خبرنامہ نمبر5190/2026
کوئٹہ، 30 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ پارلیمان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پارلیمان عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمان اور جمہوری نظام کا مضبوط ترین ستون ہے۔ ایک مضبوط، فعال اور بااختیار پارلیمان ہی عوامی نمائندگی، موثر قانون سازی، احتساب اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کی ضامن ہوتی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی یومِ پارلیمان ہمیں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی خدمت کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں کی ترقی کا انحصار ایسے مضبوط پارلیمانی اداروں پر ہے جو عوام کی خواہشات کے مطابق قانون سازی کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان مضبوط، بااختیار اور موثر پارلیمانی روایات کے فروغ پر یقین رکھتی ہے اور صوبے میں جمہوری اداروں کے استحکام، شفافیت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی عوام کے مسائل کے حل، موثر قانون سازی، عوامی مفادات کے تحفظ اور شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ منتخب عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے آئین و قانون کی پاسداری اور قومی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جمہوری اداروں کا استحکام، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے روشن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان جمہوری اقدار، مضبوط پارلیمانی نظام اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5191/2026
اوتھل 30جون ۔ الیکشن کمیشن بلوچستان نے میونسپل کمیٹی بیلہ ضلع لسبیلہ کے وارڈ نمبر 08 میرا پیر-II کی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے باضابطہ شیڈول جاری کر دیا ہےاسسٹنٹ کمشنر/ریٹرننگ آفیسر اوتھل آفتاب احمد کی جانب سے جاری پبلک نوٹس کے مطابق امیدوار یکم جولائی سے 3 جولائی 2026 تک اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے جبکہ کاغذات کی جانچ پڑتال 6 جولائی سے 8 جولائی 2026 تک کی جائے گی شیڈول کے مطابق امیدوار 18 جولائی 2026 تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکیں گے جبکہ پولنگ 9 اگست 2026 کو ہوگی. نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی اسسٹنٹ کمشنر آفس مین آر سی ڈی روڈ اوتھل میں صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک وصول کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5192/2026
قلات 30جون ۔ میونسپل کمیٹی قلات میں جنرل کونسلران کے خالی نشستوں پر دوبارہ انتخابات کے لئے ریٹرننگ آفیسر قلات کی جانب سےشیڈول جاری کردیاگیا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کیلئے کاغزات نامزدگی 01جولائی 2026 سے 03 جولائی2026 تک جمع کرانے کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔06جولائی سے 08جولائی تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی اور18 جولائی کو امیدوار اپنے دستبرادری کاغذات واپس لے سکیں گے جبکہ 09 اگست2026 کو باقائدہ انتخابات منعقد ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5193/2026
قلات 30,جون۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کے خصوصی احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹر علی گل عمرانی نے گورنمنٹ گرلزمڈل سکول فضل آباد کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران، نامعلوم افراد کی طرف سے سکول کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے معاملے پر گرلزمڈل سکول خالق آباد کی انتظامیہ کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد نے معاملے کا بغور جائزہ لیا، سکول انتظامیہ کو یقین دلایا کہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنایا جائے اور مجرموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5194/2026
گوادر:30جون ۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زائد حسین سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دورے کے دوران ایس ایس ٹی فارموں کی جمع کرانے کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسکولوں کو درپیش بی ایس ڈی ائی سے متعلق مسائل اور کلسٹر بجٹ کی پیش رفت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت کی کہ کلسٹر بجٹ سے متعلق جامع پریزنٹیشن تیار کر کے پیش کی جائے۔ انہوں نے کتابوں کی کمی کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کی قلت اور طلب کی تفصیلات فوری طور پر اس دفتر کو ارسال کی جائیں تاکہ موسم گرما کی تعطیلات کے اختتام اور نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل کتابوں کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5195/2026
چمن30جون .۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں کمانڈنگ آفیسر 40 فرنٹیئر فورس (FF) چمن، ایس پی چمن، کمانڈنگ آفیسر آئی ایس آئی چمن، آئی ڈبلیو چمن، کمانڈنگ آفیسر سی ٹی چمن، کمانڈنگ آفیسر ایم آئی 304 چمن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) چمن، اسسٹنٹ کمشنر (AC) چمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی بی چمن، ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی چمن، سرکل آفیسر اسپیشل برانچ چمن، اینٹی نارکوٹکس افیسر ، ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر چمن کے علاوہ لینڈ ڈیپارٹمنٹس، ضلع کے تمام انتظامی افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور مختلف محکموں کے متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی ۔اجلاس کے دوران ضلع چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، روڈز، واٹر سپلائی برموں کیلئے پائپ لائنوں اور سولرائزیشن، پولیس اور دیگر سرکاری محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے اپنی اپنی کارکردگی، جاری منصوبوں، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کو باہمی رابطہ مزید موثر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور حکومتی پالیسیوں پر موثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی امور کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5196/2026
گوادر، 30 جون ۔۔ ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے فنانس سیکشن کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عبدالشکور نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی مالی کارکردگی، آمدن و اخراجات کی تفصیلی رپورٹ، نظرثانی شدہ تخمینوں اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کفایت شعاری، شفافیت، سخت مالی نظم و ضبط، موثر نگرانی اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کی پالیسی کے نتیجے میں جی ڈی اے نے مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 13 کروڑ روپے سے زائد کی نمایاں بچت کی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مذکورہ بچت فیول (POL)، میڈیکل، ٹی اے/ڈی اے، ریفریشمنٹس، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی بلز سمیت مختلف مدات میں اخراجات کے موثر انتظام اور کفایت شعاری کی پالیسی کے باعث ممکن ہوئی۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے کہا کہ ادارے میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ادارے کے مالیاتی امور، حسابات اور بجٹ مینجمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ دستیاب وسائل کا زیادہ سے زیادہ موثر اور دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے ادارے کی مالی خود کفالت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ریونیو جنریشن کے تمام ممکنہ ذرائع کا جامع جائزہ لینے، نئی قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے اور جی ڈی اے کی ریکوری و کلیکشن کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ڈائریکٹر جنرل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مضبوط مالیاتی نظم و نسق، شفافیت، کفایت شعاری اور بہتر انتظامی حکمت عملی کے ذریعے جی ڈی اے نہ صرف اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنائے گا بلکہ گوادر کی پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھانے میں بھی کامیاب ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5197/2026
