خبر نامہ نمبر8390/2026
بارکھان مورخہ 29 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاسآج ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاس منعقد ہوئے، جن میں پولیس، ایف سی، حساس اداروں اور متعلقہ ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاسوں میں ضلع بارکھان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاسوں کے دوران اہم سرکاری تنصیبات، حساس مقامات، بازاروں اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی مزید موثر بنانے، داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی سخت کرنے اور پولیس و ایف سی کے گشت کو مزید فعال بنانے پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ، مشکوک سرگرمیوں کی موثر نگرانی اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ اس کے علاوہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی قانونی تقاضوں کے مطابق نگرانی اور متعلقہ ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے کہا کہ ضلع میں پائیدار امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ، باہمی تعاون اور بروقت کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرنے اور اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوام کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8391/2026
گوادر29 ستمبر۔ ضلعی آفیسر صحت گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے معاون وسیم صمد کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع کے مختلف ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی قلت اور دیگر عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وفد نے ضروری ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر یاسر طاہر نے ادویات کی ترسیل میں درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے مسائل کے حل اور صحت کی سہولیات میں بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8392/2026
پیشکان29 ستمبر۔گورنمنٹ بوائز انٹر کالج پیشکان میں پرنسپل محمد عادل بلوچ کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں کالج کے تمام تدریسی و انتظامی اسٹاف نے شرکت کی۔ اجلاس میں تعلیمی امور، طلبہ کی حاضری اور سالانہ امتحانات کی تیاری سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ والدین و اساتذہ اجلاس 8 اکتوبر 2026 بروز جمعرات سہ پہر 3 بجے منعقد ہوگا، جس میں طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور حاضری سے متعلق والدین کو آگاہ کیا جائے گا اجلاس میں مسلسل غیر حاضر طلبہ کی حاضری بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ والدین کو بروقت آگاہ کرتے ہوئے انہیں اپنے بچوں کی روزانہ حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے گی، بصورتِ دیگر کالج کے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر اساتذہ نے یقین دہانی کرائی کہ بورڈ کے سالانہ امتحانات سے قبل تمام مضامین کے نصاب مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8393/2026
پسنی29 ستمبر۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پسنی میں حکومتِ بلوچستان اور ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز کے زیرِ اہتمام بلوچستان یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت چار روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 59 سے زائد طالبات نے شرکت کی ورکشاپ کا مقصد نوجوان طالبات کی ابلاغی و باہمی روابط، قیادت و انتظامی صلاحیتوں، کاروباری مہارتوں اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کرنا تھا۔ تربیتی پروگرام کے پہلے دو روز ٹرینر ڈائریکٹر ڈاکٹر مشتاق محمد نے کمیونیکیشن اینڈ انٹرپرسنل اسکلز جبکہ لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ اسکلز کے موضوعات پر عملی سرگرمیوں کے ذریعے تربیت فراہم کی۔
ورکشاپ کے تیسرے اور چوتھے روز ڈاکٹر غلام جان نے طالبات کو انٹرپرینیورشپ، کیریئر کاونسلنگ، موثر سی وی رائٹنگ اور فرضی انٹرویوز کے حوالے سے عملی تربیت دی، جس سے طالبات کو مستقبل میں تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع سے موثر انداز میں استفادہ کرنے کے لیے مفید رہنمائی حاصل ہوئی تربیتی ورکشاپ نوجوانوں کی عملی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، خود اعتمادی بڑھانے اور انہیں روزگار و کاروبار کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8394/2026
گوادر29 ستمبر۔ رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے معاون وسیم صمد کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد جی ڈی اے کے چیف انجینئر حاجی سید محمد سے ملاقات کی۔ وفد میں اکرم فدا اور بابر شہزاد بھی شامل تھے۔ملاقات میں نیا آباد گوادر، کنڈاسول، چکلی، شتنگی سمیت مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی اور سپلائی کنکشن سے متعلق عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے پسنی میں مقامی آبادی کو درپیش پانی کی قلت اور گوادر کو پانی کی فراہمی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے بھی جی ڈی اے حکام کو آگاہ کیا ملاقات میں پسنی کے لیے الگ مین سپلائی لائن کنکشن قائم کرنےپرزور دیا ، تاکہ مقامی آبادی کو پانی کی فراہمی بہتر بنائی جاسکے۔ جی ڈی اے حکام نے دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8395/2026
کوئٹہ29 ستمبر۔ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کوئٹہ میں سائنس و آرٹس ایگزیبیشن کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی غیر نصابی سرگرمیاں طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں، سائنسی و تحقیقی سوچ اور خود اعتمادی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد حسین بخش بلوچ، جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز محترمہ سعیدہ نیاز اور ایجوکیشن اسپیشلسٹ محترمہ سعدیہ فاروقی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے نمائش میں طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے سائنسی و تخلیقی منصوبوں کا جائزہ لیا اور طالبات کی کاوشوں کو سراہا۔شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ بلوچستان کی طالبات میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر تعلیمی مواقع اور سازگار ماحول فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور آرٹس کی سرگرمیوں کے ذریعے طالبات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تحقیق، تخلیق اور عملی تجربات کا رجحان پیدا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کوئٹہ میں منعقدہ نمائش میں طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے سائنسی ماڈلز، تجرباتی منصوبوں کے نمونے ان کی محنت، قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں صوبائی وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم صوبے میں تعلیمی معیار کی بہتری، طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی اداروں میں مثبت و تعمیری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کالج انتظامیہ، اساتذہ اور طالبات کو کامیاب نمائش کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کواری روڈ کوئٹہ نے کہا کہ کالج میں طالبات کی علمی، سائنسی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سائنس و آرٹس ایگزیبیشن کا مقصد طالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تحقیق، تجربات اور عملی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8396/2026
29 ستمبر ضلع چمن29 ستمبر۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخلق اچکزئی اورڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) چمن کا اہم اجلاس آج ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں منعقد ہوا، جس میں کمانڈر چمن اسکاوٹس کی معاونت و شرکت کے ساتھ ضلع میں جاری ترقیاتی امور اور BSDI فیز-III کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، چمن اسکاوٹس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مختلف سرکاری محکموں اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران BSDI فیز-III کے تحت تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور منصوبوں کی ترجیحات، عوامی ضروریات اور ضلع کی مجموعی ترقی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں حتمی شکل دینے کے حوالے سے اہم امور زیرِ بحث آئے۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، شہری و دیہی علاقوں میں ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنا اور ضلع چمن میں پائیدار و متوازن ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی اسکیموں کی تیاری اور تکمیل میں شفافیت، معیار، ضرورت اور عوامی مفاد کو بنیادی ترجیح دی جائے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تمام ضروری امور بروقت مکمل کرتے ہوئے انہیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھایا جائے، تاکہ BSDI فیز-III کے منصوبوں سے عوام کو جلد از جلد عملی طور پر فائدہ پہنچ سکے۔ضلعی انتظامیہ چمن کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود اور ضلع کی مجموعی ترقی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی موثر، شفاف اور بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8397/2026
ہرنائی29 ستمبر۔ امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور ضلع میں سیکیورٹی تدابیر کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی کی ہدایت پر ضلع کے مختلف تھانوں میں نائٹ شفٹ کا رول کال منعقد کیا گیا سٹی، صدر اور شاہرگ سمیت دیگر پولیس اسٹیشنوں میں متعلقہ ڈی ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کی زیرِ نگرانی رات کی ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی حاضری اور بریفنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔ اس موقع پر ذمہ داران نے ڈیوٹی پر موجود افسران اور جوانوں کو علاقے کی موجودہ صورتحال، گشت (پیٹرولنگ) کے نظام اور چوکسی سے متعلق اہم ہدایات جاری کیں پولیس حکام نے اہلکاروں کو تاکید کی کہ وہ نائٹ ڈیوٹی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری ردِعمل (پراپٹ رسپانس) کو یقینی بنائیں، ڈسپلن پر سختی سے کاربند رہیں اور سرکاری احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے ہر وقت چوکس رہیں۔ترجمانپولیس کے مطابق نائٹ شفٹ کا یہ عمل ضلع بھر میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8398/2026
