29th-June-2026

خبرنامہ نمبر5168/2026
کوئٹہ، 29 جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ پارلیمان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن دنیا بھر میں جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات، قانون کی حکمرانی اور عوامی نمائندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ایک موثر موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور فعال پارلیمان ہی ایک مستحکم، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، جہاں عوام کی آواز کو آئینی اور جمہوری انداز میں سنا اور قانون سازی کے ذریعے قومی مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کا آئین پارلیمانی جمہوریت کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اور تمام ریاستی ادارے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کا استحکام، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی صوبے کے عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے اور حکومت عوامی مسائل کے حل، موثر قانون سازی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے پارلیمانی روایات، احتساب، شفافیت اور مشاورت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ موجودہ دور میں پارلیمان کا کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے، سماجی ہم آہنگی، عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے تمام طبقات کی موثر نمائندگی جمہوری نظام کو مزید مضبوط بناتی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان حکومت آئینی بالادستی، جمہوری روایات، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے صوبے میں گڈ گورننس، موثر قانون سازی اور عوامی فلاح کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مضبوط پارلیمانی نظام ہی ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5169/2026
کوئٹہ 29 جون۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ماہ نور میر وانی کو سی ایس ایس امتحان 2026 میں شاندار کامیابی حاصل کرنے پر خصوصی اعزازی شیلڈ (Recognition of Excellence) سے نوازا گیا اس حوالے سے محکمہ کی جانب سے ایک سادہ سی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں چیف انجینئر کوئیٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف انجنیئر سبی زون زبیر احمد کھوسہ چیف انجینئر خاران مکران زون خلیل الرحمٰن اچکزئی ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ سریاب ڈویژن چاکر رفیق بلوچ ایگزیکٹو انجینئر روڈز پنجگور ظریف بلوچ و دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ مسز ماہ نور میر وانی کی محنت لگن اور مستقل مزاجی کو سراہتے ہوئے ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے محکمے کے لیے باعثِ فخر ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ انہیں مستقبل کی تمام علمی و پیشہ ورانہ کامیابیوں کے لیے نیک تمناوں کا اور ان کی یہ کامیابی دیگر افسران اور نوجوانوں کے لیے بھی ایک روشن مثال ہےسیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نےمسز ماہ نور میر وانی کو سی ایس ایس امتحان 2026 میں نمایاں کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی اور اس کامیابی کو ان کی محنت استقامت اور عزم کا ثمر قرار دیا انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ملک اور صوبے کی خدمت میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5170/2026
کوئٹہ 29جون ۔سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان ظفر بلیدی کی ہدایات کے مطابق بلوچستان پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ 2016 کے تحت محکمہ میں ایک نئی انسدادِ ہراسمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔اس کمیٹی کا مقصد محکمہ میں خواتین کو ہراسمنٹ سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق قوانین پر مو¿ثر عمل درآمد کو یقینی بنانا، محفوظ، باوقار اور ہراسمنٹ سے پاک دفتری ماحول کو فروغ دینا، اور موصول ہونے والی شکایات کو مقررہ قانونی طریق کار کے مطابق نمٹانا ہے۔مذکورہ ایکٹ کے تحت تمام سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار (Autonomous) اور نجی ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے ادارے میں 5 ارکان پر مشتمل انسدادِ ہراسمنٹ کمیٹی تشکیل دیں، جس میں کم از کم 2 خواتین ارکان اسی ادارے سے شامل ہونا لازمی ہیں۔ اس کمیٹی کا قیام ہر ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے تاکہ ملازمین کے لیے محفوظ، باعزت اور ہراسمنٹ سے پاک کام کا ماحول یقینی بنایا جا سکے۔تمام افسران و ملازمین سے گزارش ہے کہ وہ اس قانون کی مکمل پاسداری کریں اور ایک محفوظ، باوقار اور ہراسمنٹ سے پاک دفتری ماحول کے قیام میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5171/2026
کوئٹہ 29جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران منصوبوں کی پیش رفت، درپیش پیچیدگیوں، کامیابیوں اور رکاوٹوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مسائل کے بروقت حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کویٹہ محمد انور کاکڑ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ اسسٹنٹ کمشنر سریاب منصور احمد کے علاوہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، بلوچستان یونیورسٹی کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر بلوچستان یونیورسٹی میں جدید طرز کے آئی ٹی سیکشن کے قیام اور اس سے متعلقہ منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5172/2026
