30th-June-2026

خبرنامہ نمبر5190/2026
کوئٹہ، 30 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ پارلیمان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پارلیمان عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمان اور جمہوری نظام کا مضبوط ترین ستون ہے۔ ایک مضبوط، فعال اور بااختیار پارلیمان ہی عوامی نمائندگی، موثر قانون سازی، احتساب اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کی ضامن ہوتی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی یومِ پارلیمان ہمیں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی خدمت کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں کی ترقی کا انحصار ایسے مضبوط پارلیمانی اداروں پر ہے جو عوام کی خواہشات کے مطابق قانون سازی کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان مضبوط، بااختیار اور موثر پارلیمانی روایات کے فروغ پر یقین رکھتی ہے اور صوبے میں جمہوری اداروں کے استحکام، شفافیت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی عوام کے مسائل کے حل، موثر قانون سازی، عوامی مفادات کے تحفظ اور شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ منتخب عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے آئین و قانون کی پاسداری اور قومی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جمہوری اداروں کا استحکام، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے روشن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان جمہوری اقدار، مضبوط پارلیمانی نظام اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر5208/2026
گوادر: 30جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور عوام کو معیاری، بروقت اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی کے عزم کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے طبی سہولیات، صفائی، ادویات کی دستیابی، عملے کی کارکردگی اور انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تھیلیسیمیا سینٹر، لیبارٹری، او پی ڈی، فارمیسی، ڈائلیسس سینٹر، ایمرجنسی، مرد و خواتین وارڈز سمیت دیگر اہم شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کر کے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو عوامی شکایات کے فوری اور موثر ازالے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ادویات کے اسٹاک، او پی ڈی ریکارڈ، مریضوں کے اندراج، طبی آلات کی دستیابی اور ڈاکٹروں و دیگر عملے کی حاضری کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں غفلت، غیر ذمہ داری اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، صفائی، نظم و ضبط اور مریض دوست ماحول کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ادویات اور طبی سہولیات کی مسلسل دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہسپتالوں کی کارکردگی کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے باقاعدگی سے اچانک دورے اور مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 5209/2026
کراچی ، 30 جون ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی افسوسناک واقعے کو حقائق کے برعکس پیش کرنا نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے کے بارے میں منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی منگل کو کراچی پہنچے اور دشت کے علاقے میں افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تاجر مرحوم علی مرتضیٰ کے گھر گئے ، جہاں انہوں نے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی تلقین کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ریاست ان کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جب سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے، تاہم گرے زونز میں کارروائی ایک مشکل کام ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دشت میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کو سوشل میڈیا پر حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منفی اور گمراہ کن بیانیے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور سچ کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں پر روزانہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنے والے شہری محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا ایک انفرادی واقعے کو پورے صوبے کی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم علی مرتضیٰ کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرحوم کی بچیوں کی کفالت اور ان کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان حکومت اٹھائے گی تاکہ خاندان کو ہر ممکن سہارا فراہم کیا جا سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں مزید موثر انداز میں جاری رکھے گی۔

خبر نامہ نمبر5220/2026
کوئٹہ، 30 جون: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ضلع آواران میں ایک اہم قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین، طلبہ و طالبات اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں قبائلی عمائدین اور عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن عوام، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت آوران میں ترقیاتی منصوبے لیکر آرہی ہے، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہی ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان آوران سمیت پورے مکران ڈویژن کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، جن کے نتیجے میں علاقے کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے علاقے میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے اسی نوعیت کے مزید ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ علاقے کی پائیدار ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کے فروغ کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آواران کے عوام امن پسند، باشعور اور ترقی پسند ہیں، جنہوں نے علاقے کی ترقی اور استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواران کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور آہنی ہاتھوں سے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ جرگے میں رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین اور دیگر شرکاء نے علاقے میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے قومی یکجہتی، پائیدار امن اور علاقائی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔جرگے کے دوران شرکاء نے علاقے کو درپیش مسائل اور عوامی اہمیت کے مختلف امور پر سوالات اور تجاویز پیش کیں، جن پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے تفصیلاً جوابات دیے۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو عوامی مسائل کے فوری، مؤثر اور دیرپا حل کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ جرگے میں ضلع آواران کے معززینِ علاقہ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں عوام اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/5223
کوئٹہ 30 جون۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ اور میٹرو ولیٹن کارپوریشن کا صوبائی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے تحت کاسی روڈ پر انسدادِ تجاوزات آپریشن کیا گیا۔آپریشن اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ کی نگرانی میں ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے مشترکہ طور پر کیا، جس دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی سے غیرقانونی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں و تاجروں سے شہر کو صاف اور منظم رکھنے میں تعاون کی اپیل کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *