خبرنامہ نمبر5293/2026
کوئٹہ، 03 جولائی : حکومت بلوچستان نے دانہ سر کے مقام پر پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے کی وجوہات اور حقائق جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان کو واقعے کی مکمل تحقیقات، تمام حقائق کی جانچ پڑتال اور حادثے کے اسباب پر جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اس افسوسناک حادثے کے ہر پہلو کا غیرجانبدارانہ اور شفاف جائزہ لے گی تاکہ واقعے کے اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح ہدایت دی ہے کہ تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کا تعین قانون اور حقائق کی روشنی میں کیا جائے گا شاہد رند نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان حادثے سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ تحقیقات کی روشنی میں مستقبل میں عوام کے محفوظ سفر کے لیے ضروری اصلاحات اور حفاظتی اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔
خبرنامہ نمبر5294/2026
کوئٹہ، 03 جولائی : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی حکومت بلوچستان نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ دونوں صوبوں کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی ، ریسکیو ادارے اور متعلقہ محکمے جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ انتظامی افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت مہیا کی جائے میر سرفراز بگٹی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
خبرنامہ نمبر5295/2026
کوئٹہ، 03 جولائی :معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں اب تک 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شاہد رند نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ان کے اسٹاف افسر سید امین نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے متعلقہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ سے فوری رابطہ قائم کیا، جس کے بعد ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ دونوں صوبوں کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور متعلقہ محکمے متاثرہ افراد کی مدد اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کا شکار بس میں اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری مسافر بس کے مسافر بھی سوار تھے، جس کے باعث گاڑی میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت، زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کو یقینی بنایا جا رہا ہے شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس المناک سانحے پر جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی اور حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر5296/2026
کوئٹہ، 03 جولائی : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے مسافر بس حادثے کے فوری بعد حکومت بلوچستان کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ٹیمیں جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ متعدد ایمبولینسز کے ذریعے زخمیوں کو فوری طور پر ٹراما سینٹر ژوب منتقل کیا جا رہا ہے۔ طبی عملہ، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز اور دیگر متعلقہ اہلکار متاثرین کو بروقت طبی امداد اور ریلیف کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔ حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے بھی ریسکیو سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا جاررہا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو سرگرمیوں میں بھرپور تعاون اور فعال معاونت پر خیبرپختونخوا حکومت، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور طبی ٹیموں کی شکر گزار ہے، جنہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں بروقت اقدامات کرتے ہوئے انسانی جانوں کو بچانے اور امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی خود صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ ریسکیو اور ریلیف آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام متاثرین کو مکمل امداد اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنا دی جاتی۔
خبرنامہ نمبر5297/2026
کوئٹہ، 03 جولائی : حکومت بلوچستان نے دانہ سر کے مقام پر پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے کے بعد فوری اور مؤثر ریسکیو کارروائیوں پر حکومت خیبرپختونخوا، ضلعی انتظامیہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں زخمیوں کی بروقت منتقلی اور متاثرین کی امداد کو یقینی بنایا گیا۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان مشکل کی اس گھڑی میں حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے فراہم کیے گئے فوری تعاون، ریسکیو 1122 کی بروقت رسپانس اور ضلعی انتظامیہ کی فعال معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون اور ہم آہنگی کا یہی جذبہ قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔ حکومت خیبرپختونخوا، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور تمام امدادی اہلکاروں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کو بچانے اور متاثرین کو بروقت امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے تمام اداروں اور اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے جذب خدمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
خبرنامہ نمبر5298/2026
دکی 3 جولائی :ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے ایس پی دکی منصور احمد بزدار کے ہمراہ ضلع دکی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی کے خدشات اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، اداروں کے مابین باہمی رابطہ کاری اور کسی بھی ممکنہ دہشت گرد حملے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ڈی آئی جی نے تھانہ نارہن کا بھی دورہ کیا، جہاں 9 جون کو دہشت گردوں کے حملے میں پولیس کانسٹیبل حسن شہید نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ انہوں نے شہید کانسٹیبل کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے تھانہ نارہن کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے نفری، اسلحہ، حفاظتی سامان، عمارت کی سکیورٹی اور دیگر دفاعی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ ضلع کے دیگر حساس تھانوں کی سکیورٹی کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے کہا کہ امن و امان کا قیام، عوام کی جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی پولیس کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر5299/2026
کوئٹہ 3 جولائی :صوبائی کوآرڈینیٹر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) ڈاکٹر آفتاب کاکڑ کی زیرِ صدارت Strengthening Routine Immunization Project (SRIP) کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ منصوبہ آغا خان یونیورسٹی (AKU) کی جانب سے بلوچستان کے سات زیادہ خطرے والے اضلاع میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (Routine Immunization) کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے نافذ کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں گیٹس فاؤنڈیشن کے نمائندوں، جن میں سینئر پروگرام آفیسر ڈاکٹر ریحان حفیظ، ڈاکٹر ظفر اقبال اور ڈاکٹر نجیب اللہ خان سمیت محکمہ صحت بلوچستان، ای پی آئی اور آغا خان یونیورسٹی کے متعلقہ افسران اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران منصوبے کی مجموعی پیش رفت، اضلاع میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج، بچوں تک بروقت ویکسین کی فراہمی، فیلڈ سرگرمیوں، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو مختلف اضلاع میں جاری سرگرمیوں، حاصل شدہ نتائج اور مستقبل کے اہداف سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔اس موقع پر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے منصوبے کے تحت اب تک ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانا حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے تک بروقت اور معیاری حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شراکت دار ادارے باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔انہوں نے آغا خان یونیورسٹی کی ٹیم کو منصوبے پر عملدرآمد مزید مؤثر بنانے، فیلڈ سرگرمیوں میں بہتری لانے، مقررہ اہداف کے بروقت حصول اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی رسائی بڑھانے کے لیے تعمیری تجاویز اور رہنمائی بھی فراہم کی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت بلوچستان، ای پی آئی، آغا خان یونیورسٹی، گیٹس فاؤنڈیشن اور دیگر شراکت دار ادارے باہمی تعاون کے ذریعے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مستحکم بنانے، بچوں کو ویکسین سے قابلِ بچاؤ بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور صوبے میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں مزید بہتری لانے کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
خبرنامہ نمبر5300/2026
کوہلو 03 جولائی۔ ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ سے سپرنٹنڈنٹ انجنیئر کیسکو لورالائی سرکل شبیر احمد ترین نے ملاقات کی، جس میں ضلع میں بجلی کی فراہمی، لوڈشیڈنگ کے مسائل، واٹر سپلائی اور صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹی فیڈرز اور پی ایچ ای کے انڈیپنڈنٹ فیڈر پر بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مزید دو گھنٹے اضافے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے شہریوں اور واٹر سپلائی نظام کو نمایاں ریلیف حاصل ہوگا۔ اس موقع پر ایس ای کیسکو شبیر احمد ترین نے کہا کہ صارفین کو بہتر، مستحکم اور حتیٰ الامکان بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیسکو کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بجلی کی صورتحال میں مزید بہتری اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر عظیم جان دومڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کیسکو کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بجلی چوری، غیر قانونی کنکشنز اور نادہندگان کے خلاف کارروائی میں ضلعی انتظامیہ، کیسکو ٹیم کے شانہ بشانہ رہے گی تاکہ صارفین کو بہتر اور منصفانہ بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن حفیظ اللہ مری، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو انجنئر محبت مری، ایکسین پی ایچ ای انجنئر حاجی نیاز بلوچ، ایس ڈی او نعمت مری، ایس ڈی او غلام باری، چئرمین ہائیڈرو یونین صوبدار مری، لائن سپرنٹنڈنٹ بنگڑ خان مری سمیت متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔
خبرنامہ نمبر5301/2026
کوئٹہ ، 03جولائی :ڈی آئی جی پولیس لورالائی جنید احمد شیخ نے ضلع دکی میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کیا، جہاں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، باہمی رابطہ کاری اور کسی بھی ممکنہ حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے موجود حکمتِ عملی کے تحت جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے چند روز قبل دہشت گردی کے واقع میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل حسن کے گھر گئے شہیدکے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور شہید-04 کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ نے دورے کے دوران تھانہ نارہن کی مکمل طور پر فعالیت، نفری، اسلحہ، حفاظتی سامان، سکیورٹی اور دیگر دفاعی انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ضلع کے دیگر حساس تھانوں کی سکیورٹی کا بھی ہدایت کی اور ممکنہ ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کی جان و مال کی تحفظ اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
خبرنامہ نمبر5302/2026
حب، 3 جولائی: ڈپٹی کمشنر حب، کیپٹن (ر) جمعہ داد مندوخیل نے کہا ہے کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عوامی شکایات پر ایل پی جی کی زائد قیمت وصولی کا نوٹس لیتے ہوئے ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریٹیلرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے باوجود بعض کمپنیاں اور ریٹیلرز اس کا ریلیف عام صارفین تک منتقل نہیں کر رہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے متعلقہ کمپنیوں اور دکانداروں کو ہدایت کی کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف فراہم ہو۔اجلاس میں تفصیلی مشاورت کے بعد باہمی اتفاق رائے سے ایل پی جی کے نئے نرخ مقرر کیے گئے، جن کے مطابق ہول سیل ریٹ 250 روپے فی کلوگرام جبکہ ریٹیل ریٹ 280 روپے فی کلوگرام مقرر کیا گیا۔ مزید برآں فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید کمی کی صورت میں اس کا مکمل فائدہ بھی صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر حب نے واضح کیا کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں اور کمپنیوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں دکانوں اور کمپنیوں کو سیل کرنے کے علاوہ ان کے این او سی کی منسوخی بھی شامل ہو سکتی ہے۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر حب کو ہدایت کی کہ مقررہ نرخوں پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ریلیف کے ثمرات بروقت حاصل ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر5303/2026
کوئٹہ۔ 03 جولائی ( )ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا ہے کہ خصوصی افراد (معذور افراد) معاشرے کا ایک باصلاحیت اور قابلِ احترام حصہ ہیں۔ حکومت بلوچستان خصوصی بچوں اور معذور افراد کو زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے سپیشل ایجوکیشن کے تحت قائم ڈیف (سماعت سے محروم)سکول کا دورے کے موقع پر بات چیت کر تیہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور عملے سے ملاقات کی اور ادارے میں فراہم کی جانے والی تعلیمی و تربیتی سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر طلبہ نے ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں باوقار انداز میں سلامی پیش کی، جس کا میر سیف اللہ خان کھیتران نے بھی محبت اور احترام سے جواب دیا۔ اس خوشگوار لمحے نے طلبہ کے اعتماد، نظم و ضبط اور بہترین تربیت کی عکاسی کی۔ڈی جی سوشل ویلفئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ سماعت سے محروم بچوں سمیت تمام خصوصی بچوں کو معیاری تعلیم، جدید تربیت، بحالی کی سہولیات اور دوستانہ ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسے اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ خصوصی افراد کو خودمختار، باوقار اور بااعتماد شہری بنایا جا سکے۔میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ معذور افراد پر ترس کھانے کے بجائے انہیں بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ خصوصی افراد کے حقوق کا احترام کریں، انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں میں برابر کے مواقع فراہم کریں اور ان کے لئے ہر شعبے میں رکاوٹوں کو ختم کریں۔انہوں نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت ایک عظیم قومی خدمت ہے، اور حکومت ایسے اداروں اور اساتذہ کی ہر ممکن سرپرستی جاری رکھے گی۔اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئر بلوچستان کے حکام نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے بھر میں معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، سماجی شمولیت، معیاری تعلیم، بحالی اور فلاح و بہبود کے لئے مثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ہر خصوصی بچہ عزت، وقار اور مساوی مواقع کے ساتھ روشن مستقبل حاصل کر سکے۔
خبرنامہ نمبر5304/2026
رکھنی، 3 جولائی :ڈی آئی جی کوہِ سلیمان ڈویژن ایاز احمد بلوچ سے سینئر صحافیوں کے ایک وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں نواب خان کھیتران (پبلک نیوز)، قیصر خان کھیتران (جیو نیوز)، یعقوب کھیتران (کوہ نور نیوز)، شیر احمد کھیتران (پی ٹی وی نیوز) اور میر شہجان (کھیتران 24 نیوز بلوچستان) شامل تھے۔ملاقات کے دوران رکھنی اور گردونواح میں امن و امان کی صورتحال، منشیات کے خاتمے، عوام کو درپیش مسائل اور صحافیوں کو پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی آئی جی ایاز احمد بلوچ نے کہا کہ صحافت ریاست کا اہم ستون ہے اور صحافی معاشرے کی اصلاح، عوامی آگاہی اور حقائق کی بروقت فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صحافیوں کی جانب سے نشاندہی کیے جانے والے مسائل پر قانون کے مطابق فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ منشیات نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، جن کے سدباب کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ڈی آئی جی نے صحافی برادری کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پولیس کے دروازے ہر وقت صحافیوں کے لیے کھلے ہیں اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر صحافیوں کے وفد نے ڈی آئی جی ایاز احمد بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امن و امان کے استحکام، منشیات کے خلاف کارروائیوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے پولیس کی کاوشوں کو سراہا۔
خبرنامہ نمبر5305/2026
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے سیوریج کے زہریلے پانی سے سبزیوں کی غیر قانونی کاشت کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن کا سلسلہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رکھتے ہوئے نیو سبزل روڈ کے مختلف مقامات میں بڑی کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران تقریباً 33 ایکڑ اراضی پر موجود گوبھی، پودینہ، دھنیا، چقندر اور سلاد کی تیار اور زیرِ کاشت فصلوں کو ٹریکٹر چلا کر مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔ڈائریکٹر آپریشنز کی سربراہی میں کارروائی کے دوران صرف فصلوں کو ہی تلف نہیں کیا گیا بلکہ سیوریج کے گندے پانی سے فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال ہونے والے متعدد مقامات پر نالوں سے پانی کی فراہمی کے ذرائع بھی کاٹ دیے گئے تاکہ مستقبل میں دوبارہ ایسی غیر قانونی کاشت نہ کی جا سکے۔ڈائریکر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا کہ سیوریج کے زہریلے پانی سے اگائی جانے والی سبزیاں بظاہر تازہ نظر آتی ہیں، مگر درحقیقت یہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں اور مختلف مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی اولین ترجیح ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر خوراک و چئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی ہدایات کے مطابق سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کے مکمل خاتمے تک بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایسے عناصر جو عوام کی صحت سے کھیلنے کی کوشش کریں گے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ صاف اور محفوظ پانی سے سبزیوں کی کاشت کو یقینی بنائیں تاکہ عوام تک صحت بخش خوراک پہنچ سکے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کہیں سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کی اطلاع ہو تو فوری طور پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔واضح رہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عدالتِ عالیہ بلوچستان کے فیصلے، اتھارٹی کی جانب سے عائد پابندی، متعدد تنبیہات اور نوٹسز کے باوجود سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت جاری رکھنے والوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جس کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ اور صوبے بھر میں محفوظ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر5306/2026