نصیرآباد30جون ۔ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال نصیرآباد فرید احمد پندرانی نے کہا ہے کہ خریف سیزن کے آغاز سے قبل ہی پٹ فیڈر کینال اور اس کی تمام ذیلی شاخوں میں زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں، اس مقصد کے لیے تمام افسران اور عملے کو واضح ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ ایریگیشن عملے کی کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ پٹ فیڈر کینال اور ذیلی شاخوں کے دورے کے موقع پر انہوں نے کہا کہ سندھ حکام کی جانب سے پٹ فیڈر کینال کو اپنے حصے سے کم پانی فراہم کیے جانے کے باعث مسائل میں اضافہ ہوا ہے، تاہم دستیاب پانی کی شفاف اور منصفانہ تقسیم ہماری اولین ترجیح ہے اور اس عمل کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان خریف سیزن کی روایتی فصل ہے جسے دیگر فصلوں کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ پٹ فیڈر کینال کا نظام بنیادی طور پر خشک فصلوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اسی لیے بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے آف ٹیکنگ چینلز کے لیے روٹیشن پلان ترتیب دیا گیا ہے تاکہ تمام کاشتکاروں کو منصفانہ بنیادوں پر پانی فراہم کیا جا سکے، البتہ نصیر ڈسٹری بیوٹری کو روٹیشن سے مستثنیٰ رکھا جائے گا اور اس کا گیج ضرورت کے مطابق برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے سب ڈویژنل افسران کو ہدایت کی کہ روٹیشن کے دوران تمام چینلز میں دستیاب پانی کے گیج کو برقرار رکھا جائے، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے اور نظام پر دن رات گشت کرتے ہوئے کسی بھی بے ضابطگی کی فوری روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5198/2026
جعفرآباد30جون ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول عزیز اللہ کھیازئی، گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول سلیمان مری،گورنمنٹ مڈل اسکول بہرام خان کنڈرانی،گورنمنٹ پرائمری اسکول کھلیری بگٹی، گورنمنٹ پرائمری اسکول مبارک بگٹی، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ڈیرہ اللہ یار اور زیر تعمیر سول اسپتال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر بلڈنگز عرفان علی نے انہیں تمام منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جبکہ سب ڈویژنل آفیسر محمد صدیق زہری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ انجینئرز کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کام ان کی براہِ راست نگرانی میں معیاری انداز سے بروقت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم سے متعلق تمام منصوبے اسکولوں کے کھلنے سے قبل مکمل کیے جائیں تاکہ طلبہ اور اساتذہ بہتر تعلیمی سہولیات سے مستفید ہو سکیں، جبکہ صحت کے شعبے کے منصوبے بھی مقررہ معیار کے مطابق جلد از جلد پایہ? تکمیل تک پہنچائے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھے گی تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے یہ منصوبے دیرپا اور سودمند ثابت ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5199/2026
نصیرآباد 30جون ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے بلوچستان میں زرعی پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر کیرتھر اور پٹ فیڈر کینالز میں بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے کمشنر سکھر ڈویژن اور کمشنر لاڑکانہ ڈویژن سے رابطہ کیا، جس کے دوران نہروں میں پانی کی فراہمی، محکمہ آبپاشی کے مابین رابطہ کاری اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمشنر سکھر ڈویژن نے یقین دہانی کرائی کہ نہری نظام میں جاری مرمت و ترقیاتی کام مکمل ہو چکے ہیں اور یکم جولائی 2026 سے ارسا (IRSA) کی جانب سے مقررہ حصے کے مطابق بلوچستان کو کیرتھر اور پٹ فیڈر کینالز کے ذریعے پانی کی فراہمی بحال اور بڑھا دی جائے گی۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ نصیرآباد بلوچستان کا واحد گرین بیلٹ ہے جہاں سے صوبے کی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا ہوتا ہے، لہٰذا بروقت پانی کی عدم فراہمی سے زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، اسی لیے بین الصوبائی اور ڈویژنل سطح پر رابطوں کو مزید موثر بنایا گیا ہے تاکہ بوائی کے بعد بلوچستان کو اس کے جائز حصے کا پانی بروقت مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی نصیرآباد مسلسل اس معاملے کی پیروی اور خط و کتابت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کی انتظامیہ بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہےاور بلوچستان کے حصے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5200/2026
کوئٹہ30جون۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ عملی سیاست میں عوامی رائے ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک کامیاب سیاسی حکمت عملی استوار کی جا سکتی ہے۔ عوام کی محبت، احترام اور حمایت ایک لیڈر کے وقار اور اعتبار کا تعین کرتی ہے۔ ایک لیڈر یا بیوروکریٹ کبھی بھی ڈرائنگ روم اور سرکاری دفاتر تک محدود رہ کر عوام کے حقیقی مسائل و مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا۔ زمینی حقائق کا درست ادراک عوام کے ساتھ براہ راست بات چیت سے حاصل ہوتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ خدمت خلق کے جذبے سے پیوستہ ہوکر ہم ڈویژن کی سطح پر جرگے منعقد کرتے ہیں جس کا مقصد محض جلسہ کرنا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو براہ راست سننا، ان کے اصل مسائل کو سمجھنا اور عملی حل نکالنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں آواران میں ایک عوامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر بارہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، قدرمن چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، انسپکٹر جنرل پولیس طاہر خان، سیاسی رہنماء، قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور ضلعی انتظامیہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سیاست ہمیں یہ سیکھاتی ہے کہ ایک سیاسی رہنما اپنے عوام سے قریبی اور مسلسل تعلق رکھنے کے نتیجے میں عزت و عظمت پاتا ہے۔ عوام کی آوازیں، خدشات اور خواہشات ہمیشہ ہمارے فیصلوں اور پالیسیوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ انہون نے کہا کہ جرگہ ہمارے قومی ورثے اور روایتی زندگی کا ایک انمول حصہ ہے۔ صدیوں سے جرگہ نے مشاورت، مفاہمت اور اجتماعی فیصلہ سازی کیلئے ایک معزز ادارے کے طور پر کام کیا ہے۔ جرگہ باہمی احترام، مشترکہ ذمہ داری اور ہماری قومی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ مجھے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کا مستقبل بہت روشن نظر آ رہا ہے۔ ہمارا پورا صوبہ بےپناہ قدرتی وسائل، اسٹریٹجک اہمیت اور غیرمعمولی انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ مکران اور گوادر میں جو معاشی اور تجارتی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ آواران اور اردگرد کے علاقوں کے لوگ ترقی و پیشرفت کے اس نئے دور سے زیادہ مستفید ہونگے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ترقی اس وقت تک معنی خیز نہیں ہو سکتی جب تک اس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچیں۔ آپ گواہ رہیں کہ ہمارے تمام جرگے معاشرے کی خاموش اکثریت کی آواز بنیں گے۔ اسطرح کے عوامی جرگے ضلعی انتظامیہ اور تمام سرکاری اداروں کے آفیسران کو بھی مزید فعال بنائیں گے کیونکہ یہی جرگے انہیں لوگوں کی ضروریات کیلئے زیادہ موثر طریقے سے جواب دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ گورنر جعفرخان نے کہا کہ ہم ہر مسئلے کو پولٹیکل ڈائیلاگ، اجتماعی دانش اور قانون کے دائرے میں حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض علاقے بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن مسلسل مذاکرات، باہمی اعتماد اور آئین پاکستان کے احترام کے ذریعے ہم دیرپا امن، سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ آج کا یہ عوامی جرگہ ضرور مثبت نتائج پیدا کریگا، امن و امان کو مضبوط کریگا اور لوگوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5201/2026
کوئٹہ 30جون۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ کمپنسیشن اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سوشل ویلفیئر، سی اینڈ ڈبلیو، سی ٹی ڈی، سول ہسپتال، بی ایم سی، ایم سی کیو، پولیس سرجن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ میں پیش آنے والے گزشتہ مختلف واقعات کے حوالے سے زخمیوں اور شہداء کا تفصیلی ڈیٹا پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ متاثرہ عمارتوں، گاڑیوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں متاثرین کو معاوضہ فراہمی کے امور، دستاویزی مراحل اور مختلف اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5202/2026
کوئٹہ 30جون۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت ایگریکلچر انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایگریکلچر اسٹیٹسٹکس (کراپس رپورٹنگ سروس) کے افسران اور متعلقہ انتظامی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ کی زرعی اراضی، زیرِ کاشت رقبے، فصلوں کی موجودہ صورتحال اور ایگریکلچر انکم ٹیکس سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکائ کو زرعی زمینوں کے درست ریکارڈ، ڈیٹا کی تصدیق اور بروقت معلومات کی فراہمی کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور ایگریکلچر اسٹیٹسٹکس (کراپس رپورٹنگ سروس) مشترکہ طور پر ضلع بھر کی زرعی زمینوں کا جامع سروے کرکے مفصل رپورٹ مرتب کریں گے، تاکہ زرعی اراضی کا مستند ریکارڈ تیار ہو، ایگریکلچر انکم ٹیکس کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے اور سرکاری ریکارڈ کی درستگی یقینی بنائی جا سکے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام معلومات مقررہ وقت میں شفافیت اور باہمی تعاون کے ساتھ مرتب کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5203/2026
نصیرآباد30جون ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل کی زیرِ صدارت ریونیو افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر نصیرآباد، تحصیلدار ڈیرہ مراد جمالی، تحصیلدار بابا کوٹ، تحصیلدار تمبو، تحصیلدار لانڈھی، تحصیلدار میر حسن اور تحصیلدار چھتر نے شرکت کی اجلاس کے دوران زرعی انکم ٹیکس، آبیانہ، عشر، چار سالہ جمع بندی اور دیگر اہم ریونیو امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ریونیو افسران نے اپنے اپنے حلقہ اختیار سے متعلق معاملات پر جامع بریفنگ دی بریفنگ کے دوران آگاہ کیا گیا کہ جن زمینداروں پر گزشتہ سال کے زرعی انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری بقایاجات واجب الادا ہیں، ان کے خلاف نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد واجبات جمع کرا کے متعلقہ دفاتر میں رسیدیں جمع کرائیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے سختی سے ہدایت کی کہ حکومتی بقایاجات کی وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سستی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کریں اور ریکوری کے عمل کو مزید موثر اور تیز بنایا جائے۔انہوں نے زمینداروں اور کاشتکاروں پر بھی زور دیا کہ وہ حکومتی واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ سرکاری امور کی بہتر اور موثر انداز میں انجام دہی ممکن ہو سکے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5205/2026
تفتان30جون ۔ضلعی انتظامیہ چاغی کی جانب سے عوامی مسائل کے بروقت حل اور عوام و انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے باغیچہ کیمپ کچاو کلی کرتکا، تفتان میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر چاغی، جہانزیب نور شاہوانی نے کی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر تفتان نعیم قاسم شاہوانی، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اعلیٰ حکام، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، علاقے کے معتبرین، عمائدین، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری کا مقصد عوام کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کے سامنے پیش کر سکیں، تاکہ ان کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر شہریوں نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات، تعلیمی مسائل، بجلی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، مواصلاتی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں، صفائی، روزگار اور دیگر عوامی مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب نور شاہوانی نے شہریوں کی تمام درخواستیں اور شکایات نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنیں۔ انہوں نے موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ عوامی مسائل کا بروقت حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ایک ہی جگہ اپنی شکایات پیش کرنے کا موقع مل سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ترقیاتی عمل میں تیزی لائی جا سکے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اپنے مسائل بروقت متعلقہ فورمز پر پیش کریں اور کھلی کچہری جیسے عوامی رابطہ پروگراموں سے بھرپور استفادہ حاصل کریں، کیونکہ یہی اجتماعات عوامی مسائل کے فوری حل اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے پیش کردہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جلد دیکھنے کو ملیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5206/2026