ہرنائی 29 ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی خصوصی ہدایت پر انتظامیہ نے ضلع بھر میں اسلحہ ڈیلرز کے کاروباری ریکارڈ اور سیکیورٹی امور کا جائزہ لینے کے لیے معائنہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے ضلع ہرنائی میں قائم مختلف اسلحہ ڈیلرز کی دکانوں اور کاروباری مراکز کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں موجود ریکارڈ و سامان کی مکمل پڑتال کی دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر خوست نے تمام اسلحہ ڈیلرز کے پاس موجود اسٹاک رجسٹرز، خرید و فروخت (پرچیز اینڈ سیل) کے ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے دکانوں میں موجود ہر نوعیت کے اسلحے کے ماڈل، کیلیبر، سیریل نمبرز اور گولہ بارود (ایمونیشن) کی کل مقدار کا سرکاری رجسٹروں میں درج اندراج سے آمنے سامنے موازنہ اور فزیکل ویریفکیشن کی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اسرار احمد شوانی نے تمام اسلحہ ڈیلرز کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ تمام تر پرانے و موجودہ اسٹاک اور خریدو فروخت کے رجسٹرز کو فوری طور پر بند (کلوڑ) کریں۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں تاکید کی کہ کوئی بھی ڈیلر لائسنس یافتہ دکان یا مقررہ حدود کے علاوہ کسی بھی دوسرے غیر متعلقہ مقام پر اسلحہ یا گولہ بارود ہرگز ذخیرہ نہ کرے۔انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ ان انتظامی ہدایات کی خلاف ورزی، غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری پائے جانے کی صورت میں متعلقہ ڈیلر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8399/2026
نصیرآبادڈویژن29ستمبر۔نصیرآبادحکومت بلوچستان کی میرٹ پر مبنی واضح پالیسی کے مطابق محکمہ تعلیم میں حقدار امیدواروں کی داد رسی اور شکایات کے ازالے کے لیے ضلع جھل مگسی کی سی آر سی فیز تھری کا اجلاس کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز محمد عظیم ساجدی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جھل مگسی قر العین مگسی، پرنسپل ڈگری کالج نصیرآباد پروفیسر سمیع اللہ کھوسہ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی،اجلاس کے دوران عربی، جونیئر انگلش ٹیچر اور معلم القرآن کی آسامیوں کے حوالے سے مجموعی طور پر 14 امیدواروں کی جانب سے اعتراضات اور شکایات پیش کی گئیں جن میں مرد و خواتین امیدوار شامل تھے،کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے تمام شکایت کنندگان کو فرداً فرداً سنا اور ان کے اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا،اس موقع پر زیادہ تر شکایات امیدواروں کی مبینہ جعلی ڈگریوں اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تھیں، کمشنر نصیرآباد ڈویژن نے سماعت کے دوران متعدد امیدواروں کو میرٹ اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر اہل قرار دیا جبکہ دیگر امیدواروں کو یقین دہانی کرائی کہ ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز کے ذریعے باقاعدہ تصدیق کروائی جائے گی تاکہ تمام معاملات کی شفاف جانچ پڑتال کے بعد حقدار امیدواروں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکیں، کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی میرٹ پر مبنی پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور کسی بھی امیدوار کی حق تلفی برداشت نہیں کی جائے گی، تمام بھرتیوں کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اہل اور حقدار امیدواروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8400/2026
نصیرآبادڈویژن29ستمبر۔نصیرآبادحکومت بلوچستان کی میرٹ پر مبنی واضح پالیسی کے مطابق محکمہ تعلیم میں حقدار امیدواروں کی داد رسی اور شکایات کے ازالے کے لیے ضلع جھل مگسی کی سی آر سی فیز تھری کا اجلاس کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز محمد عظیم ساجدی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جھل مگسی قر العین مگسی، پرنسپل ڈگری کالج نصیرآباد پروفیسر سمیع اللہ کھوسہ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی،اجلاس کے دوران عربی، جونیئر انگلش ٹیچر اور معلم القرآن کی آسامیوں کے حوالے سے مجموعی طور پر 14 امیدواروں کی جانب سے اعتراضات اور شکایات پیش کی گئیں جن میں مرد و خواتین امیدوار شامل تھے،کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے تمام شکایت کنندگان کو فرداً فرداً سنا اور ان کے اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا،اس موقع پر زیادہ تر شکایات امیدواروں کی مبینہ جعلی ڈگریوں اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تھیں، کمشنر نصیرآباد ڈویژن نے سماعت کے دوران متعدد امیدواروں کو میرٹ اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر اہل قرار دیا جبکہ دیگر امیدواروں کو یقین دہانی کرائی کہ ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کی ڈویڑنل ڈائریکٹر سکولز کے ذریعے باقاعدہ تصدیق کروائی جائے گی تاکہ تمام معاملات کی شفاف جانچ پڑتال کے بعد حقدار امیدواروں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکیں، کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی میرٹ پر مبنی پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور کسی بھی امیدوار کی حق تلفی برداشت نہیں کی جائے گی، تمام بھرتیوں کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اہل اور حقدار امیدواروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8401/2026
نصیرآبادڈویژن29ستمبر۔جعفرآبادڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے فیز-I، فیز-II اور فیز-III کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں اور ان پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ منصوبوں کی تکمیل میں درپیش مسائل، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں گورنمنٹ کنٹریکٹرز کے بلوں کے عمل، زیر التوا ادائیگیوں اور متعلقہ محکموں کی جانب سے بلوں کی بروقت تکمیل سمیت دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ BSDI کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے اور ترقیاتی کاموں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہوسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8396/2026
کوئٹہ29 ستمبر۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں تاجروں اور کاروباری حضرات کا کلیدی کردار ہے۔ تاجروں اور صنعتکاروں کی معاشی و تجارتی سرگرمیوں سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے بلکہ ملکی معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے صدر سید عبدالقیوم آغا کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین سید یاسین آغا، جنرل سیکرٹری حاجی محمد یوسف مومند، تاجر اتحاد بلوچستان کے صدر سید حیدر آغا سمیت دیگر عہدیداران بھی شریک تھے۔ ملاقات میں کوئٹہ شہر کے تاجروں اور کاروباری حضرات کو درپیش مسائل و مشکلات، خطے کی کشیدہ صورتحال کے منفی اثرات اور صوبے میں معاشی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے ہر ذمہ دار فورم پر بلوچستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کی موثر نمائندگی کی ہے اور ان کے مسائل کے حل اور مشکلات میں کمی لانے کی خاطر تمام متعلقہ حکام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، بلوچستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کے جائز مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں پر قانونی اور ٹیکس شدہ تجارتی مال کی بار بار غیرضروری چیکنگ، اور بوریاں کھولتے ہیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سے چمن، پشین، لورالائی، مسلم باغ، خانوزئی اور دیگر علاقوں کو تجارتی مال کی ترسیل کے دوران تاجروں کو بلاجواز ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور قانونی و ٹیکس شدہ مال کی نقل و حمل میں غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔ وفد نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے بڑے کاروباری مراکز، چھوٹے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر عائد ٹیکسز میں کمی سمیت تاجروں کو درپیش دیگر مسائل کے حل کا بھی مطالبہ کیا۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے وفد کے مسائل اور تحفظات غور سے سنے اور یقین دلایا کہ تاجروں کو درپیش مسائل کے پائیدار حل کیلئے متعلقہ حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری برادری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی کی خاطر تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار موثر انداز میں ادا کرنا اشد ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8397/2026
کوئٹہ29 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ تاجر اور صنعتکار ملک کے معاشی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بزنس کمیونٹی کی خدمت دراصل ملک و قوم کی خدمت ہے۔ تاجر برادری اپنے کاروبار کے ذریعے نہ صرف سرکاری خزانے میں ٹیکس کی صورت میں اہم حصہ ڈالتی ہے بلکہ ہزاروں افراد کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب صدر احمد گل کاکڑ، سینئر نائب صدر میرزا خان خلجی اور کابینہ کے تمام نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی قیادت بلوچستان کی تاجر و صنعتکار برادری کے مسائل کے حل اور صوبے کی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مو¿ثر کردار ادا کریگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب صدر احمد گل کاکڑ، سینئر نائب صدر میرزا خان خلجی، کابینہ کے دیگر عہدیداران اور پیٹرن اِن چیف غلام فاروق خلجی سمیت تاجر و صنعتکار برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کی سرگرمیوں سے ملک بھر میں تجارتی اور معاشی منڈیاں رواں دواں ہیں۔ تاجر برادری محنت اور حلال کمائی کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندانوں کا معاشی مستقبل سنوار رہی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر سفری مشکلات کے سب سے منفی اثرات تاجر برادری پر مرتب ہو رہے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ قومی شاہراہوں پر محفوظ اور بلا رکاوٹ سفر کو یقینی بنانے کیلئے سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ ٹھوس اور عملی اقدامات بھی اٹھائے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ طویل سرحدیں ہیں اور خطے کی مجموعی کشیدہ صورتحال کے اثرات سے ہمارا صوبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ ایسے حالات میں کاروباری سرگرمیوں اور بزنس کمیونٹی کو درپیش مشکلات براہِ راست صوبے کی معیشت کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی متاثر ہوگی تو اس کے اثرات ہم سب پر مرتب ہونگے، اسلیے تاجر برادری کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کی سطح پر ہر ذمہ دار فورم پر تاجر برادری کے مسائل اور مشکلات کیلئے آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خاندانی پس منظر بھی تجارت سے وابستہ رہا ہے اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بنیاد رکھنے کے مراحل میں بھی میرا کردار رہا ہے، اسلیے تاجر برادری کے مسائل اور انکے مطالبات سے ذاتی طور پر واقف ہوں۔ گورنر بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، انتظامیہ اور تاجر برادری کے درمیان موثر رابطہ برقرار رکھتے ہوئے بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، تجارتی راستوں کے تحفظ اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کے ازالے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8398/2026
کوئٹہ، 29 ستمبروفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں پہلی میٹرو ٹرین سروس کے آغاز سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے بلوچستان میں پہلی میٹرو ٹرین سروس کے آغاز پر مسرت کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر ریلویز نے میٹرو ٹرین سروس کے آغاز پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے کہا کہ بلوچستان میٹرو ٹرین سروس کے آغاز کے حوالے سے ملک کے دیگر صوبوں سے سبقت لے گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کی کمٹمنٹ اور عوامی سہولت کے اس منصوبے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میٹرو ٹرین سروس کے آغاز میں تعاون پر وزارت ریلویز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جناح میٹرو ٹرین سروس بلوچستان میں جدید اور بااعتماد سفری سہولت کے نئے دور کا آغاز ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ الحمدللہ بلوچستان میں عوامی سفری سہولیات کے فروغ کا اہم منصوبہ مکمل ہوا ہے۔ جناح میٹرو ٹرین سروس سے شہریوں کو جدید، محفوظ اور بااعتماد سفری سہولت میسر آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8399/2026
کوئٹہ، 29 ستمبروزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ممتاز قبائلی شخصیت ملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر ان کے گھر گئے اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل دے اس موقع پر سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، صوبائی وزراءاور اراکین صوبائی اسمبلی بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8400/2026
کوئٹہ، 29 ستمبر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منگل کو سول سنڈیمن پروانشنل اسپتال کے شعبہ امراض قلب کا دورہ کیا اور زیر علاج رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کی عیادت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے میر رحمت صالح بلوچ کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اس موقع پر سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ تھے طبی ماہرین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو میر رحمت صالح بلوچ کی طبی حالت اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ کو سول سنڈیمن پروانشنل اسپتال کے شعبہ امراض قلب میں زیر علاج مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات سے بھی آگاہ کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے طبی ماہرین سے معلومات حاصل کیں اور اسپتال میں علاج معالجے کے امور کا جائزہ لیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8401/2026
کوئٹہ 29ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر سابق انٹرنیشنل فٹ بالر محمد عیسیٰ کا علاج سرکاری اخراجات پر شروع کردیا گیا ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ سابق انٹرنیشنل فٹ بالر محمد عیسیٰ کراچی کے ضیاء الدین اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کے علاج کے لیے حکومت بلوچستان نے معاونت فراہم کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محمد عیسیٰ کے علاج کے اخراجات سرکاری سطح پر برداشت کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد ان کا علاج جاری ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان سابق قومی و عالمی کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور علاج معالجے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ حکومت کھیلوں سے وابستہ شخصیات کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے مشکل وقت میں ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ برائے اطلاعات نے کہا کہ سابق انٹرنیشنل فٹ بالر محمد عیسیٰ نے کھیل کے میدان میں بلوچستان اور ملک کی نمائندگی کی، ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ حکومت بلوچستان بیماری کے دوران ان کی علاج معالجے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے معاونت جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8402/2026
کوئٹہ، 29 ستمبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کے آغاز کو شہریوں خصوصاً خواتین کے لیے جدید، محفوظ اور بااعتماد سفری سہولت کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی ان کی تعلیم، روزگار، کاروبار اور دیگر معاشی و سماجی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس سے خواتین کو شہر کے مختلف علاقوں تک منظم اور بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔انہوں نے کہا کہ سستی اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ شہریوں کے روزمرہ سفر میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ وقت اور سفری اخراجات میں بھی کمی کا باعث بنتی ہے۔ خواتین کے لیے بہتر سفری سہولیات ان کی معاشی خودمختاری اور سماجی سرگرمیوں میں موثر شرکت کے لیے بھی اہم ہیں۔ مشیر ویمن ڈویلپمنٹ نے سینئر شہریوں اور افراد باہمی معذوری کے لیے مفت سفری سہولت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوش آئند اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ان طبقات کے لیے مفت سفری سہولت ان کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرے گی اور انہیں ضروری خدمات تک رسائی میں معاونت فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ شہری ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں خواتین، سینئر شہریوں اور افراد باہمی معذوری کی ضروریات کو مدنظر رکھنا جامع اور عوام دوست شہری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آنے کے ساتھ کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں بھی بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8403/2026
کوئٹہ29ستمبر۔ محکمہ محنت و افرادی قوت بلوچستان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور سیکریٹری محنت و افرادی قوت صالح محمد ناصر کی ہدایات کی روشنی میں نیو لیبر کالونی عبدالخالق روڈ نواں کلی کوئٹہ میں سرکاری فلیٹس کو غیر مجاز قابضین سے واگزار کرانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔آپریشن ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان کے اسٹیٹ آفس کے زیر نگرانی کیا گیا، جس کے دوران نیو لیبر کالونی کے 84 ایسے فلیٹس، جو غیر مجاز طور پر زیر قبضہ تھے، میں سے 70 فلیٹس کو واگزار کرا لیا گیا، جبکہ 14 فلیٹس کو عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناعی کے باعث 6 اکتوبر 2026 تک آپریشن سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔آپریشن کے موقع پر فوکل پرسن برائے لیبر کالونیز و سیکشن آفیسر محکمہ محنت رشید احمد، اسٹیٹ آفیسر ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان مسعود ترین، ریکوری انسپکٹر پیر محمد کاکڑ سمیت محکمہ محنت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے متعلقہ اہلکار موجود تھے۔واضح رہے کہ نیو لیبر کالونی عبدالخالق روڈ نواں کلی کوئٹہ میں مجموعی طور پر 17 ٹاورز میں 204 فلیٹس محکمہ محنت و افرادی قوت بلوچستان نے 2017 میں مزدوروں اور محنت کشوں کی رہائش کے لیے تعمیر کیے تھے۔ تاہم 2021 میں شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد مجاز حکام نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان فلیٹس میں متاثرینِ سیلاب کو عارضی رہائش فراہم کی تھی۔ بعد ازاں بعض افراد نے ان رہائشی یونٹس پر غیر مجاز طور پر قبضہ برقرار رکھا، جس کے باعث سرکاری فلیٹس اپنے اصل مقصد، یعنی مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور رہائش کی فراہمی، کے لیے استعمال نہیں ہو رہے تھے۔محکمہ محنت و افرادی قوت بلوچستان کی جانب سے جاری آپریشن کا مقصد سرکاری رہائشی اثاثوں کو غیر مجاز قبضے سے واگزار کرا کے انہیں مقررہ پالیسی اور قواعد و ضوابط کے مطابق مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8404/2026
کوئٹہ، 29 ستمبر۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں پہلی جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کے افتتاح کے موقع پر بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے مفت سفری سہولت فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹرو ٹرین سروس کو مستقبل میں دو ٹرینوں تک وسعت دی جائے گی جبکہ سروس کو پشین، بوستان اور مستونگ تک توسیع دینے کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی کے ہمراہ منگل کو یہاں جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر ریلویز نے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی کی اور میٹرو ٹرین کے پہلے آزمائشی سفر میں بھی شرکت کی۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت علی لہڑی سمیت صوبائی وزرائ ، اراکین اسمبلی، چیئرمین پاکستان ریلویز، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور اعلیٰ اعلیٰ حکام اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اس تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نمائندگان کی شرکت اس امر کی عکاس ہے کہ یہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایک مشترکہ اور عوامی نوعیت کا منصوبہ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس بلوچستان میں اپنی نوعیت کی پہلی میٹرو ٹرین سروس ہے جس کا مقصد شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور کم لاگت سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے سے عام آدمی، مزدور، طلبہ اور پیشہ ور افراد سب سے زیادہ مستفید ہوں گے انہوں نے کہا کہ منصوبے کے حوالے سے ابتدائی طور پر چین سے انجن اور بوگیاں درآمد کرنے کی تجویز تھی، جس پر 50 سے 60 ارب روپے لاگت آنا تھی اور اس کی تکمیل کے لیے تین سے چار سال درکار ہوتے تاہم وفاقی وزیر ریلویز کی تجویز پر پاکستان ریلویز سے ہی نئے انجن اور بوگیاں تیار کروانے کا فیصلہ کیا گیا جس سے نہ صرف وقت اور وسائل کی بچت ہوئی بلکہ ملکی ادارے کی استعداد سے بھی استفادہ کیا گیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس سروس کو دو ٹرینوں تک وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اگلے سال تک دونوں اطراف سے ٹرینیں چلائی جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ تک ریلوے ٹریک کی ترقی پر کام پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے جبکہ مستقبل میں میٹرو ٹرین سروس کو پشین اور بوستان سے مستونگ تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے وزیر اعلیٰ نے منصوبے کی تکمیل میں تعاون پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، فرنٹیئر کور بلوچستان اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پلان اور ریلوے ٹریک کی تکمیل میں متعلقہ اداروں کے تعاون سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا انہوں نے کہا کہ اگست کے دوران بعض رکاوٹوں کے باعث منصوبے میں معمولی تاخیر ہوئی تاہم ان مشکلات پر قابو پا لیا گیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی اور سہولت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور صوبے کے عام آدمی کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس بلوچستان کے عوام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے جس کا کریڈٹ بلوچستان کے عوام، بیوروکریسی، پارلیمانی نمائندگان، صوبائی کابینہ، پاکستان ریلویز اور تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون کو جاتا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس میں سفر مکمل طور پر مفت ہوگا جبکہ دیگر شہریوں کے لیے بھی کرایے رعایتی اور عام آدمی کی استطاعت کے مطابق سبسڈائزڈ ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے منصوبے پر عمل درآمد اور پیش رفت میں تیزی پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی کاوشوں کو بھی سراہا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں تاہم ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال اور بندوق کے ذریعے کسی نظریے کو مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8405/2026
