خبر نامہ نمبر5858/2026
کوئٹہ، 05 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء میر صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم خان کھوسہ اور میر شعیب نوشیروانی نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، مختلف شعبوں میں اصلاحات اور محکموں کی گزشتہ ڈھائی سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی نے DHIS2 ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم کے نفاذ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ڈیٹا رپورٹنگ اور رپورٹنگ کمپلائنس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ DHIS2 کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، مقامی اختراعات اور تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔ سیکرٹری صحت نے اپنے حالیہ دورہ اوسلو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی سطح کے فورم پر بلوچستان حکومت کے ڈیجیٹل ہیلتھ اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا گیا، جبکہ بلوچستان میں DHIS2 کے موثر نفاذ اور ڈیٹا کے استعمال کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کے تعاون سے مشترکہ تحقیق، تکنیکی تبادلوں اور بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں محکمہ صحت میں ایک مضبوط DHIS2 کور ٹیم کی تشکیل اور متعلقہ عملے کی استعداد کار میں اضافے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکموں کی گزشتہ ڈھائی سالہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں جاری اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے میرٹ کے فروغ اور اے آئی بیسڈ بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نظام کو عوامی خدمات کی بہتری کے لیے مزید موثر انداز میں بروئے کار لانے پر زور دیا۔ اجلاس میں شریک صوبائی وزراءنے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر قیادت صوبائی حکومت کی گزشتہ ڈھائی سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں اصلاحات، میرٹ کے فروغ، شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزراء نے کہا کہ ترقیاتی عمل میں بہتری، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے اہم پہلو ہیں۔ انہوں نے اے آئی بیسڈ بھرتیوں اور میرٹ پر مبنی نظام کو صوبے کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا۔ صوبائی وزراءنے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں جاری اصلاحات کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5859/2026
کوئٹہ، 05 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہوئے عوام کو بہتر میونسپل سروسز کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں پہلے مرحلے میں صوبے کی تمام میونسپل کمیٹیوں کو جدید مشینری اور ضروری آلات سے لیس کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں یونین کونسلز، چھوٹے ٹاو¿نز اور دیہی علاقوں تک اس سہولت کو توسیع دی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی آفس میں محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے میونسپل سروسز انیشی ایٹو 2026 کے تحت لوکل گورنمنٹ اداروں کو جدید مشینری کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے لوکل گورنمنٹ نوابزادہ بابا امیر حمزہ زہری نے منصوبے کی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں صوبائی وزراء، میر شعیب نوشیروانی، میر صادق عمرانی، میر سلیم خان کھوسو، میر ظہور احمد بلیدی، حاجی علی مدد جتک، میر عاصم کرد گیلو، ملک نعیم بازئی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم ، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ روف بلوچ، مختلف محکموں کے سیکرٹریز، کمشنر کوئٹہ، دیگر اعلیٰ حکام اور معزز مہمانوں نے شرکت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج کا دن بلوچستان کے لیے اہم ہے، بالخصوص ان رفقاء کے لیے جو صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں بلوچستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس کے تحت میونسپل کمیٹیوں کو جدید مشینری فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شہروں میں صفائی ستھرائی اور میونسپل سروسز کا نظام بہتر بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لوکل گورنمنٹ کا نظام موجود ہے اور صوبہ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی انتخابات منعقد کیے گئے ہیں۔ مقامی حکومتوں کی موجودہ مدت فروری 2027 میں مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔ حکومت بلوچستان آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ انتخابات کے انعقاد میں کسی قسم کا حیلہ یا بہانہ نہیں کیا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انتخابات کے بعد میونسپل کمیٹیوں کی سطح پر عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ لوکل گورنمنٹ وہ نظام ہے جس کی براہ راست رسائی عام آدمی تک ہے اور اسے موثر بنانے سے گورننس کے معیار میں بہتری آتی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس انسانی وسائل محدود ہیں جبکہ عوامی ضروریات اور میونسپل سروسز کا دائرہ وسیع ہے۔ دنیا جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے صرف انسانی قوت کے ذریعے صفائی کا نظام موثر بنانا ممکن نہیں۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے میونسپل سروسز کے لیے جدید مشینری فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ حکومت کا فوکس میونسپل سروسز پر ہے اور دستیاب فزیکل اسپیس کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے شہروں میں صفائی، نکاسی آب اور کچرے کی منتقلی کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے دیگر شعبوں میں بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کام جاری ہے اور صوبے کے اسکولز اور صحت کے مراکز فعال کیے جا رہے ہیں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں میونسپل کمیٹیوں کو 15 کے قریب سیوریج سکشن ٹرکس، 87 سینی ٹیشن رکشے، 350 سے زائد گاربیج کنٹینرز، 500 ہینڈ کارٹس اور 700 سے زائد ڈسٹ بنز سمیت مختلف مشینری اور آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہینڈ کارٹس اور سینی ٹیشن رکشے اس لیے بھی اہم ہیں کہ بلوچستان کے شہروں میں بہت سی تنگ گلیاں موجود ہیں جہاں بڑے ٹرک نہیں پہنچ سکتے۔ دوسرے مرحلے میں اس مشینری اور آلات کی تعداد کو مزید بڑھایا جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ضلعی حکومتوں کے فنڈز میں بھی اضافہ کیا ہے تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔ چمن شہر میں صفائی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کے بیٹے کے انتقال پر وہ اور چیف سیکرٹری فاتحہ خوانی کے لیے چمن گئے تھے، راستے میں 12 سے 13 فٹ بلند کچرے کے ڈھیر دیکھے گئے۔ واپسی پر ڈپٹی کمشنر سے صورتحال کے بارے میں دریافت کیا گیا تو بتایا گیا کہ شہر میں کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے ڈمپنگ سائٹ موجود نہیں۔ تاہم موقع پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سختی سے صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی اور اسی ڈپٹی کمشنر نے صورتحال کو چیلنج سمجھتے ہوئے پورے چمن شہر میں صفائی مہم شروع کی اور سالوں سے جمع کچرے کو ختم کیا جس سے چمن شہر میں صفائی اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے نظام میں نمایاں بہتری آئی وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ صفائی کا اہتمام سب سے پہلے اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول سے شروع کریں۔ حکومت مشینری اور وسائل فراہم کر سکتی ہے، تاہم صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عوام کا تعاون اور عملی شمولیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو نئی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان سہولیات کے استعمال اور کارکردگی کا احتساب بھی ہوگا۔ صفائی کے نظام کی نگرانی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایسی ایپس متعارف کرائی گئی ہیں جن کے ذریعے شہری براہ راست چیف منسٹر سیکرٹریٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر صفائی میں غفلت یا کوتاہی کی صورت میں انتظامی افسران اور لوکل گورنمنٹ کے متعلقہ عملے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور سخت باز پرس کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے کوئٹہ کے لیے میٹرو ریلوے سروس شروع کی ہے جس سے عوام کو نئی سفری سہولت میسر آئی ہے، تاہم سروس کے آغاز کے بعد معمولی نوعیت کے ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر اعتراضات اور تنقید شروع کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین کے چند نٹ بولٹ نکلنے کے واقعے کو کرپشن سے جوڑنا مناسب نہیں، یہ عوام کے لیے ایک نئی سفری سہولت ہے، اسے چلنے اور بہتر ہونے کا موقع دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مثبت تنقید سے حکومت کو اپنی سمت درست کرنے میں مدد ملتی ہے، تاہم ہر معاملے کو منفی انداز میں دیکھنا مناسب نہیں ، خصوصاً ایسی تنقید کچھ افراد کا وطیرہ ہے جو ہر اچھے منصوبے میں بھی منفی پہلو تلاش کرتے ہیں پولی تھین بیگز کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شاپرز آلودگی میں اضافے اور صفائی کے نظام میں رکاوٹ کا ایک بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مشیر بلدیات کو ہدایت کی کہ پولی تھین بیگز کے خلاف مہم کی خود نگرانی کریں اور عوام و دکانداروں کو چار ماہ تک آگاہی فراہم کی جائے، جس کے بعد پورے بلوچستان میں پولی تھین بیگز پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے حکومت کو خدمت کا موقع دیا ہے اور اب متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فراہم کردہ مشینری اور وسائل کو موثر انداز میں استعمال کریں۔ عام بلوچستانی جو سردیوں میں ٹھٹھرتا اور گرمیوں میں شدید گرمیوں میں جھلستا ہے اسے عملی طور پر محسوس ہونا چاہیے کہ صوبے میں تبدیلی آ رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مشیر لوکل گورنمنٹ نوابزادہ امیر حمزہ زہری، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بلدیاتی ادارے اسی محنت اور جذبے کے ساتھ کام جاری رکھتے ہوئے عوام کو بہتر میونسپل اور صفائی کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے لوکل گورنمنٹ اسٹریٹجک منصوبے
میونسپل سروسز انیشی ایٹو 2026 کا افتتاح کیا اور مشینری کا معائنہ کیا ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5860/2026
قلات6 اکتوبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایت پر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کی جانب سے ضلع قلات میں اسکالرشپ آگاہی سیشن انعقادکے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے ضلع قلات میں کل 6 اکتوبر 2026دوپہر 12:00 بجےکانفرنس روم، ڈپٹی کمشنر آفس، قلات میں طلباء طالبات کیلئے آن لائن سیشن:منعقد ہوگا آگاہی سیشن میں BEEF اسکالرشپس، اہلیت کے معیار، درخواست دینے کے طریقہ کار اور دیگر تعلیمی مواقع کے حوالے سے طلبہ، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان شرکاء کو تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5861/2026
بیف (BEEF) اسکالرشپس آگاہی سیشن، ضلع قلات
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایت پر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کی جانب سے ضلع قلات میں اسکالرشپس آگاہی سیشن منعقد کیا جا رہا ہے۔
کل 6 اکتوبر 2026 دوپہر 12:00 بجے مقام: کانفرنس روم، ڈپٹی کمشنر آفس، قلات آن لائن سیشن: BEEF ٹیم، کوئٹہ
سیشن میں BEEF اسکالرشپس، اہلیت کے معیار، درخواست دینے کے طریقہ کار اور دیگر تعلیمی مواقع کے حوالے سے طلبہ اور شرکاء کو تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
شرکت کے لیے مدعو:
طلبہ، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان۔
BEEF کے آفیشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منسلک رہیں:
WhatsApp Channelhttps://whatsapp.com/channel/0029Va8MGFF6mYPHVPBU7G0X
اسکالرشپس کے اعلانات اور اہم معلومات
YouTubehttps://www.youtube.com/@beef.scholarshiاسکالرشپ رہنمائی اور معلوماتی ویڈیوز
Instagramhttps://instagram.com/beef_scholarship
اسکالرشپ اپڈیٹس، اعلانات اور طلبہ کی کامیابیاں
TikTokhttps://tiktok.com/@beefscholarship
اسکالرشپ آگاہی اور معلوماتی ویڈیوز
Facebookhttps://facebook.com/beef.org.pk
سرکاری اعلانات، میرٹ لسٹس، پالیسیاں اور اسکالرشپ اپڈیٹس
X (Twitter)https://x.com/BEEFscholrshisp
سرکاری اعلانات اور اسکالرشپ اپڈیٹس
BEEF کے ساتھ منسلک رہیں، اسکالرشپ کے مواقع سے باخبر رہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5862/2026
قلعہ سیف اللہ5 اکتو بر۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر شاندار تقریب، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تقریباً 110 اساتذہ میں اعزازات تقسیم قلعہ سیف اللہ: 5 اکتوبر کو دنیا بھر کی طرح ضلع قلعہ سیف اللہ میں بھی یومِ اساتذہ کے موقع پر ایک پروقار اور شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ کی خدمات، محنت، تعلیمی شعبے میں نمایاں کارکردگی اور طلبہ کی بہتر رہنمائی کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی (MPA) مولوی نور اللہ تھے، جبکہ تقریب کا انعقاد ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار کی زیرِ نگرانی کیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ساجد حسین ترمذی، سیاسی رہنما سلیم اللہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DDOs) قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ، ضلع بھر کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کے پرنسپلز، اساتذہ، طلبہ، محکمہ تعلیم کے افسران و اہلکاران، سماجی کارکنان اور دیگر معززین نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ استاد معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک استاد صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ وہ نئی نسل کی کردار سازی، اخلاقی تربیت، شعور و آگاہی اور مستقبل کی بہتر سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کے تعلیمی نظام اور اساتذہ کی محنت، قابلیت اور اخلاص پر ہوتا ہے۔مقررین نے کہا کہ 5 اکتوبر یومِ اساتذہ منانے کا مقصد ان اساتذہ کی خدمات کو سراہنا ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے فرائض انتہائی ذمہ داری، لگن اور خلوص کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ ضلع قلعہ سیف اللہ کے اساتذہ نے بھی تعلیم کے فروغ، طلبہ کی رہنمائی اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔تقریب کے دوران ضلع کے مختلف تعلیمی اداروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تقریباً 110 اسکول اساتذہ کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازی اسناد اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی گئی اور کہا گیا کہ ان کی کارکردگی دیگر اساتذہ کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ساجد حسین ترمذی نے اپنے خطاب میں اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کے افسران اور اساتذہ کا بنیادی مقصد ضلع میں تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانا اور طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار اور باشعور شہری بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ دیگر اساتذہ میں بھی مزید محنت اور بہتر کارکردگی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیرِ نگرانی منعقد ہونے والی اس تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ضلع کے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جائے، طلبہ کی حاضری اور تعلیمی نتائج میں بہتری لائی جائے اور اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5863/2026
کوئٹہ5 اکتو بر۔ میر ظہور بلیدی کا عالمی یومِ اساتذہ پر اساتذہ کو خراجِ تحسین میر ظہور بلیدی نے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر ملک بھر بالخصوص بلوچستان کے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں، ان کی محنت اور رہنمائی روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ تعلیم ترقی کی بنیادی شرط اور معاشرے کی خوشحالی کا اہم ذریعہ ہے۔ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے معیاری تعلیم کا فروغ ناگزیر ہے اور ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ استاد صرف علم منتقل نہیں کرتا بلکہ طلبہ کی کردار سازی اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اساتذہ کو ضروری سہولیات اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔میر ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کا روشن مستقبل ہیں، جبکہ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ مضبوط اور معیاری تعلیمی نظام ہی ایک ترقی یافتہ، باشعور اور خوشحال معاشرے کی ضمانت بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا احترام صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے معاشرے کی مستقل ذمہ داری ہے۔ قوموں کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار ہمیشہ بنیادی اور ناقابلِ فراموش رہا ہے۔میر ظہور بلیدی نے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات، محنت اور قربانیاں قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5864/2026
قلات 5اکتوبر۔ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا ہیکہ استاد معاشرے کا وہ معمار ہے جو قوم کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ ایک استاد صرف کتابوں کا علم نہیں دیتا بلکہ طلبہ کی شخصیت، کردار، سوچ اور صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔یہ بات انہوں نے انٹرنیشنل ٹیچر ڈے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کونسل ہال قلات میں منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی
انہوں نے کہا کہ دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں جتنی بھی نئی ایجادات سامنے آئی ہیں، ان سب کے پیچھے تعلیم اور اساتذہ کی محنت کا بنیادی کردار ہے۔ آج ہم میں سے ہر شخص اپنی کامیابی کے سفر میں اپنے اساتذہ کی محنت اور رہنمائی کا مقروض ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اساتذہ کا احترام ہماری تہذیب اور معاشرتی اقدار کا اہم حصہ ہے۔ والدین بچے کو زندگی دیتے ہیں، جبکہ استاد اسے زندگی گزارنے کا سلیقہ، شعور اور علم عطا کرتا ہے۔ اس لیے استاد کی عزت و احترام دراصل علم اور مستقبل کی عزت ہے.ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے یومِ اساتذہ کے موقع پر تمام اساتذہ کرام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ نسلوں کی تعمیر کا عظیم فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ان کی خدمات کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہےتقریب میں اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے استاد کی عظمت و شان اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کے کردار کے حوالے سے اردو اور انگریزی زبان میں تقاریر پیش کیں، جبکہ طلبہ و طالبات نے مختلف خوبصورت ٹیبلو بھی پیش کیے، جنہیں شرکاء نے خوب سراہا۔ڈپٹی کمشنر قلات اورانجینئر عائشہ زہری ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی اور ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن ثناء اللہ ثناء ودیگر نے طلبہ و طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے پروگرام کو سراہا اور اساتذہ کرام کو انٹرنیشنل ٹیچر ڈے کی مبارکباد دی۔تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری، ضلعی تعلیمی افسران اور اساتذہ کرام نے انٹرنیشنل ٹیچر ڈے کے حوالے سے کیک بھی کاٹا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5865/2026
قلات 5اکتوبر۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر گرلز مڈل سکول رِند ثنا آباد میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع قلات کی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) محترمہ فرزانہ احمدزئی سمیت قلات کے تمام گرلز مڈل سکولز کی سربراہان اور اساتذہ نے شرکت کی۔اس شاندار تقریب کی میزبانی گرلز مڈل سکول رِند سنا آباد نے کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول سے ہوا۔ اس کے بعد طالبات نے مہمانِ خصوصی اور معزز شرکاء کو خوش آمدید کہا اور یومِ اساتذہ کی مناسبت سے مختلف تقاریر خاکہ ٹیبلونغمے پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5866/2026
لسبیلہ 05 اکتوبر ۔ضلع لسبیلہ میں دینی مدارس کی باقاعدہ رجسٹریشن اور اس سے متعلقہ امور کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں DSP اوتھل سید راحق علی شاہ، ضلع بھر کے مختلف دینی مدارس اور مکاتب کے مہتمم صاحبان اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع میں قائم دینی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے عمل کو شفاف، آسان اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دینی مدارس کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور مدارس کو قومی دھارے میں فعال رکھنے کے لیے تمام دستیاب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وہ تمام مدارس جو تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں یا جن کے رجسٹریشن کے کیسز زیر التوا ہیں، وہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔اجلاس کے دوران مدارس کے مہتممین اور مدارسین نے رجسٹریشن کے سلسلے میں درپیش بعض انتظامی اور دفتری مشکلات سے بھی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ اس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرسراج احمد بلوچ نے ہدایات دیں کہ مدارس کے ذمہ داران کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے اور آسان طریقہ کار کے تحت کارروائی مکمل کی جائے۔شرکاءنے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس یقین دہانی کا اظہار کیا کہ وہ قانون اور ضابطے کے احترام کو یقینی بناتے ہوئے اپنے اداروں کی رجسٹریشن کے عمل میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔اجلاس کے اختتام پر امن و امان، بین المذاہب رواداری اور لسبیلہ میں تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5867/2026
تربت 5 اکتوبر۔ جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی خصوصی ہدایت پرامیدواروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپرنگ 2027 کے داخلوں کے سلسلے میں یونیورسٹی کے سٹی کیمپس (شعبہ لاءمیں ایک خصوصی ایڈمیشن سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ اس سیل کا بنیادی مقصددور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے امیدواروں کو داخلہ پورٹل کے ذریعے آن لائن فارم جمع کرانے کے عمل میں ضروری راہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔ جامعہ تربت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، آن لائن داخلہ فارم جمع کراتے وقت اگر کسی امیدوار کو محدود انٹرنیٹ یا کسی بھی قسم کی تکنیکی دشواری کا سامنا ہو، تو وہ اپنی تمام تعلیمی اسناد اور مطلوبہ کوائف کے ہمراہ سٹی کیمپس (شعبہ لاء) تشریف لا کر داخلہ سیل کے عملے سے رابطہ کریں۔ واضح رہے کہ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔مزید معلومات کے لئے فون نمبر 0852-400539 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5868/2026
گوادر05 اکتوبر۔ رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی ترقی یافتہ قوموں کی بنیادی طاقت ہیں، نوجوان جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے ملک و علاقے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ بات گوادر میرین ڈرائیو پر ورلڈ اسپیس ویک 2026 کے سلسلے میں گوادر گرائمر اسکول کے زیرِ اہتمام منعقدہ اسپیس واک کے اختتام پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کائنات کے ان رازوں کو دریافت کرنے کا ذریعہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پوشیدہ رکھا ہے۔ آج وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جنہوں نے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی ہے۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کریں، جدید علوم سیکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و علاقے کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں ورلڈ اسپیس ویک کی تقریبات کا آغاز گوادر گرائمر اسکول کے طلبا و اساتذہ کی جانب سے منعقدہ اسپیس واک سے ہوا، جس میں طلبا نے خلائی موضوعات پر مبنی پوسٹرز، پلے کارڈز اور مختلف کاسٹیومز کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ واک میں والدین، شہریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کرکے طلبا کی حوصلہ افزائی کی۔
واک کا اختتام آئی لو گوادر پوائنٹ پر ہوا، جہاں اسکول کے سربراہ خدابخش ہاشم، پرنسپل ناصر رحیم سہرابی اور طلبا مہلب مولا بخش، عاصمہ اللہ بخش اور ہونک ناصر نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض فیصل علی نے انجام دیے جبکہ نصیب اللہ نے تلاوتِ کلام پاک کی سعادت حاصل کی تقریب میں ناگمان بلوچ فیض نگوری ، آر سی ڈی کونسل گوادر کے مجید عبداللہ، بہرام بلوچ، عبداللہ عثمان، معروف ٹرانسپورٹر نواز بلوچ، پرنسپل مجید خدابخش سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ ورلڈ اسپیس ویک ہر سال 4 تا 10 اکتوبر دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں سپارکو کے اسپیس ایجوکیشن اینڈ اویئرنیس ڈرائیو (SEAD) کے تحت تعلیمی و تحقیقی اداروں اور عوامی تنظیموں کی جانب سے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ گوادر گرائمر اسکول کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کوئز، اسپیلنگ، مباحثہ، مضمون نویسی، پوسٹر و پینٹنگ اور ماڈل سازی کے مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں، جو 10 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5869/2026
تربت5 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت بوتل بند پانی کے کارخانوں کے مالکان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر تربت، اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ اور بوتل بند پانی کے کارخانوں کے مالکان نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کیچ میں عوامی سہولیات کی بہتری، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت فلاحی اقدامات، عوامی مفاد کے منصوبوں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ نجی شعبے کے تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ نجی شعبہ معاشرے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود میں اہم اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بوتل بند پانی کے کارخانوں کے مالکان پر زور دیا کہ وہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کریں۔ڈپٹی کمشنر نے ایمبولینس کی مرمت و بحالی، مستحق اور ہونہار نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس کی فراہمی اور دیگر فلاحی اقدامات میں تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کی جانب سے ایسے اقدامات سے نہ صرف مستحق افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انتظامیہ اور نجی شعبے کے درمیان موثر رابطے، باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے عوامی خدمت کے عمل کو مزید بہتر اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر بوتل بند پانی کے کارخانوں کے مالکان نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5870/2026
گڈانی، 05 اکتوبر ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن کی زیرِ صدارت گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈزکی سکیورٹی و انتظامی امورسے متعلق جائزہ اجلاس BDA آفس گڈانی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر حب، ایس ایس پی حب، ونگ کمانڈر ایف سی ونگ 147، ڈی ایس پی اسپیشل برانچ، سیکریٹری جنرل PSBA، جنرل مینیجر BDA، فوکل پرسن ILO/SENREC-D، پروجیکٹ ڈائریکٹر MUGSBRI اور چیئرمین میونسپل کمیٹی گڈانی نے شرکت کی۔اجلاس میں شپ بریکنگ انڈسٹری کی سکیورٹی، ٹریفک، پروٹوکول اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو موثر اور فول پروف انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8585/2026
کوئٹہ5 اکتوبر: چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست گزار موجودہ ایم این اے عادل خان بازئی کی جانب سے سرکاری پولیس سیکیورٹی واپس لیے جانے کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض اس بنیاد پر کہ درخواست گزار کو ماضی میں سیکیورٹی فراہم کی جاتی رہی ہے، اس کے حق میں سیکیورٹی کے مستقل تسلسل کا کوئی مخصوص حق پیدا نہیں ہوتا۔عدالت نے قرار دیا کہ فوری کیس میں عام الزامات کے علاوہ کہ درخواست گزار کو دھمکیوں کا سامنا ہے اور ایف آئی آر نمبر 64/2026 کے اندراج کا حوالہ دیا گیا ہے، عدالت کے سامنے کوئی ایسا مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ مجاز حکام نے بدنیتی سے کام لیا، کسی لازمی قانونی ضابطے کو نظرانداز کیا یا عدالتی حکم کے بغیر کوئی حکم جاری کیا۔ درخواست گزار ایسا کوئی مواد بھی ریکارڈ پر رکھنے میں ناکام رہا جس سے ثابت ہو کہ جواب دہندگان موجودہ سیکیورٹی جائزے سے قطع نظر قانونی طور پر سات پولیس اہلکاروں کی تعیناتی جاری رکھنے کے پابند تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض یہ حقیقت کہ سیکیورٹی پہلے فراہم کی گئی تھی، اس کے مستقل تسلسل کے لیے درخواست گزار کے حق میں کوئی مخصوص حق پیدا نہیں کرتی۔عدالت نے قرار دیا کہ خطرے کے ادراک کا جائزہ ایک متحرک عمل ہے، جس کا انحصار خفیہ انٹیلی جنس معلومات اور حفاظتی تحفظات پر ہوتا ہے اور جس کا بہترین انتظامی حکام کے ذریعے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں، جو یہ ظاہر کریں کہ فیصلہ امتیازی سلوک یا بدنیتی پر مبنی تھا، عدالت آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایسے انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی، جو مجاز سیکیورٹی ایجنسیوں کے خصوصی دائرہ کار میں آتے ہیں، جب تک کارروائی کو غیر قانونی اختیار کے بغیر یا واضح طور پر من مانی پر مبنی ثابت نہ کیا جائے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر درخواست گزار کو اپنی جان یا سلامتی کے لیے کسی خطرے کا حقیقی طور پر اندیشہ ہے تو وہ نئے سرے سے خطرے کے ادراک کے جائزے کے لیے تمام متعلقہ مواد کے ساتھ مجاز سیکیورٹی حکام سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہے۔ ایسی صورت میں مجاز حکام عدالتی مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر قانون، قابل اطلاق پالیسی اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے مطابق معاملے کا معروضی جائزہ لیں گے۔عدالت نے یہ بھی قابل ذکر قرار دیا کہ اس سے قبل 2019 کی آئینی پٹیشن نمبر 1352 میں پرائیویٹ سیکیورٹی اہلکاروں کی سیکیورٹی کی فراہمی اور تعیناتی کے معاملے کا جائزہ لیا جا چکا ہے، جس کا فیصلہ 29 نومبر 2021 کو کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس، ڈائریکٹر جنرل پولیس، چیف سیکریٹری بلوچستان، چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، حکومت بلوچستان کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ اور پرائیویٹ افراد کے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی خدمات کی منسوخی سے متعلق جاری کردہ احکامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔عدالت نے مذکورہ معاملے میں مزید ہدایت کی تھی کہ حقیقی سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنے والے معززین اور سیاست دان اپنے مقدمات ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی اور ڈویژنل تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کے سامنے سفارشات کے لیے رکھنے کی غرض سے ڈپٹی کمشنرز اور ڈویژنل کمشنرز سے رجوع کر سکتے ہیں، جس کے بعد مقدمات کو اپنے خرچ پر رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی فرموں کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری اور اجازت کے لیے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کو بھیجا جانا تھا۔عدالت کے فیصلے کی تعمیل میں حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے بعد ازاں 22 دسمبر 2023 کو بلوچستان پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز آرڈیننس، 2001 کی تعمیل میں معیاری عملیاتی طریقہ کار (SOPs) مرتب اور جاری کیے، جو آئینی پٹیشن نمبر 1352/2019 کے حوالے سے تھے۔ مذکورہ ایس او پیز کے تحت، خاص طور پر حقیقی سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنے والے سیاست دانوں اور نامور افراد کے لیے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ اپنے کیس کو ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی یا ڈویژنل تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کے سامنے غور اور سفارش کے لیے پیش کرنے کی غرض سے ڈپٹی کمشنر یا ڈویژنل کمشنر سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد محکمہ کی جانب سے رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے حوالے سے سفارش کی جا سکتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اس طرح درخواست گزار اپنی حفاظتی ضروریات سے متعلق شکایت کے ازالے کے لیے دستیاب طریقہ کار سے محروم نہیں ہے اور وہ مذکورہ ایس او پیز کے تحت متعین طریقہ کار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعلقہ مواد کے ساتھ مجاز اتھارٹی سے رجوع کر سکتا ہے اور مبینہ خطرے سے متعلق معلومات فراہم کر سکتا ہے، جس پر اس کے کیس کو مجاز فورمز کے ذریعے مقررہ طریقہ کار کے مطابق زیر غور لایا اور فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ایسے طریقہ کار کا موجود ہونا اس امر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ درخواست گزار کو درکار سیکیورٹی کی نوعیت اور حد کا معاملہ، پہلی صورت میں، قابل اطلاق قانونی اور انتظامی فریم ورک کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے جانچا جائے، بجائے اس کے کہ عدالت اپنے آئینی دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے براہ راست اس کا تعین کرے۔مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر عدالت نے آئینی درخواست کو میرٹ سے عاری قرار دیتے ہوئے اخراجات کے بارے میں کوئی حکم دیے بغیر خارج کر دیا۔
خبر نامہ نمبر8586/2026
چمن5اکتوبر: یومِ اساتذہ کے موقع پر GBMHS چمن میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سرکاری اسکولوں کے ہیڈماسٹرز، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصیDEO عبد القدوا اچکزئی اور قبائلی رہنما حاجی رسالدار عبد المالک خان اچکزئی تھے اس موقع پر DDOE قاری عبدل، پرنسپل GBMHS حاجی سرور اور ایجوکیشن فوکل پرسن جعفر خان سمیت مختلف اسکولوں کے سربراہان اور اساتذہ بھی موجود تھے۔ تقریب سے اپنے خطاب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر عبد القدوس اچکزئی اور حاجی رسالدار عبد المالک خان اچکزئی نے اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ استاد معاشرے کی تعمیر، نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور ایک باشعور و مہذب معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی محنت، خلوص اور طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو معاشرے میں عزت و احترام دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ تعلیم کے فروغ کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔تقریب کے دیگر مقررین نے بھی اساتذہ کے اہم کردار اور تعلیم کی بنیادی اہمیت پر روشنی ڈالی اور علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبر نامہ نمبر8587/2026
بارکھان 5 اکتوبر: گورنمنٹ بوائز مڈل سکول مدینہ مسجد بارکھان میں ٹیچر ڈے کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر احسان الدین کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بہادر شاہ ناصر، ہیڈماسٹر نور احمد کھیتران، وڈیرہ عبدالغفار کھیتران، اساتذہ کرام اور طلبہ نے شرکت کی۔تقریب کے دوران طلبہ نے اساتذہ کی عظمت و احترام، علاقائی رقص اور چاروں صوبوں کی ثقافت پر مبنی مختلف پروگرام پیش کیے۔ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔اس موقع پر مقررین نے اساتذہ کو معاشرے کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ، طلبہ کی کردار سازی اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اساتذہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مقررین نے اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور طلبہ کی تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیوں کو سراہا۔
خبر نامہ نمبر8588/2026
ساؤتھ ڈیرہ بگٹی / سوئی 5 اکتوبر:۔اسسٹنٹ کمشنر سوئی سید منصور علی شاہ اور ایس پی ساؤتھ ڈیرہ بگٹی عبدالروف بابر نے پبلک ویلفیئر ہسپتال سوئی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال میں طبی و انتظامی سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران ایس پی ساؤتھ ڈیرہ بگٹی عبدالروف بابر نے اسسٹنٹ کمشنر سوئی سید منصور علی شاہ اور ہیڈ آف کیمپس ڈاکٹر محمد حسین بگٹی کے ہمراہ ہسپتال میں نئے قائم کیے گئے جدید CCTV کنٹرول روم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفد کو CCTV نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں ہسپتال کے مختلف حصوں میں نصب کیمروں کی کوریج، مانیٹرنگ کے طریقہ کار اور سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے میں جدید نگرانی کے نظام کے کردار سے آگاہ کیا گیا۔بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر سوئی اور ایس پی ساؤتھ ڈیرہ بگٹی نے ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (NICU) کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں نوزائیدہ بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، علاج معالجے کے معیار اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر افسران نے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی و انتظامی سہولیات کے حوالے سے بریفنگ بھی حاصل کی۔
خبر نامہ نمبر8589/2026
اوتھل 5اکتوبر:۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء اورڈی سی لسبیلہ حمیرا بلوچ کے احکامات کی روشنی میں آج 5 اکتوبر کو ڈویژنل ہیڈکواٹر اوتھل سمیت ضلع لسبیلہ کے مختلف بوائز و گرلز اسکولوں میں عالمی یومِ اساتذہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لسبیلہ مسعود حلیم کی سربراہی میں شایانِ شان طریقے سے منایا گیا۔اس موقع پر اساتذہ کی تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا۔ کمشنر لسبیلی ڈویژن نے اساتذہ کو قوم کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اساتذہ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔یومِ اساتذہ کے موقع پر اساتذہ کی محنت، لگن اور تعلیمی میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا گیا۔ اس عزم کا اظہار بھی ہے معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی بہتر تربیت کے لیے اساتذہ اپنی ذمہ داریاں مزید محنت، خلوص اور لگن کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے۔اس موقع پر ڈی سی حمیرابلوچ اورڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لسبیلہ مسعود حلیم کی جانب سے اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تعلیمی معیار کی بہتری اور نئی نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کے لیے اساتذہ کے کردار کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر8590/2026
کوئٹہ 05ستمبر۔ضلعی انتظامیہ کا شہر میں تندوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 22 افراد گرفتار تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں وزن میں کمی اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والے تندوروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔اس سلسلے میں مشرقی بائی پاس، سب ڈویژن سریاب، سیٹلائٹ ٹاؤن اور سب ڈویژن سٹی کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول کارروائیاں کی گئیں، جہاں مقررہ وزن سے کم روٹی فراہم کرنے والے تندور مالکان اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ان کارروائیوں کے دوران 22 افراد کو گرفتار کرکے مزید قانونی کارروائی کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر مقررہ وزن کی روٹی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8591
کوئٹہ5اکتوبر: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے اپنے دفتر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سائلین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل و مشکلات تفصیل سے سنے اس موقع پر سائلین نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جس پر حاجی نور محمد دمڑ نے ان کے مسائل کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے سائلین کو یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے حل اور انہیں ہر ممکن ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا بروقت ازالہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو کسی صورت مایوس نہیں کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8592
تربت5اکتوبر:گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول ڈھنک میں ہیڈ ماسٹر ماجد علی کی زیرِ نگرانی یومِ اساتذہ کے سلسلے میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض مہراب کریم نے انجام دیے، جبکہ جماعت ہفتم کے طالب علم حمدان نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی۔تقریب کے دوران طلبہ نے یومِ اساتذہ کی مناسبت سے مختلف تقاریر پیش کیں۔ اپنے خطابات میں طلبہ نے اساتذہ کی عظمت، محنت، اخلاص اور قوم کی تعمیر و ترقی میں ان کے اہم کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ طلبہ نے اپنے اساتذہ کے لیے محبت، عقیدت اور احترام کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاد طلبہ کی شخصیت سازی اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر بزرگ اور قابلِ احترام استاد عبدالرشید نے استاد کی عظمت اور مقام کے حوالے سے پُرجوش اور فکر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کی شخصیت کو سنوارنے کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ استاد طلبہ کی رہنمائی کرکے انہیں معاشرے کا ذمہ دار اور مفید شہری بناتا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ حصولِ علم کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ کا احترام بھی ملحوظِ خاطر رکھیں۔ہیڈ ماسٹر ماجد علی نے یومِ اساتذہ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اس کے اساتذہ کی محنت، اخلاص اور رہنمائی سے وابستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استاد طالب علم کی تربیت میں والد کی طرح اہم کردار ادا کرتا ہے اور جو طالب علم اپنے اساتذہ کا احترام، ان کی ہدایات پر عمل اور تعلیم پر بھرپور توجہ دیتا ہے، وہ زندگی میں کامیابی و کامرانی حاصل کرتا ہے۔انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنے اساتذہ کا دل سے احترام کریں، باقاعدگی سے تعلیم حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں میں بروئے کار لائیں تاکہ مستقبل میں وہ معاشرے اور ملک کے ذمہ دار، تعلیم یافتہ اور باکردار شہری بن سکیں۔تقریب کے اختتام پر اساتذہ نے طلبہ کی جانب سے یومِ اساتذہ کے حوالے سے پیش کی جانے والی تقاریر اور اظہارِ محبت کو سراہا۔ تقریب میں اساتذہ کے مقام و کردار کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق، نظم و ضبط اور اساتذہ کے احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8593
گوادر 5 اکتوبر:ـڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی زیر صدارت آباد ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز اور گوادر بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن (GBDA) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوادر میں قائم مختلف رہائشی، کمرشل اور انڈسٹریل ہاؤسنگ اسکیموں سے متعلق ترقیاتی سرگرمیوں، الاٹیز کی شکایات، زمین سے متعلق مسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں گوادر میں قائم ہاؤسنگ اسکیموں میں ترقیاتی کاموں کی سست روی، الاٹیز کو پلاٹس کا قبضہ نہ ملنے اور دیگر متعلقہ شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے نیب سمیت متعلقہ اداروں کو موصول ہونے والی شکایات اور تحفظات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں جی ڈی اے کی جانب سے ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، چیف انجینئر جی ڈی اے سید محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عبدالرزاق، آباد گوادر چیپٹر کے کنوینر اور ممبر ایگزیکٹو کمیٹی عفان قریشی، آباد کے کو کنوینر حاجی عبدالغنی، محمود یعقوب، ارشاد علی شاد، منصور ہوت، عبدالسلام اور شبیر بلوچ نےشرکت کی۔اجلاس میں آباد کے وائس چیئرمین سید خورشید عالم، کرنل (ر) مقبول آفریدی، گوادر بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن (GBDA) کے صدر احمد اقبال بلوچ، سیکریٹری جنرل باسط ملک، فیصل ادریس، محمود اے خان، شماز عثمان، ہمایوں سعید اور فہد احسن نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے کہا کہ گوادر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مختلف ہاؤسنگ اسکیمیں قائم کی گئیں، تاہم بعض اسکیموں میں الاٹیز کو تاحال ان کے پلاٹس کا قبضہ نہیں مل سکا جبکہ ترقیاتی سرگرمیاں بھی مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکیں انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث الاٹیز کی جانب سے متعلقہ اداروں، بالخصوص نیب، سے رجوع کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے گوادر میں ہونے والی سرمایہ کاری کے تحفظ اور بلڈرز و الاٹیز کے درمیان اعتماد کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔ جی ڈی اے کا مقصد ایک ایسا شفاف اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے جہاں سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ہو اور منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں میں ترقیاتی سرگرمیاں مقررہ تقاضوں کے مطابق مکمل کی جائیں اجلاس میں بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی جانب سے بھی اپنے مسائل اور تحفظات پیش کیے گئے، جن میں لینڈ سے متعلق معاملات، بعض ہاؤسنگ اسکیموں کے گرد و نواح میں بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی اور سیکیورٹی سے متعلق بعض مسائل شامل تھے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے زور دیاکہ گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے فیز ون میں شامل اور آبادی کے قریب واقع ان ہاؤسنگ سکیم جہاں جی ڈی اے کی جانب سے بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کیا جا چکا ہے جہاں پانی، بجلی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات دستیاب ہیں، وہاں متعلقہ بلڈرز کو اپنی اسکیموں کے اندر باقی ماندہ ترقیاتی کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے چاہئیں۔انہوں نے بلڈرز پر زور دیا کہ وہ اپنے الاٹیز کے لیے ترقیاتی سرگرمیاں مکمل کرتے ہوئے انہیں ان کے پلاٹس کا باقاعدہ قبضہ فراہم کریں اور ضروری بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں، تاکہ الاٹیز کی شکایات کا ازالہ اور ان کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔معین الرحمن خان نے کہا کہ گوادر میں رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی کا شعبہ شہر کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار رکھتا ہے۔ لوگوں نے اعتماد کے ساتھ یہاں سرمایہ کاری کی ہے، لہٰذا سرمایہ کاروں اور الاٹیز کے مفادات کا تحفظ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے گوادر میں جائز اور قانون کے مطابق ہونے والی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی، بنیادی شہری سہولیات کی بہتری اور بلڈرز و الاٹیز کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس تک گوادر میں قائم تمام متعلقہ ہاؤسنگ اسکیموں کے بارے میں جامع بنیادی معلومات فراہم کی جائیں گی، جن میں اسکیم میں شامل الاٹیز کی تعداد، الاٹیز کی جانب سے کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات، زمین کی موجودہ حیثیت، الاٹیز کو پلاٹس کا قبضہ فراہم کرنے کی صورتحال اور دیگر متعلقہ معلومات شامل ہوں گی۔اس موقع پر اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ گوادر کی ہاؤسنگ اسکیموں، الاٹیز کے مسائل، ترقیاتی سرگرمیوں اور زمین سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے وقتاً فوقتاً اجلاس منعقد کیے جائیں گے، تاکہ مسائل کے حل کے لیے پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور متعلقہ فریقین کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8594
اوتھل5اکتوبر:ـوفاقی وزیر تجارت جام کمال خان عالیانی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکریٹری سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر زرین خان مگسی کی کاوشوں سے لسبیلہ ڈویژن میں صحت کارڈ کی سہولت کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ اس سلسلے میں صحت کارڈ انشورنس کمپنی کے نمائندگان نے اوتھل میں قائم نجی میڈیکل سینٹر کا دورہ کیا، جہاں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر اوتھل میر من صلاح الدین کاکڑ تھیں، جنہوں نے پرائیویٹ میڈیکل سینٹر میں صحت کارڈ دفتر کا باقاعدہ فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اوتھل میر من کاکڑ نے کہا کہ لسبیلہ میں صحت کارڈ کی سہولت کا آغاز ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے غریب اور مستحق عوام کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات اپنے ہی علاقے میں میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابلِ ستائش ہیں لسبیلہ میں صحت کارڈ کی سہولت کے آغاز پر عوامی حلقوں نےوفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکریٹری سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر زرین خان مگسی کی جانب سے قابلِ تحسین اقدام قراردیاہے
عوامی۔ حلقوں کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ کے ذریعے علاقے کے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات اپنے ہی علاقے میں میسر آنے سے انہیں بڑی سہولت حاصل ہوگی۔اس اہم اقدام پر وہ وفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پارلیمانی سیکریٹری سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر زرین خان مگسی کے مشکور ہیں، جن کی کاوشوں سے لسبیلہ کے عوام کو اپنے ہی ضلع میں صحت کارڈ کی سہولت میسر آئی ہے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کی سہولت لسبیلہ کے عوام کے لیے ایک بہترین اور قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے غریب اور مستحق افراد کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات اپنے ہی علاقے میں دستیاب ہوں گی۔تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لسبیلہ ڈاکٹر فرید شاہ ہاشمی، ایم ایس ڈاکٹر اویس واجد حسین، ڈاکٹر تصدیق علی جاموٹ، سابق جنرل کونسلر پرکاش کمار لاسی، ولی محمد جاموٹ، محمد حنیف رونجھو سمیت دیگر معززین، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8595
کوئٹہ 05ستمبر:ـ۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت ،عوامی شکایات اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر ائیرپورٹ روڈ پر غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی کی گئی۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی کی نگرانی میں کارروائی کے دوران غیر قانونی پارکنگ میں ملوث 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ غیر قانونی پارکنگ کا خاتمہ کرکے ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ایئرپورٹ روڈ شہر کی ایک اہم شاہراہ ہے جس پر غیر قانونی پارکنگ سے ٹریفک کے مسائل اور لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہذا ایسے عناصر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/8596