تفتان 30جون ۔ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب نور شاہوانی نے تفتان کے علاقے تنگ کچاو اسکول سمیت مختلف نواحی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے عوامی مسائل، بنیادی سہولیات کی دستیابی اور سرکاری خدمات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مقامی آبادی، قبائلی عمائدین اور شہریوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل تفصیل سے سنے اور مختلف شعبوں سے متعلق عوامی شکایات اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ شہریوں نے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں، مواصلاتی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات سے متعلق اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جہانزیب نور شاہوانی نے کہا کہ عوام کو ریلیف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق صحت، تعلیم، آب نوشی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو ہر گھر تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر، مربوط اور فوری اقدامات کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت سرکاری اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر طرزِ زندگی میسر آئے اور علاقے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔دورے کے اختتام پر مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر کے علاقے کا دورہ کرنے اور ان کے مسائل خود سننے کے اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جلد عملی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5207/2026
تفتان30جون ۔ضلعی انتظامیہ چاغی کی جانب سے عوامی مسائل کے بروقت حل اور عوام و انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید موثر بنانے کے لیے باغیچہ کیمپ کچاو کلی کرتکا، تفتان میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ڈپٹی کمشنر چاغی، جہانزیب نور شاہوانی نے کی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر تفتان نعیم قاسم شاہوانی، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اعلیٰ حکام، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، علاقے کے معتبرین، عمائدین، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری کا مقصد عوام کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کے سامنے پیش کر سکیں، تاکہ ان کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر شہریوں نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات، تعلیمی مسائل، بجلی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، مواصلاتی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں، صفائی، روزگار اور دیگر عوامی مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ شرکاءنے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب نور شاہوانی نے شہریوں کی تمام درخواستیں اور شکایات نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنیں۔ انہوں نے موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ عوامی مسائل کا بروقت حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ایک ہی جگہ اپنی شکایات پیش کرنے کا موقع مل سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ترقیاتی عمل میں تیزی لائی جا سکے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اپنے مسائل بروقت متعلقہ فورمز پر پیش کریں اور کھلی کچہری جیسے عوامی رابطہ پروگراموں سے بھرپور استفادہ حاصل کریں، کیونکہ یہی اجتماعات عوامی مسائل کے فوری حل اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے پیش کردہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جلد دیکھنے کو ملیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5208/2026
گوادر: 30جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور عوام کو معیاری، بروقت اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی کے عزم کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے طبی سہولیات، صفائی، ادویات کی دستیابی، عملے کی کارکردگی اور انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تھیلیسیمیا سینٹر، لیبارٹری، او پی ڈی، فارمیسی، ڈائلیسس سینٹر، ایمرجنسی، مرد و خواتین وارڈز سمیت دیگر اہم شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کر کے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو عوامی شکایات کے فوری اور موثر ازالے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ادویات کے اسٹاک، او پی ڈی ریکارڈ، مریضوں کے اندراج، طبی آلات کی دستیابی اور ڈاکٹروں و دیگر عملے کی حاضری کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں غفلت، غیر ذمہ داری اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، صفائی، نظم و ضبط اور مریض دوست ماحول کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ادویات اور طبی سہولیات کی مسلسل دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہسپتالوں کی کارکردگی کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے باقاعدگی سے اچانک دورے اور مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 5209/2026
کراچی ، 30 جون ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی افسوسناک واقعے کو حقائق کے برعکس پیش کرنا نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے کے بارے میں منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی منگل کو کراچی پہنچے اور دشت کے علاقے میں افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تاجر مرحوم علی مرتضیٰ کے گھر گئے ، جہاں انہوں نے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی تلقین کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ریاست ان کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جب سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے، تاہم گرے زونز میں کارروائی ایک مشکل کام ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دشت میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کو سوشل میڈیا پر حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منفی اور گمراہ کن بیانیے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور سچ کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں پر روزانہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنے والے شہری محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا ایک انفرادی واقعے کو پورے صوبے کی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم علی مرتضیٰ کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرحوم کی بچیوں کی کفالت اور ان کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان حکومت اٹھائے گی تاکہ خاندان کو ہر ممکن سہارا فراہم کیا جا سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں مزید موثر انداز میں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5210/2026
خضدار30جون ۔ : اپوزیشن لیڈر بلوچستان میر یونس عزیز زہری نے وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اینڈ وومن کمپلیکس خضدار کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی، صدر انجمںلن تاجران حافظ حمیداللہ مینگل،میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی اور چیف آفیسر محمد صالح جاموٹ بھی موجود تھے۔دورے کے دوران اپوزیشن لیڈر نے وومن ہاسٹل میں رہائش پذیر خواتین کے لیے سہولیات میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے ریفریجریٹر، وائی فائی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی نے وومن کمپلیکس میں پارکنگ شیڈ، اسٹریٹ لائٹس اور ضروری اسٹاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا اعلان کیا۔چیف آفیسر محمد صالح جاموٹ نے خواتین کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو سراہتے ہوئے بلڈنگ اور لیڈیز پارک میں دس دکانیں کاروبار کرنے کے لیے فراہم کرنے کی یقن دہانی کرائے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق خواتین کے کاروباری مواقع (Entrepreneurship) کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے وومن کمپلیکس میں جاری آٹھ روزہ تربیتی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کو مزید موثر اور بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی ٹریننگ کو خواتین شرکائ کو سی ایم فنڈ سے مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔اس موقع پر وومن کمپلیکس کی منیجر روبینہ کریم شاہوانی نے اپوزیشن لیڈر اور دیگر افسران کو ادارے کی کارکردگی اور جاری سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ بعد ازاں وفد نے خواتین کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ تربیتی پروگرام کا دورہ کیا، جہاں شرکاءسے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔دورے کے اختتام پر اپوزیشن لیڈر سمیت تمام متعلقہ حکام نے خواتین کو خودمختار بنانے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور انہیں ہر ممکن سہولیات و سرکاری تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5211/2026
کوئٹہ، 30 جون: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کے مطابق بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (BBoIT)، بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) کے اشتراک سے آئندہ ماہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ “بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو (BITE 2026)کا انعقاد کر رہا ہے۔اس سلسلے میں بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کی زیر صدارت بیوٹمز میں ایک اعلیٰ سطحی اسٹیک ہولڈرز اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری، بیوٹمز کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر وائس کاسی، رجسٹرار ڈاکٹر احسن اچکزئی، ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین، مختلف کاروباری و مالیاتی اداروں، سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں اور سماجی شعبے سے وابستہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی واضح ہدایات ہیں کہ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے لیے سازگار ماحول اور آسانیاں پیدا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کے نوجوانوں کو کاروبار اور صنعت کی جانب راغب کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ”بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو اسی وڑن کی ایک اہم کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ مایوسیوں کا خاتمہ کر کے بلوچستان کا مثبت، پرامن اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں تشخص دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔بیوٹمز کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر وائس کاسی نے کہا کہ”بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو“ ایک منفرد اور انتہائی مثبت اقدام ہے، جس کے انعقاد کے لیے بیوٹمز ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کے لیے سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے کہا کہ یہ ایکسپو نہ صرف کاروباری اداروں بلکہ نوجوانوں، نئے کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کو بھی ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جہاں انہیں سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری ماہرین سے روابط استوار کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔اس موقع پر بیوٹمز کے رجسٹرار ڈاکٹر احسن اچکزئی نے شرکائ کو ایکسپو کے اغراض و مقاصد، مجوزہ پروگرام اور لے آوٹ پلان پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ اجلاس کے شرکائ نے ایونٹ کو مزید موثر اور کامیاب بنانے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, June 30: In line with the vision and directives of the Chief Minister of Balochistan, Mir Sarfraz Bugti, the Balochistan Board of Investment & Trade (BBoIT), in collaboration with the Balochistan University of Information Technology, Engineering and Management Sciences (BUITEMS), is organizing the first-ever Balochistan Investment & Trade Expo (BITE 2026)in the province’s history, scheduled to be held next month.In this connection, a high-level stakeholders’ meeting was held at BUITEMS under the chairmanship of Bilal Khan Kaka, Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment & Trade. The meeting was attended by Qaim Lashari, Chief Executive Officer of BBoIT; Professor Dr. Mir Wais Kasi, Pro Vice Chancellor of BUITEMS; Dr. Ahsan Achakzai, Registrar of BUITEMS; Mian Zahid Hussain, Chairman of the Advisory Board of FPCCI; as well as representatives of various business and financial institutions, government departments, educational institutions, and civil society organizations.Addressing the participants, Vice Chairman Bilal Khan Kakar said that Chief Minister Mir Sarfraz Bugti has issued clear directives to create a conducive environment for investors and facilitate the business community. He stated that the Government of Balochistan is taking practical measures to encourage young people to pursue entrepreneurship and industrial development, and that the Balochistan Investment & Trade Expo (BITE 2026) is a significant step towards achieving this vision. He further emphasized that the time has come to eliminate negative perceptions and present Balochistan’s positive, peaceful, and investment-friendly image to the world.Speaking on the occasion, Professor Dr. Mir Wais Kasi, Pro Vice Chancellor of BUITEMS, described the Balochistan Investment & Trade Expo (BITE 2026) as a unique and highly positive initiative and assured the university’s full support for its successful organization. He appreciated the efforts of Vice Chairman Bilal Khan Kakar in promoting investment and creating a more business-friendly environment in the province.Chief Executive Officer of BBoIT, Qaim Lashari, said that the Expo would provide an effective platform not only for businesses but also for young entrepreneurs and startups to connect with investors, financial institutions, and industry experts, creating new opportunities for collaboration and growth.During the meeting, Dr. Ahsan Achakzai, Registrar of BUITEMS, gave a detailed presentation on the objectives, proposed programme, and layout plan of the Expo. Participants also shared valuable recommendations and suggestions to ensure the successful organization of the event.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5212/2026
کوئٹہ30وجون ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے ہر ممکن وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عام عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور عوامی شراکت داری کو بنیاد بنا کر ہماری ترجیحات میں عوامی سہولیات کی فراہمی، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت، اشیائ خوردونوش کی قیمتوں پر نگرانی ، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں، غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی واپسی اور کھلی کچہریوں میں عوامی شکایات کے ازالے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن سیکشن نے کل 3,020 ترقیاتی منصوبوں میں سے 2,898 منصوبوں کا دورہ کیا جن میں سے 2,382 سکیمات مکمل پائی گئیں۔ بی ایس ڈی آئی کے فیز-1 اور فیز-2 کے تحت کل 2,178 منصوبوں میں سے 1,765 اسکیمات مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی منصوبے بھی جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی معیارِ زندگی بہتر بناتے ہیں کیونکہ یہ بنیادی سہولتوں، روزگار، تعلیم، صحت اور رابطہ کاری میں بہتری لاتے ہیں۔ جب یہ منصوبے بروقت اور موثر طریقے سے مکمل ہوں تو ان کے فائدے براہِ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ اضلاع میں قیمتوں کے استحکام کے لیے مارکیٹس کا دورہ کیا۔ اشیائ خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی سرکاری نرخوں سے ،یادہ پر اشیاء نہ بیچے۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تاکہ عام عوام کو مناسب نرخوں پر اشیاء میسر ہوں۔ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی وطن واپسی کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی کہ اب تک بلوچستان سے تقریباً 8 لاکھ افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے اور واپسی کے عمل کو منظم انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی شکایات کے فوری ازالے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے تسلسل کے ساتھ کھلی کچہریاں منعقد کی جائیں تاکہ شہریوں کے مسائل بروقت حل ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5213/2026
قلات30جون ۔اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹر علی گل عمرانی کی زیر صدارت ضلع قلات کی تحصیل خالق آباد میں انتظامی ہم آہنگی اورامن و امان کےامورسے متعلق اجلاس کاانعقادکیاگیااجلاس میں ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر قلات اسرار شاہوانی۔ ڈی ایس پی خالق آباد عبدالقادرلانگو ایس ایچ او خالق آباد علی اصغر نیچاری اور خالق آباد کے نائب تحصیلدارنے شرکت کی اجلاس میں خالق آباد میں امن و امان سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال موجودہ سیکورٹی خدشات اور انتظامی ہم آہنگی پر توجہ دی گئی .۔اجلاس کےشرکاء نے امن کو برقرار رکھنے اور امن و امان کے اقدامات کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیاانتظامی افسر کی زیرنگرانی منعقدہ اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن وامان برقراررکھنے اورشرپسندعناصر کی بیخ کنی کیلئے قانون نافذکرنے والے ادارے الرٹ رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5214/2026
کوئٹہ30جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے آج یہاں مائلو ٹرسٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے میں زیرِ علاج افراد سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر کویٹہ نے ادارے میں داخل افراد کے لیے کرکٹ، فٹبال، بیڈمنٹن سمیت مختلف کھیلوں کا سامان اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کیں تاکہ انہیں صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے مائلو ٹرسٹ کے ذمہ داران سے تفصیلی ملاقات بھی کی، جس میں ادارے کی کارکردگی، درپیش مسائل، سہولیات اور مستقبل کی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ادارے کے ذمہ داران نے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں، جن پر ڈپٹی کمشنر نے ہر ممکن تعاون اور مرحلہ وار عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے زیرِ علاج افراد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مثبت طرزِ زندگی اپنانے، کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینے کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ فلاحی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5215/2026
تفتان30جون ۔ : ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب نور شاہوانی نے تفتان کے علاقے تنگ کچاو اسکول سمیت مختلف نواحی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے عوامی مسائل، بنیادی سہولیات کی دستیابی اور سرکاری خدمات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مقامی آبادی، قبائلی عمائدین اور شہریوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل تفصیل سے سنے اور مختلف شعبوں سے متعلق عوامی شکایات اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ شہریوں نے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں، مواصلاتی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات سے متعلق اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جہانزیب نور شاہوانی نے کہا کہ عوام کو ریلیف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق صحت، تعلیم، آب نوشی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو ہر گھر تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر، مربوط اور فوری اقدامات کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت سرکاری اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر جہانزیب نور شاہوانی نے اس موقع پر ریکوڈک منصوبے کو بلوچستان اور بالخصوص ضلع چاغی کی معاشی ترقی کے لیے ایک تاریخی اور گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے مثبت اثرات نہ صرف ضلع چاغی بلکہ پورے بلوچستان اور پاکستان کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سڑکوں، صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں نمایاں ترقی آئے گی، جبکہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ ریکوڈک منصوبے کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچیں اور ترقی کا عمل عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری کا باعث بنے۔ سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچ سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر طرزِ زندگی میسر آئے اور علاقے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔دورے کے اختتام پر مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر کے علاقے کا دورہ کرنے اور ان کے مسائل خود سننے کے اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جلد عملی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5216/2026
کوئٹہ 30جون ۔ ڈی آئی جی کوہِ سلیمان ڈویژ ن ایاز احمد بلوچ نے کہا کہ نئی عمارت اور بہتر سہولیات عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ضلع میں امن و امان کے قیام میں مزید معاون ثابت ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوہِ سلیمان ڈویژن ضلعی پولیس آفس کی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ایس پی کوہلو طیب اقبال، ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ، ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل طحہ علی خان، ڈی ایس پی شیر محمد مری، ڈی ایس پی مولا داد زرکون اور دیگر پولیس و سول حکام نے شرکت بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے ڈی آئی جی پولیس ایاز احمد بلوچ کو سلامی پیش کی، جبکہ یادگارِ شہداءپر پھول چڑھائے گئے اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب کے دوران پولیس افسران نے ڈی آئی جی پولیس کو نئی عمارت میں فراہم کی گئی سہولیات، انتظامات اور دفتری امور سے متعلق بریفنگ دی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جدید دفتری سہولیات کی فراہمی سے پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعداد اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں عوام کو موثر، بروقت اور معیاری پولیس خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5217/2026
کوئٹہ 30جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، مہراللہ بادینی نے گرین بس اسٹاپ کا دورہ کرکے وہاں دستیاب سہولیات اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بالخصوص خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور آرام دہ انتظار گاہ قائم کی جائے، جبکہ تمام مسافروں کے لیے بھی جدید سہولیات سے آراستہ، صاف ستھری اور معیاری انتظار گاہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل اور تجاویز سنیں اور سفری سہولیات سے متعلق درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور گرین بس اسٹاپ پر بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور باوقار سفری ماحول میسر آسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5218/2026
تربت: 30 جون ۔: میونسپل کارپوریشن تربت نے شہر میں ایک شاندار میگا تھیٹر فیسٹیول کے انعقاد کے لیے تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ فیسٹیول کو کامیاب، موثر اور معیاری بنانے کے لیے مختلف تعلیمی، ثقافتی، ادبی اور سماجی اداروں سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں میئر میونسپل کارپوریشن تربت، بلخ شیر قاضی سے تربت پریس کلب کے وفد نے صدر حافظ صلاح الدین سلفی کی سربراہی میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مجوزہ میگا تھیٹر فیسٹیول کے انعقاد، اس کے اغراض و مقاصد، انتظامی امور اور پروگرام کی مجموعی منصوبہ بندی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر میئر بلخ شیر قاضی نے کہا کہ میگا تھیٹر فیسٹیول کا مقصد تربت میں ثقافتی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا، مقامی فنکاروں کو اظہار کا موثر پلیٹ فارم فراہم کرنا اور نوجوان نسل کو مثبت ثقافتی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ فیسٹیول کے انعقاد سے قبل جامعہ تربت، مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، ضلعی انتظامیہ، کلچر سینٹر، ادبی و ثقافتی تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں سے مشاورت کی جائے گی تاکہ تمام فریقین کی تجاویز کی روشنی میں ایک جامع، معیاری اور عوامی دلچسپی کا حامل ثقافتی پروگرام ترتیب دیا جا سکے۔ملاقات میں تربت پریس کلب کے سینئر ارکان مقبول ناصر، طارق مسعود، مبارک علی، ایاز اسلم، سابق چیف آفیسر عبدالستار دشتی، انجمن تاجران کے رہنما جمیل عمر بلوچ، نذیر آصف اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔شرکاء نے میونسپل کارپوریشن تربت کے اس ثقافتی اقدام کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ میگا تھیٹر فیسٹیول نہ صرف مقامی فن و ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور شہر میں مثبت ثقافتی ماحول کے قیام میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5219/2026
چمن30 جون ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کا بی ایس ڈی آئی فیز ٹو اور فیز تھری کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کر رہے ہیں ڈپٹی کمشنر چمن، حبیب احمد بنگلزئی نے آج ضلع چمن کے مختلف علاقوں، بالخصوص چمن شہر اور اطراف میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے تفصیلی دورے کے دوران پولیس تھانوں، سڑکوں، بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور تعلیمی اداروں میں جاری تعمیراتی، تزئین و آرائش اور مرمتی کاموں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر5220/2026
کوئٹہ، 30 جون: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ضلع آواران میں ایک اہم قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین، طلبہ و طالبات اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں قبائلی عمائدین اور عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن عوام، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت آوران میں ترقیاتی منصوبے لیکر آرہی ہے، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہی ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان آوران سمیت پورے مکران ڈویژن کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، جن کے نتیجے میں علاقے کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے علاقے میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے اسی نوعیت کے مزید ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ علاقے کی پائیدار ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کے فروغ کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آواران کے عوام امن پسند، باشعور اور ترقی پسند ہیں، جنہوں نے علاقے کی ترقی اور استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواران کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور آہنی ہاتھوں سے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ جرگے میں رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین اور دیگر شرکاء نے علاقے میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے قومی یکجہتی، پائیدار امن اور علاقائی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔جرگے کے دوران شرکاء نے علاقے کو درپیش مسائل اور عوامی اہمیت کے مختلف امور پر سوالات اور تجاویز پیش کیں، جن پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے تفصیلاً جوابات دیے۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو عوامی مسائل کے فوری، مؤثر اور دیرپا حل کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ جرگے میں ضلع آواران کے معززینِ علاقہ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں عوام اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
خبر نامہ نمبر5221/2026
کوئٹہ/30 جون: ملاوٹی دودھ اور غیر معیاری خوراک کے خاتمے کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے 2 دودھ کی دکانیں سیل، 25 فوڈ بزنس آپریٹرز کو جرمانے اور 18 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔ کارروائیوں کے دوران دودھ میں ملاوٹ، صفائی کی ناقص صورتحال، زائد المیعاد اشیاء کی فروخت، غیر قانونی رنگوں، ناقص اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پر قانونی ایکشن لیا گیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق ژوب میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر ژوب کے ہمراہ متعدد دودھ کی دکانوں اور ڈیری فارمز کا معائنہ کیا۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ اور اسکمڈ ملک ثابت ہونے پر 2 دودھ کی دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ 2 ڈیری فارمز سمیت مجموعی طور پر 4 یونٹس کو جرمانہ کیا گیا اور 5 بہتری نوٹسز جاری کیے گئے۔ معائنے کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ، چکنائی کی کمی، حشرات کی موجودگی، آلودہ برتن، غیر صحت بخش ماحول اور صفائی کے ناقص انتظامات جیسے سنگین نقائص سامنے آئے۔علاوہ ازیں کوئٹہ میں مختلف انسپیکشن ٹیموں نے کاسی روڈ، علمدار روڈ، نچاری روڈ، ہزارہ ٹاؤن، ایئرپورٹ روڈ، پٹیل روڈ، میر احمد خان روڈ اور سرکی روڈ پر کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 13 فوڈ بزنس آپریٹرز کو جرمانے اور 5 اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔ کارروائیوں کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ پر 2 ملک شاپس کے خلاف ایکشن لیا گیا جبکہ 3 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ مختلف جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، ہوٹلز، بیکریز، بیف شاپس اور دیگر مراکز میں ناقص صفائی، بغیر لائسنس کاروبار، خراب گوشت، غیر معیاری اسٹوریج، حشرات کی موجودگی، کھلے کوڑے دان، غیر فوڈ گریڈ رنگوں، زائد المیعاد اشیاء اور ممنوعہ مصنوعات کی موجودگی پر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ اسی دوران نئے واٹر پلانٹ مالکان کو بی ایف اے ایس او پیز، رجسٹریشن اور محفوظ پانی کی تیاری سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی گئی جبکہ نان شاپس میں کارکنوں کو ذاتی حفاظتی سامان (PPEs) تقسیم کرکے محفوظ خوراک کی تیاری سے متعلق عملی آگاہی دی گئی۔اسی طرح پنجگور میں پرانا تربت روڈ اور شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 2 جنرل اسٹورز کو جرمانہ اور 5 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ معائنے کے دوران زائد المیعاد مشروبات، اسنیکس، ملک کریم، جوسز، مصالحہ جات، پابندی عائد چائنیز نمک اور نان فوڈ گریڈ کلرز ضبط کر لیے گئے۔خضدار میں آر سی ڈی روڈ پر قائم مختلف فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کے دوران 2 ریسٹورنٹس، 3 جنرل اسٹورز اور 1 نان شاپ سمیت 6 مراکز کو جرمانہ جبکہ 8 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران انتہائی ناقص صفائی، گندگی، مکھیوں کی بھرمار، زنگ آلود برتن، ناقص نکاسی آب، کم وزن روٹی کی تیاری اور زائد المیعاد اشیاء کی فروخت پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ملاوٹی دودھ، غیر معیاری خوراک اور عوامی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بی ایف اے قوانین، حفظانِ صحت کے اصولوں اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر5222/2026
کوئٹہ30 جون: پی ایس پی آفیسر محترمہ شہلہ قریشی نے ڈپٹی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں۔چارج سنبھالنے کے بعد بلوچستان کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر بدر لائن میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی کمانڈنٹ محترمہ شہلہ قریشی نے کی۔ اجلاس میں تمام زونل کمانڈرز، ونگ کمانڈرز اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمانڈنٹ نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ فورس میں نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ہر افسر و اہلکار اپنی حاضری اور ڈیوٹی کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کی فلاح و بہبود (ویلفیئر) کو اولین ترجیح دی جائے گی اور ان کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔محترمہ شہلہ قریشی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دورانِ ڈیوٹی عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ذمہ داری سمجھتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری عوام کی خدمت، امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی۔اجلاس کے اختتام پر افسران نے ڈپٹی کمانڈنٹ کو اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور بلوچستان کانسٹیبلری کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/5223
کوئٹہ 30 جون۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ اور میٹرو ولیٹن کارپوریشن کا صوبائی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے تحت کاسی روڈ پر انسدادِ تجاوزات آپریشن کیا گیا۔آپریشن اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ کی نگرانی میں ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے مشترکہ طور پر کیا، جس دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی سے غیرقانونی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں و تاجروں سے شہر کو صاف اور منظم رکھنے میں تعاون کی اپیل کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/5224
ضلع چمن30جون :ـڈپٹی کمشنر چمن، حبیب احمد بنگلزئی نے آج ضلع چمن کے مختلف علاقوں میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت جاری تعمیراتی اور مرمتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے جاری ترقیاتی کاموں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل، کام کے معیار، رفتار اور مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں اعلیٰ معیار کے تعمیراتی میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے اور کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص تعمیراتی کام کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ضلع چمن کے عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ضلع کے مختلف علاقوں میں سڑکوں، پولیس تھانوں، بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور سرکاری اسکولوں میں جاری تعمیراتی و مرمتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے منصوبوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل، کام کے معیار اور پیش رفت کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ افسران اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کاموں میں غفلت، غیر معیاری میٹریل یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ تمام منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/5225
ضلع چمن20جون:ـاسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن، عزیز اللہ کاکڑ نے آج چمن شہر کے مختلف شاہراہوں اور بازاروں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا، تجاوزات کا جائزہ لینا اور ریڑھی بانوں کو مختص کردہ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کا معائنہ کرنا تھا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ریڑھی بانوں کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی شاہراہ، بازار یا عوامی گزرگاہ پر ریڑھیاں کھڑی کرکے خرید و فروخت نہ کریں، کیونکہ اس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے، پیدل چلنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں اور دکانداروں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریڑھی بانوں کے لیے مخصوص جگہ مختص کی گئی ہے، لہٰذا تمام ریڑھی بان اپنی ریڑھیاں اسی مقررہ مقام پر منتقل کریں اور وہیں اپنا کاروبار جاری رکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک کی روانی اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائی اور نگرانی کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے۔