ہرنائی 29ستمبر۔شارگ گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول شارگ (تحصیل شارگ، ضلع ہرنائی) میں ایک پروقار، شاندار اور پرمسرت تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں اسکول کے طلبائ، اساتذہ کرام، والدین، اور علاقے کی ممتاز سیاسی، سماجی و قبائلی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد علاقے میں تعلیم کا فروغ، مستحق طلباءکی امداد اور تعلیمی میدان میں کارنامے انجام دینے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔تقریب کے دوران تمام معزز مہمانوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو کسی قوم کو ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کی سرپرستی کرنا اور بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا ہم سب کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہےعلاقے کی ترقی اور تعلیمی فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی شخصیات نے دل کھول کر سکول اور طلباء کے لیے مالی تعاون کے اعلانات کیے:چیئرمین میونسپل کمیٹی شارگ سید عطاء اللہ شاہ نے سکول کی بہتری کے لیے 50 ہزار روپے کا چیک موقع پر پیش کیا۔معروف قبائلی رہنما سید ناصر شاہ نے مائننگ کمیٹی کی جانب سے 50 ہزار روپے کا اعلان کیا، نیز انہوں نے تقریب میں حصہ لینے والے تمام طلباء میں موقع پر نقد انعامات بھی تقسیم کیے۔تارن کول مائنز کمپنی کے مالک سید عبدالوحید شاہ تارن نے تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 50 ہزار روپے نقد پیش کیے۔چیئرمین یونین کونسل عبدالواحد ترین نے بھی سکول کے لیے 20 ہزار روپے کی مالی معاونت کا وعدہ کیا تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کے ہاتھوں مستحق اور ہونہار طلباء میں نئے یونیفارم اور نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ یونیفارم اور انعامات حاصل کرتے وقت بچوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت کی لہر دیدنی تھی، اور ان کے جذبے سے مستقبل کے حوالے سے ایک روشن امید کی جھلک نمایاں تھی یہ تقریب نہ صرف طلباءمیں تعلیمی شوق بیدار کرنے کا باعث بنی بلکہ اس نے یہ ثابت کیا کہ جب اسکول انتظامیہ، والدین، سماجی شخصیات اور مقامی قیادت ایک پیج پر ہوں، تو تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہ ایونٹ علاقے کے لیے ایک بہترین اور قابلِ تقلید مثال بن کر ابھرا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8406/2026
کوئٹہ 29 ستمبر ۔کوئٹہ، پولیس کے زیر اہتمام فیاض سنبل شہید پولیس لائنز کوئٹہ میں منعقدہ بیڈمنٹن اوپن ٹورنامنٹ 23 سے 28 ستمبر 2026 تک کامیابی سے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر تھے۔ٹورنامنٹ میں مردوں اور خواتین کے سنگلز، ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز مقابلوں میں کھلاڑیوں نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔ فائنل میچ واپڈا اور کوئٹہ پولیس کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ پولیس نے چیمپئن شپ اپنے نام کر لی۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ بلوچستان پولیس نہ صرف عوام جان ومال کے تحفظ کے لیے اپنی فرائض کی انجام دہی کے لیے ذمہ داریاں ادا کررہی ہے بلکہ کھیلوں سمیت دیگر مثبت سرگرمیوں کے لئے بھی اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، کھلاڑیوں اور اسپانسر ادارے ڈی ایچ اے کوئٹہ کی کاوشوں کو سراہا ہے۔تقریب کے اختتام پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں میں ٹرافیاں، میڈلز اور انعامات تقسیم کیے.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8407/2026
نصیرآبادڈویژن29ستمبرڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول عبداللہ خان کنرانی کا دورہ کیا، دورے کے موقع پر ایف سی کے کرنل رضوان طیب، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی سمیت دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے سکول کے مختلف کلاس رومز اور دیگر شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور تدریسی عمل، طالبات کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات اور سکول کو درپیش مسائل کے حوالے سے پرنسپل سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر سکول انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو مختلف مسائل اور ضروریات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے سکول انتظامیہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کے تدریسی عمل پر خصوصی توجہ دی جائے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، انہوں نے کہا کہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول انتظامیہ کی جانب سے جن مسائل کے متعلق آگاہی فراہم کی گئی ہے، ان کے حل کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے درپیش مسائل کا بہتر معنوں میں حل تلاش کیا جائے گا تاکہ طالبات کو تعلیم کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8408/2026
چمن 29ستمبرچمن ستمبر ۔چمن سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے قاضی عبدالسلام لائبریری فیز ٹو کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر حاجی عطاء اللہ خان اچکزئی، ڈپٹی میئر میونسپل کارپوریشن مطیع اللہ خان اچکزئی سمیت ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور علم و ادب سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر علم و ادب سے وابستہ حلقوں نے لائبریری فیز ٹو کے قیام اور افتتاح کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کا شکریہ ادا کیا۔ مقررین نے کہا کہ لائبریری کا قیام چمن میں مطالعے، تحقیق، علم و ادب کے فروغ اور نوجوان نسل کو مثبت و تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جدید سہولیات سے آراستہ لائبریریاں کسی بھی معاشرے میں علمی و فکری ترقی کی بنیاد ہوتی ہیں، جبکہ قاضی عبدالسلام لائبریری فیز ٹو چمن کے طلبہ، نوجوانوں، ادیبوں اور محققین کے لیے ایک اہم علمی مرکز ثابت ہوگی۔تقریب کے شرکاءنے علم و ادب کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات کو جاری رکھنے اور نوجوان نسل کو مطالعے کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8409/2026
گوادر۔ 29 ستمبر ۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے کے بلڈنگز کنٹرول سیکشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی، بلڈنگ بائی لاز پر عملدرآمد، غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خلاف کارروائیوں اور بلڈنگ کنٹرول نظام کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کنٹرولر بلڈنگز نادر بلوچ، ڈپٹی کنٹرولر بلڈنگ اسٹرکچر میرجان بلوچ، ڈپٹی کنٹرولر بلڈنگز آرکیٹیکٹ عبدالرزاق بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ منیر احمد بلیدی، اسسٹنٹ کنٹرولر اسٹرکچر جی۔ایم بلوچ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت نافذ العمل بلڈنگ بائی لاز 2020 اور دیگر تعمیراتی ضوابط پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے ہدایت کی کہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی استعدادِ کار میں مزید اضافہ کیا جائے اور تعمیراتی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کے ساتھ ساتھ ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید منظم، بروقت اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔اجلاس میں بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے انتظامی ڈھانچے اور افرادی قوت کی ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ شعبہ کو ہدایت کی کہ شعبے کی موجودہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید افرادی قوت کی تعیناتی سے متعلق جامع سفارشات مرتب کرکے پیش کی جائیں، تاکہ فیلڈ اور دفتری امور کو موثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔اس موقع پر تعمیرات سے متعلق این او سی فیس، مختلف چارجز اور فیس اسٹرکچر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ موجودہ حالات اور ضروریات کے تناظر میں فیس اسٹرکچر کا ازسرِنو جائزہ لے کر جہاں ضروری ہو، مناسب ترامیم سے متعلق سفارشات مرتب کی جائیں اور انہیں آئندہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔اجلاس میں انفورسمنٹ ونگ کو مزید مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات، ناجائز تجاوزات اور سرکاری اراضی پر قبضوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے محکمہ پولیس سے اضافی پولیس کانسٹیبلز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ اسٹاف کو موثر معاونت فراہم کی جائے تاکہ بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیوں، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تیز رفتاری اور موثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے جو مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کیے بغیر اجازت نامہ کے تعمیراتی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے قانون اور بلڈنگ بائی لاز کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ شہر میں تعمیراتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔ساتھ ہی ڈائریکٹر جنرل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ شہریوں کو قانونی طریقے سے تعمیراتی مجاز نامہ/این او سی حاصل کرنے کی جانب راغب کرنے کے لیے طریقہ کار کو مزید آسان، شفاف اور سہل بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول کا مقصد صرف ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو قانونی اور باقاعدہ تعمیرات کے لیے سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔ اس لیے متعلقہ شعبہ شہریوں کے لیے رہنمائی اور سہولت کاری کے نظام کو مزید بہتر بنائے، تاکہ گوادر میں تعمیراتی سرگرمیاں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان اور منظور شدہ بلڈنگ بائی لاز کے مطابق فروغ پا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8410/2026
لورالائی 29ستمبر ڈویژنل ڈائریکٹر لورالائی ڈویژن عبد الواسع خان کاکڑ کا ضلع دکی کا اچانک دورہ، تعلیمی اداروں کا معائنہ، طلباءسے سبق سنا اور تینوں تعلیمی دفاتر کا دورہ کرکے تفصیلی بریفنگ لیدکی: ڈویژنل ڈائریکٹر لورالائی ڈویژن عبد الواسع خان کاکڑ نے سپرنٹنڈنٹ ملک نجیب اللہ خان کاکڑ کے ہمراہ ضلع دکی کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا، کلاس رومز کا جائزہ لیا، طلبائسے اسباق سنے اور تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری اور طلباءکی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیاڈویژنل ڈائریکٹر نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول دکی کا دورہ کرتے ہوئے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبائسے ان کے نصابی اسباق سنے۔ انہوں نے طلباءسے مختلف سوالات بھی کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیااس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عبد الواسع خان کاکڑ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ بچوں کو معیاری اور بہتر تعلیم فراہم کی جائے تاکہ یہی بچے مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، پائلٹ، سائنسدان اور دیگر شعبوں کے ماہر بن کر اپنے علاقے، صوبے اور ملک کی خدمت کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم حقیقی معنوں میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ دنیا میں جن قوموں نے ترقی اور خوشحالی حاصل کی، انہوں نے تعلیم، تحقیق اور علم کو بنیاد بنایا۔ آج کا طالب علم ہی کل کا معمارِ قوم ہے، اس لیے اساتذہ اور والدین دونوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دیں دورے کے دوران ڈویڑنل ڈائریکٹر نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دکی سید امیر شاہ بخاری کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں ضلع دکی کے تعلیمی معاملات، سرکاری سکولوں کی صورتحال، اساتذہ و طلبائ کی کارکردگی اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس کے بعد ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل دکی کے دفتر کا دورہ کیا گیا، جہاں انہیں گرلز مڈل سکولوں اور خواتین کے تعلیمی اداروں سے متعلق صورتحال، تعلیمی سرگرمیوں اور دیگر امور کے بارے میں بریفنگ دی گئی ڈویژنل ڈائریکٹر نے ڈسٹرکٹ افیسر ایجوکیشن دلی اشو کمار مڈل بوائز سکولوں سے متعلق متعلقہ تعلیمی دفتر کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں مڈل بوائز سکولوں کی تعلیمی صورتحال، اساتذہ کی کارکردگی، طلبائکی حاضری اور تدریسی نظام کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اس موقع پر عبد الواسع خان کاکڑ نے تمام تعلیمی افسران پر زور دیا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، طلباﺅ طالبات کی حاضری یقینی بنانے اور تدریسی سرگرمیوں کو موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی ایک محکمے یا چند افراد کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسا تعلیمی ماحول دینا ہوگا جہاں وہ علم کے ساتھ ساتھ کردار، نظم و ضبط، اخلاق اور حب الوطنی بھی سیکھ سکیں انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل ملک کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نسل ہی معاشرے سے جہالت، پسماندگی اور غربت کے خاتمے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اساتذہ اپنے فرائض کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کے لیے مفید شہری ثابت ہوں۔دورے کے اختتام پر ڈویژنل ڈائریکٹر لورالائی ڈویژن عبد الواسع خان کاکڑ نے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، تدریسی معیار اور طلباء کی تعلیمی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آج کی محنت ہی ہمارے بچوں کے روشن مستقبل اور ملک کی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8411/2026
نصیرآباد29ستمبر۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ضلع نصیرآباد میں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے علماء کرام کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع بھر کے غیر رجسٹرڈ مدارس سے وابستہ علماءجکرام سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ضلع نصیرآباد میں مجموعی طور پر 45 مدارس رجسٹرڈ جبکہ 44 مدارس تاحال غیررجسٹرڈ ہیں۔ اس موقع پر علماء کرام کو مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی اور رجسٹریشن کے قانونی و انتظامی طریقہ کار سے متعلق معلومات دی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس امر پر زور دیا کہ ضلع میں موجود تمام غیر رجسٹرڈ مدارس کو سرکاری سطح پر مقررہ طریقہ کار کے مطابق جلد از جلد رجسٹرڈ کروایا جائے تاکہ مدارس کا ریکارڈ مکمل اور تمام ادارے قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اجلاس میں علمائ کرام نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومتی اقدامات میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8412/2026
نصیرآباد29ستمبر۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع نصیرآباد میں بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام، ویکسینیشن کوریج، فیلڈ سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کو متعلقہ افسران کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوانا ان کی صحت اور محفوظ مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس لیے محکمہ صحت کے افسران اور ویکسینیشن ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری محنت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع کے دور دراز علاقوں سمیت تمام یونین کونسلز میں حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولت کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ایسے بچوں کی نشاندہی کی جائے جو کسی بھی وجہ سے ویکسینیشن سے محروم رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین میں حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ ضروری ویکسین سے محروم نہ رہے۔ اجلاس میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کو مزید موثر بنانے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8413/2026
گوادر۔ 29 ستمبر 2026ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے کے بلڈنگز کنٹرول سیکشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی، بلڈنگ بائی لاز پر عملدرآمد، غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خلاف کارروائیوں اور بلڈنگ کنٹرول نظام کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کنٹرولر بلڈنگز نادر بلوچ، ڈپٹی کنٹرولر بلڈنگ اسٹرکچر میرجان بلوچ، ڈپٹی کنٹرولر بلڈنگز آرکیٹیکٹ عبدالرزاق بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ منیر احمد بلیدی، اسسٹنٹ کنٹرولر اسٹرکچر جی۔ایم بلوچ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت نافذ العمل بلڈنگ بائی لاز 2020 اور دیگر تعمیراتی ضوابط پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے ہدایت کی کہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی استعدادِ کار میں مزید اضافہ کیا جائے اور تعمیراتی سرگرمیوں کی مو¿ثر نگرانی کے ساتھ ساتھ ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید منظم، بروقت اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔اجلاس میں بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے انتظامی ڈھانچے اور افرادی قوت کی ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ شعبہ کو ہدایت کی کہ شعبے کی موجودہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید افرادی قوت کی تعیناتی سے متعلق جامع سفارشات مرتب کرکے پیش کی جائیں، تاکہ فیلڈ اور دفتری امور کو مو¿ثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔اس موقع پر تعمیرات سے متعلق این او سی فیس، مختلف چارجز اور فیس اسٹرکچر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ موجودہ حالات اور ضروریات کے تناظر میں فیس اسٹرکچر کا ازسرِنو جائزہ لے کر جہاں ضروری ہو، مناسب ترامیم سے متعلق سفارشات مرتب کی جائیں اور انہیں آئندہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔اجلاس میں انفورسمنٹ ونگ کو مزید مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات، ناجائز تجاوزات اور سرکاری اراضی پر قبضوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے محکمہ پولیس سے اضافی پولیس کانسٹیبلز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ اسٹاف کو موثر معاونت فراہم کی جائے تاکہ بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیوں، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تیز رفتاری اور موثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے جو مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کیے بغیر اجازت نامہ کے تعمیراتی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے قانون اور بلڈنگ بائی لاز کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ شہر میں تعمیراتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔ساتھ ہی ڈائریکٹر جنرل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ شہریوں کو قانونی طریقے سے تعمیراتی مجاز نامہ/این او سی حاصل کرنے کی جانب راغب کرنے کے لیے طریقہ کار کو مزید آسان، شفاف اور سہل بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول کا مقصد صرف ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو قانونی اور باقاعدہ تعمیرات کے لیے سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔ اس لیے متعلقہ شعبہ شہریوں کے لیے رہنمائی اور سہولت کاری کے نظام کو مزید بہتر بنائے، تاکہ گوادر میں تعمیراتی سرگرمیاں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان اور منظور شدہ بلڈنگ بائی لاز کے مطابق فروغ پا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8414/2026
کوئٹہ 29ستمبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج (QDP) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی پیشرفت، درپیش رکاوٹوں کے خاتمے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی،ڈپٹی کمشنر ویسٹ منیر احمد درانی، پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی رفیق بلوچ، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی عابد حسین سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں، فنڈز کے اجرا، لینڈ ایکوزیشن اور تجاوزات سمیت دیگر امور پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی رفیق بلوچ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت کیو ڈی پی کے 12 ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 7 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ 6 نئے منصوبے بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سریاب روڈ، سبزل روڈ، قمبرانی روڈ، ایریگیشن بلڈنگ روڈ سیفٹی ورکس، ریڈیو پاکستان لنک روڈ، لنک بادینی روڈ، سرکی روڈ، انسکمب روڈ اور پبلک اسپیس کی تعمیر سمیت متعدد منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبزل،سمنلگلی روڈ برج، زرغون روڈ توسیعی منصوبے، سروس روڈ، سریاب اور سملنگلی روڈ کی بہتری کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ انڈر پاس سبزل اسپنی روڈ ،اے جی افس پارکنگ،یوٹیلیٹی کوریڈور اور ائیرپورٹ روڈبیوٹیفکیشن کے منصوبوں پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ نئے شامل کیے گئے منصوبوں میں ایئرپورٹ روڈ برج کی تعمیر، پشین اسٹاپ تاچمن پھاٹک تک فزبیلٹی سروے، اے جی آفس پارکنگ کی تعمیر، ایئرپورٹ روڈ پر پیڈنسٹک برج اور سریاب روڈ پر فلائی اوور سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے شہر میں ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے جبکہ شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی بھی ممکن ہو رہی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے کہا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج ایک اہم منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ شہری انفراسٹرکچر میں بہتری اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ کیو ڈی پی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے فنڈز کے اجرا، لینڈ ایکوزیشن اور تجاوزات کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کی جائے اور تمام محکمے باہمی رابطے کے ذریعے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی کو ہدایت کی کہ منصوبوں پر کام کی پیشرفت کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر کمشنر آفس کو رپورٹ پیش کی جائے تاکہ جاری منصوبوں کی مسلسل نگرانی یقینی بناتے ہوئے کام بلا تعطل اور تیز رفتاری سے جاری رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 29ستمبر۔خواتین پارلیمانی کاکس اور عالمی ادارہ خوراک کے مابین اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسخواتین پارلیمانی کاکس اور عالمی ادارہ خوراک کے مابین اعلی سطحی مشاورتی اجلاس، غذائی تحفظ، غذائیت اور خواتین و بچوں کی صحت پر تفصیلی تبادلہ خیال بلوچستان صوبائی اسمبلی میں خواتین پارلیمانی کاکس (WPC) کے زیر اہتمام عالمی ادارہ خوراک (WFP) پاکستان کے ساتھ غذائی تحفظ، بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی و چئیر پرسن خواتین پارلیمانی کاکس غزالہ گولہ نے کی، جبکہ رکن قومی اسمبلی اختر بی بی، پلین بلوچ، اراکین بلوچستان اسمبلی شاہدہ روف اور سلمیٰ کاکڑ، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ سمیت عالمی ادارہ خوراک کی پاکستان میں نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش اور WFP بلوچستان کے صوبائی آفس کی سربراہ ڈاکٹر فاریہ احسن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں غزالہ گولہ نے محترمہ انیتا ہرش کو پاکستان میں WFP کی نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر کی حیثیت سے کوئٹہ کے پہلے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی اور خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے WFP کے وفد کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔انہوں نے غذائی تحفظ، غذائیت اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اس اہم اور بروقت مشاورتی اجلاس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔اجلاس میں بلوچستان میں غذائی عدم تحفظ، زچہ و بچہ کی غذائیت اور بچوں میں غذائی قلت جیسے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبے میں جاری مختلف حکومتی پروگراموں اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے پارلیمانی کردار اور WFP کے تعاون پر بھی غور کیا گیا۔ڈبلیو ایف پی کی جانب سے بلوچستان میں جاری پروگرامز اور ان کے دائرہ کار کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسکول میلز پروگرام کے تحت کوئٹہ میں اس وقت پائلٹ بنیادوں پر کام جاری ہے، جس کے بعد مزید سات اضلاع کو بھی پروگرام میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام کے لیے مالی معاونت 50 فیصد حکومتِ بلوچستان اور 50 فیصد عالمی ادارہ خوراک (WFP) کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔اجلاس میں اسکول میلز پروگرام کے مثبت اثرات سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ بتایا گیا کہ مارچ 2024 سے جولائی 2026 تک کوئٹہ کے پروگرام میں شامل سرکاری اسکولوں میں طالبات کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ حاضری کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے۔ WFP کے مطابق پروگرام کے تحت 2024 میں 10,907 طالبات کے مقابلے میں 2026 میں داخل شدہ طالبات کی تعداد 14,635 تک پہنچ گئی، جو 34 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اوسط حاضری 81.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔مشاورتی سیشن کے دوران اراکین پارلیمنٹ نے سوال و جواب کے دوران دریافت کیا کہ اس نوعیت کے اہم پروگراموں کو مزید موثر بنانے، ان کا دائرہ کار وسیع کرنے اور صوبے کے زیادہ سے زیادہ بچوں تک اس کے ثمرات پہنچانے کے لیے پارلیمنٹ کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟اس موقع پر WFP کے نمائندوں نے کہا کہ پروگرام کی کامیابی اور تسلسل کے لیے اسے مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام، متعلقہ اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز میں اس پروگرام کی اہمیت اورافادیت کے حوالے سے آگاہی پیدا ہو۔اراکین پارلیمنٹ نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے اہم پروگراموں میں تمام پارلیمانی اراکین کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں اور حلقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرام کے دائرہ کار کو موثر انداز میں وسعت دی جا سکے۔ اراکین نے خواتین اور بچوں کی غذائیت کو صوبے کی مجموعی ترقی، تعلیم اور انسانی وسائل کی بہتری سے جوڑتے ہوئے پارلیمانی سطح پر تعاون اور نگرانی کے عزم کا اظہار کیا۔ڈبلیو ایف پی پاکستان کی نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے گفتگو کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کی صحت و غذائیت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خواتین کی صحت، قوم کی صحت ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں غذائی تحفظ، خواتین اور بچوں کی صحت اور غذائیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور صوبائی حکومت و پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غذائی تحفظ، بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام، خواتین کی صحت اور اسکولوں میں بچوں کی حاضری و داخلوں میں بہتری جیسے اقدامات کے لیے پارلیمنٹ، صوبائی حکومت اور WFP کے درمیان موثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر انیتا ہرش نے شرکت کرنے والے اراکین پارلیمنٹ اور بلوچستان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ بعد ازاں شرکاءکے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنوائی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8415/2026
کوئٹہ، 29 ستمبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، ان کی رہنمائی، تعلیم و تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور انہیں روزگار و کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنا حکومتِ بلوچستان کے اہم ترجیحی اقدامات میں شامل ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں باعزت روزگار کے قابل بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں اقدامات کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں نوجوانوں کی ترقی، ہنرمندی کے فروغ اور انہیں معاشی سرگرمیوں کا فعال حصہ بنانے کے لیے مختلف پروگرامز اور اقدامات پر کام جاری ہے۔بلال خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کی کامیابی کے لیے صرف روایتی تعلیم کافی نہیں بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں، فری لانسنگ، انٹرپرینیورشپ اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ حکومت بلوچستان اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے جن کے ذریعے وہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں روزگار پیدا کرنے والے افراد اور کامیاب کاروباری افرادبننے کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور سرمایہ کاری سے متعلق اداروں کے درمیان مؤثر روابط کے ذریعے نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
،،،
خبرنامہ نمبر8416/026
کوئٹہ 29ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ (سٹی) محمد امیر حمزہ اور مجسٹریٹ سٹی نے عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے سب ڈویژن سٹی کے مختلف علاقوں سیٹلائٹ ٹاؤن، منی مارکیٹ، ڈبل روڈ، مری آباد اور عالم دار روڈ میں پرائس کنٹرول کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر روٹی فروخت کرنے اور کم وزن میں ملوث 10 تندور مالکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے واضح کیا ہے کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ ناجائز منافع خوری اور اوورچارجنگ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8417/026
نصیرآباد29 ستمبر 2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے آج ریسکیو 1122 کی زیرِ تعمیر عمارت کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف حصوں میں جاری تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیا اس موقع پر متعلقہ افسران اور تعمیراتی عملے نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، تعمیراتی مراحل اور دیگر امور کے حوالے سے بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے عمارت میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل جاری تعمیراتی کام اور مجموعی معیار کا بھی معائنہ کیا انہوں نے بعض تعمیراتی امور اور معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ تعمیراتی کام میں کسی قسم کی کوتاہی یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال کو ہرگز برداشت نہ کیا جائےانہوں نے ہدایت کی کہ ریسکیو 1122 کی زیرِ تعمیر عمارت کی تعمیر پی سی ون میں مقررہ ڈیزائن منظور شدہ تخمینے تکنیکی specifications اور معیار کے عین مطابق یقینی بنائی جائے جبکہ تعمیراتی کام کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ منصوبہ مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہو سکےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو مزید ہدایت دی کہ تعمیراتی کام میں شفافیت اور معیار کو اولین ترجیح دی جائے اور منصوبے کی تکمیل کے دوران مقررہ تعمیراتی ضوابط اور سرکاری ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے
خبرنامہ نمبر8418/026
نصیرآباد
29 ستمبر 2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے آج تحصیل آفس صحبت پور کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے دفتری امور اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تحصیل آفس میں موجود ریونیو ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی معائنہ کیا اور ریکارڈ کی درستگی تکمیل اور باقاعدہ دیکھ بھال کے حوالے سے متعلقہ اہلکاروں سے معلومات حاصل کیں انہوں نے ریونیو سے متعلق امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف اور بروقت مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے تحصیل آفس میں جاری بحالی اور دیگر تعمیراتی کاموں کا بھی معائنہ کیا اور کام کے معیار، پیش رفت اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری کاموں میں معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ سرکاری عمارت کو بہتر حالت میں عوام کے لیے قابلِ استعمال بنایا جا سکےاس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تحصیل آفس میں موجود شہریوں سے بھی ملاقات کی ان کے مسائل اور شکایات سنیں اور متعلقہ افسران کو عوامی مسائل کے فوری ازالے اور درخواستوں پر میرٹ اور قواعد کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت فراہم کرنا، ریکارڈ کو منظم رکھنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے
خبرنامہ نمبر8419/026
چمن میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی سے MERF کی اسلام آباد ٹیم کے ڈاکٹر اورنگزیب اور غالب جبکہ بلوچستان ٹیم کے مسعود ریکی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں MERF کے جاری منصوبوں، بالخصوص ضلع چمن میں صحت، کمیونٹی سپورٹ اور دیگر فلاحی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور منصوبے کی پیش رفت سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے MERF اور دیگر شراکت دار اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات کے موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی، اکرم اور IRC کے ضلعی پروگرام افسر ایاز خان سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
خبرنامہ نمبر8420/026
اورماڑہ 29 ستمبر2026: اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول گزی لین کا دورہ کیا انہوں نے اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں، اسکول کے انفراسٹرکچر اور دستیاب بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کرتے ہوئے تعلیمی ماحول اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی، حاضری میں بہتری اور تدریسی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اسسٹنٹ کمشنر نے اسکول میں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام و انتظامیہ کو ضروری اقدامات اور سروس ڈلیوری میں بہتری کے لیے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سازگار اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اسسٹنٹ کمشنر نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی تعلیمی سرگرمیوں، دلچسپیوں اور مستقبل کے عزائم کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں محنت، باقاعدگی اور تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔
خبرنامہ نمبر8421/026
اُستا محمد میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اُستا محمد میں خواتین کی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد ماریہ شمون، ڈی ایس پی اُستا محمد داؤد کھوسہ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) قندیل، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اُستا محمد ڈاکٹر امیر علی، پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالج محترمہ نگہت جان، پرنسپل گورنمنٹ بوائز کالج عبیداللہ سمیت تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان نے شرکت کی۔کھلی کچہری کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور اپنے مسائل براہِ راست ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے افسران کے سامنے پیش کیے۔خواتین کی جانب سے شہر کی صفائی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)، سکیورٹی، پانی کی فراہمی، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی عمارت کی بحالی، گرلز لائبریری، گرلز کالج کی عمارت، گیس کی عدم دستیابی، اسکول کے سامنے ٹریفک و چھٹی کے مسائل اور تجاوزات سمیت مختلف عوامی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو غور سے سنا اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور پیش رفت سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے۔خواتین کی کھلی کچہری کا مقصد خواتین کو ان کے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری محکموں تک رسائی فراہم کرنا اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر 8423/026
بارکھان، 29 ستمبر 2026ء: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت بارکھان میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے آل پارٹیز رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں واپڈا لورالائی سرکل کے ایکسین اور متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں بارکھان میں جاری طویل لوڈشیڈنگ، بجلی کی فراہمی اور غیر قانونی کنکشنز کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بارکھان میں بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مزید دو گھنٹے اضافہ کیا جائے گا، جس سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی آئے گی۔اس موقع پر واپڈا حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ جن نئے صارفین، مکان مالکان اور دکانداروں کے پاس قانونی بجلی کے میٹر موجود نہیں، وہ جلد از جلد نئے میٹر لگوائیں۔ غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے ساتھ قانونی کنکشن فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دو ماہ بعد دوبارہ جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اگر اس دوران قانونی نئے میٹروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تو بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مزید بہتری اور لوڈشیڈنگ میں مزید کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمٰن کاکڑ نے بجلی صارفین پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی کنکشنز سے گریز کریں اور اپنے بجلی کے کنکشن قانونی طور پر باقاعدہ کروائیں، تاکہ بجلی کی چوری اور غیر قانونی کنکشنز کی روک تھام کے ساتھ ساتھ بارکھان میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں مزید کمی لائی جا سکے۔
اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر صدیق کھیتران، نیشنل پارٹی کے رہنما میر عبدالکریم کھیتران، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر حاجی میر طارق کھیتران، جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی جنرل سیکرٹری تاج محمد قاسمانی، سول سوسائٹی کے نمائندگان وڈیرہ غلام سرور، حنیف ناہڑ، وڈیرہ حیات خان جہانانی، گل زمان، وڈیرہ عبدالغفار کھیتران، ایکسین واپڈا لورالائی سرکل رحیم اللہ کبزئی، ایس ڈی او عبدالغفار حسنی، ایس ڈی او نصیب خان حمزہ زئی اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسان الدین کاکڑ نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر8424/026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور سہل بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔اسی سلسلے میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن عبداللہ خان کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آڈٹ کی پیش رفت اور آڈٹ کارروائیوں, ٹیکس وصولی کے عمل کی ڈیجیٹلائزیشن، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ریونیو نظام میں مزید بہتری کے اقدامات کا جائزہ لیا.اجلاس میں ریونیو گیپس کی نشاندہی، آڈٹ سے متعلق اقدامات، مختلف اصلاحاتی اقدامات (Initiatives)، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ڈیٹا کے تجزیے سمیت آڈٹ کے عمل سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔چیئرپرسن نے آڈٹ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور دستیاب ڈیٹا کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ریونیو گیپس کی نشاندہی, ڈیجیٹلائزیشن کے محصولات میں بہتری لانے پر زور دیا۔اجلاس میں ڈیٹا کی درستگی، مؤثر تجزیے اور مربوط معلومات کی بنیاد پر ٹیکس انتظامیہ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر8425/026Recast
29ستمبر 2026 ۔صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کا تربت کے قدیمی فٹبال اسپورٹس اسٹیڈیم پر مبینہ قبضے کی خبر کا نوٹس، فوری تحقیقات کا حکم۔تربت کے قدیمی اسپورٹس گراؤنڈ پر مبینہ قبضے اور لینڈ مافیا کی سرگرمیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کا صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان درا بلوچ کو معاملے کی فوری اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔صوبائی مشیر محترمہ مینا مجید بلوچ نے سیکریٹری کھیل کو ہدایت کی کہ وہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران کے ساتھ مل کر زمین کی اصل حیثیت، ملکیت اور مبینہ قبضے سے متعلق حقائق سامنے لائیں۔ محترمہ مینا مجید بلوچ نے واضح کیا کہ کھیل کے میدان نوجوانوں کے حق اور عوامی اثاثہ ہیں انہیں کسی بھی صورت میں قبضہ مافیا کے حوالے نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت صوبے میں مزید کھیلوں کے میدان اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ایسے میں موجودہ اور قدیمی اسپورٹس گراؤنڈز پر مبینہ قبضے کسی صورت قابل قبول نہیں۔
خبر نامہ نمبر8426/026
کوئٹہ:29 ستمبر
ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی ہدایت پر محکمہ سوشل ویلفیئر معاشرے کے کمزور، مستحق اور خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کر رہا ہے، یہ بات انہوں نے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ، ڈی جی میر سیف اللہ کھتیران نے کہا کہ صوبے میں سماجی بہبود کے پروگراموں کو مزید منظم اور مثر بنانے کے ساتھ ساتھ مستحق افراد تک سرکاری سہولیات کی رسائی یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کا بنیادی مقصد معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کو سہولیات فراہم کرنا، ان کی مشکلات کا ازالہ اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں خصوصی افراد، خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں، یتیموں اور دیگر مستحق طبقات کے لیے مختلف فلاحی اقدامات جاری ہیں۔میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ خصوصی افراد کی بحالی اور انہیں معاشرے میں باعزت مقام دلانا محکمہ سوشل ویلفیئر کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ خصوصی افراد کو معاون آلات کی فراہمی، بحالی، تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خودکفیل زندگی گزار سکیں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں موجود گداگری کے خاتمے اور گداگروں کی بحالی کے لیے بھی محکمہ سوشل ویلفیئر متعلقہ اداروں کے تعاون سے اقدامات کر رہا ہے۔ گداگری کے مسئلے کے حل کے لیے صرف کارروائی ہی کافی نہیں بلکہ ایسے افراد کی سماجی اور معاشی بحالی بھی ضروری ہے تاکہ انہیں باعزت روزگار اور زندگی کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ڈی جی سوشل ویلفیئر نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود بھی محکمہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے، انہیں ہنر سکھانے اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ بچوں کے تحفظ، تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے بھی متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر اہتمام فلاحی اداروں اور مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کو بھی مزید مثر بنایا جا رہا ہے تاکہ دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک امداد اور سہولیات پہنچائی جا سکیں۔میر سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان ایک وسیع و عریض صوبہ ہے جہاں دور دراز علاقوں میں رہنے والے مستحق افراد کو سماجی بہبود کی سہولیات کی فراہمی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ محکمہ کی کوشش ہے کہ ضلعی سطح پر سوشل ویلفیئر کی سرگرمیوں کو فعال بنایا جائے اور عوام کو ان کے علاقوں میں ہی ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ شفافیت، میرٹ اور مستحق افراد تک وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا محکمہ سوشل ویلفیئر کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ افسران اور متعلقہ عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور فلاحی منصوبوں کے ثمرات حقیقی مستحقین تک پہنچائیں۔ڈی جی سوشل ویلفیئر بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں سماجی بہبود کے نظام کو مزید مضبوط، فعال اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق کمزور اور محروم طبقات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر8427/026
کوئٹہ 29 ستمبر 2026:
مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج کھلی عدالت میں کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔ سماعت کے دوران متعدد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ مزید برآں تحقیقاتی کمیشن کے حکم نامے کی تعمیل میں، سیکرٹری داخلہ حکومت پاکستان اور ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے دینی تعلیم حکومت پاکستان کی جانب سے جوابات جمع کرائے گئے۔ تحقیقاتی کمیشن کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔
خبر نامہ نمبر8428/2026
کوئٹہ29 ستمبر: صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کے آغاز کو کوئٹہ کے شہریوں کے لیے اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک اور وعدہ مختصر مدت میں پورا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی دلچسپی اور محکمہ ریلوے کی کاوشوں سے جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس صرف چار ماہ کی مدت میں مکمل ہوئی، جو عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ صوبائی مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ زہری کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جبکہ جناح پیپلز ٹرین کا آغاز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ نئی ٹرین سروس سے شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی، جبکہ عوام کے وقت اور سفری اخراجات میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔
خبر نامہ نمبر8429/2026
کوئٹہ 29ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر عوامی شکایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے کم وزن روٹی فروخت کرنے والے تندوروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔کارروائی کے دوران سیٹلائٹ ٹاؤن، منی مارکیٹ، ڈبل روڈ، عالمو چوک، کاسی روڈ اور نواں کلی کے مختلف علاقوں میں تندوروں کا معائنہ کیا گیا۔ کم وزن روٹی فروخت کرنے اور مقررہ وزن کی خلاف ورزی پر 25 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔کارروائیاں اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب کیپٹن (ر) کبیر مزاری کی زیرِ نگرانی ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے انجام دیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ عوام کو مقررہ وزن اور سرکاری نرخ کے مطابق روٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ کم وزن روٹی فروخت کرنے اور شہریوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ضلعی انتظامیہ نے تندور مالکان کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ وزن اور نرخ کی مکمل پابندی کی جائے، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر8430/2026
تربت29ستمبر:۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ابوبکر میروانی نے تربت بازار کا دورہ کیا اور مختلف دکانوں و کاروباری مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے دورانِ چیکنگ ایل پی جی گیس کے نرخ، سیفٹی انتظامات، دودھ، مرغی اور دیگر اشیائے ضروریہ کے معیار و قیمتوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر دکانداروں کو ہدایت کی گئی کہ مقررہ نرخ نامے کے مطابق اشیاء فروخت کی جائیں اور عوام سے زائد قیمت وصول کرنے سے گریز کیا جائے۔انہوں نے مختلف دکانوں پر نرخ نامے کی موجودگی اور نمایاں آویزاں کرنے کا بھی جائزہ لیا جبکہ زائد نرخ، غیر معیاری اشیاء اور صارفین سے ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔معائنے کے دوران ایکسپائر شدہ اشیاء بھی چیک کی گئیں۔ انتظامیہ نے دکانداروں کو واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور زائد المیعاد اشیاء کی فروخت پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر ابوبکر میروانی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بازاروں کی نگرانی جاری رکھے گی۔ انہوں نے دکانداروں پر زور دیا کہ وہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد کریں، اشیاء کے معیار کا خیال رکھیں اور سیفٹی اصولوں کی پابندی کریں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ، زائد نرخ وصولی، غیر معیاری یا ایکسپائر اشیاء کی فروخت اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوامی شکایات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر8431/2026
تمپ29ستمبر:۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی ضلع تمپ کا اجلاس چیئرمین ہیلتھ کمیٹی و ڈپٹی کمشنر تمپ برکت بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب، اسسٹنٹ کمشنر تمپ شے حق حیات، پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ منیجرحاجی خان بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب نے ضلع تمپ میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، طبی سہولیات کی دستیابی اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں ای پی آئی پروگرام کے تحت بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن، مختلف مراکزِ صحت میں دستیاب طبی سہولیات اور ہسپتالوں کے وارڈز کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت کے ملازمین کی حاضری اور غیر حاضر عملے کے خلاف کی جانے والی انتظامی کارروائیوں سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر تمپ برکت بلوچ نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوروز یعقوب کی جانب سے طبی سہولیات کی بہتری، مؤثر نگرانی اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف انتظامی کارروائیوں کو سراہا۔اجلاس میں ضلع تمپ میں محکمہ صحت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور صحتِ عامہ سے متعلق اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر8432/2026
موسیٰ خیل 29 ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (DCC) کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سربراہان اور ایگزیکٹو انجینئرز (XENs) نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز I، II اور III کے تحت جاری و آئندہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پراجیکٹ کا فیز اول (Phase-I) 95 فیصد مکمل ہے، جبکہ فیز دوم (Phase-II) پر کام تقریباً 90 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فیز سوم (Phase-III) کی تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور بہت جلد اس پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سختی سے تنبیہ کی کہ کوئی بھی فرم یا ٹھیکیدار کسی فیٹی (سب) ٹھیکیدار کو کام نہیں دے گا، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر8433/2026
استامحمد29ستمبر:۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ کموڈیٹی مینجمنٹ، حکومتِ بلوچستان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر اُستا محمد سے ملاقات کی، جس میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف سیل کیے گئے گندم کے گوداموں اور نیلام شدہ گندم کی کامیاب بولی دہندگان کو حوالگی کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کے دوران سیل کیے گئے گوداموں میں موجود گندم کی نیلامی کی جا چکی ہے، تاہم نیلام شدہ گندم کامیاب بولی دہندگان کے حوالے کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی معاونت درکار ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ گودام مالکان کو قانونی نوٹس جاری کیے جائیں گے اور انہیں نیلام شدہ گندم کامیاب بولی دہندگان کے حوالے کرنے کا پابند کیا جائے گا۔ نوٹس کے باوجود گندم حوالے نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کروائے جائیں گے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر شجاعت علی کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمون اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ضلعی انتظامیہ نے نیلام شدہ گندم کی کامیاب بولی دہندگان کو حوالگی اور قانونی کارروائی کے سلسلے میں محکمہ کموڈیٹی مینجمنٹ کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
خبر نامہ نمبر8434/2026
موسیٰ خیل29 ستمبر:۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (DCC) کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سربراہان اور ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز I، II اور III کے تحت جاری و آئندہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پراجیکٹ کا فیز اول (Phase-I) 95 فیصد مکمل ہے، جبکہ فیز دوم (Phase-II) پر کام تقریباً 90 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فیز سوم (Phase-III) کی تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور بہت جلد اس پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سختی سے تنبیہ کی کہ کوئی بھی فرم یا ٹھیکیدار کسی فیٹی (سب) ٹھیکیدار کو کام نہیں دے گا، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے تمام آفیسرز کو ہدایت کی کہ وہ عوامی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنائیں اور مقررہ مدت کے اندر تمام ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو ہر صورت یقینی بنائیں۔