کوئٹہ05 اکتوبر:_کوئٹہ کے علاقے لوہڑ کاریز میں ریلوے پٹڑی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا، ملزم کے قبضے سے ریلوے پٹڑی سے اتارا گیا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ پیر کی شام لوہڑ کاریز کے مقام پر ریلوے پٹڑی کی دیکھ بھال پر مامور اہلکار معمول کے مطابق گشت کررہے تھے کہ دوران گشت انہوں نے ریلوے ٹریک کے بعض حصوں میں غیر معمولی صورتحال کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے اہلکاروں نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے ایک ملزم ظہیر احمد ولد مولا بخش کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم کے قبضے سے ریلوے پٹڑی کے نٹ، کلپس اور دیگر اتارا گیا سامان بھی برآمد کرلیا گیا۔ شاہد رند کے مطابق ابتدائی معائنے کے دوران ریلوے ٹریک کے مختلف مقامات پر نٹ اور کلپس کھلے ہوئے پائے گئے، جس سے پٹڑی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا انکشاف ہوا۔ واقعے کے بعد ریلوے ٹریک کا تفصیلی معائنہ بھی کیا گیا تاکہ ٹرینوں کی آمدورفت اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے انہوں نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں ایف آئی آر نمبر 183/2026 کے تحت درج کرلیا گیا ہے، جبکہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس واقعے میں کسی دوسرے فرد کے ملوث ہونے اور اس کے پس پردہ محرکات کا بھی جائزہ لے رہی ہے معاون وزیر اعلیٰ شاہد رند نے کہا کہ ریلوے ٹریک اور دیگر قومی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور اہم قومی تنصیبات کی حفاظت کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر2026/8597/لسبیلہ5اکتوبر:ـ لسبیلہ ڈویژن کےاضلاع میں بغیر لائسنس میڈیکل اسٹور اور پرائیویٹ کلینکوں کے عطائی ڈاکٹروں کیخلاف ادارہ محتسب حب ریجن کو تحریری شکایات موصول ہونے پر محتسب حب ریجن ظفر اقبال خان نےاپنی ٹیم کے ہمراہ مختلف علاقوں میں قائم غیر رجسٹرڈ میڈیکل اسٹور اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔اس سلسلے میں ضلعی آفیسر صحت کو ضروری ہدایات جاری کیں اور ڈرگ انسپکٹر کے ہمراہ اسٹنٹ ڈائریکٹر متحسب حب ریجن ساجد بلوچ، ریڈر حضور بخش موندرہ نے مختلف علاقوں میں کلینک اور میڈیکل اسٹور کا دورہ کیا۔اس بارے میں ظفر اقبال خان ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب حب ریجن نے اپنے ٹیم اور ضلعی ڈرگ آفیسر کو تاکید کی کہ کسی بھی کلینک کیخلاف شکایات ْآئیں تو فوری طور پر کاروائ کریں ۔
خبر نامہ نمبر 2026/8598
زیارت5اکتوبر:ـصوبائی وزیر حاجی نور محمد خان نے یوم اساتذہ کے دن اپنے پیغام میں کہا ہےکہ استاد قوم کا معمار اور روشن مستقبل کا ضامن ہے استاد کو عزت دینا دراصل علم اور ترقی کو عزت دینا ہے، اسلامی تعلیمات میں استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے، استاد ہی اندھیروں میں علم کی شمع روشن کرتا ہے، بلوچستان حکومت وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں تعلیم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بہتری اور اساتذہ کی فلاح کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں،بلوچستان جیسے صوبے میں اساتذہ کے کردار کسی مجاہد سے کم نہیں، حکومت بلوچستان اساتذہ کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8599
موسیٰ خیل05 اکتوبر:ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک کی زیرِ صدارت چیف منسٹر سکالرشپ پروگرام (SSP) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اسکالرشپ کے خواہشمند طلباء کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے، جن کے تعلیمی ریکارڈ اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ سکالرشپ کی فراہمی کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ صرف مستحق اور ہونہار طلباء ہی اس سے مستفید ہو سکیں۔ اجلاس میں میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کے امور کی منظوری دی گئی۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 5اکتوبر:بہتر عوامی خدمات کے لیے میونسپل اداروں کو وسائل فراہم کرنا ہوں گے، مشینری کی فراہمی صرف پہلا قدم ہے، اصل ذمہ داری اس کے مناسب استعمال، دیکھ بھال اور مؤثر انتظام کو یقینی بنانا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی آفس میں محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے میونسپل سروسز انیشی ایٹو 2026 کے تحت لوکل گورنمنٹ اداروں کو جدید مشینری کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی سمیت چیف سیکرٹری بلوچستان اور محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے لوکل گورنمنٹ نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے منصوبے کی خصوصیات پر روشنی ڈالی صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا ہے کہ حکومت کی کارکردگی کا اصل معیار اعلانات نہیں بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی عملی سہولیات ہیں، شہریوں کو صاف ستھرے ماحول، مؤثر نکاسی آب، بہتر صفائی اور فعال بلدیاتی اداروں کی صورت میں حکومتی اقدامات کے ثمرات نظر آنے چاہئیں انھوں نے کہاکہ میونسپل سروسز انیشی ایٹو کے تحت مشینری و آلات کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر نے کہا کہ اس اقدام کی اہمیت صرف مشینری اور آلات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد بلدیاتی اداروں کو ضروری وسائل اور استعداد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عوامی خدمات مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے متعدد میونسپل ادارے محدود وسائل، کم استعداد اور ناکافی مشینری کے باوجود بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، اگر ہم اداروں سے بہتر کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں تو انہیں بہتر وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے کہا کہ مشینری کی فراہمی صرف پہلا قدم ہے، اصل ذمہ داری اس کے مناسب استعمال، دیکھ بھال اور مؤثر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔ عوام کو اپنے علاقوں میں صفائی اور بلدیاتی سہولیات کی واضح بہتری نظر آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ آج کتنی گاڑیاں یا مشینری حاصل کی گئی، بلکہ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کل ہمارے شہر اور علاقے کتنے صاف، فعال اور بہتر ہوتے ہیں۔ صوبائی مشیر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے بلدیاتی نظام کے استحکام کے لیے بھرپور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کا واضح مقصد یہ ہے کہ سرکاری وسائل کے نتیجے میں ایسے اقدامات سامنے آئیں جن کے اثرات عوام اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میونسپل اداروں کو صرف وسائل فراہم نہیں کرے گی بلکہ ان سے نتائج، ذمہ داری اور جوابدہی بھی طلب کی جائے گی۔ ترقی کا اصل معیار یہی ہے کہ کیا حکومتی اقدامات سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئی ہے یا نہیں، اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ ایک بامعنی پیش رفت ہے۔