کوئٹہ:29جون ۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں آج حب ریجن سے محصولات کی وصولی اور ٹیکس تعمیل کے امور کے حوالے سے ایک اہم اجلاس چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران حب ریجن میں محصولات کی وصولی، رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، واجبات کی وصولی، انفورسمنٹ اقدامات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مختلف صنعتی و تجارتی اداروں کی ٹیکس تعمیل کی صورتحال، درپیش چیلنجز اور محصولات میں اضافے کیلئے موثر حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔چیئرمین نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے، نان فائلرز کے خلاف قانونی کارروائی کو موثر بنانے اور واجبات کی بروقت وصولی کیلئے اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری، شفافیت اور ڈیجیٹل نظام کے موثر استعمال کے ذریعے رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو فروغ دیا جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی حب ریجن میں محصولات کے اہداف کے حصول، ٹیکس قوانین کے موثر نفاذ اور صوبے کی پائیدار ترقی کیلئے وسائل میں اضافے کے سلسلے میں اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5173/2026
استامحمد29جون ۔: ڈپٹی کمشنر و ریٹرننگ آفیسر ضلع استامحمد، محمد رمضان پلال نے ضلع میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ریٹرننگ آفیسرز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرز سے گزشتہ روز باقاعدہ حلف لیا اس موقع پر دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ انتخابی عمل کو شفاف منظم اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ تمام افسران انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع استامحمد کی مختلف یونین کونسلوں میں جنرل کونسلران کے انتخابات منعقد ہوں گے جن کے انعقاد اور انتظامی امور کی ذمہ داری ریٹرننگ آفیسرز کے سپرد کی گئی ہے۔ اس ضمن میں تمام تر انتظامات کو بروقت اور موثر انداز میں مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی عمل کے تمام مراحل کو آئین اور متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل کیا جائے گا، تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5174/2026
کوئٹہ، 29 جون ۔ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے زیر اہتمام کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں “بزنس اسٹارٹ اپ اینڈ اِنیشل ڈاکیومنٹیشن اِن ایکسپورٹ پرسپیکٹوز” کے موضوع پر ایک جامع آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان کاروباری افراد، اسٹارٹ اپس، طلبہ، ویمن بزنس کمیونٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار کا آغاز ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ریجنل آفس کوئٹہ کے ڈائریکٹر نور علی اچکزئی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جنہوں نے شرکاءکو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے نوجوانوں اور خواتین کو کاروباری میدان میں آگے لانا ناگزیر ہے، اور TDAP نئے کاروباری افراد کو ہر ممکن رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بعد ازاں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ریجنل آفس کوئٹہ کے ایگزیکٹو آفیسر محمد شریف نے تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے کاروبار کے آغاز، برآمدی شعبے میں دستیاب مواقع، ایکسپورٹ کے لیے درکار ابتدائی دستاویزات، رجسٹریشن کے مراحل، ریگولیٹری تقاضوں، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور حکومتی معاونت کے مختلف پروگراموں پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے شرکائ پر زور دیا کہ وہ جدید کاروباری رجحانات سے ہم آہنگ ہو کر برآمدی شعبے میں اپنا موثر کردار ادا کریں تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے آگاہی پروگرام نئے کاروباری افراد، خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے، برآمدی شعبے سے ان کی وابستگی بڑھانے اور خود روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کاروبار اور برآمدات سے متعلق مختلف سوالات کیے۔ شرکائ نے پروگرام کو نہایت معلوماتی، مفید اور بروقت قرار دیتے ہوئے ایسے پروگراموں کے تسلسل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ سیمینار کے انتظامات اور کامیاب انعقاد کی ذمہ داری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، ریجنل آفس کوئٹہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف ابڑو نے انجام دی، جنہوں نے پروگرام کی موثر منصوبہ بندی اور انتظامات کو یقینی بنایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5175/2026