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس محمد زمان نے منشیات کے خاتمے کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لیے متعلقہ ادارے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ ?انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری شکیل قادر خان اور سیکریٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری کی خصوصی ہدایات پر محکمہ ایکسائز نے گزشتہ سال مختلف کارروائیوں کے دوران برآمد کی گئی منشیات اور غیر ملکی شراب کی بھاری مقدار کو آج تلف کر دیا۔ ?ڈی جی ایکسائز کے مطابق تلف کیے گئے سامان میں 18 ہزار غیر ملکی شراب کی بوتلیں، 200 کلوگرام آئس (میتھ ایمفیٹامین) اور 600 کلوگرام چرس شامل ہے، جس کی عالمی مارکیٹ میں مجموعی مالیت تقریباً 28 ارب روپے بنتی ہے۔ ?محمد زمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی نوجوان نسل کو منشیات کے زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کی کارکردگی کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر5307/2026
کوئٹہ، 03 جولائی :بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں مسافر بس کے المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ اس حادثے میں 40 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ واقعی ایک بڑا سانحہ ہے۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ تیز رفتاری، اوور لوڈنگ اور بے احتیاطی کے باعث ایسے خطرناک حادثات رونما ہوتے ہیں۔ لہٰذا ڈرائیور حضرات گاڑیوں کی بروقت مرمت کو یقینی بنائیں اور ٹریفک قوانین کے مطابق گاڑی چلائیں تاکہ محفوظ سفر کے ذریعے خود کو اور مسافروں کو ہر قسم کے حادثات سے بچایا جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کی ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔
خبرنامہ نمبر5308/2026
کوئٹہ 4 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ہمارا صوبہ بعض اوقات قدرتی آفات، دہشت گرد حملوں، ٹریفک حادثات اور آتشزدگی کے واقعات کا بھی شکار رہتا ہے۔ حکومت کسی بھی مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی۔ حکومت کی جانب سے دہشت گرد حملے یا پلازہ میں آتشزدگی جیسے واقعات میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تلافی کے باعث متاثرین کو دوبارہ اپنے قدم جمانے میں مدد مل جاتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے یقین دلایا کہ کوئٹہ کے پرنس روڈ پلازہ کے دکانداروں کو آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کا ہر ممکن معاوضہ فراہم کیا جائیگا کیوں کہ اپنے شہریوں کی حفاظت اور معاونت عواغحکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ احمد اللہ، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی اور وزیراعظم پاکستان ہوتھ افئرز بلوچستان کے کوآرڈینیٹر حیدر خان اچکزئی کی قیادت میں وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر جان بلیدی کے ساتھ بات چیت کرت ہوئے کہا کہ یہ بات باعث فخر و اطمینان ہے مکران ڈویژن کی تینوں یونیورسٹیوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس ملک اور صوبے کی خوشحالی اور ترقی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے جس پر سینیٹر جان بلیدی نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی بصیرت اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا ۔ بعدازاں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وزیراعظم پاکستان ہوتھ افئرز بلوچستان کے کوآرڈینیٹر حیدر خان اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں شدید غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے مختلف مسائل کے شکار ہیں ۔ آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کے بہتر مستقبل کیلئے اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اکیلا انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا لہٰذا ہم اپنی ورک کے ساتھ کئی نئی منازل طے کر سکتے ہیں ۔
خبرنامہ نمبر5309/2026
کوئٹہ: تیسری بلوچستان ہیلتھ لیڈرشپ کانفرنس آج کوئٹہ سرینا ہوٹل میں شروع ہوئی، جس میں صوبے بھر سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs)، میڈیکل سپرینٹنڈنٹس (MS) اور پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجرز (DSM) نے شرکت کی تاکہ ضلعی اور ہسپتال سطح پر صحت کے نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔افتتاحی اجلاس سے سیکرٹری صحت مسٹر مجیب الرحمن نے خطاب کیا، جنہوں نے دو روزہ کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور ضلعی و سہولت کی سطح پر قیادتی احتساب کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور کیچ (تربت) سے ایم پی اے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے متعلقہ ڈویژنز کے جائزہ عمل، مباحثے اور نگرانی کے طریقہ کار میں حصہ لیا۔ضلعی قیادت اور اہم اسٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں ڈویژن وار کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ پہلے روز کوئٹہ، مکران، لورالائی اور قلات ڈویژنز کا جائزہ اے آئی بیسڈ بائیومیٹرک حاضری، ملازمین کی پروفائلنگ، آئی ایم یو (Integrated Monitoring Unit) سسٹم پر مبنی رپورٹ، اور حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج جیسے کلیدی کارکردگی اشاریوں کی بنیاد پر کیا گیا۔پولیو ایپیڈیمیالوجی اور جاری حفاظتی ٹیکہ جات کے اقدامات پر ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں حکام کو خاتمے کی حکمت عملیوں اور کوریج میں موجود خلا سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ کانفرنس کی سخت احتسابی پالیسی کے تحت، جائزے کے دوران سامنے آنے والے عدم تعمیل کے کیسز کو انتظامی کارروائی کے لیے نشان زد کیا گیا۔پہلے روز کی کارروائی سے متعلق اہم فیصلے اور انتظامی اقدامات کا باضابطہ اعلان دوسرے روز (4 جولائی 2026) کے اختتامی اجلاس کے بعد کانفرنس کے اعلامیے میں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر5310/2026
جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ غریب، نادار اور بے سہارا بیواؤں میں اشیائے خورد و نوش کی تقسیم ایک خوش آئند اور قابل تحسین اقدام ہے، ضلع انتظامیہ ایسے فلاحی اقدامات کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ مستحق اور ضرورت مند خاندانوں کو ان کی دہلیز پر بروقت امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع جعفرآباد میں ایک مقامی این جی او کی جانب سے مستحق بیواؤں میں راشن تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ معاشرے کے مخیر حضرات، سماجی تنظیمیں اور فلاحی ادارے ضرورت مند افراد کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ مشکل حالات میں مستحق خاندانوں کا سہارا بننا ایک عظیم انسانی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے ہر مثبت اقدام میں تعاون فراہم کرے گی اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ امدادی سرگرمیاں شفاف انداز میں حقیقی مستحقین تک پہنچیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد مستفید ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر5311/2026
کوئٹہ 3جولائی :ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا ہے کہ خصوصی افراد (معذور افراد) معاشرے کا ایک باصلاحیت اور قابلِ احترام حصہ ہیں۔حکومت بلوچستان خصوصی بچوں اور معذور افراد کو زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے سپیشل ایجوکیشن کے تحت قائم ڈیف (سماعت سے محروم)سکول کا دورے کے موقع پر بات چیت کر تیہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور عملے سے ملاقات کی اور ادارے میں فراہم کی جانے والی تعلیمی و تربیتی سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر طلبہ نے ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں باوقار انداز میں سلامی پیش کی، جس کا میر سیف اللہ خان کھیتران نے بھی محبت اور احترام سے جواب دیا۔ اس خوشگوار لمحے نے طلبہ کے اعتماد، نظم و ضبط اور بہترین تربیت کی عکاسی کی۔ڈی جی سوشل ویلفئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ سماعت سے محروم بچوں سمیت تمام خصوصی بچوں کو معیاری تعلیم، جدید تربیت، بحالی کی سہولیات اور دوستانہ ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسے اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ خصوصی افراد کو خودمختار، باوقار اور بااعتماد شہری بنایا جا سکے۔میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ معذور افراد پر ترس کھانے کے بجائے انہیں بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ خصوصی افراد کے حقوق کا احترام کریں، انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں میں برابر کے مواقع فراہم کریں اور ان کے لئے ہر شعبے میں رکاوٹوں کو ختم کریں۔انہوں نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت ایک عظیم قومی خدمت ہے، اور حکومت ایسے اداروں اور اساتذہ کی ہر ممکن سرپرستی جاری رکھے گی۔اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئر بلوچستان کے حکام نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے بھر میں معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، سماجی شمولیت، معیاری تعلیم، بحالی اور فلاح و بہبود کے لئے مثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ہر خصوصی بچہ عزت، وقار اور مساوی مواقع کے ساتھ روشن مستقبل حاصل کر سکے۔
خبرنامہ نمبر 5312/2026
کوئٹہ 3جولائی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر صوبائی حکومت نے دانہ سر کے مقام پر پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ بلوچستان نے ابتدائی کارروائی کے طور پر نیو میختر ٹرانسپورٹ کمپنی کو سیل کر دیا ہے، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے باضابطہ تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان کو واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ حادثے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، ٹرانسپورٹ کمپنی کی قانونی حیثیت، گاڑی کی فٹنس، ڈرائیور کی اہلیت، حفاظتی اقدامات اور دیگر متعلقہ عوامل کی جانچ پڑتال کی جائے اور ایک جامع رپورٹ جلد از جلد وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی جائے۔صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت، لاپروائی یا قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد اور متعلقہ اداروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے ٹرانسپورٹ نظام میں حفاظتی اقدامات اور نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 5313/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے صوبے بھر کے تمام سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں تو فوری طور پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔اتھارٹی کے مطابق تمام رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کیلئے لازم ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے ٹیکس گوشوارے (Returns) بروقت جمع کرائیں، واجب الادا ٹیکس ادا کریں اور کاروباری لین دین سے متعلق انوائسز، ریٹرنز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو قانون کے مطابق محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی جانچ اور تصدیق کی جا سکے.بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی تعمیل نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری بلکہ ایک باشعور اور ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا بھی ہے۔ محصولات کی بروقت ادائیگی سے حاصل ہونے والے وسائل صوبے میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں، جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بی آر اے نے اس بات پر زور دیا کہ رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی سمیت تمام خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن بنا دیا گیا ہے تاکہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولت، شفافیت اور آسانی فراہم کی جا سکے۔اتھارٹی نے تمام سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ٹیکس نظام میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا حصہ ڈالیں۔
خبرنامہ نمبر 5314/2026
ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال اوتھل کا دورہ کیااور ہسپتال میں بلوچستان سوشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیادورے کےموقع پر ایکیسئن بی اینڈ آر بلڈنگ خلیل احمدبلوچ ایم ایس ڈاکٹراویس واجد اور SDO عبدالطیف نےڈپٹی کمشنرلسبیلہ کو DHQہسپتال اوتھل میں جاری تعمیراتی ومرمتی منصوبے کی رفتار، معیار اور تکمیل کی مدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے کہاکہ عوامی مفاد کے ان منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا اور انہیں مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنرنےکہا کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو دہلیز پر صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر ایڈیڈیشنل ڈپٹی کمشنرلسبیلہ سراج احمدبلوچ بھی انکے ہمراہ تھے۔
خبرنامہ نمبر 5315/2026
کوئٹہ 03جولائی۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی سیکرٹری حمید اللہ کوراہی اور سیکرٹری پی ٹی اے بلوچستان، وحید عمرانی نے داناسر بس حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ٹراما سینٹر کوئٹہ کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے زیرِ علاج زخمی مسافروں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔سیکرٹری پی ٹی اے نے زخمیوں سے حادثے کی تفصیلات بھی معلوم کیں تاکہ انکوائری کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حادثے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 5316/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیرداخلہ و بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان میر ضیاء اللہ لانگو نے دانا سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے جاری کردی بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد پر واقع دانا سر کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں ایک مسافر بس کے حادثے کا شکار ہونے سے ایک خوشیوں اور امیدوں سے بھرا سفر ایک ناقابلِ فراموش سانحے میں تبدیل ہو گیا اس المناک حادثے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت چالیس قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جس نے پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے کہا کہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے سڑکوں کی بہتری، ڈرائیونگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔







