےفشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی مختلف ویلفئیر پروگرام پلان کرچکی ہےحکومت بلوچستان کیجانب سےگرانٹ اجراء نہ ہونے کی وجہ سےماہیگیر کمیونٹی کی ویلفئیرکےحوالے سے ہمیں مشکلات کاسامنا یے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے وائس چیئرمین نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سے درخواست کی ماہیگیروں کے ایشوزکے حوالے سے کھلی کچہری منعقد کی جائے تاکہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرزکی توجہ فشرمین کمیونٹی کے مسائل کی جانب مبذول کی جائے ۔
خبرنامہ نمبر 7401/2026
اُستا محمد۔۔ دھان کی فصل میں زرعی ادویات کے محفوظ اور مؤثر استعمال کے حوالے سے کاشتکاروں کو آگاہی اور عملی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ایکسٹینشن عمران احمد لاشاری کی زیر نگرانی محکمہ زراعت کی جانب سے ضلع اُستا محمد کے مختلف علاقوں میں دھان کے کاشتکاروں کو زرعی زہروں کیڑے مار ادویات اور جڑی بوٹی مار ادویات کے مناسب محفوظ اور مؤثر استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں گوٹھ میر شمیر خان رند یونین کونسل خانپور میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران کاشتکاروں کی جانب سے دھان کی فصل میں زرعی ادویات کے استعمال سے متعلق مسائل اور مشکلات کی نشاندہی کی گئی جس پر محکمہ زراعت کے ماہرین نے کاشتکاروں کو ضروری رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ زرعی ادویات کا استعمال ماہرین زراعت کی سفارشات ادویات کے لیبل پر درج ہدایات اور مقررہ مقدار کے مطابق کیا جائے تاکہ فصل کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت اور ماحول کو بھی محفوظ رکھا جا سکے
محکمہ زراعت کے ماہرین نے کاشتکاروں کو بتایا کہ زرعی زہروں اور جڑی بوٹی مار ادویات کے استعمال کے دوران حفاظتی دستانے ماسک، چشمہ اور مکمل حفاظتی لباس کا استعمال ضروری ہے ادویات کا محلول تیار کرتے وقت براہِ راست ہاتھ لگانے، ادویات کو سونگھنے یا منہ کے قریب لے جانے سے گریز کیا جائے جبکہ محلول ہمیشہ کھلی اور ہوادار جگہ پر صاف پانی کے ذریعے تیار کیا جائے سپرے کے دوران ہوا کی سمت کا خاص خیال رکھا جائے اور تیز ہوا یا شدید دھوپ کے اوقات میں سپرے کرنے سے گریز کیا جائے کاشتکاروں کو مزید آگاہ کیا گیا کہ دھان کی فصل کے لیے کسی بھی زرعی دوا کا انتخاب فصل جڑی بوٹی، کیڑے یا بیماری کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے دوا کی درست فارمولیشن، مقدار پانی کی مناسب مقدار سپرے کا وقت اور طریقہ کار فصل کی بہتر حفاظت اور مؤثر نتائج کے لیے انتہائی اہم ہیں ضرورت سے زیادہ یا کم مقدار میں دوا کا استعمال نہ صرف فصل کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ زمین پانی اور ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے محکمہ زراعت کی جانب سے کاشتکاروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ زرعی ادویات کے خالی ڈبوں بوتلوں اور پیکنگ کو دوبارہ گھریلو استعمال میں نہ لایا جائے اور انہیں نہروں کھالوں آبپاشی کے ذرائع کھیتوں یا عام راستوں پر پھینکنے سے مکمل طور پر گریز کیا جائے کیونکہ ان میں موجود کیمیائی اجزا انسانی صحت، مویشیوں آبی حیات اور ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ماہرین زراعت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپرے کے دوران بچوں، مویشیوں اور غیر متعلقہ افراد کو متاثرہ علاقے سے دور رکھا جائے اور سپرے کے بعد ہاتھ چہرہ اور استعمال ہونے والے حفاظتی سامان کو اچھی طرح صاف کیا جائے اسی طرح زرعی ادویات کو بچوں کی پہنچ سے دور، محفوظ اور مناسب جگہ پر رکھا جائے محکمہ زراعت کے افسران نے کہا کہ کاشتکار کسی بھی زرعی دوا کے استعمال سے قبل متعلقہ فیلڈ اسٹاف یا ماہرین زراعت سے مشورہ ضرور کریں تاکہ بیماری، کیڑے یا جڑی بوٹی کی درست تشخیص کے بعد مناسب دوا اور اس کی مقررہ مقدار تجویز کی جا سکے محکمہ زراعت کی جانب سے کہا گیا کہ دھان ضلع اُستا محمد کی اہم زرعی فصلوں میں شامل ہے اور کاشتکاروں کو بہتر پیداوار کے حصول کے لیے جدید زرعی طریقوں سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ زرعی ادویات کے محفوظ استعمال سے متعلق مسلسل آگاہی فراہم کی جا رہی ہے اس اقدام کا مقصد فصلوں کی پیداوار اور معیار میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں زرعی مزدوروں، مویشیوں آبی وسائل اور ماحول کو زرعی زہروں کے ممکنہ مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
خبرنامہ نمبر7402/2026
اورماڑہ 05 اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت سے تحصیل کرکٹ ایسوسی ایشن اورماڑہ کے صدر کیپٹن علی رضا کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں جنرل سیکریٹری زوہیب مسافر اور خزانچی تنویر احمد شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے اورماڑہ میں کھیلوں کے فروغ، کرکٹ کی ترقی اور درپیش مسائل سے اسسٹنٹ کمشنر کو آگاہ کیا اس پر موقع پر وفد نے کرکٹ گراؤنڈ پچ کی سہولیات اور کھیلوں کے سامان کی عدم دستیابی سمیت دیگر مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے حل کے لیے تعاون کی درخواست کی اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے اور کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور مثبت سوچ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں صحت مند ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ا نہوں نے تحصیل کرکٹ ایسوسی ایشن کو یقین دلایا کہ اورماڑہ میں کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7403/2026
تربت (5 ستمبر 2026) جامعہ تربت کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کی فیکلٹی گریجویٹ ریسرچ کمیٹی (ایف جی آر سی) کا پہلا اجلاس یونیورسٹی کے ویڈیوکانفرنس روم میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر طاہر حکیم کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں ایم فل پولیٹیکل سائنس پروگرام سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران اعلی تعلیم میں تحقیق کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ معیاری تحقیق کے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی گئی، تاکہ معاشرتی و سیاسی مسائل کا بہتر انداز میں حل نکالا جا سکے۔ اجلاس میں شعبہ پولیٹیکل سائنس کے سیشن 2026-2027 کے ایم فل اسکالرز کے لیے تحقیقی سپروائزروں کی تقرری اور توثیق کی سفارش کی گئی، جسے حتمی منظوری کے لیے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کو پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں چئرمین ڈاکٹر طاہر حکیم کے علاوہ فیکلٹی آف لاء کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین، گریجویٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وسیم برکت، شعبہ پولیٹیکل سائنس کے چئرمین چنگیز احمد اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سالم نے بھی شرکت کی۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اس موقع پریونیورسٹی میں تحقیقی کلچر کو مزید مستحکم بنانے کے لیے شعبہ پولیٹیکل سائنس اور دیگر تعلیمی شعبہ جات کے فیکلٹی ممبران کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فیکلٹی ممبران کی سربراہی میں قائم تحقیقی کمیٹیاں یونیورسٹی میں معیاری نگرانی کے نظام اور تحقیقی سرگرمیوں کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے تمام تعلیمی شعبہ جات میں معاشرتی طور پر بامعنی تحقیق کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
خبرنامہ نمبر7404/2026
سوراب میں عوام کو صحت مند تفریح، مثبت سرگرمیوں اور پُرسکون ماحول کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے قائم کیے گئے سوراب فیملی پارک کا باقاعدہ افتتاح ایک پروقار اور شاندار تقریب کے دوران کر دیا گیا،افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، عسکری حکام، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین، بچوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،سوراب فیملی پارک کا افتتاح ڈپٹی کمشنر سوراب صاحب زادہ نجیب اللہ، 61 ونگ کے کمانڈر کرنل سید فخر طلحہٰ رفیق، ایس پی سوراب خورشید بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی اور میجر عباس علی نے فیتہ کاٹ کر کیا،اس موقع پر شرکاء نے پارک کے قیام کو اہلِ سوراب کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند اقدام قرار دیا،افتتاحی تقریب کے موقع پر فیملی پارک میں مختلف اقسام کے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے، جہاں بچوں اور خواتین کے لیے مختلف تفریحی و دلچسپ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا،ڈپٹی کمشنر سوراب صاحب زادہ نجیب اللہ اور کمانڈر 61 ونگ کرنل سید فخر طلحہٰ رفیق نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، جہاں منتظمین اور متعلقہ افراد کی جانب سے انہیں اسٹالز اور وہاں موجود سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،پارک کے افتتاح کے موقع پر پورا ماحول خوشی سے بھرپور نظر آیا،خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت نے تقریب کی رونق میں مزید اضافہ کر دیا، جبکہ شہریوں نے فیملی پارک کے قیام کو سوراب میں تفریحی سہولیات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا،افتتاحی تقریب کے سلسلے میں ایک خصوصی محفلِ موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں معروف گلوکار مرشد علی حسن آزاد نے اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا اور خوبصورت گیت پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا، ان کی شاندار پرفارمنس نے افتتاحی پروگرام کو مزید یادگار اور پُررونق بنا دیا،جبکہ حاضرین نے بھرپور انداز میں محفل سے لطف اٹھایا،اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ سوراب فیملی پارک کا قیام اہلِ علاقہ خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے ایک بہترین تفریحی سہولت ہے،ایسے مقامات نہ صرف خاندانوں کو ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں اور بچوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں،افتتاحی تقریب کے دوران سیکیورٹی کے پیشِ نظر سخت انتظامات کیے گئے تھے،متعلقہ سیکیورٹی اہلکاروں نے پارک کے داخلی و خارجی راستوں سمیت تقریب کے مختلف مقامات پر فرائض انجام دیے اور شرکاء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے،افتتاحی تقریب کے اختتام پر شرکاء نے سوراب فیملی پارک کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پارک مستقبل میں اہلِ سوراب کے لیے ایک بہترین تفریحی مرکز ثابت ہوگا اور یہاں صحت مند، مثبت اور خاندانی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جائے گا، واضح رہے کہ یہ فیملی پارک ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے بی ایس ڈی آئی فنڈز سے بنایا گیا ہے*
خبرنامہ نمبر7405/2026
ڈپٹی کمشنر ہرنائی میر ارشد حسین جمالی نے 6 ستمبر -ABیومِ دفاعِ پاکستان-BB کے پروقار موقع پر قوم اور بالخصوص افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر 1965ء کا دن ہماری قومی و عسکری تاریخ میں شجاعت، اتحاد اور بے مثال قربانیوں کا استعارہ ہے۔ اس تاریخی دن پاکستان کی مسلح افواج نے عددی برتری رکھنے والے دشمن کے شوم ارادوں کو خاک میں ملاتے ہوئے دفاعِ وطن کی وہ شاندار مثال قائم کی جو قیامت تک آنے والی نسلوں کا سر فخر سے بلند رکھے گی۔?انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اور عوام نے کندھے سے کندھا ملا کر مادرِ وطن کی سرحدوں کی حفاظت کی۔ ہمارے جری جوانوں اور افسران نے جرأت، بسالت اور شہادت کا جذبہ بیدار رکھتے ہوئے قربانیوں کی جو لازوال داستان رقم کی، اس پر پوری قوم کو بجا طور پر فخر ہے۔ شہداء کا خون اور غازیوں کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی بقا اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔?ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ دور میں بھی افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں، ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں اور مادرِ وطن سے والہانہ محبت قابلِ تقلید ہے۔ ملک کو درپیش معاشی، دفاعی اور امن و امان کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام شہریوں کو متحد، منظم اور مستحکم رہنا ہوگا۔ انہوں نے عوام اور جوانوں پر زور دیتے ہوئے اپیل کی کہ ہم سب کو مل کر ملک کی مسلسل ترقی، امن و استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا مثالی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے مشن اور نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی سربلندی کے لیے دن رات کوشاں رہیں۔
خبرنامہ نمبر7406/2026
کوئٹہ 5 ستمبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم نے خروٹ آباد اور خیزی چوک کے علاقوں میں پرائس کنٹرول کے حوالے سے کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سبزی فروشوں اور دودھ فروشوں کی دکانوں کا معائنہ کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ گرانفروشی پر کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ سرکاری نرخنامہ نمایاں جگہ پر آویزاں نہ کرنے والے دکانداروں کو سخت وارننگ دی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخنامے کے مطابق اشیائے ضروریہ کی فروخت یقینی بنائیں اور نرخنامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے اور گرانفروشی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر7407/2026
کوئٹہ 05ستمبر۔بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ حیات کاکڑ کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کوئٹہ شہر میں خستہ حال اور موٹر وہیکل آرڈیننس ؍رولز کے تحت کینسل شدہ پرمٹ پر چلنے والی لوکل بسوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کوئٹہ نعمت اللہ ترین نے اپنے عملے کے ہمراہ ایس پی ٹریفک صدر کوئٹہ عاصم شاہ اور ٹریفک پولیس کی ٹیم کے ساتھ مختلف روٹس پر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران پانچ خستہ حال اور کسنیل شدہ لوکل بسوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ تین بس مالکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک بس مالک کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر بھی درج کر دی گئی ۔حکام نے بتایا کہ کارروائی میں بند کی جانے والی تمام لوکل بسوں کے پرمٹ ان کی خستہ حالی اور موٹر وہیکل قوانین کی خلاف ورزی کے باعث آر ٹی اے کی جانب سے پہلے ہی منسوخ کیے جا چکے تھے، تاہم اس کے باوجود بس مالکان کی جانب سے انہیں مختلف روٹس پر غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا۔سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نعمت اللہ ترین نے کہا کہ منسوخ شدہ پرمٹ اور خستہ حال گاڑیوں کو کسی صورت سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو قانون کے مطابق بہتر بنانے اور شہریوں کو محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹرانسپورٹرز کو مقررہ قوانین اور حفاظتی معیار پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔کوئٹہ شہر کے اندرون سڑکوں پر اب صرف 2022 ماڈل کوسٹر اور آئی ایس کو چلنے کی اجازت ہوگی۔