خضدار29جون ۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت ضلعی صحت کمیٹی کا اہم اجلاس ڈی سی افس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات، کے مسائل اور طبی عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ چیف افیسر میونسپل کارپوریشن خضدار وڈیرا محمد صالح جاموٹ ایگزیکٹو انجینیئر پی ایچ ای عبدالروف قمبرانی ڈرگ انسپیکٹر ڈاکٹر رشید احمد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی صدام حسین میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال خضدار ڈاکٹر سرمد سعید خان،پرنسپل جی ایم سی خضدار ڈاکٹر ارشاد احمد زہری ایم ایس وڈھ ہسپتال ڈاکٹر عبدالروف مینگل اور ایم ایس سول ہسپتال زہری ڈاکٹر میلاد احمد زہری نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ صحت میں اصلاحات اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف ایجنڈوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ ضلع بھر کے ہسپتالوں و بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی غیر حاضری اجلاس کا مرکزی نکتہ رہا۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی غیر حاضری پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح ہدایت کی کہ صحت کی خدمات کی فراہمی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر خضدار نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ ضلع کے تمام ہسپتالوں اور مراکز صحت میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنے ڈیوٹی سٹیشن سے غیر حاضر پائے جائیں گے، ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ڈی ایچ او اور ایم ایس صاحبان کو ہدایت کی کہ حاضری رپورٹ مرتب کر کے دفتر بھجوائی جائے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور مفت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور غفلت برتنے والے اہلکاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔اجلاس کے آخر میں تمام شرکاءنے محکمہ صحت میں بہتری اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5176/2026
کوئٹہ، 29 جون ۔: اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (UNFPA) کے اشتراک سے قومی آبادی ایجنڈا سے متعلق ایک اہم میڈیا ورکشاپ کوئٹہ پریس کلب میں صدر پریس کلب عرفان سعید کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں UNFPA بلوچستان کی صوبائی کوآرڈینیٹر سعدیہ عطا، سینئر صحافی سید علی شاہ، بہرام لہڑی، سلام جوگزئی، پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کوئٹہ کے کرنٹ افیئرز سے وابستہ نمائندوں سمیت مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد قومی آبادی ایجنڈا کے تحت کیے گئے وعدوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا، درپیش چیلنجز پر غور کرنا اور عوامی آگاہی میں میڈیا کے موثر کردار کو مزید مضبوط بنانا تھا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید نے کہا کہ آبادی، صحت اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے شعبے ہیں، لہٰذا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے آبادی سے متعلق پالیسیوں پر موثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی آبادی ایجنڈا کے اہداف حاصل کرنے کے لیے میڈیا کی ذمہ دارانہ اور موثر شمولیت انتہائی اہم ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو قومی آبادی سے متعلق وعدوں پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل (Reproductive Health Bill) کے نفاذ، اس کے مختلف پہلووں اور موثر عملدرآمد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔شرکاءکو بتایا گیا کہ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل کا بنیادی مقصد ہنگامی تولیدی صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات کی فراہمی، ماوں کی جانوں کا تحفظ، خاندانی منصوبہ بندی کی غیر پوری ضروریات کو پورا کرنا، ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا، اور خواتین و بچیوں کو ہر قسم کے تشدد، امتیازی سلوک اور استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر قانونی و عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔UNFPA بلوچستان کی صوبائی کوآرڈینیٹر سعدیہ عطا نے اپنے خطاب میں کہا کہ تولیدی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی سے متعلق درست معلومات عوام تک پہنچانے میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کر کے صحت مند معاشرے کے قیام اور قومی آبادی پالیسی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ورکشاپ کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محکمہ صحت بلوچستان، UNFPA، میڈیا اور دیگر ترقیاتی شراکت دار باہمی تعاون سے قومی آبادی ایجنڈا پر موثر عملدرآمد کو مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ خواتین، بچوں اور خاندانوں کو بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے قومی اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں۔

﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5177/2026
کوئٹہ 29 جون ۔جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے نیشنل آوٹ ریچ پروگرام برائے فیکلٹی ٹئیر-I لیکچررز و اسسٹنٹ پروفیسرز کی چار ہفتوں پر مشتمل تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے پروگرام کا باقاعدہ کر دیا۔یہ تربیتی پروگرام 29 جون سے 20 جولائی 2026 تک جاری رہے گا، جس کا انعقاد یونیورسٹی ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر ، جامعہ بلوچستان نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن NAHE، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے اشتراک سے کیا ہے۔ پروگرام کا مقصد جامعہ کے اساتذہ کی تدریسی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید بہتری لانا اور انہیں جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔افتتاحی تقریب میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن NAHE، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جناب طاہر محمود، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ جناب احسن یونس، فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر صوبیہ رمضان، ڈائریکٹر یو ٹی ڈی سی جہانگیر خان سمیت جامعہ کے اساتذہ اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے ڈاکٹر نور آمنہ ملک، منیجنگ ڈائریکٹر، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن NAHE، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کے لیے اس چار ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام کا انعقاد ایک قابلِ قدر اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی دراصل طلبہ کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والے علم، مہارتوں اور جدید تدریسی طریقوں کو اپنی تدریس میں بروئے کار لائیں تاکہ طلبہ کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے اور جامعہ میں تدریس و تحقیق کا معیار مزید بلند ہو۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر یو ٹی ڈی سی جہانگیر خان نے مہمانوں اور شرکائ کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔پروفیسر ڈاکٹر صوبیہ رمضان نے اپنے خطاب میں اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جناب طاہر محمود نے جدید تدریسی تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے اساتذہ کی تربیت کو ناگزیر قرار دیا، جبکہ جناب احسن یونس نے جامعہ بلوچستان میں اس پروگرام کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے فیکلٹی کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے اس کی اہمیت اجاگر کی۔تربیتی پروگرام کے پہلے سیشن میں ریسورس پرسن ڈاکٹر گوہر ملغانی نے “کمیونیکیشن اسکلز” کے موضوع پر تفصیلی اور تعاملی سیشن دیا، جس میں موثر ابلاغ، تدریسی مہارت، قائدانہ صلاحیتوں اور طلبہ کے ساتھ بہتر رابطے کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے معزز مہمانوں اور ریسورس پرسن کو ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5178/2026
نصیرآباد29جون ۔ سپرنٹنڈنٹ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن، مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ خریف سیزن کے آغاز سے ہی بلوچستان کی پٹ فیڈر، کیرتھر، اوچ اور مانجھوٹی کینالز میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، حالانکہ ارسا بلوچستان کے لیے مکمل پانی جاری کر رہا ہے، تاہم سندھ ایریگیشن حکام ارسا کی منظور شدہ تقسیم کے مطابق بلوچستان کے حصے کا پانی فراہم نہیں کر رہے، جس کے باعث صوبے کے واحد گرین بیلٹ میں زرعی سرگرمیاں شدید متاثر، بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ صوبہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر صوبوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ حکام کو متعدد بار تحریری و زبانی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے اور تمام متعلقہ فورمز پر بار بار معاملہ اٹھایا گیا، مگر صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور نہروں میں پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے خریف کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مدثر ظفر کھوسہ نے خبردار کیا کہ اگر بوائی کے اہم مرحلے پر کاشتکاروں کو ان کے حصے کا پانی فراہم نہ کیا گیا تو کاشتکاری کا نظام بری طرح متاثر ہوگا، معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور کمانڈ ایریاز میں امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ناصرف سندھ کی جانب سے بلوچستان کے جائز حصے کا پانی روک رہا ہے بلکہ ارسا کے قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے جوکہ نامناسب رویہ ہے ملک بھر کے آبی ذخائر میں سے بلوچستان کا حصہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے مگر پھر بھی ہمیں اپنے حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے کاشتکاروں کے ساتھ ہونے والا یہ استحصالی رویہ فوری طور پر بند کیا جائے اور صوبے کو اس کے آئینی و قانونی حق کے مطابق پانی کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
کوئٹہ 29جون ۔حاجی دیدار حسین صوبھانی مگسی حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔ وہ مرحوم میر محمد خان صوبھانی مگسی کے بڑے صاحبزادے، مرحوم محمد عمر مگسی کے بھتیجے اور غلام سرور مگسی کے والد تھے۔ منظور احمد مگسی، مصطفیٰ مگسی، مشتاق احمد مگسی، منیر مگسی، فدا حسین مگسی، خادم حسین مگسی اور گلاب خان مگسی کے چچازاد بھائی تھے۔ علی حسن مگسی، علی گل مگسی، اسلم خان مگسی کے سسر جبکہ شاہنواز مگسی، احمد نواز مگسی، ممتاز مگسی کے بہنوئی اور طالب حسین مگسی کے کزن تھے۔ مرحوم کی تدفین انکے آبائی گاوں میں کر دی گئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5179/2026
اسلام آباد، 29 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو یہاں اسلام آباد میں سابق سینیٹر، ممتاز صنعتکار اور الحاج گروپ کے چیف ایگزیکٹو مرحوم الحاج تاج محمد آفریدی شہید کی رہائش گاہ جا کر ان کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی انہوں نے کہا کہ الحاج تاج محمد آفریدی کی سیاسی، سماجی اور کاروباری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی میر سرفراز بگٹی نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ک اس غم کی گھڑی میں لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ سابق وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، سینیٹر دنیش کمار و دیگر رہنماءبھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5180/2026
کوئٹہ، 29 جون ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو جانی و مالی نقصان پہنچا کر دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ اور ہمارے بلند حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں کبھی کامیابی نہیں ملے گی۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود ہماری قوم اور سکیورٹی اداروں نے پاکستان اور پورے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ صوبائی وزیر نے حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداءکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمی جوانوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5181/2026
کوئٹہ، 29 جون ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے ایک خاندان پر حملے میں علی مرتضٰی کی ہلاکت اور ان کی اہلیہ کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین عظیم قبائلی روایات اور بہترین ثقافت کا مظہر رہی ہے، لیکن آج ہماری روایات کو پامال کیا جا رہا ہے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ مرحوم علی مرتضٰی اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ کراچی جا رہا تھا۔ راستہ بھٹک جانے اور دشت کے علاقے میں غلط سمت چلے جانے کے باعث اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارے قبائلی معاشرے میں مہمان اور ان کے ہمراہ خاتون پر حملہ نہ صرف قبائلی روایات کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ناروا فعل برادر اقوام میں بلوچستان کے لوگوں کےلیے غصے اور نفرت کا باعث ہوگا۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ظالم عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5182/2026
کوئٹہ : 29 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری نظام کی بنیاد اور عوام کی آواز کا سب سے موثر پلیٹ فارم ہے۔ مضبوط، فعال اور جوابدہ پارلیمنٹ ہی ریاستی اداروں کے درمیان توازن، عوامی مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بین الاقوامی یومِ پارلیمان کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پارلیمانیں قانون سازی، عوامی نمائندگی اور جمہوری اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کی موثر سیاسی شمولیت ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔ خواتین پارلیمنٹیرینز نے قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرکے ثابت کیا ہے کہ خواتین کی شرکت کے بغیر حقیقی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی سیاسی، سماجی اور معاشی شمولیت کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں مزید مو¿ثر کردار دیا جا سکے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کا اصل مقصد عوامی خدمت، انصاف کی فراہمی اور ریاستی نظام کو عوام کی ضروریات کے مطابق بنانا ہے۔ نوجوان نسل کو جمہوری اقدار، آئینی شعور اور پارلیمانی روایات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم قومی مفاد، برداشت اور مکالمے کی روایت کو فروغ دینا ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے دنیا بھر کے پارلیمنٹیرینز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری اداروں کے استحکام، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور عوامی فلاح کے لیے کردار ادا کرنا ہی حقیقی جمہوری نمائندگی کا تقاضا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta: June 29, 2026Dr. Rubaba Khan Buledi, Advisor to the Chief Minister of Balochistan for the Women Development Department has said that Parliament is the foundation of the democratic system and the most effective platform for representing the voice of the people. A strong, active, and accountable Parliament ensures balance among state institutions, resolution of public issues, and sustainable development.She expressed these views in her special message issued on the occasion of International Day of Parliamentarism. Dr. Rubaba Khan Buledi said that parliaments around the world play a fundamental role in legislation, public representation, and the promotion of democratic values. She stated that parliamentarians have a responsibility to highlight public issues and make decisions while prioritizing the national interest.Dr. Rubaba Khan Buledi said that the effective political participation of women is a symbol of a strong democratic society. Women parliamentarians have played an important role in the legislative and policy-making processes, proving that the dream of true development cannot be fulfilled without women’s participation.The Provincial Advisor said that efforts are ongoing in Balochistan to promote women’s political, social, and economic inclusion so that women can play a more effective role in the decision-making process.Dr. Rubaba Khan Buledi said that the true purpose of parliamentary democracy is public service, provision of justice, and shaping the state system according to the needs of the people. She emphasized that introducing the younger generation to democratic values, constitutional awareness, and parliamentary traditions is the need of the hour.She further said that differences of opinion are the beauty of democracy; however, promoting national interest, tolerance, and a culture of dialogue is the foundation of a strong society.Dr. Rubaba Khan Buledi congratulated parliamentarians around the world and said that working for the strengthening of democratic institutions, protection of women’s rights, and public welfare is the true essence of democratic representation.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5183/2026
کوئٹہ29جون۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ، ایس ایم بی آر کمبر دشتی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، تمام محکموں کے سیکرٹریز، کمشنرز اور متعلقہ آفیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، ٹینڈرز کے عمل کی شفافیت، نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے خالی آسامیوں پر تقرریوں سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی مزید بہتر بنانے، سرکاری وسائل کے موثر استعمال اور شفافیت کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کا درست استعمال حکومتی زمہ داری ہے اور اسے قابل احتساب انداز میں انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری محکموں میں ناقابل استعمال گاڑیوں کی فہرست تیار کی جائے اور قومی قوانین اور ضوابط کے مطابق شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک 300 گاڑیوں کی نیلامی کا عمل جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ٹینڈرز کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور سنگل بڈرز کی صورت میں ٹینڈرز کو مسترد کیا جائے اور کھلی مقابلے کو فروغ دیا جائے تاکہ ٹرانسپیرنسی قائم رہے۔ انہوں نے صوبے میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خالی تقرریاں فوری طور پر پ±ر کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کے اصولوں کے تحت تقرریاں شفاف طریقے سے عمل میں لائی جائیں اور بلا تعطل خالی آسامیوں کی نشاندہی کر کے اضلاع کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر بھرتیاں کی جائیں۔ خاص طور پر صحت، تعلیم اور منصوبہ بندی کے محکموں میں خالی آسامیوں کو ترجیح دی جائے تاکہ بنیادی خدمات میں بہتری آئے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار میسر آئے۔ اجلاس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیتی ہوئے بتایا گیا کہ مالی سال 27-2026 میں 5618 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن میں 3761 جاری اور 1857 نئے ترقیاتی منصوبے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے ٹائم لائنز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، رکاوٹوں کی فوری نشاندہی اور ازالہ کیا جائے تاکہ عوامی فوائد بروقت حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے مکمل ہونے والے منصوبے عوامی اعتماد متاثر کرتے ہیں اور اضافی لاگت کا سبب بنتے ہیں، اس لیے اثر انگیز مانیٹرنگ اور بروقت رپورٹس لازمی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ موثر بجٹ مینجمنٹ سے منصوبوں کی بر وقت تکمیل ممکن ہوگی اور قیمتی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5184/2026
موسیٰ خیل 29 جون ۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (DRO) / ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل، عبدالرزاق خان خجک نے یونین کونسل (UC) 18 کے وارڈ نمبر 4 اور 5 میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ ضمنی انتخابات کے سلسلے میں ریٹرننگ آفیسر (RO) اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ سے حلف لیاالیکشن کمیشن آف پاکستان کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں ضمنی انتخابات کے لیے انتظامی و انتخابی عمل شروع کرنے کے لیے اقدامات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف، غیر جانبدار اور پرامن بنانے کے لیے تمام تر انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/5185
کوئٹہ29 جون :حکومت بلوچستان نے کوئٹہ کی مقامی خاتون شاہدہ مختیار پر مبینہ تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر پرسنل اسٹاف آفیسر سید امین نے پولیس حکام سے فوری رابطہ کیا، جس کے بعد واقعے میں ملوث ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور میرٹ پر تحقیقات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ذمہ دار شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد، ہراسانی اور کسی بھی قسم کی زیادتی ناقابل برداشت ہے۔ حکومت بلوچستان متاثرہ خاتون کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائے گی اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/5186
کوئٹہ29 جون:ـڈپٹی اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی و چیئرپرسن ویمن پارلیمنٹری کاکس محترمہ غزالہ گولہ کی بطور مہمانِ خصوصی صوبائی خواتین کانفرنس میں شرکت۔
ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان نے عورت فاؤنڈیشن، UN Women اور جرمن سفارت خانہ کے تعاون سے منعقدہ صوبائی خواتین کانفرنس میں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی محترمہ غزالہ گولہ کے ہمراہ اراکین اسمبلی فرح عظیم شاہ اور کلثوم نیاز و دیگر نے شرکت کی، جہاں بلوچستان میں خواتین کے لیے صنفی حساس، محفوظ اور مساوی نظامِ انصاف کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ڈپٹی اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی غزالہ گولہ نے بطور مہمانِ خصوصی اس عزم کا اعادہ کیا کہ ویمن پارلیمنٹری کاکس خواتین کے حقوق، مؤثر قانون سازی، پارلیمانی نگرانی، انصاف تک رسائی اور خواتین کی سیاسی قیادت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ میں تمام شراکت دار اداروں کے مسلسل تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/5187
ضلع چمن29جون:ـڈپٹی کمشنر چمن، حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فدا بلوچ، ڈی ایس پی چمن اشفاق احمد تحصیلدار چمن احمد خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں حکومتِ پاکستان اور وزارتِ داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں ضلع چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ 10 جولائی 2026 سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا اور قانون کے مطابق گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے 28 جون 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں بغیر قانونی دستاویزات یا ویزے کے مقیم افغان شہریوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ Illegal Foreigners Repatriation Plan (IFRP) کے تحت 10 جولائی 2026 سے بغیر ویزا یا غیر قانونی طور پر مقیم تمام افغان شہریوں کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے ملک بدر کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں، چیف سیکریٹریز، انسپکٹر جنرلز آف پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اس فیصلے پر فوری اور بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ 11 جولائی 2026 سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتار کیے گئے افغان شہریوں اور ان کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پر مشتمل ڈیلی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو ارسال کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر چمن نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے کہا کہ وہ مزید مشکلات سے بچنے کے لیے فوری طور پر پاکستان سے رضاکارانہ انخلا کا عمل شروع کریں۔ انہوں نے چمن کے شہریوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ہر وقت اپنا قومی شناختی کارڈ اپنے پاس رکھیں اور کسی بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکی کو مکان، دکان یا دیگر جائیداد کرایہ پر دینے سے گریز کریں، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/5188
ضلع چمن29جون:ـڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت زرعی انکم ٹیکس وصول کرنے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میںمتعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران زرعی سالانہ انکم ٹیکس کے نفاذ، وصولی کے طریقہ کار، سرکاری ہدایات پر عمل درآمد اور متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زرعی انکم ٹیکس سے متعلق حکومتی پالیسی اور قوانین پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تمام اقدامات مقررہ ضابطہ کار کے مطابق انجام دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ حکومتی احکامات پر بروقت اور شفاف عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے.
خبر نامہ نمبر 2026/5189
گوادر29جون: رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی موجودگی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گوادر ڈاکٹر عبدالشکور نے نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد کی ، جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی، جبکہ معروف کاروباری شخصیت سیٹھ چراغ کلمتی بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی، الاٹیز کو درپیش مسائل اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے ترقیاتی سرگرمیوں، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر جامع بریفنگ بھی دی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم میں ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور الاٹیز کو پینے کے صاف پانی، معیاری سڑکوں، نکاسیٔ آب، بجلی سمیت دیگر بنیادی شہری سہولیات کی بروقت فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں محفوظ، معیاری اور بہتر رہائشی ماحول میسر آ سکے۔اجلاس میں نیو ٹاؤن کے علاقے میں تجاوزات (انکروچمنٹ)، اور دیگر امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالشکور نے واضح کیا کہ سرکاری ریکارڈ کی شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ الاٹیز کے جائز مسائل کے بروقت حل، لینڈ ریکارڈ کی درستگی، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم گوادر کی مستقبل کی شہری منصوبہ بندی میں اہم حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور عوامی مفاد کو ہر مرحلے پر مقدم رکھا جائے تاکہ الاٹیز کا اعتماد مزید مضبوط ہو اور شہریوں کو جدید اور معیاری رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ حکومتی پالیسی اور عوامی توقعات کے مطابق نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کو ایک منظم، جدید، شفاف اور عوام دوست رہائشی منصوبہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، تاکہ گوادر کی پائیدار شہری ترقی اور عوامی فلاح کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *